47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کے راستہ سے روکا بھی (اللہ نے) ان کے اعمال کالعدم کردئے،1۔

1۔ یعنی جن اعمال کو یہ غیر مسلم اپنے خیال میں نیک اور صالحانہ سمجھ رہے تھے، وہ آخرت میں انکشاف حقیقت کے وقت بےوزن اور ناکارے نکلے اور اس لئے غیر مقبول ٹھہرے۔ (آیت) ” الذین ..... اللہ “۔ منکرین کے سرداروں کی یہ عادت ہر زمانہ میں رہی اور اب بھی ہے۔ (آیت) ” وصدوا عن سبیل اللہ “۔ محققین نے تصریح کردی ہے کہ حبط اعمال کے لئے، اعمال کے نامقبول ٹھہر جانے لئے، محض کفر کافی ہے۔ دوسروں کی ایمان سے روکنا یہ اس کی شرط نہیں ہے۔ یہ تو ان سرداران کفر کی محض واقعی حالت کا بیان ہے۔
Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے اور اسی (سب) پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا اور وہ امر حق ان کے پروردگار کی طرف سے ہے، اللہ ان کے گناہوں کا کفارہ ان کی طرف سے کردے گا اور ان کی حالت درست رکھے گا،2۔

2۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) (آیت) ” کفر عنہم سیاتھم “۔ یعنی ان گناہوں سے در گزر کردے گا ...... گناہوں سے پاک تو بجز انبیاء معصومین کے اور کوئی ہو نہیں سکتا۔ چناچہ یہاں قرآن مجید ” سیات “۔ کو کھلم کھلا (آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ (مومنین صالحین) ہی کی جانب منسوب کررہا ہے۔ مومنین صادقین کے فخر وشرف کے لئے بس اس قدر کافی ہے کہ ان کے اعمال صالحہ کے انبار عظیم کے ساتھ جو گنے چنے ہوئے چند گناہ ہوں گے، وہ بالکل معاف کردیئے جائیں گے۔ (آیت) ” محمد “۔ اسم پاک محمد ﷺ پر حاشیہ سورة ال عمران (پ 4) میں گزر چکا۔ نیز ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” اصلح بالھم “۔ یہ اصلاح حال دنیا میں تو اس طرح ہوگی کہ مومنین کی توفیق عمل صالح بڑھتی جائے گی، اور آخرت میں اس طرح کہ انہیں نجات کامل مل جائے گی۔
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ کافروں نے تو باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اپنے پروردگار کی طرف سے آئے ہوئے حق کو اختیار کیا اللہ اسی طرح لوگوں کیلئے ان کے حالات بیان کرتا ہے،3۔

3۔ (کہ وہ ان سے ہدایت وبصیرت کے سبق لیں) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی مومنوں اور کافروں کے درمیان یہ فرق عظیم۔ (آیت) ” للناس “۔ یعنی نفع رسانی خلق کی غرض سے۔ اے لاجل الناس لیعتبروابھم۔ (مدارک)
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

سو جب تمہارے مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو (ان کی) گردنیں مار چلو یہاں تک کہ جب ان کی خوب خونریزی کرچکو تو خوب مضبوط باندھ لو،4۔ پھر اس کے بعد یا محض احسان رکھ کر (چھوڑ دو ) یا معاوضہ لے کر (چھوڑ دو ) تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے (یہ حکم) اسی طرح ہے،5۔ اور اگر اللہ کی مشیت ہوئی تو ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (حکم اس لئے دیا) تاکہ تم میں سے ایک کا دوسرے کے ذریعہ سے امتحان کرے،6۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا،7۔

