Ayahs 47:1–3تفسیر سورة محمد
یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عربت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں، چناچہ فرمایا : (الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ) یہ رؤسائے کفر اور ائمہ ضلالت ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ (اضل اعمالھم) یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کردیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کردیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لئے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور سازشوں کو ان کے سینوں ہی میں دبا دیا اور وہ اپنے مقصد کو نہ پاسکے اور ان کے وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو اکارت کردے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے باطل کی پیروی کی اور اس سے مراد ہر وہ غایت مطلوب ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو، مثلا : بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت۔ چونکہ باطل کی مدد کے لئے کیے گئے تمام اعمال باطل ہوتے ہیں اس لئے ان کے لئے کیے گئے، تمام اعمال اکارت ہیں۔
(و) ” اور “ لیکن (الذین امنوا) وہ لوگ جو اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر عموما نازل کی اور جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر خصوصاً نازل کی۔ (وعملوا الصلحت) اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ کو ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کیے (کفر) ” مٹا دے گا “ اللہ تعالیٰ (عنھم سیاتھم) ان کے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو۔ جب ان کے گناہ مٹا دئیے گئے تو انہوں نے دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات پائی۔ (واصلح بالھم) او اللہ تعالیٰ ان کے دین و دنیا، ان کے قلوب اور ان کے اعمال کی اصلاح کرے گا، ان کے ثواب کو نشونما دے کر اس کی اصلاح کرے گا، نیز اللہ تعالیٰ ان کے تمام احوال کی اصلاح کرے گا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ (اتبعوا الحق) ” انہوں نے حق کی اتباع کی “ جو صدق و یقین ہے اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے (من ربھم) جو ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی، پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انہوں نے حق کی اتباع کی، تب ان کے تمام امور درست ہوگئے۔
چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین ہے، اس لئے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ (کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم) اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کردیا اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کردئیے جن کے ذریعے سے ان کو پہنچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے (لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحیی من حی عن بینۃ) (الانفال : 8/42) ” تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ “
Ayahs 47:4–6اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے، ارشاد فرماتا ہے : (فاذ القیتم الذین کفروا) جب جنگ اور قتال میں تمہارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مار و یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے (فشدوالوثاق) تو انہیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لئے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہوجائیں گے۔
جب تہ تمہاری قید میں آجائیں، تو تمہیں اختیار ہے کہ تم ان پر احسان کرتے ہوئے مال اور فدیہ لئے بغیر چھوڑ دو یا ان سے فدیے لے لو یعنی تم ان کو وقت تک آزادنہ کرو جب تک کہ وہ اپنا فدیہ ادا نہ کریں یا ان کے ساتھی فدیہ میں کچھ مال ادا نہ کریں یا اس کے بدلے میں کسی مسلمان قیدی کو جو ان کی قید میں ہو، آزاد نہ کریں۔ یہ حکم دائمی ہے (حتی تضع الحرب اوزارھا) حتیٰ کہ جنگ باقی نہ رہے اور تمہارے درمیان صلح اور امن قائم ہوجائے کیونکہ ہر مقام کے لئے ایک قول اور ہر صورت حال کے لئے ایک حکم ہے۔ گزشتہ صورت حال اس وقت تھی جب جنگ اور قتال کی حالت تھی۔ جب کسی وقت، کسی سبب کی بنا پر جنگ اور قتال نہ ہو تو قتل اور قیدی بنانے کا فعل بھی نہ ہوگا۔
(ذلک) یعنی یہ حکم مذکور کفار کے ذریعے سے اہل ایمان کی آزمائش، ان کے درمیان گردش ایام اور ایک دوسرے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بارے میں ہے (ولو یشاء اللہ لا نتصر منھم) ” اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا۔ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی ایک ہی موقع پر کفار سے انتقال نہ لے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی اصل ہی ختم نہ ہوجائے۔ (ولکن لیبلوا بعضکم ببعض) ” لیکن اس نے چاہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمہاری آزمائش کرے “ تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے اور بندوں کے احوال کھلتے رہیں، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا رہے، جو کوئی ایمان لائے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے، وہ مسلمانوں کے غلبے سے مطیع ہو کر ایمان نہ لائے، کیونکہ یہ تو بہت ہی کمزور ایمان ہے اور ایسا ایمان رکھنے والا شخص امتحان اور آزمائش کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
