Ayah 47:1کافر خود بھی اسلام سے رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکتے ہیں :
1 ؎ یہ بات بطور اصول یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جب بھی کسی نبی و رسول نے اپنی نبوت و رسالت کا اللہ کے حکم سے قوم کے سامنے ذکر کیا تو تو قوم کے کھاتے پیتے لوگوں نے جو خوش حال تھے اس کی دعوت کا انکار کیا اور ان بڑے لوگوں کے انکار کی وجہ سے بہت سے وہ لوگ بھی ایمان نہ لائے جو دل میں اس نبی و رسول کی تحریک کے حق ہونے کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے لیکن اس کا اظہار نہ کرسکتے تھے کیونکہ قوم کے وڈیروں سے وہ خوف کھاتے تھے اس لئے گویا وہ و ڈیرے خود بھی ایمان نہیں لاتے تھے اور بہت سے ایمان لے آنے والوں کو بھی باز رکھتے تھے۔ زیر نظر آیت میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ جو خود بھی ایمان نہیں لاتے اور دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکتے ہیں یعنی دوسروں کے لئے حجاب بن گئے ہیں کہ ان کے خوف کے باعث وہ ایمان لانے سے بازرہ رہے ہیں ۔ اس طرح گویا وہ اپنا نقان خود کر رہے ہیں کہ جس کو نہ ماننے اور اس کا کھلا انکار کرنے کے باعث وہ اپنے اچھے اعمال کو بھی خود برباد کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس طرح ایمان لانے کے بعد ایمان والوں کی نیکیاں ایمان والوں کی برائیوں کو کھا جاتی ہیں اسی طرح کفار کی برائیاں کفار کی نیکیوں کو کھا جاتی ہیں اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ نیکی فی نفسہ نیکی ہے اور برائی فی نفسہ برائی ہے کسی شخص کے سر انجام دینے سے جو اس کا تعلق ہے وہ فقط یہ ہے کہ بعض کی برائیاں نیکیوں کو کھا جاتی ہیں یعنی ضائع کردیتی ہیں اور بعض کی نیکییاں برائیوں کو کھا جات ہیں یعنی ختم کردیتی ہیں۔ اس سے ان لوگوں کا یہ شبہ دور ہوجانا چاہئے جو اس طرح کے اعترضا کرتے ہیں کہ بعض بڑے بڑے کافروں نے بہت اچھے اچھے اعمال کئے ہیں اور پھر جب وہ اعمال اچھے ہیں تو آخر ان کو ان اچھے اعمال کا بدلہ کیوں نہیں ملے گا اور وہ جنت میں آخرکیوں نہیں جائیں گے یہ بات ہماری سمجھ نہیں نہیں آتی۔ زیر نظر آیت سے ان کے اس شبہ کا ازالہ ہوجانا چاہئے اگر اس کے بعد بھی ان کے اس وہم کا ازالہ نہ ہو اور یہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ایمان کی اتنی طاقت ہے کہ سچے دل سے ایمان لانے والے کی نیکیاں اس کی برائیوں کو ختم کردیتی ہیں اور کفر میں یہ کمزوری موجود ہے کہ وہ اپنے کفر کے باعث اپنی نیکیوں کو بھی ختم کرلیتا ہے تو پھر سامعین کو اللہ ہی تفہیم کرا دے ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہمارے بس کی جو بات تھی وہ وہ تو ہم نے صاف صاف کہہ دی ہے { ان الحسنات یدھبن السینات } کا اصول سورة ہود کی آیت 411 میں گزر چکا ہے اور { اضل اعمالھم } کہ ان کے عمل برباد ہوجاتے ہیں کا اصول اس زیر نظر آیت نے واضح کردیا ہے اور سورة ہود کی آیت کی مزید وضاحت آنے والی آیت کر رہی ہے ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 47:2جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والے کلام کو مانا ان کا حال
2 ؎ فرمایا اوپر تو ان لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کینیکیاں بھی ان کو کچھ فائدہ نہ دیں گی بلکہ برباد کردی جائیں گی لیکن ان کے مقابلہ میں ایسے خوش بخت لوگ بھی موجود ہیں جو ایمان کی دولت سے مالامال ہوئے اور ان کے ایمان لانے کا ان کو یہ صلہ ملا کہ ان کے حق کو قبول کرلینے کے باعث ان کی غلطیاں بھی مٹا دی گئیں خواہ وہ غلطیاں انہوں نے ایمان لانے سے پہلے عمداً کیں تھیں یا ایمان لانے کے بعد سہواً ان سے ہو چکیں سب کو مٹا دیا جائے گا اور ان کے کاموں کی بحمد اللہ اصلاح کردی جائے گی گویا ایمان کی طاقت اتنی طاقت ہے کہ ایمان لانے کے باعث ایمان لانے والوں کی وہ غلطیاں جو انہوں نے ایمان لانے سے پہلے کی تھیں وہ بھی مٹا دی گئیں اور جو بعد میں ان سے سرزد ہوں گی ان کی نکیاں ان کو بھی بریاد کردیں گی اور ان کا اعمال نامہ صاف ہوجائے گا اور اس طرح کی کوئی پرخاش ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے رہ جائے گی تو اس کو بھی قیامت کے روز صاف کردیا جائے گا اور جو بعد میں ان سے سرزد ہوں گی ان کی نیکیاں ان کو بھی بریاد کردیں گی اور ان کا اعمال نامہ صاف ہوجائے گا اور لاریب وہ سب کے سب ایک دوسرے کے لئے سلامتی ہی سلامتی ہو کر رہ جائیں گے۔ یہ بھی خیال رہے کہ ایمان مخصوص کردیا گیا ہے محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ پر اتارے گئے کلام کے ساتھ جیسا کہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ { وآمنو بما نزل علیٰ محمد } گویا دوسرے لفظوں میں اب نیک عمل وہی نیک عمل ہوگا اور اس کی قدروقیمت ہوگی جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی پیروی میں کیا گیا اور یہی وہ نیک عمل وہ گا جو اس کی برائیوں کو ختم کرے گا ۔ اس آیت نے یہ بات واضح کردی کہ جس عمل کی پشت پر محمد رسول اللہ ﷺ کی مہر نہیں ہوگی وہ بہر حال قابل قبول نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال کو محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں درست کرے اور کسی دوسری بدعت کا مرتکب نہ ہو اور اپنے دل میں یہ بات جما لے کہ ایسی کوئی نیکی نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں درست کرے اور کسی دوسری بدعت کا مرتکب نہ ہو اور اپنے دل میں یہ بات جمالے کہ ایسی کوئی نیکی نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ نے کی نہ ہو اور ایسی کوئی برائی نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ نے چھوڑ نہ ہو گویا دوسرے لفظوں میں نبی کریم ﷺ ہی وہ معیار حق ہیں کہ آپ ﷺ کا کیا نیکی ہے اور آپ ﷺ کا چھوڑا برائی۔ اور یہی وہ میزان ہے جس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ ﷺ نے یقیناً یہ کام کیا ہے اور یہ کام نہیں کیا اور یہی دو اصول ہیں جو ہمارے سارے اختراعی اصولوں سے آسان اور حقیقت کے قریب تر ہ۔ جب آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ قرآن کریم ہے تو قرآن کریم کی کسی تعلیم کے خلاف آپ ﷺ کا کوئی کام ممکن ہی نہیں اور نہ ہی اس کے لئے کسی سند کو دیکھنے کی کوئی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ کہنے والا کون ہے اور کیسا ہے۔
