Explained with ayahs 32–35
نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی
اللہ سبحانہ وتعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہوگی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کردیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی ؒ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ کا خیال تھا کہ (لا الہ الا اللہ) کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اس پر اصحاب رسول…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 39
اس فقرے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ جن کاموں کو انہوں نے اپنے نزدیک نیک سمجھ کر کیا ہے، اللہ ان سب کو ضائع کر دے گا اور آخرت میں ان کا کوئی اجر بھی رہ نہ پاسکیں گے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جو تدبیریں بھی وہ اللہ اور اس کے رسول کے دین کا راستہ روکنے کے لیے کر رہے ہیں وہ سب ناکام و نامراد ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
خلاصہ تفسیر
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے (اوروں کو بھی) اللہ کے رستہ (یعنی دین حق) سے روکا اور رسول ﷺ کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان کو (دین کا) راستہ (دلائل عقلیہ سے مشرکین کے لئے اور نقلیہ سے بھی اہل کتاب کے لئے) نظر آ چکا تھا یہ لوگ اللہ (کے دین) کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے (بلکہ یہ دین ہر حال میں پورا ہو کر رہے گا چناچہ ہوا) اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو (جو دین حق کے مٹانے کے لئے عمل میں لا رہے ہیں) مٹا دے گا اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور (چونکہ رسول اللہ ﷺ ہی کا حکم بتلاتے ہیں خواہ خاص طور پر وحی الٰہی میں اس کا حکم ہوا ہو یا وحی الٰہی میں کلی ضابطہ بیان فرمایا گیا ہو…
Read the full tafseer →ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ وساقوا الرسول من بعد ماتبین لھم الھدی لن یضرواللہ شیاء وسیحبط اعمالھم 32
منافقین کو تنبیہ
یہ سورة کے آخر میں اس مضون کا پھر اعادہ فرمایا ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا اور مقصود اس کے اعادے سے، جیسا کہ آگے کے مضمون سے واضح ہوگا، منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ اللہ اور رسول سے جو زور آزمائی کفار کر رہے ہیں اس سے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے بلکہ یہ خود منہ کی کھائیں گے۔ ان کی متام کوششیں اس دنیا میں بھی رائیگاں ہو کے رہیں گی اور آخرت میں بھی یہ خوار ہونے والے ہیں۔ تو ان کے پیچھے لگ کر تم اپنی دنیا اور آخرت برباد نہ کرو بلکہ پوری یکسوئی کے ساتھ…
Read the full tafseer →32۔ 1 بلکہ اپنا ہی بیڑا غرق کریں گے۔
32۔ 2 کیونکہ ایمان کے بغیر کسی عمل کو اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں۔ ایمان و اخلاص ہی ہر عمل خیر کو اس قابل بناتا ہے کہ اس پر اللہ کے ہاں سے اجر ملے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
12: اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ جو سازشیں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو مل یا میٹ کردے گا، اور وہ مطلب بھی ہوسکتا ہے جو سورت کی پہلی آیت میں فرمایا گیا تھا کہ ان کے جو کوئی اچھے کام ہیں، آخرت میں ان پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →درس نمبر 243 ایک نظر میں
یہ سبق اس سورت کا آخری سبق ہے۔ اس کا آغاز ہوتا ہے اس آیت سے :
ان الذین کفروا وصدوا ۔۔۔۔۔۔۔ لھم الھدی (47 : 32) “ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہوچکی تھی۔۔۔۔ ” یہ کون لوگ ہیں ؟ زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے متعلق اس سورت کے آغاز میں بھی اسی انداز سے بات کی گئی تھی یعنی مشرکین مکہ ، کیونکہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے دعوت اسلامی کے مقابلے میں متکبرانہ رویہ اختیار کیا ، رسول اللہ ﷺ سے جھگڑتے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے آخر تک روکتے رہے۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد عام…
Read the full tafseer →9 یعنی اپنا ہی نقصان کرتے ہیں، اللہ کا کیا نقصان ہے۔ نہ اس کے دین اور پیغمبر کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ وہ قدرت والا ان کے سارے منصوبے غلط اور تمام کام اکارت کر دے گا اور سب کوششیں خاک میں ملا دے گا۔