(والذین قتلوا فی سبیل اللہ) ” اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے “ ان کے لئے ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے خلاف لڑتے ہیں جن کے خلاف ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ (سیھدیھم) اللہ تعالیٰ ان کو اس راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطا کرے گا جو جنت کی طرف جاتا ہے۔ (ویصلح بالھم) اللہ تعالیٰ نے کے احوال اور معاملات کی اصلاح کرے گا، ان کا ثواب درست اور کامل ہوگا، جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تنگی ہوگی نہ تکدر۔ (ویدخلھم الجنۃ عرفھالھم) اور انہیں اس جنت میں داخل کرے گا جس سے انہیں شناسا کردیا ہے۔” یعنی اولاً ان کے سامنے جنت کے اوصاف اور اس جنت تک پہنچنے کے اعمال بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اس کا شوق پیدا کرکے اس سے متعارف اور واقف کرایا اور ان جملہ اعمال میں اللہ کے راستے میں شہادت بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا کی اور ان میں رغبت پیدا کی۔ پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی منازل، ان کے اندر موجود نعمتوں اور ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی سے متعارف کرائے گا۔
Ayahs 47:7–9یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لئے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا، یعنی اللہ تعالیٰ طمانینت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔
یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لئے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ (واضل اعمالھم) اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطن کردے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشین کیا کرتے تھے۔ ان کا مکرو فریب انہی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہوجائیں گے جن کے بارے میں انہیں زعم تھا کہ یہ اعمال انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیے ہیں۔
کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لئے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے کہ (کرھوا ما انزل اللہ) کہ انہیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لئے نازل فرمایا، مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا (فاحبط اعمالھم ) ” تو اللہ نے ان کے اعمال اکرت کردیے۔ “
Ayahs 47:10–11رسولِ مصطفیٰ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں ؟ (فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم) ” تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ “ پس وہ ان کے انجام کو بدترین انجام پائیں گے اور اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہوگئے، ان کے کفر اور تکذیب انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کردیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تاروپود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے اور انہیں بری سزائیں ملتی ہیں۔ رہے اہل ایمان، توا للہ تعالیٰ ان کو عذاب سے نجات دیتا ہے اور انہیں بےپایاں ثواب عطا کرتا ہے۔
(ذلک بان اللہ مولیٰ الذین امنوا) ” اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا والیو مددگار ہے۔ “ اس نے اپنی رحمت سے ان کی سرپرستی کی، انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لایا اور ان کی جزا اور فتح و نصرت کی ذمہ داری لی۔ (وان الکفرین) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ کی سرپرستی کے تعلق کو قطع کردیا اور اپنے آپ پر اس کی رحمے کے دوازے بند کرلیے۔ (لا مولیٰ لھم) ان کا کوئی والی مددگار نہیں ہے جو سلامتی کے راستوں کی طرف ان کی راہ نمائی کرے، انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا سے بچائے بلکہ ان کے سرپرست تو طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے آتے ہیں۔ یہی لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
Ayah 47:12اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا سرپرست ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کرے گا، جہاں نہریں بہتی ہوں گی جو خوبصورت باغات، ہر قسم کے تروتازہ پھل اور میوے دار درختوں کو سیراب کریں گی۔ چونکہ کفار کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کا کوئی والیو مددگار نہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کو ان کے نفس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ بنابریں وہ مروت کی صفات سے متصف ہوسکے نہ انسانی صفات سے بلکہ وہ نچلی سطح پر گر کر چوپایوں کی مانند ہوگئے ہیں جو عقل سے محروم ہوتے ہیں اور ان میں کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ ان کا سب سے بڑا مقصد صرف دنیا کی لذات و شہوات کے دائرہ میں ہوتی ہیں اور ان امور کے لئے نہیں ہوتیں جن میں خیر اور سعادت ہوتی ہے۔ بنابریں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا، یعنی جہنم کے اندر ان کے لئے گھر تیار کیا گیا ہوگا۔ جہاں ان کے عذاب میں کبھی انقطاع واقع نہیں ہوگا۔