جس طرح گزشتہ صفحات میں مناسب مقام پر ہم نے سارے انبیاء و رسل (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت دی ہے آپ ﷺ کے اسم مبارک کی نسبت سے ہم چاہتے تھے کہ ایک مختصر سرگزشت اس جگہ دی جائے لیکن چونکہ آپ کی سرگزشت قدرے مفصل ہوگی اس لئے زیر نظر سورت اور آیت کے تحت درج کرنے کی بجائے سورة الفتح کے آخر میں اس کا اندراج ہوگا۔ ان شاء اللہ ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی پہچان کا ذکر ہے اس لیء وہاں سے ملاحظہ کرلیجئے گا۔ اس جگہ قارئین سے ہمای درخواست ہے کہ اس اصول کو سمجھنے کی پوری پوری کوشش کریں کہ قرآن کریم ہی ہمارے اسلامی قانون کی اصل بنیاد ہے ‘ اس میں کوئی حکم ہوگا تو اس کی تشریح کے لئے ہم کو آپ ﷺ کی پیروی کی تلاش ہوگی اور آپ ﷺ کی پیروی میں کوئی ایسی بات ممکن نہیں جو قرآن کریم کے کسی دوسرے حکم سے ٹکرا جائے گی اگر کوئی ایسی بات ہوگی تو وہ نہ آپ ﷺ نیکی ہے اور نہ ہی آپ ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے اور نہہی اس کی سند کو پرکھنے اور دیکھنے کی کوئی ضرورت ہے۔ خواہ کہنے والا کون ہو ‘ کہاں ہو اور کیسا ہو۔ مثلاً قرآن کریم نے صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور بہت سے مقامات پر اس کے ضمنی احکام بھی بتا دیئے ہیں جو اصل حکم کی مزید شقیں ہیں اب ظاہر ہے کہ ہم کو صلوٰۃ میں جتنے ضمنی احکام ہیں لاریب وہ سب کے سب محفوظ ہیں اگر کہیں اختلاف ہے تو وہ محض فروعات میں ہے اور فروع کا اختاف حسن اور خوبی ہے نہ کہ کسی طرح کا نقص اگرچہ ہم نے محض اپنی فرقہ بندیوں کو مضبوط کرنے کے لئے ان فروعات کو ضمنی احکام سے اوپر لے جاتے ہوئے اصولی احکام سے بھی ان کو بہت اوپر لے گئے ہیں تو بہرحال افراط ہے جو فی نفسہ مہلک ہے اور یہ ہماری غلطی ہے کہ ہم نے حسن و خوبی کو ایک طرح کا نقص بنا کر رکھ دیا ہے ۔ حقیقت اس میں صرف اور صرف یہ ہے کہ اس اختلاف کو حسن و خوبی سمجھ کر برداشت کرتے ہوئے ہم اسلامی وسعت کا ثبوت دیتے اور جو حسن خوبی کی بات ہے اس کو قبائح میں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرتے بلکہ اس میں سے دلائل کی بنا پر جو بات یعنی فروع ہم کو پسند آئی اس کو اپنا لیتے ہیں لیکن دوسری فروع کو کاٹنے کی کوشش نہ کرتے اور اس طرح جو فرع کسی کو اپنے دلائل کے باعث پسند آتی اس کو اختیار کرتا اور یہ سمجھ لیا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری فطرت کا لحاظ کرتے ہوئے ان فروعات میں آزاد رکھا ہے اور اس میں یقیناً کوئی بھلائی مضمر ہے جس سے ہم گزر رے ہیں۔ افسوس کہ ہم نے اس راز کو نہ سمجھا اور ہم نتہجے اس آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ گئے جس سے بچانے کے لئے نبی اعظم و آخر ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تھے اور اس طرح ہم نے صلوٰۃ کا جو اصل مفہوم تھا اس کو بالکل ضائع کردیا اور یہی حال ہمارے سارے اسلامی اصولوں کا ہوگیا کہ اصول فروعات کے درجہ پر پہنچا دیئے گئے اور فروعات کو اصول بنا دیا گیا حالانکہ یہی حالت پہلی قوموں کی ہلاکت کا باعث بنی اور اسی نے آج ہم کو ہلاک کر کے رکھ دیا۔ اس افسوس پر مزید تعجب کی بات یہ ہوئی کہ اس طرح کا جو کام ہوا وہ ہمارے مذہبی رہنمائوں اور پیشوائوں نے کیا گویا باڑ نے اٹھ کر کھیتی کو کھانا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان مذہبی راہنمائوں اور پیشوائوں کو ہدایت دے اور ہمیں حقیقت حال سمجھنے کی کہ ہم نے جہاں سے رخت سفر باندھا تھا باوجود اتنا لمبا سفر طے کرنے کے اسی مقام پر کھڑے ہیں ‘ آخر کیوں اور کیسے ؟
زیر نظر آیت میں ایک لفظ آیا ہے { بالھم } جس کے معنی ہیں ” ان کا حال “ بال کی اصل ب و ل ہے اور یہ مادہ قرآن کریم میں چار بار استعمال ہوا ہے دو بار { بال } کا لفظ اور دو بار { بالھم } کا { بال } کا لفظ سورة یوسف کی آیت 05 میں اور سورة طٰہ کی آیت 15 میں اور { بالھم } ایک بار اس آیت میں اور ایک بار آگے آیت 5 میں اور { بال } حال۔ خبر ہے یعنی جس حال کی پرواہ کی جائے وہ { بال } کہلاتا ہے اور کبھی اس حالت کو بھی کہتے ہیں جس پر دل جمنے لگے اس کو بھی { بال } کہتے ہیں اور اس اعتبار سے مجاز اس کے معنی دل اور جی کے بھی آتے ہیں جیسا کہ سورة یوسف اور طٰہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 47:3کافر باطل کی اور مومن ہمیشہ حق کی پیروی کرتے ہیں اس لئے دونوں کی راہیں واضح ہیں :
3 ؎ باطل پرست اور حق پرست دوالگ الگ گروہ ہیں اور دونوں کی راہیں الگ الگ ہیں اور جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ دونوں کے نتائج بھی الگ الگ ہوں گے۔ باطل پرست جھوٹ اور گناہ کار پیروکار ہے اور حق پرست سچ اور نیکی کا کرنے والا ہے اور اسی طرح حق کی شناخت کرائی جا رہی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے آیا ہے وہ حق ہے اور اس کا ماسوا باطل اور اللہ تعالیٰ سے آنے کا مطلب اللہ تعالیٰ کا حکم دینا ہے کہ اس کو کیا جائے اور ماسواء کا مطلب اللہ تعالیٰ کا منع کرنا ہے کہ اس کو نہ کیا جائے ۔ معلوم رہے کہ ” حق پرست “ نام رکھنے سے یا ” باطل پرست “ کسی کو کہہ دینے سے نہ کوئی ” حق پرست “ ہوجاتا ہے اور نہ ہی ” باطل پرست “ اور اس کی وضاحت اس طرح ہوگی کہ جو حق کے ساتھ ہے وہ حق پرست اور جو باطل کے ساتھ ہے وہ باطل پرست اور اس کا سارا انحصار بھی اصولوں پر ہے نہ کہ فروعات پر اور پیروی ہمیشہ اصولوں کی ہوتی ہے نہ کہ فروغ کی جب اصول صحیح ہوں تو فروع کبھی غلط نہیں ہوسکتے اور اصول درست نہ ہوں تو فروعات کے درست ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن تعجب ہے کہ ہمارے مذہبی اختلافات کا سارا انحصار فروعات پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس لڑائی کے ختم ہونے کا سوال مشکل ہے مثلاً اس وقت کے دور اور حالات کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو جمہوریت کے نام سے موسوم کرتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عذاب ہے لیکن اس عذاب الٰہی کو حاصل کرنے کے لئے باقاعدہ درخواستیں دی جاتی ہیں پھر اپیلیں دائر ہوتی ہیں اور پھر جن لوگوں کو یہ عذاب حاصل ہوجاتا ہے اور اس عذاب میں باقاعدہ پھنس جاتے ہیں ان کو مبارکبادیاں پیش کی جاتی ہیں اور وہ ہیں کہ پھولے نہیں سماتے تاہم اس عذاب کے لئے ہمارے ہاں ایک قانون ہے اور اس قانون کا پیٹ بھرنے کے بعد جو منتخب نمائندے قومی اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں تو وہ سب کے سل مل کر وزیراعظم کا انتخاب کرتے ہیں اور اس قانون کے مطابق جب ایک عورت وزیراعظم منتخب ہوتی ہے تو مذہبی راہنمائوں کی اکثریت جمع ہوجاتی ہے اور شور پڑجاتا ہے کہ عورت کا وزیراعظم بنایا جانا حرام ہے لیکن ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو اس جمہوریت کے قانون کو حرام کہے۔ اچھا اگر قانون میں یہ چیز داخل ہوجائے کہ کوئی عورت نہ اسمبلی کا الیکشن لڑ سکتی ہے اور نہ ہی کسی علاقے کی نمائندگی اس کے سپرد کی جاسکتی ہے تو کوئی عورت وزیراعظم بن سکتی تھی لیکن وہ اصول تھا اگر اصول درست ہوتا تو فروغ خود بخود درست ہوجاتی لیکن اس اصول میں سیاست دانوں کا فائدہ تھا اس لئے اصول تو درست نہ کیا اصول پر کسی نے فتویٰ صادر نہ کیا اور نتیجہ و فرع پر بحث شروع کردی اور کوئی نہیں کہتا کہ جب جمہوریت ہی حرام ہے تو اس کا نتیجہ کیسے حلال ہو سکتا ہے۔ اس سے کوئی آدمی یہ نہ سمجھے کہ ہم عورت کے وزیراعظم بننے یا بنائے جانے کو جائز یا صحیح کہہ رہے ہیں بلکہ مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ حرام کا نتیجہ جو بھی نکلے گا وہ حرامہی ہوگا اس کے حلالہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہہی اس میں اس جگہ پہنچ کر حلال و حرام کا مقصد باقی رہ جاتا ہے لیکن ہمارا سارا معاملہ اسی طرح چل رہا ہے وہ دین کا ہو یا دنیاکا ہماری بحث اصولوں کی بحث نہیں ہوتی بلکہ سارا جھگڑا فروعات پر ہوتا ہے ‘ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اس طرح مثالیں دے کر اللہ تعالیٰ لوگوں کو سمھاتا ہے جو سمھنا چاہتے ہیں وہ سمجھ ہی جاتے ہیں اور جو نہیں سمجھنا چاہتے وہ انپے انجام کو پہنچ جائیں گے۔
Ayah 47:4مسلمانو ! جب تمہارا میدان جنگ میں آمنا سامناہو جائے تو کافروں کو خوب قتل کرو :
4 ؎ اگر باطل کو اس دنیا میں رہنے کا حق ہے تو لاریب حق کو اس سے زیادہ حق ہے کہ وہ زندہ رہے اور اپنا حق ہونا لوگوں پر ظاہر کرے لیکن باطل اگر بزور حق کو مٹانے پر تل جائے حالانکہ باطل تو بذاتہ مٹ جانے کی چیز ہے اور ایسے حالات فریقین کو میدان جنگ تک پہنچا دیں تو مسلمانوں کو یعنی حق پرستوں کو بھی حق ہے کہ وہ باطل پرستوں کے پرخچے اڑا دیں اور خوب ان کی گردنیں ماریں امور کسی طرح سے ان کا کوئی لحاظ نہ کریں۔ نہ قرابت کا اور نہ جان پہچان کا اور نہ ہی بڑے چھوٹے کا ۔ ایسے حالات کو بخوشی قبول نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کے مواقع تلاش کئے جاسکتے ہیں لیکن اگر یہ صورت حال ناگزیر ہوجائے اور علاوہ ازیں کوئی چارہ کار نہ رہے تو پھر میدان جنگ میں پیٹھ دکھانے سے سارے نیک اعمال برباد ہوجاتے ہیں اور اپنی جان بچانے کے لئے میدان جنگ سے بھاگ جانے کو کفر کے مترادف گردانا گیا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں جان کی پروا نہ کرتے ہوئے کفر پر ٹوٹ پڑنے کا حکم ہے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔
اگر جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو تم اس کو ناخوشی سے قبول کرلینے کے بعد نہایت خوشی کے ساتھ اور ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں اترو اور ان جنگ مسلط کرنے والوں کو چن چن کر مارو اور پھر جب ان کا زور ٹوٹ جائے اور لوگ زخموں سے چور چور ہوجائیں اور اس طرح جتنے قتل ہو سکتے ہیں وہ قتل کئے جا چکیں اور تم کو مکمل طور پر یقین ہوجائے کہ اب ان میں مزاحمت کی طاقت و ہمت نہیں رہی اور اتنی جلدی یہ لوگ پائوں پر کھڑے ہو کر ہمارے مقابلہ پر نہیں آتے تو ان کے زخمیوں اور پٹے ہوئوں کو جتنے قید و بند میں آسکتے ہوں ان کو قید و بند میں لے آئو اور ان زخمیوں کا علاج کرو اور قیدیوں کے ساتھ مثالی سلوک کرو کہ یہ تمہارے اسلام سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہیں اور اس طرح جب جنگ دونوں طرف سے بند ہوجائے تو ان اسیروں کو اخلاق و کردا سے متاثرکر کے ان کو احساناً چھوڑ دو یا ان سے فدیہ لے کر کوئی گزند پہنچائو۔ بلکہ دوسری جگہ حکم دیا گیا ہے کہ ازیں بعد ان کو ان کے امن کی جگہ پر پہنچا دو اور کسی شخص کو اسلام لانے اور اسلام قبول کرنے پر ہرگز ہرگز مجبور نہ کرو { اثخنتموھم } ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ یعنی ” جب تم دشمنوں کو خوب اچھی طرح قتل کر چکو “ گویا اب ان کو اس میدان میں میں دوبارہ لوٹ کر تم پر حملہ کرنے کا خطرہ نہ رہے تو جنگکو اپنی طرف روک دو اور { فشدوا الوثاق } ان کو مضبوطی کے ساتھ باندھ دو ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ یعنی ایسی قید میں ان کو رکھو کہ اس سے نکل کر بھاگنے میں کامیاب نہ ہوسکیں کو تنکہ یہ بھی ایک بہادری کا مظاہرہ ہے اور اس بہادری ہی سے ان کو باز رکھنا ہے تاکہ وہ اپنے عزائم سے باز آئیں اور تمہاری طاقت کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور حق کی راہ میں مزاحمت کرنے کے قابل نہ رہیں جو اسلام کا میدان جنگ میں اترنے کا اصل مقصد ہے اور بلا شبہ یہ وہی مقصد ہے جس کو مسلمان اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیزسمجھتے ہیں { ذالک } یہ اوپر جو تم کو احکام دیئے گئے ہیں یہ من و عن تم کو تسلیم کرنا ہوں گے اور اس میں کسی طرح کی ترمیم تمہارے لئے جائز اور درست نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کفار سے خود ہی بدلہ لے لیتا تم سے جنگ کرانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی لیکن ایسا کیوں نہہوا ’ اس لئے کہ اس طرح ان کو مجبور کر کے ان سے اسلام منوایا جاتا حالانکہ ایمان لانے کی شرائط ہی کے یہ خلاف ہے اور مجبور کر کے منوائی ہوئی بات کبھی ایمان نہیں کہلا سکتی کیونکہ ایمان کا تعلق دل سے ہے ‘ دل مانتا ہے تو مانے اگر دل قبول نہیں کرتا تو بزور منائے جانیوالی بات کو اسلام ایمان سے تعبیر ہی نہیں کرتا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ آخر کسی کو مجبور کر کے اسلام کیوں منوائے گا جب کہ یہ بات فیصلہ الٰہی کے خلاف ہے