Read the full tafseer →آیت 32 { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَشَآقُّــوا الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدٰی لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا وَسَیُحْبِطُ اَعْمَالَہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جو روکتے رہے دوسروں کو اللہ کے راستے سے اور وہ رسول ﷺ کی مخالفت میں سرگرم رہے اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت واضح ہوچکی تھی ‘ وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اور وہ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔“
گزشتہ آیات میں منافقین کے حبط ِاعمال کا ذکر تھا ‘ اب آیت زیر مطالعہ میں کفارِ مکہ کے اعمال کی بربادی کا بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے زعم میں بیت اللہ کے متولی ّہونے اور…
Read the full tafseer →36 یعنی مسلمانوں سے غداری کرکے نہ وہ اللہ کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ اللہ کے رسول اور مسلمانوں کا۔ بلکہ وہ وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں وہ اس طرح کہ اللہ ان کے سارے منصوبے خاک میں ملا دیتا ہے علاوہ ازیں ان کے کچھ اچھے اعمال بھی برباد ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →34۔ یعنی اللہ کے دین و شریعت کی تباہی و بربادی کی جو کوششیں یہ لوگ کررہے ہیں وہ ہرگز کامیاب نہ ہونے پائیں گی۔ اور حکمت الہی ان کی ساری کوششوں اور سازشوں کو کچل کر رکھ دے گی۔ حبط اعمال کیلئے ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 31۔ (آیت) ” من ..... الھدی “۔ اس تبیین ہدایت کے اندر دلائل عقلی و شواہد نقلی سب آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ (الآیۃ) اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کاموں کو انہوں نے اپنے نزدیک نیک سمجھ کر کیا ہے اللہ ان سب کو ضائع کر دے گا اور آخرت میں ان کا کوئی اجر بھی نہ پاسکیں، ان الذین کفروا سے منافقین مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ اہل کتاب مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ مشرکین مراد ہیں، جنہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر کفار قریش کی امدا اس طرح کی کہ ان میں سے بارہ آدمیوں نے ان کے پورے لشکر کا کھانا اپنے ذمہ لے لیا ان میں سے ایک آدمی پورے لشکر کفار کے کھانے کا انتظام کرتا تھا اور بعض حضرات نے نبو نضیر اور بنی قریظہ بھی مراد لئے ہیں۔
وسیحبط اعمالھم یہاں حبط اعمال سے مراد یہ بھی ہوسکتا…
Read the full tafseer →اللہ الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ وشاقوا الرسول من بعد ماتبین لھم الھدی لن یضروا
ا اللہ شیئا وسیحبط اعمالھم بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے راستہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی ‘ بعد اس کے کہ ان کو سیدھا راستہ نظر آچکا تھا ‘ وہ لوگ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور آئندہ اللہ ان کی کوششوں کو مٹا دے گا۔
صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی ایمان لانے سے اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے سے روکا۔
وَشَآقُّوا الرَّسُوْلَ اور اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت کی۔ اس جگہ الذین کفروا الخ سے بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودی اور وہ (مکی) کافر مراد ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں کافروں کے لشکر کو…
Read the full tafseer →بیشک جو لوگ کافر ہوئے انہوں نے دوسروں کو بھی دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکا اور توحید کے اظہار کے بعد دین میں رسول اکرم کی مخالفت کی تو احکام الہی میں ان کی مخالفت اور بغض و عداوت اور کفر وغیرہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور بدر کے دن ہم ان کی نیکیوں اور مال و دولت کے خرچ کرنے کو مٹا دیں گے۔
Read the full tafseer →(ان الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ …: یعنی منافقین اور یہود جنہیں یہ معلوم ہوچکا کہ آپ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ پہلی کتابوں میں آپ ﷺ کی بشارتیں موجود ہیں مگر انہوں نے ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کی مخالفت کی، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، نہ اللہ کے رسول اور اللہ کے بندوں کا کچھ نقصان کرسکوں گے، بلکہ وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، کیونکہ اپنے خیال میں وہ جو اچھے کام کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں برباد کر دے گا اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کو اللہ کے دین سے روکنے کے لئے وہ جو سازشیں اور منصوبے تیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ناکام بنا دے گا۔ مزید دیکھیے…
