47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جو لوگ کہ منکر ہوئے اور روکا اوروں کو اللہ کی راہ سے2 کھو دیے اللہ نے ان کے کام3

2 جیسا کہ رؤسائے کفار کی عادت تھی کہ جان، مال اور ہر طرح سے اس میں کوشش کرتے تھے۔ 3 یعنی جن اعمال کو وہ نیک سمجھ رہے ہیں بوجہ عدم ایمان کے وہ مقبول نہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض کام اور الٹے موجب عتاب ہوتے ہیں۔ جیسے لوگوں کو اسلام سے روکنے میں پیسہ خرچ کرنا۔
Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو یقین لائے اور کیے بھلے کام اور مانا اس کو جو اترا محمد ﷺ پر اور وہی ہے سچا دین ان کے رب کی طرف سے ان پر سے اتاریں ان کی برائیاں اور سنورا ان کا حال4

4 یعنی برائیوں کی عادت چھڑا کر اللہ تعالیٰ ان کا حال سنوار دیتا ہے کہ یوماً فیوماً نیکی میں ترقی کرتے رہتے ہیں۔ اور آخرت میں ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرما کر اچھے حال میں رکھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پہلے زمانہ میں ساری مخلوق ایک شریعت کی مکلف نہ تھی۔ اس وقت سب جہان کو ایک حکم ہے، اب سچا دین یہی ہے اور برے بھلے کام مسلمان بھی کرتے ہیں اور کافر بھی، لیکن سچا دین ماننے کو یہ قبولیت ہے کہ نیکی ثابت اور برائی معاف، اور نہ ماننے کی یہ سزا ہے کہ نیکی برباد گناہ لازم۔ "
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جو منکر ہیں وہ چلے جھوٹی بات پر اور جو یقین لائے انہوں نے مانی سچی بات اپنے رب کی طرف سے یوں بتلاتا ہے اللہ لوگوں کو ان کے احوال5

5 یعنی اس طرح کھول کھول کر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے بھلے برے احوال پر متنبہ کرتا ہے۔ تاکہ باطل پرستی کی نحوست و شامت اور حق پرستی کی برکت ان کو پوری طرح ذہن نشین ہوجائے۔
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو ان کو تو مضبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجیو6 جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار7 یہ سن چکے اور اگر چاہے اللہ تو بدلہ لے ان سے پر جانچنا چاہتا ہے تمہارے ایک سے دوسرے کو8 اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو نہ ضائع کرے گا وہ ان کے کیے کام

6 یعنی حق اور باطل کا مقابلہ تو رہتا ہی ہے جس وقت مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہوجائے تو مسلمانوں کو پوری مضبوطی اور بہادری سے کام لینا چاہیے۔ باطل کا زور جب ہی ٹوٹے گا کہ بڑے بڑے شریر مارے جائیں اور ان کے جتھے توڑ دیئے جائیں۔ اس لیے ہنگامہ کارزار میں کسل، سستی، بزدلی اور توقف و تردد کو راہ نہ دو ۔ اور دشمنان خدا کی گردنیں مارنے میں کچھ باک نہ کرو۔ کافی خون ریزی کے بعد جب تمہاری دھاک بیٹھ جائے اور ان کا زور ٹوٹ جائے اس وقت قید کرنا بھی کفایت کرتا ہے۔ قال تعالیٰ (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ) 8 ۔ الانفال :67) یہ قید و بند ممکن ہے ان کے لیے تازیانہ عبرت کا کام دے۔ اور مسلمانوں کے پاس رہ کر ان کو اپنی اور تمہاری حالت کے جانچنے اور اسلامی تعلیمات میں غور کرنے کا موقع بہم پہنچائے۔ شدہ شدہ وہ لوگ حق و صداقت کا راستہ اختیار کرلیں یا مصلحت سمجھو تو بدون کسی معاوضہ کے ان پر احسان کر کے قید سے رہا کردو۔ اس صورت میں بہت سے افراد ممکن ہے تمہارے احسان اور خوبی اخلاق سے متاثر ہو کر تمہاری طرف راغب ہوں اور تمہارے دین سے محبت کرنے لگیں۔ اور یہ بھی کرسکتے ہو کہ زر فدیہ لے کر یا مسلمان قیدیوں کے مبادلہ میں ان قیدیوں کو چھوڑ دو ۔ اس میں کئی طرح کے فائدے ہیں۔ بہرحال اگر ان اسیران جنگ کو ان کے وطن کی طرف واپس کرو تو دو ہی صورتیں ہیں۔ معاوضہ میں چھوڑنا یا بلا معاوضہ رہا کرنا۔ ان میں جو صورت امام کے نزدیک اصلح ہو اختیار کرسکتا ہے۔ حنفیہ کے ہاں بھی فتح القدیر اور شامی وغیرہ میں اس طرح کی روایات موجود ہیں۔ ہاں اگر قیدیوں کو ان کے وطن کی طرف واپس کرنا مصلحت نہ ہو، تو پھر تین صورتیں ہیں۔ ذمی بنا کر بطور رعیت کے رکھنا۔ یا غلام بنا لینا، یا قتل کردینا، احادیث سے قیدی کو قتل کرنے کا ثبوت صرف خاص خاص حالات میں ملتا ہے۔ جب کہ وہ کسی ایسے سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہو جس کی سزا قتل سے کم نہیں ہوسکتی تھی۔ البتہ غلام یا رعیت بنا کر رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ 7 یعنی یہ حرب و ضرب اور قید و بند کا سلسلہ برابر جاری رہے گا۔ تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دے اور جنگ موقوف ہوجائے۔ 8 یعنی خدا کو قدرت ہے کہ ان کافروں کو کوئی آسمانی عذاب بھیج کر " عاد " و " ثمود " وغیرہ کی طرح ہلاک کر ڈالے۔ لیکن جہاد و قتال مشروع کر کے اسے بندوں کا امتحان کرنا تھا۔ وہ دیکھتا ہے کہ کتنے مسلمان اللہ کے نام پر جان و مال نثار کرنے کے لیے تیار ہیں اور کفار میں سے کتنے ان تنبیہی کارروائیوں سے بیدار ہوتے اور اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ نے دے رکھی ہے کہ پہلی قوموں کی طرح ایک دم پکڑ کر استیصال نہیں کردیتا۔
Ayah 47:5

