47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (اوروں کو) خدا کے راستے سے روکا خدا نے انکے اعمال برباد کر دئیے

جن لوگوں نے رسول اکرم اور قرآن کریم کا خود بھی انکار کیا یعنی عتبہ، شیبہ، بنیہ بن حجاج، ابو البختری بن ہشام اور ابو جہل وغیرہ اور دوسروں کو بھی حق تعالیٰ کے دین اور اس کی پیروی سے روکا ان کے تمام اعمال اور خرچے بدر کے دن ضائع کردیے گئے۔
Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمد ﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے انکے گناہ دور کر دئیے اور انکی حالت سنوار دی

اور جو لوگ حق تعالیٰ اور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے یعنی صحابہ کرام اور انہوں نے اچھے کام کیے اور بالخصوص وہ سب اس قرآن کریم پر ایمان لائے جو بذریعہ جبریل امین رسول اکرم پر نازل کیا گیا۔ تو حق تعالیٰ بذریعہ جہاد ان کے گناہوں کو معاف کردے گا اور دنیا میں ان کی حالت اور نیت و اعمال درست کردے گا یا یہ کہ اسلام میں ان کو غلبہ دے گا۔ شان نزول : وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (الخ) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (الخ) کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ مکہ والے ہیں ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور والَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ان اوصاف کے مالک انصار ہیں۔
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اسلیے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے اسی طرح خدا لوگوں سے انکے حالات بیان فرماتا ہے

اب اللہ تعالیٰ اس چیز کو واضح فرما رہے ہیں کہ جس کی وجہ سے کافروں کا کام ضائع اور مسلمانوں کے اعمال درست ہوئے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ ان کے اعمال تو ان کے کفر و شرک کی وجہ سے برباد ہوئے اور اہل ایمان نے قرآنی صحیح راستہ کو اختیار کیا۔
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کر چکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں انکو) مضبوطی سے قید کرلو پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے یہ (حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا

اسی طرح اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے سامنے ان سے پچھلے لوگوں کی مثالیں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جھٹلانے پر کس طرح ہلاک کیا اب مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جب بدر کے دن کفار سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مار دو یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خونریزی کرچکو اور ان کو قید کرلو تو قیدیوں کو خوب مضبوط باندھ لو پھر اس کے بعد یا تو قیدی پر احسان کر کے بلا فدیہ لیے اسے چھوڑ دینا یا قیدی سے اس کی جان کا فدیہ لے کر چھوڑ دینا جبکہ کفار اپنے ہتھیار نہ رکھیں یا یہ کہ جب تک کافر خود نہ چھوڑیں۔ کافر کی یہی سزا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو فرشتوں کے ذریعہ سے ان کفار سے خود ہی انتقام لے لیتا یا یہ کہ بغیر تمہارے لڑے خود بدلہ لے لیتا لیکن یہ حکم اس لیے دیا تاکہ اہل ایمان کا کافروں کے ذریعے سے امتحان کرے یا یہ کہ قریب کا قریب کے ساتھ امتحان کرے اور جو حضرات صحابہ بدر کے دن اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ شان نزول : وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (الخ) قتادہ سے روایت کیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ یہ آیت غزوہ احد کے دن نازل ہوئی ہے، جس وقت رسول اکرم گھاٹی میں تھے اور ان میں قتل اور زخموں کی کثرت ہوگئی تھی اس روز مشرکین نے پکار کر کہا کہ ہبل بت بلند ہوا اس وقت مسلمانوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سب سے بلند اور برتر ہے اس پر مشرکین کہنے لگے کہ ہمارے پاس عزی بت ہے اور تمہارے پاس عزی نہیں اس پر رسول اکرم نے فرمایا کہ ان کے جواب میں کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مولی اور مددگار ہے اور وہ تمہارا مددگار نہیں۔
Ayahs 47:5–6