Ayah 47:13تکذیب کرنے والوں کی بستیوں میں سے کتنی ہیں جو اموال واولاد، اعوان و انصار اور عمارات و آلات کے لحاظ سے آپ کی بستی سے زیادہ طاقتور تھیں (اھلکنھم) جب انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کرڈالا، ان کو وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ دیا نہ ہم نے ان کا کوئی مددگار پایا اور نہ ان کی قوت اور طاقت اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کام آسکی۔ تب آپ کی بستی والے ان کمزور لوگوں کا کیا حال ہے، جب انہوں نے آپ کو آپ کے وطن سے نکال دیا، آپ کی تکذیب کی، آپ سے عداوت رکھی حالانکہ آپ افضل المرسلین اور خیر الاولین والآخرین ہیں ؟ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی رحمت اور ہر کافر اور منکر حق پر نرمی کرنے کے ساتھ مبعوث نہ کیا ہوتا، تو کیا یہ لوگ ہلاکت اور سزا کے دوسروں سے زیادہ مستحق نہیں ؟
Ayah 47:14یعنی وہ شخص جو اپنے امور دین میں علم و عمل کے اعتبار سے بصیرت سے بہرہ ور ہے، علم حق سے سرفراز اور اس کی اتباع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ جو وعدہ کر رکھا ہے، اس پر اسے یقین سے کیا ایسے شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو دل کا اندھا ہے، جس نے حق کو چھوڑ کر اسے گم کرلیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے بغیر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی۔ بہ این ہمہ وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے ؟ دونوں فریقوں کے درمیان کتنا فرق اور دونوں گروہوں، یعنی اہل حق اور اہل باطل کے درمیان کتنا تفاوت ہے ؟
Ayah 47:15یعنی جنت جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے لئے تیار کیا جو اس کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی رضا کی پیروی کی، اس کی مثال یعنی اس کی صفت اور اس کا وصف جمیل یہ ہے (فیھا انھر من ماء غیر اسین) اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو کسی مضر صحت امر، بدبو، حرارت اور گدلے پن کی وجہ سے متغیر نہ ہوگا بلکہ وہ صاف ترین اور شیریں ترین پانی ہوگا، اس کی خوشبو بہترین اور پینے میں نہایت لذیذ ہوگا۔ (وانھر من لبن لم یتغیر طعمہ) ” اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلتا “ یعنی خراب اور کھٹا ہوجانے کے باعث اس کا ذائعہ متغیر نہ ہوا ہوگا۔ (وانھر من خمر لذۃ للشربین) ” اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے “ یعنی اس شراب سے بہت زیادہ لذت حاصل ہوگی، دنیا کی شراب کی مانند نہیں کہ جس کا ذائعہ نہایت ناخوشگوار ہوتا ہے، جو سر کرچکرا دیتی ہے اور عقل کو خراب کردیتی ہے (وانھر من عسل مصفی) ” اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہے۔ “ یعنی یہ شہد موم اور دیگر ہر قسم کے میل کچیل سے پاک ہوگا۔
(ولھم فیھا من کل الثمرات) جنت میں کھجور، انگور، سیب، انار، لیموں، انجیر اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے پھل ہوں گے جن کی دنیا میں کوئی نظر نہیں ہے، تو یہ تمام محبوب و مطلوب چیزیں انہیں حاصل ہوں گے۔ پھر فرمایا : (ومغفرۃ من ربھم) ” اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔ “ جس سے وہ امور زائل ہوجائیں گے جو ڈرانے والے ہیں۔
پس یہ لوگ بہتر ہیں یا وہ شخص جو ہمیشہ آگ میں رہے گا جس کی حرارت نہایت شدید ہوگی اور اس کا عذاب کئی گنا ہوگا (وسقوا) ” اور انہیں پلایا جائے گا۔ “ یعنی جہنم میں (ماء حمیما) سخت کھولتا ہوا پانی (فقطع امعاء ھم) ” جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ “ پس پاک ہے وہ ذات جس نے دونوں گھروں یعنی جنت اور جہنم، دونوں قسم کی جزاؤں، دونوں قسم کے عمل کرنے والوں اور دونوں قسم کے اعمال میں تفاوت رکھا۔
Ayahs 47:16–17اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں (من یستمع الیک) کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا : (حتی اذا خرجوا من عندک قالو اللذین اوتوا العلم) ” یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔ “ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انہوں نے سنا جس میں انہیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں : (ما ذا قال انفا) یعنی ابھی ابھی آپ ﷺ نے کیا کہا ؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ اگر وہ بھلائی کے خواہش مندہوتے تو آپ کی بات غور سے سنتے، ان کے دل اس بات کو محفوظ کرلیتے، ان کے جوارح اس کی اطاعت میں سرنگوں ہوتے، مگر ان کا حال تو اس کے برعکس تھا، اس لئے فرمایا : (اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، ان کے لئے بھلائی کے تمام دروازے بند کردیے، کیونکہ انہوں نے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی جن میں وہ محض باطل کی خواہش رکھتے تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ لوگوں کا حال بیان کیا۔ فرمایا : (والذین اھتدوا) وہ لوگ جنہوں نے ایمان، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کے ذریعے سے ہدایت پائی (زادھم ھدی) اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر اور توقیر کے لئے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا (واتتھم تقوھم) ” اور انہیں ان کی پرہیز گاری عطا فرمائی “ یعنی انہیں خیر کی توفیق بخشی اور شر سے ان کی حفاظت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے دو قسم کی جزا کا ذکر کیا ہے یعنی علم نافع اور عمل صالح۔