4۔ یعنی سب کو قید کرلو، کوئی بھاگ کر نکل نہ جانے پائے۔ (آیت) ” اذا لقیتم الذین کفروا “۔ مراد میدان جنگ و جہاد میں مڈ بھیڑ ہونے سے ہے ..... یہ مراد نہیں کہ حالت امن وصلح میں راستہ گلی میں چلتا ہوا کوئی کافر دکھائی دے۔ (آیت) ” فضرب الرقاب “۔ یعنی انہیں مار ہی ڈالو۔ جو مقصود حکم قتال وفریضہ جہاد کا ہے ..... یہ مراد نہیں کہ ہمیشہ گردن ہی پر وار کرو، کسی اور طریقہ پر قتل نہ کرو، عبارۃ عن القتل لاان الواجب ان تضرب الرقاب خاصۃ دون غیرھا عن الاعضاء (مدارک) (آیت) ” حتی اذا اثخنتموھم “۔ اس اثخان یا کافی خونریزی کا معیار فقہاء نے یہ قرار دیا ہے کہ اب اگر قتل کے بجائے قید ہی پر اکتفاء کی جائے تو جب بھی غلبہ کفار اور مضرت مسلمین کا احتمال نہ رہے۔ ذلک حین لایبقی شوکۃ للکافرین (مدارک) اس حکم قتل و خونریزی سے بچے، عورتیں اور زیادہ بوڑھے یعنی غیرمقاتلین مستثنی ہیں۔ (آیت) ” فشدوالوثاق “۔ یعنی انہیں خوب احتیاط وہوشیاری سے اپنی قید میں رکھو، یہ لفظی معنی مراد نہیں کہ ہمیشہ انہیں رسی سے باندھ ہی کر رکھو۔ 5۔ یعنی یہ حکم جہاد و قتال اسی طرح اور انہیں صورتوں کے ساتھ فرض ہے۔ (آیت) ” فاما ..... فدآء “۔ یعنی قتل واسیری کے بعد اب حکم رہائی ہی کا ہے، خواہ باخذمعاوضہ وفدیہ، خواہ یوں ہی بلامعاوضہ ...... کافر حربی بھی جب اسلام قبول کرلیں یا محض اتنا ہی کرلیں کے حکومت اسلامی کی اطاعت قبول کرکے ذمیت کے حقوق حاصل کرلیں تو اب نہ ان کا قتل جائز رہے گا اور نہ قید ہی .... اب وہ آزاد ہیں، فقہاء نے یہاں متعدد صورتیں لکھی ہیں اور انتخاب کا اختیار حسب مصالح آیت، امام مسلمین کے ہاتھ میں چھوڑا ہے ..... وہ چاہے تو قتل کردے، چاہے یوں ہی بھی چھوڑ دے۔ چاہے مالی معاوضہ لے کر چھوڑدے، چاہے غلام بنا لے، چاہے مسلمان قیدیوں کے تبادلہ میں چھوڑے۔ (آیت) ” حتی تضع الحرب اوزارھا “۔ یعنی کافر مقاتل ہتھیار ڈال دیں، خواہ دین اسلام قبول کرکے، خواہ اسلام کی حاکمیت و حکومت قبول کرکے۔ قال الکلبی حتی یسلموا اویسالموا (معالم۔ خازن) قال الفراء حتی لایبقی الامسلم اومسالم (معالم۔ خازن) (آیت) ” الحرب “۔ یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ قرآن مجید نے کہیں بھی حرب یا اس کے مشتقات کا استعمال کیا ہے، کافروں ہی کی جنگ کے سلسلہ میں کیا ہے۔ مسلمانوں کی جنگ کے لئے قتال وغیرہ دوسرے لفظ آئے ہیں۔ 6۔ اشارہ حکم جہاد کی بعض حکمتوں اور مصلحتوں کی جانب ہے۔.... ایک طرف مجاہدین کو تعمیل ارشاد کا اجر ملے ،۔ دوسری طرف کافروں اور منکروں کو موقع رہے کہ اب بھی حق کو قبول کرلیں۔ (آیت) ” لانتصرمنھم “۔ یعنی اگر اس کی مشیت تکوینی یوں ہی ہوتی تو وہ تو تمہارا واسطہ ڈالے بغیر یوں ہی اپنے کسی اشارہ تکوینی سے ان کا خاتمہ کردیتا۔ آخرپچھلی نافرمان امتوں کے ساتھ یہ معاملہ پیش ہی آچکا ہے، اور کسی کو غرقابی سے، کسی کو طوفان تند سے، کسی کو زلزلہ سے ہلاک ہی کیا جاچکا ہے۔ 7۔ یہ وعدۂ الہی ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے کسی کشتہ کا خون ضائع نہیں کیا جائے گا، ایسا نہیں ہونے کا کہ مقتول کی شہادت کا کوئی نتیجہ ہی نہ مرتب ہو۔
Ayahs 47:5–6

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

اللہ انہیں سنبھالے رہے گا اور ان کی حالت درست رکھے گا ،

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور انہیں جنت میں داخل کرے گا جس کی انہیں (خوب) پہنچان کرا دے گا،8۔

8۔ (جس سے ہر شہید بےتکلف اپنی دائمی آرام گاہ تک پہنچ جائے گا) (آیت) ” سیھدیھم “۔ یعنی ان کے منزل مقصود کے پہنچنے تک ہر قدم پر ان کی رہنمائی اور دستگیری ہوتی رہے گی۔ (آیت) ” یصلح بالھم “۔ قبر میں، حشر میں، پل صراط پر، ہر جگہ ان کی نصرتوی اوری جاری رہے گی ،
Ayah 47:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے، تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے گا،9۔

9۔ (دشمن کے مقابلہ میں۔ اور تم کبھی اس کے مجمع اور قوت و شوکت سے مرعوب نہ ہوگے) (آیت) ” ان تنصرواللہ “۔ یعنی اللہ کے دین کی مدد ونصرت کرتے رہو گے۔ (آیت) ” ینصرکم “۔ یعنی غلبہ ہو یا مغلوبیت، ہر حال اور ہر صورت میں تائید خداوندی تمہارے ساتھ رہے گی، (آیت) ” یثبت اقدامکم “۔ فن حرب کے جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ میدان جنگ میں کتنی اہمیت عظیم اسی ہمت اور ثابت قدمی کو ہے۔ مسلمانوں کی اس ثابت قدمی پر اغیار کی شہادت کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ مومنین عارفین نے کہا کہ ہے کہ یہ ثابت قدم رکھنے کا وعدہ عام ہے ہر شعبہ زندگی کے لئے، محض میدان جنگ کے ساتھ مخصوص و محدود نہیں۔ اللہ کے دین کی نصرت کرنے والوں کے ساتھ نصرت الہی کار گاہ زندگی کے ہر لمحہ میں موجود رہے گی، خواہ وہ وسوسہ شیطانی ہو یا لغزش نفسانی۔ علی محجۃ الاسلام (کشاف۔ مدارک) والمراد یقویکم ویوفقکم للدوام علی الطاعۃ (روح)
Ayah 47:8