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

ان کو راہ دے گا اور سنوارے گا ان کا حال1

1 یعنی جو لوگ اللہ کے راستہ میں شہید ہوئے خواہ بظاہر یہاں کامیاب نظر نہ آتے ہوں۔ لیکن حقیقتہً وہ کامیاب ہیں۔ اللہ ان کے کام ضائع نہ کرے گا۔ بلکہ انجام کار ان کی محنت ٹھکانے لگائے گا۔ ان کو جنت کی طرف راہ دے گا۔ اور آخرت کے تمام منازل و مواقف میں ان کا حال درست رکھے گا۔
Ayah 47:6

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور داخل کرے گا ان کو بہشت میں جو معلوم کرا دی ہے ان کو2

2 یعنی جس جنت کا حال ان کو انبیاء (علیہم السلام) کی زبان اور اپنے وجدان صحیح سے معلوم ہوچکا تھا اس میں داخل کیے جائیں گے اور وہاں پہنچ کر ہر جنتی اپنے ٹھکانے کو خود بخود پہچان لے گا اس کے دل کی کشش ادھر ہی ہوگی جہاں اس کو رہنا ہے (تنبیہ) ابن عباس ؓ نے " عَرَّفَہَالَہُمْ " کے معنی " طَیَّبَہَالَہُمْ " کے لیے ہیں۔ یعنی جنت ان کے لیے خوشبوؤں سے مہکا دی گئی ہے۔
Ayah 47:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو اگر تم مدد کرو گے اللہ کی3 تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور جما دے گا تمہارے پاؤں4

3 یعنی اللہ کے دین کی اور اس کی پیغمبر کی۔ 4 یعنی جہاد میں اللہ کی مدد سے تمہارے قدم نہیں ڈگمگائیں گے اور اسلام وطاعت پر ثابت قدم رہو گے جس کے نتیجہ میں " صراط " پر ثابت قدمی نصیب ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اللہ چاہے تو خود ہی کافروں کو مسلمان کر ڈالے پر یہ بھی منظور نہیں کہ " جانچنا منظور ہے۔ سو بندہ کی طرف سے کمر باندھنا اور اللہ کی طرف سے کام بنانا۔ "
Ayah 47:8

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ منکر ہوئے وہ گرے منہ کے بل اور کھو دیے ان کے کیے کام5

5 یعنی جس طرح مومنین کے قدم جما دیے جاتے ہیں اس کے برعکس منکروں کو منہ کے بل گرا دیا جاتا ہے۔ اور جیسے خدا کی طرف سے مومنین کی مدد کی جاتی ہے، اس کے خلاف کافروں کے کام برباد کردیے جاتے ہیں۔
Ayah 47:9

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ ان کو پسند نہ ہوا جو اتارا اللہ نے پھر اکارت کردیے ان کے کیے کام6

ف 6 یعنی جب انہوں نے اللہ کی باتوں کو ناپسند کیا تو اللہ ان کے کام کیوں پسند کرے گا۔ اور جو چیز خدا کو ناپسند ہو وہ محض اکارت ہے۔
Ayah 47:10

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا وہ پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھیں کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے ہلاکی ڈالی اللہ نے ان پر اور منکروں کو ملتی رہتی ہیں ایسی چیزیں7

7 یعنی دنیا ہی میں دیکھ لو منکروں کی کیسی گت بنی اور کس طرح ان کے منصوبے خاک میں ملا دیے گئے۔ کیا آجکل کے منکروں کو ایسی سزائیں نہیں مل سکتیں۔
Ayah 47:11

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ رفیق ہے ان کا جو یقین لائے اور یہ کہ جو منکر ہیں ان کا رفیق نہیں کوئی8

8 یعنی اللہ مومنین صالحین کا رفیق ہے جو وقت پر ان کی مدد کرتا ہے۔ کافروں کا ایسا رفیق کون ہے۔ جو اللہ کے مقابلہ میں کام آسکے " غزوہ احد " میں ابو سفیان نے پکارا تھا۔ لَنَا الْعُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ آپ ﷺ نے فرمایا پکارو " اللّٰہُ مَوْلَانَا وَلاَ مَوْلٰی لَکُمْ ۔ "
Ayah 47:12

