Ayah 47:1[ 1] منکروں کے جرم بالائے جرم کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا۔ سو ایسے بدبخت لوگ خود بھی نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر کفر و باطل کی راہ پر چلتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ دوسروں کو جو بھی راہ حق و ہدایت سے روکتے ہیں۔ اور اس طرح یہ جرم بالائے جرم کا ارتکاب کرتے اور پکے مجرم بنتے ہیں، اپنی بدنیتی اور اپنے خبث باطل کی بنا پر۔ سو بدنیتی اور خبث باطل محرومی کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو ان بدبختوں نے صرف اپنی محرومی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت سے روکا اور محروم کیا۔ اور اس طرح یہ خود کافر ہونے کے ساتھ ساتھ کافر گر بھی بن گئے۔ اور ضال کے ساتھ مضل بھی۔ سو اس طرح ان کا جرام ڈبل اور ان کا گناہ دوہرا ہوگیا۔ اور یہ لوگ ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوئے۔ اور اس طرح ایسے لوگ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اور اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کے نتیجے میں خسارہ در خسارہ میں مبتلا ہوئے۔ سو راہ ِ حق سے رکنا اور روکنا اور کفر و باطل پر اڑنا اور دوسروں کو بھی اس راہ پر ڈالنا محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 2] کفر و باطل کے ہولناک نتیجہ و انجام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے اکارت کردیا ایسوں کے تمام اعمال کو۔ " یعنی ان کے ان اعمال کو جن کو یہ لوگ نیکی سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ جیسے مہمان نوازی، غریب پروری، کعبۃ اللّٰہ کی مجاوری اور اس کی خدمت، حجاج کرام کو پانی پلانا اور قیدیوں کو چھڑانا وغیرہ وغیرہ۔ جن پر وہ لوگ فخر کیا کرتے تھے اور ان کو وہ مکارم اخلاق کہا کرتے تھے۔ سو اللہ پاک نے ان کے کفر وعناد کے سبب ان لوگوں کے ایسے تمام اعمال کو ایسا تباہ و برباد اور اکارت کردیا کہ ان کو آخرت میں ان اعمال کا کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔ کیونکہ اس کے لئے اولین تقاضا اور بنادی شرط تھی ایمان صادق۔ اور اس سے یہ لوگ محروم تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اکارت کردیا ان لوگوں کے ان تمام اعمال کو جن کو یہ لوگ نور حق کو بجھانے اور حق کو نیچا دکھانے کیلئے اپناتے تھے کہ نور حق منہ کی پھونکوں سے نہیں بجھایا جاسکتا۔ اور غلبہ بہر حال حق کا ہوگا۔ سو [ اعمالہم ] کا مفہوم اور اس کا عموم ان دونوں ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے۔ سو اس ارشاد سے کفر و باطل کے ہولناک نتیجہ و انجام کو بیان فرمایا گیا ہے جو کہ سراسر خسارہ اور نرمی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 47:2[ 3] خاتم الادیان پر ایمان کی اہمیت و عظمت، والحمدللّٰہ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جو ایمان لائے اس دین حق پر جس کو اتارا گیا محمد پر۔ اور وہی حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ " سو یہ تخصیص بعد التعمیم ہے۔ پس اس سے واضح ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے بعد گزشتہ کتابوں پر ایمان بھی صرف اسی صورت میں معتبر اور قابل قبول ہوگا جبکہ آنحضرت ﷺ پر اور آپ ﷺ کی پیش فرمودہ شریعت مقدسہ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین حق پر ایمان لایا جائے۔ اور یہ ایک واضح حقیقت اور طبعی و فطری امر ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی پیش فرمودہ شریعت مقدسہ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین حق پر ایمان لایا جائے۔ اور یہ ایک واضح حقیقت اور طبعی و فطری امر ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی پیش فرمودہ شریعت مقدسہ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین حق پر ایمان لائے بغیر اور آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع کے بدوں پر راہ حق و ہدایت سے سرفرازی ممکن نہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کا پیش فرمودہ دین حنیف سب سے آخری، کامل اور گزشتہ تمام ادیان و شرائع کے لئے ناسخ دین ہے۔ جو ان کی اصل اور ھقیقی تعلیمات کا محافظ و مہیمن دین ہے۔ جس کو قیامت تک کے سب انسانوں اور تمام زمانوں کے لئے نازل فرمایا گیا ہے۔ اسی لئے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی حضرت حق۔ جل مجدہٗ ۔ نے خود اپنے ذمے لی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے { انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون } [ الحجر : 9 پ 13] ۔ اور یہ عظیم الشان خصوصیات چونکہ آپ ﷺ کے پیش فرمودہ دین حنیف کے سوا اور کسی بھی دین میں نہ پائی جاتی ہیں اور نہ ہی پائی جانی ممکن ہیں اس لئے اب نجات آپ ﷺ کے پیش فرماودہ اسی دین حنیف میں ہے اور بس۔ اور اس کی تصریح و توضیح قرآن و سنت کی نصوص کریمہ میں طرح طرح سے اور جابجا فرمائی گئی ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آج اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع اور پیروی کے سوا چارہ کار نہ تھا۔ سو اس سے دین اسلام کی اور اس پر ایمان لانے کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور دنیا و آخرت کی فوز و فلاح اسی دین کو اپنانے اور اختیار کرنے پر موقوف ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیلء بکل حال من الاحوال۔
[ 4] ایمان مغفرت سیآت کا ذریعہ و وسیلہ :
چناچہ ایسے مومنین صادقین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے مٹا دیا ان سے ان کی برائیوں کو اور درست کردیا ان کے حال کو۔ یعنی ان کے ایمان صادق اور عمل صالح کی برکت سے اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ ۔ ان لوگوں کے کفر و ضلال کی خطاء عظیم اور اس دور میں کی گئی ان کی دوسری تمام خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دے گا۔ کہ یہ ان سب سے نکل کر اور ان کو چھوڑ کر حضرت حق کی طرف رجوع ہوگئے۔ [ ابن کثیر، مدارک، محاسن وغیرہ ] ۔ سو ایمان صادق مغفرت سیآت کا ذریعہ اور رفع درجات کا وسیلہ ہے۔ اور اس سے انسان کی دارین کی سعادت و سرخروئی وابستہ ہے۔ پس جو لوگ اس نور مبین سے محروم و بےبہرہ ہیں وہ دنیا و آخرت کی خیرات و برکات سے محروم ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایمان صادق کی دولت سے سرفراز و بہرہ مند خوش نصیبوں کے لیے اس ارشاد خداوندی میں دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی و فیروز مندی کی عظیم الشان بشارت ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وھو الھادی الی سواء السبیل فی کل ما یحب ویرید۔ فکن اللہم لنا ولا تکن علینا وخذنا بنواصینا الی ما فیہ حُبُّک والرضا بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
