Explained with ayahs 29–31
منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو
یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں ؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بد باطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورة براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی فاضحہ رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔ (اضغان) جمے ہے (ضغن) کی ضغن کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
سورة مُحَمَّد 38
اعمال سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے۔ ان کی نمازیں، ان کے روزے، ان کی زکوٰۃ، غرض وہ تمام عبادتیں اور وہ ساری نیکیاں جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے اعمال خیر میں شمار ہوتی تھیں اس بنا پر ضائع ہوگئیں کہ انہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے دین اور ملت اسلامیہ کے ساتھ اخلاص و وفاداری کا رویہ اختیار نہ کیا، بلکہ محض اپنے دنیوی مفاد کے لیے دشمنان دین کے ساتھ ساز باز کرتے رہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع آتے ہی اپنے آپ کو خطرات سے بچانے کی فکر میں لگ گئے۔
یہ آیات اس معاملہ میں بالکل ناطق ہیں کہ کفر و اسلام کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں اسلام…
Read the full tafseer →(آیت) حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ ، اللہ تعالیٰ کو تو ازل سے ہر شخص کے اعمال و افعال کا علم محیط ازلی ابدی ہے۔ یہاں علم سے مراد ظہور و وقوع ہے یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے تھی اس کا وقوع و ظہور ہو کر واقعاتی علم ہوجائے۔ (ابن کثیر) واللہ اعلم
Read the full tafseer →کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کے لئے امتحان
ولنبلونکم حتی نعلم المجھدین منکم والصبرین لا ونبلوا اخبار کم 31
یعنی مختلف قسم کے نرم و گرم حالات کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ لازماً تمہارا امتحان کرے گا یہاں تک کہ وہ اچھی طرح پرکھ لے گا کہ تمہارے اندر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے کون ہیں اور کون محض زبان کے غازی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ تو نہیں ہے کہ وہ ہر منافق کی قشانی پر لکھ دے کہ یہ منافق ہے لیکن اس کی یہ سنت بالکل لازمی اور قطعی ہے کہ وہ مختلف امتحانتا کے ذریعہ سے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کرتا ہے اور یہ بات چونکہ اس کی سنت کا تقاضا ہے اس وجہ سے اس امتحان سے…
Read the full tafseer →31۔ 1 اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی سب کچھ ہے۔ یہاں علم سے مراد اس کا وقوع اور ظہورہے تاکہ دوسرے بھی جان لیں اور دیکھ لیں۔ اسی لئے امام ابن کثیر نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے کہ ہم اس کے وقوع کو جان لیں یا ہم دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔
Read the full tafseer →ولنبلوا نکم حتی ۔۔۔۔۔۔۔ اخبارکم (47 : 31) “ ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں اور تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہے ”۔ اللہ تو تمام نفوس کے خفیہ خزانوں سے بھی واقف ہے۔ اور زیر زمین مع دنیا سے بھی واقف ہے۔ اور انسانوں کی خفیہ اور چھپائی ہوئی باتوں کو بھی جاننے والا ہے۔ اور جو معاملات ہونے والے ہیں ، ان کو اس طرح جانتا ہے جس طرح وہ عملاً ہوچکے ہوں۔ اب اللہ مزید مجاہدین اور صابرین کو کس طرح جاننا چاہتا ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسانوں کے ساتھ اتنا ہی معاملہ کرتا ہے جس قدر ان کی قوت ، ان کی طبیعت اور ان کی استعداد کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔ انسان اس…
Read the full tafseer →7 یعنی جہاد وغیرہ کے احکام سے آزمائش مقصود ہے۔ اسی سخت آزمائش میں کھلتا ہے کہ کون لوگ اللہ کے راستہ میں لڑنے والے اور شدید ترین امتحانات میں ثابت قدم رہنے والے ہیں اور کون ایسے نہیں۔
8 یعنی ہر ایک کے ایمان اور اطاعت وانقیاد کا وزن معلوم ہوجائے اور سب کے اندرونی احوال کی خبریں عملاً محقق ہوجائیں۔ (تنبیہ) " حی نعلم الخ " سے جو شبہ حدوث علم کا ہوتا ہے اس کا مفصل جواب " پارہ سیقول " کے شروع (اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ) 2 ۔ البقرۃ :143) کے حواشی میں ملاحظہ کیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 31 { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَلا وَنَبْلُوَا اَخْبَارَکُمْ } ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں انہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پوری تحقیق کرلیں تمہارے حالات کی۔“