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

مقرر اللہ داخل کرے گا ان کو جو یقین لائے اور کیے بھلے کام باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں اور جو لوگ منکر ہیں برت رہے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے کہ کھائیں چوپائے اور آگ ہے گھر ان کا9

9 یعنی دنیا کا سامان عبرت رہے اور مارے حرص کے بہائم کی طرح اناپ شناپ کھاتے چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ کی خبر نہیں کہ کل یہ کھایا پیا کس طرح نکلے گا۔ اچھا چند روز مزے اڑالیں آگے ان کے لیے آگ کا گھر تیار ہے۔
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور کتنی تھیں بستیاں جو زیادہ تھیں زور میں اس تیری بستی سے جس نے تجھ کو نکالا ہم نے ان کو غارت کردیا پھر کوئی نہیں ان کا مددگار1

1 یعنی دوسری قوموں کو جو زور و طاقت میں مکہ والوں سے کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے تباہ کر چھوڑا اور کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ پھر یہ کس بات پر اتراتے ہیں۔ (تنبیہ) " قَرْیَتِکَ الَّتِی اَخْرَجَتْکَ " سے مراد مکہ معظمہ ہے۔ وہاں کے لوگوں نے ایسی حرکات کیں کہ آپ ﷺ کو وطن مالوف و محبوب چھوڑنا پڑا۔ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے رخصت ہوتے وقت مکہ معظمہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ خدا کی قسم تو تمام شہروں میں اللہ کے نزدیک اور میرے نزدیک محبوب ترین شہر ہے۔ اور اگر میری قوم مجھ کو تیرے اندر سے نہ نکالتی میں تجھ کو نہ چھوڑتا۔
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا ایک جو چلتا ہے واضح راستہ پر اپنے رب کے برابر ہے اس کے جس کو بھلا دکھلایا اس کا برا کام اور چلتے ہیں اپنی خواہشوں پر2

2 یعنی ایک شخص نہایت شرح صدر اور فہم و بصیرت کے ساتھ سچائی کی صاف اور کشادہ سڑک پر بےکھٹکے چلا جا رہا ہے، اور دوسرا اندھیرے میں پڑا ٹھوکریں کھاتا ہے، جس کو سیاہ وسفید یا نیک و بد کی کچھ تمیز نہیں، حتٰی کہ اپنی بد تمیزی سے برائی کو بھلائی سمجھتا ہے اور خواہشات کی پیروی میں اندھا ہو رہا ہے، کیا ان دونوں کا مرتبہ اور انجام برابر ہوجائے گا ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ حق تعالیٰ کی شان حکومت و عدل کے منافی ہے۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

احوال اس بہشت کا جس کا وعدہ ہوا ہے ڈرنے والوں سے اس میں نہریں ہیں پانی کی جو بو نہیں کر گیا3 اور نہریں ہیں دودھ کی جس کا مزہ نہیں پھرا4 اور نہریں ہیں شراب کی جس میں مزہ ہے پینے والوں کے واسطے5 اور نہریں ہیں شہد کی جھاگ اتارا ہوا6 اور ان کے لیے وہاں سب طرح کے میوے ہیں7 اور معافی ہے ان کے رب سے8 یہ برابر ہے اس کے جو سدا رہے آگ میں اور پلایا جائے ان کو کھولتا پانی تو کاٹ نکالے ان کی آنتیں9

3 یعنی طول مکث یا کسی چیز کے اختلاط سے اس کی بو نہیں بدلی۔ شہد سے زیادہ شیریں اور دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ کسی طرح کے تغیر کو اس کی طرف راہ نہیں۔ 4 یعنی دنیا کے دودھ پر قیاس نہ کرو۔ اتنی مدت گزرنے پر بھی اس کے مزے میں فرق نہیں آیا۔ 5 یعنی وہاں کی شراب میں خالص لذت اور مزہ ہی ہے۔ نہ نشہ ہے نہ شکستگی نہ تلخی نہ سرگرانی نہ کوئی اور عیب و نقصان۔ 6 یعنی صاف و شفاف شہد جس میں تکدر تو کہاں ہوتا جھاگ تک نہیں۔ (تنبیہ) یہاں چار قسم کی نہروں کا ذکر ہوا جن میں پانی تو ایسی چیز ہے کہ انسان کی زندگی اس سے ہے اور دودھ غذائے لطیف کا کام دیتا ہے اور شراب سرور ونشاط کی چیز ہے۔ اور شہد کو " شفاء للناس " فرمایا گیا ہے۔ 7 مشروبات کے بعد یہ ماکولات کا ذکر فرما دیا۔ 8 یعنی سب خطائیں معاف کر کے جنت میں داخل کریں گے وہاں پہنچ کر کبھی خطاؤں کا ذکر بھی نہ آئے گا جو ان کی کلفت کا سبب بنے۔ اور نہ آئندہ کسی بات پر گرفت ہوگی۔ 9 یعنی کھولتا ہوا پانی جب دوزخیوں کو پلائیں گے تو آنتیں کٹ کر باہر آپڑیں گی۔ (اعاذنا اللہ منہ)
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور بعض ان میں ہیں کہ کان رکھتے ہیں تیری طرف یہاں تک کہ جب نکلیں تیرے پاس سے کہتے ہیں ان کو جن کو علم ملا ہے کیا کہا تھا اس شخص نے ابھی10 یہ وہی ہیں جن کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اللہ نے اور چلے ہیں اپنی خواہشوں پر11