اور الل تعالیٰ آخر کسی کو مجبور کر کے اسلام کیوں منوائے گا جب کہ یہ بات فیصلہ الٰہی کے خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور پھر اس میں یہ حکمت بھی مضمر ہے کہ بعض سے آزما کر دیکھا جائے کہ اہل حق کے پاس کتنا حق ہے اور اہل باطل ‘ باطل پر کتنے پختہ ہیں اور یہ بھی کہ ایمانی قوت و طاقت کا مظاہرہہو اور لوگ اس کی قوت کا اندازہ کریں اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ میدان کارزار گرمہو اور اہل حق ‘ حق کو سر بلند کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائیں اور اہل باطل ‘ باطل کا بول بلند کرنے کے لئے اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر اپنی انا کو تسکین دیں اور انجام کار سب کچھ اپنے ہاتھوں فنا کر کے دوز میں جھونک دیئے جائیں اور اس طرح وہ اپنی دنیا کو بھی برباد کریں اور آخرت کا بھی ستیاناس کرلیں اور مومن و کافر کا فرق دنیا میں بھی واضح ہوجائے اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہوں۔ اس طرح اس دنیا میں بھی یہ بات واضح ہوجائے اور آخرت میں بھی کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ان کے اعمال کبھی ضائع نہیں ہوتیبل کہ ان کے اچھے اعمال کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی سیاست کو محو کردیا جاتا ہے اور لاریب یہی ایمان کی حلاوت ہے۔
Ayah 47:5اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے گا اور ان کے کاموں کو سنوار دے گا :
5 ؎ یہی لوگ ہیں جنکو دنیوی زندگی کا اصل مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور انکے راہ کی ساری رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ ان کا نام سر بلندہوتا ہی اور آخرت میں یہ لوگ بغیرروک ٹوک سیدھے جنت میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کے لئے مشعل راہ بنیت ہیں اور اس طرح صرف وہی نہیں بلکہ ان کی پوری قوم کی زندگی سنور جاتی ہے اور ان کی قوم دنیا کی قوموں میں سربلندہوتی ہے۔ اسی راز کو اللہ تعالیٰ نے سورة البقرہ کی آیت 451 ‘ سورة آل عمران کی آیت 961 میں واضح کردیا ہے اور ہم نے ان دونوں جگہ پر اس کی وضاحت کردی ہے اگر مطالعہ مطلوب ہو تو عروۃ الوثقین ‘ جلد اول میں (2 : 451) اور جلد دوم میں (3 : 961) کی تفسیر دیکھیں اور مجاہدین کی دنیوی اور آخروی زندگی کے سنوارے جانے کا ذکر سورة النساء کی آیت 47 کے تحت بھی کیا گیا ہے۔
Ayah 47:6یہ لوگ جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو اس کی پہچان واضح طور پر ہوگی
6 ؎ اہل جنت اور خصوصاً وہ اہل جنت جو اللہ کی راہ میں شہید ہو کر جائیں گے اس کا مکمل تعارف ان کو دنیا ہی میں کرا دیا ہے وہ وہاں پہچ کر کسی طرح کی اجنبیت محسوس نہیں کریں گے بلکہ وہاں اس طرح رہیں گے اور دوسرے اہل جنت سے جاتی ہیں اس طرح مصروف گفتگو ہوجائیں گے کہ گویا یہ لوگ آج ہی یہاں نہیں آئے بلکہ ایک مدت سے یہاں رہے ہیں اور یہ بھی کہ گویا سب کے سب ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔ قرآن کریم نے جو جنت کا تعارف کرایا ہے اور جو جو انعامات دیئے جانے کا ذکر کیا ہے وہ اس قدرحقیقت پر مبنی ہے کہ وہاں پہنچ کر وہ اس قدر حقیقت پر مبنی ہے کہ وہاں پہنچ کر وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہی ان کو بتایا گیا نقشہ ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور اس نقشہ کے مطابق وہاں کی اچھی طرح پہچان ہوتی چلی جائے گی اگرچہ وہ اشارات ہی اشارات تھے لیکن انہی اشارات سے وہ سب کچھ پہچانتے جائیں گے۔ اس کی تفہیم مقصود ہو تو کسی ایک فوجی سے جو کسی اچھے عہدہ پر فائزرہ چکا ہو ان اشارات کے بارے میں پوچھ لیں جو وہ اپنی پوری یونٹ یا پوری آرمی (Army) کے لئے رکھتے ہیں کہ یہ اشارات کیا کچھ واضح کرتے ہیں اور ان میں کیا کچھ پنہا ہوتا ہے کہ عام آدمی کو کچھ بھی معلوم نہیں ہتا لیکن پوری آرمی یا پوری یونٹ پر یہ سب کچھ روشن ہوتا چلا جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ تخیل ان لوگوں نے قرآذن کریم کی انہی ہدایات سے حاصل کیا ہے۔ خیال رہے کہ قرآن کریم میں جنت اور دوزخ کی حقیقت اور پہچان کے لئے جو کچھ بیان کیا گان ہے ان کو ہم نے اشارات اس لئے کہا ہے کہ جو کچھ بیان ہوا ہے وہ ہماری خواہشات کے مطابق ہوا ہے جو تقریباً ہر ایک انسان میں فطری طور پر ودیعت کی گئی ہیں اور مرنے کے بعد کی زندگی کی خواہشات مبدل ہی کیونکہ وہ زندگی اس زندگی سے بالکل مختلف ہوگی جس کے لئے ضروری ہے کہ خواہشات بھی مختلف ہوں اور اس کی وضاحت ہم پیچھے سورة السجدہ کی آیت 71 کے تحت بیان کر آئے ہیں اور سورة السجدہ جلد ہفتم میں گزر چکی ہے۔
Ayah 47:7ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری ضرور مدد کرے گا :
7 ؎ (ان تنصروا اللہ) اگر تم اللہ کی مدد کرو گے کے الفاظ سے کسی کو دھوکا نہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کا محتاج ہے یا اللہ تعالیٰ کسی جگہ پھنس گیا ہے کہ تم اس کی مدد کرو گے اور اس کو اس پھنسنے سے نکالو گے تو جب تم کہیں پھنس گئے وہ تم کو بھی نکالے گا ۔ لاریب اس طرحکا تخیل کفر ہے اور اس طرح کی گفتگو محض تفہیم کے لئے کی جاتی ہے تاکہ بات سمجھ میں آجائے کیونکہ ایک انسان جب دوسرے انسان سے گفتگو کرتا ہے تو اس کا جو انداز گفتگو ہوتا ہے وہی قرآن کریم نے اختیار کیا ہے کو ین کہ وہ انسانوں ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے اس لئے سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کے دین کی مدد کرنا اللہ کی مدد کہلاتا ہے اور کتاب و سنت میں یہ پیرا یہ بیان عام ہے لیکن خواہ مخواہ تنقید کرنے والا گروہ اس اس سے طرح طرح کے شکوک شبہات پیدا کرتارہتا ہے اور ایک بالکل سیدھی اور صاف بات کے مفہوم کو توڑ موڑ کر غلط مفہوم نکالنا اس گروہ کی عادت میں داخل ہے اگر وہ اہل قرآن کہلانیوالا گروہ ہے تو احادیث میں کوئی ایسی بات آئے گی تو اس کو نشانہ تضحیک بنائے گا اور اگر اہل بدعت اور شرک پسندوں کا گروہ ہے تو وہ ایسی آیات و احادیث سے شرک و بدعت کو تقویت پہنچانے کے لئے استدلال کرے گا مثلاً حدیث میں ہے کہ (قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ عزو جل یقول یوم القیامۃ یا ابن آدم مرضت فلم تعدنی) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا کہ اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار ہوا مگر تم نے میری عیادت نہ کی “ تو یہ بات سنتے ہی ایک اہل قرآن کہلانے والافوراً کانوں پر ہاتھ رکھ کر توبہ توبہ کرے گا کہ دیکھو اسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ کوئی حدیث بھی صحیح نہیں یہ حدیث ہے یا کلمہ کفر ہے کیا اللہ کا رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کبھی ایسی بات کہہ سکتا ہے اور اس طرح وہ عام آدمیوں کو حدیث سے نفرت دلانے کے لئے کتنی ہی باتیں بناتا چلا جائے گا حالانکہ حدیث کا واضح مطلب خود اس حدیث میں موجود ہے لیکن وہ صرف اتنی بات بیان کرے گا جتنی بات سے وہ حدیث کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے کہہ سکتا ہے اور اسی طرح کی ایک دو نہیں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔
اسی طرح اگر شرک و بدعت پسند گروہ کے فرد کے سامنے ایسی حدیث آئے گی کہ (قال قال رسو اللہ ﷺ ان اللہ تعالیٰ قال من عادلی ولیاً فقد اذنتہ بالحرب) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو میرے دوست کو ایذا پہنچائے تو میری طرف سے وہ حالت جنگ میں ہے۔ “ تو وہ بات سنتے ہی وہابیوں پر پل پڑے گا کہ دیکو یہ لوگ ہیں جو ولیوں اور بزرگوں کے دشمن ہیں ان کو مارو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صاف فرمایا ہے کہ جو میرے ولیوں کا دشمن ہے وہ حالت جنگ میں ہے اس تعجب پر تعجب یہ ہے کہ جس آدمی کو وہ چاہیں گے ولی کہہ دیں گے ہاں ! کسی مرفوع القلم کو دیکھ کر جس کو حلال و حرام ‘ جائز اور ناجائز ‘ صحیح اور غلط کی کوئی پرواہ نہ رہے گی ولی اللہ کہہ دیں گے اور اگر وہ مر گیا تو اس کا مزار بنائیں گے ‘ اگر کسی نے ان کے اس کام کی مخالفت کی تو اس کو ولیوں کا دشمن کہہ کر خطاب کریں گے اور اگر ان کو پوری حدیث یاد ہے کہ (کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصربہ ویدہ التی یبطش بھ اور جلہ النتی بمشی بھا) ” میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں کہ اس کے ذریعہ سنتا ہے میں اس کی بصارت ہوجاتا ہوں کہ اس کے ذریعے دیکھتا ہے۔ میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ۔ میں اس کے پائوں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے “ تو یقیناً اس کو خدا کی ساری صفات سے متصف کر کے پیش کریں گے اور اس کا سیدھا مفہوم کبھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ بہرحال زیر نظر آیت میں سنت اللہ کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ اگر تم لوگ ایمان لانے کے بعد اللہ کے دین کی مدد کرو گے اور کمزوروں اور ضعیفوں کی مدد کیلئے اٹھ کھڑے ہو گے اور کفار اگر حالات جنگ پیدا کردیں تو ان کا مقابلہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے قدموں کو جما دے گا اور باوجود کم ہونے کے تم کو کامیابی سے سرفراز کرے گا یہی اس کی مدد و نصرت حاصل کرنے کا صحیح اور سیدھا راستہ ہے۔
Ayah 47:8اللہ تعالیٰ کافروں کو تہس نہس کر دے گا اور ان کے اعمال کو بھی رائیگاں کر دے گا :
8 ؎ تم کو اپنے ایمان کے باعث اس بات کا پختہ یقین ہونا چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہوگا تو اس کا نتیجہ یقیناً یہ ہے کہ کفار کو وہ تمہارے ہاتھوں سے تہس نہیں کرا دے گا اور ان کے کفر کے باعث ان کے جو اعما اچھے ہیں ان کو بھی قبولیت سے نہیں نوازے گا بلکہ وہ سارے کے سارے رائیگاں چلے جائیں گے اور جس مقصد کے لئے انہوں نے یہ کام کئے ہوں گے ان کا مقصد ظاہر ہے کہ محض دنیا ہے اس لئے ان کا اسرا حساب وہیں چکا دیا جائے گا جیسے پتھر پر ڈالا ہوا بیج اس بارش سے ضائع ہوجاتا ہے جو بارش کھیتوں میں فصل اگانے کیلئے حمدو معاون ثابت ہوتی ہے اور گندگی کے ڈھیر پر برس برس کر تعفن پھیلا دیتی ہے۔
Ayah 47:9کفار کے تہس نہس کرنے اور نیک اعمال کے ضائع ہونے کا سبب بتایا جا رہا ہے :
9 ؎ فرمایا کہ ان کفار کو تہس نہس کردینے کا جو وعدہ الٰہی ہے وہ کسی ظلم و زیادتی کے باعث نہیں ہے اور نہ ہی اللہ رب ذوالجلال و الاکرم کی ظلم و زیادتی کا کوئی وجود ہے دراصل اس باعث ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کے ساتھ خواہ مخواہ کا بیر رکھتے ہیں اور اس کے قیامت کے اثبات سے یہ لوگ سخت بیزار ہیں کہ یہ کیا بات قرآن کریم نے بیان کردی ہے اور اس طرح جو چیز ان کی اصلاح کے لئے نازل کی گئی ہے اس سے انہوں نے نفرت کا اظہار کر کے اپنی کوتاہ بینی کا ثبوت پیش کردیا اور اپنی خواہشات کے ساتھ چمٹے رہے اور انہی خواہشات کی پاداش نے ان کو تباہ و برباد کردیا ۔ وہ اپنے آپ کو کتنے زیرک اور تجربہ کار سمجھتے تھے لیکن کس طرح وہ منہ کے بل گرے کہ ان کی ساری قربانیاں بھی رائیگاں ہوئیں ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ انہوں نے اپنی خواہشات کو حرف آخر سمکھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد ﷺ کی فرمانبرداری کی بجائے اپنی خواہشات کی فرمانبرداری شروع کردی حالانکہ اہوا و خواہشات کی پیروی کا نام دین اسلام نہیں ہے اور خواہشات نفسی انسان کو کسی وقت بھی دھوکا دے سکتی ہیں اس لئے محفل اپنی مرضی و رضا کی فرمانبرداری اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی اور فرمانبرداری کہلا سکتی۔
Ayah 47:10کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ، کیا پہلے لوگوں کے انجام سے وہ با خبر نہیں ؟
10 ؎ اللہ اور اس کے رسولوں کی پیروی کرنے کی بجائے پنی مرضی اور اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کے انجام سے یہ لوگ وقف نہیں ؟ کیا جن راستوں سے گزر کر یہ لو تجارت کے سفروں پر اتے ہیں ان راستوں پر ان من مانیاں کرنے والوں کی بستیوں کے کھنڈرات ان کی توجہ کو اپنی طرف مبذول نہیں کراتے ؟ کیا انہوں نے ان کی داستانیں لوگوں سے نہیں سنیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے اعمال کی پاداش میں کس طرح ہلاک کیا اور پھر انہوں نے اسی طرح کا کفر شروع کردیا جس طرح وہ کفر کے مرتکب ہوئے تھے اگر ان کے اعمال ایک جیسے ہیں تو کیا ان کے عذاب دیئے جانے کی صورت ایک جیسی نہیں ہو سکتی ؟ کیوں نہیں عذاب بہرحال عذاب ہی ہے خواہ کسی شکل و صورت میں آنے اور یہ بات بھی زبان زدہ خاص و عام ہے کہ خدا کی لاٹھی بےآواز ہے۔ جس طرح اس بےآواز لاٹھی نے ان کا کام تمام کیا یقیناً وہ ان سب کا کام بھی تمام کر دے گی پھر نہ کوئی ان کو بچانے والا سامنے آیا اور نہ ہی ان کو کوئی بچانے والا میدان میں آئے گا۔