حَتّٰی نَعْلَمَ کا لفظی ترجمہ تو یوں ہوگا کہ ہم معلوم کرلیں ‘ لیکن اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پہلے سے اس کے علم میں نہ ہو۔ اس لیے ان الفاظ کی ترجمانی یونہی ہوگی کہ ہم تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں اور سب کو دکھا دیں کہ تم میں سے مجاہدین کون ہیں اور صبر کرنے…
Read the full tafseer →35 بدا یعنی اللہ کے حدوث علم کا گمراہ کا کن عقیدہ :۔ لِنَعْلَمَ کے لفظ سے بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حدوث علم کا شبہ ظاہر کیا۔ یعنی اللہ کو بھی کوئی واقعہ ہوچکنے کے بعد علم ہوتا ہے پہلے نہیں ہوتا۔ حالانکہ بیشمار آیات اللہ تعالیٰ کے ازلی اور کلی علم کی صراحت پیش کرتی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے الفاظ صرف اس وقت استعمال فرماتے ہیں کہ جبکہ اس علم کا تعلق اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے دیکھنے سے ہو۔ یعنی جہاد کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کفر کا سر توڑ کر مسلمانوں کی مدد کرسکتا تھا۔ لیکن اس طرح کسی کے صبر و استقلال اور ایمان کی آزمائش نہیں ہوسکتی تھی۔ اور نہ ہی مختلف لوگوں کی مختلف طرح…
Read the full tafseer →33۔ (ظاہری طور پر بھی) جانچ سے مراد صرف یہ ہے کہ یہ علم اور یہ جانچ کھلے خزانہ سب کے روبرو ہوجائے۔ ورنہ حق تعالیٰ کے علم ازلی میں تو ظاہر ہے کہ ہر واقعہ ہمیشہ ہی سے موجود ہے۔
Read the full tafseer →ولنبلونکم حتی نعلم المجاھدین (الآیۃ) اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی سب کچھ ہے، یہاں علم سے مراد اس کا ظہور ہے تاکہ دوسرے بھی جان لیں اور دیکھ لیں، اسی لئے امام ابن کثیر نے فرمایا کہ حتی نعلم وقوعہ ابن عباس ؓ اس قسم کے الفاظ کا ترجمہ کرتے تھے لنری تاکہ ہم دیکھ لیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →ولنبلونکم حتی نعلم المجھدین منکم والصبرین ونبلوا اخبارکم اور ہم ضرور تم سب کی
آزمائش کریں گے تاکہ تم میں سے ہم ان لوگوں کو معلوم کرلیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور جو ثابت قدم رہنے والے ہیں اور تاکہ تمہاری حالتوں کی جانچ کرلیں۔
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ یعنی جہاد کا حکم دے کر ہم تمہاری جانچ ضرور کریں گے۔
حَتّٰی نَعَلم یعنی جس طرح وجود سے پہلے ہم کو معلوم تھا کہ آئندہ ایسا ہوگا ‘ اسی طرح امتحان کے بعد ہم علم حاصل کرنا چاہتے ہیں ‘ یا نَعْلم کا معنی ہے نمیِّز یعنی ہم چھانٹ دیں گے ‘ الگ الگ کردیں گے (علم سبب ہے اور تمییز ‘ یعنی الگ الگ کردینا اسکا نتیجہ۔ سبب بول کر اس کی جگہ مسبب ‘ یعنی نتیجہ…
Read the full tafseer →اور ضرور اللہ تعالیٰ جہاد کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرے گا تاکہ اے گروہ منافقین وہ ظاہری طور پر بھی ان لوگوں کو نمایاں کرے جو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور جو جہاد میں ثابت قدم رہنے والے ہیں۔
اور تاکہ تمہاری خفیہ باتوں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے دشمنی و مخالفت کو یا یہ کہ تمہارے نفاق کو ظاہر کردیں۔
Read the full tafseer →(1) ولنبلونکم حتی نعلم المھدین منکم…: یہ مسلمانوں سے عام خطاب ہے کہ منافقوں کے ذکر سے یہ خیال نہ کرنا کہ تم امتحان سے مستثنیٰ ہو۔ ہرگز نہیں، بلکہ ہم ہر حال میں مختلف احکام کے ساتھ تمہاری آزمائش کریں گے حتیٰ کہ تم میں سے جہاد کرنیو الوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمہارے حالات کی خوب جانچ پڑتال کرلیں۔
(2) یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ کاموں کا علم ہے، وہ ان کاموں کو بھی جانتا ہے جو آئندہ ہونے والے ہیں، پھر سا بات کا کیا مطلب کہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں ؟ حافظ ابن کثیر نے فرمایا :”مراد یہ…
Read the full tafseer →ہم تم پر شرعی احکام لازم کریں گے اگرچہ ہم امور کے عواقب کو اچھی طرح جانتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم تہمارے ساتھ ممتحن کا سا معاملہ کریں گے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کا معنی ہے ہم جدا جدا کردیں۔
حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : یہاں تک کہ ہم دیکھ لیں گے۔ سورة البقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ عام قرأت نون کے ساتھ ہے۔
ابو بکر نے عاصم سے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور رویس نے یعقوب سے وائو کے کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی نبلو