10 اوپر مومنوں اور کافروں کا حال مذکور تھا۔ ایک قسم کافروں کی وہ ہے جسے منافق کہتے ہیں۔ یعنی ظاہر میں اسلام کا دعویٰ اور باطن میں اس سے انحراف۔ اس آیت میں اس کا ذکر ہے۔ یعنی یہ لوگ بظاہر پیغمبر کی بات سننے کے لیے کان رکھتے ہیں۔ مگر نہ دلی توجہ ہے نہ سمجھ، نہ یاد، جب مجلس سے اٹھ کر جاتے ہیں تو اہل علم سے کہتے ہیں کہ اس شخص (یعنی پیغمبر ﷺ نے ابھی ابھی کیا بیان کیا تھا۔ شاید اس دریافت کرنے سے مقصود ادھر تعریض کرنا ہوگا کہ ان کی بات کو لائق اعتناء نہیں سمجھتے نہ توجہ سے سنتے ہیں۔ 11 یعنی ایسی نالائق حرکتوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ ان کے دلوں پر مہر کردیتا ہے۔ پھر نیکی کی توفیق قطعاً نہیں ہوتی۔ محض خواہشات کی پیروی رہ جاتی ہے۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ راہ پر آئے ہیں ان کو اور بڑھ گئی اس سے سوجھ اور ان کو اس سے ملا بچ کر چلنا12

12 یعنی سچائی کے راستہ پر چلنے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آدمی روز بروز ہدایت میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور اس کی سوجھ بوجھ اور پرہیزگاری بڑھتی جاتی ہے۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب یہی انتظار کرتے ہیں قیامت کا کہ آکھڑی ہوں ان پر اچانک سو آچکی ہیں اس کی نشانیاں پھر کہاں نصیب ہوگا ان کو جب وہ آپہنچے ان پر سمجھ پکڑنا13

13 یعنی قرآن کی نصیحتیں، گذشتہ اقوام کی عبرتناک مثالیں اور جنت و دوزخ کے وعدہ و وعید سب سن چکے اب ماننے کے لیے کس وقت کا انتظار ہے۔ یہ ہی کہ قیامت کی گھڑی ان کے سر پر اچانک آکھڑی ہو۔ سو قیامت کی کئی نشانیاں تو آچکیں، اور جب خود قیامت آکھڑی ہوگی، اس وقت ان کے لیے سمجھ حاصل کرنے اور ماننے کا موقع کہاں باقی رہے گا۔ یعنی وہ سمجھنا اور ماننا بیکار ہے کیونکہ اس پر نجات نہیں ہوسکتی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " بڑی نشانی قیامت کی ہمارے نبی ﷺ کا پیدا ہونا ہے۔ سب نبی خاتم النبیین کی راہ دیکھتے تھے۔ جب وہ آچکے (مقصود تخلیق عالم کا حاصل ہوچکا) اب قیامت ہی باقی ہے۔ " حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا " اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ " (میں اور قیامت اس طرح ہیں) گویا میں قیامت سے اتنا آگے نکل آیا ہوں جتنا بیچ کی انگلی شہادت کی انگلی سے آگے نکلی ہوئی ہے۔ شرح صحیح مسلم میں ہم نے اس کی مفصل تقریر کی ہے۔ یہاں گنجائش نہیں۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

سو تو جان لے کہ کسی کی بندگی نہیں سوائے اللہ کے اور معافی مانگ اپنے گناہ کے واسطے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لیے1 اور اللہ کو معلوم ہے باز گشت تمہاری اور گھر تمہارا2

1 ہر ایک کا ذنب (گناہ) اس کے مرتبہ کے موافق ہوتا ہے۔ کسی کام کا بہت اچھا پہلو چھوڑ کر کم اچھا پہلو اختیار کرنا گو وہ حدود جواز و استحسان میں ہو، بعض اوقات مقربین کے حق میں ذنب (گناہ) سمجھا جاتا ہے۔ " حسنات الابرار سیأت المقربین " کے یہ ہی معنی ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ دن میں سو بار استغفار فرماتے تھے (تنبیہ) (فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوٰىكُمْ ) 47 ۔ محمد :19) کا خطاب ہر ایک مخاطب کو ہے۔ اور اگر خاص نبی کریم ﷺ کا مخاطب ہوں تو مطلب یہ ہے کہ اس علم پر برابر جمے رہیے اور استغفار کرتے رہیے۔ اور " فاعلم " کی تفریع ماقبل پر اس طرح ہے کہ قیامت آنے کے بعد کسی کو ایمان و توبہ وغیرہ نافع نہیں، تو آدمی کو چاہیے کہ اس کے آنے سے قبل صحیح معرفت حاصل کرے۔ اور ایمان و استغفار کے طریق پر مستقیم رہے۔ 2 یعنی جتنے پردوں میں پھرو گے پھر بہشت یا دوزخ میں پہنچو گے جو تمہارا اصلی گھر ہے۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ایمان والے کیوں نہ اتری ایک سورت3 پھر جب اتری ایک سورت جانچی ہوئی4 اور ذکر ہوا اس میں لڑائی کا تو تو دیکھتا ہے ان کو جن کے دل میں روگ ہے تکتے ہیں تیری طرف جیسے تکتا ہے کوئی بیہوش پڑا ہوا مرنے کے وقت سو خرابی ہے ان کی5