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے بربادی ہے اور (اللہ) ان کے اعمال کالعدم کردے گا،10۔

10۔ (آخرت میں) چناچہ جب وہ انکشاف حقائق کی گھڑی سامنے آئے گی تو منکرین کو اپنے حق میں جن جن نیک اعمال پر تکیہ اور غرہ تھا وہ سب بےوزن اور ناکارے ثابت ہوں گے۔ (آیت) ” فتعسالھم “۔ یہ بربادی انجام کے لحاظ سے تو یقیناً ہوگی، باقی احتمال اس کے وقوع کا مستقبل قریب میں بھی ہے۔
Ayah 47:9

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے (احکام) کو ناگوار جانا اس نے ان کے اعمال کو اکارت کردیا،11۔

11۔ (اس لئے کہ ان سارے اعمال کا مبنی ومنشاء تو کفر ہی تھا، جو بغاوت کی فرد اعلی ہے) (آیت) ” کرھوا “۔ کر اھت سے یہاں طبعی مراد نہیں۔ بلکہ کراہت عقلی مراد ہے۔ جس کا اظہار کافر کے نہ صرف عمل سے بلکہ عقیدہ سے بھی ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔
Ayah 47:10

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں، جو یہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کا کیا انجام ہوا اللہ نے انہیں ہلاک کرمارا اور (ان) کافروں کے لئے بھی ایسے ہی (معاملات) ہونے کو ہیں،12۔

12۔ (اس لئے کہ کفر جو علت ہلاکت و بربادی ہے، وہ ان میں اور ان میں مشترک ہے) (آیت) ” کیف ...... قبلھم “۔ علم آثار قدیمہ آج جن جن قوموں کے کھنڈر اور ویرانے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہا ہے وہ سب قومیں اپنے اپنے زمانہ میں تہذیب و تمدن اور ترقی و دولت کی چوٹی پر پہنچی ہوئی، لیکن منکرونافرمان ہی ہوئی ہیں۔ (آیت) ” امثالھا “۔ یہ مثلیت صرف وقوع عذاب کے لحاظ سے ارشاد ہوئی ہے نہ کہ نوعیت عذاب کے لحاظ سے۔
Ayah 47:11

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اسی سبب سے کہ اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے، اور کافروں کا کوئی کار ساز نہیں،13۔

13۔ (جو اللہ کے مقابلہ میں ان کے کام آسکے) (آیت) ” بان ..... امنوا “۔ اور وہی اللہ دنیا وآخرت میں مومنین کے کام بناتا رہتا ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی مومنوں کی نصرت اور کافروں کی بدانجامی۔ اے نصر ال مومنین وسوء عاقبۃ الکافرین (مدارک)
Ayah 47:12

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے، باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے ندیاں پڑی بہ رہی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کررہے ہیں اور کھا (پی) رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے (پیتے) ہیں، آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے،14۔

14۔ (اس لئے کہ انہوں نے ساری زندگی سوال آخرت اور دینی ذمہ داری سے بالکل بےفکر ہو کر گزاری تھی) ۔ (آیت) ” یاکلون “۔ تاکل۔ اکل کا ترجمہ دونوں جگہ اردو محاورہ کے لحاظ سے ” کھانے پینے “ ہی سے ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” کما تاکل الانعام “۔ یعنی جس طرح مویشیوں کو کھانے سے مقصود بس پیٹ بھرنا ہی ہوتا ہے اور اور کوئی غرض ان کے سامنے نہیں ہوتی، منکرین آخرت اور مادیین کے سامنے بھی پیٹ ہی کا سوال اصل سوال ہوتا ہے۔ جس کے آگے اور کچھ نہیں۔ کھانے پینے کا مآل کیا ہے اور اس کھانے پینے کے لئے حدود وقیود کیا ہیں ان سارے سوالات کی طرف سے یہ لوگ بےفکر ہی رہتے ہیں۔
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے بڑھی ہوئی تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو (وہاں سے) نکالا، ہم نے انہیں ہلاک کردیا، اور کوئی ان کا مددگار نہ ہوا۔15۔

15۔ تو آپ ﷺ کے ہم وطن کس زعم وپندار کی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں) (آیت) ” اشد قوۃ “۔ جسمانی، مادی، مالی، عددی، ہر اعتبار سے ان اہل عرب سے برتر، (آیت) ” قریتک التی اخرجتک “۔ قریہ سے مراد مکہ کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ’ اھلکنھم “۔ قریۃ سے مراد اہل القریہ تھی۔ ضمیر جمع مذکر (آیت) ” ھم “۔ انہیں کی جانب ہے۔
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