[ 5] لفظ " بال " کا معنی و مفہوم اور اس کی اہمیت و عظمت ؟:
سو " بال " کے معنی حال اور شان کے آتے ہیں۔ مگر اس کا اطلاق بڑے اور اہم حال کے لئے ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا۔ " کل امر ذی بال " اور اسی لئے اس کا اطلاق دل پر بھی ہوتا ہے کہ وہ سب امور و احوال کا مرجع و مرکز اور حاکم و مدبر ہوتا ہے۔ اس کی اصلاح سب کی اصلاح اور اس کا فساد سن کا فساد ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں مصرح ہے۔ اسی لئے یہاں " بال " کی تفسیر دل سے بھی کی گئی ہے۔ مآل بہر حال دونوں کا ایک ہی ہے کہ اللہ پاک ایمان صادق اور عقیدہ خالص کی بنا پر ایسے لوگوں کے حال کو درست فرما دیتا ہے۔ پھر اہل ایمان کے حال کی یہ درستی عام ہے کہ اس سے ان کو دنیا میں بھی نیکی اور خیر کی توفیق ملتی ہے، اور آخرت میں بھی ان کو دوزخ کے عذاب سے نجات و پناہ ملتی ہے۔ اور جنت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ سبحان اللّٰہ ! کیسی عظیم الشان اور کس قدر مقدس اور انقلاب آفریں دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو اس بندہ عاجز اور اس مشت خاک کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و ہمکنار کرکے کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ فالحمد للّٰہ الذی شرقنا بھذہ النعمۃ نعمۃ الدین والایمان۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ اھدنا واھدینا وخذ بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک یا رب العلمین یا ارحم الراحمین۔ بہرکیف لفظ " بال " ایک جامع لفظ ہے جو ظاہر و باطن دونوں قسم کے احوال پر حاوی ہوتا ہے۔ سو اس اعتبار سے [ واصلح بالہم ] کے معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے طاہر و باطن اور دنیا و آخرت سب کو درست کردیا اور درست کر دے گا۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن ہی سے ہے اس کی اصلاح سب کی اصلاح ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 47:3[ 6] ایمان اور کفر دونوں کے نتائج کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے کفر و ایمان کے نتائج اور ان کے مآل و انجام کے درمیان فرق و اختلاف کے سبب اور اس کی اصل وجہ کو بیان فرمایا گیا ہے کہ کیوں کفار کی مساعی رائیگاں اور ان کے اعمال اکارت چلے جائیں گے۔ اور ایمان والے اپنی کوششوں میں سرخرو اور فائز المرام ہوں گے۔ نیز اس ارشاد سے اس فرق و اختلاف کے سبب اور اصل باعث کو بھی واضح فرما دیا گیا۔ کہ چونکہ کفر والے باطل کی پیروی کرتے ہیں جس کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد۔ اور یہ راہ بغاوت و سرکشی کی راہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ جبکہ ایمان والے اس دین حق کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ سو ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ اور کفر ہلاکت و تباہی کا راستہ اور محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نور ایمان سے مشرف و محفوظ اور کفر و شرک کے ہر شائبے سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
[ 7] کفر والے باطل کے پیروکار۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے کفر کیا ناہوں نے ھق کی بجائے باطل کی پیروی کی۔ " اور یہی چیز یعنی کفر و شرک اور باطل کی پیروی ہلاکت و تباہی کی راہ ہے کہ اس طرح ان لوگوں نے اپنے سوئِ اختیار کی بنا پر حق کے نور مبین سے منہ موڑ کر اور کفر و باطل کے اندھیروں کو اپنا کر اپنے آپ کو خود ہلاکت اور تباہی کے دائمی گڑھوں میں ڈال دیا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو باطل کی پیروی باعث ہلاکت اور موجب تباہی ہے۔ کیونکہ باطل کے لیے انسان کی عقل و فطرت کے اندر کوئی جگہ نہیں۔ اس کی مثال اس خودرو جھاڑی کی سی ہے جو کسان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس کی زمین میں اگ آتی ہے، لیکن موقع ملتے ہی وہ اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے تو اس طرح اس کی کڑ نکل جاتی ہے اور اس کا نشان مٹ جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو اکھاڑانہ جائے تو یہ جڑ پکڑ لیتی ہے۔ سو جب اہل باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور پورے صدق و اخلاص سے اٹھ کھڑے ہوں تو باطل مٹ کر رہے گا کہ باطل ہے ہی مٹنے والی چیز۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وقل جاء الحق و زھن الباطل ط ان الباطل کان زھوقا } [ بنی اسرائیل : 81 پ 15] یعنی " حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو یقینا ہے ہی مٹ کر رہنے والی چیز۔ " پس بقا حق ہی کیلئے اور اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ باطل کے ہر شائبے سے ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق و صواب پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
[ 8] ایمان والے حق کے پیروکار۔ والحمدللّٰہ جل وعلا :
سو اہل کفر کے مقابلے میں اہل حق کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اس ھق کی پیروی کی جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ یعنی توحید و ایمان کی۔ پس یہ لوگ سعادت دارین سے سرفرازی کے اہل اور مستحق ہیں، سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا حق کی پیروی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے، اور کفر و باطل کی پیروی کی تباہی اور ابدی ہلاکت کی راہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور یہ اس لیے کہ باطل کی کوئی اساس و بنیاد نہیں ہوتی۔ اس کی حیثیت جیسا کہ ابھی اوپر بھی گزرا اس خودروگھاس کی سی ہوتی ہے جو کسان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر از خود اگ آتی ہے۔ اس کو اگر اکھاڑ نہ دیا جائے تو وہ جڑ پکڑ لیتی ہے۔ اور اگر اس کو اکھاڑ دیا جائے تو وہ ختم ہوجاتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس حق کی فطرت میں ثبات اور استحکام ہے۔ کیونکہ کائنات کے خالق نے اپنی اس کائنات کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ سو اس دنیا کا اصل مزاج حق کی پرورش ہے نہ کہ باطل کی، پس اب جبکہ حق آگیا تو یہ باطل کو ٹھکرادے گی جو آکاس کی بیل کی طرح اس پر مسلط ہوگیا تھا۔ جیسا کہ حق کی پیروی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اصل زور اور قوت اسباب و وسائل کے اندر نہیں بلکہ ھق کے اندر ہے۔ پس حق دولت ہی اصل اور سب سے بڑی دولت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