3 یعنی ایسی سورت جس میں جہاد کی اجازت ہو۔ 4 یعنی جچے تلے احکام پر مشتمل ہے جو غیر منسوخ ہیں اور ٹھیک اپنے وقت پر اترتے ہیں۔ 5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " مسلمان سورت مانگتے تھے یعنی کافروں کی ایذاء سے عاجز ہو کر آرزو کرتے کہ اللہ جہاد کا حکم دے تو جو ہم سے ہو سکے کر گزریں۔ جب جہاد کا حکم آیا تو منافق اور کچے لوگوں پر بھاری ہوا، خوفزدہ اور بےرونق آنکھوں سے پیغمبر کی طرف دیکھنے لگے کہ کاش ہم کو اس حکم سے معاف رکھیں۔ بیحد خوف میں بھی آنکھ کی رونق نہیں رہتی۔ جیسے مرتے وقت آنکھوں کا نور جاتا رہتا ہے۔ "
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

حکم ماننا ہے اور بھلی بات کہنی پھر جب تاکید ہو کام کی تو اگر سچے رہیں اللہ سے تو ان کا بھلا ہے6

6 یعنی ظاہر میں یہ لوگ فرمانبرداری کا اظہار اور زبان سے اسلام و احکام اسلام کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر کام کی بات یہ ہے کہ عملاً خدا و رسول کا حکم مانیں اور بات اچھی اور معقول کہیں، پھر جب جہاد وغیرہ میں کام کی تاکید اور زور آپڑے اس وقت اللہ کے سامنے سچے ثابت ہوں تو یہ صورت ان کی بہتری اور بھلائی کی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی حکم شرع کو نہ ماننے سے کافر ہوجاتا ہے۔ اللہ کا حکم ہر طرح ماننا ہی چاہیے۔ پھر رسول بھی جانتا ہے کہ نامردوں کو کیوں لڑوائے، ہاں جب بہت ہی تاکید آپڑے اسی وقت لڑنا ضروری ہوگا۔ نہیں تو لڑنے والے بہت ہیں۔ "
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

پھر تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو خرابی ڈالو ملک میں اور قطع کرو اپنی قرابتیں7

7 یعنی حکومت و اقتدار کے نشہ میں لوگ عموماً اعتدال و انصاف پر قائم نہیں رہا کرتے۔ دنیا کی حرص اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ پھر جاہ و مال کی کشمکش اور غرض پرستی میں جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں۔ جن کا آخری نتیجہ ہوتا ہے عام فتنہ و فساد اور ایک دوسرے سے قطع تعلق۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی جان سے تنگ ہو کر جہاد کی آرزو کرتے ہو اور اگر اللہ تم ہی کو غالب کر دے تو فساد نہ کرنا۔ " (تنبیہ) مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے " تولیتم " کا ترجمہ حکومت مل جانے سے کیا ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے۔ دوسرے علماء " تولی " کو بمعنی اعراض لے کر یوں مطلب لیتے ہیں کہ اگر تم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے اعراض کرو گے تو ظاہر ہے دنیا میں امن و انصاف قائم نہیں ہوسکتا۔ اور جب دنیا میں امن و انصاف نہ رہے گا تو ظاہر ہے فساد، بدامنی اور حق ناشناسی کا دور دورہ ہوگا۔ اور بعض نے اس طرح تفسیر کی ہے کہ اگر تم ایمان لانے سے اعراض کرو گے تو زمانہ جاہلیت کی کیفیت عود کر آئے گی جو خرابیاں اور فساد اس وقت تھے اور ادنیٰ بات پر رشتے ناتے قطع ہوجاتے تھے، وہ ہی سب نقشہ پھر قائم ہوجائے گا۔ اور اگر آیت میں خاص منافقین سے خطاب مانا جائے تو ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر جہاد سے اعراض کرو گے تو تم سے یہ ہی توقع کی جاسکتی ہے کہ اپنی منافقانہ شرارتوں سے ملک میں خرابی مچاؤ گے اور جن مسلمانوں سے تمہاری قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے کھلے کافروں کے مددگار بنو گے۔
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

ایسے لوگ ہیں جن پر لعنت کی اللہ نے پھر کردیا ان کو بہرا اور اندھی کردیں ان کی آنکھیں8

8 یعنی حکومت کے غرور میں اندھے بہرے ہو کر ظلم کرنے لگے۔ پھر کسی کا سمجھایا نہ سمجھے۔ خدا کی پھٹکار نے بالکل ہی سنگدل بنادیا۔ اور یہ سب کچھ ان ہی کے سوء اختیار اور قصور استعداد سے ہوا۔
Ayah 47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