تو کیا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل پر ہیں وہ ان لوگوں کی طرح ہوجائیں گے جن کی بد عملی ان کی نگاہ میں خوش نما کردی گئی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چل رہے ہیں،16۔

16۔ یعنی کیا دونوں کے درمیان عمل و محرک عمل کا یہ واضح ونمایاں فرق، ثمرات عمل میں واضح ونمایاں فرق نہ پیدا کر دے گا ؟
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے، اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں نہریں متغیر نہ ہونے والے پانی کی ہوں گی، اور نہریں ذائقہ نہ بدلنے والے دودھ کی ہوں گی اور نہریں پینے والوں کے لئے خوش ذائقہ، شراب کی ہوں گی اور نہریں شہد صاف کی ہوں گی اور وہاں ان کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہوگی،17۔ (تو کیا ایسے لوگ) ان لوگوں جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی نہیں پہنے کو دی جائے گا، وہ ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے گا،

17۔ خلاصہ یہ کہ اہل جنت ہر قسم کی مادی وروحانی نعمتوں سے مالا مال ہوں گے۔ دنیا کی ہر مادی نعمت فناء پذیر ہوتی ہے۔ پانی سڑ جاتا ہے، دودھ بگڑ جاتا ہے، شراب میں تلخی ہوتی ہے شہد میں گدلا پن شامل رہتا ہے۔ آیت میں ان سب چیزوں کی نفی کرکے بتلا دیا ہے کہ جنت کی کسی مادی نعمت میں کوئی خرابی نہ پیدا ہونے پائے گی، جنت کا ماحول، ناسوت کے ماحول سے بالکل مختلف ہوگا، اس لئے وہاں کی ” مادیت “ کا بھی یہاں کی مادیات سے بالکل مختلف ہونا قرین قیاس ہے۔ وہاں کی مادیات کا بھی یہاں بس صرف لفظ ہی مادیت ہوں گے۔ (آیت) ” مآء غیر اسن “۔ یعنی پانی ہوگا مگر دنیوی پانی کے برخلاف وہ کبھی سڑے گا نہیں .... زندگی قائم رکھنے والا۔ (آیت) ” لئن لم یتغیر طعمہ “۔ یعنی دودھ ہوگا مگر دنیوی دودھ کے برخلاف وہ کبھی بگڑے گا نہیں۔ قوت دینے والا۔ (آیت) ” خمر لذۃ للشربین “۔ یعنی شراب ہوگی مگر دنیوی شراب کے برخلاف ہر تلخی سے پاک اور ہر سکر وخمار سے بری۔ سرور ولذت پیدا کرنے والی۔ (آیت) ” عسل مصفی “۔ یعنی شہد ہوگا مگر دنیوی شہد کے برعکس ہر آمیزش سے پاک۔ شفا بخشنے والا۔
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ان کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں کہ جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو جو صاحب علم ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ ابھی انہوں نے کیا کہا تھا، یہی لوگ ہیں کہ اللہ نے انکے دلوں پر مہر کردی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چل رہے ہیں،18۔

18۔ (ہدایت سے روزبروز دور ہوکر) (آیت) ” ومنھم .... الیک “۔ یعنی ان کے چہرہ، بشرہ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی گفتگو کو غور و توجہ سے سن رہے ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ نہیں۔ بیان منافقین کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” حتی ...... انفا “۔ یعنی مجلس رسول اللہ ﷺ میں بیٹھنے کے بعد بھی ایسے کورے رہتے ہیں کہ جب باہر نکلتے ہیں تو اہل علم و ایمان سے پوچھتے ہیں کہ یہ ابھی کیا ارشاد ہوا تھا۔ محض صحبت وہم نشینی بڑے سے بڑے مرشد کے پاس بھی بےاثر رہتی ہے۔ جب تک بیٹھنے والے کے دل میں قصد استفادہ نہ ہو۔ (آیت) ” اولئک ..... قلوبھم ‘۔ یہ طبع قلب (دل پر مہر لگ جانے) کا عمل حق تعالیٰ کی جانب سے ابتداء نہیں ہوتا۔ محض بطور نتیجہ کے ہوتا ہے۔ (آیت) ” واتبعو ٓا اھوآء ھم “۔ انکی ارادی بےتوجہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی توجہ کی صلاحیت بھی روز بروز کمزور ہوتی گئی۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ راہ پر ہیں اللہ انہیں اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں تقوی کی توفیق دیتا ہے،19۔

19۔ چناچہ ایمان کے بعد وہ احکام پر بھی عمل کرتے رہتے ہیں۔ راہ ہدایت پر چلنے اور احکام پر عمل کرتے رہنے سے ایک خاص برکت یہ پیدا ہوتی ہے کہ ہدایت اور بڑھتی رہتی اور عمل کی توفیق اور زیادہ پیدا ہوتی رہتی ہے۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