Ayah 47:11اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں ہے :
11 ؎ { مولیٰ } کا مادہ و ل ی ہے جس کا معنی دوست کار ساز اور حمایتی کے ہیں ، اللہ تعالیٰ مومنوں کا کارساز اور مددگار ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان کے دعویٰ میں سچے ہیں اور ایمان میں پکے اور پختہ ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا کارساز اور مدد گار سمجھتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی غیر کی کارسازی اور مدد پر وہ کبھی انحصار نہیں کرتے اور نہ ہی کسی سے مدد کے طلب گار ہوتے ہیں اور ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو کافر ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طلب گار ہیں نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ محض اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی مدد کار سازی پر بس کرتے ہیں بلکہ ہر صاحب طاقت و قوت اور عزت و اقتدار کو اپنا مشکل کشا اور حاجب روا سمجھتے ہیں اور گفتگو میں اور عمل میں ہر طرح سے اللہ پر انحصار کرتے نظر نہیں آتے بلکہ وہ ہر ایک کے سامنے دست سوال پھیلائیں گے اور اللہ ، اس کے رسول اور اس کے نیک بندوں میں سے جس کا نام ان کے زبان پر آئے گا اس کا نام لے کر مانگیں گے فرمایا حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کار ساز اور مدد گار ہے لیکن کافر کے کفر کے باعث جب کہ وہ صرف اللہ کو اپنا حاجب روا اور مشکل کشا سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے تو ان کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہوگا۔ ربا اس دنیا کا معاملہ تو اس کے لئے سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ صرب رب المسلمین نہیں ہے بلکہ وہ رب العلمین ہے اور کون ہے جو ان عالمین میں داخل نہیں ہے وہ کافر ہے ، مشرک ہے اور خواہ وہ یہودی ہے یا عیسائی ہے۔ بہرحال اللہ کی مخلقو ہے اور اسی تعلق کے باعث وہ ہر ایک کو رزق دیئے چلا جا رہا ہے اور رزق کے لئے جو اس نے قانون بنا دیا ہے اس کے تحت وہ سب کو روزی دیئے چلا جاتا ہے اور اس قانون کے تحت اس کے رزق میں تنگی اور فراخی بھی آتی جاتی رہتی ہے لیکن اس دنیا میں جس کو درالعمل کے نام سے موسوم کیا گیا ہے رزق دیئے جانے کا قانون الگ ہے اور آخرت کا جیسا کہ سارا نظام ہی وہ اس سے الگ ہے ایسے ہی رزق دیئے جانے کا نظام بھی الگ ہے اور آخرت میں اگر اللہ کسی کا مدد گار و کار ساز نہ ہوا تو کوئی بھی دوسرا اس کا مدد گار کارساز نہیں ہوگا اس لئے لوگوں کا یہ نظریہ سوفی صدی غلط ہے کہ جو اس جگہ مزے میں ہیں وہ آگے بھی مزے ہوں گے۔
Ayah 47:1212 ؎ دنیوی زندگی کے رزق دیئے جانے کا اصول الگ ہے آخرت کی زندگی کے رزق دیئے جانے کا معاملہ الگ اس لئے مومن کی اس دنیا کی زندگی میں جو اس کا حصہ ہے وہ تو ملے گا لیکن اس کے اعمال کے باعث جو اس کی آخروی زندگی میں رکھا گیا ہے وہ باغات پر کبھی خزاں نہیں آئے گی اور وہ جو میوہ جات چاہیں گے ان کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے اور کسی چیز کی وہاں کوئی کمی نہیں ہوگی اس لئے کہ ان کے اعمال ہی کے یہ ثمرات ہوں گے اور ان کے مقابلہ میں جو کافر ہیں ان میں اور اس دنیا کے سارے جانوروں کیں خواہ وہ چرند ہیں ، پرند ہیں یا درند ہیں یا دوسرے سارے حشراتالارض اور ڈنگر ڈھور ہیں ان میں کوئی فرق نہیں ہوگا کیونکہ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ایک جیسا رزق کھا رہے ہیں اور آخرت میں ان کے لئے کچھ محفوظ نہیں ہے جو ان کے کام آئے گا اور چونکہ کافر ہی ان ساری مخلوق میں سے مکلف ہیں کیونکہ بہرحال وہ انسان ہیں اگرچہ انہوں نے اپنی انسانیت کو ضائع کردیا ہے اس لئے ان سب میں سے یہی ہیں جن کو آگ میں جھونک دیا جائے گا اور ان کی دنیوی عہدوں عزتوں ، وقاروں اور منصبوں کا کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے ان کے حصے میں جو خوش حالی ، جو عہدہ و منصب اور عزت و وقار تھا وہ انہوں نے اس دنیا میں حاصل کرلیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد نہ پہنچانا ، ساری زندگی عیش و عشرت میں گزاری اور ڈنگروں کی طرح انہوں نے ساری زندگی کھانے کھاننے ہی میں بسر کردی اور اسی کو محبوب مشغلہ سمجھے کہ گویا کھانے ہی کے لئے ان کو پدا کیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو وہ کر رہ ہیں یہی ہے کہ کھانے کی جدوجہد جو وہ کرسکتے ہیں اور پھر کھانا ، سونا ، جاگنا اور اگر نسل باقی رہ جائے تو اسے چھوڑ کر مر جانا یہی ان کے کام ہیں اور اگر ذرا غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ساری اجناس جو جو اوپر گنوائی گئی ہیں یا اس کائنات ارضی پر موجود ہیں سب یہ فریضہ انجا دے رہی ہیں کہ اپنی اپنی بساط کے مطابق کھانے کی جدوجہد کرتی ہیں پھر کھاتی ہیں سوتی ہیں جاگتی ہیں اور نسل بھی ان کی باقی رہتی ہے اور انجام کار مرجاتی ہیں پھر جب کسی معاملہ میں ان کا فرق موجود ہی نہیں تو ان کے طرز عمل کا انجام وہی ہونا چاہئے تھا اور وہی ہوگا چونکہ باقی ساری مخلوق غیر ذوالعقول تھی اور ان میں صاحب عقل تو صرف یہ نام کا انسان ہی تھا جس نے انسان ہونے کے باوجود کفر اختیار کرتے ہوئے ساری زندگی گزار دی اور سمجھانے کے باوجود نہ سمجھا اس لئے اب اس کو عذاب میں جھونک دیا جائے گا اور باقی ساری مخلوق فنا فی الارض ہوجائے گی۔
Ayah 47:13اے پغمیر اسلام ! آپ ﷺ کو مکہ سے نکال باہر کرنے والوں سے زیادہ زور آور بھی ہو گزرے ہیں