کیا دھیان نہیں کرتے قرآن میں یا دلوں پر لگ رہے ہیں ان کے قفل9

9 یعنی منافق قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کی شرارتوں کی بدولت دلوں پر قفل پڑگئے ہیں کہ نصیحت کے اندر جانے کا راستہ ہی نہیں رہا۔ اگر قرآن کے سمجھنے کی توفیق ملتی تو باآسانی سمجھ لیتے کہ جہاد میں کس قدر دنیاوی و اخروی فوائد ہیں۔
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ الٹے پھرگئے اپنی پیٹھ پر بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی ان پر سیدھی راہ شیطان نے بات بنائی ان کے دل میں اور دیر کے وعدے کئے10

10 یعنی منافقین اسلام کا اقرار کرنے اور اس کی سچائی ظاہر ہو چکنے کے بعد وقت آنے پر اپنے قول وقرار سے پھرے جاتے ہیں۔ اور جہاد میں شرکت نہیں کرتے۔ شیطان نے ان کو یہ بات سجھا دی ہے کہ لڑائی میں نہ جائیں گے تو دیر تک زندہ رہینگے۔ خواہ مخواہ جا کر مرنے سے کیا فائدہ۔ اور نہ معلوم کیا کچھ سجھاتا اور دوردراز کے لمبے چوڑے وعدے دیتا ہے۔ (وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :64)
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں سے جو بیزار ہیں اللہ کی اتاری کتاب سے ہم تمہاری بات بھی مانیں گے بعضے کاموں میں اور اللہ جانتا ہے ان کا مشورہ کرنا1

1 منافقوں نے یہود وغیرہ سے کہا کہ گو ہم ظاہر میں مسلمان ہوگئے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ ہرگز تم سے نہ لڑیں گے بلکہ موقع ملا تو تم کو مدد دیں گے اور اس قسم کے کاموں میں تمہاری بات مانیں گے۔
Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر کیسا ہوگا حال جب کہ فرشتے جان نکالیں گے ان کی مارتے جاتے ہوں ان کے منہ پر اور پیٹھ پر2

2 یعنی اس وقت موت سے کیونکر بچیں گے۔ بیشک اس وقت نفاق کا مزہ چکھیں گے۔
Ayah 47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ وہ چلے اس راہ جس سے اللہ بیزار ہے اور ناپسند کی اس کی خوشی پھر اس نے اکارت کردیے ان کے کام3

3 یعنی اللہ کی خوشنودی کا راستہ پسند نہ کیا۔ اسی راہ چلے جس سے وہ ناراض ہوتا تھا۔ اس لیے موت کے وقت ہی بھیانک سماں دیکھنا پڑا۔ اور اللہ نے ان کے کفر و طغیان کی بدولت سب عمل بیکار کردیے۔ کسی عمل نے ان کو دوسری زندگی میں فائدہ نہ پہنچایا۔
Ayah 47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا خیال رکھتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ظاہر نہ کر دے گا ان کے کینے4

4 یعنی منافقین اپنے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جو حاسدانہ عداوتیں اور کینے رکھتے ہیں، کیا یہ خیال ہے کہ وہ دلوں میں پنہاں ہی رہیں گے ؟ اللہ ان کو طشت از بام نہ کرے گا ؟ اور مسلمان ان کے مکروفریب پر مطلع نہ ہوں گے ؟ ہرگز نہیں۔ ان کا خبث باطن ضرور ظاہر ہو کر رہے گا اور ایسے امتحان کی بھٹی میں ڈالے جائیں گے جہاں کھوٹا کھرا بالکل الگ ہوجائے گا۔
Ayah 47:30

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تجھ کو دکھلاویں وہ لوگ سو تو پہچان تو چکا ہے ان کو ان کے چہرہ سے اور آگے پہچان لے گا بات کے ڈھب سے5 اور اللہ کو معلوم ہیں تمہارے سب کام6

5 یعنی اللہ چاہے تو تمام منافقین کو بٰاشخاصہم معین کر کے آپ کو دکھلا دے اور نام بنام مطلع کر دے کہ مجمع میں فلاں فلاں آدمی منافق ہیں مگر اس کی حکمت بالفعل اس دو ٹوک اظہار کو مقتضی نہیں۔ ویسے اللہ نے آپ ﷺ کو اعلیٰ درجہ کا نور فراست دیا ہے کہ ان کے چہرے بشرے سے آپ پہچان لیتے ہیں۔ اور آگے چل کر ان لوگوں کے طرز گفتگو سے آپ ﷺ کو مزید شناخت ہوجائے گی۔ کیونکہ منافق اور مخلص کی بات کا ڈھنگ الگ الگ ہوتا ہے، جو زور، شوکت، پختگی اور خلوص کا رنگ مخلص کی باتوں میں جھلکتا ہے، منافق کتنی ہی کوشش کرے اپنے کلام میں پیدا نہیں کرسکتا (تنبیہ) مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے " فَلَعَرَفْتَہُمْ " کو " لَوْنَشَآء " کے نیچے نہیں رکھا عامہ مفسرین اس کو " لَوْنَشَاء " کے تحت میں رکھ کر " لَاَرْیَنَاکَہُمْ " پر متفرع کرتے ہیں۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو تجھ کو دکھلا دیں وہ لوگ، پھر تو ان کو پہچان جائے صورت دیکھ کر۔ احقر کے خیال میں مترجم (رح) کی تفسیر زیادہ لطیف ہے۔ واللہ اعلم۔ بعض احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے بہت سے منافقین کو نام بنام پکارا اور اپنی مجلس سے اٹھا دیا۔ ممکن ہے وہ شناخت " لَحْنِ الْقَوْلِ " اور " سِیْمَا " وغیرہ سے حاصل ہوئی ہو۔ یا آیہ ہذا کے بعد حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بعض منافقین کے اسماء پر تفصیل و تعیین کے ساتھ مطلع فرما دیا ہو۔ واللہ اعلم۔ 6 یعنی بندوں سے کوئی بات چھپی رہے، ممکن ہے مگر اللہ کے علم میں تمہارے سب کام ہیں خواہ کھل کر کرو یا چھپا کر۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور البتہ ہم تم کو جانچیں گے تاکہ معلوم کرلیں جو تم میں لڑائی کرنے والے ہیں اور قائم رہنے والے7 اور تحقیق کرلیں تمہاری خبریں8