Ayah 47:18کیا یہ اہل تکذیب منتظر ہیں) الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ) کہ قیامت کی گھڑی اچانک ان کے پاس آئے، اور انہیں شعور بھی نہ ہو (فقد جاء اشراطھا) یعنی قیامت کی وہ علامت آچکی ہیں جو اس کے قریب آجانے پر دلالت کرتی ہیں۔ ) فانی لھم اذجاء تھم ذکرھم) جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، ان کی مدت مقررہ اختتام کو پہنچ جائے گی تو ان کا نصیحت پکڑنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہونا کس کام آئے گا ؟ یہ سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل گیا، نصیحت پکڑنے کا وقت گزر گیا، انہوں نے وہ عمر گزار لی جس کے اندر نصیحت پکڑی جاسکتی تھی حالانکہ ان کے پاس برے انجام سے ڈرانے والا بھی آیا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ موت کے اچانک آجانے سے پہلے پہلے اس کی تیاری کرلینی چاہیے، کیونکہ انسان کی موت ہی اس کے لئے قیامت کی گھڑی ہے۔
Ayah 47:19علم میں اقرار قلب اور اس معنی کی معرفت، جو علم اسے طلب کرتا ہے، لازمی امر ہے اور علم کی تکمیل یہ ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابع عمل کیا جائے اور یہ علم جس کے حصول کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم ہے اور ہر انسان پر فرض عین ہے اور کسی پر بھی، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ساقط نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کے لئے اس کا حصول ضروری ہے۔ اس علم کے حصول کا طریق کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، چند امور پر مبنی ہے :
(1) سب سے بڑا امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال میں تدبر کیا جائے جو اس کے کمال اور اس کی عظمت و جلال پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ اسماء وصفات میں تدبر و عبادت میں کوشش صرف کرنے اور رب کامل کے لئے تعبد کا موجب ہوتا ہے جو ہر قسم کی حمدو مجد اور جلال و جمال کا مالک ہے۔
(2) اس حقیقت کا علم کہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے، اس کے ذریعے سے اس بات کا علم حاصل ہوگا کہ وہ الوہیت میں میں بھی متفرد ہے۔
(3) اس امر کا علم کہ ظاہری اور باطنی، دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کرنے میں وہ متفرد ہے۔ یہ علم دل کے اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے، اس سے محبت کرنے، اس اکیلے کی عبادت کرنے کا موجب بنتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
(4) ہم یہ جو دیکھتے اور سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لئے، جو اس کی توحید کو قائم کرتے ہیں، فتح و نصرت اور دنیاوی نعمتیں ہیں اور اس کے دشمن مشرکین کے لئے سزا اور عذاب ہے۔۔۔ یہ چیز اس علم کے حصول کی طرف دعوت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور تمام تر عبادت کا وہی مستحق ہے۔
(5) ان بتوں اور خود ساختہ ہم سروں کے اوصاف کی معرفت، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے اور انہیں معبود بنا لیا گیا ہے، کہ یہ ہر لحاظ سے ناقص اور بالذات محتاج ہیں، یہ خود اپنے لئے اور اپنے عبادت گزاروں کے لئے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، ان کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ یہ دوبارہ زندگی ہی عطا کرسکتے ہیں، یہ ان لوگوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتے جو ان کی عبادت کرتے ہیں، بھلائی عطا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، نیز یہ علم اللہ کے ماسوا کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہے۔
(6) حقیقت توحید پر اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں اتفاق کرتی ہیں۔
(7) اللہ تعالیٰ کے خاص بندے، جو اخلاق، عقل، رائے، صواب اور علم کے اعتبار سے اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ کامل ہیں، یعنی انبیاء ومرسلین اور علمائے ربانی، اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔
(8) اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو دلائل افقیہ اور نفسیہ قائم کیے ہیں، جو توحید الٰہی پر سب سے بڑی دلیل ہیں، اپنی زبان سے حال سے پکار پکار کر اس کی باریک کاریگری، اس کی عجیب و غریب حکمتوں اور اس کی انوکھی تخلیق کا اعلان کرتے ہیں۔
یہ وہ طریقے ہیں، جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کثرت سے اس امر کی دعوت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، ان کو اپنی کتاب میں نمایاں طور پر بیان کیا ہے اور بار بار ان کا اعادہ کیا ہے۔ ان میں سے بعض پر غور و فکر کرنے سے بندے کو علم اور یقین حاصل ہونا ایک لازمی امر ہے، تب بندے کو کیوں کر علم اور یقین حاصل نہ ہوگا جب دلائل ہر جانب سے مجتمع اور متفق ہو کر توحید پر دلالت کرتے ہوں۔ یہاں بندۂ مومن کے دل میں توحید پر ایمان اور اس کا عل راسخ ہو کر پہاڑوں کی مانند بن جات ہیں، شبہات و خیالات انہیں متزلزل نہیں کرسکتے اور باطل اور شبہات کے بار بار وارد ہونے سے ان کی نشونما اور ان کے کمال میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔
اگر آپ اس عظیم دلیل اور بہت بڑے معاملے کو دیکھیں۔۔۔ اور وہ ہے قرآن عظیم میں تدبر اور اس کی آیات میں غوروفکر۔۔۔ تو یہ علم توحید تک پہنچنے کے لئے بہت بڑا دروازہ ہے، اس کے ذریعے سے توحید کی وہ تفاصیل حاصل ہوتی ہیں جو کسی دوسرے طریقے سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔
(واستغفر لذنبک) اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی بخژش طلب کیجئے، یعنی توبہ، مغفرت کی دعا، گناہوں کو مٹا دینے والی نیکیوں اور گناہوں اور جرائم کو ترک کرکے مغفرت کے اسباب پر عمل کیجئے۔ (و) ” اور “ اسی طرح بخشش طلب کیجئے (للمومنین والمومنت) مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے۔ “ کیونکہ وہ اپنے ایمان کے سبب سے ہر مسلمان مرد اور عورت پر حق رکھتے ہیں اور ان کے جملہ حقوق میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ ان کے لئے دعا کی جائے اور ان کے گناہوں کی بخشش مانگی جائے۔
جب آپ ان کے لئے استغفار پر مامور ہیں، جو ان سے گناہوں اور ان کی سزا کے ازالے کو متضمن ہے، تب اس کے لوازم میں سے ہے کہ ان کی خیر خواہی کی جائے، ان کے لئے بھلائی کو پسند کریں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں، ان کے لئے برائی کو ناپسند کریں جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں، انہیں ان کاموں کا حکم دیں جن میں ان کے لئے بھلائی ہے اور ان کاموں سے روکیں جن سے ان کو ضرور پہنچتا ہے، ان کی کوتاہیوں اور عیبوں کو معاف کردیں، ان کے ساتھ اس طرح اکٹھے رہنے کی خواہش رکھیں جس سے ان کے دل اکٹھے رہیں اور ان کے درمیان کینہ اور بغض زائل ہو جو عدوات اور ایسی مخالفت کا سبب بنتا ہے جس سے ان کے گناہ اور معاصی زیادہ ہوجاتے ہیں۔ (واللہ یعلم متقلبکم) یعنی اللہ تعالیٰ حرکات و تصرفات اور تمہاری آمدروفت کو خوب جانتا ہے۔ (ومثویکم) اور تمہاری رہائش کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔ جہاں تم ٹھہرتے ہو۔ وہ تمہاری حرکات و سکنات کو جانتا ہے وہ تمہیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
Ayahs 47:20–23اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و یقول الذین امنوا) وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (لو لا نزلت سورة ) ” کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔ “ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو (فاذا انزلت سورة محکمۃ) ” پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔ “ یعنی اس کے عمل کا لازم ٹھہرایا گیا ہو (وذکر فیھا القتال) ” اور اس میں جہاد کا ذکر ہو۔ “ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لئے فرمایا : (رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظروں الیک نظر المغشی علیہ من الموت) ” جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ وہ تمہاری طرف سے اس طر دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو رہی ہے۔ “ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے : (الم تر الی الذین قیل لھم کفوا ایدیکم واقیموا الصلوٰۃ واتو الذکوۃ فلما کتب علیھم القتال اذا فریق منھم یخشون الناس کخشیۃ اللہ او اشد خشیۃ) (النساء : 4/88) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔ “ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔
(فاولی لھم۔ طاعۃ و قول معروف) یعن ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لئے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔
(فاذ عزم الامر) ” پس جب بات پختہ ہوگئی۔ “ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آگیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرکے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے (لکان خیر لھم) تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں :
(1) بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔
(2) جب اس کا نفس مستقبل کی فکر میں لگ جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورت حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں) منتقل ہوجاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔
(3) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل کرنے میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہوجائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اور نفس کو اس پر آمادہ کرلیا ہے اسے نہ کرے۔ مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درسی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ توڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے۔ لہٰذا فرمایا : (فھل عسیتھم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم) ” اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو “ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام ور اس کے اوامر کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔
(اولئیک الذین) جنہوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی (لعنھم اللہ) وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہوگئے۔ (فاصبھم واعمی ابصارھم) اللہ تعالیٰ نے اکا یہ حال کردیا کہ وہ ایسے بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انہیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل وبراہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
Ayah 47:24کتاب اللہ سے روگردانی کرنے والے یہ لوگ کتاب اللہ میں تدبر اور غور و فکر کیوں نہیں کرتے، جیسا کہ غورو فکر کرنے کا حق ہے اگر انہوں نے اس میں اچھی طرح تدبر کیا ہوتا تو یہ ہر بھلائی کی طرف ان کی راہ نمائی کرتی، انہیں ہر برائی سے بچاتی، ان کے دلوں کو ایمان سے اور ان کی عقلوں کو ایقان سے لبریرز کردیتی، وہ انہیں بلند مقاصد اور انمول عطیات تک پہنچاتی، ان کے سامنے وہ راستہ روشن کردیتی جو انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے نیز اس جنت کی تکمیل کرنے والے امور پر اور اس کو فاسد کرنے والے امور پر دلالت کرتی، انہیں وہ راستہ بھی دکھاتی جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جاتا ہے اور یہ بھی بتاتی کہ کس چیز کے ذریعے سے اس سے بچا جائے۔ وہ انہیں ان کے رب، اس کے اسماء وصفات اور اس کے احسان کی معرفت عطا کرتی، ان میں بےپایاں ثواب حاصل کرنے کا شوق پیدا کرتی اور انہیں دردناک عذاب سے ڈراتی۔ (ام علی قلوب اقفالھا) ” یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔ “ یعنی دلوں میں روگردانی، غفلت اور اعتراجات کوٹ کوٹ کر بھر دئیے گئے پھر ان کو بند کر کے ان پر تالے لگادئیے پس ان میں بھلائی کبھی داخل نہیں ہوگی، فی الواقع ان کا یہی حال ہے۔