Read the full tafseer →یہ آیت منافقوں یا یہودیوں کی طرف لوٹتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد وہ لوگ ہیں ج غزوہ بدر کے موقع پر کھانا کھلایا کرتے تھے، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : الانفال 36
یعنی رسول سے دشمنی کی اور اس کی مخالفت کی یعنی وہ دلائل اور آیات سے جانتے تھے کہ آپ نبی ہیں۔ وہ اپنے کفر کے باعث اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
انہوں نے جو عمل کیا اس کا ثواب برباد کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
منافقین کے بارے میں آگاہی :
1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانہم “ (کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہ کرے گا) یعنی کیا اللہ تعالیٰ ظاہر نہیں کرے گا ان کے خبث اور حسد کو جو ان کے دلوں میں ہے پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو آگاہ فرمایا اور آپ ﷺ منافقین میں سے ہر آدمی کو ان کے نام لے کر پکارتے تھے۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) وابن عساکر (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتعرفنہم فی لحن القول “ (اور آپ اس کو طرز…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ] وَصَدُّوْا [اور وہ رکے رہے ] عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ سے ] وَشَاۗقُّوا [ اور انھوں نے مخالفت کی ] الرَّسُوْلَ [ ان رسول کی ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جب ] تَـبَيَّنَ لَهُمُ [واضح ہوئی انکے لئے ] الْهُدٰى ۙ [ ہدایت ] لَنْ يَّضُرُّوا [وہ لوگ ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] شَـيْــــًٔا ۭ [ کچھ بھی ] وَسَيُحْبِطُ [ اور وہ اکارت کرے گا ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ]
Read the full tafseer →کافر لوگ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، ان کے اعمال حبط کیے جائیں گے
اوپر چار آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے پہلی آیت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اور ہدایت ظاہر ہونے کے بعد اس سے پھرگئے ایسے لوگ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے (یہ لوگ اپنی ہی جانوں کو نقصان پہنچائیں گے اور انہیں قیامت کے دن بربادی کا سامنا ہوگا) دنیا میں انہوں نے جو کوئی عمل ایسا کیا تھا جس پر اللہ کی طرف سے اہل ایمان کو ثواب ملتا ہے قیامت کے دن کافروں کو اس کا کچھ بھی ثواب نہ ملے گا یہ اعمال بالکل اکارت چلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
تہدید وتحذیر باظہار مکر وتدابیر منافقین ودشمنان اسلام ومساعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ...... الی ...... ولا تبطلوا اعمالکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں جہاد کے حکم پر منافقین کے بیہودہ رویہ اور طرز عمل کا ذکر تھا اب ان آیات میں انکو مخاطب کرتے ہوئے تنبیہ کی جارہی ہے اور آگاہ کیا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت سے انکی کوئی بھی بات مخفی نہیں ہے اللہ جب چاہے انکے راز فاش کرسکتا ہے انکے نام انکی علامات اور نشانیوں کے ذریعے سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کرسکتا ہے کہ یہ لوگ منافق اور اسلام و مسلمانوں کے دشمن ہیں ساتھ ہی اہل ایمان کو اس پر متوجہ کیا جارہا ہے کہ دشمنان اسلام کے اس…
Read the full tafseer →26:۔ ” ان الذین کفروا “ یہ آخر سورت میں پھر احوال مشرکین کا ذکر ہے۔ جو لوگ راہ ہدایت کے بالکل واضح اور روشن ہوجانے کے بعد بھی توحید کا انکار کرتے اور اسلام سے لوگوں کو روکتے ہیں اور پیغمبر خدا ﷺ کی عداوت میں حد سے گذر چکے ہیں اور آپ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں، وہ اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکٰں گے وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسلام پیغمبر اسلام اور اہل ایمان کے خلاف ان کے تمام منصوبوں کو ناکام کر کے ان کی تمام آرزوؤں کو خاک میں ملا دے گا۔ (سیحبط اعمالہم) التی عملوھا فی مشاقۃ الرسول ای سیبطلہا فلا یصلون منہا الی اغراضہم (مدارک ج 4 ص 118) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ربط آیات
جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں منافقین کا کردار اور ان کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ جب جہاد سے متعلق کوئی محکم سورة نازل ہوتی ہے تو آپ منافقین کو اپنی طرف بڑی حیرت سے دیکھتے ہوئے پاتے ہیں جیسا کسی شخص پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو ۔ پھر اللہ نے فرمایا ، کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں ؟ جو لوگ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی قرآنی پروگرام کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹے پائوں پھرجاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے حصے میں ہلاکت اور تباہی ہی آسکتی ہے۔ اللہ نے منافقین کا یہ کردار بھی بیان کیا کہ یہ لوگ جب اسلام…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ وَشَاۗقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَـبَيَّنَ لَہُمُ الْہُدٰى 0 ۙ لَنْ يَّضُرُّوا اللہَ شَـيْــــًٔا 0 ۭ وَسَيُحْبِطُ اَعْمَالَہُمْ 32
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
1 ؎ الاضغان جمع ضغن جو دل میں بری بات رکھی جائے حسد بغض کینہ خیانت لحن القول بات کا پھیرنا کسی غرض کے لیے 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَشَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْ م بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمُ الْھُدٰی لا لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا ط وَسَیُحْبِطُ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 32)
(جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی، بعد اس کے کہ ہدایت واضح ہوچکی تھی، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اللہ ان کے سارے اعمال کو غارت کردے گا۔ )
کفار اور منافقین کو تنبیہ
اس آیت کریمہ میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوا تھا اس کا اعادہ فرمایا گیا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ کفار اور منافقین کو سخت تنبیہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے بعد کفار کے کردار اور انجام کا ذکر۔
جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے باوجود اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ” اللہ “ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کا سب کچھ بگاڑ سکتا ہے اور بگاڑ دے گا۔ اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچاؤ۔ ان آیات میں دو اصول بیان کیے گئے ہیں۔
1۔ جو لوگ ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی کفر پر قائم رہتے ہیں اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ…
Read the full tafseer →آپ کو پہچاننے کے باوجود کفار کی معاونت کی :
آیت 32 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَشَآقُّوا الرَّسُوْلَ (بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی) اور اس سے دشمنی اختیار کی یعنی بدر کے دن کھانا کھلانے والے تھے۔ اور یہ گزر چکا ہے۔ مِنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدٰی (اس کے بعد کہ ان کو رستہ نظر آچکا تھا) اس کے بعد کہ ان کے سامنے آپ کی حقانیت ظاہر ہوگئی تھی اور آپ کا رسول اللہ ہونا پہچان چکے تھے۔ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا وَسَیُحْبِطُ اَعْمَالَکُمْ (یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ اور اللہ…
Read the full tafseer →31 ۔” ولنبلونکم “ اور ہم تم سے آزمائش کرنے والے کا معاملہ کریں گے۔ بایں طور کہ ہم تمہیں جہاد اور قتال کا حکم دیں گے۔ ” حتی نعلم المجاھدین منکم والصابرین “ یعنی علم وجود مراد ہے حتیٰ کہ مجاہد اور اپنے دین پر صبر کرنے والا اپنے غیر سے ظاہر ہوجائے۔ ” ونبلواخبارکم “ یعنی ہم اس کو ظاہر کریں اور کھول دیں ان کے انکار کے ساتھ جو قتال سے انکار کردیں اور جہاد پر صبر نہ کریں۔ ابوبکر نے عاصم (رح) سے ” ولیبلونکم حتی یعلم “ پڑھا ہے اور ” یبلو “ یاء کے ساتھ ان میں۔ بوجہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” واللہ یعلم اعمالکم “ کے اور دیگر حضرات نے ان میں نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ولونشاء لارینا کھم “ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
32۔ 35۔ عبد اللہ بن ابی اور جد بن قیس معتب بن قشیر منافقوں کے سردار تھے ان کی دغا بازی دکیھ کر ان کی وقم کے اور نادان لوگ بھی ان کے ڈھنگ سیکھتے تھے اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ بھی دین کی باتوں کے دل سے منکر ہیں اور اوروں کو بھی یہی راستہ سکھاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ سے یہ منافق لوگ طرح طرح کی مخالفتیں کرتے تھے مثلاً عبد اللہ بن ابی نے احد کی لڑای کے وقت تین سو آدمیوں کو بہکا کر لشکر اسلام میں سے کم کردیا چناچہ سورة النساء میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ ” من بعد ما تبین لھم الھدیٰ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے سبب سے ان لوگوں کو اگرچہ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ دین اسلام حق ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے…