7 یعنی جہاد وغیرہ کے احکام سے آزمائش مقصود ہے۔ اسی سخت آزمائش میں کھلتا ہے کہ کون لوگ اللہ کے راستہ میں لڑنے والے اور شدید ترین امتحانات میں ثابت قدم رہنے والے ہیں اور کون ایسے نہیں۔ 8 یعنی ہر ایک کے ایمان اور اطاعت وانقیاد کا وزن معلوم ہوجائے اور سب کے اندرونی احوال کی خبریں عملاً محقق ہوجائیں۔ (تنبیہ) " حی نعلم الخ " سے جو شبہ حدوث علم کا ہوتا ہے اس کا مفصل جواب " پارہ سیقول " کے شروع (اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ) 2 ۔ البقرۃ :143) کے حواشی میں ملاحظہ کیا جائے۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے اور روکا انہوں نے اللہ کی راہ سے اور مخالف ہوگئے رسول سے بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی ان پر سیدھی راہ نہ بگاڑ سکیں گے اللہ کا کچھ اور وہ اکارت کر دے گا ان کے سب کام9

9 یعنی اپنا ہی نقصان کرتے ہیں، اللہ کا کیا نقصان ہے۔ نہ اس کے دین اور پیغمبر کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ وہ قدرت والا ان کے سارے منصوبے غلط اور تمام کام اکارت کر دے گا اور سب کوششیں خاک میں ملا دے گا۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والو حکم پر چلو اللہ کے اور حکم پر چلو رسول کے اور ضائع مت کرو اپنے کیے ہوئے کام10

10 یعنی جہاد، یا اللہ کی راہ میں اور کوئی محنت و ریاضت کرنا اس وقت مقبول ہے جب اللہ و رسول کے حکم کے موافق ہو۔ محض اپنی طبیعت کے شوق یا نفس کی خواہش پر کام نہ کرو۔ ورنہ ایسا عمل یوں ہی بیکار ضائع جائے گا۔ مسلمان کا کام نہیں کہ جو نیک کام کرچکا یا کر رہا ہے اس کو کسی صورت سے ضائع ہونے دے۔ نیک کام کو نہ بیچ میں چھوڑو، نہ ریاء و نمود اور اعجاب و غرور وغیرہ سے ان کو برباد کرو۔ بھلا ارتداد کا تو ذکر کیا ہے جو ایک دم تمام اعمال کو حبط کردیتا ہے۔ العیاذ باللہ
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے اور روکا لوگوں کو اللہ کی راہ سے پر مرگئے اور وہ منکر ہی رہے تو ہرگز نہ بخشے گا ان کو اللہ11

1 یعنی کسی کافر کی اللہ کے ہاں بخشش نہیں۔ خصوصاً ان کافروں کی جو دوسروں کو خدا کے راستہ سے روکنے میں لگے ہوئے ہیں۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

سو تم بودے نہ ہوئے جاؤ اور لگو پکارنے صلح1 اور تم ہی رہو گے غالب اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور نقصان نہ دے گا تم کو تمہارے کاموں میں2

1 یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار کے مقابلہ میں سست اور کم ہمت نہ بنیں اور جنگ کی سخیتوں سے گھبرا کر صلح کی طرف نہ دوڑیں۔ ورنہ دشمن شیر ہو کر دباتے چلے جائیں گے اور جماعت اسلام کو مغلوب و رسوا ہونا پڑے گا۔ ہاں کسی وقت اسلام کی مصلحت اور اہل اسلام کی بھلائی صلح میں نظر آئے تو اس وقت صلح کرلینے میں مضائقہ نہیں جیسا کہ آگے سورة " فتح " میں آتا ہے۔ بہرحال صلح کی بناء پر اپنی کم بختی اور نامردی پر نہ ہونی چاہیے۔ 2 یعنی گھبرانے کی کچھ بات نہیں، اگر صبرو استقلال دکھاؤ گے اور خدا کے احکام پر ثابت قدم رہو گے تو خدا تمہارے ساتھ ہے وہ تم کو آخرکار غالب کرے گا اور کسی حالت میں بھی تم کو نقصان اور گھاٹے میں نہ رہنے دے گا۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