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

(بلکہ) انکو سیدھے راستے پر چلائے گا اور ان کی حالت درست کرے گا

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو بہشت میں جس سے ان کو شناسا کر رکھا ہے داخل کرے گا

(5۔ 6) اور ان کو نیک اعمال کی توفیق دے گا اور ان کی حالت و نیت کو درست رکھے گا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں نجات دے گا اور قیامت کے دن ان کے اعمال کو قبول فرمائے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی ان کو پہچان کرا دے گا کہ وہ جنت میں اس طرح چلے جائیں گے جیسا کہ دنیا میں اپنے مکانات میں چلے جایا کرتے تھے۔
Ayah 47:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا

اے ایمان والو ! اگر تم دشمن کے ساتھ لڑائی میں رسول اکرم کی مدد کرو گے تو دشمن پر غلبہ اور فتح نصیب کر کے تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی میں تمہارے قدم جما دے گا۔
Ayah 47:8

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ انکے اعمال کو برباد کر دے گا

اور جو کفار بدر کے دن مقابلہ کے لیے آئے ان کے لیے تباہی اور بربادی ہے اور حق تعالیٰ ان کی تمام کوششوں اور اعمال کو کالعدم کردے گا۔
Ayah 47:9

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو ناپسند کیا تو خدا نے انکے اعمال اکارت کر دئیے

اور یہ جھوٹا کرنا اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے اس چیز کا انکار کیا جو بذریعہ جبریل امین محمد پر نازل کی گئی تو حق تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال کو ضائع کردیا۔
Ayahs 47:10–11

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ خدا نے ان پر تباہی ڈال دی اور اسی طرح کا (عذاب) ان کافروں کو ہوگا

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں

کیا کفار مکہ نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا اور انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان سے پہلے کفار کا کیا انجام ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کفار مکہ پر بھی اسی قسم کا عذاب نازل ہونے والا ہے۔ اور مسلمانوں کو یہ فتح اس لیے حاصل ہوئی کہ حق تعالیٰ اہل ایمان کا مددگار ہے اور ان کفار مکہ کا کوئی مددگار نہیں۔
Ayah 47:12

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل فرمائے گا اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں اور انکا ٹھکانا دوزخ ہے

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے حق تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو لوگ کافر ہیں وہ دنیا میں عیش کر رہے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کو بغیر کل کی فکر کیے ہوئے پورا کر رہے ہیں جیسا کہ چوپائے کھایا کرتے ہیں اور آخرت میں دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہے۔
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور قوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور انکا کوئی مددگار نہ ہوا

اور بہت سی بسیتوں والے جو طاقت و شوکت میں اس بستی یعنی مکہ والوں سے زیادہ تھے نہوں نے آپ کو مدینہ منورہ کی طرف نکال دیا سو ہم نے تکذیب کے وقت ان کو ہلاک کردیا، پھر عذاب الہی کے مقابلہ میں کوئی ان کا مددگار نہ ہوا۔ شان نزول : وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ (الخ) ابو یعلے نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ہجرت کے وقت غار کی جانب روانہ ہوئے تو مکہ مکرمہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ تو تمام شہروں میں مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اور اگر تیرے رہنے والے مجھے نہ نکالتے تو میں نہ نکلتا۔ اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی یعنی بہت سی بستیاں ایسی ہیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے زیادہ تھیں۔
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے راستے پر (چل رہا) ہو وہ انکی طرح (ہو سکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کر کے دکھائے جائیں اور جو اپنی خاہشوں کی پیروی کریں

تو جو ذات یعنی رسول اکرم اپنے پروردگار کے واضح اور صحیح رستہ پر ہوں تو کیا وہ ابو جہل وغیرہ کی طرح ہوسکتے ہیں جن کی بدعملی ان کو بہتر معلوم ہوتی ہے اور وہ بتوں کو پوجتے ہیں۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اسکی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے اور شہد مصفی کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور انکے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے (کیا یہ پرہیزگار) انکی طرح (ہو سکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جنکو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو انکی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا

جس جنت کا کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہوں گی جس کے مزے اور خوشبو میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلہ نہ ہوگا کہ کچھ تلخی آجائے اور اس پر جھاگ آجائے جیسا کہ اونٹوں کے دودھ میں ہوتا ہے۔ اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی کہ اس شراب کو کسی چیز سے نچوڑا نہیں گیا ہے اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو بالکل صاف شفاف ہے کہ شہد کی مکھیوں کا وہ شہد نہیں ہوگا اور جنتیوں کے لیے جنت میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور دنیا میں ان کے رب کی طرف سے ان کے گناہوں کی بخشش ہوگی۔ کیا ایسے لوگ ان لوگوں جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ دوزخ سے نکالے ہی جائیں گے اور کھولتا ہوا پانی ان کو پینے کے لیے دیا جائے گا کہ وہ ان کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا جیسا کہ ابو جہل وغیرہ۔
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے رہتے ہیں یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا ؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں

بعض آدمی یعنی منافقین میں سے ایسے ہیں کہ وہ جمعہ کے دن آپ کے خطبہ کی طرف کان تو لگاتے ہیں مگر وہ لوگ آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر جاتے ہیں تو اہل علم صحابہ کرام یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہتے ہیں کہ ابھی رسول اکرم نے منبر کیا فرمایا، جس سے مقصود ان کا آپ کے ساتھ تعریض کرنا ہوگا ہے۔ یہ منافقین ایسے لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ وہ حق اور ہدایت کی بات سمجھتے ہی نہیں اور خفیہ طور پر کفر و نفاق خیانت اور رسول اکرم کے ساتھ دشمنی کرنے پر قائم ہیں۔ شان نزول : وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ (الخ) اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ مومنین اور منافقین سب رسول اکرم کے پاس جمع رہتے تو مومنین تو آپ کے فرامین کو سن کر محفوظ رکھتے تھے اور منافقین محفوظ نہیں رکھتے تھے باہر نکل کر مسلمانوں سے پوچھتے کہ ابھی آپ نے کیا فرمایا اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی بعض آدمی ایسے ہیں کہ وہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو وہ ہدایت مزید بخشتا ہے اور پرہیزگاری عنایت کرتا ہے

اور جو حضرات ایمان کے ذریعہ ہدایت پر ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کا خطبہ سننے سے انہیں امور دین میں اور زیادہ بصیرت اور سچائی عطا فرماتا ہے اور ان کو ان کے تقوی کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ یعنی ان کو ترک اور اجتناب محارم کی وجہ سے اعزازو سرفرازی عطا کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جو حضرات ناسخ پر قائم ہیں حق تعالیٰ منسوخ کی وجہ سے ان کی ہدایت کو بڑھاتا ہے اور ان کو ناسخ پر عمل کرنے اور منسوخ کو چھوڑنے کی وجہ سے سرفراز فرماتا ہے۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھتے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو تو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہو سکے گی ؟)

یہ کفار مکہ جبکہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو کیا یہ قیامت کے ہی منتظر ہی کہ وہ ان پر اچانک آپڑے حالانک اس کی متعدد نشانیاں تو آچکی ہیں۔ یعنی انشقاق قمر رسول اکرم کی نزول قرآن کریم کے ساتھ بعثت وغیرہ تو جب قیامت ان کے سامنے آکھڑی ہوگی تو پھر انہیں توبہ کی کہاں توفیق ہوگی۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے سے واقف ہے