13 ؎ قریش مکہ کو کہا جا رہا ہے کہ اگر آج تمہارے اندر اتنا زور ہے کہ تم نے محمد رسول اللہ ﷺ جیسی شخصیت کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کردیا ہے تو ان کو معلوم نہیں کہ انہوں نے ایسا کر کے کس کے عذاب الٰہی کو دعوت دے دی ہے اور یہ بھی کہ ان کا زور کوی نیا زور نہیں ہے ان سے زیادہ زور آور بستیاں اس کائنات ہستی میں رہ چکی ہیں لیکن جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو ان کا زور ان کو ہلاکت سے نہ بچا سکا اور نہ ہی ان کی حمایت میں کوئی کھڑا ہوا کہ ان لوگوں کو ہم ہلاک نہیں ہونے دیں گے بلکہ ان کے سارے آسرے اور وسیلے دھرے کے دھرے رہ گئے اور قانون الٰہی نے ان کا کام تمام کردیا اس لئے قریش مکہ کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ جب ان کی ہلاکت یا عذاب کا وقت آئے گا تو ان کی یہ جمعیت بھی ان کے کچھ کام نہیں آئے گی۔ ہم نے جو ان کو ڈھیل دے رکھی ہے جونہی اس کا وقت پورا ہوگیا سمجھو کہ ان کو دھر لیا گیا اور جب ان کو دھر لیا گیا تو کوئی نہیں ہوگا جو مزاحمت کرنے کے لئے سامنے آئے گا لاریب ان کے سارے سارے اور تعلقات ٹوٹ کر رہ جائیں گے۔
Ayah 47:14ہدایت کی روشنی میں چلنے والا اور اندھیرے میں ٹکریں مارنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا
14 ؎ { بینۃ } وہ روشن دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت کردیئے ہیں اور اس طرح وہ دلائل بھی ہیں جو اس کائنات میں پھیلا دیئے ہیں اور انسان جو عقل و فکر سے کام لیتا ہے اس کو چار نظر آتے ہیں اور عقل و فکر کے اندھوں کو کچھ نظر نہیں آتا اس طرح جو مشخص بھی ان دلائل کی روشنی میں زندگی کی مسافت طے کر کے منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے اس کا انجام اسی نوعیت کا انجام کیسے ہو سکتا ہی جو اندھیرے میں ٹکریں مار رہا ہی اور اپنی نفسانی خواہشات میں مگن زندگی بسر کر رہا ہے۔ ان دو کرداروں کو سامنے رکھ کر ہر ایک آدمی فیصلہ کرسکتا ہے کہ ایک وہ کردار ہے جو نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی ادا کر رہے ہیں اور دوسرا کردار وہ ہے جو قریش مکہ اور آپ ﷺ کے دوسرے سارے مخالفین و معاندین کا تھا جو بغیر کسی دلیل اور روشنی کے صرف باپ دادا کی لکیر کو پیٹتے چلے آ رہے ہیں تھے اور جب ان سے دلیل طلب کی جاتی تھی تو وہ ایک بات کہتے تھے کہ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے اور یہ ہم تسلیم نہیں کرسکتے کہ ہمارے آبائو اجداد غلط کرتے رہے تھے گویا ان کی یہ دلیل ہزار دلائل سے زیادہ وزن رکھتی تھی اس لئے یہی دلیل ان کی پہلی دلیل تھی اور یہی آخری دلیل تھی حالانکہ کوئی صاحب عقل آدمی اس کو دلیل نہیں کہہ سکتا لیکن افسوس کہ وہ جو دلیل وہ اس وقت پیش کرتے تھے یہی دلیل آج ہمارے بڑے بڑے علامہ اور حضرت اعلام حضرات پیش کرتے نظر آتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ وہ اپنے آبائو اجداد کی بات کرتے تھے اور ہمارے علامہ اور حضرت العلام اپنے آبائو اجداد کی بات کرتے ہیں پھر اگر ان کی اس بات میں کچھ وزن نہ تھا تو ان کی اس بات کا وزن کیوں کر ہو سکتا ہے ؟
Ayah 47:15اہل جنت کے لئے جو انعامات تیار ہیں اور اہل دوزخ کیلئے جو عذاب تیار ہیں ان کا ذکر
15 ؎ جنت کے انعامات ہوں یا دوزے کا عذاب اس کا بیان جو قرآن کریم میں کہا گیا ہے اس کے متعلق مکمل بحث ہم عروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیات 27 تا 74 کے تحت بیان کر آئے ہیں اگر وضاحت درکار ہو تو اس طرف مراجعت کریں اور اس مضمون کو یاد رکھیں کیونکہ آگے اس کا ذکر بار بار آئے گا لیکن اس کی وضاحت با بار بیان نہیں کی جائے گی۔ زیر نظر آیت میں { معل الجنۃ } کہہ کر یہ بات واضح کردی ہے کہ انعامات کے متعلق یہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے یہ سب تمثیلی بیان ہے کیونکہ اس کے حقیقی بیان کو سمجھنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور ان دیکھی اور ان سمجھی اور ان سنی بات کو تمثیل کے سوا سمجھنا ممکن بھی نہیں ہے اور تمثیل بہرحال حقیقت کے کتنی بھی قریب ہو حقیقت بہرحال نہیں ہوتی۔ فرمایا جا رہے ہے کہ جنت میں متقین اور پرہیز گار لوگوں کے لئے جو کچھ تیار کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ صاف ستھرے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جن کا پانی غیر آسن ہوگا یعنی نہ تو وہ میلا ہوگا ، نہ گندا ، نہ بدبو دار اور نہ ہی بد مزہ بلکہ اس کخے برعکس صاف و شفاف ، خوشبو دار اور مزے دار ہوگا گویا دیکھنے میں ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہوگا لیکن اس کو دنیا کے کسی پانی سے تشبیہہ نہیں دی جاسکتی اور وہاں دودھ کی نہریں چل رہی ہوں گی اور { انھار من لمن } فرما کر گویا وضاحت کردی کہ یہ دودھ دیکھنے اور پینے کو تو دودھ ہی ہوگا لیکن یہ جانوروں کے تھنوں سے نہیں نکلا ہوگا بلکہ نہروں میں چلایا جائے گا کیونکہ جانوروں کے تھنوں میں سے نکلنے والا دودھ زیادہ دیر نہیں چل سکتا کہ اس کا مزہ اور بو بدل جاتی ہے لیکن یہ دودھ ایسا دودھ ہوگا کہ ساری عمر چلتا رہے گا لیکن اس کے مزا اور بو میں ذرا بھر بھی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ اس لئے دودھ کا نام سن کر تمہارے دماغ میں ایسی بات نہ آئے کہ تم اس سے کوئی علت نکالنا شروع کر دو یہ جو بیان کیا جا رہا ہے یہ سراسر تمثیل ہے وہاں خمر کی نہریں بھی چلتی ہوں گی ۔ خمر کیا ہے ؟ ہمارے ہاں معروف اور مشہور نام تو شراب ہی ہے لیکن حقیقت میں خمر انگور کو اور انگور کے اس پانی کو جو انگور نچوڑ کر نکالا جاتا ہے کہتے ہیں و۔ انگور کا پانی کچھدیر پڑا رہنے سے ایک طرح کا تغیر اس میں پیدا ہوجاتا ہے جس میں نشہ کی صورت پیدا ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہوئی کہ شراب یا خمر ہر نشہ آور چیز کو کہنے لگے۔ چناچہ سورة یوسف میں جو { اعصر خمرا } کے الفاظ آئے ہیں اس کی تشریح بیان کرتے ہوئے ابو عبید نے ضمحاک تابعی سے یہ بھی بیان نقل کیا ہے کہ خمر عمان کی زبان میں انگور کو کہتے ہیں اور چونکہ انگور ہی سے شراب بھی بنتی ہے اس لئے اس کو خمر کہہ دیتے ہیں اور یہ بھی کہ خمر یا تو اختمار سے ہے جس کے معنی خمیر اٹھنے کے ہیں اور خیر اٹھ کر بہرحال جوش پیدا ہوتا ہے اور جھاگ آنے لگتا ہے اس لئے اس کا نام ہی خمر رکھ دیا کیونکہ انگور کا پانی پڑا رہنے سے یہ عمل خود بخود شروع ہوجاتا ہے یا پھر یہ لفظ مخامرۃ سے مشتق ہے جس کے معنی چھپا لینے کے ہیں چونکہ یہ ساوس کو گم کردیتی ہے اور عقل و فکر چھپا دیتی ہے اس لئے اس کو خمر سے تعبیر کرتے ہیں۔ انہی چیزوں کے پیش نظر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس پانی کا مزہ بھی بدلا نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ عقل و فکر کو گم کرے گی اور یہ بیھ کہ وہاں کی زندگی میں کسی کو وسواس سے پالا نہیں پڑے گا اس لئے یہ سب چیزیں اس میں سے نکال دی گئی ہوں گی وہ حرام نہیں ہوگی اور نہ ہی پینے والے اس کو پی کر منہ چڑھائیں گے بلکہ بہت مزہ دار ہوگی ایسی کہ اس کے مزہ کو تمثیل کے رنگ میں بھی سمجھایا نہیں جاسکتا۔ وہاں خالص شہد کی نہریں بھی بہہ رہی ہوں گی لیکن یہ شہد مکھیوں کا تیار کردہ شہد نہیں ہوگا بلکہ اس شہد کی بھئی پانی ، دودھ اور شراب کی طرح نہریں ہی بہہ رہی ہوں گی اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ وہ مکھیوں کے پیٹوں سے نہیں نکلا ہوگا اور دودھ جانوروں کے تھنوں سے نہیں نکالا جائے گا تو اپنے پاس سے نہیں کہہ دیا بلکہ احادیث میں اس کی وضاحت موجود (عسل مصفی) اس شہد کو کہتے ہیں جس میں کسی طرح کی کوئی ملاوٹ نہ کی گئی ہو اور یہ بھی کہ وہ ہر طرح صاف شفاف اور ستھری کردی گئی ہو اور اس کے ساتھ مصفی کا لفظ اس لے لگا دیا گیا ہے کہ جتنی ملاوٹ اس میں کی جاسکتی ہے یا لوگ کرتے ہیں شاید ہی کسی چیز میں اس قدر ملاوٹ کی جاتی ہوگی جس قدر شہد میں کی جاتی ہے کیونکہ یہی ایک وہ چیز ہے جو مکمل طور پر بھی بناوٹی ہوتی ہے اور اس طرح کے اقوام تیار کئے جاتے ہیں کہ وہ شہد نہ ہونے کے باوجود بڑے بڑے سمجھدار لوگ اس کی شناخت سے قاصر رہ جاتے ہیں اس لئے یہاں صرف ایک ہی لفظ { مصفی } لا کر ساری چیزوں کی تردید کردی ہے کہ اس میں کسی طرح کے پھل بھی وجود ہوں گے جن سے انسان اس دنیا میں متعارف ہے اور وہ بھیجن سے بہت سے لوگ ابھی تک بھی متعارف نہیں گویا انسان کے دل میں جس چیز کا تصور آسکتا ہے وہ سب کی سب وہاں میسر ہوں گی اگرچہ ان چیزوں کا وہ عمل جو دنیا میں ہر انسان پر رونما ہوتا ہے اہل جنت پر نہیں ہوگا اور نہ ان چیزوں کے استعمال سے انسان کے اندر کسی طرح کا کوئی کسل پیدا ہوگا اور نہ ہی ان کو چھیلنا اور تراشنا پڑے گا گویا ہرچیز تیار ملے گی۔ انسان اور ان ساری چیزوں کی ایجادات میں مصروف ہے جس سے اس کی خواہشات کا پتہ چلتا ہے کہ وہ ان چیزوں کی تلاش میں کس طرح مگن ہے کہ محنت کم کرنا پڑے اور اس کا صلہ زیادہ مل جائے اور ادھر قرآن کریم نے پہلی ہی یہ تخیل دے دیا ہے کہ اہل جنت کو کسی طرح کی کوئی محنت نہیں کرنا پڑے گی اور جو اس کی طلب ہوگی وہ اس کو حاضر ملے گی۔ فرمایا یہ انعامات تو اپنی جگہ پر اس کے اعمال کا صلہ ہوگا لیکن اس سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی غلطیوں ، بھولوں اور کمزوریوں کو معاف کردیا جائے گا اور باقی ساری چیزیں اس کے صلہ میں ملیں گی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اب تم ہی بتائو ان انعامات یافتہ لوگوں کو ان لوگوں کے برابر کردیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور ان کو ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی بجائے کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو بھی کاٹ کر رکھ دے گا علاوہ ازیں بھی ان کو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا جس کا ذکر پیچھے بھی کئی ایک مقامات پر گزرا اور آگے بھی آئے گا۔
Ayah 47:16مکار لوگوں کی مکاریوں کا ذکر جو وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے
16 ؎ جس طرح ایک اچھے اخلاق کو کردار کے انسان پر بری بات بھارت اور شاق گزرتی ہے اسی طرح برے انسان پر اچھی بات بھی بہت ہی بھاری اور شاق گزرتی ہے اور وہ سنتے ہی دانت پیسنے لگتا ہے اور اس کے چہرے پر بل پڑنا شروع ہوجاتے ہیں اور جب اس کا بس نہیں چلتا تو انگڑایاں لیتا ہے اور اپنے جو گرد دیکھتا ہے اور اس طرح وہ گو اس طرف سے اپنا رخ پھیرتا ہے تاکہ جو کان پڑگیا ہے وہ تو پڑ ہی گیا ہے مزید کوئی بات اس کے کان میں نہ پڑے لیکن اس کے مقابلہ میں وہ آدمی جو بیان کرنے والے کو اپنا پیشوا اور راہنما سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ میں اس کی باتوں کو اپنے جسم پر فٹ کر کے دیکھتا جائوں کہ میرے اندر کیا کیا کمزوری ابھی موجود ہے تاکہ اس کو دور کرسکوں دونوں کی حالت کے پیش نظر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ سنی ان سنی کردینے والے لوگ جب آپ ﷺ کی مجلس میں جاتے ہیں اور آپ کی باتو کو سنتے ہیں اور ان کے دل کو ذرا نہیں بھاتیں تو وہ جب آپ ﷺ کی مجلس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے کہتے ہیں جن کے متعلق ان کو معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ آپ ﷺ کے وعظ و درس کے شیدائی ہیں جن کو قرآن کریم کی زبان میں { اولوالعلم } کے نام سے موسوم کیا گیا ہے تو ان سے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی آپ ﷺ نے کچھ فرمایا تھا وہ کیا تھا ؟ ہم نہیں سمجھ سکے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے کہ ان کو یاد کیا رہتا اور کیوں رہتا ہم نے تو ان کے ایسے ہی کرتوتوں کے باعث ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں اور کچھ سن پاتے ہیں تو صرف اپنی خواہش ہی کے مطابق سن پاتے ہیں اور جو ان کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتا وہ چھن کر باہر آجاتا ہے اور یہ ان کی حالت کا بیان ہے جو اس انداز میں کیا گیا ہے تاکہ قارئین پر موثر ثابت ہو بشرطیکہ وہ اثر قبول کرنے کے لئے تیار ہوں اور اسی گروپ کے آدمی نہ ہوں جس گروپ کا بیان جاری ہے۔
Ayah 47:17وہ لوگ جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ہدایت ان ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے
17 ؎ بات ایک ہی ہوتی ہے لیکن جہاں لوگ اس سے ہدایت یافتہ ہوتے ہیں وہاں بعض لوگوں کے لئے وہ گمراہی کا باعث بھی ہو سکتی ہیگزشتہ آیت میں ان بدبختوں کا ذکر تھا جن پر نصیحت بھی الٹا اثر ہی کرتی ہے اور زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ جو لوگ متقی ہوتے ہیں ان کی ہدایت میں اس بات سے اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کی قوت تقویٰ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے اور انہیں علم و بصیرت اور شرح صدر کی دولت سے مالا مال کردیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ اپنے عمل میں مضبوط سے مضبوط تر ہوجاتے ہیں اور دوزخ کی ہوا سے بھی ان کو دور رکھا جاتا ہے۔