سو یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ ان پر دفعۃ آپڑے سو اس کے آثار تو پیدا ہی ہوچکے ہیں، سو جب وہ ان کے سامنے آکھڑی ہوگی تو ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا ؟ ،20۔

20۔ یعنی سمجھنے سمجھانے کا وقت تو اب ہے۔ قیامت کے آجانے پر اسے سمجھے بھی، تو یہ سمجھ مفید کیا خاک ہوگی ؟ (آیت) ” فقد جآء اشراطھا “۔ قرب قیامت کی ابتدائی علامتوں میں مثلا جھوٹے مدعیان نبوت کا ظہور، تو نزول قرآن کے زمانہ ہی میں شروع ہوگیا تھا۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

تو آپ اس کا یقین رکھئے کہ بجز اللہ کے کوئی معبود نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہئے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لئے بھی، اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی،21۔

21۔ یعنی وہ باخبر ہے تمہارے سارے ہی اعمال واحوال سے، سو اسی کے وعدوں کے امیدوار اور اسی کے وعیدوں سے خائف ہونا چاہیے۔ (آیت) ” لذنبک “۔ ذنب کا لفظ رسول اللہ ﷺ سے متعلق قرآن کریم میں جابجا آیا ہے۔ ایک اصولی بات ہمیشہ یاد رہے کہ ذنب معصوم کے سلسلہ میں جب بھی آئے گا، مراد اس سے صرف ذنب صوری یا اجتہادی ہوگا، ورنہ کلام میں صریح تناقض واقع ہوگا۔ اس کے بعد انشاء اللہ کوئی نہ رہے گا۔ (آیت) ” فاعلم “۔ یعنی اس یقین پر آئندہ بھی قائم رہیے جیسا کہ اب تک رہے ہیں۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان والے ہیں، وہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی (نئی) سورت کیوں نہ نازل ہوئی،22۔ سو جس وقت کوئی سورت صاف صاف مضمون کی نازل ہوتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے، تو آپ ان لوگوں کو دیکھئے گا جن کے دلوں میں روگ کہ آپ کی طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں، جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو،23۔ عنقریب ان کی شامت آنے والی ہے،24۔

22۔ (کہ اگر کسی حکم سابق کی تاکید ہو تو ہمیں بھی مزید ثابت کی نعمت حاصل ہو اور اگر کوئی حکم جدید ہو تو اس کی تعمیل کی دولت) (آیت) ” ویقول الذین امنوا “۔ مومنین یہ غایت شوق سے کہتے اپنا ایمان تازہ کرنے کی غرض سے۔ 23۔ یعنی ایسی بھیانک اور وحشت ناک نظروں سے دیکھتے ہیں جیسی سکرات کے وقت ہوجاتی ہیں مطلب یہ ہوا کہ احکام قتال سن سن کر ان کے کلیجے دہلنے لگتے ہیں، رنگ فق ہوجاتے ہیں، چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ (آیت) ” الذین فی قلوبھم مرض “۔ ذکر منافقین کا ہورہا ہے۔ دل کے مرض سے مراد نفاق ہے۔ 24۔ (خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں، خواہ دونوں جگہ) (آیت) ” فاولی لھم “۔ محاورۂ عرب میں کلمہ وعید وتہدید ہے۔ وعید بمعنی فویل لھم ومعناہ الدعاء علیھم بان یلیھم الکرہ (کشاف)
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

ان کی) اطاعت اور بات چیت (کی حقیقت) معلوم ہے، لیکن جب سارا کام تیار ہی ہوجاتا ہے تو (اس وقت بھی) اگر یہ لوگ اللہ سے سچے رہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا،25۔

25۔ یعنی ایمان میں اگر شروع سے صادق نہ تھے تو خیر۔ آخر میں منافقت سے تائب ہوجاتے، جب بھی ان کا ایمان مقبول ہوجاتا۔ (آیت) ” طاعۃ وقول معروف “۔ یعنی ان کی باطنی حالت کا اظہار ان آیات قتال کے نزول کے بعد سب پر ہوگیا۔ (آیت) ’ ’ فاذا عزم الامر “۔ یعنی دعوی ایمان کے مقتضی پر عمل کرتے۔ اور صدق دل سے جہاد پر آمادہ ہوجاتے۔
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

اگر تم کنارہ کش رہو تو تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم لوگ دنیا میں فساد مچا دوگے اور آپس میں قطع قرابت کر لوگے،26۔

26۔ حکم جہاد۔ ایک بڑی تمدنی وعقلی مصلحت، قیام عدل واصلاح وامن ہے۔ اگر جہاد کو ترک کردیا جائے تو مفسدین کا غلبہ ہوجائے، امن عالم برہم ہوجائے، اور دنیا بھر میں ہنگامہ غدر برپا ہوجائے۔ (آیت) ” ان تولیتم “۔ یعنی اگر جہاد سے تم منہ موڑ رہے۔ خطاب براہ راست منافقین سے ہے۔ ضمنا دوسرے لوگ بھی جہاد سے کنارہ کش رہنے والے اس میں شامل ہوگئے۔ (آیت) ” فھل عسیتم “۔ یعنی یہ احتمال تو تمہیں ہونا چاہیے۔ (آیت) ” عسیتم۔ تولیتم “۔ اوپر سے صیغہ غائب چلا آرہا تھا۔ اب دفعۃ صیغہ مخاطب کی طرف انتقال تو بیخ وترہیب کیلئے ہے۔ (آیت) ” وتقطعوا ارحامکم “۔ دنیا اگر شریعت اسلامی سے محرومی ہوجائے تو آخری انجام سب کا خانہ جنگی ہی پر ہو۔
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ تو ہیں جن پر اللہ کی لعنت کی ہے سو انہیں بہرا کردیا، اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے،27۔