آپ تو اس کا یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نفع و نقصان پہنچانے والا اور دینے اور روکنے والا عزت اور ذلت دینے والا اور کوئی نہیں یا یہ مطلب ہے کہ آپ جان لیجیے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ کے برابر اور کسی چیز کو فضیلت حاصل نہیں۔ اور آپ اپنی خطاء صوری کی معافی مانگتے رہیے (تاکہ امت کے لیے یہ طریقہ مسنون ہوجائے) اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی مغفرت کی بھی دعا کرتے رہیے اور حق تعالیٰ دنیا میں تمہارے چلنے پھرنے اور اعمال کرنے اور آخرت میں آنے اور آخرت میں تمہارے ٹھکانے کی پوری خبر رکھتا ہے۔
Ayahs 47:20–21

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بیہوشی (طاری) ہو رہی ہو تو ان کے لئے خرابی ہے

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

(خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا

جو لوگ مخلص ایمان والے ہیں وہ ذکر الہی کے شوق اور اس کی اطاعت کی خواہش میں ہمیشہ اس بات کے شائق رہتے ہیں کہ کوئی نئی سورت کیوں نہ نازل ہوئی پھر جس وقت کوئی سورت حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا بھی حکم ہوتا ہے تو جن کے دلوں میں شک و نفاق کی بیماری ہے اور جہاد کا ذکر کرنے کے وقت آپ کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسا کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو کیونکہ وہ جہاد کو پسند نہیں کرتے عنقریب ان کی کمبختی آنے والی ہے تو مسلمان حق تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے لیے تیار ہیں اور اچھی بات کہتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ حق تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا اور حضور کے سامنے اچھی بات کہنا یہ منافقین کے حق میں انکار اور گناہ اور ناگواری کا اظہار کرنے سے زیادہ بہتر ہے یا یہ مطلب ہے کہ حق تعالیٰ کی پیروی کرو اور رسول اکرم کے سامنے اچھی بات کہو پھر جب سارا کام تیار ہی ہوجاتا ہے اور اسلام کی شان و شوکت اور مسلمانوں کی کثرت ظاہر ہوجاتی ہے تب بھی اگر یہ منافقین اپنے ایمان اور جہاد میں سچائی کا معاملہ کرتے تو یہ چیز ان کے حق میں نافرمانی سے بہت بہتر ہوتی ہے۔
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

(اے منافقو !) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو

سو اے گروہ منافقین اگر تم رسول اکرم کے بعد اس امت کے معاملہ سے کنارہ کش رہو تو تمہاری یہ خواہش ہے کہ تم قتل و گناہ اور فساد برپا کردو اور کفر کے ذریعہ آپس میں رشتہ داری ختم کرو۔
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے

یہ منافقین وہ لوگ ہیں جن کو حق تعالیٰ نے ہر بھلائی سے دور کردیا اور ان کو احکام سننے سے اور حق و ہدایت کا رستہ دیکھنے سے اندھا کردیا۔
Ayah 47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

تو کیا یہ لوگ قرآن حکیم پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کیا حکم نازل کیا ہے یا ان منافقین کے دلوں پر تالے لگ رہے ہیں جس کی بنا پر ان احکامات کو نہیں سمجھتے جو ان کے بارے میں نازل ہوئے ہیں۔
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھرگئے شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا

جو لوگ یعنی یہود اپنے آبائی دین کی طرف پھرگئے باوجود اس کے کہ توحید اور قرآن کریم اور رسول اکرم کی نعت و صفت بذریعہ قرآن ان کو صاف معلوم ہوگئی تو شیطان نے ان کو اپنے آبائی دین کی طرف پھرنے کا دھوکہ دیا ہے اور حق تعالیٰ نے ان کو ڈھیل دی ہے جس کی وجہ سے ابھی تک ان کو ہلاک نہیں کیا۔
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے

یہ ارتداد اس وجہ سے ہوا کہ ان یہودیوں نے منافقین سے جو ان احکام کو جو کہ بذریعہ جبریل امین نازل ہوئے ناپسند کرتے ہیں۔ کہا ہے کہ اے گروہ منافقین ہم رسول اکرم کے بعض احکامات میں یعنی زبانی کلمہ گو ہونے میں اگر یہ ہم پر غالب آگئے تمہارا کہنا مان لیں گے اور یہود جو منافقین سے خفیہ باتیں کرتے ہیں حق تعالیٰ ان کی خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