[ 9] حق و باطل کی توضیح مثال کے ذریعے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ اسی طرح کھول کر بیان فرماتا ہے لوگوں کیلئے ان کی مثالیں " تاکہ ہر کسی کا حال پوری طرح واضح ہوجائے۔ جیسا کہ یہاں بیان فرمایا کہ اتباع باطل کی بنا پر کفار کے اعمال کو ضائع کردیا جاتا ہے۔ اور اتباع حق کی بنا پر اہل ایمان کی تکفیر سیئات بھی فرما دی جاتی ہے۔ اور ان کے احوال کو بھی درست کردیا جاتا ہے۔ اس طرح اللہ پاک حق و حقیقت کی توضیح کیلئے ایسی مناسب حال مثالیں بیان فرماتا ہے جو کہ ہر ایک کے عین مناسب ہوتی ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کی اصل حقیقت اور حیثیت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ سو اہل ایمان اور اہل کفر دونوں کی اصل حقیقت اور حیثیت کو اس ارشاد ربانی میں پوری طرح واضح فرما دیا گیا۔ اور ان دونوں گروہوں کے مآل اور انجام کو اور ان کے درمیان پائے جانے والے فرق کو اس سے پوری طرح نکھار دیا گیا۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ ہمیشہ اپنی مرضیات پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 47:4[ 10] جنگ میں کفار کی گردنیں مارنے کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب میدان جنگ میں کفار سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو تم ان کی گردنیں مارو۔ " اصل میں یہ ترکیب اس طرح ہے " فاضربوا الرقاب ضربا "۔ پھر فعل امر کو حذف کرکے مصدر کو اس کے قائم مقام قرار دیا گیا۔ اور پھر اسے مفعول بہ کی طرف مضاف کردیا گیا۔ اس طرح اس عبارت میں اختصار کے ساتھ ایک خاص زور پیدا ہوگیا۔ اور ایسی قوت آگئی جو اس کے بغیر نہیں آسکتی تھی۔ اور گردنیں مارنے سے مراد مطلق قتل ہے جس طرح بھی ہو۔ اس کی تشنیع و تغلیظ اور قوت و شدت کے اظہار وبیان کے لئے یہ تعبیر اختیار فرمائی گئی ہے۔ [ روح، خازن، مدراک، جامع وغیرہ ] ۔ سو اس ارشاد میں دراصل کفار کے قتل اور ان کی قوت کو توڑنے کیلئے تحریض و تحریک ہے کہ جب یہ لوگ قوت حق سے محروم ہیں تو ان کے اندر کوئی جان نہیں۔ پس جب جنگ میں تمہارا مقابلہ ان سے ہو تو تم ان کو بےدریغ قتل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے لیے شکار اور تمہاری تلواروں کیلئے ایک لقمہء تر بنادیا ہے۔ پس تم ان کی گردنیں مارو تاکہ ان کو زور ٹوٹے۔ اسی بات کو سورة انفال میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ { اذیوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا ط سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فاضربوا فوق الاعباق واضربوا منھم کل بنان } [ الانفال : 12 پ 9] یعنی " ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور اور جوڑ جوڑ پر مارو۔ " سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و یقین کی دولت سے محرومی اور کفر و باطل کی پیروی کے نتیجے میں ان مشرکوں کے اندر کوئی جان نہیں۔ قدرت نے ان کو تمہاری تلواروں کیلئے لقمہ تر بنادیا ہے اور قوت و پختگی دراصل ایمان و یقین ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین،
[ 11] جنگ کا اصل مقصد کفر کا زور توڑنا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم ان کی گردنیں مارو " یہاں تک کہ تم ان کو کچل کر رکھ دو اور ان کا زور ٹوٹ جائے۔ " اثخان " کے معنی اصل میں خوب قتل اور خون ریزی کرنے کے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ظاہر ہے کہ محض قتل اور خون ریزی کوئی ھقیقی اور اصل مقصد نہیں۔ اصل مقصود تو کفر کا غلبہ توڑنا ہے تاکہ وہ حق کے مقابلے میں سر نہ اٹھا سکے۔ اس لئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ فالحمد للّٰہ فانہ ھو الموفق والمعین لکل خیر وسعادۃ وبہ نستعین۔ واضح رہے کہ حتی تضع الحرب اوزراھا ] " ہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے " سے مراد یہ ہے کہ کفر و شرک سر نہ اٹھاس کے۔ اور فتنہ و فساد فرو ہوجائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للّٰہ }[ الآیۃ ] [ البقرہ : 193 پ 2] اسی لئے حضرت قتادہ ؓ اس کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " حتی لا یبقی شرک " یعنی " یہاں تک کہ شرک کا وجود باقی نہ رہے۔ " [ ابن کثیر وغیرہ ] ۔ سو جہاد اسلامی کا اصل مقصد یہی ہے کہ غلبہ حق کا ہو اور باطل اس کا راستہ نہ روک سکے۔ اور دنیا نور حق و ہدایت سے فیض یاب ہو سکے۔ تاکہ اہل دنیا وارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکیں۔ کہ دنیا میں ان کو حیات طیبہ [ پاکیزہ زندگی ] کی دولت نصیب ہوسکے، اور آخرت میں نعیم جنت سے سرفرازی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید۔
[ 12] شَدِّ " وثاق " کا معنی و مفہوم ؟:
" وثاق " کے معنی آتے ہیں " ما یشد بہٖ " یعنی " ہر وہ چیز جس سے کسی دوسری چیز کو باندھا اور کسا جائے۔ " جیسے رسی وغیرہ۔ یہ لفظ واؤ کے کسرے کے ساتھ بھی آتا ہے اور فتح کے ساتھ بھی " ما یوثق بہ " یعنی جس سے کسی چیز کو باندھا جائے۔ سو مطلب یہ ہوا کہ تم قیدیوں کو باندھو اور قید کرو [ روح، محاسن، مدارک، مراغی، اضواء وغیرہ ] سو " اثخان " کے معنی ہیں اچھی طرح خونریزیاں کرنا اور " وثاق " کے معنی بندھن کے ہیں۔ پس مطلب یہ ہوا کہ جب تم لوگ اچھی طرح خونریزی کرکے ان کے دماغ سیدھے کرلو، اور ان کے کس بل اچھی طرح نکال چکو، تو ان میں سے جو بچ جائیں ان کو اچھی طرح مضبوط بندھنوں میں باندھ لو۔ یہ تمہارے سامنے چوں چراں نہیں کرسکیں گے۔ سو اسلامی جہاد، اور اسلام میں جنگ، سے اصل مقصود کفر کا زور توڑنا ہی ہے، تاکہ حق کا راستہ صاف ہو سکے۔
[ 13] احسان کرنے یا دفیہ لینے کے اختیار کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عام کفار و مشرکین کے بارے میں فدیہ لینے یا احسان کرنے کی دو صورتوں کی اجازت ہے۔ یعنی ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت اختیار کی جاسکتی ہے۔ پھر فدیہ خواہ وہ مال وغیرہ کی شکل میں ہو خواہ مسلمان قیدیوں کی رہائی کی صورت میں، یا حسب ضرورت اور موقع کسی اور صورت میں۔ سو اگر یہ تمہارے ہاتھ سے چھوٹیں تو دو میں سے کسی ایک صورت میں ہی چھوٹیں۔ یا تو یہ تمہارے احسان کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال کر چھوٹیں، یا فدیہ دے کر، تاکہ یہ تمہارے سامنے جھکے رہیں، اور چونک بھی نہ سکیں۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ مشرکین عرب یا الفاظ و دیگر مشرکین بنی اسرائیل کا معاملہ، دوسرے مشرکوں کے معاملے سے مختلف اور خاص نوعیت کا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ایک عظیم الشان رسول بھیج کر ان پر حجت تمام کردی۔ اس لیے دوسرے غیر مسلموں کی طرح یہ لوگ اس خاص رعایت کے حقدار نہیں کہ یہ اسلامی حکومت کے اندر ذمی یا معاہد بن کر رہ سکیں۔ یا ان کو غلام بنایا جاسکے۔ ان کے لیے صرف دو ہی راستے ہیں۔ یعنی اسلام یا تلوار۔ جیسا کہ سورة توبہ کے شروع میں گزر چکا ہے۔ جزوی اور استثنائی طور پر ان میں سے کسی کو کسی مسلمان قیدی کے بدلے میں یا نقد و جنس کی شکل میں کسی فدے کی عوض یا بطور احسان ان میں سے کسی کو چھوڑا بھی جاسکتا ہے۔ اور اگر ان میں سے کوئی اپنے رویے پر غور کرنے کیلئے پناہ مانگے تو اس کو پناہ بھی دی جاسکتی ہے۔ لیکن بحیثیت مجموعی اور من حیث الجماعت ان کے ساتھ آخر تک جنگ جاری رکھنے کا حکم ہے، کیونکہ اس خطہء مبارک و مسعود میں مشرکین کو رہنے کی اجازت نہیں۔ یہ صرف حق اور اہل حق ہی کا مرکز ہے۔