Read the full tafseer →یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے لئے نہایت سخت وعید ہے جن میں ہر قسم کا شر جمع ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر، مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تک پہنچانے کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔ (وشاقوا الرسول من بعد ما تبین لھم الھدی) اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عناد رکھا جہالت، گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر عناد کی وجہ سے ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد آپ کی مخالفت کی (لن یضرو اللہ شیاء) ” اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتے۔ “ پس اس سے اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔
(وسیحبظ اعمالھم) اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو رائیگاں کر دے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 79] راہ حق سے روکنے والوں کا جرم ڈبل ۔ والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے کفر کیا اور انہوں نے روکا اللہ کی راہ سے " اور اس طرح یہ لوگ جرم بالائے جرم کے مرتکب ہوئے کہ انہوں نے ضلال کے ساتھ اضلال اور غواء کے ساتھ اغوا کے جرم کا بھی ارتکاب کیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور کفار و منکرین میں سے کتنے ہی بدبخت ایسے ہیں جن کا شغل شاغل یہی رہا۔ پہلے بھی یہی تھا اور آج تک یہی ہے کہ کسی طرح لوگوں کو دین حق سے روکا جائے۔ اور آج تو پوری دنیائے کفر و باطل یک زبان ہو کر حق اور اہل حق کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ اور اس کیلئے ایسے بدبخت لوگ نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ اور لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری
تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
آیات 29 تا 38۔
اسرار معارف۔
کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔
حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔
علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی منافقین اور یہود جنہیں یہ معلوم ہوچکا تھا کہ آنحضرت واقعی اللہ کے رسول ہیں اور سب سابقہ میں آپ کی آمد کی بشارت دی جاتی رہی ہے مگر وہ ضد اور عداوت سے آپ کی مخالفت کرتے رہے۔
9 یا ان کی مکاریوں اور چالبازیوں کو ناکام بنا دے گا۔ “
Read the full tafseer →(47:32) صدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ صد وصدود (باب نصر) مصدر انہوں نے روکا۔ صدود (فعل لازم) رکنا۔ روگردانی کرنا۔ منہ موڑنا۔ صد (فعل متعدی) ۔
شاقوا : ماضی جمع مذکر غائب ۔ شقاق و مشاقۃ (مفاعلۃ) مصدر۔
الرسول : مفعول واحد مذکر غائب۔ انہوں نے رسول کی مخالفت کی۔ وہ رسول کے مخالف ہوئے۔ ش ق ق مادہ۔
من بعد ما۔ من حرف جار، ما موصولہ ۔ اگلا جملہ اس کا صلہ۔
تبین ۔ ماضی واحد مذکر غائب تبین (تفعل) مصدر بمعنی ظاہر ہونا۔ واضح ہونا الھدی اسم ومصدر ہدایت ، انبیائ۔ اللہ کی کتابیں، صحیفے ، دلائل فطریہ۔ براہین عقلیہ، ایمان یہ سب بجائے خود ہدایت بھی ہیں اور ہادی بھی۔ یہ فعل تبین کا فاعل ہے۔ بعد اس کے کہ کھل چکی ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 34 :
اضغان (ضغن) کینہ۔ بغض۔ دل میں چھپائی گئی دشمنی ‘ عرفت (تونے پہچان لیا) ‘ سیما (پیشانیاں) لحن القول (گھما پھرا کر بات کہنا) ‘ شآقوا (انہوں نے نافرمانی کی) ‘ لن یضروا (وہ نقصان نہ پہنچائیں گے) ‘ یحبط ( وہ ضائع کردے گا) لا تبطلوا (تم ضائع نہ کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 34 :
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ گناہوں کے باوجود ہر آدمی کو مہلتیں دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہو سکے۔ اسکے ہر عیب پر پردے ڈالتا چلاجاتا ہے لیکن بار بار آگاہ کرنے کے باوجود اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
اطاعت رسول کریم ﷺ کے انعامات۔