تو اس وقت (انکا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے انکی جان نکالیں گے اور انکے مونہوں اور پیٹھو پر مارتے جائیں گے

تو یہ یہودی اس وقت کیا کریں گے جبکہ فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہوں گے اور ان کے مونہوں پر اور پشتوں پر لوہے کے گرز مارتے ہوں گے۔
Ayah 47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اس نے بھی انکے عملوں کو برباد کردیا

یہ پٹائی اور عقوبت اس سبب سے ہے کہ انہوں نے یہودیت کو اختیار کیا اور توحید خداوندی کا انکار کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ تمام نیکیاں جو انہوں نے یہودیت کے زمانہ میں کی ہیں وہ سب ضائع کردیں۔
Ayah 47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا

اور کہا گیا کہ یہ آیت یعنی جو لوگ پشت پھیر کر ہٹ گئے یہاں تک کہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو دین سے مرتد ہو کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آگئے تھے اور کہا گیا ہے کہ یہ حکم بن ابی العاص منافق اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوا جو کہ جمعہ کے دن جبکہ رسول اکرم خطبہ دے رہے تھے اور یہ لوگ خطبہ نہیں سن رہے تھے بلکہ حضور کے بعد خلافت کے بارے میں باہم مشورہ کر رہے تھے کہ اگر ہم اس امت کے خلیفہ ہوگئے تو ایسا ایسا کریں گے پھر بعد میں بطور تعریض کے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہنے لگے کہ ابھی رسول اکرم نے منبر پر کیا کہا ہے کیا یہ لوگ جن کے دلوں میں شک و نفاق ہے یہ خیال کرتے ہیں یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بغض و عداوت ہے یا یہ کہ مومنین سے جو نفاق اور دشمنی ہے اللہ تعالیٰ اسے کبھی ظاہر نہیں کرے گا۔
Ayah 47:30

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے

اور اے نبی کریم اگر ہم چاہتے تو ان کی بدترین نشانی سے ان کا پورا پتہ بتا دیتے تو اس کے بعد آپ ان کی بدترین صورت سے ہی پہچان لیتے لیکن آپ ان کے کلام سے بھی یہ جو منافقین عذر وغیرہ پیش کرتے ہیں ضرور پہچان لیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری خفیہ باتوں اور تمہارے بغض و عداوت کو جو تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے ہے خوب جانتا ہے۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم تم لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں انکو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں

اور ضرور اللہ تعالیٰ جہاد کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرے گا تاکہ اے گروہ منافقین وہ ظاہری طور پر بھی ان لوگوں کو نمایاں کرے جو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور جو جہاد میں ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ اور تاکہ تمہاری خفیہ باتوں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے دشمنی و مخالفت کو یا یہ کہ تمہارے نفاق کو ظاہر کردیں۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جن لوگوں کو سیدھا راستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور (لوگوں) کو خدا کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے اور خدا ان کا سب کیا کرایا اکارت کر دے گا

بیشک جو لوگ کافر ہوئے انہوں نے دوسروں کو بھی دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکا اور توحید کے اظہار کے بعد دین میں رسول اکرم کی مخالفت کی تو احکام الہی میں ان کی مخالفت اور بغض و عداوت اور کفر وغیرہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور بدر کے دن ہم ان کی نیکیوں اور مال و دولت کے خرچ کرنے کو مٹا دیں گے۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

