Ayah 47:1حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد اہل مکہ ہیں (2) جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اور مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے دین سے روکا وہ دین اسلام ہے وہ مومنوں کو اس دین میں داخل ہونے سے روکا کرتے تھے (3) یہ سدی کا قول ہے : ضحاک نے کہا : سے مراد عن بیت اللہ جو بیت اللہ شریف کا قصد کرتے وہ انہیں روکتے۔ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی ان مکروفریب کو باطل کردیا (4) جو وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کا وبال ان پر ڈال دیا : یہ ضحاک کا نقطہ نظر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے انہوں وں نے حالت کفر میں جو اعمال کئے جنہیں وہ مکارم کا نام دیتے تھے جیسے صلہ رحمی، قیدیوں کو آزاد کرنا، مہمانوں کی خدمت کرنا، پڑوسیوں کی حفاظت کرنا ان سب کو باطل کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت بدر میں کھانا کھلانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی (5) وہ کل بارہ افراد تھے ابو جہل، حارث بن ہشام، عتبہ، شبہ جو دونوں بیٹے ربیعہ کے بیٹھے تھے ابی، امیہ جو خلف کے بیٹے تھے منبہ، نبیہ جو حجاج کے بیٹے تھے۔ ابو الحشری بن ہشام، زمعہ بن اسود، حکیم بن خدام او حارث بن نوفل۔
Ayah 47:2حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد انصار ہیں مقاتل نے کہا : یہ قریش کے چند افراد کے حق میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دونوں مومنوں اور کافروں کے بارے میں عام ہیں : کا معنی ہے ان کو باطل کردیا ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں ہدایت پانے سے گمراہ کردیا اس کی صورت یہ تھی کہ انہیں توفیق دینے سے پھر دیا۔ جس نے کہا : اس کا مصداق انصار ہیں اس نے صالحات سے مراد ان کو گھر دینے اور مال دینے میں ان کے ساتھ ہمدردی کرنا لیا ہے۔ جس نے کہا : مراد قریش ہیں تو عمل صالح سے مراد ہجرت ہے۔ جس نے کہا : یہاں عام مراد ہے تو صحالات سے مراد تمام وہ اعمال ہیں جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔
یعنی حضرت محمد ﷺ پر جو کچھ نازل کیا گیا اس کے ساتھ کسی چیز میں مخالف نہیں کی، یہ سفیان ثوری کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت محمد ﷺ جو لائے اس کے بارے میں آپ کی تصدیق کی۔
اس سے مراد ان کا ایمان ہی ان کے رب کی جانب سے حق تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قرآن ان کے رب کی جانب سے حق ہے جو اس سے قبل وحی آئی تھی اسے منسوخ کردیا۔ مراد وہ سیآت ہیں جو ایمان لانے سے پہلے انہوں نے کی تھیں ان کو اس نے معاف کردیا ان کے عمل کو درست کردیا، یہ مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے قتادہ نے کہا : ان کے حال کو درست کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کے امور کو درست کردیا تینوں کا معنی قریب قریب ہے۔ اس کی یہ تاویل بھی کی گئی ہے جو امور ان کی دنیا سے متعلق ہیں ان کو درست کردیا نقاش نے یہ حکایت بیان کی ہے کہ معنی ہے ان کی نیتوں کو درست کردیا۔ شاعر نے کہا :
یہ اس تاویل کی بناء پر ان کے دین کی اصلاح پر محمول ہوگا۔ بال مصدر کی طرح ہے اس کا فعل معروف نہیں ضرورت شعری کے سوا عرب اس سے جمع کا صیغہ نہیں لاتے مگر ضرورت شعری میں ایسا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں بالات، مبرو نے کہا : بعض اوقات بال کسی اور جگہ قلب کے معنی میں ہوتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے فلاں میرے دل پر نہیں کھٹکتا ہے۔ جوہری نے کہا : بال کا معنی نفس کی فارغ البالی ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے فارغ البال ہے بال کا معنی حال ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے تیرا کیا حال ہے ان کا قول ہے یہ وہ چیز نہیں جس کی میں پروا کرتا ہوں بال سے مراد سمندر کی مچھلیاں میں سے بڑی مچھلی ہے یہ عربی لفظ نہیں بالہ خوشبو والے برتن کو کہتے ہیں یہ فارسی سے معرب ہے فارسی زبان میں یہ اصل میں بیلہ تھا۔ ابوذئویب نے کہا :
Ayah 47:3اسم اشاریہ محل رفع میں ہے یعنی معاملہ اس طرح ہے یا تقدیر کلام یہ ہوگی، جن دونوں کا ذکر گزر چکا ہے اس کا سبب یہ ہے کافر نے باطل کی پیروی کی اور مومن نے حق کی پیروی کی۔ باطل سے مراد شرک اور حق سے مراد توحید و ایمان ہے۔ یعنی اس بیان کی طرح جس کی وضاحت کی گئی ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے نیکیوں اور برائیوں کے معاملہ کی وضاحت کرتا ہے میں جو ضمیر ہے کی طرف لوٹ رہی ہے۔
Ayah 47:4اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جب دونوں فریقوں کو الگ الگ کرلیا تو کفار کے ساتھ جہاد کا حکمدیا : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کفار سے مراد مشرک ہیں جو بتوں کے پجاری تھے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد ہر وہ فرد ہے جو دین کا مخالف ہے وہ مشرک ہو یا کتابی ہو جبکہ اس کا کوئی عہد و پیمان نہ ہو، یہ ماوردی نے ذکر کیا اور ابن عربی نے اسے پسند کیا ہے اورز کہا : عموم آیت کی وجہ سے یہی صحیح ہے (1) مفعول مطلق ہے۔
زجاج نے کہا : رقاب کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ قتل عموماً اسی کے ذریعے ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ یہ اغراء کی وجہ سے منصوب ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہ کلام اس طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : صبرا ایک قول یہ کیا گیا ہے تقدیر کلام الرقاب ہے ارشاد فرمایا : یہ نہیں کیونکہ قتل کے لفظ کے بجائے ضرب رقاب میں سختی کا معنی پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں خوفناک ترین صورت میں اس کے قتل کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ اس کی گردن کا کانٹا اور ایسے عضو کو اڑانا ہے جو بدن کا سردار، اس کا بلند حصہ اور وجیہ ترین عضو ہے۔
مسئلہ نمبر 2:
یعنی جب تم قتل کا عمل زیادہ کر چکو۔ سورة انفال میں یہ بحث میں گزر چکی ہے۔ یعنی جب تم قیدی بنا چکو۔ ایثاق کا اسم ہے بعض اوقات یہ مصدر سے ہوتا ہے یہ کہا جاتا ہے : جہاں تک وثاق کا تعلق ہے تو یہ اس چیز کو کہتے ہیں ہیں جس کے ساتھ کسی چیز کو باندھا جاتا ہے جس طرح رباط یہ قشیری کا نقطہ نظر ہے جوہری نے کہا : یعنی اسے باندھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وثاق وائو کے کسرہ کے ساتھ، اس میں یہ لغت ہے۔ باندھنے کا حکم اس لئے دیا تاکہ وہ کھسک ہی نہ جائیں۔
یعنی یا تو بغیر فدیہ کے مطلق ان پر احسان کیا جائے فدیہ لے کر انہیں آزاد کیا جائے۔ ان دونوں کو فعل مضمر کے ساتھ نصب دی گئی ہے۔ مقصورہ کی صورت میں فاء کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی بعض علماء سے یہ مروی ہے کہ میں حجاج کے پاس کھڑا تھا جب عبدالرحمن بن اشعث کے ساتھی اس کے پاس لائے گئے ان کی تعداد چار ہزار آٹھ سو تھی اس نے تین ہزار کے قریب افراد کو قتل کردیا یہاں تک کہ کندہ قبیلہ کا ایک آدمی اس کے پاس آیا اس نے کہا : اے حجاج : تو سنت اور کرم سے اعراض کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے بھلائی کے ساتھ بدلہ نہیں دے گا۔ اس نے پوچھا : یہ کیوں ؟ اس آدمی نے کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے کفر کیا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! نہ تو نے احسان کیا اور نہ ہی فدیہ لیا تمہارے شاعر نے کہا : جبکہ وہ تمہارے مکارم صدق کا وصف بیان کرتا ہے۔
نہ ہم قیدیوں کو قتل کرتے ہیں اور نہ ہی ہم انہیں چھڑاتے ہیں جب چٹیوں کے بوجھ گردنوں کو بوجھل کردیں۔
حجاج نے کہا : ان مردہ لاشوں پر افسوس : کیا ان میں کوئی بھی ایسا شخص نہ تھا جو اس قسم کے کلام اچھے انداز میں کرتا۔ جو لوگ بچ گئے ہیں ان کو آزاد کر دو ۔ اس روز باقی قیدیوں کو آزاد کردیا گیا۔ اس آدمی کے بقول دو ہزار تھے۔
مسئلہ نمبر 3: علماء نے اس آیت کی تاویل میں اختلاف کیا ہے اور پانچ اقوال ذکر کئے ہیں۔
1 ۔ یہ منسوخ ہے، یہ بتوں کے پچاریوں کے بارے میں ہے ان سے فدیہ لینا اور ان پر احسان کرنا جائز نہیں ان کے نزدیک اس کا ناسخ اللہ تعالیت کا فرمان ہے (التوبۃ 5) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الانفال 57) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (التوبہ 36) ۔ یہ قتادہ، ضحاک، سعدی، ابن جریج اور عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ کوفہ کے بہت سے علماء نے یہی بات کہی ہے۔ عبدالکریم جوزی نے کہا : حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف ایک کے بارے میں خط لکھا گیا جو قید کیا گیا تھا (1) انہوں نے یہ ذکر کیا کہ اس نے اتنے اتنے فدیہ کے بدلے میں جاں بخشی کی التماس کی ہے : فرمایا : اسے قتل کردو ایک مشرک آدمی کا قتل مجھے اتنے اتنے مال کی بنسبت زیادہ محبوب ہے۔
2 ۔ یہ تمام کفار کے بارے میں ہے علماء اور اہل نظر کی ایک جماعت کے قول کے مطابق یہ منسوخ ہے ان میں قتادہ اور مجاہد بھی ہیں انہوں نے کہا : جب مشرک قید کیا جائے تو اس پر احسان کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس سے شرط پر فدیہ لینا جائز ہے کہ اسے واپس مشرکوں کے حوالے کردیا جائے گا۔ ان کے نزدیک صرف عورت کا فدیہ لینا جائز ہے کیونکہ اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس آیت کی ناسخ آیت (التوبہ 5) ہے کیونکہ سورة برأت سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ ضروری ہے کہ مشرک کو قتل کردیا جائے مگر جس کے قتل کو ترک کرنے میں دلیل قائم ہو جس طرح عورتیں، بچے اور جن سے فدیہ لیا جاتا ہے امام ابوحنیفہ کا مشہور مذہب بھی یہی ہے۔ وجہ یہ خوف ہے کہ دوبارہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوجائیں۔
عبدالرزاق معمر سے وہ قتادہ سے روایت نقل کرتے کرتے ہیں (الانفال 57) ۔ نے منسوخ کردیا۔ مجاہد نے کہا : (التوبہ 5) نے منسوخ کیا ہے یہ حکم کا قول ہے۔
3 ۔ یہ آیت ناسخ ہے، یہ ضحاک اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ثوری نے جو بیر سے وہ ضحاک سے روایت نقل کرتے ہیں (التوبہ 5) نے منسوخ کردیا ہے۔ ابن مبارک نے ابن جریج سے وہ عطا سے روایت نقل کرتے ہیں مشرک کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس پر احسان کیا جائے گا اور اس سے جذیہ لیا جائے گا (2) جس طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اشعث نے کہا : حضرت حسن بصری قیدی کو قتل کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور یہ آیت پڑھا کرتے تھے حضرت حسن بصری نے یہ بھی کہا آیت میں تقدیم و تاخیر ہے گویا فرمایا : پھر فرمایا : اور اس نے یہ گمان کیا کہ امام کو حق حاصل نہیں کہ جب قیدی اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے قتل کرے لیکن اسے تین چیزوں میں اختیار ہے۔
1 ۔ اس پر احسان کرے۔ 2 ۔ اس سے فدیہ لے۔ 3 ۔ اس کو غلام بنا لے۔
4 ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے : فدیہ اور قید کرنا نہیں مگر جب تلوار سے بہت زیادہ افراد کو قتل کیا جا چکا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الانفا 67) جب اس کے بعد قیدی بنائے جائیں تو امام کو حق حاصل ہے کہ جو اس کی رائے ہو اس پر عمل کرے خواہ وہ قتل کرے یا کوئی اور معاملہ کرے۔