یہ دنیا کا جینا تو کھیل ہے اور تماشا اور اگر تم یقین لاؤ گے اور بچ کر چلو گے، دے گا تم کو تمہارا بدلہ اور نہ مانگے گا تم سے مال تمہارے3

3 یعنی آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت ایک کھیل تماشا جیسی ہے۔ اگر تم ایمان وتقویٰ اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشہ سے ذرا بچ کر چلو گے تو اللہ تم کو اس کا پورا بدلہ دے گا اور تمہارا مال بھی تم سے طلب نہیں کرے گا۔ اسے کیا حاجت ہے۔ وہ تو خود دینے والا ہے کما قال (مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ 57؀ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ 58؀) 51 ۔ الذاریات :58-57) اگر طلب بھی کرے تو مالک حقیقی وہ ہے تمام مال اس کا ہے۔ مگر اس کے باوجود دین کے معاملہ میں جب خرچ کرنے کو کہتا ہے تو سارے مال کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ایک تھوڑا سا حصہ طلب کیا جاتا ہے۔ وہ بھی اپنے لیے نہیں بلکہ تمہارے فائدہ کو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " حق تعالیٰ نے ملک فتح کرا دیے مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن (اپنی گرہ سے) پیسہ خرچ کرنا پڑا۔ پھر جتنا خرچ کیا تھا اس سے سو گنا ہاتھ لگا۔ اس مطلب سے (قرآن کریم میں کئی جگہ) فرمایا ہے کہ اللہ کو قرض دو ۔ "
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر مانگے تم سے وہ مال پھر تم کو تنگ کرے تو بخل کرنے لگو اور ظاہر کر دے تمہارے دل کی خفگیاں4

4 یعنی اگر اللہ تعالیٰ سختی کے ساتھ کل مال طلب کرنے لگے جو تم کو دے رکھا ہے تو کتنے مردان خدا ہیں جو کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر تو وہی ہوں گے جو بخل اور تنگدلی کا ثبوت دیں گے مال خرچ کرنے کے وقت ان کے دل کی خفگی باہر ظاہر ہوجائے گی۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

سنتے ہو تم لوگ تم کو بلاتے ہیں کہ خرچ کرو اللہ کی راہ میں5 پھر تم میں کوئی ایسا ہے کہ نہیں دیتا اور جو کوئی نہ دے گا سو نہ دے گا آپ کو6 اور اللہ بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو7 اور اگر تم پھر جاؤ گے تو بدل لے گا اور لوگ تمہارے سوا پھر وہ نہ ہوں گے تمہاری طرح کے8

5 یعنی ایک حصہ خدا کے دیے ہوئے مال کا اس کے راستہ میں اپنے نفع کی خاطر۔ 6 یعنی تمہارا دینا خود اپنے فائدہ کے لیے ہے۔ نہ دو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ اللہ کو تمہارے دینے نہ دینے کی کیا پروا۔ 7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ یعنی " مال خرچ کرنے کی جو تاکید سنتے ہو یہ نہ سمجھو کہ اللہ یا اس کا رسول مانگتا ہے۔ نہیں یہ تمہارے بھلے کو فرماتا ہے۔ پھر ایک کے ہزار ہزا رپاؤ گے۔ ورنہ اللہ کو اور اس کے رسول کو کیا پروا ہے۔ 9 یعنی اللہ تعالیٰ جس حکمت و مصلحت سے بندوں کو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس کا حاصل ہونا کچھ تم پر منحصر نہیں۔ فرض کیجیے تم اگر بخل کرو اور اس کے حکم سے روگردانی کرو گے وہ تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم کھڑی کر دے گا۔ جو تمہاری طرح بخیل نہ ہوگی بلکہ نہایت فراخ دلی سے اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی راہ میں خرچ کرے گی۔ بہرکیف اللہ کی حکمت و مصلحت تو پوری ہو کر رہے گی۔ ہاں تم اس سعادت سے محروم ہوجاؤ گے۔ حدیث میں ہے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ دوسری قوم کون ہے جس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی ؓ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا " اس کی قوم " اور فرمایا " خدا کی قسم اگر ایمان ثریا پر جا پہنچے تو فارس کے لوگ وہاں سے بھی اس کو اتار لائیں گے۔ " الحمد للہ صحابہ رضوان اللہ عنہم نے اس بینظیر ایثار اور جوش ایمانی کا ثبوت دیا کہ ان کی جگہ دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی۔ تاہم فارس والوں نے اسلام میں داخل ہو کر علم اور ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور ایسی زبردست دینی خدمات انجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص کو ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ بیشک حضور ﷺ کی پیشین گوئی کے موافق یہ ہی قوم تھی جو بوقت ضرورت عرب کی جگہ پر کرسکتی تھی۔ ہزارہا علماء و آئمہ سے قطع نظر کر کے تنہا امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا وجود ہی اس پیشین گوئی کے صدق پر کافی شہادت ہے۔ بلکہ اس بشارت عظمیٰ کا کامل اور اولین مصداق امام صاحب ہی ہیں۔ ؓ وارضاء۔ تم سورة " محمد ﷺ بتوفیقہ واعانتہ فللّٰہ الحمد والمنۃ۔ "