[ 14] مشرکین عرب سے جنگ کے خاتمے کی حد ؟:
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کے خلاف لڑتے رہنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یعنی لڑائی ختم ہوجائے۔ کفر دب جائے، اور اسلام اور اس کے علمبرداروں کو شوکت و غلبہ نصیب ہوجائے۔ کہ غلبہ بہرحال دین ھق اسلام ہی کا حق ہے، اور اسلامی جہاد کا اصل مقصد بھی اعلاء کلمۃ اللہ ہی ہے، جیسا کہ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا لتکون کلمۃ اللّٰہ ہی العلیا۔ یعنی مومن جہاد اس لئے کرتا ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہی سر بلند ہو کر اپنے سر بلندی بہرحال اسی کا حق ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وکلمۃ اللّٰہ ہی العلیا۔ یعنی اللہ ہے ہی سر بلند سو تمہارا معاملہ ان دشمنان حق کے ساتھ یہی رہنا چاہیے۔ یہاں تک کہ جنگ ختم ہوجائے۔ لڑائی اپنے ہتھیار ڈالے دے، اور ان کے اندر جنگ کا حوصلہ بالکل سرد پڑجائے۔ اور یہ سرکش اور باغی لوگ تمہارے آگے سپر ڈال دیں۔ سو مشرکین عرب کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ سر زمین حرم کفر و شرک کے ہر شائنے سے پاک ہوجائے۔ اور وہاں پر دین حق ہی کا بول بالا ہو۔
[ 15] حکم جہاد کی اصل حکمت کا ذکر وبیان :
سو اس سے جہاد کی اصل حکمت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس سے اصل مقصود تم لوگوں کی آزمائش ہے، کہ تاکہ اس طرح کھرے کھوٹے کے درمیان فرق اور تمیز واضح ہوجائے، اور اہل ایمان کے درجات و مراتب بلند ہوجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، وہ اگر چاہتا تو ان کفار و مشرکین سے خود نمٹ لیتا، لیکن وہ چاہتا ہے کہ جہاد کے ذریعے تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے، چناچہ اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی نمٹ لیتا۔ " سو وہ ان کو وہ حرق و غرق، زلزلہ و خسف اور طوفان و سیلاب وغیرہ کسی بھی ناگہانی آفت اور کسی بھی اور طریقے سے مٹا دیتا کہ نہ تو یہ اس کے لئے کوئی مشکل ہے اور نہ ہی اس کے لشکروں کی تعداد کو اس کے سوا کوئی جان سکتا ہے۔ { وما یعلم جنود ربک الاھو } [ المدثر : 31 پ 29] مگر پھر تمہاری آزمائش کس طرح ہوتی ؟ اور جزا و سزا اور ثواب و عقاب کے تقاضے کس طرح پورے ہوتے ؟ اس لئے اس نے اس کی بجائے جہاد و قتال کا حکم دیا تاکہ اس طرح امتحان ہوجائے اور کھرا کھوٹا نکھر کر سامنے آجائے۔ یہ طریقہ اہل حق کیلئے اجر وثواب، رفع درجات اور فوز و فلاح کا ذریعہ بنے، اور اہل کفر و باطل اس کے ذریعے اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو جہاد اسلامی کا حکم و ارشاد حق اور اہل حق کی سربلندی کیلئے ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
[ 16] جہاد فی سبیل اللہ ذریعہء ابتلاء و آزمائش :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے جہاد فرض کیا تاکہ اس طرح تمہاری آپس میں ایک دوسرے کے ذریعے ابتلاء و آزمائش کا سامان ہو سکے۔ " اور اس طرح مومنین مخلصین اور دوسرے آپس میں الگ الگ ہوجائیں۔ اور ہر ایک اس جزا و سزا کو پاس کے جس کا مستحق اس نے اپنے آپ کو ثابت کیا ہو۔ [ اللہم وفقنا لما تحب وترضی ] ۔ سو اس مالک الملک نے تم لوگوں کو جنگ کا حکم اس لیے دیا تھا کہ تمہارا اور ان لوگوں کا اچھی طرح امتحان ہو۔ وہ اپنے کفر و باطل کیلئے جو جذبہ اور جوش اپنے اندر رکھتے ہیں وہ بھی سامنے آجائے اور تم دین حق کیلئے جو جذبہء فدویت و وفاداری اپنے اندر رکھتے ہو وہ بھی پوری طرح واضح ہوجائے۔ نیز تاکہ یہ بھی واضح ہوجائے کہ تمہارے اندر کتنے ہیں جو استبار اور وفا شعار ہیں، اور کتنے ہیں جو محض منافقانہ طور پر اور اپنے مفادات کیلئے تمہارے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ سو ایسے مقاصد کیلئے تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے۔ ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے نمٹنے کیلئے تمہارا یا کسی اور کا محتاج ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ اگر چاہتا تو کسی بھی ارضی و سماوی آفت کے ذریعے چشم زدن میں ان کا قطع قمع کردیتا۔ جیسا کہ اس سے پہلے تاریخ کی کتنی ہی قوموں کے ساتھ ایسے ہوچکا ہے۔ سو جہاد فی سبیل اللہ ذریعہء ابتلاء و آزمائش ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیوۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، جل وعلا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 17] شہید فی سبیل اللہ کا کوئی بھی عمل ضائع نہیں جاتا :
سو اس ارشاد سے اس بات کی تصریح فرما دی گئی کہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کا کوئی بھی عمل کبھی ضائع نہیں جاتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ان کیلئے محفوظ رکھتا ہے اور اپنی شان کرم و احسان کے مطابق وہ ان کو بڑھاتا جاتا ہے تاکہ ان کو ان کے استحقاق سے کہیں بڑھ کر اور اپنی شان کرم وعطاء کے مطابق اجر وثواب سے نوازے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ خود شہید کیلئے بھی عظیم الشان اجر وثواب اور ہمیشہ کی نیک نامی کی صورت میں۔ اور دوسرے مسلمانوں کیلئے بھی کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کو سچی عزت و ناموری سے مشرف و سرفراز کرتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب کسی قوم کی ترقی اور سربلندی مطلوب ہو تو اس کو جنگی معرکوں میں جھونک دو ۔ اور اسی بنا پر ارسطو نے سکندر کو مشورہ دیا تھا کہ " ان الراحۃ مضرۃ للامم "۔ یعنی آرام و راحت قوموں کیلئے تباہ کن ہے [ تفسیر المراغی ] اور اسی لئے شاعر مشرق نے کہا کہ۔ لہو کے آنسو مجھ کو رلاتی ہے جو انوں کی تن آسانی۔ سو اس ارشاد سے ان لوگوں کی تردید فرما دی گئی جو ہر چیز کو مادی نقطہ نظر ہی سے دیکھتے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے نزدیک ہر وہ قربانی خسارے ہی کے حکم میں ہوتی ہے جس کا نفع ان کو نقد نہ حاصل ہو۔ سو اس ارشاد سے ایسے ہی لوگوں کے اس خیال خام پر ضرب لگائی گئی ہے۔ اور ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا کوئی عمل ضائع نہیں جاتا۔ اور اسی حقیقت کی تاکید کیلئے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ مت کہو کہ وہ زندہ ہیں لیکن تم اس کا شعور نہیں رکھتے، سو وہ ایک نہایت ہی اعلیٰ وارفع اور عمدہ زندگی سے سرفراز و سرشار ہیں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 47:5[ 18] شہید کیلئے اصلاح حال کی خوش خبری کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کو اللہ جلد پہنچا دے گا انکے مقصد تک اور اللہ درست فرمادے گا ان کے حال کو۔ " چناچہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ شہید کو چھ انعامات سے اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی نواز دیا جاتا ہے۔ اس کی ہر خطا معاف فرما دی جاتی ہے۔ وہ جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے۔ حورِعین سے اس کی شادی کردی جاتی ہے۔ فزع اکبر۔ بڑی گھبراہٹ۔ اور عذاب قبر سے اس کو امن دے دیا جاتا ہے۔ اور اس کا حلہئِ ایمان۔ ایمانی پوشاک۔ پہنا دی جاتی ہے۔ [ رواہ احمد، ابن کثیر ] سو شہداء کے اعمال کو ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو راہ راست سے بھی سرفراز کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ انکے حال اور مآل کو بھی درست کردیتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ایسے خوش نصیب لوگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کرتے ہیں۔ اور یہی ہء اصل اور حقیقی کامیابی وفائز المرامی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 47:6[ 19] شہید کیلئے دخول جنت کی خوش خبری کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ شہیداء کیلئے جنت کی پہچان بھی کرادی جاتی ہے اور ان کیلئے اس سے سرفرازی کی بشارت و خوشخبری بھی سنا دی گئی۔ سو اللہ تعالیٰ نے شہید کو جنت کی پہچان کرادی۔ اپنے دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ اور نصوص کریمہ کے ذریعے۔ چناچہ حضرت ابو سعید خدری ؓ اس بارے میں اپنی ایک قدرے تفصیلی حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد اس طرح نقل فرماتے ہیں۔ " والذی نفسی بیدہ ان احدھم بمنزلہ فی الجنۃ اھدی منہ بمنزلہ الذی کان لہ فی الدنیا " یعنی " دو قسم ہے اس ذات اقدس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ان میں سے ایک شخص جنت میں اپنے گھر کو اس سے بھی کہیں زیادہ جانتا پہچانتا ہوگا جتنا کہ وہ دنیا میں اپنے گھر کو جانتا تھا " [ ابن کثیر وغیرہ ] سو اس سے شہید فی سبیل اللہ اور اس کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 47:7[ 20] اللہ کے دین کی مدد، اللہ تعالیٰ کی مدد سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ :
سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے دین کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کی مدد سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو اور وہ راہ حق میں تمہارے قدم جما دے گا۔ " اور اس حقیقت کی ایک اور مقام پر اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ { الذی اخرجوا من دیارھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللّٰہ ط ولولا دفع اللّٰہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوٰت ومسجد یذکر فیہا اسم اللّٰہ کثیرا ط ولینصرن اللّٰہ من ینصرہ ط ان اللّٰہ لقوی عزیز } [ الحج : 40 پ 17] یعنی اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کی یعنی اس کے دین کی مدد کرے گا، یقینا اللہ بڑا ہی قوت والا، بڑا ہی زبردست ہے، سو وہ قادر مطلق نہ تمہاری نصرت و امداد کا محتاج ہے اور نہ اس کا دین اس کا محتاج ہے۔ بلکہ اس کے دین کی نصرت و امداد خود تمہارے لئے اس کی امداد کا ذریعہ اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا وسیلہ ہے۔ اور اللہ کی نصرت و امداد اس کے دین متین کی نصرت و امداد ہے، اور یہ ایک ایسی عظیم الشان سعادت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ مند کرنے والی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ بہرکیف اس سے ایمان والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے اور ان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے دین کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوؤ، اگر تم پورے عزم و حوصلے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تو آگے کا کام اللہ خود سنبھال لے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔ اور اس طور پر کہ ان کو کوئی اکھاڑ نہیں سکے گا۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید۔
[ 21] اہل ایمان کے لیے ثابت قدمی کی بشارت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم لوگ اللہ اور اس کے دین کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو وہ جمادے گا تمہارے قدموں کو۔ " یعنی تم لوگوں کو ثابت قدمی سے نوازے گا۔ راہ حق و صواب میں دشمن کے مقابلے میں۔ اور ابتلاء و آزمائش کے ہر مرحلے میں۔ سبحان اللّٰہ۔ کیا اعزازات و انعامات ہیں جن کا وعدہ دین حق کی نصرت پر فرمایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو اس ارشاد ربانی میں جیسا کہ اوپر بھی گزرا مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا اور اس کے دین کی نصرت کیلئے اٹھ کھڑے ہوؤ۔ اگر تم نے ایسا کرلیا اور تم لوگ عزم و ہمت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تو آگے کا کام تمہارا رب خود سنبھال لے گا۔ اور تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تمہارے قدم اس طرح جما دے گا کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہ سکے گا۔ سو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کی راہ میں پہلا قدم اٹھائیں۔ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو اس کا عنایت و مہربانی اور نصرت و امداد طرح طرح سے ان کو نصیب ہوگی۔ اور اس کے برعکس جو لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے، وہ اس کی نصرت و امداد سے سرفراز نہیں ہوسکیں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس اصل دار و مدار انسان کے قلب باطن اس کے عزم و ہمت اور اس کے ارادہ و نیت پر ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، اللہم فکن لنا ولا تکن علینا یا ذالجلال والاکرام۔