5 ۔ آیت محکم ہے امام کو ہر حال میں اختیار ہے، اسے علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ قول کثیر علماء نے کیا ہے ان میں حضر ابن عمر، حضرت حسن بصری، عطا ہیں، یہی امام مالک، امام شافعی، ثوری، اوزاعی، ابو عبید وغیرہ کا قول ہے یہی پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ او خلفاء راشدین نے یہ کہا ہے ؎ نبی کریم ﷺ نے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو غزوہ بدر کے موقع پر انتقام کے طور پر قتل کیا تھا اور باقی بدر کے قیدیوں سے فدیہ لیا تھا۔ ثمامہ بن اثال حنفی جبکہ وہ آپ کے پاس قیدی تھا پر احسان کیا تھا، سلمہ بن اکوع سے لونڈی لی تھی اور اس کے ساتھ مسلمانوں کے بہت سے لوگوں کا فدیہ دیا تھا اہل مکہ میں سکچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے انہیں پکڑ لیا تھا اور ان پر احسان کیا تھا، آپ نے ہوازن کے قیدیوں پر احسان کیا تھا یہ سب صحیح میں ثابت ہے اور یہ سب باتیں سورة الانفال میں گزر چکی ہیں۔ نحاس نے کہا، یہ تعبیر اس شرط پر ہے کہ یہ دونوں آیتیں محکم ہیں ان دونوں پر عمل کیا جاتا ہے وہ حضرت حسن بصری کا قول ہے کیونکہ نسخ قطعی امر کے لئے ہوتا ہے جب دونوں آیتوں پر عمل کرنا ممکن ہو تو نسخ کے قول کا کوئی معنی نہیں جب یہ جائز ہے کہ اس حکم پر عمل کیا جائے جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہو تو ہم ان کو قتل کریں جب قیدی بنایا جائے تو قتل کرنا غلام بنانا فدیدہ دینا او احسان کرنا بھی جائز ہوگا جس میں مسلمانوں کے لئے خیر کا پہلو موجود ہو یہ قول اہل مادینہ امام شافعی اور ابوعبید سے مروی ہے امام طاحاوی نے ایک رائے امام اعظم ابوحنیفہ سے بھی یہی بیان کی ہے مشہور وہ ہے جو ہم نے پہلے ذکر کی ہے
مسئلہ نمبر 4:
مجاہد اور ابن جبیر نے کہا : اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تشریف لانا ہے (1) مجاہد سے یہ بھی مروی ہے معنی ہے کوئی دین نہیں ہے مگر دین اسلام ہر یہودی، ہر نصرانی اور ہر ملت والا اسلام قبول کرے اور بکری بھیڑیے سے بےخوف ہوجائے اسی کی مثل حضرت حسن بصری، فراء اور کسائی سے قول مروی ہے۔ کسائی نے کہا : یہاں تک کہ مخلوق مسلمان ہوجائے فراء نے کہا : یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں او کفرنا پید ہوجائے کلبی نے کہا : یہاں تک کہ اسلام تمام دیان پر غالب آجائے (2) حضرت حسن بصری نے کہا : یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ ی ذات کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اوزار کا معنی اسلحہ ہے : معنی ہے رسیاں باندھ دو یہاں تک کہ تم امن میں ہو جائو اور تم اسلحہ رکھ دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے یہاں تک کہ نگ ختم ہوجائے یعنی وہ دشمن جو برسرپیکار تھے وہ اپنے اوازار رکھ دیں اوزار سے مراد ان کا اسلحہ ہے یعنی شکست کھا جائیں یا جنگ کو ترک کردیں اور خچروں کو بھی اوازرکہتے ہیں اعشی نے کہا :
میں نے جنگ کے لئے خچروں کو تیار کیا ہے لمبے نیزے اور مذکر گھوڑے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : کا معنی ہے یہاں تک وہ اپنے بوجھ رکھ دے اوزار کا معنی بوجھ ہے اسی معنی میں وزیر الملک ہے کیونکہ وہ بادشاہ کی جانب سے بوجھ اٹھاتا ہے۔ اثقالھا سے مراد اسلحہ ہے کیونکہ اس کا بوجھ بڑا وزنی ہوتا ہے ابن عربی نے کہا : حضرت حسن بصری اور عطا نے کہا آیت میں تقدیم و تاخیر ہے، معنی ہے گردنیں اڑا ائو یہاں تک کہ جنگ پر اپنا بوجھ اتار دے جب تم ان کو کثرت سے قتل کر چکو تو رسیوں کو مضبوطی سے باندھو۔ امام کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسیر کو قتل کرے حجاج سے مروی ہے کہ اس نے ایک قیدی حضرت عبداللہ بن عمر کے حوالے کیا تاکہ آپ سے قتل کریں۔ تو آپ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور کہا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم نہیں دیا اور یہ آیت پڑھی ہم نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا اور اس پر عمل بھی کیا احسان کرنے اور فدیہ لینے کی وضاحت میں کسی غیر کے منع کرنے ا ذکر نہیں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بارے میں کوڑے مارنے کا حکم دیا اور نبی کریم ﷺ نے رجم کا حکم دیا حضرت ابن عمر ؓ نے شاید حجاج کے ہاتھ سے قیدی لے کر قتل کرنے کو مکروہ جانا اور اس نے جو کہا تھا اس سے معذرت کرلی تیرا رب خوب جانتا ہے۔
محل رفع میں ہے جس طرح پہلے گزر چکا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اس معنی کی بناء پر منصوب ہے یہ بھی جائز ہے کہ مبتدا ہو معنی ہے یہ کفار کا حکم ہے یہ ایسا کلمہ ہے جسے فصیح اس وقت استعمال کرتا ہے جب وہ ایک کلام سے دوسری کلام کی طرف نکلتا ہے وہ اس طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (ص) یعنی یہ حق ہے اور میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ ظالموں کے لئے یہ انجام ہے کا معنی ہے انہیں جنگ کے بغیر ہلاک کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہیں فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ ہلاک کردے گا۔
یعنی تمہیں جنگ کا حکم دیا تاکہ وہ آزمائے اور تم میں سے بعض کو بعض کے ساتھ امتحان میں ڈالے تو وہ مجاہدین اور صبر کرنے والوں سے آگاہ ہوجائے جس طرح اس سورت میں ہے۔
اس سے مراد غزوہ حد میں شہید ہونے والے مومن ہیں یہ ابو عبید کا اختیار ہے۔ ابو عمرو اور حفص نے قاف کے ضمہ اور تاء کے کسرہ کے ساتھ قرأت کی ہے حضرت حسن بصری کی قرأت اس طرح ہے کہ مگر انہوں نے تاء کو مشدد پڑھا ہے تاکہ کثرت کے معنی پر دلالت کرے۔
حجدری، عیسیٰ بن عمر اور ابو حیوہ نے الف کے بغیر پڑھا ہے۔ مراد ہے جنہوں نے مشرکوں کو قتل کیا۔ قتادہ نے لکھا، ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ ایک گھاٹی میں موجود تھے۔
صحابہ کرام میں زخمی اور شہادت کا عمل بہت ہوچکا تھا مشرکوں نے اعلان کیا : اہل ھبل مسلمانوں نے نعرہ لگایا : اللہ اعلی داجل : مشرکوں نے کہا : یہ دن بعد کے دن کے مقابل ہے اور جنگ میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے مومنو ! تم کہو کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتول اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں انہیں رزق دیا جائے گا اور تمہارے مقتول آگ میں ہیں انہیں عذاب دیا جاتا ہے “ مشرکوں نے کہا : ہمارا عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں (1) مسلمانوں نے کہا : اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔ اس کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
Ayah 47:5قشیری نے کہا : ابو عمرو کی قرأت قتلوا بڑی بعید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : مقتول کی یہ صفت نہیں ذکر کی جاتی۔ دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے عنقریب وہ انہیں جنت کی طرف لے جائے گا ان میں جو باقی ہیں انہیں ہدایت عطا فرما دے گا۔ ابن زیاد نے کہا : وہ قبر میں منکر و نکیر کے ساتھ دلیل قائم کرنے میں ان کی رہنمائی کرے گا (2) ابو المعالی نے کہا : بعض اوقات ہدایت کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد مومنوں کو جنت کے راستوں کی طرف مجاہدین کی صفت میں ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (فالصافات 23) اس کا معنی ہے انہیں اس کی طرف تم لے جائو۔
Ayah 47:6جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں کہا جائے گا : اپنے اپنے گھروں میں چلے جائو تو وہ اپنے گھروں کو ان جمعہ پڑھنے والوں سے زیادہ جانتے ہوں گے جب وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹتے ہیں، یہ معنی مجاہد اور اکثر مفسرین نے بیان کیا ہے بخاری شریف میں ایسی حدیث موجود ہے جو اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے جو حضرت ابو سعید خدرزی ؓ سے مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومنوں کو جہنم سے چھٹکارا دیا جائے گا تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان پل پر روک لیا جائے گا تو ان میں سے بعض کے بعض پر مظالم کو بیان کیا جائے گا جو ان کے دمیان ہوئے تھے یہاں تک کہ جب انہیں پاک صاف کردیا جائے گا تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی (3) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے ان میں سے ایک جنت میں اپنے گھر کے بارے میں دنیا میں اپنے گھر سے زیادہ آگاہ ہوگا۔ ای قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ ان کے لئے بیان کرے گا یہاں تک کہ وہ بغیر رہنمائی طلب کئے اس کو پہچان لیں گے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے دنیا میں جنت کی صفت بیان کی جب وہ اس میں داخل ہوئے تو وہ اس کی صفت سے اسے پہچان گئے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں حذف ہے، تقدیر کلام یہ ہے تو مضاف کو حذف کردیا گیا ایک پہچان رہنمائی کی صورت میں ہوئی یعنی جو فرشتہ جو بندے کے عمل پر مقرر تھا وہ اس بندے کے سامنے چلے گا اور بندہ اس کے پیچھے پیچھے چلے گا یہاں تک کہ بندہ اپنے مکان تک پہنچ جائے گا فرشتہ ان تمام چیزوں کا اسے تعارف کروائے گا جو اس کے لئے جنت میں تیار کی گئیں حضرت ابو سعید خدری سے مروی روایت اس کا رد کرتی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جنتیوں کے لئے مختلف قسم کی لذتوں کے ساتھ انہیں خوشبو دار بنا دے گا یہ عرف سے ماخوذ ہے اس سے مراد پاکیزہ خوشبو ہے۔ طعامہ معروف خوشبودار کھانا۔ عرب کہتے ہیں، یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو اس میں نمک اور مصالحہ جات ڈال کر مزے دار بنا دے۔ شاعر ایک آدمی سے خطاب کرتا ہے اور اس کی مدح بیان کرتا ہے۔
وہ اسے کہتا ہے اس سے مراد بقیر اور بقیرۃ ہے یہ ایسی قیمص ہوتی ہے جس کی آستین نہیں ہوتی جسے عورتیں پہنتی ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا منی ہے کھانے کے زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے ایک دوسرے کے اوپر رکھنا یہ جملہ کہا جاتا ہے حریر معرف یعنی اس کا بعض بعض پر ہے۔ یہ عرف متابرع سے مشتق ہے جس طرح گھوڑے کی گردن پر بال ہوتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یعنی طاعت کی توفیق دی یہاں تک وہ جنت کے مستحق بن گئے ایک قول یہ کیا گیا ہے اہل آسمان کو بتایا کہ یہ جنت ان کے لئے ہے مقصد ان کی کرامت کا اظہار تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے اطاعت شعاروں کو پہچان کرائی کہ یہ جنت ان کے لئے ہے۔
Ayah 47:7اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو گے تو کفار کے خلاف اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الحج 40) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ قطرب نے کہا : اگر تم اللہ کے نبی کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تماری مدد فرمائے گا۔ معنی ایک ہی ہے۔
یعنی جنگ کے وقت تمہیں ثابت قدم رکھتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسلام پر ثابت قدم رکھتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے پل صراط پر تمہیں ثابت قدم رکھتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد ہے امن دے کر دلوں کو ثابت رکھتا ہے تو ثابت قدمی سے مراد جنگ کے وقت مدد کرنا ہے سورة الانفال میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ وہاں ہی فرمایا : ا (الانفال 12) وہاں واسطہ کو ثابت رکھا اور یہاں اس کی نفی کردی جس طرح اس آیت میں ملائیکہ کو ثابت رکھنا (السجدۃ 11) پھر اس قول میں اس کی نفی کردی (الروم 40) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : المک 2) اس کی مثالیں ہی۔ شمار ہیں فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
Ayah 47:8مبتدا ہونے کی حیثیت میں رفع کا تقاضا کرتا ہے اور نصب اس وجہ سے جو اس کی تفسیر کررہا ہے یعنی گویا فرمایا : یہ بددعا کے طریقہ پر مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے یہ فراء کا قول ہے جس طرح یہ کلام لعالہ کی ضد ہے کیونکہ دعائیہ کلمہ ہے اعشی نے کہا : (1)
میرا اس کے حق لعا کہنا اولی تعس کہنے سے بہتر ہے۔
اس میں دس اقوال ہیں : 1 ۔ اس کا معنی ہے بعدالھۃ 2 ۔ یہ حضرت ابن عباس اور ابن جریج کا قول ہے 2 ۔ (3) یہ سدی کا قول ہے 3 ۔ شقالھم (4) یہ ابن زید کا قول ہے 4 ۔ شتالھم من اللہ (5) یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ 5 ھلاکا لھم (6) یہ ثعلب کا قول ہے۔ 6 خیبۃ لھم 7 ۔ یہ ضحاک اور ابن زید کا قول ہے۔ 7 ۔ قبعالھم (8) یہ نقاش نے بیان کیا ہے 8 ۔ رغمالھم (9) یہ بھی ضحاک کا قول ہے۔ 9 شزالھم، یہ بھی ثعلب کا قول ہے 10 ۔ شقود لھم، ابو العالیہ کا قول ہے۔ سب میں بددعا کا معنی پایا جاتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : تعس سے مراد انحطاط (10) (گرنا) اور لغزش کھانا ہے۔ ابن سکیت نے کہا : تعس کا معنی ہے منہ کے بل گرنا۔ نکس کا معنی ہے سر کے بل گرنا (11) کہا تعس کا معنی ہلاک ہونا ہے۔ جوہری نے کہا : اس کا اصل معنی منہ کے بل گرنا۔ یہ اتعاش (گرنے کے بعد اٹھنا) کی ضد ہے۔ مجمع بن ہلال نے کہا :
یہ جملہ کہا جاتا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان پر ہلاکت کو لازم کردیا۔ قشیری نے کہا : ایک قوم نے تعس کو جائز قرار دیا ہے۔
میں کہتا ہوں : اسی معنی میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دینار، درہم، وثار (بڑی چادر جو پورے جسم کو ڈھانپ لے) اور سیاہ مربع چادر کا غلام ہلاک ہوگیا، اگر اسے عطا کیا جائے تو راضی ہوجاتا ہے اور اگر اسے نہ دیا جائے تو ناراض ہوجاتا ہے “ (1) اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے اس حدیث کی بعض اسناد میں یوں مروی ہے (2) اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے سب میں بد دعا کا معنی پایا جاتا ہے۔
ان کے اعمال کو باطل کردیا گیا کیونکہ وہ شیطان کی طاقت میں تھے میں فاء داخل ہوتی ہے اس ابہام کی وجہ سے جو الذین میں ہے جملہ خبر یہ ہے الذین کے لفظ پر محمول ہے کیونکہ یہ لفظ کے اعتبار سے خبر ہے فاء کا دخول معنی کے اعتبار سے ہے اور اضل لفظ پر محمول کرتے ہوئے ذکر کیا ہے۔
Ayah 47:9سے مراد کتب اور شرائع ہیں۔ ان کے لئے بھلائی کی جو صورتیں موجود تھیں جس طرح بیت اللہ شریف کی آبادی، مہمان نوازی، قربانی کی مختلف صورتیں۔ اللہ تعالیٰ مومن کے علاوہ کسی کا عمل قبول نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال یعنی بتوں کی عبادت کو برباد کردیا۔
Ayah 47:10اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کے احوال کو بیان کیا تاکہ ایمان کے وجوب پر آگاہی ہو پھر اس امر کو نظر و فکر کے ساتھ ملایا کیا یہ لوگ عاد، ثمود، وغیرہ کے علاقوں میں نہیں گھومے پھرے تاکہ ان سے عبرت حاصل کریں اور اپنے دلوں سے غوروفکر کریں تاکہ ان سے قبل جو کافر ہوئے ہیں ان کا انجام کیسے ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا اور ان کو جڑ سے اکھیڑ دیا یہ جملہ کہا جاتا ہے دونوں کا معنی ایک ہی ہے پھر مشرکین مکہ کو دھمکی دی فرمایا : کافروں کے لئے اسی کی مثل ہے یعنی ان کے لئے بھی اسی کی مثل بربادی ہوگی زجاج اور طبری نے کہا : ھاء ضمیر عاقبۃ کی طرف لوٹ رہی ہے قریش کے کافروں کے لئے ایسا ہی انجام ہوگا جیسا انجام ان لوگوں کا ہوا جو سابقہ امتوں میں سے تھے جنہوں نے جٹھلایا اگر یہ کفار قریش ایمان نہ لائے۔ (3)
Ayah 47:11یعنی اللہ تعالیٰ ان کا ولی اور مددگار ہوگا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت وہی ہے مولیٰ سے یہاں مراد مددگار ہے یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ شاعر نے کہا :
وہ گائے دونوں کھلے میدانوں کو گمان کرتی ہے کہ وہ آگے سے اور پیچھے سے خوف کی جگہ ہے۔
قتادہ نے کہا : یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر نازل کی گئی جبکہ نبی کریم ﷺ ایک گھاٹی میں تھے جب مشرکوں نے یہ نعرہ لگایا تھا دن دن کے مقابلہ میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : :” تم کہو اللہ ہمارا آقا ہے اور تمہارا کوئی آقا نہیں “ (1) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
اور کافروں کا کوئی مددگار نہیں جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی مدد کرے۔
Ayah 47:12اس آیت کی وضاحت کئی مواقع پر گزر چکی ہے جنہوں نے کفر کیا وہ دنیا میں لطف اندوز ہوں گے یا وہ چوپائے ہیں ان کے لئے کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی مگر ان کے پیٹ اور ان کی شرمگاہیں وہ آنے والے دن میں جو کچھ ہونے والا ہے اس سے غافل ہیں
ایک قول کیا گیا ہے : مومن دنیا میں زادراہ پر اکتفا کرتا ہے منافق زیب وزینت کرتا ہے اور کافر لطف اندوز ہوتا ہے۔ آگ ہی ان کا ٹھکانہ اور منزل ہے۔
Ayah 47:13ان کے بارے میں گفتگو آل عمران میں گزر چکی ہے یہاں یہ کم کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اخفش نے لبید کا شعر پڑھا۔
کتنے ہی بادشاہوں اور رعیتوں کو دیکھا۔ اس کا معنی ہے کتنے ہی بستیوں والے۔ یعنی جنہوں نے آپ کو بستی سے نکالاان سے وہ زیادہ طاقتور تھے قتادہ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے غار ثور کی طرف نکلے تو مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور مجھے سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے اور مشرک جو تیرے اندر رہنے والے ہیں اگر مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا “ تو یہ آیت نازل ہوئی (2) اسے ثعلبی نے ذکر کیا یہ حدیث صحیح ہے۔
Ayah 47:14یہاں ہمزہ استفہام تقریری ہے۔ کا معنی ہے ثبات و یقین پر، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : ابو العالیہ نے کہا : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذا ہے : بینۃ سے مراد وحی ہے سوء عمل سے مراد بتوں کی عبادت ہے من سے مراد ابو جہل اور کفار ہیں۔
یعنی جو خواہش کی اس کی پیروی کی۔ یہ تزیین، خلق کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔
یہ بھی جائز ہے کہ دعوت اور وسوسے کے اعتبار سے شیطان کی جانب سے ہو یہ بھی جائز ہے کہ یہ کافر کی جانب سے ہو یعنی اس نے اپنے لئے اپنا برا عمل مزید کر کے پیش کیا اور کفر پر اصرار کیا اور من کے لفظ کے اعتبار کرتے ہوئے اور معنی کا اعتبار کرتے ہوئے کہا :
Ayah 47:15جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان جنتوں کی صفت بیان کی یعنی اس جنت کی صفت جو متقین کے لئے تیار کی گئی۔ سورة رعد میں یہ بحث گزر چکی ہے حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے مثال الجنتہ قرأت کی ہے۔
ایسا پانی جس کی بو تبدیل نہیں ہوتی۔ پانی میں آسن، آجن کی مثل ہے جب اس کی بو تبدیل ہوجائے اسی طرح اجونا ہے دونوں میں کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے یہ یزیدی نے کہا : جب کسرہ کے ساتھ ہو جب وہ آدمی کنویں میں داخل ہو تو اسے کنویں کی بدبور دار ہوا پہنچے اور یا اس کے علاوہ تو اس پر غشی طاری ہوجائے یا اس کا سر چکرا جائے اس میں لاوسن بھی مروی ہے جب پانی متغیر ہوجائے ابو زید نے کہا وہ بیمار ہوجائے اور سستی کرے ابو عمرو نے کہا : اس نے اپنے باپ کے اخلاق کو اپنایا۔ لیحانی نے کہا : جب اس نے اپنے باپ کی مشاہبت اختیار کی۔ عام قرأت آسن مد کے ساتھ ہے ابن کثیر اور حمید نے ہمزہ مقصورہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح حاذر اور حذر اخفش نے کہا : آسن یہ حال کا معنی دیتا ہے اور آسن سے مراد استقبال ہے۔
وہ زیادہ عرصہ رہنے کی وجہ سے کھٹے نہیں ہوں گے جس طرح دنیا کے دودھ زیادہ عرصہ رہنے کی وجہ سے کھٹے ہوجاتے ہیں اسے پائوں آلودہ نہیں کریں گے اور ہاتھ انہیں گدلا نہیں کریں گے جس طرح دنیا کی شراب ہوا کرتی ہے اس کا ذائقہ لذیذ اور مشروب عمدہ ہوگا پینے والے اسے ناپسند نہیں کریں گے یہ کہا جاتا ہے : دونوں کا معنی ایک ہی ہے استلزہ اسے لذیذ شمار کیا۔
عسل جو شہد کی مکھی کے لعاب سے بہتا ہے۔ مصطفیٰ جو گوند اور آلودگی سے پاک ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پیدا کیا اسے نہ آگ پر پکایا گیا اور نہ شہد کی مکھی نے اسے آلودہ کیا۔ ترمذی میں حکیم بن معاویہ نے اپنے باپ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : ” جنت میں پانی کا سمندر، شہد کا سمندر، دودھ کا سمندر اور شراب کا سمندر ہے پھر اس سے نہریں جاری ہوتی ہیں۔ “ (1) کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
سب جنت کے دریا ہیں (2) کعب نے کہا : دریائے دجلہ جنتیوں کے پانی کا دریا ہے۔ دریائے فرات ان کے دودھ کا دریا ہے۔ مصر کا دریا ان کے مشروب کا دریا ہے اور دریائے سیحان ان کے شہد کا دریا ہے۔ یہ چاروں دریا کوثر سے نکلتے ہیں۔ عسل مذکر و مونث ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ شہد کی مکھیوں کے پیٹوں سے نہیں نکلا۔
من زائدہ ہے اور تاکید کے لئے ہے ان کے رب کی جانب سے ان کے گناہوں کی بخشش ہے فراء نے کہا : معنی ہے کیا وہ جوان نعمتوں میں ہمیشہ رہے گا وہ اس کی طرح ہوگا جو جہنم میں ہمیشہ رہتا ہے زجاج نے کہا : کیا وہ جو اپنے رب کی جانب سے واضح دلیل پر ہے اور اسے یہ اشیاء عطای کی گئی ہیں اس آدمی کی طرح ہوگا جس کے اعمال اس کے لئے مزین کئے گئے ہیں جبکہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لئے رہنے والا ہو۔ تو اس کا قول کمن، کا بدل ہے : ابن کیسان نے کہا : یہ جنت جس میں پھل، اور نہری ہیں ان کی مثال اس جن ہم جیسی ہے جس میں کھولتا ہوا پانی اور زقوم ہوگا۔ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں میں جنتیوں کی مثال ہمیشہ رہنے والی جن ہم میں جہنمیوں کی مثل ہے۔
انہیں ایسا پانی پلایا جائے گا جو بہت زیادہ جوش ما رہا رہا ہوگا جب اس پانی کو ان کے قریب کیا جائے گا تو ان کے چہرے بھون دیئے جائیں گے اور ان کے سروں کی جلد اتر جائے گی جب وہ اسے پیئیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا اور ان کی دبر سے انہیں نکال دے گا امعاء یہ معی کی جمع ہے اس کا ثنیہ معیان ہے پیٹ میں جو انتڑیاں ہیں۔
Ayahs 47:16–17یعنی وہ لوگ جو لطف اندوز ہوتے ہیں اور کھاتے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں ان کے اعمال ان کے لئے مزین کئے گئے ہیں وہ آپ کی بات کو سنتے ہیں وہ منافق ہیں عبداللہ بن ابی سلول، رفاعہ بن تابوت، زید بن صلیت، حارث بن عمرو اور مالک بن خشم، وہ جمعہ کے روز خطبہ میں حاضر ہوتے جب اس میں منافقوں کا ذکر سنتے تو اس میں سے اعراض کرتے جب وہ باہر نکلتے تو اس کے بارے میں سوال کرتے (1) یہ کلبی اور مقاتل کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مومنوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، آپ جو ارشاد فرماتے اسے سنتے مومن اسے یاد کرلیتے اور کافر اسے یاد نہ رکھتے۔
جب وہ تیری مجلس سے جدا ہتے عکرمہ نے کہا : اس کا مصداق حضرت عبداللہ بن عباس ہیں : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : میں وہ تھا جس سے پوچھا جاتا تھا یعنی میں اہل علم میں سے تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت میں مروی ہے کہ مراد حضرت عبداللہ بن مسعود ہیں (2) عبداللہ بن بریدہ نے بھی اسی طرح کہا ہے کہ مراد حضرت عبداللہ بن مسعود ہیں۔ قاسم بن عبدالرحمن نے کہا : مراد حضرت ابو درداء ہیں۔ ابن زید نے کہا : مراد صحابہ کرام ہیں۔
ابھی ابھی وہ یہ بات استہزاء کے طور پر کرتے تھے یعنی میں نے ان کے قول کی طرف توجہ نہیں کی۔ سے مراد وہ گھڑی ہے جو اوقات میں سب سے زیادہ تیرے قریب ہو، یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے : جب تو اس کی ابتدا کرے اس سے یعنی اسے کسی نے نہیں چرا۔ جب اس سے کوئی چیز نہ پی گئی ہو گویا اس کے پینے کو شروع کیا گیا جس طرح روضۃ انف۔ شاعر نے کہا :
ان کی پڑوس کا راز ان پر حرام ہوتا ہے اور ان کا پڑوسی ایسے پیالے سے کھاتا ہے جس کو پہلے نہیں کھایا گیا ہوتا۔
امرئوالقیس نے کہا : وہ مجھے آغاز میں ہی اٹھا لیتا ہے۔
ہر شے کا انف اس کا اول ہوا کرتا ہے قتادہ نے ان منافقین کے بارے میں کہا : لوگ دو قسم کے ہیں ایسا آدمی جسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے سمجھ بوجھ نصیب ہو تو اس نے جو سنا اس سے فائدہ اٹھایا دوسرا وہ آدمی ہے جو سمجھ بوجھ نہ رکھتا ہو اور اس نے جو سنا اس سے فائدہ نہ اٹھایا یہ بات بھی کی جاتی تھی لوگ تین طرح کے ہیں۔ سننے والا، عمل کرنے والا، سننے وال، سمجھنے والا، سننے والا غافل اور ترک کرنے والا۔
پس وہ ایمان نہ لائے کفر اختیار کرنے میں اپنی خواہشات کی پیروی کی جنہوں نے ایمان کی طرف ہدایت پائی اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی کریم ﷺ نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قرآن سے جو وہ سنتے ہیں جو قرآن سراپا ہدایت ہے، یعنی ان کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے فراء نے کہا : منافقوں کے اعراض اور ان کے استہزاء نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے ناسخ کے نزول نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا۔ وہ ہدایت جو ان میں زیادہ ہوئی اس میں چار قول ہیں۔ 1 ۔ ان کے علم میں اضافہ ہوا (4) یہ ربیع بن انس کا قول ہے۔ 2 ۔ جو سنا اس کو جانا اور جو جانا اس پر عمل کیا : یہ ضحاک کا قول ہے 3 ۔ دین کے بارے میں ان کی بصیرت میں اضافہ کیا اپنے نبی کی تصدیق میں اضافہ کیا یہ کلبی کا قول ہے : 4 ۔ جس ایمان پر وہ پہلے سے موجود تھے اس کے بارے میں انہیں شرح صدر عطا فرمایا۔
یعنی ان میں تقویٰ کا الہام کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں پانچ وجوہ ہیں۔ 1 ۔ انہیں خشیت و خوف عطا فرمایا۔ یہ ربیع کا قول ہے 2 ۔ آخرت میں انہیں تقویٰ کا ثواب عطا فرمایا : یہ سدی کا قول ہے 3 ۔ جو امور ان پر فرض کئے گئے ان پر عمل کی انہیں توفیق عطاء فرمائی یہ مقاتل کا قول ہے 4 ۔ جن چیزوں سے انہیں بچنا تھا وہ ان کے لئے بیان کردیں، یہ ابن زید کا قول ہے اور سدی نے بھی یہ کہا۔ 5 ۔ منسوخ کو ترک کرنا اور ناسخ پر عمل کرنا، یہ عطیہ کا قول ہے۔ ماوردی نے کہا : چھٹے کا بھی احتمال ہے رخصت کو ترک کرنا اور عزیمت کو اپنانا۔ کی بجائے بھی پڑھا گیا ہے عکرمہ نے کہا : یہ آیت ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی اہل کتاب میں سے جو ایمان لائے تھے۔
Ayah 47:18بغتۃ یعنی اچانک۔ یہ کفار کے لئے وعید ہے۔ سے مراد اس کی علامات ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ پڑھا تھا کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں حضور ﷺ کی بعثت اس کی نشانیوں اور دلیلوں میں سے ایک ہے، یہ ضحاک اور حسن بصری کا نقطہ نظر ہے صحیح میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح مبعوث ہوئے ہیں “ اور انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا (1) الفاظ مسلم کے ہیں اسے امام بخاری، ترمدذی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے۔ روایت کی جاتی ہے۔ ” میں اور قیامت گھڑ دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح یعنی مساوی ہیں۔ “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد اس کے اسباب ہیں جو بڑی نشانیوں سے کم ہیں اسی وجہ سے لوگوں میں کم مرتبہ لوگوں کو الشط کہتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کی نشانیوں سے مراد چاند کا پھٹنا اور دھواں ہے، یہ حضرت بصری کا بھی قول ہے۔ کلبی سے مروی ہے : مال کی کثرت، تجارت، جھوٹی گواہی، قطع رحمی، شریف لوگوں کی کمی اور کمینے لوگوں کی کثرت ہے۔ (2) ہم نے کتاب ’ التذکرہ “ میں اسے مفصل ذکر کیا ہے اشراط کا واحد شرط ہے اس کا اصل معنی علامات ہیں اسی معنی میں شرط کا لفظ ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے لئے ایک علامت بنائی ہوئی ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں، اس یمعنی میں بیع وغیرہ میں شرط ہے۔ ابوالاسود نے کہا :
اگر تو نے ہمارے درمیان قطع تعلقی کا عزم کرلیا ہے تو اس کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
یہ کہا جاتا ہے : فلاں نے اپنے نفس کو فلاں عمل سے آگاہ کیا اور نفس کو اس عمل کے لئے خاص کردیا۔ اوس بن حجر ایک آدمی کی تعریف کرتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی سے ایک رسی کی مدد سے نبعہ ( پہاڑی درخت جس سے قوسیں بنائی جاتی ہیں) کاٹنے کے لئے نیچے لٹکا تاکہ اس سے کمان بنائے
اس نے اپنے آپ کو اس کام میں لگا دیا جبکہ وہ اس کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا اس نے رسیوں کے ساتھ اپنے آپ کو لٹکایا اور توکل کیا۔
الساعۃ سے بدل اشتمال ہے جس طرح (الفتح 25) سے بدل ہے اسے بعۃ تۃ جزیۃ کے وزن پر بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ کلمہ غریب ہے مصادر میں اس کی مثل واقع نہیں ہوا۔ یہ ابی عمرو سے مروی ہے۔ زمحشری نے کہا : مجھے خوف لاحق ہے کہ راوی نے ابو عمرو سے روایت کرنے میں غلطی کی ہو اور صحیح بغتۃ ہو جس طرح حضرت بصری کی قرأت ہے ابو جعفر رواسی اور دوسرے علماء نے اہل مکہ سے روایت کیا ہے : مہدوی نے کہا : جس نے پڑھا تو وقف الساعۃ پر ہوگا۔ پھر شرط سے نئی کلام شروع ہوگی کلام شک میں سے جس کا احتمال رکھتی ہے اسے خلق کی طرف پھیر دیا جائے گا گویا فرمایا : اگر اس کے آنے میں انہوں نے شک کیا ہے تو اس کی علامات تو آگئی ہیں۔
مبتدا ہے اور خبر ہے میں ضممیر مرفوع الساعۃ کے لئے ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی یہ معنی قتادہ اور دوسرے علماء نے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں نجات کیسے ملے گی، جب قیامت کے آنے پر ان کے پاس ذکری آجائے گی۔ یہ ابن زید نے کہا ہے۔ ذکری میں دو وجوہ ہیں۔ 1 ۔ انہوں نے اچھے یا برے جو عمل کئے وہ انہیں یاد دلائے جائیں گے۔ 2 ۔ بشارت دینے یا خوف دلانے کے لئے انہیں ان کے ناموں سے بلانا 2 ۔ ابان نے حضرت انس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا :” اپنے نام اچھے رکھا کرو تمہیں قیامت کے روز ان کے ساتھ بلایا جائے گا، اے فلاں، اپنے نور کی طرف اٹھ، اے فلاں، اٹھو تیرے لئے کوئی نور نہیں۔ “ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے (3)
Ayah 47:19ماوردی نے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جانتے تھے تو اس میں تین وجہ ہوں گی۔ 1 ۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے با خبر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں۔ 2 ۔ جس کو استدلال سے جانا ہے اسے خبر یقین کے ساتھ جان لو۔ 3 ۔ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ذکر کو علم سے تعبیر کیا کیونکہ ذکر علم سے ہی ہوتا ہغ۔ سفیان بن عیینیہ سے مروی ہے کہ ان سے علم کی فضلیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا جب اس کا آغاز اس سے فرمایا عمل کا حکم علم کے بعد دیا فرمایا : (الحدید 20-21) فرمایا : (الانفال 28) بعد میں فرمایا : (التغابن 14) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الانفال 41) بعد میں عمل کا حکم دیا۔