27۔ (کہ نہ ندائے حق گوش قبول سے سنتے ہیں اور نہ راہ حق دیکھتے ہیں) (آیت) ” الذین لعنھم اللہ “۔ یعنی حق تعالیٰ نے انہیں ان کے نفاق کی پاداش میں اپنی رحمت خاصہ سے دور کردیا ہے، سو اب ان میں احکام پر عمل کی توفیق ہی نہ رہی۔
Ayah 47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ؟ ،28۔

28۔ (جس سے وہ ہر ہدایت سے غیر متاثر رہنے لگے ہیں (آیت) ” افلا یتدبرون القران “۔ قرآن مجید پر اگر وہ جذبہ حق طلبی و انصاف کے ساتھ غور وفکر کرتے رہتے تو اس کی اعجازی مضامین ان پر یقیناً کشف حقائق کرکے رہتے۔ عارفین نے اس آیت سے نکالا ہے کہ طول امل یعنی ہمیشہ بڑی بڑی آرزوؤں میں پڑے رہنا اور انہیں میں لگے رہنا ممنوع ہے۔ (آیت) ” ام “۔ یہاں بل کے معنی میں بھی لیا گیا ہے اور ترجمہ اس صورت میں یوں ہوگا کہ ” یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، بلکہ یہ ہے۔ کہ ان کے دلوں میں قفل لگ رہے ہیں “۔
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ پشت پھیر کر ہٹ گئے بعد اس کے راہ ہدایت ان پر صاف ظاہر ہوچکی تھی انہیں شیطان نے چکمہ دیا، اور انہیں دور دور کی سجھائی،29۔

29۔ (کہ رسول پر ایمان لے آنے سے فلاں فلاں مصلحتیں فوت ہوجائیں گی اور فلاں فلاں نقصان لازم آجائیں گے) (آیت) ” من ..... الھدی “۔ یعنی یہ لوگ دلائل عقلی ونقلی کے واضح ہوجانے کے باوجود ضد اور خبث نفس سے کام لے کر قبول حق سے انکار کررہے ہیں۔ تسویلات شیطانی سے بس اللہ ہی محفوظ رکھے۔ اچھے اچھے مومنین تک اس مردود فری بے کے کہے میں آجاتے ہیں تو جو پہلے ہی سے ناقص الایمان یا ضعیف الایمان ہیں ان کا ذکر ہی نہیں۔
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اسی سبب سے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں سے جو اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناگوار سمجھتے ہیں کہا کہ ہم چند امور میں تمہارا کہنا مان لیں گے، اور اللہ ان کی خفیہ باتیں کرنے کو خوب جانتا ہے،30۔

30۔ (اور وہی وحی کے ذریعہ سے اپنے رسول ﷺ کو ان لوگوں کی خفیہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے باخبر کرتا رہتا ہے) (آیت) ” بانھم “۔ ضمیر ھم۔ منافقین مشرکین کی طرف ہے۔ (آیت) ” للذین کرھوا مانزل اللہ “۔ مراد رؤساء و اکابر یہود ہیں، جنہیں از راہ حسد وعناد، نزول، قرآن و رسالت محمدی ﷺ سخت گراں گزر رہی تھی۔ (آیت) ” سنطیعکم فی بعض الامر “۔ یعنی گوہم بظاہر اسلام قبول کرلیں گے۔ لیکن باطنا وعقیدۃ تمہاریہی ساتھ رہیں گے۔
Ayahs 47:27–28

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

سو ان کا کیا حال ہوگا، جب فرشتے ان کی جان قبض کررہے ہوں گے، اور ان کے چہروں پر اور پشتوں پر مارتے جاتے ہوں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ (سب) اس سبب سے ہوگا کہ یہ اس راہ پر چلے جو طریقہ اللہ کی ناخوشی کا تھا اور اس کی رضا سے بیزار رہے سو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیئے،31۔

31۔ یعنی ان کے جو اعمال بظاہر خوشنما ومقبول معلوم ہوتے تھے۔ انہیں بالکل بےوزن وبے حقیقت کرکے دکھلادیا، اور ان کا انہیں کچھ صلہ نہ دیا۔ یہ اعمال حقیقۃ مرادود وغیرمقبول تو شروع ہی سے تھے۔ اس لئے کہ ان کا مبنی ومنشاء ایمان تھا ہی نہیں، البتہ ان کی اس مردودیت کا ظہور کامل آخرت ہی میں ہوگا۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی مرتے وقت ان کی سزائے سخت۔ (آیت) ” ما اسخط اللہ۔ مثلا کافروں کے ساتھ شرکت اور ان کی معاونت۔ (آیت) ” رضوانہ “۔ مثلا مومنین کے ساتھ شرکت اور ان کی معاونت۔
Ayahs 47:29–30

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے، وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ کبھی ان کی دلی عداوتوں کو کھول نہ دے گا ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہم آپ کو ان کا پورا پتہ بتا دیتے تو آپ انہیں ان کے حلیہ سے پہچان لیتے، اور آپ انہیں (ان کے) طرز کلام سے ضرور پہچان لیں گے، اور اللہ تمہارے (سب کے) اعمال کو خوب جانتا ہے،32۔

32۔ (اس لئے مومنین کے لئے ایمان پر جزاء اور منافقین کے لئے نفاق پر سزا یقینی ہے) (آیت) ” ولتعرفنھم فی لحن القول۔ یعنی باوجود ہمارے مفصل نہ بتانے کے آپ اپنی فراست ایمانی کی مدد سے انکے لب و لہجہ پر غور کرنے سے اب بھی انہیں پہچان لیں گے۔ صوفیہ عارفین نے لکھا ہے کہ یہ آیت اصل ہے فراست کی۔ لیکن فراست کی بناء پر جزم جائز نہیں۔ (آیت) ” الذین فی قلوبھم مرض “۔ دل کے روگ سے مراد وہی نفاق ومنافقت ہے۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے، تاکہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور تم میں سے ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرلیں اور تاکہ تمہاری حالتوں کو چانچ کرلیں،33۔

33۔ (ظاہری طور پر بھی) جانچ سے مراد صرف یہ ہے کہ یہ علم اور یہ جانچ کھلے خزانہ سب کے روبرو ہوجائے۔ ورنہ حق تعالیٰ کے علم ازلی میں تو ظاہر ہے کہ ہر واقعہ ہمیشہ ہی سے موجود ہے۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے راستہ سے روکا (بھی) اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ راہ راست ان پر واضح ہوچکی تھی ہرگز یہ لوگ اللہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اللہ ان کی کارروائیوں کو اکارت کرکے رہے گا،34۔

34۔ یعنی اللہ کے دین و شریعت کی تباہی و بربادی کی جو کوششیں یہ لوگ کررہے ہیں وہ ہرگز کامیاب نہ ہونے پائیں گی۔ اور حکمت الہی ان کی ساری کوششوں اور سازشوں کو کچل کر رکھ دے گی۔ حبط اعمال کیلئے ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 31۔ (آیت) ” من ..... الھدی “۔ اس تبیین ہدایت کے اندر دلائل عقلی و شواہد نقلی سب آگئے۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے اعمال کو رائیگاں مت کردو،35۔

35۔ (کافروں کی طرح رسول کی نافرمانی کرکے) فرق یہ ہے کہ کافر کی نافرمانی اصول و عقائد تک پہنچ جاتی ہے اور مسلمان کی نافرمانی فروع و اعمال تک محدود رہتی ہے۔ (آیت) ” اطیعوا الرسول “۔ رسول کی اطاعت کرو۔ جو احکام الہی ہی کے مبلغ ومناد ہیں اور اس طرح ان کی اطاعت عین حق تعالیٰ ہی کی اطاعت ہوئی۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کے راستہ سے انہوں نے روکا پھر وہ کافر ہی مر بھی گئے تو اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا،36۔

36۔ مغفرت کی پہلی اور لازمی شرط ایمان ہے۔ اس کی تصریح قرآن مجید میں بار بار ہوئی ہے۔ ایمان تخم کے درجہ میں ہے، اور مغفرت اسی تخم کا شجر وثمر ہے۔ بغیر تخم کے شجر وثمر کے وجود میں آجانے کی کوئی شکل ہی نہیں۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

سو تم ہمت مت ہارو اور انہوں صلح کی طرف مت بلاؤ، اور تم ہی غالب رہوگے، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے،37۔ اور وہ تمہارے اعمال (کے اجر) میں ہرگز کمی نہیں کرے گا

37۔ یعنی اللہ نہ دنیا میں تمہارا ساتھ چھوڑے گا نہ آخرت میں۔ دوسری جگہ قرآن مجید نے اسی (آیت) ” انتم الاعلون “۔ کو ” ان کنتم مومنین “۔ کے ساتھ مقید ومشروط کیا ہے۔ یعنی غلبہ کی شرط ایمان کامل ہے۔ (آیت) ” فلاتھنوا “۔ سے مراد یہ ہے کہ پست ہمتی پر عمل نہ کرو۔ اور مایوسی کے خیال کو اپنے عمل پر غالب نہ آنے دو ۔ ورنہ اعداء کی کثرت تعداد اور سازوسامان اور اپنی قلت تعداد اور بےسروسامانی دیکھ کر طبیعت میں کمزور اور پستی پیدا ہوجانا تو ایک امر طبعی ہے۔ ممانعت صرف اس کے مقتضاء پر عمل کی ہے۔ (آیت) ” وتدعوا الی السلم “۔ یعنی تمہیں کافروں کے مقابلہ میں ہمت ہار کے اور ان سے دب کر خواہش صلح کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ تم اللہ کے محبوب ہو۔ کفار اس کے مبغوض ہیں۔ فقہاء مفسرین نے تصریح کردی ہے کہ جس دعوت صلح کی یہاں ممانعت ہے وہ وہی ہے جو ضعف ہمت کی بناء پر کی جائے ورنہ نفس دعوت صلح جبکہ وہ کسی مصلحت امت پر مبنی ہو، ہرگز ممنوع نہیں۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

) یہ) دنیوی زندگی تو محض ایک کھیل اور تماشہ ہے، اور اگر تم ایمان لاؤ، اور تقوی اختیار کرو تو (اللہ) تم کو تمہارے اجر عطا کرے گا، اور تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرے گا،38۔ وہ اگر تم سے تمہارے مال طلب کرے ،

38۔ (اپنے نفع کے لئے) (آیت) ” انما ..... لھو “۔ یعنی ایسی دنیا جو خیال آخرت سے الگ ہو، اس سے وابستہ نہ ہو۔ اس کی عمر ہی کیا ؟ اور اس کی بساط ہی کیا ؟ جو تم آخرت کے مقابلہ میں اسے عزیز رکھے ہوئے ہو قرآن مجید نے دنیوی زندگی کو لہو ولعب جہان بھی قرار دیا ہے۔ ہمیشہ آخرت کے مقابلہ میں رکھا ہے۔ نامتناہی اور متناہی کا مقابلہ ہی کیا۔ (آیت) ” وان تؤمنوا وتتقوا “۔ اسی ایمان وتقوی کا ایک جزء جہاد کی سبیل اللہ بھی ہے۔ (آیت) ” یؤتکم اجورکم “۔ حق تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے گا نہ یہ کہ الٹا تم سے اپنے نفع کا طالب ہو۔ (آیت) ” ولا یسئلکم اموالکم “۔ مراد یہ ہے کہ مال جو جان سے کہیں ہلکی چیز ہے وہ تک بھی حق تعالیٰ تم سے اپنے نفع کے لئے طلب نہیں کرتا۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اور آخری درجہ تک تم سے طلب کرتا رہے تو تم بخل کرنے لگو اور (اللہ) تمہاری ناگواری ظاہر کردے،39۔

39۔ یعنی تمہارے نہ خرچ کرنے سے جو ایک عمل ظاہری ہے، تمہاری گرانی طبع وناگواری کا پتہ چلتا ہے۔ (آیت) ” ان یسئلکموھا “۔ یعنی اگر وہ تم سے مال تمہارے ہی نفع واجر کے لئے بطور امتحان طلب کرے۔ (آیت) ” فیحفکم “۔ یعنی سارے کا سارا مال طلب کرے۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ تمہیں بلایا جاتا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنیکے لئے سو تم میں بعض وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو کوئی بخل کرتا ہے وہ (درحقیقت) خود اپنے سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو کسی کا محتاج نہیں، بلکہ تم (سب اس کے) محتاج ہو،40۔ اور اگر تم روگردانی کروگے تو (اللہ) تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے،41۔

40۔ (اور اس نے تمہاری حاجت مندی ہی کی رعایت سے اس کے رفع کرنے کے لئے احکام تمہارے حق میں نازل فرمائے ہیں) (آیت) ” لتنفقوا فی سبیل اللہ “۔ یہ انفاق فی سبیل اللہ “۔ ہمیشہ بندوں ہی کے نفع کے لئے، اور انہیں کی مصلحتوں کی رعایت سے ہوتا ہے۔ (آیت) “ فانما یبخل عن نفسہ “۔ اور ایسا شخص خرچ نہ کرکے اپنے ہی کو نفع دائمی سے محروم کردیتا ہے۔ (آیت) ” واللہ الغنی “۔ وہ ہر طرح بےنیاز وغیرمحتاج ہے۔ اس کا احتمال ہی نہیں کہ تمہارے بخل سے نقصان کچھ اس کا ہو۔ دنیا میں بہت سی مشرک جاہلی قوموں نے خود خدا تعالیٰ کی ذات کو محتاج تکمیل مانا ہے۔ اس قسم کی آیتیں برابر ان خرافات کی بھی تردید کررہی ہیں۔ 41۔ (عدم تعمیل احکام میں۔ بلکہ نہایت فرمانبردار ہوں گے) اس میں تعلیم ہے اس کی کہ انسان کبھی کسی خدمت دین کو اپنی ذات پر موقوف نہ سمجھے، اور عجب وپندار میں مبتلا ہو کر اپنے کو ہرگز مداردین نہ سمجھنے لگے۔ (آیت) ” وان تتولوا “۔ یعنی تعمیل احکام سے روگردانی کرتے رہو گے، (آیت) ’ یستبدل قوما غیرکم “۔ وہ کسی دوسری قوم کو لاکھڑا کرے گا اور اپنی تکوینی حکمتوں کی تکمیل کا کام انہیں سے لے گا۔