(ف 1) جو لوگ کافر ہیں رسول و قرآن کو نہیں مانتے خود بھی گمراہ ہیں اور لوگوں کو بھی خدا کے سچے رستہ سے اور اس کی اطاعت سے روکتے ہیں اور بعد ظاہر ہوجانے راہ حق کے انہوں نے رسول اللہ کی مخالفت کی باوجود توریت میں خوب معلوم کرچکے تھے کہ نبی آخرالزمان ﷺ ہوں گے اور ان کی علامات خوب جان چکے تھے مخالفت کرتے ہیں تو وہ خدا کو ہرگز ہرگز ان بےہودہ باتوں سے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے ، اپنا برا کرتے ہیں خدا کا کیا بگڑتا ہے وہ عنقریب سزا دے گا اور ان کے سب اعمال ظاہرہ حسنہ دنیویہ باطل وبیکار کردے گا آگے مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ اور رسول کے حکم پرچلو، برخلاف حکم اللہ اور رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
[16] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مائدہ حاشیہ 54 صفحہ 282 اور سورة عنکبوت حاشیہ 2 صفحہ 948۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
مدینہ کا دارالضرب
2: قرآن حکیم نے اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے اصل پیش فرمائے ہیں ۔ اور بار بار یہ تاکید کیا ہے ۔ کہ اگر نجات چاہتے ہو ۔ اور دین ودنیا کی سعادتوں کو حاصل کرنے کے خواہان ہو ۔ تو ان دو عظیم المرتبت شخصیتوں کے ساتھ وفاداری کا عہد کرو ۔ یہ دو شخصیتیں اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہیں اور یہی دراصل ہیں ۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ ہر دو اطاعت بیکار اور رائیگان جائیگی ۔ جس کو ادا کرنے میں احکام الٰہی اور سنت رسول ﷺ کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور وہ اعمال باطل میں جو اسوہ رسول کے موافق نہیں ہیں ۔ اور وہ روشنی تاریکی وظلمت کے مترادف ہے ۔ جو مشکوٰۃ نبوت سے مستفاد نہیں ہے ۔ یعنی اعمال…
Read the full tafseer →(32) جن لوگوں نے بعد اس کے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ اور اس کے راستے سے روکا اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جب کہ ان کو سیدھی راہ دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے واضح اور منکشف ہوچکی تھی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو ذرا سا نقصان اور زیاں نہ پہنچاسکیں گے البتہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کو رائیگاں اور کالعدم کردے گا۔
مطلب یہ ہے کہ ہدایت اور صحیح راہ جب واضح اور ظاہر ہوچکی اور دین حق معلوم ہوگیا پھر اس کے بعد جو لوگ کفر اختیار کریں اور کافرانہ روش کے پابند ہوں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے ترغیب یاترہیب سے روکیں یعنی لالچ دے کر یا ڈرا دھمکا کر باز رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 2۔ بلکہ یہ دین ہر حال میں پورا ہو کر رہے گا۔ چناچہ ہوا۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کر کے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا
23 ؎ مجاہدین اور صبر کرنے والے لوگوں کے اصل مخالف اور ضد تو کفار تھے لیکن تعجب ہے ان لوگوں پر جنہوں نے اسلام کے دعویٰ کے باوجود کفر کا کردار ادا کیا ان لوگوں کو اصل کافروں کے نام اور ان کے کام کا ذکر کے بتایا جا رہا ہے کہ سوچنے کا مقام ہے اس لئے ذرا تم بھی سوچ لو کہء کافروں کو کافر کیوں کہتے ہیں ؟ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے خود رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تبلیغ کو سن کر اور اچھی طرح سمجھ کر اس کا انکار کر رہے ہیں اور آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی کھلی مخالفت کر رہے ہیں اس لئے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
Commentary
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ (Those who disbelieve and prevent (others) from Allah's way ... - 47:32) This verse also refers to the hypocrites, and the Jewish tribes of Banu Quraizah and Banu Nadir. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ says that this verse refers to those hypocrites who, on the occasion of the battle of Badr, joined forces with the infidels of Quraysh and helped them in such a way that twelve men of the two tribes took upon themselves the responsibility of feeding the entire army. Each one of the twelve men took turns to organize meal for the enemy…
Read the full tafseer →39 This sentence has two meanings: (1) That Allah will render vain and fruitless all those works which they had performed as "good works", and they will get no reward whatever for them in the Hereafter; and (2) that all the devices that they are adopting to obstruct the way of Allah and His Messenger's Religion will prove ineffective and fruitless.
Read the full tafseer →