یہ دو وجوہ کا احتمال رکھتا ہے 1 ۔ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو کہ آپ سے گناہ واقع ہو۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو کہ تجھے گناہوں سے محفوظ رکھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب آپ کے لئے کافروں اور مومنوں کی حالت کا ذکر کیا تو ایمان پر ثابت قدمی کا حکم دیا یعنی توحید و اخلاص میں سے جس حالت پر آپ ہیں اس پر ثابت قدم رہیں اور ان چیزوں سے احتیاط کرتے رہیں کہ جن کے بجا لانے کی صورت میں استغفار کی ضرورت ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے۔ اس قول کی بناء پر آیت اس امر کو واجب کرتی ہے کہ انسان تمام مسلمانوں کے لئے استغفار کرے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا سینہ کفار کے کفر اور منافقین کے نفاق سے تنگ پڑتا تو یہ آیت نازل ہوئی یعنی یہ بات جان لو کہ جو تکلیف آپ کو ہے اللہ تعالیٰ کی ذت کے سوا اس کو دور کرنے والا کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا تیرا دل کسی کے ساتھ متعلق نہیں ہونا چاہیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ کو استغفار کا حکم اس لئے دیا تاکہ امت آپ کی اقتداء کرے۔
یعنی ان کے گناہوں کے لئے بخشش طلب کیجئے۔ یہ شفاعت کا امر ہے (1) مسلم عاصم احوال سے وہ عبداللہ بن سرجس مخزومی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ : اللہ تعالیٰ آپ کو بخش دے۔ تو ان کے ساتھی نے ان سے پوچھا : کیا نبی کریم ﷺ نے آپ کی بخشش طلب کی ہے : فرمایا : ہاں اور تیرے لئے بھی، پھر اس آیت کی تلاوت کی : پھر میں پھرا اور آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر کو دیکھا۔ وہ بند مٹھی نما چیز تھی جس پر تل تھے گویا وہ مبیہ ہو۔
اس میں پانچ اقوال ہیں :۔ 1 ۔ وہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے خواہ تو حالت سفر میں ہو یا حالت اقامت میں ہو۔ 2 ۔ یعنی دن کے وقت جو تمہارے اعمال ہیں۔ رات کے وقت جو تم سوتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد دنیا میں جو کچھ تم کرتے ہو اور سے مراد دنیا و آخرت میں جو کچھ تم کرتے ہو۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے۔ عکرمہ نے کہا : سے مراد آباء کی پشتوں سے لے کر مائوں کے رحموں تک (1) زمین میں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ، ابن کیسان نے کہا : سے مراد پشت سے بطن اور بطن سے دنیا۔ اور مراد قبریں ہیں۔
میں کہتا ہوں : عموم ان تمام صورتوں میں آتا ہے۔ انسان کی حرکات و سکنات میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی ذات سے مخفی نہیں، اسی طح اس کی تمام مخلوق مخفف نہیں وہ ان تمام کو جانتا ہے قبل اس کے کہ وہ اکٹھے ہوں یا الگ الگ پہلا ہو یا آخری ہو۔
Ayahs 47:20–21یعنی مخلص مومن کہتے ہیں، ان کا کہنا وحی کے اشتیاق جہاد اور اس کے ثواب کے حرص کی بناء پر ہے معنی ھلا ہے سورة محکم سے مراد جس میں نسخ نہ ہو۔ قتادہ نے کہا : ہر وہ سورت جس میں جہاد کا ذکر ہو اس کو محکم کہتے ہیں (2) منافقین پر قرآن میں سے یہ شدید ترین ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ کی قرأت میں یعنی جس کا نزول ابھی ابھی ہوا ہو۔ جس میں جہاد فرض ہو۔ اسے القتال بھی پڑھا گیا ہے کہ فعل معروف ہے اور قتال منصوب ہے۔ مرض سے مراد شک اور نفاق ہے۔ ایسے آدمی کی نظر جس کی آنکھ میں کیچڑ ہو اور غیظ و غضب کا شکار ہو جس طرح ایک آدمی کی نظر موت کے وقت کھل جاتی ہے۔ یہ صورت حال جنگ سے بزدلی کی بناء پر ہوتی ہے۔ جبکہ جزع فزع کررہے ہوتے ہیں اور دل سے کفار کی طرف میلان رکھتے ہیں۔
جوہری نے کہا : ان کا قول اولی یہ دھمکی اور وعید ہے۔ شاعر نے کہا :
اصمعی نے کہا : اس کا معنی ہے جو چیز اس کو ہلاک کرتی ہے وہ اس کے قریب آپہنچی ہے یعنی اس پر نازل ہوچکی ہے اور یہ شعر پڑھا :
یعنی وہ زائد ہونے کے قریب ہے۔
ثعلب نے کہا : اصمعی نے اولی کے بارے میں جو کہا ہے اس سے بہتر کسی نے گفتگو نہیں کی۔ مبرو نے کہا : جو ہلاک کرنے کا ارادہ کرے پھر چھوٹ جائے۔ اولی لک یعنی تو ہلاکت کے قریب پہنچ گیا تھا، جس طرح یہ روایت کی گئی ہے کہ ایک بدولگاتار شکار پر تیر چلا رہا تھا تو وہ تیر چوک جاتا وہ کہتا اولی لک پھر اس نے شکار کو تیر مارا تو وہ اس کے قریب ہوا پھر اس نے چوک گیا تو بدو نے کہا :
اگر اولی قوم کو کھلاتا تو میں انہیں شکار کرلیتا لیکن اولی قوم کو بھوکا چھوڑتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آدمی کے اس قول کی طرح ہے جو وہ اپنے ساتھی کو کہتا ہے اے محروم : کون سی چیز تجھ سے فوت ہوئی۔ جرجانی نے کہا : یہ ویل سے مشتق ہے یہ افعل کا وزن ہے لیکن اس میں قلب کا قاعدہ جاری ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ فعل کا عین کلمہ لام کلمہ کی جگہ واقع ہوا ہے۔ فاولی لھم پر کلام مکمل ہوچکی ہے۔
قتادہ نے کہا : گویا یہ کہا عقاب ان کے قریب و موزوں ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے انہیں مصیبت نے آ لیا۔
پھر فرمایا : یعنی طاعت اور اچھی بات بہت بہتر ہیں، یہ سیبویہ اور
خلیل کا مذہب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تقدیر کلام یہ ہے مبتدا کو حذف کردیا گیا اور اولی لھم پر وقف کیا گیا اس طرح جس نے یہ مقدر کیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے دوسری آیت پہلی آیت کے ساتھ متصل ہے۔ لھم میں لام باء کے معنی میں ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ کے امر کو ترک کرنے کے بجائے طاعت زیادہ مناسب موزوں لازم ہے یہ حضرت ابی کی قرأت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اس صورت میں فاولی لھم پر عطف نہیں ہوگا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کا قول طاعۃ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے منافقین کے بارے میں خبر ہے۔ معنی ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے : فرائض کا وجوب ان پر ہے۔ جب فرائض نازل ہوتے ہیں تو ان کا نزول ان پر شاق گزرتا ہے اس صورت میں فاولی پر وقف ہوگا۔
جب جہاد لازم ہوجائے یا قتال کی فرضیت ثابت ہو جئے تو وہ اسے ناپسند کرتے ہیں علماء نے اسے اذکا جواب مکروہ جانا ہے وہ مخذوف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے جب اصحاب امر عزم کرلیں۔
اگر وہ ایمان اور جہاد میں اللہ تعالیٰ سے سچ بولتے تو وہ معصیت اور مخالفت کی بنسبت ان کے حق میں بہتر ہوتا۔