مومنو ! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

اے ایمان والو ظاہری طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو (کیونکہ آپ بھی اطاعت خداوندی کا حکم دیتے ہیں) اس لیے خفیہ طریقہ پر رسول اکرم کی اطاعت کرو اور اپنی نیکیوں کو نفاق بغض و عداوت اور مخالفت و رسول سے باطل مت کرو اور کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو جن چیزوں کا خود اللہ تعالیٰ نے یعنی فرائض و صدقات وغیرہ کا حکم دیا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور جن کاموں کا بذریعہ نبی اکرم تمہیں حکم دیا ہے یعنی جہاد اور سنت نبویہ اس میں رسول اکرم کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور ریا و شہرت سے اپنے اعمال کو برباد مت کرو۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ (الخ) ابن ابی حاتم اور محمد بن نصر مروزی نے کتاب الصلوۃ میں ابو العالیہ سے روایت کیا ہے کہ اصحاب رسول اکرم سمجھتے تھے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ کے قائل ہونے کے بعد کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچاتا جیسا کہ شرک کی حالت میں کوئی نیکی کارگر نہیں ہوتی اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تب صحابہ کرام ڈرے کہ کہیں گناہ کے ارتکاب سے نیکیاں برباد نہ ہوجائیں۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور خدا کے راستے سے روکتے رہے پھر کافر ہی مرگئے خدا ان کو ہرگز نہیں بخشے گا

جو لوگ کافر ہوئے یعنی بدر کے دن لڑنے والے اور انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی پیروی سے روکا پھر وہ کفر ہی کی حالت میں مرگئے یا مار دیے گئے سو اللہ تعالیٰ ان کو کبھی نہیں بخشے گا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے منکر تھے۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم تو غالب ہو اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا

تو اے گروہ مومنین کفار کے ساتھ لڑنے میں ہمت مت ہارو اور ان کو صلح کی طرف مت بلاؤ یا یہ کہ قتال سے پہلے ہمت ہار کر اسلام کی طرف مت بلاؤ تم ہی غالب رہو گے انجام کار تمہارے ہی ہاتھ میں رہے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے تمہارے دشمن کے مقابلہ میں تمہاری مدد فرمائے گا اور جہاد میں تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا

جو کچھ اس دنیوی زندگی میں ہے وہ سب لغو اور فانی خوشی ہے اور اگر تم اپنے ایمان پر ثابت قدم رہو اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچتے رہو تو وہ تمہیں تمہارے اعمال کا ثواب عطا کرے گا اور تم سے صدقہ و خیرات میں تمہارے سارے مال بھی طلب نہیں کرے گا۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کر کے رہے

کیونکہ اگر وہ صدقہ میں تم سے انتہا درجہ تک تمہارے سب مال طلب کرنے لگے تو تم اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ و خیرات کرنے سے کنجوسی کرنے لگو اور اس وقت حق تعالیٰ تمہارا بخل ظاہر کردے۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے

ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو اس پر بھی بعض اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کنجوسی کرتے ہیں۔ اور جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں کنجوسی کرتا ہے تو وہ ثواب و عزت سے بخل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے وہ تمہارے اموال وغیرہ کا محتاج نہیں ہے تم ہی اس کی رحمت و مغفرت اور اس کی جنت کے محتاج ہو۔ اور اگر اللہ اور رسول کی اطاعت اور اس امر صدقہ سے منہ پھیرو گے تو وہ تمہیں ختم کر کے تمہاری جگہ تم سے بہترین اور اطاعت گزار دوسری قوم پیدا کردے گا پھر وہ تم جیسے نافرمان اور اطاعت خداوندی سے منہ موڑنے والے نہ ہوں گے۔ بلکہ تم سے بہتر اور زیادہ اطاعت گزار ہوں گے۔ اور کہا گیا ہے کہ یا ایھا الذین امنوا سے یہاں تک یہ آیت مبارکہ منافقین کے قبیلوں اسد و غطفان کے بارے میں نازل ہوئی ہے، پھر ان کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جہینہ اور مزینہ کے لوگوں کو مشرف باسلام کردیا جو ان سے بہتر اور ان سے زیادہ فرمانبردار تھے۔