Ayahs 47:25–28اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹ پاؤں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے (یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا) (النساء : 4/120) ” شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سواکچھ نہیں۔ “ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہوچکی ہے مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا (قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ) ” انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا :” جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے عداوت رکھتے ہیں۔ (سنطیعکم فی بعض الامر) ” ہم بعض کاموں میں تمہاری اطاعت کریں گے۔ “ یعنی جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انہیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ (واللہ یعلم اسرارھم) ” اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔ “ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔
(فکیف) ” پس کیسا “ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے (اذا توفتھم الملئکۃ) ” جب فرشتے انہیں فوت کریں گے۔ “ جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں (یضربون وجوھھم و ادبارھم) ” وہ (سخت گزروں سے ( ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔ “
(ذلک) یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انہیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے (بانھم اتبعوا ما اسخط اللہ) کہ انہوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا (وکرھوارضوانہ) ” اور اس کی رضا مندی کو انہوں نے ناپسند کیا۔ “ پس انہیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ (فاحبظ اعمالھم) سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کردیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لئے اپنے اجرو ثواب کو کوئی گنا کردے گا۔
Ayahs 47:29–31اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : (ام حسب الذین فی قلوبھم مرض) ” کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انہوں نے خیال کیا ہے۔ “ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کردیتا ہے کہ ان کے دلوں میں اسلام اور اہل اسلام کے لئے جو کینہ اور عداوت ہے اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا ؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیق مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلاء نے الٹے پاؤں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہوگیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہوگیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہوگیا۔ یہ حکمت الہیہ کا تقاضا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولو نشاء لا رینکھم فلعرفتھم بسیمھم) ” اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انہیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ “ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہنچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں (ولتعرفنھم فی لحن القول) ” اور یقیناً آپ انہیں ان کی بات کے انداز سے پہنچان لیں گے۔ “ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شردل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کردیتی ہے (واللہ یعلم اعمالکم) ” اور اللہ تمہارے اعمال سے واقف ہے۔ “ پس وہ تمہیں اس کی جزا دے گا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب بڑے امتحان کا ذکر فرماتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چناچہ فرمایا : (ولنبلونکم) یعنی ہم تمہارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے (حتی نعلیم المجھدین منکم والصبرین ونبلوا اخبارکم) ” تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔ “ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
Ayah 47:32یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے لئے نہایت سخت وعید ہے جن میں ہر قسم کا شر جمع ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر، مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تک پہنچانے کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔ (وشاقوا الرسول من بعد ما تبین لھم الھدی) اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عناد رکھا جہالت، گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر عناد کی وجہ سے ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد آپ کی مخالفت کی (لن یضرو اللہ شیاء) ” اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتے۔ “ پس اس سے اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔
(وسیحبظ اعمالھم) اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو رائیگاں کر دے گا جو وہ باطل کی مدد کے لئے کر رہے ہیں، یعنی ان کو ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ان کے وہ اعمال جن پر انہیں ثواب کی امیدیں ہیں، قبولیت کی شرائط کے عدم و جود کی بنا پر قبول نہ کیے جائیں گے۔
Ayah 47:33اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ایسی بات کا حکم دیتا ہے جس کے ذریعے سے انہیں دینی اور دنیاوی سعادت حاصل اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ ہے دین کے اصول و فروع اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت۔ اور اطاعت سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اخلاص اور کامل متابعت کے ساتھ مامور بہ طریقے سے تعمیل کرنا اور نواہی سے اجتناب کرنا۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان : (ولا تبطلوا اعمالکم) ” اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ “ میں نہی عمل کو بجا لانے کے بعد اس کو فاسد کرنے والے امور کے ذریعے سے اس کے باطل کرنے کو شامل ہے، مثلاً نیکی کرنے کے بعد احسان جتلانا، تکبر، فخر اور شہرت کی خواہش کرنا وغیرہ، نیز ایسے گناہوں کا ارتکاب جو نیک اعمال کو مضمحل کرکے ان کے اجرو ثواب کو ضائع کردیتے ہیں۔ نیز یہ نہی عمل کے وقوع کے وقت، اس کو فاسد کرنے کو بھی شامل ہے، مثلاً عمل کو مکمل کیے بغیر چھوڑ دینا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرنا جو اس عمل کی مفسدات میں شمار ہوتا ہے۔ پس نماز، روزہ اور حج کو باطل کرنے والے امور اسی زمرے میں آتے ہیں اور ان سے روکا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ سے فقہاء (رح) بغیر کسی موجب کے فرض کو منطقع کرنے کی تحریم اور نفل کو منقطع کرنے کی کراہت پر استدلال کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اعمال کو باطل کرنے سے روکا ہے تو اسے نے گویا اعمال کی اصلاح، اس کی تکمیل و اتمام اور ان کو اس طرح بجا لانے کا حکم دیا ہے جو علم و عمل کے اعتبار سے درست ہو۔
Ayahs 47:34–35یہ آیت کریمہ اور جو سرۃ البقرۃ میں وارد ہوئی ہے یعنی (ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فاولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ) (البقرۃ : 2/218) ” اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرجائے اور کفر کی حالت میں مرجائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا وآخرت میں اکارت جائیں گے۔ “ یہ دونوں آیات ہر اس نص مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔ یہاں فرمایا : (ان الذین کفروا) بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا (وصدوا) اور مخلوق کو روکا (عن سبیل اللہ) ” اللہ کی راہ سے “ انہیں راہ حق سے دور کرنے، باطل کی طرف دعوت دینے اور باطل کو مزین کرنے کے ذریعے سے (ثم ما توا وھم کفار) ” پھر کافر ہی مرگئے۔ “ اور انہوں نے کفر سے توبہ نہ کی (فلن یغفر اللہ لھم) تو اللہ تعالیٰ انہیں کسی سفارش وغیرہ کے ذریعے سے نہ بخشے گا۔ ان کے لئے عذاب واجب ہوچکا، وہ ثواب سے محروم ہوگئے اور جہنم میں ان کا ہمیشہ رہنا لازم ہوگیا ان پر رحیم و غفار کی رحمت کے تمام دروازے بند ہوگئے۔
آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کرلیں تو بیشک اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے گا، ان پر رحم کرکے جنت میں داخل کردے گا خواہ انہوں نے اپنی عمریں کفر، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیوں نہ گزاری ہوں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، اس نے کسی شخص پر، جب تک وہ زندہ ہے اور توبہ کرنے پر قادر ہے، اپنی رحمت کے دروازوں کو بند نہیں کیا۔۔۔ اور پاک ہے وہ ذات جو نہایت حلم والی ہے، جو گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتی، بلکہ ان کو معاف کرتی ہے اور انہیں رزق عطا کرتی ہے، گویا انہوں نے کبھی اس کی نافرمانی کی ہی نہیں، حالانکہ وہ ہستی ان پر پوری قدرت رکھتی ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (فلا تھنوا) یعنی اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور تم پر خوف غالب نہ آئے، بلکہ صبر کرو اور ثابت قدم رہو اپنے رب کی رضا، اسلام کی خیر خواہی اور شیطان کو ناراض کرنے کے لئے اپنے نفس کو قتال اور جانفشانی پر آمادہ کرو اور محض آرام حاصل کرنے کے لئے تم دشمن کو امن اور صلح کی دعوت نہ دو ۔ (و) ” اور “ حالانکہ (انتم الاعلون واللہ معکم ولن یترکم) ” تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ کمی نہیں کرے گا ” (اعمالکم) ” تمہارے اعمال میں۔ “
یہ تین امور، ان میں سے ہر ایک صبر اور عدم ضعف کا تقاضا کرتا ہے۔
(1) ان کا غالب آنا، یعنی ان کے لئے فتح و نصرت کے وافر اسباب مہیا کردئیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ سچا وعدہ کیا گیا ہے۔ انسان صرف اس وقت کمزور ہوتا ہے جب وہ مخالفین کی نسبت کمتر تعداد، سازوسامان اور داخلی اور خارجی قوت کے اعتبار سے ان کی نسبت کمزور ہو۔
(2) اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید کے ذریعے سے اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں کو طاقت اور قوت عطا کرنے اور دشمن کے خلاف اقدام کرنے کی موجب ہے۔