کیونکہ یہ ماقبل سے الگ ہے۔ باقی قراء نے اسے منصوب پڑھا ہے کیونکہ اس کا تعلق کے ساتھ ہے وہ یہ علم وہ ہے جس کے جزا واقع ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزا علم قدیمی کی بناء پر نہیں دے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
منافقین کے بارے میں آگاہی :
1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانہم “ (کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہ کرے گا) یعنی کیا اللہ تعالیٰ ظاہر نہیں کرے گا ان کے خبث اور حسد کو جو ان کے دلوں میں ہے پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو آگاہ فرمایا اور آپ ﷺ منافقین میں سے ہر آدمی کو ان کے نام لے کر پکارتے تھے۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) وابن عساکر (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتعرفنہم فی لحن القول “ (اور آپ اس کو طرز…
Read the full tafseer →وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ [ اور ہم لازما آزمائیں گے تم لوگوں کو ] حَتّٰى نَعْلَمَ [ یہاں تک کہ ہم جان لیں (ظاہر کردیں ) ] الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ [ مجاہدوں کو تم میں سے ] وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ [ اور ثابت قدم رہنے والوں کو ] وَنَبْلُوَا۟ [ اور ہم جانچیں گے ] اَخْبَارَكُمْ [ تمہاری حالتوں کو ]
Read the full tafseer →﴿وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ ﴾ یعنی اعمال شرعیہ جہاد وغیرہ کے جو احکام نافذ کیے جاتے ہیں ان کے ذریعہ تمہاری آزمائش کی جاتی ہے ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ مخلص مجاہدین اور صابرین کا ظاہری طور پر علم ہوجائے ﴿وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ 0031﴾ (اور تاکہ ہم تمہارے احوال کو جانچ لیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
تہدید وتحذیر باظہار مکر وتدابیر منافقین ودشمنان اسلام ومساعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ...... الی ...... ولا تبطلوا اعمالکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں جہاد کے حکم پر منافقین کے بیہودہ رویہ اور طرز عمل کا ذکر تھا اب ان آیات میں انکو مخاطب کرتے ہوئے تنبیہ کی جارہی ہے اور آگاہ کیا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت سے انکی کوئی بھی بات مخفی نہیں ہے اللہ جب چاہے انکے راز فاش کرسکتا ہے انکے نام انکی علامات اور نشانیوں کے ذریعے سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کرسکتا ہے کہ یہ لوگ منافق اور اسلام و مسلمانوں کے دشمن ہیں ساتھ ہی اہل ایمان کو اس پر متوجہ کیا جارہا ہے کہ دشمنان اسلام کے اس…
Read the full tafseer →25:۔ ” ولنبلونکم۔ الایۃ “ ہم حکم جہاد سے تمہاری آزمائش کرنا چاہتے ہیں اور ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ کون تم میں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں کہ کون تم میں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتا اور راہ حق میں مصائب برداشت کرنا چاہتا ہے اور کون ایسا نہیں کرنا چاہتا اس سے بھی مخلص و منافق میں امتیاز ہوجائیگا اور مخلص و منافق کے عمل سے اس کی اندرون دل کیفیت ظاہر ہوجائیگی۔ یعنی انا نامرکم بالجھاد حتی یظہر المجاھد و یبین من یبادر منکم و یصبر علیہ من غیرہ (خازن ج 6 ص 184) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ربط آیات
جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں منافقین کا کردار اور ان کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ جب جہاد سے متعلق کوئی محکم سورة نازل ہوتی ہے تو آپ منافقین کو اپنی طرف بڑی حیرت سے دیکھتے ہوئے پاتے ہیں جیسا کسی شخص پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو ۔ پھر اللہ نے فرمایا ، کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں ؟ جو لوگ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی قرآنی پروگرام کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹے پائوں پھرجاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے حصے میں ہلاکت اور تباہی ہی آسکتی ہے۔ اللہ نے منافقین کا یہ کردار بھی بیان کیا کہ یہ لوگ جب اسلام…
Read the full tafseer →وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ 0 ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31
لام
اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه :
الأول :
الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع .
الثاني : للملک والاستحقاق،
ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
1 ؎ الاضغان جمع ضغن جو دل میں بری بات رکھی جائے حسد بغض کینہ خیانت لحن القول بات کا پھیرنا کسی غرض کے لیے 12 منہ
Read the full tafseer →وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰھِدِیْنَ مِنْـکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ لا وَنَبْلُوَاْ اَخْبَارَکُمْ ۔ (محمد : 31)
(ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے تاکہ ہم ممیز کردیں تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو، اور تمہارے حالات کی جانچ کریں۔ )
آزمائش کی کسوٹی
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عام طریقہ بڑے سے بڑے جرم کو بھی افشا نہ کرنا ہے تاکہ ہر شخص کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رہے جو دلوں کے بھیدوں کا جاننے والا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اس کی ایک اور سنت بھی ہے جو پیش نظر آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے کہ ہم کسی منافق کے چہرے پر تو یہ لکھنا پسند نہیں کرتے کہ یہ شخص منافق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کی بری عادات کا ذکر جاری ہے۔
” اَضْغَانَ “ کا واحد ” ضغن “ ہے جس کا معنٰی حسد وبغض اور کینہ ہے۔ منافق یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے حسد وبغض کو ظاہر نہیں کرے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو منافقوں کو اس طرح آشکارہ کردیتا کہ تمام مسلمان ان کو اچھی طرح پہچان لیتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور شفقت کی بنا پر ان کی پردہ پوشی کیے ہوئے ہے۔ البتہ اس نے منافقین کے لیڈروں کو کافی حد تک ظاہر کردیا ہے۔ اس بنا پر آپ ان کے کردار اور انداز گفتگو سے انہیں اچھی طرح پہچان سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے اور تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ…
Read the full tafseer →آزمائش برائے ظہور :
آیت 31 : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ (اور ضرور تمہاری آزمائش کریں گے) قتال کے ذریعہ تمہارے سامنے ظاہر کرنے کے لئے نہ کہ تمہارے متعلق معلومات لینے کیلئے (کیونکہ ہم تو علام الغیوب ہیں) نمبر 2۔ ہم تم سے ایسا معاملہ کریں گے۔ جیسا امتحان لینے والا معاملہ کرتا ہے تاکہ اظہار عدل میں بلیغ تر ہو۔ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ (تاکہ ہم ان لوگوں کو معلوم کرلیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور جو ثابت قدم رہنے والے ہیں) یعنی جہاد پر ثابت قدم یعنی اس کا ہونا جان لیں جس کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ وہ عنقریب پیش آئے گا۔ وَنَبْلُوَا اَخْبَارَکُمْ (اور تمہاری حالتوں کی جانچ…
Read the full tafseer →30 ۔” ولو نشاء لاریناکھم “ یعنی ہم آپ (علیہ السلام) کو ان کی خبر دیتے اور پہچان کرادیتے۔ ” فلعرفتھم بسیما ھم “ ان کی علامت کے ذریعے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ معنی ہے اگر ہم چاہتے تو منافقین پر ایسی علامت بنادیتے جس کے ذریعے آپ (علیہ السلام) ان کو پہچان لیتے۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ پر منافقین کی کوئی چیز مخفی نہ رہی۔ آپ (علیہ السلام) ان کو ان کی علامت سے پہچان لیتے تھے۔
” ولتعرفنھم فی لحن القول “ اس کے معنی اور مقصد میں اور لحن کے دو معنی ہیں درستگی اور غلطی۔ درستگی کے معنی سے فعل ” لحن، یلحن، لحنا فھولحن “ ہے جب کسی چیز کو سمجھ لے اور اسی سے نبی کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29۔ 31۔ یہ وہی آیتیں ہیں جن کا خلاصہ اوپر گزر چکا ہے کہ کیا ان منافق لوگوں نے اپنی بدنیتی کی درپردہ باتوں کو اللہ تعالیٰ سے چھپانا چاہا ہے کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں لوگوں کے درپردہ مشورے اور ان کے دلوں کے بھید سب اس کو معلوم ہیں۔ وہ اگر چاہے تو ان منافقوں کے چہروں پر ایسی پھٹکار برسنے لگے اور ان کی بات چیت میں ایسا اندازہ پیدا ہوجائے کہ وہ منافق اپنے چہروں اور اپنی باتوں سے پہچانے جائیں پھر مسلمانوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ دین کی لڑائی کا حکم اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کے لئے نازل فرمایا ہے کہ لڑائی میں ہمت کرنے والے اور فقط زبان سے ہمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : (ام حسب الذین فی قلوبھم مرض) ” کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انہوں نے خیال کیا ہے۔ “ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کردیتا ہے کہ ان کے دلوں میں اسلام اور اہل اسلام کے لئے جو کینہ اور عداوت ہے اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا ؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیق مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلاء نے الٹے پاؤں پھیر دیا اور اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
[ 75] نفاق اور حسد کے روگیوں کو تنبیہ، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا اور ان کے نفاق پر اسی طرح پڑا رہے گا ؟ " استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ اللہ پاک ان کے دلوں کے کھوٹ ضرور ظاہر فرمائے گا۔ جیسا کہ سورة توبہ میں اس نے اپنے پیغمبر کیلئے ظاہر فرمایا۔ اسی لئے اس سورة کریمہ کو " فاضحۃ " [ منافقوں کو رسوا کرنے والی سورت ] بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی ذلت و رسوائی سے ہمیشہ کے لئے محفوظ رکھے، آمین بہرکیف یہاں پر منافقین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری
تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
آیات 29 تا 38۔
اسرار معارف۔
کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔
حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔
علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 7 یعنی ان کے انداز گفتگو سے ان کا منافق ہونا معلوم کیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →(47:31) ولنبلونکم : وائو عاطفہ لام تاکید کے لئے نبلون مضارع معروف تاکید بانون ثقیلہ۔ صیغہ جمع متکلم بلاء مصدر باب نصر۔ ہم ضرور آزمائیں گے۔ ہم ضرور جانچ کریں گے تمہاری کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (تمہاری) ۔
نعلم ۔ مضارع منصوب بوجہ عمل حتی۔ جمع متکلم ۔ تاکہ ہم جان لیں۔
حتی نعلم کی وضاحت فرماتے ہوئے صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔
یعنی جس طرھ وجود سے پہلے ہم کو معلوم تھا کہ آئندہ ایسا ہوگا۔ اسی طرح امتحان کے بعد ہم علم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یا نعلم کا معنی ہے نمیز ، یعنی ہم چھانٹ دیں۔ الگ الگ کردیں۔ (علم سبب ہے اور تمیز یعنی الگ الگ کردینا اس کا نتیجہ۔ سبب بول کر اس کی جگہ مسبب یعنی نتیجہ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 34 :
اضغان (ضغن) کینہ۔ بغض۔ دل میں چھپائی گئی دشمنی ‘ عرفت (تونے پہچان لیا) ‘ سیما (پیشانیاں) لحن القول (گھما پھرا کر بات کہنا) ‘ شآقوا (انہوں نے نافرمانی کی) ‘ لن یضروا (وہ نقصان نہ پہنچائیں گے) ‘ یحبط ( وہ ضائع کردے گا) لا تبطلوا (تم ضائع نہ کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 34 :
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ گناہوں کے باوجود ہر آدمی کو مہلتیں دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہو سکے۔ اسکے ہر عیب پر پردے ڈالتا چلاجاتا ہے لیکن بار بار آگاہ کرنے کے باوجود اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
منافقین کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق وشک کی بیماری ہے اور مکار و عیار ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ یوں ہی خفیہ رہیں گے اور بات بنی چلی جائے گی خدا ان کی پوشیدہ عداوت جو خدا اور رسول سے رکھتے ہیں ظاہر نہ کرے گا، ان کانفاق ان کا کفر اہل اسلام پر آشکار نہ فرمائے گا کیا ان کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں لوگوں کے درپردہ مشورے اور ان کے دلوں کے بھید سب اس کو معلوم ہیں وہ اگر چاہے تو ان منافقوں کے چہروں پر ایسی پھٹکار برسنے لگے اور ان کی بات چیت میں ایسا اندازہ پیدا ہوجائے کہ وہ منافق اپنے چہروں اور اپنی باتوں سے پہچانے جائیں، حدیث ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
[16] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مائدہ حاشیہ 54 صفحہ 282 اور سورة عنکبوت حاشیہ 2 صفحہ 948۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
مدینہ کا دارالضرب
2: قرآن حکیم نے اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے اصل پیش فرمائے ہیں ۔ اور بار بار یہ تاکید کیا ہے ۔ کہ اگر نجات چاہتے ہو ۔ اور دین ودنیا کی سعادتوں کو حاصل کرنے کے خواہان ہو ۔ تو ان دو عظیم المرتبت شخصیتوں کے ساتھ وفاداری کا عہد کرو ۔ یہ دو شخصیتیں اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہیں اور یہی دراصل ہیں ۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ ہر دو اطاعت بیکار اور رائیگان جائیگی ۔ جس کو ادا کرنے میں احکام الٰہی اور سنت رسول ﷺ کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور وہ اعمال باطل میں جو اسوہ رسول کے موافق نہیں ہیں ۔ اور وہ روشنی تاریکی وظلمت کے مترادف ہے ۔ جو مشکوٰۃ نبوت سے مستفاد نہیں ہے ۔ یعنی اعمال…
Read the full tafseer →(31) اور ہم ضرور تم سب کی آزمائش کریں گے تاکہ ہم تم میں سے جو جہاد کرنے والے اور مصائب پر صبر کرنے والے اور تکالیف کو برداشت کرنیوالے ہیں ان کو جان لیں اور ظاہری طور پر ان مجاہدین اور صابرین کو دوسروں سے متمیز کردیں اور تاکہ ہم تمہارے دوسرے حالات کی جانچ کرلیں۔
یعنی جیسا کہ ابھی مذکور ہوا فھل عسیتم اسی سلسلے میں فرماتے ہیں کہ ہم تمہارا امتحان اور تمہاری جانچ کریں گے تاکہ بزدل کمزور اور بہادر متمیز ہوجائیں اگرچہ ان کو سب کی حالت معلوم ہے اسی لئے مقصود اعلام نہیں بلکہ استعلام ہے تاکہ ہر شخص کی حالت معلوم ہوجائے اور منافق اور مومن معلوم ہوجائیں پھر فرمایا امتحان صرف جہاد پر ہی موقوف نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 1۔ پس مسلمانوں کو ان کے اخلاص پر جزا اور منافقین کو ان کے نفاق و خداع پر سزا دے گا۔
Read the full tafseer →ہم مجاہدین اور صبر کرنے والوں کو دوسرے لوگوں سے ممتاز کردینا چاہتے ہیں
13 ؎ منافقین کے کردار ‘ اخلاق اور اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اب بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کا ذکر اس تفصیل سے آپ ﷺ کو کیوں سنایا ہے ؟ فرمایا۔ یہ سارا بیان محض اس لئے کیا گیا ہے تاکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ‘ صبر کرنے والے سچے اور پکے مومنوں کو منافقوں اور زبان سے اسلام کا اقرار کرنے کے بعد عمل کے کافروں سے الگ کردیا جائے گا۔ شاید کسی صاحب کو خیال آئے کہ پیچھے مجاہدین اور صابرین کے متلق تو دور دور کوئی بات نہیں کی گئی پھر اچانک یہ بات کس طرح ارشاد فرما دی گئی تو خیال رہے کہ ضدین میں سے ایک کا بیان کر دیاجائے تو…
Read the full tafseer →حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ (...until We know those of you who carry out Jihad,... - 47:31) Allah's knowledge of every person’ s works and deeds is all-encompassing and eternal. It may be noted here that knowledge is of two kinds: [ i ] a priori knowledge or fore-knowledge, knowledge about a thing before its occurrence; and [ ii ] a posteriori knowledge or –in Mariam knowledge, knowledge about a thing after it has actually happened. Here knowledge refers to the second category. Allah’ s knowledge of things is since eternity. In this context, the knowledge about things is a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
38 This refers to alI those works that they performed as "Muslims." Their Prayers, their fasting, their payments of the zakat, and all other acts of worship and virtue, which in appearance and form are counted among good works. were rendered void, for they failed to adopt the attitude of sincerity and loyalty towards AIIah and Islam and the Muslim community even though they professed to be Muslims; but, on the contrary, they went on conspiring with the enemies of Islam for the sake of small worldly gains, and started devising schemes to save themselves from any possible risks as soon as time…
Read the full tafseer →