Ayah 47:8[ 22] کافروں کیلئے بڑی ہولناک تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ اڑے رہے اپنے کفر و باطل پر ان کیلئے بڑی ہی ہلاکت و تباہی ہے۔ " " تعس " کے معنی بھی " کبَّ " کی طرح اوندھے منہ گرنے اور ہلاک ہونے کے آتے ہیں۔ [ محاسن التاویل ] اور یہاں ترکیب میں یہ لفظ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔ ای تعس تعسا او اتعسہ اللّٰہ تعسا [ جامع البیان وغیرہ ] اور کافروں کیلئے یہ تباہی اس طرح ہے کہ وہ اپنے کفر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے دنیا میں نور ویمان و یقین اور راہ حق و صواب سے محروم رہے۔ اور اس کے نتیجے میں آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں جنت کی سدا بہار نعمتوں سے محروم ہو کر وہ دوزخ کا ایندھن بن گئے جو کہ سب سے بڑی تباہی اور محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو کفار و مشرکین کا مآل و انجام بہر حال بہت برا ہے۔ اور جو مہلت ان کو ملی ہوئی ہے وہ محض ابتلاء و آزمائش کیلئے ہے۔ اس لئے اس کی بناء پر کسی کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ کہ ان کا انجام بہر حال بڑا ہی ہولناک ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیع وضلال۔
[ 23] کفر و باطل والوں کے سب اعمال اکارت، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے اکارت کردیا ان کے اعمال کو " یعنی ان کے ان اعمال کو جن کو وہ اپنے طور پر نیکی سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ جیسے رفاہ عامہ کے مختلف کام۔ کیونکہ یہ اعمال انہوں نے خدائے رحمن کی رضا کیلئے کئے ہی نہیں تھے۔ ورنہ کس طرح ممکن تھا کہ وہ اس کے اتارے ہوئے دین اور اس کی بخشی ہوئی ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے کفر و باطل ہی پر اڑے رہتے ؟ اس لئے ایسے اعمال کی اس کی بارگاہ اقدس واعلیٰ میں کوئی حیثیت اور قدر و قیمت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ اس کا دار و مدار ایمان و یقین کی دولت پر ہے اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں، والعیاذ باللّٰہ۔ پس اب اگر تم لوگ اے مسلمانو ! ان سے نمٹنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوؤ گے تو دیکھو گے کہ ان کی ساری کوششیں نابود ہوگئیں کیونکہ قوت ایمان و یقین سے محرومی کے باعث ان کی حیثیت اکھڑے ہوئے درختوں اور بےجان تنوں کی سے ہے۔ سو کفر و انکار محرومیوں کی محرومی اور باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اس کے برعکس ایمان و اطاعت کا راستہ ہی سلامتی اور کامیابی کا راستہ ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
Ayah 47:9[ 24] دین کو ناپسند سمجھنا باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو کافروں کی اس ہلاکت و تباہی اور محرومی و رسوائی کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے دین کو ناپسند سمجھا "۔ سو اللہ نے دین اتارا تاکہ یہ لوگ راہ راست پاس کیں اور حق و ہدایت کی دولت بےمثال سے بہرہ مند و سرفراز ہو سکیں اور اس دین حق پر صدق دل سے ایمان لاکر اور اس کی تعلیمات مقدسہ سے سرشار ہوسکیں مگر ان بدبختوں نے اس دین حق کو اپنانے اور قبول کرنے کی بجائے اس کو برا سمجھا اور ناپسند جانا۔ اور اس طرح انہوں نے روشنی کی بجائے اندھیروں کو اپنایا اور اپنے آپ کو دائمی ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک کھڈے میں ڈال دیا۔ سو دین حق کو ناپسند کرنا اور ناگوارہ جاننا بیماریوں کی بیماری اور تمام مفاسد اور خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ من کل شایبۃ من شوائب ھذہ الکراھیۃ والسوء۔ پس دین حق کو ناپسند کرنے کے باعث یہ لوگ اس قدر بودے و بےثبات اور خداوند قدوس کی بعث و پھٹکار کے مستحق ٹھہرے کہ ان کے کسی عمل کی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی قدرو قیمت نہیں ٹھہری اور یہ بدبخت اس ہولناک گڑھے میں گرگئے جس کی ہولناکی کا تصور بھی کسی کیلئے ممکن نہیں اور جس سے نکلنے اور رہائی پانے کی پھر کوئی صورت بھی ان کیلئے نہ ہوگی۔ سو یہی ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ { ذلک ھو الخسران المبین } مگر کفر و باطل کی نحوست نے ایسے لوگوں کی مت اس قدر مار دی اور ان کو اس قدر اوندھا کردیا کہ ان کو حق اور ہدایت کی یہ بنادی بات اور اہم حقیقت سمجھ نہیں آرہی تاآنکہ یہ دوزخ کی آگ سے ہمکنار ہوں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 47:10[ 25] آثار قدیمہ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و ترغیب اور غفلت شعاروں کا حال :
سو اس ارشاد میں ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے عبرت لینے کی ترغیب وتحریض ہے۔ جیسے قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ وغیرہ، سو اگر یہ لوگ ان مختلف تباہ و برباد شدہ قوموں کے انجام درس عبرت لیتے تو یہ جان لیتے کہ حق اور اہل حق کی مخالفت و تکذیب کی پاداش میں وہ لوگ کس ہولناک انجام سے دو چار ہوئے۔ اور ان کو کیسا اور کیا بھگتنا پڑا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ آثار قدیمہ کر دیکھنے سے مقصود سبق گیری اور عبرت پذیری ہے نہ کہ محض سیر و تفریح اور کھیل تماشا۔ مگر افسوس کہ غیر مسلموں کی طرح آج خود مسلمانوں میں بھی عبرت کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود عبرت پذیری کے اس اصل مقصود کی طرف نہ کوئی تو جہ دیتے ہیں اور نہ ان کو اس کا کوئی خیال آتا ہے کہ یہ لوگ کون تھے جو اس طرح کے ہولناک انجام سے دو چار ہوئے، اور یہ کیوں مٹ مٹا کر اس طرح نشان عبرت بن گئے ؟ ان کی تہذیبوں اور ان کی ترقی و تمدن کو کس قادر مطلق نے اس طرح پیوند خاک کردیا اور ان لوگوں کے اس بناؤ بگاڑ اور عروج وزوال کی فکر انگیز داستانوں میں ہمارے لئے کیا کچھ درسہائے عبرت و بصیرت پنہاں و مستور ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ ایسے غفلت شعار لوگ اس طرف متوجہ ہونے اور اس پر غور و فکر کرنے کے بجائے الٹا اپنی غفلت و لاپرواہی میں اضافہ کرتے ہیں۔ مردوں عورتوں کا خلط ملط ہوتا ہے۔ نظر بازی اور فوٹو گرافی ہوتی ہے، اور عیش و عشرت اور رنگ رلیوں کے طرح طرح کے سامان ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے یہاں پر اس اصل مقصد پر تنبیہ کرنے کی بجائے اپنی طبعی افتاد کے مطابق اپنی منطق اس طرح بگھاری ہے۔ " معلوم ہوا کہ کفار کی تباہ شدہ بستیوں کو دیکھنے کے لئے وہاں سفر کرکے جانا جائز ہے تاکہ خوف خدا نصیب ہوا۔ لہٰذا مقبولوں کی بستیوں میں سفر کرکے جانا وہاں کی محبوبیت کے نظارے کرنا بھی جائز ہے " سبحان اللّٰہ ! کیا کہنے اس اجتہاد و استنباط کے کہ خدا کے پیاروں اور ولیوں کو حق کے دشمنوں اور کافر قوموں کی اجڑی ہوئی اور تباہ حال بستیوں پر قیاس کیا جا رہا ہے۔ کوئی اور اگر ایسی کوئی بات کہہ دیتا تو خدا جانے یہ لوگ اور ان کے حواشی مواشی اس پر کیا کچھ فتوے جڑ دیتے مگر اپنا حال یہ ہے کہ ایسی لچر اور واہیات باتوں کو تفسیر قرآن کے طور پر بیان کرتے اور قرآن حکیم کے حواشی پر لکھتے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شرک و بدعت کی نحوست سے انسان کی مت کس طرح مار دی جاتی ہے، اور وہ شرم و حیا کے تقاضوں سے کتنا عاری اور کس قدر غافل اور محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بھلا اپنے کفر و تکذیب کی بنا پر تباہ ہوجانے والی ان بستیوں اور ان کھنڈرات پر اللہ کے نیک اور پیارے بندوں کی قبروں کو قیاس کرنے کی تک ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کھجور کی چوٹی پر چڑھے ہوئے انسان کو کسی کنویں میں ڈوبے ہوئے آدمی پر قیاس کرنے لگے۔ پھر سوال یہ ہے کہ گزشتہ چودہ صدیوں کی پوری تاریخ میں یہ معانی و مطالب کسی ایک بھی ثقہ و معتبر کو آخر کیوں نہ سوجھ سکے ؟ اور یوں عبرت پزیری کے اس مقصد کی تصریح بھی فرمائی گئی ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔ فانھا تذکرکم بالاخرۃ۔ یعنی یہ ٹوٹی پھوٹی قبریں تم لوگوں کو آخرت یا دو لائیں گی۔ مگر اہل بدعت کا حال اس کے برعکس یہ ہے کہ وہ قبروں پر اس خیال سے جاتے ہیں کہ وہاں قبر والے کو ہمارے آنے کا پتہ چلے گا اور وہ ہم سے خوش ہو کر ہمارا کام بنا دے گا۔ اسی لئے ایسے لوگ عام ٹوٹی پھوٹی اور غیر معروف قبروں پر نہیں جاتے جہاں فی الواقع دنیا کی بےثباتی کا درس ملتا ہے بلکہ یہ جبوں قبوں والی ایسی خاص اور بنی ٹھنی قبروں پر جاتے ہیں جہاں میلے ٹھیلے ہوں اور گانے بجانے ہوتے ہیں اور جہاں اور عرسوں اور قوالیوں وغیرہ کا دور دورہ ہوتا ہے۔ سو وہاں جاکر یہ لوگ غفلت سے چونکنے کی بجائے الٹا اس میں اضافے کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، پھر قبروں میں پڑے حضرات کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ہمیں دیکھتے جانتے، ہمارے نفع نقصان کے مالک اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے اختیارات رکھتے ہیں خالص شرک ہے۔ جیسا کہ حضرت اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ جیسا کہ البحر الرائق لابن نجیم الحنفی (رح) تعالیٰ 2/298، ردالمختار لابن عابد ین الشامی الحنفی (رح) تعالیٰ ، ج 2/139 وغیرہ معتبر کتابوں میں موجود ہے اور شرک وہ سنگین جرم اور ہولناک گناہ کبیرہ ہے جس کے بارے میں قرآن و سنت کی نصوص کریمہ میں طرح طرح سے یہ صراحت و وضاحت فرمائی گئی ہے کہ اس کے مرتکب پر جنت حرام اور دوزخ واجب ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ { لقد کفر الذین قالو ان اللّٰہ ھو المسیح ابن مریم ط وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اللّٰہ ربی وربکم ط انہ من یشرک باللّٰہ علیہ الجنۃ وما وہ النار ط } الایۃ [ المائدۃ : 72 پ 6] " بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا دائمی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ " والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد میں مشرکین و منکرین کی بےبصیرتی اور ان کی کو رچشمی پر اظہار افسوس ہے کہ یہ لوگ زمین میں چل پھر کر ان ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے درس نہیں لیتے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
[ 26] انکار و تکذیب حق کا نتیجہ دائمی ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے ڈال دیا ان پر تباہی کو " یعنی یہاں " دمرھم " نہیں فرمایا گیا بلکہ " دمر اللّٰہ علیہم " فرمایا جا رہا ہے، کہ اس میں پہلی تعبیر کی نسبت قوت و زور بہت زیادہ ہے۔ یعنی وہ تباہی ان پر اور ان کی تمام چیزوں پر چھا گئی اور اس سے ان کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کر کے رکھ دیا گیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس انکار اور تکذیب حق کا آخری نتیجہ و انجام بہر حال دائمی ہلاکت و تباہی ہے، ایسے لوگوں پر عذاب کے ایسے ہولناک کوڑے برسائے جاتے ہیں کہ ان کو ملیا میٹ اور پامال کرکے رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایسے لوگ ہمیشہ کے لئے قصہء پارینہ اور داستان عبرت بن کر رہ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 27] کافروں کے لئے ہولناک عذاب ۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کافروں کے لئے ہولناک عذاب مقرر ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کافروں کے لئے ایسے ہی عذاب مقرر ہیں "۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ مکہ کے ہوں یا اس کے علاوہ کہیں اور کے۔ اب کے ہوں یا کہ جب کے۔ یہاں کے ہوں یا وہاں کے۔ ادھر کے ہوں یا ادھر کے۔ سب کا مآل و انجام ایک ہی ہے کہ کفر و تکذیب کے جرم میں سب ہی شریک ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ الذی لا الہ غیرہ۔ سو کل کے وہ کافر جس انجام سے دو چار ہوچکے ہیں دور حاضر کے یہ منکر بھی یقینا اسی سے دو چار ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے ایک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس ارشاد میں کفار و منکرین کے لئے تنبیہ و تذکیر ہے کہ وہ باز آجائیں کفر و انکار کی اپنی اس باغیانہ روش سے قبل اس سے کہ فرصت عمر ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کے اس ہولناک خسارے میں مبتلا ہونا پڑے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ہر قدم راہ حق و صواب پر بڑھانے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
Ayah 47:11[ 28] اللہ کارساز ہے ایمان والوں کا، سبحانہ و تعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اللہ مولیٰ ہے ایمان والوں کا اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں۔ یہاں پر " مولی " کے معنی دوست و مددگار اور حامی و ناصر اور کارساز کے ہیں۔ اور یہ صرف اہل ایمان کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ حامی و ناصر کارساز و حمایتی صرف اہل ایمان ہی کا ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ کافروں کے لئے کوئی " مولی " اور کارساز نہیں۔ اور جہاں " مولی " بمعنی مالک و متصرف کے ہوں گے وہاں اس کا تعلق اہل ایمان اور کفار سب ہی کے ساتھ ہوگا کہ مالک تو بہرحال سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { ثم ردوا الٰی اللّٰہ مولہم الحق الا لہ الحکم وھو اسراع الحاسبین } [ الانعام : 62 پ 7] سو جب اس ساری کائنات کا کارساز و کار فرما اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے تو پھر وہ کفار ان کے مقابلے میں کیا حیثیت اور وزن رکھ سکتے ہیں جن کا کوئی کارساز ہی نہیں۔ کیونکہ جو کار ساز حقیقی ہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور جن کو انہوں نے ازخود اور اپنے طور پر اپنا کار ساز بنا رکھا ہے ان کے اندر کارسازی کی کوئی صفت سرے سے ہے ہی نہیں۔ تو پھر وہ اہل ایمان کے مقابلے میں آخر کیسے اور کیونکر ٹھہر سکتے ہیں ؟ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو اہل ایمان کے لئے یہ تعلیم و تذکیر ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھیں کہ ان کا کارساز بہر حال وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہمیشہ اپنے ظاہر و باطن کا تعلق اس کے ساتھ صحیح رکھیں اور ہر حال میں اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع کریں جو کہ کارساز حقیقی اور مالک مطلق ہے۔ تاکہ اس طرح وہ اپنے خود ساختہ اور بےحقیقت سہاروں کو چھوڑ کر اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع کریں جو کہ کارساز حقیقی اور مالک مطلق ہے تاکہ اس طرح ان کی بگڑی بن سکے اور وہ کفر و شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر نور ایمان و یقین سے بہرہ مند و سرشار ہو سکیں۔ اللہم فخذنا بنواصینا الیٰ ما فیہ حُبُّک ورضاک، بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذالجلال والاکرام۔