(3) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا بلکہ انہیں پورا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ خاص طور پر جہاد کی عبادت میں، کیونکہ جہاد میں خرچ کیے ہوئے مال کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ذلک بانھم لا یصیبھم ظما ولا نصب ولا مخمصۃ فی سبیل اللہ ولا یطؤن موطئا یغیظ الکفار ولا ینالون من عدو نیلا الا کتب لھم بہ عمل صالح ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔ ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ ولا یقطعون وادیا الا کتب لھم لیجزیھم اللہ احسن ما کانو یعملون) (التوبۃ : 9/120۔ 121) ” یہ اس سبب سے ہے کہ انہیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، پیاس، تھکاوٹ یا بھوک کی تکلیف، یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جس سے کفار کو غصہ آئے، یا دشمنوں سے کچھ حاصل کرتے ہیں تو اس کے بدلے ان کے لئے ایک نیک عمل لکھ لیا جاتا ہے۔ بےشکا للہ تعالیٰ نیک کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا اور جو تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں، یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو سب کچھ ان کے لئے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔ “
جب انسان کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل اور جہاد کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا تو یہ چیز اس کے لئے نشاط اور ان امور میں کوشش کرنے کی موجب بنتی ہے جن پر اجرو ثواب مترتب ہوتے ہیں۔ تب کیس کیفیت ہوگی اگر یہ تینوں مذکورہ امور مجمتع ہوں ؟ بلاشبہ یہ چیز نشاط کامل کی موجب ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ترغیب اور ایسے امور کے لئے ان میں نشاط اور قوت پیدا کرنا ہے جن میں ان کی بھلائی اور فلاح ہے۔
Ayahs 47:36–38یہ اللہ تعالٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے یعنی بدن کے لئے لعب اور قلوب کے لئے لہو، اس میں زہد کی ترغیتب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب وزینت، اپنی بیویوں، ماکو لات و مشروبات سے حصول لذت، اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بےفائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بےکاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کرلیتا ہے اور اس کی اجل آجاتی ہے۔
جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہوجاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہوجاتی ہے اور اس کا عذاب آموجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لئے، دنیا میں زہد، عدمِ رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان تومنوا وتتقوا) ” اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کر جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطب و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انہیں بےپایاں ثواب عطا کرے۔ بنا بریں فرمایا : (وان تومنوا وتتقوا یوتکم اجورکم ولا یسئلکم اموالکم) ” اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمہارا اجر دے گا اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمہارے لئے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً وہ تم سے مال لے کر تمہیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمہیں کسی ایسے نقصان سے دور چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمہیں ضرور پہنچے۔ اس لئے فرمایا : (ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اضغانکم) یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے پوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کردے گا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے اموال طلب کرے اور تمہارے تمام مال کا سوال کر کے تمہیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ (تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ) تمہیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمہاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے۔ (فمنکم من یبخل) ” پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔ “ تب تمہارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لئے تمہارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمہیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمہارا اس معاملے میں بخل سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔
پھر فرمایا : (ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ) ” اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ “ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کرلیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہوگئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بیشک اللہ تعالیٰ (الغنی وانتم الفقراء) بےنیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ (وان تتولو) یعنی اگر تم ایمان باللہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے (یستبدل قوم غیر کم ثم لا یکونوا امثالکم) ” تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمہاری مانند نہیں ہوں گے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یایھا الذین امنوا من یرتدمنکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم و یحبونہ) (المائدۃ : 5/54) ” اے ایمان لانے والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرجاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔ “