47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsانوار البیان

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (اوروں کو) خدا کے راستے سے روکا خدا نے انکے اعمال برباد کر دئیے

(47:1) الذین : اسم موصول جمع مذکر : کفروا وصدوا عن سبیل اللہ صلہ۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ وصدوا وائو عاطفہ ہے صدوا ماضی جمع مذکر غائب۔ صدو صدود (باب نصر ) مصدر بمعنی روکنا۔ اور صد کا مفعول محذوف ہے ای غیرہم اور دوسروں کو (خدا کے راستہ سے ) روکا۔ اضل اعمالہم۔ ای اضل اللہ اعمالہم اضل ماضی واحد مذکر غائب اس نے برباد کردیا۔ اس نے گمراہ کردیا۔ اس نے بہکایا۔ اعمالہم مضاف مضاف الیہ مل کر اضل کا مفعول ۔ اس (اللہ ) نے ان کے اعمال کو برباد کردیا۔ الذین کفروا ۔۔ مبتدا۔ اضل اعمالہم خبر۔
Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمد ﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے انکے گناہ دور کر دئیے اور انکی حالت سنوار دی

(47:2) والذین امنوا مبتداء کفر عنہم سیئاتہم خبر۔ درمیانی جملہ من ربہم معترضہ ہے واصلح بالہم خبر ثانی۔ ما نزل علی محمد میں ما موصولہ ہے نزل علی محمد اس کا صلہ ہے (اور ایمان لائے اس پر) جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ۔ یعنی قرآن ۔ فائدہ : الذین امنوا وعملوا الصلحت اگرچہ اس میں تمام وہ امور داخل ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے ان میں سے خاص طور پر اس شریعت پر جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی (بواسطۂ قرآن) ایمان لانا لازم قرار دیا۔ اس سے شریعت محمدیہ پر ایمان لانے کی عظمت کا اظہار اور اس امر کی صراحت کرنی مقصود ہے کہ اس شریعت پر ایمان لائے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی اور اصل ایمان یہی ہے ۔ تمام ایمانیات اس میں داخل ہیں (مظہری) وھو الحق من ربہم۔ وائو عاطفہ ہے ھو ای القران، الحق ثابت ، قائم، واجب، لازم۔ جائز۔ باطل کی ضد ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ کفر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تکفیر (تفعیل) مصدر۔ بمعنی دور کرنا۔ معاف کرنا۔ ساقط کردینا۔ گناہ مٹا دینا۔ معاف کردینا۔ دوسرے مفعول پر عن آتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں۔ کفر عنہم سیأتہم۔ ای کفر سیأتہم عنہم۔ وہ ان کی برائیوں کو ان سے دور کر دے گا عنہم میں ہم ضمیر مفعول ثانی ہے سیأت مفعول اول۔ سیئاتہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کی برائیاں۔ ان کے گناہ۔ سیئات جمع سیئۃ کی۔ اصلح ماضی واحد مذکر غائب۔ اصلاح (افعال) مصدر اس نے اصلاح کی۔ (متعدی بطور فعل لازم بھی آتا ہے ۔ بمعنی وہ سنور گیا۔ وہ نیک ہوگیا۔ جیسے ثم تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیم ۔ (6:54) پھر اس کے بعد توبہ کرے اور نیک ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے) متعدی کی اور مثال :۔ فمن خاف من موص جنفا او اثما فاصلح بینہم فلا اثم علیہ ۔ (2:182) اور اگر کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر ) وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے۔ بالہم ۔ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر مفعول اصلح کا۔ ان کا حال۔ واصلح بالہم۔ تو ان کے حالات درست رکھے گا دشمنوں پر فتح عنایت کرے گا۔ گناہوں سے بچنے اور طاعت الٰہیہ کی توفیق عطا کرے گا۔
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اسلیے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے اسی طرح خدا لوگوں سے انکے حالات بیان فرماتا ہے

(47:3) ذلک ۔ یعنی کافروں کی گمراہی اور تکفیر اور مومنوں کی اصلاح احوال۔ بان۔ میں ب تعلیلیہ ہے ان حرف تحقیق۔ حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے ۔ الباطل جھوٹی بات، الحق دین حق، یا الباطل سے مراد شیطان اور الحق سے قرآن ہے۔ یضرب امثالہم (اللہ ) ان کی مثالیں بیان کرتا ہے ۔ ان کے حالات بیان کرتا ہے۔ یضرب ۔ مضارع واحد مذکر غائب ضرب مصدر سے جس کے معنی مارنا۔ ضرب لگانا۔ اور بیان کرنا کے ہیں۔ بیان کرنے کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا (2: 26) خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان فرمائے۔
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کر چکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں انکو) مضبوطی سے قید کرلو پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے یہ (حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا

(47:4) لقیتم ۔ ماضی جمع مذکر حاضر، لقاء لقی (باب سمع) مصدر۔ تم ملے۔ تم مقابل ہوئے۔ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک پر الگ الگ بھی بولا جاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے قرآن مجید میں ہے ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ ۔ (3:143) اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے۔ یا آیت لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا۔ (18:62) ہمارے اس سفر سے ہم کو (سخت ) تکان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تھکان ہوگئی ہے۔ فاذا لقیتم : پس جب ملو۔ جب تم آمنے سامنے آئو۔ جب تمہارا مقابلہ ہو۔ الذین کفروا۔ اسم موصول صلہ کے ساتھ مل کر مفعول لقیتم کا۔ فضرب الرقاب : ضرب مصدر مضاف، الرقاب جمع رقبۃ کی گردنیں ۔ مضاف الیہ۔ اصل میں عبارت تھی فاضربوا الرقاب ضربا فعل کو حذف کر کے اس کی جگہ مصدر کو مضاف لایا گیا ہے اور اس کی اضافت مفعول (الرقاب) کی طرف کردی گئی ہے۔ پھر جب تم کافروں سے بھڑ جائو (ان کے مقابلہ میں میدان کار زار میں آجائو ) تو ان کی گردنیں اڑا دو ۔ حتی۔ انتہاء غایت کے لئے۔ یہاں تک کہ : اثخنتموہم۔ اثخنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ اثخان (افعال) مصدر، وائو اشباع ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تم ان کو خوب قتل کرچکے۔ تم ان کو خوب قتل کر چکو۔ ثخن الشیء (باب کرم) کے معنی ہیں کسی چیز کا گاڑھا ہوجانا اس طرح کہ پہننے سے رک جائے۔ چناچہ اسی سے بطور استعارہ کہا جاتا ہے اثخنتہ ضربا واستخفافا میں نے اسے اتنا مارا پیٹا کہ وہ اپنے مقام سے حرکت نہ کرسکا۔ لہٰذا حتی اذا اثخنتموہم یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب قتل کر چکو تو ۔۔ اذا یہاں شرطیہ ہے فشدوا الوثاق میںجواب شرط کے لئے ہے بمعنی تب۔ شدوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ شد (باب ضرب ونصر) مصدر۔ تم مضبوط باندھو۔ شدۃ کا استعمال مضبوط باندھنے کے لئے بھی ہوتا ہے اور بدن کے بارے میں بھی اور نفس کی قوتوں سے متعلق بھی اور عذاب کے واسطے بھی۔ الوثاق اسم۔ بندھن۔ بندش، جکڑ، اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولا یوثق وثاقہ احد (89:26) اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔ اور اسی مادہ و ث ق سے العروۃ الوثقی (2:256) ایسا مضبوط عقد ایمان یا وسیلہ جو ناقابل شکست ہو اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا مندی حاصل ہوجائے۔ فشدوا الوثاق۔ یعنی پھر قتل سے رک جائو اور گرفتار کرلو۔ اور مضبوطی کے ساتھ باندھ لو تاکہ بھاگ نہ جائیں۔ فاما منا بعد۔تعقیب کا ہے اما بمعنی اگر، یا، یہ ان ارما سے مرکب ہے اور مختلف معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ کبھی شک کیلئے ۔ کبھی ابہام کے لئے کبھی اختیار دینے اور کبھی اباحت بتانے اور کبھی تفصیل بیان کرنے کے واسطے آتا ہے یہاں اختیار دینے اور اباحت بتانے کے لئے آیا ہے۔ منا مصدر ہے (باب نصر) احسان جتانا جیسے الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ ثم لا یتبعون ما انفقوا منا ولا اذی لہم اجرہم عند ربہم ۔ (2:262) جو لوگ اپنا مال خدا کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو اس خرچ کا کسی پر احسان جتاتے ہیں اور نہ کسی کو تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ یا۔ منا بلا عوض قیدیوں کو آزاد کردینے کے لئے آتا ہے جیسا کہ آیت زیر مطالعہ میں۔ بعد ۔ پیچھے۔ بعد میں ظرف زمان ہے قبل کی ضد ہے۔ اضافت اس کو لازمی ہے جب بغیر اضافت کے آئے گا تو ضمہ پر مبنی ہوگا ۔ یا اس پر دو زیر ہوں گے جیسے بعد بعدا من بعد ۔ قرآن مجید میں بعدا نہیں آیا ہے۔ فاما منا بعد ای فاما تمنون علیہم منا بعد پس اس کے بعد یا تو قیدیوں کو بلا عوض آزاد کر دو ۔ او تفا دونہم فدائ۔ یئا ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دو ۔ حتی ۔ (حسب بالا) انتہاء غایت کے لئے ہے اور یہاں فشدوا الوثاق سے متعلق ہے۔ تضع : مضارع منصوب (بوجہ عمل حتی ) واحد مؤنث غائب : وضع (باب فتح ) مصدر۔ (حتی کہ ) وہ رکھ دے۔ وہ ڈال دے۔ (اپنے ہتھیار ) ۔ اوزارھا۔ اوزار جمع ہے وزرۃ کی بمعنی ہتھیار، یہاں اوزار سے مراد ہتھیار ہیں۔ مجازا گناہ کو بھی بوجھ کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ ہے او زار مضاف ہے مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہے تضع کا اور بدیں وجہ اوزار منصوب ہے۔ حتی تضع الحرب اوزارھا ۔ ای اذا لقیتم الکفار فاضربوا اعناقہم حتی اذا اثخنتموہم قتلا فاسروہم وشدوا الوثاق الی ان تضع الحرب اوزارھا۔ جب کفار سے تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑا دو حتی کہ جب خوب خوب قتل کر چکو تو ان کے باقی ماندہ افراد کو اسیر (قیدی) بنا لو اور مضبوطی سے جکڑ لو۔ حتی کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے (یعنی دشمن ہتھیار ڈال دے اور لڑائی بند ہوجائے) ۔ اضواء البیان۔ السیر التفاسیر، تفسیر حقانی “۔ ذلک ۔ خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے ای الامر ذلک ۔ یعنی ان کے متعلق حکم یہی ہے۔ یا اس سے قبل فعل محذوف ہے ای افعلوا بہم ذلک یعنی ان (دشمنوں کے ) ساتھ ایسا ہی کرو۔ ولو یشاء اللہ جملہ شرط ہے۔ لانتصر منہم جواب شرط۔ لانتصر لام جواب شرط کے لئے ہے انتصر ماضی واحد مذکر غائب ہے انتصار (افتعال) مصدر۔ بمعنی مدد طلب کرنا۔ ظالم سے انتصار کے معنی اس سے انتقام لینے یا اس کو سزا دینا ہے یا اس سے بدلہ لینا ہے یہاں یہی مؤخر الذکر معنی مراد ہیں یعنی اگر اللہ چاہتا تو کافروں سے (خود ہی ) انتقام لے لیتا یعنی تمہارے جہاد کے بغیر ہی ان کو ہلاک کردیتا۔ ولکن وائو عاطفہ ہے لکن اگرچہ حرف عطف کا کام دیتا ہے لیکن جب اپنے ماقبل کے جملہ میں پیدا شدہ ابہام کو دور کرنے کے لئے آئے اور دوسرے جملہ کے ساتھ آئے تو استدراک کا فائدہ دیتا ہے۔ پھر یہ عاطفہ نہ ہوگا۔ اگرچہ وائو عاطفہ کے ساتھ آسکتا ہے جیسا کہ آیت زیر غور۔ یا اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ وما ظلمنا ہم ولکن کانوا ہم الظلمین (43:76) مؤلف بسیط کا قول ہے :۔ جب لکن وائو کے ساتھ آئے۔ تو عطف کے لئے آتا ہے تو جملہ کا عطف جملہ پر ہوجاتا ہے مثلاً صورت مذکورہ میں۔ ولکن کے بعد عبارت مقدرہ ہے ای ولکن امرکم بالقتال وشرعہ لکم لحکمۃھی ان یبلو بعضکم ببعض ای یختبرکم من یقاتل منکم ومن لا یقاتل والمؤمن یقتل فیدخل الجنۃ والکافر یقتل فیدخل النار۔ لیکن اس نے تم کو قتال کا حکم کیا اور اسے تمہارے لئے حکمت پر مبنی ایک قانون بنادیا۔ کہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائے اور تمہارا امتحان لے کہ تم میں سے کون مقاتلہ کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ مومن اس مقاتلہ میں مارا جائے تو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اور کافر مارا جائے تو واصل جہنم ہوگا : والذین قتلوا فی سبیل اللہ جملہ شرط اور اگلا جملہ جواب شرط ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے وہ (اللہ) ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا ۔ لن یضل ۔ مضارع منفی منصوب تاکید بلن ۔ صیغہ واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر۔ وہ ہرگز اکارت نہیں کرے گا۔ وہ ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا۔ اعمالہم مضاف مضاف الیہ مل کر لن یضل کا مفعول، ان کے اعمال۔
Ayah 47:5

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

(بلکہ) انکو سیدھے راستے پر چلائے گا اور ان کی حالت درست کرے گا

(47:5) سیھدیہم س مضارع پر د اکل ہو کر اسے مستقبل قریب کے لئے خاص کردیتا ہے یھدی کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب الذین قتلوا فی سبیل اللہ کی طرف راجع ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو سیدھے راستہ پر چلائے گا۔ ویصلح بالہم۔ وائو عاطفہ یصلح مضارع واحد مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر۔ ان کی حالت درست کر دے گا۔
Ayah 47:6

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو بہشت میں جس سے ان کو شناسا کر رکھا ہے داخل کرے گا

(47:6) عرفھا لہم۔ عرف ماضی واحد مذکر غائب تعریف (تفعیل) مصدر اس نے اس سے تعارف کرا دیا۔ اس نے اس کی پہچان کرائی۔ اس نے اس کی تعریف کی۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ کی طرف راجع ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں کہ عرفہ کے معنی خوشبودار کرنے کے بھی آتے ہیں جنت کے بارے میں جو یہ ارشاد ہو رہا ہے عرفھا لہم اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ حق تعالیٰ نے جنت کو اہل جنت کے لئے خوشبودار اور مزین کردیا ہے۔ فائدہ :۔ سیھدیہم ۔ ان کو سیدھے راستے پر چلائے گا۔ اس میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو اب کس بات کی ہدایت ہوگی ؟ مختلف مفسرین نے مختلف طریقے پر اس کی تفسیر کی ہے۔ صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں ! اس کا جواب یہ ہے کہ :۔ ہاں ہوگی ! منکر ونکیر کے سوال و جواب کی ۔ سعادت اور دار الخلد کے منازل طے کر کے حقیقی منزل تک پہنچنے کی، مدارک التنزیل میں بھی یہی آیا ہے۔ ضیاء القران میں ہے :۔ یعنی جنت اور رضائے الٰہی کی ذی شان منزل تک انہیں رسائی حاصل ہوجائے گی ! راہ کی روکاوٹیں دور کردی جائیں گی۔ فاصلے سمٹ کر رہ جائیں گے۔ سیھدیہم : یعنی ان کے منزل مقصود تک پہنچنے تک ہر قدم پر ان کی راہنمائی اور دستگیری ہوتی رہے گی۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں : ۔ رہنمائی کرنے سے مراد ظاہر ہے کہ اس مقام پر جنت کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔
Ayah 47:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا

(47:7) ان تنصروا اللہ ینصرکم : ان شرطیہ ہے تنصروا مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان ) جمع مذکر حاضر، اللہ مفعول فعل تنصروا کا ۔ ینصرکم جواب شرط۔ ینصر مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکرحاضر۔ اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا، یعنی اگر تم اللہ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے دشمنون کے خلاف فتح دے گا اور دین ودنیا کے امور میں تمہاری مدد کرے گا :۔ ویثبت اقدامکم۔ وائو عاطفہ یثبت مضارع واحد مذکر غائب۔ تثبیت (تفعیل) مصدر۔ جمائے رکھے گا۔ ثابت قدم رکھے گا۔ اقدامکم مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مفعول یثبت کا۔ اور وہ تم کو ثابت قدم رکھے گا۔
Ayah 47:8

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ انکے اعمال کو برباد کر دے گا

(47:8) والذین کفروا۔ وائو عاطفہ الذین اسم موصول جمع مذکر ۔ کفروا ماضی جمع مذکر غائب صلہ اپنے موصول کا۔ اور جنہوں نے کفر کیا۔ اور جو کافر ہیں۔ جملہ شرط ہے۔ فتعسالہمجواب شرط کے لئے تعسا مصدر (باب فتح ضرب) سے آتا ہے لغات القرآن۔ باب سمع سے آتا ہے۔ (المفردات) بمعنی ہلاکت، خواری، گرپڑنا ۔ ٹھوکر لگنا۔ اصل میں اس کے معنی ٹھوکر کھا کر اوندھے منہ گرنا اور پھر اٹھ نہ سکنا کے ہیں۔ فتعسالہم۔ سو ان کے لئے ہلاکت ہے۔ مختلف علماء کے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا :۔ ان کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔ (2) ابوالعالیہ نے ترجمہ کیا ہے سقوط۔ یعنی مغلوبیت، گراوٹ۔ (3) ضحاک نے کہا۔ ناکامی۔ (4) ابن زید نے کہا پراگندگی۔ (5) فراء نے کہا تعسا مصدر ہے اور یہ جملہ دعائیہ ہے۔ (6) بعض علماء نے کہا کہ اس کا معنی ہے ۔ دنیا میں ٹھوکر کھانا آخرت میں دوزخ میں گرنا ۔ واضل اعمالہم۔ اور وہ ان کے اعمال برباد کر دے گا۔
Ayah 47:9

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو ناپسند کیا تو خدا نے انکے اعمال اکارت کر دئیے

(47:9) ذلک : ای الضلال والتعس۔ یہ بربادی اور خواری۔ بانہم میں ب سببیہ ہے یہ (بربادی و خواری) اس لئے کہ انہوں نے ۔۔ کرھوا ۔ ماضی جمع مذکر غائب کراھۃ (باب سمع) مصدر۔ انہوں نے ناپسند کیا۔ ما انزل اللہ ۔ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ یعنی قرآن “۔ فاحبط اعمالہم۔ احبط ماضی واحد مذکر غائب۔ احباط (افعال) مصدر۔ اس نے اکارت کردیا (ان کے اعمال کو) ۔ حبط اعمال کی تین اقسام ہیں۔ (1) ایمان نہ ہونے کے باعث دنیا کے تمام اچھے کام مثلاً حسن معاشرت ، پاکیزہ اخلاق وغیرہ آخرت میں بالکل بےنتیجہ ہیں۔ (2) انسان میں ایمان موجود ہے لیکن جو اعمال خیر سر انجام دئیے وہ لوجہ اللہ نہیں تھے اس لئے اکارت ہوئے۔ (3) اعمال صالحہ تو موجود ہیں لیکن اس کے مقابل اس کثرت سے گناہ کئے کہ اعمال صالحہ بےاثر ہو کر رہ گئے اور گناہوں کا پلہ بھاری رہا
Ayah 47:10

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ خدا نے ان پر تباہی ڈال دی اور اسی طرح کا (عذاب) ان کافروں کو ہوگا

(47:10) افلم یسیروا فی الارض ۔ أ استفہام انکاری ہےعاطفہ کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ ای : اقعدوا فی اماکنہم فلم یسیروا فی الارض ۔ کیا وہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور زمین میں (یا اپنے ملک میں) چلے پھرے نہیں ؟ لم یسیروا مضارع نفی حجد بلم جمع مذکر غائب ضمیر فاعل کا اہالیان مکہ کی طرف اشارہ ہے سیر (باب ضرب) مصدر کیا وہ چلے پھرے نہیں ؟ فینظروا۔ ای فلم ینظروا۔ اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ (جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ دمر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تدمیر (تفعیل) مصدر۔ اس نے اکھاڑمارا اس نے ہلاکت ڈال دی۔ اس نے تباہی ڈال دی۔ امثالھا۔ مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب عاقبۃ کے لئے ہے۔ یا عقوبتہ عاقبۃ کے لئے۔ یعنی کافروں (مکہ کے کافروں کی) کی عاقبت بھی ایسی ہی ہوگی (کیونکہ کفر جو علت ہلاکت و بربادی ہے وہ ان میں اور ان میں مشترک ہے۔ امثالھا میں مشابہت صرف وقوع عذاب کے لحاظ سے ہے نہ کہ نوعیت عذاب کے لحاظ سے ہے۔ (الماجدی)
Ayah 47:11

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں

(47:11) ذلک : ای نصر المؤمنین وسوء عاقبۃ الکافرین۔ مسلمانوں کی فتح یابی اور کافروں کی زبوں حالی۔ بان اللہ ۔ ب سببیت کی ہے ان حرف تحقیق ہے اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ اللہ اسم ان اور منصوب بوجہ عمل ان ہے ۔ باقی جملہ خبر ہے ان کی۔ مولی الذین امنوا ۔ مولی مضاف، الذین امنوا صلہ وموصول مل کر مضاف الیہ ۔ ایمان والوں کا مولیٰ ۔ مولی اسم مفرد۔ موالی جمع، دوست، مددگار۔ کارساز۔ حمائتی ، آقا۔ ولی (حسب یحسب ) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر ہے اس کی جمع موالی ہے مولی اسم فاعل واسم مفعول ہر دو طرح مستعمل ہے نیز ملاحظہ ہو (44:41) ۔ متذکرۃ الصدر۔ ترجمہ ہوگا :۔ یہ اس لئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کارساز ہے (اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں ہے) ۔
Ayah 47:12

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل فرمائے گا اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں اور انکا ٹھکانا دوزخ ہے

(47:12) یتمتعون : مضارع جمع مذکر غائب، تمتع (تفعل) مصدر۔ وہ فائدہ حاصل کرتے ہیں (دنیا میں) وہ مزے اڑاتے ہیں۔ کما : ک حرف تشبیہ ہے اور ما مصدریہ سے مرکب ہے۔ جیسا کہ (کھاتے ہیں چوپائے) ۔ تاکل ۔ مضارع واحد مؤنث غائب الانعام چوپائے، مویشی، بھیڑ، بکری، گائے ، بھینس، اونٹ، مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ ان میں اونٹ شامل نہ ہوں۔ یہ نعم کی جمع ہے۔ مثوی ظرف مکان مفرد۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانہ، دراز مدت تک ٹھہرنے کا مقام قیام گاہ۔ فرودگاہ۔ ثوی یثوی ثواء ، ثوی (باب ضرب) مصدر، ٹھہرنا۔ قیام کرنا۔ اترنا۔ (قیام کے لئے) ۔
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور قوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور انکا کوئی مددگار نہ ہوا

(47:13) وکاین ۔ وائو عاطفہ ہے کاین اصل میں کای تھا۔ قرآنی اصطلاح میں تنوین کو بصورت نون لکھا گیا۔ کاین ہمیشہ خبری صورت میں مستعمل ہے، مبہم کثیر تعداد پر دلالت کرتا ہے۔ ابہام کو دور کرنے کے لئے اس کے لئے بطور تمیز کوئی لفظ مذکور ضرور ہوتا ہے۔ عموما ممیز لفظ من کے ساتھ آتا ہے۔ جیسے وکاین من نبی قاتل معہ ربیون کثیر (3:146) اور بکثرت پیغمبروں کی معیت میں بہت سے اللہ والوں نے (کافروں سے ) جہاد کیا۔ اس مثال میں کاین نے کثیر تعداد کو ظاہر کیا۔ لیکن کس کی یہ بات مبہم تھی جب اس کے بعد من نبی آیا۔ تو ابہام دور ہوگیا “ اور معلوم ہوگیا کہ وہ کثیر تعداد پیغمبروں کی تھی۔ کاین ہمیشہ آغاز کلام میں آتا ہے اس سے پہلے حرف جر نہیں آتا۔ اس کی خبر ہمیشہ مرکب ہوتی ہے مفرد کبھی نہیں ہوتی۔ قرآن مجید میں کاین ہر جگہ بصورت خبر آیا ہے۔ بہت، بکثرت، نیز ملاحظہ ہو (3:146) ۔ وکاین من قریۃ اور بہت سی بستیاں۔ ھی اشد قوۃ من قریتک التی اخرجتک ۔ ھی ضمیر واحد مؤنث غائب قریۃ کی طرف راجع ہے اشد اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ سخت تر، قوی تر، قوۃ اسم تمیز، (ازروئے قوت) قریتک ، تیری بستی، مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف التی اسم موصول واحد مؤنث اخرجتک صلہ اپنے موصول کا ، صلہ اور موصول مل کر، صفت ہوئے اپنے موصوف کی۔ موصوف اور صفت مل کر مفصل علیہ۔ وہ بستیاں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے جس نے آپ کو نکال دیا تھا بڑھ چڑھ کر تھیں قریۃ سے مراد اہل قریہ ہیں۔ مضاف کو حذف کردیا گیا اور مضاف الیہ پر مضاف کے احکام جاری کر دئیے گئے۔ التی اخرجتک : التی اسم موصول واحد مؤنث قریۃ کے لئے آیا ہے۔ اور اسی بناء پر اخرجت ماضی واحد مؤنث غائب کا صیغہ استعمال ہوا ہے مراد یہاں بستی کے رہنے والے ہیں جنہوں نے آپ کو وطن سے نکال دیا تھا۔ اھلکنہم : اھلکنا۔ ماضی جمع متکلم اھلاک افعال مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ فلانا صر لہم۔ ناصر منصوب بوجہ عمل لا ہے، سو کوئی ان کا مددگار نہ ہوا۔ یہاں بستیون کی بجائے اہل بستی مذکور ہوئے ہیں۔ اس لئے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے راستے پر (چل رہا) ہو وہ انکی طرح (ہو سکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کر کے دکھائے جائیں اور جو اپنی خاہشوں کی پیروی کریں

(47:14) افمن کان ۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہےکا عطف جملہ مقدرہ پر ہے۔ من موصولہ ہے۔ علی بینۃ ۔ بینۃ۔ کھلی دلیل۔ واضح دلالت کو بینہ کہتے ہیں۔ خواہ دلالت عقلی ہو یا محسوسہ۔ بینات جمع ہے۔ کمن کاف تشبیہ اور من موصولہ سے مرکب ہے اس شخص کی طرح جو کہ ۔۔ زین ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب تزیین (تفعیل) مصدر۔ وہ سنوارا گیا اسے مزین کیا گیا۔ وہ اچھا کر کے دکھلایا گیا۔ سوء عملہ۔ سوء برائی۔ برا کام، گناہ۔ عیب۔ سوء ۔ ساء یسوء (باب نصر) مصدر سے اسم ہے۔ مضاف، عملہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ اس کے عملوں کی برائی۔ اس کی بداعمالی۔ واتبعوا اھواء ہم ۔ وائو عاطفہ۔ اتبعوا ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے اتباع کیا۔ انہوں نے پیروی کی۔ اھواء ہم ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اتبعوا کا۔ اھواء جمع ہے ھوی کی۔ خواہشیں۔ اتبعوا اور ۔۔ اھواء ہم : میں ضمیر جمع مذکر غائب من کے معنی کے اعتبار سے استعمال کی گئی ہے۔ من گو لفظاً واحد ہے۔ لیکن معنی یہاں بطور جمع مراد ہے۔ ترجمہ :۔ بھلا جو لوگ اپنے رب کے واضح راستے پر ہوں۔ کیا وہ ان اشخاص کی طرح ہوسکتے ہیں جنہیں (شیطان کی طرف سے ) ان کی بد اعمالیاں اچھی کر کے دکھائی گئی ہوں اور جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی (الجواب : لیسوا سواء ولا مماثلۃ بینھما ابدا (وہ ہرگز یکساں نہیں ہوسکتے اور ان میں کبھی بھی مماثلت نہیں ہوسکتی) ۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اسکی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے اور شہد مصفی کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور انکے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے (کیا یہ پرہیزگار) انکی طرح (ہو سکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جنکو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو انکی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا

(47:15) مثل الجنۃ التی وعد المتقون۔ مبتداء فیھا انھر ۔۔ ومغفرۃ من ربہم : خبر۔ کمن ھو خالد فی النار۔ خبر جس کا مبتداء محذوف ہے ای امن ھو فی ھذا النعیم المقیم الدائم کمن ھو خالد فی النار۔ مثل الجنۃ مضاف مضاف الیہ۔ اس جنت کی مثال۔ اگر مثل مرفوع مذکور ہے اور اس کے بعد کمثل نہیں آیا۔ تو صرف آیت (2: 214) میں مشبہ یعنی تشبیہی قصہ مراد ہے۔ باقی آیات میں مثل کا معنی ہے صفت ۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر مثل کا اطلاق اس حال یا صفت یا قصہ پر ہونے لگا جس میں کوئی عجیب ندرت اور پرشکوہ عظمت ہو مثلاً للہ المثل الاعلی (66:10) اللہ کی عجیب شان عالی ہے۔ یا مثل الجنۃ التی ۔۔ (آیت زیر مطالعہ ) جنت کی عجیب نادر حالت اور صفت “ (لغات القرآن جلد پنجم ص 316) ۔ التی اسم موصول واحد مؤنث ، وعد المتقون (جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے) صلہ۔ موصول وصلہ مل کر الجنۃ کی صفت۔ یہ جملہ مبتدا ہے۔ ترجمہ :۔ جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت (کیفیت ) یہ ہے ! فیھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الجنۃ ہے۔ غیر اسن ۔ اسن اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ سخت بدبودار، اسن واسون (باب ضرب ونصر) مصدر (پانی کا) سڑا ہوا ہونا۔ بدبودار ہونا۔ غیر اسن ۔ ایسا پانی جس کا مزہ اور بو کبھی نہ بگڑے۔ لم یتغیر۔ مضارع نفی حجد بلم۔ مجزوم بوجہ عمل لم ۔ صیغہ واحد مذکر غائب تغیر (تفعل) مصدر۔ کبھی نہ بگڑے۔ لذۃ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یعنی لذیذ۔ اس کا مذکر لذ آتا ہے۔ یا یہ مصدر ہے اور مضاف محذوف ہے ای ذات لذۃ ) لذت والی۔ یا بطور مبالغہ لذیذ کو لذت فرما دیا۔ یعنی سراسر لذت ہی لذت ، نہ اس کی بو ناگوار ہوگی جیسے دنیوی شراب کی ہوتی ہے نہ نشہ اور خمار ہوگا۔ (تفسیر مظہری) ۔ شربین ۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ شارب واحد۔ شرب (باب سمع) مصدر پینے والے۔ عسل مصفی ۔ موصوف وصفت، نہایت صاف شہد، جس میں نہ موم کی آمیزش ہوگی نہ کسی اور چیز کی۔ ولہم میں وائو عاطفہ ہے کمن ھو : میں ک تشبیہ کا ہے من موصولہ ہے۔ کمن ھو میں من لفظ کے لحاظ سے مفرد ہے اس لئے ھو ضمیر مفرد راجع کردی گئی ہے لیکن معنی کے لحاظ سے من جمع ہے اس لئے سقوا کی ضمیر جمع لوٹائی گئی ہے۔ خالد۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ خلود باب نصر۔ مصدر۔ ہمیشہ رہنے والا۔ سدا رہنے والا۔ کیا ایسے لوگ جو سدا رہنے والی نعمتوں میں رہنے والے ہیں ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ وسقوا۔ میں وائو حالیہ ہے۔ اور عاطفہ بھی ہوسکتی ہے۔ سقوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ سقی (باب ضرب) مصدر۔ ضمیر مفعول ما لم یسم فاعلہ، جمع مذکر غائب ان لوگوں کے لئے ہے جو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہوں گے۔ ان کو پلایا جائے گا۔ ماء جمیعا۔ موصوف صفت مل کر مفعول ثانی فعل سقوا کا۔ کھولتا ہوا پانی، حمیم سخت گرم پانی کو کہتے ہیں۔ اسی اعتبار سے قریبی دوست کو بھی حمیم کہتے ہیں کیونکہ اپنے دوست کی حمایت بہت جلدی گرمی پکڑتا ہے۔ فقطععاطفہ ہے۔ قطع ماضی واحد مذکر غائب ۔ تقطیع (تفعیل ) مصدر۔ اس نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ضمیر فاعل ماء کی طرف راجع ہے۔ امعاء ہم ۔ مضاف مضاف الیہ۔ امعاء جمع ہے معی ومعی کی۔ بمعنی آنتیں امعاء مفعول ہے قطع کا۔ اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع من ہے جو کہ معنی جمع ہے۔
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے رہتے ہیں یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا ؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں

(47:16) یستمع : مضارع واحد مذکر غائب استماع (افتعال) مصدر۔ وہ سنتا ہے وہ کان لگاتا ہے۔ یہاں لفظی طور پر ضمیر واحد مذکر استعمال ہوئی ہے لیکن معنی یہ جمع کے لئے ہے۔ جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے مثلاً آگے چل کر ان کے لئے خرجوا اور قالوا استعمال ہوا ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ اوتوا العلم : صلہ۔ اوتوا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دئیے گئے۔ ان کو دیا گیا۔ العلم مفعول مالم یسم فاعلہ۔ ترجمہ :۔ قالوا للذین اوتوا العلم : تو پوچھتے ہیں اہل علم سے (ان سے جن کو علم دیا گیا) ۔ ما ذا ۔ ما حرف استفہام ہے اور ذا فصل کے لئے تا کہ ما نافیہ ہے اور ما استفہامیہ میں امتیاز ہوجائے۔ کیا چیز۔ کیا ہے۔ قال ۔ میں ضمیر فاعل رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے ۔ ای ما ذا قال محمد ﷺ ۔ انفا۔ الانف کے اصل معنی ناک کے ہیں، مجازا کسی شے کے سرے اور اس کے بلند تر حصہ کو بھی انف کہتے ہیں۔ چناچہ پہاڑ کی چوٹی کو انف الجبل کہتے ہیں۔ حمیت وغضب اور عزت وذلت کو بھی انف کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ ایک شاعر نے کہا ہے :۔ اذا غضبت تلک الانوف لم ارضھا ولم اطلب العتبی ولکن ازید ھا۔ اور جب وہ ناراض ہوں گے تو میں انہیں راضی نہیں کروں گا بلکہ ان کی ناراضگی کو اور بڑھائوں گا۔ اور متکبر کے متعلق کہا جاتا ہے :۔ شمخ فلان بانفہ۔ فلاں نے ناک چڑھائی اور ترب انفہ ۔ وہ ذلیل ہوا۔ استانفت الشیء : کے معنی کسی شے کے سرے اور مبداء کو پکڑنے اور اس کا آغاز کرنے کے ہیں۔ اور اسی سے ارشاد ہے : ماذا قال انفا : انہوں نے ابھی ابھی (شروع میں ) کیا کہا تھا۔ (المفردات) ۔ اولئک اسم اشارہ۔ یہ لوگ۔ طبع ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے مہر لگا دی۔ اس نے بند لگا دیا۔ اس نے چھاپ ٹھپہ لگا دیا۔ اس نے کندہ کردیا۔ طبع (باب فتح) مصدر۔ فائدہ ! یہ ان کفار و منافقین و منکرین اہل کتاب کا ذکر ہے جو نبی کریم ﷺ کی مجلس میں آکر بیٹھتے تھے اور آپ کے ارشادات یا قرآن مجید کی آیات سنتے تھے مگر چونکہ ان کا دل ان مضامین سے دور تھا جو آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوتا تھا اس لئے سب کچھ سن کر بھی وہ کچھ نہ سنتے تھے اور باہر نکل کر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ ابھی ابھی آپ کیا فرما رہے تھے (تفہیم القرآن) یا وہ استہزا ایسے سوال کرتے تھے۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو وہ ہدایت مزید بخشتا ہے اور پرہیزگاری عنایت کرتا ہے

(47:17) اھتدوا ۔ ماضی جمع مذکر غائب اھتداء (افتعال) مصدر۔ انہوں نے ہدایت پائی۔ اھتدوا کا لفظ جہاں قرآن مجید میں آیا ہے وہاں امور اخرویہ میں ہدایت پانا مراد ہے اھتداء کا استعمال کبھی ہدایت طلب کرنے یا اس کے لئے کوشش کرنے نیز کسی ہدایت یافتہ کی پیروی کرنے کے متعلق بھی ہوتا ہے ۔ اس باب میں ہدایت حاصل کرنے کے لئے اپنے اختیار سے کوشش کرنا کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ لغت کے اعتبار سے ھدی اور ھدایۃ میں کوئی فرق نہیں مگر ھدی کا لفظ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہدایت فرمانے کے لئے استعمال کیا ہے یعنی ہدایت کی جو نسبت اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے ہے اس کے لئے ھدی کا لفظ مخصوص ہے جیسے کہ قرآن مجید میں آیا ہے قل ان ھدی اللہ ھو الھدی (2:12) فرمادیجئے کہ خدا وند تعالیٰ کی ہدایت ہی (اصل) ہدایت ہے۔ زادہم : ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ زیادۃ (باب ضرب) مصدر۔ اس نے زیادہ دیا۔ اس نے بڑھا دیا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو زیادہ دیا۔ اس نے ان کو بڑھایا۔ اس نے ان کو مزید ہدایت بخشی۔ واتہم تقوہم ۔ اور ان کو ان کے تقوی کی توفیق بخشی۔ یا تو فیق دیتا ہے۔ ہم ضمیر مفعول ہے۔ تقوہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا تقوی۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھتے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو تو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہو سکے گی ؟ )

(47:18) فھل ینظرون۔ استفہام انکاری ہے الساعۃ سے مراد روز قیامت ہے۔ بغتۃ ۔ اچانک۔ یکایک، مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو (43:66) پس کیا یہ لوگ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان پر اچانک آجائے۔ فقد جاء اشراطھا ۔عاطفہ، قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اشراطھا مضاف مضاف الیہ اشراط جمع ہے اس کی واحد شرط ہے جس کے معنی علامت کے ہیں۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الساعۃ کی طرف راجع ہے قیامت کی نشانیاں ۔ الشرط وہ معین حکم جس کا وقوع کسی دوسرے امر پر معلق ہو اسے شرط کہتے ہیں وہ دوسرا امر اس کے لئے بمنزلہ علامت کے ہوتا ہے اس کی جمع شرائط ہے۔ عربی میں شرط پولیس کو بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ بھی ایسی علامت لگا لیتے ہیں جس سے ان کی پہچان ہوسکتی ہے۔ فقد جاءت اشراطھا ۔ سو بیشک اس کی نشانیاں (وقوع میں ) آچکی ہیں۔ اشراط یا شرط کا استعمال قرآن مجید میں صرف اسی آیت میں ہوا ہے۔ فانی لہم اذا جاء تہم ذکرہم ۔ تقدیر کلام یوں ہے فانی لہم ذکرہم اذا جاء تہم ۔ ذکرہم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء مؤخر۔ انی خبر مقدم۔ لہم متعلق خبر ۔ جملہ انی لہم ذکرہم جواب شرط ہے جو شرط سے مقدم آیا ہے۔ اذا جاء تہم جملہ شرط مؤخر۔ ترجمہ ہوگا : تو جب قیامت ان کے سامنے آکھڑی ہوئی تو ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا۔ (ترجمہ ونحواز تفسیر بیان القرآن) ۔ یعنی اگر قیامت یک لخت آگئی تو ان کی توبہ کیا ہوگی ؟ ان کو توبہ و استغفار کا تو موقعہ ہی نہ ملے گا۔ جب قیامت آہی گئی تو اس وقت تو یہ دروازہ بند ہوجائے گا اور اس وقت توبہ و استغفار یاد خدا ان کو کچھ نفع نہ دے گا۔ ذکری مصدر ہے ذکر یذکر (باب نصر) بمعنی ذکر، یاد کرنا۔ نصیحت پکڑنا نصیحت۔ ذکری کثرت ذکر کے لئے بولا جاتا ہے یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے سے واقف ہے

(47:19) فاعلم۔ پس آپ جان رکھیں۔ یا۔ یقین رکھیں۔ (ای محمد رسول اللہ ﷺ )سببیہ ہے۔ یعنی جب آپ کو مومنوں کا خوش نصیب ہونا اور کافرون کا بدنصیب ہونا معلوم ہوگیا ہے تو آپ کو اللہ کی وحدانیت اور نفس کی اصلاح احوال اور اعمال کا جو علم حاصل ہوگیا ہے اس پر جمے رہئے قیامت کے دن یہی علم آپ کے لئے مفید ہوگا۔ اعلم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ علم باب سمع مصدر۔ تو جان لے۔ استغفر امر واحد مذکر حاضر، استغفار (استفعال) مصدر۔ تو بخشش مانگ۔ تو معانی مانگ۔ فائدہ : اگرچہ نبی کریم ﷺ ہر گناہ سے معصوم تھے کسی گناہ کا ارتکاب آپ سے ممکن ہی نہ تھا۔ لیکن بندہ کی عبادت اللہ رب العزت کی جلالت و عظمت کے مقابلہ میں بہرحال قاصر ہے (عبادت کا حق کون ادا کرسکتا ہے ) اسی لئے حکم ہوا کہ اپنے کو حق عبادت ادا کرنے قاصر سمجھتے ہوئے استغفار کیجئے اور آپ کی امت کو بھی آپ کی پیروی کرنی چاہیے۔ وللمؤمنین والمؤمنات ۔ اور مؤمنوں کے لئے بھی اور مومنات کیلئے بھی۔ المؤمنت کا عطف مؤمنین پر ہے۔ ای وللمؤمنت ۔ متقلبکم ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اسم ظرف مکان۔ تقلب (تفعل) مصدر سے ۔ گھومنے پھرنے کی جگہ۔ یعنی مشاغل دنیوی میں جہاں جہاں تم گھومتے پھرتے ہو۔ مثوکم ۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے ٹھہرنے کا مقام۔ مثوی اسم ظرف مکان مثاوی جمع۔ ٹھکانا۔ مدت دراز تک ٹھہرنے کا مقام۔ فرودگاہ۔ ثوی یثوی (باب ضرب) ثواء ثوی ۔ مصدر۔ متعدی بنفسہ بھی ہے ای ثوی المکان اور ثوی بالمکان۔ دونوں کا مطلب وہ اس جگہ ٹھہرا ہوگا۔ مطلب : متقلبکم ومثوکم کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام احوال کو جانتا ہے تمہاری کوئی حالت اس سے پوشیدہ نہیں اس لئے اس سے ڈرتے رہو۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بیہوشی (طاری) ہو رہی ہو تو ان کے لئے خرابی ہے

(47:20) ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورۃ۔ ای یقول المؤمنون الصادقون حرصا علی الجھاد لما فیہ من الثواب الجزیل ھلا انزلت سورة یؤمر فیھا بالجھاد ۔ اور جو سچے اور صادق ایمان والے ہیں وہ جہاد کے ثواب عظیم کے مدنظر وفور شوق سے کہتے ہیں کہ کوئی ایسی سورت کیوں نہیں نازل ہوتی جس میں صریحا جہاد کا حکم دیا گیا ہو۔ لولا تحضیضیہ ہے (ابھارنے اکسانے کے لئے) نیز ملاحظہ ہو (6:43) ۔ سورة محکمۃ : موصوف وصفت، محکمۃ اسم مفعول واحد مؤنث محکم کی گئی۔ مضبوط کی ہوئی۔ یعنی وہ آیت جو معنی مراد پر صریح دلالت کرے۔ احکام (افعال) مصدر سے۔ ذکر۔ ماضی مجہول۔ واحد مذکر غائب۔ ذکر کیا گیا ہو۔ ذکر (باب نصر) مصدر۔ فیھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع سورة ہے۔ القتال : ذکر کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ ای الجھاد۔ ذکر فیھا القتال۔ ای امر فیھا بالجھاد جس میں جہاد کا حکم دیا گیا ہو۔ الذین فی قلوبہم مرض : موصول وصلہ مل کر رایت کا مفعول۔ تو دیکھے ایسے لوگوں کو جن کے دلوں میں مرض ہے۔ مرض سے مراد ضعف فی الدین۔ ایمان کی کمزوری ہے۔ (نفاق کا مرض) ایسے ہی معنوں میں دوسری جگہ آیا ہے۔ فی قلوبہم مرض فزادہم اللہ مرضا (2:10) ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ پس خدا نے ان کو مرض اور زیادہ کردیا۔ یہاں آیت زیر مطالعہ میں نفاق کا مرض مراد ہے۔ ینظرون الیک نظر المغشی علیہ من الموت جملہ حالیہ ہے بایں حال کہ وہ تیری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔ المغشی اسم مفعول واحد مذکر۔ غشی باب سمع مصدر۔ غشی علیہ غشیا بےہوشی طاری ہونا۔ غشو مادہ۔ (ناقص وادی) ۔ المغشی بروزن مفعول اصل میں مغشوی تھا۔ ماضی غشی مضارع یغشی اسم فاعل (راضی کہ تعلیل عرفی کے بعد راض ہوا) کی موافقت سے وائو کو یاء کیا ی کو ی میں مدغم کیا اور ما قبل کے ضمہ کو ی کی مناسبت سے کسرہ سے بدلا۔ مغشی ہوگیا۔ ایسے ہی رضو (ناقص وادی) باب سمع سے اسم مفعول مرضی ہوگا۔ المغشی بےہوش، جس پر بےہوشی طاری ہو۔ من الموت موت کی (غشی) موت کی (بےہوشی) ۔ فاولی لہم ۔ طاعۃ وقول معروف قف۔ یہاں وقف کی مندرجہ ذیل علامات کو مد نظر رکھیں۔ (ہ) یہ وقف تام کی علامت ہے ۔ یہاں بات پوری ہوجاتی ہے یہاں ٹھہرنا چاہیے۔ (ج) یہ وقف تام کی علامت (ہ) برج کی علامت ہے یہ وقف جائز کی علامت ہے۔ یہاں ٹھہرنا بہتر اور نہ ٹھہرنا جائز ہے۔ (قف) اس کے معنی ٹھہر جائو اور یہ علامت وہاں استعمال کی جاتی ہے جہاں پڑھنے والے کا ملا کر پڑھنے کا احتمال ہو۔ (1) بعض علماء نے پر وقف کیا ہے اس صورت میں جملہ فالی لہم کا ربط سابقہ کلام سے ہے اس صورت میں فاولی لہم میں سببیہ ہے یعنی بہ سبب اس بات کے کہ جہاد کے وجوب میں جب کوئی آیت محکمہ نازل ہوئی تو منافقین جن کے دلوں میں نفاق کا مرض تھا ان پر موت کی سی غشی کا عالم طاری ہوگیا لہٰذا ایسے لوگون کے لئے اولی (ہلاکت ، بربادی) ہے یہ ویل (ہلاکت و بربادی) سے افعل التفضیل کا صیغہ ( بمعنی سخت بربادی، سخت ہلاکت) بنایا گیا ہے۔ پہلے ویل میں قلب کیا گیا یعنی عین کلمہ کو لام کلمہ اور لام کلمہ کو عین کلمہ بنایا گیا۔ ولی ہوگیا۔ پھر افعل کے وزن پر اولیٰ بنایا گیا۔ (2) لغات القرآن میں ہے :۔ اولی زیادہ لائق، زیادہ مستحق، زیادہ قریب۔ ولی سے جس کے معنی پے در پے واقع ہونے کے ہیں۔ اور اسی لحاظ سے قریب ہونے کے معنی میں اس کا استعمال ہوتا ہے اس کا صلہ جب لام واقع ہو تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے۔ اس صورت میں خرابی اور بربادی سے زیادہ قریب ہونے یا اس کے زیادہ مستحق ہونے کے ہوں گے۔ چناچہ اصمعی نے اولی لہم کا یہ معنی لکھا ہے کہ :۔ معناہ قاربہ ما یھلکہ یعنی اس کو ہلاک کرنے والی چیز قریب ہوگئی۔ ثعلب کہتے ہیں :۔ لم یقل احد فی اولی احسن مما قال الاصمعی یعنی اولیٰ کی تحقیق میں اصمعی کا قول نہایت پسندیدہ ہے۔ بربادی و ہلاکت کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے اولی لک فاولی (75:34) تیرے لئے بربادی ہی بربادی ہے۔ (3) اگر وقت پر کیا جاوے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ تو طاعۃ وقول معروف علیحدہ جملہ ہوگا۔ اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں (1) طاعۃ وقول معروف : خبر ہے جس کا مبتداء محذوف ہے ای امرہم طاعۃ وقول معروف۔ ان کو چاہیے کہ فرمانبرداری کریں اور اچھی بات کہیں (تفسیر حقانی، بیضاوی) یہاں قول معروف کو موصوف وصفت لیا گیا ہے۔ (2) ان کی اطاعت اور بات چیت (کی حقیقت) معلوم ہے۔ ( طاعۃ وقول مبتدا، معروف خبر) ۔ بیان القرآن، الماجدی، المظہری ) ۔ (3) طاعۃ وقول معروف خیر لہم : طاعۃ وقول معروف مبتدا۔ خیر لہم خبر۔ فرمانبرداری کرنا اور اچھی بات کہنا ان کے لئے بہتر تھا۔ (کشاف، مدارک) ۔ (4) اگر وقف قول معروف (قف) پر کیا جائے تو عبارت ہوگی۔ فاولی لہم طاعۃ وقول معروف ۔ اس صورت میں بھی مختلف اقوال ہیں :۔ (1) اولی بمعنی احق والیق ۔ یعنی زیادہ مناسب و زیادہ صحیح۔ اس صورت میں طاعۃ مبتدا مؤخر ہوگا۔ اور یہ خبر مقدم ۔ ای الطاعۃ اولی لہم والیق بہم یعنی اطاعت ان کے لئے زیادہ مناسب تھی۔ (ضیاء القرآن) ۔ (2) اولی ۔ افعل التفضیل، مبتدا۔ و (لہم) صلتہ واللام بمعنی الباء و (طاعۃ) خبر کانہ قیل : الی بہم من النظر الیک نظر المغشی علیہ من الموت طاعۃ وقول معروف (روح المعانی) آپ کی طرف ایسے آدمی کی نظر سے دیکھنا جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔ اس سے اطاعت اور قول معروف بہتر تھا۔ یعنی یہ ان کے لئے بہتر تھا کہ وہ ایسے حکم کی اطاعت کرتے اور اس کے حق میں اچھے کلمات منہ سے نکالتے۔
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

(خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا

(47:21) طاعۃ وقول معروف اوپر ملاحظہ ہو۔ فاذا عزم الامر۔ پھر جب بات پکی ہوگئی، یعنی جب کفار سے جہاد کی ٹھن گئی۔ عزم ماضی واحد مذکر غائب عزم (باب ضرب) مصدر سے ہے۔ بطور فعل لازم استعمال ہوا ہے۔ لیکن علی کے صلہ کے ساتھ بمعنی کسی کام کا پختہ ارادہ کرنا۔ فعل متعدی آتا ہے۔ اذا ۔ جب : اس وقت، ناگہاں، ظرف زمان ہے : زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے ۔ اور کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے جیسے وذا راوا تجارۃ او لھوا ن انفضوا الیھا (62:11) اور جب انہوں نے سودا بکتا یا تماشہ ہوتا دیکھا تو منتشر ہو کر اس کی طرف چل دئیے اور اگر اذا قسم کے بعد واقع ہو تو پھر زمانہ حال کے لئے آتا ہے۔ جیسے والنجم اذا ھوی ۔ (53:1) قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے۔ اذا اکثر وبیشتر تو شرط ہی ہوتا ہے مگر مفاجات یعنی کسی چیز کے اچانک پیش آجانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فاذاھی حیۃ تسعی (20:20) اور وہ ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ فاذا عزم الامر فلو صدقوا اللہ لکان خیرا لہم۔ فاذا عزم الامر جملہ شرط ہے اس کا جواب فلو صدقوا اللہ لکان خیرا لہم جواب شرط ہے۔ جب جہاد کی بات پکی ہوگئی تو اگر یہ لوگ اللہ سے سچے رہتے (یعنی جہاد کی انتہائی رغبت کا جو انہوں نے اظہار کیا اگر وہ اس میں سچے ثابت ہوتے) تو ان کے لئے بہتر تھا۔ اس کی مثال : اذا جاء الشتاء فلو جئتنی لکسوتک۔ بعض کے نزدیک شرط کی جزا محذوف ہے اور تقدیر کلام یوں ہے فاذا عزم الامر کرھوا ۔ جب جہاد کی بات پکی ہوگئی (یعنی جب جہاد فرض ہوگیا اس کی تیاریاں شروع ہوگئیں اور مقابلہ ومقاتلہ کی بات ٹھن گئی) تو وہ حکم جہاد کو ناگوار سمجھنے لگے۔ اس صورت میں فلو صدقوا اللہ لکان خیرالہم ۔ علیحدہ کلام ہے۔ فلو صدقوا اللہ جملہ شرط ہے اور لکان خیرا لہم جواب شرط ہے۔ اگر وہ اللہ سے سچے رہتے (یعنی رغبت جہاد کو سچ کردکھاتے) تو ان کے لئے یہ الصدق (سچ کردکھانا) بہتر ہوتا۔ صدقوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ صدق (باب ضرب ) مصدر سے۔ انہوں نے سچ کر دکھایا (اگر وہ ) سچ کردکھاتے
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

(اے منافقو ! ) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو

(47:22) فھل عسیتم خطاب الذین فی قلوبہم مرض سے ہے غائب سے حاضر کی طرف التفات، تشدید وتوبیخ کے لئے ہے کہ تمہارے دلوں میں جو نفاق کا مرض ہے اس کی وجہ سے نہ صرف تم اللہ سے بلند بانگ دعووں میں سچے ثابت نہ ہوسکے بلکہ تم سے اس سے پست تر کردار کا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے یا تم لوگوں کے حاکم بن گئے تو زمین میں فساد برپا کردو گے ۔ اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ! (تفہیم القرآن) ۔ ھل حرف استفہامیہ ہے۔ عسی بمعنی عنقریب ہے، شتاب ہے، ممکن ہے توقع ہے ، اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی (رح) اپنی تفسیر الاتقان فی علوم القران میں لکھتے ہیں عسی فعل جامد ہے غیر منصرف ہے اس کی گردان نہیں آتی (قرآن مجید میں عسی صیغہ واحد مذکر غائب وعسیتم صیغہ جمع مذکر حاضر استعمال ہوا ہے اور بس) ۔ اور اسی بناء پر ایک جماعت کا دعویٰ ہے کہ یہ حرف ہے اس کے معنی پسندیدہ بات میں ” امید “ کے اور ناپسند یدہ بات میں اندیشہ اور کھٹکے کے ہیں۔ اور یہ دونوں معنی اس آیت میں جمع ہیں۔ عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیئا وھو شرلکم (2: 216) اور توقع ہے کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں۔ اور خدشہ ہے کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ بری ہو تمہارے حق میں۔ ابن فارس کا بیان ہے کہ عسی قرب اور نزدیکی کے لئے آتا ہے جیسے کہ :۔ قل عسی ان یکون ردف لکم (27:72) تو کہہ کیا بعید ہے جو تمہاری پیٹھ پر پہنچ چکی ہو۔ اور کسائی نے کہا ہے کہ ہر وہ جگہ جہاں قرآن مجید میں عسی خبر کے لئے آیا ہے بصیغہ واحد آیا ہے جیسا کہ آیت سابقہ میں اور اس کے معنی ہوں گے عسی الامر ان یکون کذا (یعنی توقع ہے کہ معاملہ یوں ہو) اور جہان استفہام کے لئے آیا ہے بصیغہ جمع ہوتا ہے جیسے فھل عسیتم ان تولیتم (آیت زیر مطالعہ) پھر تم سے یہ بھی اندیشہ ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے۔ (مزید بحث کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد چہارم) ۔ عسیتم : توقع ہے اندیشہ ہے۔ قاضی شوکانی لکھتے ہیں :۔ کہ اس پر حرف استفہام (یعنی ھل ) کو امر متوقع کے ثبوت کے لئے داخل کیا ہے۔ یعنی یہ بتلانا ہے کہ یہ بات ہو کر رہے گی۔ فھل عسیتم ۔ پھر تم سے یہ اندیشہ ہے کہ ۔ یا تم سے متوقع ہے کہ ۔۔ (عسیتم اہل حجاز کی لغنت کے مطابق ہو ورنہ بنی تمیم ضمیر کو عسی کے ساتھ نہیں ملاتے) ۔ اس کی خبر ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم ہے۔ شرط ان تولیتم جملہ معترضہ ہے ما بین عسی اور ان تفسدوا کے۔ تولیتم ماضی صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر۔ و ل ی مادہ کے حروف سے باب تفعل سے مندرجہ ذیل معانی میں آتا ہے۔ (1) دوستی کرنا۔ رفیق ہونا۔ جیسے کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ (22:4) جس کے بارہ میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو بھی اسے دوست رکھے گا تو وہ اس کو گمراہ کر دے گا۔ (2) منہ پھیرنا۔ پیٹھ پھیرنا۔ اعراض کرنا۔ جیسے وان یتولوا یعذبہم اللہ عذابا الیما (9:74) اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو خدا ان کو دکھ دینے والا عذاب دے گا۔ اس معنی میں یہ اکثر عن کے صلہ کے ساتھ متعدی ہوگا۔ عن خواہ لفظوں میں مذکور ہو یا پوشیدہ ہو۔ (3) متولی ہونا۔ حاکم ہونا۔ والی ہونا۔ جیسے فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض۔ (آیت ہذا زیر مطالعہ 47:22) پھر تم سے یہ بھی اندیشہ ہے یا تم سے متوقع ہے کہ اگر تم حاکم ہوجائو تو ملک میں خرابی کرنے لگو۔ اور اگر عن مقدر مانا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا :۔ پھر تم سے یہ بھی اندیشہ ہے یا تم سے متوقع ہے کہ اگر تم (اسلام سے ) منہ موڑ گئے یا پھرگئے تو ملک میں خرابی کرنے لگو :۔ ان تفسدوا : ان مصدریہ ہے کہ تم (دنیا میں یا ملک میں) فساد مچائو۔ وتقطعوا ارحامکم۔ وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ ان تفسدوا پر ہے۔ اس آیت میں خطاب الذین فی قلوبہم مرض سے ہے یہ التفات ضمائر زجرو توبیخ کی تاکید کے لئے ہے۔ تقطعوا مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ نون اعرابی ان کے عمل سے گرگیا۔ تقطیع (تفعیل) مصدر۔ تم کاٹو گے ۔ تم توڑو گے۔ تم پارہ پارہ کرو گے۔ تم ٹکڑے ٹکڑے کرو گے۔ ارحامکم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہے تقطعوا کا۔ تمہارے قرابت دار۔ تمہاری قرابتیں۔ ارحام رحم کی جمع ہے۔ رحم عورت کے پیٹ کی وہ جگہ ہے جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے مجازا قرابت کے معنی میں مستعمل ہے کیونکہ اہل قرابت بالواسطہ یا بلا واسطہ ایک ہی رحم سے پیدا ہوتے ہیں۔
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے

(47:23) اولئک۔ متذکرہ بالا مخاطبین کی طرف اشارہ ہے۔ التفات ضمائر غصہ ونفرت کے اظہار کے لئے ہے درجۂ خطاب سے گراوٹ کے طور پر حاضر کے بجائے غائب کی ضمیر کا استعمال کیا گیا ہے۔ مبتدا ہے اور اگلا الذین لعلہم اللہ اس کی خبر ہے یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے۔ فاصمہم :عاطفہ اصم ماضی واحد مذکر غائب اصمام (افعال) مصدر اس نے بہرہ کردیا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جو اولئک کی طرف راجع ہے پھر اس نے ان کو بہرہ کردیا (کہ حق کی بات نہیں سن سکتے) ۔ واعمی ابصارہم وائو عاطفہ اعمی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اعماد (افعال) مصدر۔ جس کے معنی نابینا کردینے کے ہیں۔ یہاں چشم بصیرت کا کھودینا مراد ہے ابصارہم مضاف مضاف الیہ مل کر اعمی کا مفعول۔ اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا (کہ چشم حقیقت میں سے محروم ہوگئے) ۔ فائدہ : ویقول الذین امنوا سے لے کر آیت واعمی ابصارہم آیت 23 تک خطاب ایک ہی گروہ سے ہے لیکن ان کی نیت اور اعمال و افعال کے پیش نظر ان کو کبھی صیغہ غائب سے یاد کیا ہے کبھی حاضر سے یہ التفات ضمائر حسب حال ان کے اعمال و افعال کے ہے۔ اولاً عام بات ہو رہی تھی اور فرمایا کہ اہل ایمان کہتے ہیں کہ کوئی نئی سورت جہاد کے بارے میں کیوں نازل نہیں ہوئی جس میں صریحا جہاد کا حکم ہو کیونکہ مسلمان کفار کی زیادتیوں سے تنگ آگئے تھے۔ اور ان کے جو روستم کے سلسلہ میں اینٹ کا جواب پتھر کی صورت میں ان کو دینے کا حکم نہ تھا۔ اس لئے وہ حکم الٰہی کا بڑی بےتابی سے انتظار کر رہے تھے کہ جہاد کا حکم ہو تو اپنے تن، من، دھن کی قربانی دے کر دنیا و آخرت کی نعمتیں لوٹیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا تھا جو کہ ان کے دل منافقت کی مرض میں مبتلا تھے ظاہرا وہ مؤمنین صادقین سے بھی بڑھ چڑھ کر اپنے شوق جہاد کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ تو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا حکم صریح الفاظ میں آہی گیا تو اہل ایمان نے شکر الٰہی بجا لایا۔ لیکن منافقین کی حالت دیکھنے کے لائق تھی ان کے حواس باختہ اور اوسان خطا ہوگئے یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان پر موت کی غشی کا عالم طاری ہے : ان کی اس زبوں حالی اور بزدلی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے غائب کے صیغہ سے حاضر میں التفات کر کے ان کو خطاب کر کے کہا۔ بزدلو ! یہ ہے تمہارے بلند بانگ دعووں کی حقیقت تمہارا وہ جوش و خروش کدھر گیا۔ تمہاری وہ بڑھکیں کیا ہوگئیں تم تو ایسے ناقابل اعتبار اور جھوٹے ہو کہ تمہاری کسی بات پر بھی یقین نہیں کیا جاسکتا۔ تم سے کیا بعید ہے کہ اگر تمہیں کل کو حاکم بنادیا جائے تو بجائے عدل و انصاف کے تم زمین میں فساد برپا کر دو ۔ اور اپنوں ہی کے گلے کاٹنے لگو۔ یہ خطاب صیغہ حاضر میں ان منافقین کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حقارت اور ان سے نا پسندیدگی کے اظہار کے لئے کیا گیا اور ان کی زجروتوبیخ کے لئے اظہار نفرت کے بعد سلسلہ کلام پر پہلے کی طرح صیغہ غائب میں شروع کردیا گیا۔ کہ یہ منافق لوگ ایسے ہیں کہ ان کی نیتوں، اعمال و افعال اور گفتاروکردار کی حقیقت کے مدنظر اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ان کی آنکھوں کو نور بصیرت سے محروم کردیا اور ان کے کانوں کو آواز حق سننے سے عاری کردیا کہ اپنے اعمال کی پاداش میں وہ ان نعمتوں سے استفادہ ہی نہ کرسکیں۔
Ayah 47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

(47:24) افلا یتدبرون القران : ا ہمزہ استفہامیہکا عطف جملہ محذوف پر ہے لا یتدبرون مضارع منفی صیغہ جمع مذکر غائب تدبر تفعل مصدر القران اسم مفعول واحد مذکر۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ (یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے، قرآن کے اندر جو نصیحتیں ہیں اور تنبیہات ہیں ان کو تلاش نہیں کرتے۔ اگر تفحص اور تلاش سے کام لیتے تو حق ان پر واضح ہوجاتا۔ یہ استفہام انکاری توبیخی ہے۔ (تفسیر المظہری) ۔ ام علی قلوب اقفالھا ۔ ام حرف عطف بمعنی یا ہے یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا کرتے ہیں مگر ان کے دلوں پر قفل لگنے سے کچھ سمجھ نہیں پاتے۔ یا ام بمعنی بل ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے نہ صرف یہ بلکہ مزید برآں ان کے دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔ ام علی قلوب اقفالھا : کی تشریح میں صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ یہ استعارہ بالکنایہ ہے قلب کو خزانے سے تشبیہ دی اور ہر خزانہ کا مقفل ہونا لازم نہیں تو مناسب ضرور ہے مشبہ بہ کی مناسبات کو مشبہ کے لئے ثابت کیا ہے پھر اقفال کی قلوب کی طرف اضافت کی گئی ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ دلوں پر جو قفل پڑے ہیں وہ یہ مستعمل قفل نہیں ہیں بلکہ غیر معمولی تالے ہیں جو قلوب کے مناسب ہیں (یعنی غفلت کے تالے ہیں لوہے پیتل وغیرہ کے نہیں) ۔ گویا بصورت کنایہ بات بتائی کہ ان کے اندر استعداد ہی نہیں ہے ان کے دل نصیحت پذیری کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔ اگر بالفرض قرآن میں یہ غور بھی کریں تب بھی سمجھ نہیں پائیں گے “۔
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھرگئے شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا

(47:25) ارتدوا ماضی جمع مذکر غائب ارتداد (افتعال) مصدر۔ جس کے معنی جس راستہ سے آیا اسی راستہ سے واپس جانے کے ہیں۔ وہ لوٹ گئے۔ وہ الٹے پھرے۔ ادبارہم مضاف مضاف الیہ ادبار جمع دبر واحد۔ ان کی پیٹھیں دبر ، پیٹھ، پشت، پچھلا حصہ۔ ارتدوا علی ادبارہم وہ پیٹھ دے کر پھرگئے۔ انہوں نے راہ ارتداد اختیار کیا۔ تبین۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تبین (تفعل) مصدر ۔ جس کے معنی ظاہر ہونے اور واضح ہوجانے کے ہیں۔ بیان کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک تو خود دلالت حال۔ کہ صورت بہ ہیں حالت مپرس۔ دوسرے آزمائش کے ذریعہ کسی چیز کا کھلنا اور واضح ہوجانا۔ خواہ آزمائش بذریعہ نطق ہو یا کتابۃ یا اشارۃ۔ سول۔ ماضی واحد مذکر غائب تسویل (تفعیل) مصدر جس کے معنی نفس کا اس چیز کو کہ جس پر وہ حریص ہے مزین کرنا اور بری کو اچھی شکل میں پیش کرنے کے ہیں۔ سول لہ الشیطن۔ ای اغواہ وزین لہ وسھل لہ ان یفعل الشیئ۔ شیطان نے اس کو گمراہ کیا اور اس کو مزین کر کے دکھایا۔ اور کسی کام کا کرنا سہل کردیا۔ سولت لہ نفسہ کذا : اس کے نفس نے اس کو مزین کردیا اور جگہ قرآن مجید میں ہے وکذلک سولت لی نفسی (30:96) اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا تھا۔ واملی لہم : وائو عاطفہ املی۔ ماضی واحد مذکر غائب املاء (افعال) مصدر۔ جس کے معنی مہلت دینے کے ہیں۔ ڈھیل دینے اور لمبی امیدیں دلانے کے ہیں ۔ اور اس نے ان کو لمبی لمبی امیدیں دلائیں۔ (جھوٹی امیدوں کے خوشنما قلعے کھڑے کر دئیے) اور جگہ قرآن مجید میں ہے وکاین من قریۃ املیت لھا (22:48) اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا۔