Ayah 47:12[ 29] نجات کا ذریعہ ایمان اور عمل صالح، وباللّٰہ التوفیق :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے۔ اللہ ان کو داخل فرما دے گا ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے نہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جنت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ایمان صادق اور عمل صالح ہی ہے۔ پس جنت میں داخل ہونے کیلئے ان دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ یعنی ایمان صادق اور عمل صالح کہ ایمان تو وہ اصل اور بنیاد ہے جس کے بغیر کسی عمل کا کوئی اعتبار ہی نہیں۔ اور عمل صالح اس کا وہ لازمی تقاضا اور اہم ثمرہ و پھل ہے جس کے بغیر ایمان کا دعویٰ محض زبانی جمع خرچ بن کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور عمل صالح اس کا وہ عمل ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ہو، نہ کہ محض اپنی عقل و خواہش کے تقاضوں کے مطابق۔ جس طرح کہ دین ایمان کی روشنی سے محروم مختلف لوگوں، قوموں، اور جماعتوں کا طریقہ و وطیرہ ہے کہ وہ شراب و کباب اور طرح طرح کی رنگ رلیوں کے پروگرام بنا کر مختلف ناموں اور عنوانوں سے مختلف رفاہی کاموں کیلئے چندے اکھٹے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم لوگ بہت نیک کام کرتے ہیں۔ اور یہ کہ ہم نے دین اور ایمان کے تقاضے پورے کر دئیے کہ دوسروں کے کام آگئے، اور خدمت خلق کی انجام دہی میں مشغول ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب دھوکے کے سامان اور ابلیس کے ہتھکنڈے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ عمل صالح بہرحال وہی اور صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ پس جو عمل اس کے خلاف ہوگا وہ کبھی عمل صالح نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ لوگوں نے اس کو طرح طرح کے خوشنما ناموں اور عنوانوں کے پردوں ہی میں چھپا رکھا ہو، والعیاذ باللّٰہ جل و علا من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔
[ 30] دین و ایمان کی دولت سے محروم لوگ محض جانور ہیں :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دین و ایمان سے محروم لوگ محض جانور ہیں۔ اور ایسے لوگوں کا کھانا پینا چوپایوں کی طرح ہے اور بس۔ کہ ایسوں کو نہ حلال و حرام کا پتہ نہ جائز و ناجائز کی تمیز۔ نہ شروع میں بسم اللہ نہ آخر میں الحمدللہ۔ نہ دینے والے کا شکر ادا اور نہ اپنے انجام کی فکر۔ بس کھانا اور پیٹ بھرنا ہے جس طرح بھی ہو۔ کھڑے بیٹھے یا لیٹے اور اس کے بعد اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مستی کو نکالنا ہے۔ جہاں بھی اور جس طرح بھی ہو۔ پس بطن اور فرج کے تقاضوں کی تکمیل کرنا ہی ان کا مقصود و مطلوب ہے۔ نہ انجام کی کوئی فکر و چنتا اور نہ اس سے کوئی بحث کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ جس طرح جانور کو کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں ذبح ہونا اور تکہ بوٹی بننا اور کیسے انجام کو پہنچنا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بلکہ ایسے لوگوں کا معاملہ جانوروں سے بھی کہیں بڑھ کر برا اور سخت خسارے کا ہوتا ہے، کہ جانور نے آگے کوئی حساب نہیں دینا جب کہ انسانوں کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ اور کفر و انکار کا پھل آتش دوزخ اور وہاں کا دائمی ٹھکانہ ہے، جو کہ سب سے برا اور نہایت ہولناک ٹھکانا ہے۔ پھر ایک پہلو اس اہم اور بنیادی حقیقت کا یہ ہے کہ حیوان کو عقل و فکر کے جوہر سے نہیں نوازا گیا۔ اس لئے وہ اپنے حیوانی تقاضوں کی تکمیل اپنے معروف و محدود اور لگے بندھے طریقوں سے کرتا ہے، لیکن جب عقل و خرد رکھنے والا یہ انسان حیوان محض کی سطح پر اترا آتا ہے تو یہ اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے وہ، وہ کام کرتا ہے کہ شیطان کے بھی کان کاٹ لیتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم نے دوسرے مقام پر اس کو بدترین مخلوق " شرالبریۃ " قرار دیا ہے۔ چناچہ سورة بینہ کی چھٹی آیت کریمہ میں ایسے لوگوں کے لئے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا { اولئک ہم شر البریۃ " یعنی " یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں " والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال، وسوء وانحراف۔
[ 31] کافروں اور منکروں کا دائمی ٹھکانا آتش دوزخ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کا ٹھکانا دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ہے۔ " والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایمان کی دولت سے محروم ہو کر بطن و فرج کی لذتوں کے تقاضوں کے پیچھے لگ جانا اور بےفکری و لاپرواہی کے ساتھ انہی کی تحصیل و تکمیل کا سامان کرتے رہنا دراصل اپنے لئے دوزخ کی دائمی آگ سمیٹنا ہے۔ اور خواہشات کی یہی آگ عالم آخرت کے اس جہان غیب میں جو کہ دراصل مشاہدہ اور کشف حقائق کا جہاں ہوگا ایسے بدبختوں کو ہر طرف سے اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ تب ایسے لوگوں کو پتہ چلے گا کہ ان دنیاوی لذتوں کی اصل حقیقت کیا تھی جن کے پیچھے لگ کر اور ان کے تقاضوں میں مست و مگن ہو کر یہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہوگئے تھے تب ان کی یاس و حسرت کا کوئی کنارہ نہیں ہوگا، مگر بےوقت کے اس افسوس کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو کافروں کو مہلت ملی ہوئی ہے وہ ان کے لئے کوئی خوش آئند چیز نہیں۔ بلکہ یہ ان کے لئے موجب وبال ہوگی اور انکا آخری ٹھکانہ بہرحال دوزخ ہے۔ مگر کفر و انکار کی نحوست کے باعث دنیا کے اس دار الامتحان میں ان کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آرہی، اور وہ پوری بےفکری کے ساتھ اس انتہائی ہولناک انجام کی طرف بڑھے جا رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم،