47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع فرما دیا

Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور جو کچھ محمد ﷺ پر نازل ہوا اس پر ایمان لائے اور وہ ان کے رب کی طرف سے امر واقعی ہے اللہ ان کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور ان کے حال کو درست فرمادے گا

Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ کافروں نے باطل کا اتباع کیا اور بیشک جو لوگ ایمان لائے انہوں نے حق کا اتباع کیا جو ان کے رب کی طرف سے ہے اسی طرح اللہ لوگوں کے لئے ان کے احوال بیان فرماتا ہے

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ “ (جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کی راہ سے دوسروں کو روکا اللہ نے ان کے اعمال کالعدم کردیئے) یہ آیت مکہ کے رہنے والے قریش کے بارے میں نازل ہوئی (آیت ) ” والذین امنوا وعملوا الصلحت “ (اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے) اس سے مدینہ والے انصار مراد ہیں (آیت) ” واصلح بالھم “ (اور ان کی حالت درست کردے گا) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے کاموں کو درست کردیا۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” اضل اعمالہم “ (ان کے اعمال کالعدم کردیئے) کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے زیادہ عمل تھے لیکن اللہ تعالیٰ کفر کے ساتھ کسی عمل کو قبول نہیں فرماتے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واصلح بالھم “ یعنی ان کے حال کی اصلاح کردی۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واصلح بالھم “ (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے حال کی اصلاح کردی) (آیت ) ” ذلک بان الذین کفروا اتبعوالباطل “ (یہ اس وجہ سے کہ کافر غلط راستے پر چلے )
Ayahs 47:4–6

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

سو جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم اچھی طرح سے ان کی خون ریزی کردو تو خوب مبضوط باندھ دو پھر اس کے بعد یا بلامعاوضہ چھوڑ دو یا ان کی جانوں کا بدلہ لے کر چھوڑ دو جب تک کہ لڑائی اپنے ہتھیاروں کو نہ رکھ دے یہ اسی طرح ہے اور اگر اللہ چاہے تو ان سے انتقام لے لے اور لیکن تاکہ تم میں بعض کا بعض کے ذریعہ امتحان فرمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے سو اللہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہ فرمائے گا

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

وہ انہیں عنقریب مقصود تک پہنچا دے گا۔ اور ان کا حال درست فرما دے گا

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور انہیں جنت میں داخل فرما دے گا جس کی انہیں پہچان کرادے گا

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب “ (سو تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو) یعنی عرب کے مشرکین کی (آیت ) ” کفروا فضرب الرقاب “ (ان کی گردنیں یہاں تک کہ وہ لا الہ اللہ کہہ دیں۔ 2:۔ عبدبن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی اذا اثخنتموہم فشدوا الوثاق “ (یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کرچکو تو خوب مضبوط باندھ لو) یعنی ان کو قید نہ کرو اور نہ فدیہ لیکر چھوڑ دو یہاں تک کہ ان کی خون ریزی تلوار کے ساتھ نہ کرلو۔ 3:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء “ (پھر یا تو بلامعاوضہ چھوڑ دینا۔ یا معاوضہ لے کر) نبی کریم ﷺ اور ایمان والے قیدیوں کے بارے میں خود مختار ہیں اگر چاہیں تو ان کو قتل کردیں اگر چاہیں تو ان کو جلا وطن کردیں اور اگر چاہیں تو ان سے فدیہ لے لیں۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ (حکم) منسوخ ہے اس کو منسوخ کرنے والی یہ آیت ہے (آیت ) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین “ (پھر جب عزت والے مہینے گزرجائیں مشرکوں کو جہاں پاؤں قتل کردو) قیدیوں پر احسان کرنے کی اجازت۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء “ (پھر یا تو بلامعاوضہ چھوڑ دینا یا معاوضہ لے کر) تو اس میں ان کے لئے رخصت دی گئی کہ ان میں سے جن پر چاہیں احسان کریں اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں سورة برأۃ میں منسوخ فرمادیا اور فرمایا (آیت ) ” فاقتلو المشرکین حیث وجدتموھم “ (مشرکین کو قتل کردو جہاں تم ان کو پاؤ) 6:۔ عبد بن حمید (رح) و ابوداؤد فی ناسخہ وابن جریر وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء “ کے بارے میں روایت کیا کہ مسلمان کا مقابلہ جب مشرک سے ہو تو ان کو خوب قتل کریں اور جب ان میں سے کسی کو قیدی بنالیں تو ان کے لئے صرف یہ حکم تھا کہ یا ان سے فدیہ لے لیں یا ان پر احسان کریں (اور ان کو آزاد کریں) پھر اس حکم کو بعد میں منسوخ کردیا گیا اور فرمایا (آیت ) ” فاما تثقفنہم فی الحرب فشردبھم من خلفھم “ (الانفال آیت 57) (سو اگر کبھی تو انہیں لڑائی میں پائے تو انہیں ایسی سزا دے کہ ان کے پچھلے دیکھ کر بھاگ جائیں) 7:۔ عبدالرزاق فی المصنف (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ضحاک و مجاہد (رح) سے (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس (کے حکم) کو اس آیت نے منسوخ کردیا (آیت ) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین “ (التوبہ آیت 5) (کہ مشرکین کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ) 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مشرکین کے دو آدمیوں کے بدلے میں اپنے دو صحابیوں کو چھڑایا جن کو قید کرلیا گیا تھا۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) نے اشعث (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن اور عطا (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء “ کے بارے میں پوچھا تو ان میں سے ایک نے کہا قیدی پر احسان کیا جائے گا اور اس سے فدیہ نہیں لیا جائے گا اور دوسرے نے کہا ایسا کرو جیسے رسول اللہ ﷺ نے کہا اس پر احسان کیا جائے (یعنی رہا کردیا جائے گا) مگر فدیہ دیا جائے گا۔ 11:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ حجاج قیدی لے کر آیا اس نے ان میں سے قیدی ابن عمر ؓ کو دیا کہ آپ اس کو قتل کریں تو انہوں نے فرمایا ہم کو اس کا حکم نہیں دیا گیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” حتی اذا اثخنتموہم فشدوا الوثاق فاما منا بعدو فدآء “ (یہاں تک کہ جب تم ان سے خوب خون ریزی کرچکو تو خوب مضبوط باند ھ لو پھر یا تو بلامعاوضہ چھوڑ دینا ہے یا معاوضہ لے کر۔ 12:۔ ابن مردویہ (رح) والبیہقی نے اپنی سنن میں نافع (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ نے ایک زانی عورت کے بیٹے کو آزاد کردیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم احسان کریں اس پر جو اس سے بھی بڑھ کر برا ہو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء “ 13:۔ عبدالرزاق (رح) نے المصنف میں اور ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے لیث (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مجاہد (رح) سے کہا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قیدیوں کو قتل کرنا حلال نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فاما منا بعدو فدآء “ اور مجاہد (رح) نے فرمایا تو اس طرح کی کسی چیز کی پرواہ نہ کر، میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو پایا اور وہ اس کا انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے یہ (حکم) منسوخ ہے بلاشبہ یہ حکم اس مصالحت کے بارے میں تھا جو رسول اللہ ﷺ اور مشرکین کے درمیان تھی لیکن آج کے حالات میں حکم اس طرح نہیں ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین “ اور فرماتے ہیں (آیت ) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب “ (یعنی کافروں سے ملو تو گردنوں کو مارو یعنی ان کو قتل کرو اگر وہ عرب کے مشرکوں میں سے ہیں تو ان سے کوئی چیز قبول نہ کرو سوائے اسلام کے اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو ان کو قتل کرو اور جو مشرکین عرب کے علاوہ ہیں یعنی جب وہ قید ہوجائیں تو مسلمانوں کو ان کے بارے میں اختیار ہے اگر وہ چاہیں تو ان کو قتل کردیں اگر وہ چاہیں تو ان کو زندہ چھوڑ دیں اور اگر وہ چاہیں تو ان سے فدیہ لے لیں جب وہ اپنے دین سے نہ پھریں اگر وہ اسلام کو ظاہر کریں تو ان سے فدیہ نہ لو اور رسول اللہ ﷺ نے چھوٹے بچوں اور عورت اور شیخ فانی (یعنی بہت بوڑھا آدمی) کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس (آیت ) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ (التوبہ آیت 5) نے اس حکم کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھا فدیہ لے کر چھوڑنے اور احسان جتا کر چھوڑنے کے بارے میں۔ 15:۔ عبدالرزاق (رح) نے المنصف میں عطا (رح) سے روایت کیا کہ وہ اہل شرک کو باندھ کر قتل کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور یہ آیت پڑھتے تھے (آیت ) ” فشدوا الوثاق، فاما منا بعدو فدآء “ پھر اس کو منسوخ کردیا اس آیت نے (آیت ) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ (النساء آیت 89) اور یہ آیت جب نازل ہوئی تو عرب والوں نے یہ گمان کیا کہ صرف عرب والوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے عقبہ بن ابی معیط کو بدر کے دن پکڑ کر قتل کیا۔ جنگ میں بےضرر لوگوں کو قتل کرنا جائز نہیں ہے : 16:۔ عبدالرزاق (رح) نے ایوب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے خدمت کے قابل لڑکے اور مزدوروں کو لے کر قتل کرنے سے منع فرمایا۔ 17:۔ عبدالرزاق (رح) نے ضحاک بن مزاحم ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا مگر جو ان میں سے تلوار کے ساتھ دوڑے یعنی (جو جنگ لڑرہا ہو اس کو قتل کردو) 18:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) نے قاسم بن عبدالرحمن ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک چھوٹا لشکر بھیجا وہ ایک آدمی کے پیچھے لگے وہ ایک درخت پر چڑھ گیا ان لوگوں نے اس درخت کو آگ لگادی جب یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اس بات کی ان کو خبر دی گئی تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا (یعنی آپ غصہ ہوگئے) اور فرمایا میں اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ میں اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب دوں میں گردنوں کے مارنے اور مضبوطی سے باندھنے کے لئے بھیجا گیا۔ واما قولہ تعالیٰ : حتی تضع الحرب اوزارھا “ 19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی تضع الحرب اوزارھا “ (جب تک کہ لڑنے والے ہتھیار نہ رکھ دیں) یعنی یہاں تک کہ شرک نہ رہے۔ 20:۔ ابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی تضع الحرب اوزارھا “ سے مراد ہے یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے 21:۔ الفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی تضع الحرب اوزارھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا ظہور ہوجائے تو ہر یہودی نصرانی اور (کسی بھی) دین والا اسلام لے اور بکری بھیڑیئے سے امن حاصل کرلے اور چوہا کسی چمڑے کے برتن کو نہ کاٹے اور سب لوگوں سے دشمنی چلی جائے گی یہی اسلام کا سارے دینوں پر غلبہ ہے اور مسلمان آدمی خوشحال ہوجائے یہاں تک کہ اس کے پاؤں خون ٹپکائیں گے جب اسے رکھے گا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول : 22:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریب ہے جو تم میں سے زندہ رہے گا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے (اس حال میں) ملاقات کرے گا کہ وہ امام ہوں گے کہ وہ ہدایت یافتہ امام ہیں اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہیں اس وقت صلیب کو توڑ دیا جائے گا خنزیر کو قتل کردیا جائے گا اور جزیہ لگا دیا جائے گا اور جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے گی۔ 23:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی تضع الحرب اوزارھا سے مراد ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کا نکلنا۔ 24:۔ ابن سعد واحمد والنسائی والبغوی والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے سلمہ بن نفیل ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا اور کہا یا رسول اللہ ! گھوڑے باندھ دیئے گئے ہتھیار کو رکھ دیا گیا اور لوگوں نے گمان کرلیا کہ اب قتال نہیں ہوگا بیشک جنگ نے اپنے ہتھیاروں کو رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں نے جھوٹ بولا ابھی قتال ہوگا اور میری امت میں سے ایک جماعت برابر اللہ کے راستے میں لڑتی رہے گی ان کو کوئی نقصان نہیں دے گا جو ان کی مخالفت کرے گا اللہ تعالیٰ ایک قوم کے دلوں کو ٹیڑھا کردیں تاکہ وہ انہیں ان کے ذریعہ رزق دیں اور وہ قتال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور گھوڑے کی پیشانی میں برابر خیر اور بھلائی رہے گی۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی اور جنگ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی یہاں تک کہ یاجوج ماجوج باہر نکل آئیں گے۔ 25:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے فتح کو کھول دیا گیا (یعنی آپ کو فتح عطا فرمائی گئی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آج اسلام نے اپنے قدم مضبوط کرلئے ہیں اور جنگ نے اپنے ہتھیار رکھ دیئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ جنگ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی مگر اس سے پہلے چھ کام ہوں گے ان میں سے سب سے پہلے میری وفات ہوگی پھر بیت اللہ المقدس فتح ہوگا پھر میری امت میں سے دو گروہ ہوں گے ان کا بعض، بعض کو قتل کرے گا اور مال بہادیا جائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی کو سودینار دیئے جائیں گے تو وہ ناراض ہوجائیں گا اور موت اس طرح (کثرت) سے ہوگی جس طرح بکریاں قصاص (سینہ کی ایک بیماری) میں مبتلا ہو کر کثرت سے مرجاتی ہیں اور بنو اصخر کا بچہ ایک دن میں اتنا بڑھے گا جیسے ایک مہینہ کا بڑھنا اور ایک مہینہ میں اس کا بڑھنا ایک سال کے بڑھنے کی طرح ہوگا اس کی قوم اس میں رغبت کرے گی اور وہ ایسے بادشاہ بنالیں گے اور کہیں گے کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا بادشاہ تجھے ہم پر حاکم بنادے گا وہ ایک بڑا مجمع جمع کرے گا پھر چل پڑے گا یہاں تک کہ وہ عرش اور انطاکیہ کے درمیان پہنچ جائے گا اور اس دن تمہارا میرا کتنا اچھا امیر ہوگا اور وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا تم کیا دیکھ رہے ہو تو وہ کہیں گے ہم ان سے لڑیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرمادیں گے وہ کہے گا میں ایسا گمان نہیں کرتا ہم حفاظت کریں گے اپنی اولادوں کی اور اپنے اہل و عیال کی اور ہم ان کے اور زمین کے درمیان خالی جگہ چھوڑ دیں گے یہاں تک کہ میرے اس شہر میں جائیں گے اور وہ اسلام والوں سے ہدایت طلب کریں گے تو وہ ان کو ہدایت دیں گے پھر وہ کہے گا میرے ساتھ صرف وہی رہے جو اللہ کے لئے اپنے آپ کو قربان کردے گا یہاں تک کہ ہم ان سے ملیں گے اور ہم ان سے قتال کریں گے حتی کہ اللہ تعالیٰ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے پھر وہ اس کے پاس ستر ہزار افراد جمع ہوجائیں گے اور وہ اس سے بھی زیادہ (جمع) ہوجائیں گے وہ کہے گا میرے لئے ستر ہزار کافی ہے۔ زمین ان کو برداشت نہیں کرے گی اور ان میں جاسوس بھی ہوں گے ان کے دشمنوں کے لئے وہ ان کے پاس آئیں گے اور ان کو خبردیں گے اس معاملے کی جو ہوا وہ لوگ ان کی طرف چل پڑیں گے یہاں تک کہ جب وہ آمنے سامنے ہوں گے تو وہ سوال کریں گے کہ ان کے لئے راستہ چھوڑ دے کہ جن کا ان کے اور اس کے درمیان نسبی تعلق ہے پس وہ ان کو بلائے گا اور وہ کہے گا تمہاری کیا رائے ہے ان باتوں میں جو وہ کہتے ہیں تو وہ کہیں گے تمہیں ان سے لڑنے کا حق نہیں ہے اور نہ کوئی ان سے بڑھ کر زیادہ دور ہے وہ کہے گا سو تم اپنی جگہ ثابت قدم رہو اپنی نیاموں کو توڑ دو ۔ اور اللہ تعالیٰ ان پر اپنی تلوار لہرائے گا تو ان میں سے دو تہائی قتل ہوجائیں گے اور ایک تہائی کشتی میں بیٹھ جائیں گے اور ان کے ساتھی انہیں میں سے ہوں گے یہاں تک کہ جب انکے لئے ان کے پہاڑ نمودار ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر ہوا بھیج دے گا اور وہ ہوا ان کو شام میں ان کے لنگر انداز ہونے کی جگہ کی طرف لوٹا دے گی پس وہ اپنی کشتیوں کے نزدیک ساحل پر ان کو پکڑلیا جائے گا اور ان کو ذبح کردیا جائے گا پس اس دن جنگ اپنے ہتھیاروں کو ڈال دے گی۔ اما قولہ تعالیٰ : ذلک : ولو یشآء اللہ لانتصرمنہم “ 26:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذلک : ولو یشآء اللہ لانتصرمنہم “ (یہ حک بجالانا یعنی مشرکوں کے ساتھ ایسا ہی کرو) اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا (یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اپنے کثیر لشکروں کے ساتھ ان سے بدلہ لے لیتے کیونکہ اللہ کی ساری مخلوق اس کا لشکر ہے اگر وہ اپنی سب سے کمزور مخلوق کو مسلط کردے تو وہی اس کا لشکر ہوجائے۔ 27:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) نے (آیت ) ” ذلک : ولو یشآء اللہ لانتصرمنہم “ کے بارے میں روایت کیا اگر اللہ تعالیٰ خود ہی ان سے بدلہ لینا چاہے تو ان پر ایک فرشتے کو بھیج کر ان کو تباہ برباد کردے (اور فرمایا) (آیت ) ” والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم “ ( اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کردئیے جاتے ہیں ان کے اعمال ہر گزضائع نہیں کئے جائیں گے) نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں (یہ آیت) ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو احد کے دن شہید کردیئے گئے۔ 28:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” والذین قتلوا “ الف کے ساتھ پڑھا۔ 29:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت احد کے دن نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ (اسی دن گھاٹی میں تھے ان میں زخمی اور شہدا پھیلے ہوئے تھے اس دن مشرکوں نے آواز لگائی ” اعلی حبل “ (یعنی حبل بہت بلند ہوگیا) اس کے جواب میں مسلمانوں نے آواز لگائی ” اللہ اعلی واجل “ (اللہ سب سے اونچا اور سب سے زیادہ بزرگی والا ہے) اس دن کو مشرکوں نے بدر کے دن کا بدلہ قرار دیا اور لڑائی میں کبھی ایک کو اور کبھی دوسرے کو غلبہ ہوتا ہے (اور مشرکوں نے بھی آواز لگائی) ” لنا عزی ولا عزی لکم “ (کہ ہمارے لئے عزت بہت ہے اور تمہارے لئے کوئی عزت نہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جواب میں یوں کہو ” اللہ مولانا ولا مولی لکم “ (اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں) بیشک قتل ہونے والوں کی کیفیت مختلف ہے ہمارے قتل ہونے والے زندہ ہیں اور رزق دیئے جاتے ہیں اور تمہارے قتل ہونے والے آگ میں ہیں اور عذاب دیئے گئے۔ 30:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویدخلھم الجنۃ عرفھا لہم “ (اور ان کو جنت میں داخل کردے گا جس کی ان کو پہچان کرادے گا) یعنی وہ اہل جنت کو ان کے گھروں اور ان کے رہنے کی جگہوں کی طرف راہ بتادے گا اس طرح پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں سے ان کے لئے جو جگہ تقسیم فرما دی ہے وہ کبھی وہاں سے خطا نہیں کریں گے گویا کہ وہ اس میں رہتے تھے جب سے پیدا کئے گئے اس پر وہ کسی اور کی رہنمائی کریں گے۔ 31:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عرفھا لہم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں ان کو ان کے گھروں کی پہچان کرا دی ہے۔ اہل جنت اپنے گھروں کو پہچان لیں گے : 32:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مقاتل (رح) سے (آیت ) ” ویدخلہم الجنۃ عرفھا لہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ جو فرشتہ دنیا میں اس کے اعمال کی حفاظت کیلئے مقرر تھا وہ جنت میں اس کے آگے آگے چلے گا اور ابن آدم اس کے پیچھے چلے گا یہاں تک کہ وہ آخری منزل آجائے گی جو اس کے لئے ہے پھر وہ ہر چیز کو پہچان لے گا جو اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں عطا فرمائی جب ہو جنت میں اپنی آخری منزل پر پہنچے گا تو وہ اپنے گھر اور اپنی بیویوں کے پاس داخل ہوجائے گا تو وہ فرشتہ واپس لوٹ جائے گا۔
Ayahs 47:7–8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا سو ان کے لئے ہلاکت ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ضائع کردے

1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم “ (اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا) یعنی اس کی مدد پر (تم کامیاب ہوگے ) ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم “ یعنی اللہ پر حق ہے کہ وہ سوال کرنے والے کو عطا کرے اور یہ کہ وہ اس کی مدد کرے جو اس (کے دین) کی مدد کرے (آیت ) ” والذین کفروا فتعسالھم واضل اعمالھم (8) ذلک بانہم کرھوا ماانزل اللہ فاحبط اعمالھم “ (اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے تباہی ہے اور اللہ ان کے اعمال کو کالعدم کردے گا یہ اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کیا سو اللہ نے انکے اعمال کو اکارت کردیا۔ یعنی پہلی آیت میں کفار مراد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن قتل اور دوسری آیت میں عام کفار مراد ہیں۔
Ayahs 47:9–11

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس چیز کو مکروہ جانا جو اللہ نے نازل فرمائی سو اس نے ان کے اعمال کا اکارت کردیا

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے سو انہوں نے دیکھا کیسا ہوا ان کا انجام جو اس سے پہلے تھے اللہ نے ان پر تباہی ڈال دی اور کافروں کے لئے اسی قسم کی چیزیں ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ اللہ ایمان والوں کا مولی ہے اور بیشک کافروں کے لئے کوئی بھی مولی نہیں

3:۔ ابن شیبہ (رح) وابن عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذلک بانہم کرھوا ماانزل اللہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے (اللہ کے) فرائض کو ناپسند کیا۔ رسولوں کو جھٹلانے والوں کا برا انجام : 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلہم دمر اللہ علیہم “ (کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے والے کافروں کا انجام کیسا ہوا اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسی (تباہی ڈالی) یعنی اللہ نے ان کو مختلف قسم کے عذابوں کے ساتھ ان کو ہلاک کردیا اس طرح تاکہ غور وفکر کرنے والا غوروفکر کرتا ہے اور نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرتا رہے اور لوٹنے والا لوٹ آتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مثالوں کو بیان فرمایا اور رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ لوگ اللہ کی طرف سے اس کے حکم کو سمجھ لیں۔ 5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وللکفرین امثالھا “ (اور ان کافروں کے لئے اس طرح کے معاملات ہونے کو ہیں۔ یعنی اے محمد ﷺ آپ کی کفار قوم کے لئے اس قسم کی سزائیں ہیں جیسا کہ ان بستیوں کو عذاب کے ساتھ تباہ و برباد کردیا گیا۔ اور تلوار کے ساتھ ہلاک کردیئے گئے۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وللکفرین امثالھا “ سے مراد ہے کہ جس طرح قرون اولی کے لوگوں کو ہلاک کیا گیا کفار کے لئے اس طرح کی شرائط ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کیلئے وعدہ ہے (اور فرمایا) (آیت ) ” ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا “ (یہ اس وجہ سے کہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مددگار ہے ایمان والوں کا) کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا مددگار ہے۔ 7:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا “ (یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مددگار ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اہل ایمان کا کوئی مددگار نہیں۔
Ayahs 47:12–14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ عیش کررہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس چوپائے کھاتے ہیں اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تھیں جن کے رہنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا یہ بستیاں آپ کی بستی سے زیادہ سخت تھیں جنہوں نے آپ کو نکال دیا، ان بستیوں کا کوئی مددگارنہ ہوا

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

جو لوگ اپنے پروردگار کے واضح راستہ پر ہوں کیا وہ ان شخصوں کی طرح ہوسکتے ہیں جن کی بدعملی ان کو اچھی چیز بتائی گئی اور جو نفسانی خواہشوں پر چلتے ہوں

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنا ر “ (اور جو کافر ہیں وہ دنیا میں عیش کررہے ہیں اور وہ جانوروں کی طرح کھاتے ہیں یعنی وہ اپنی آخرت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابو یعلی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے غار کی طرف نکلے تو پیچھے مڑ کر مکہ کی طرف دیکھا تو اور فرمایا اللہ کے نزدیک اس کے تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ محبوب شہر ہے اگر میرے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ کے تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے اگر تیرے رہنے والے مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا دشمنوں نے سرکشی کی اور انہوں نے اس کے حرم میں اللہ تعالیٰ پر ظلم و زیادتی کی یا غیر قاتل کو قتل کیا یا اہل جاہلیت کے کینہ اور عداوت کی وجہ سے قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” اتاری وکاین من قریۃ ھی اشد قوۃ من قریتک التی اخرجتک، اھلکنھم فلا ناصرلھم “ (اور بہت سی بستیاں ایسی تھی جو قوت میں آپ کی بستی سے جس کے رہنے والوں نے آپ کو وطن سے نکال باہر کیا بڑھی ہوئی تھیں ہم نے ان کو ہلاک کردیا سو کوئی ان کا مددگار نہ ہوا) 3:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وکاین من قریۃ ھی اشد قوۃ من قریتک “ میں آپ کی بستی سیمراد مکہ ہے (آیت ) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ (تو لوگ اپنے رب کے واضح راستوں پر ہوں) یعنی محمد ﷺ (آیت ) ” کمن زین لہ سوٓ ء عملہ “ (کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتے ہیں جن کو اپنی بداعمالی خوبصورت معلوم ہوتی ہے) سے مشرکین مراد ہیں۔ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ہر دلی خواہش ضلالت (یعنی گمراہی) ہے۔ 5:۔ ابن المنذر (رح) نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی قرآن مجید میں ھوی (یعنی خواہش نفس کا ذکر فرمایا تو اس کی مذمت فرمائی۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں ایسے پانی کی ہیں جن میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلا ہوا نہ ہوگا، اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوگی اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو بالکل صاف ہوگا اور ان کیلئے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش ہوگی، کیا ایسے لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جائے گا سو وہ ان کی انتڑیوں کے ٹکڑے کرڈالے گا

جنت کی نہروں کا تذکرہ : 1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھرمن مآء غیر اسن “ (پانی کی نہریں جس میں کبھی بگاڑنہ ہوگا) یعنی ایسا پانی جس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوگا۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من مآء غیر اسن “ جو بدبودار نہ ہوگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانھرمن لبن لم یتغیر طعمہ “ (اور دودھ کی نہریں جس کا مزہ ذرا بھی بدلا نہ ہوگا) کے بارے میں ابن عباس ؓ نے فرمایا (ایسا دودھ ہے جو دوھا نہیں گیا) 4:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت ) ” وانھرمن لبن لم یتغیر طعمہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ (وہ دودھ) جو گوبر اور خون کے درمیان سے نہیں نکالا (آیت ) ” وانھر من خمرلذۃ للشربین “ (اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کیلئے لذیز ہوں گی) کہ مردوں نے اپنے پاؤں سے اس کو گدلا نہ کیا ہوگا (آیت ) ” وانھرمن عسل مصفی “ (اور صاف شہد کی نہریں ہوگی) جو شہد کی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا۔ 5:۔ احمد والترمذی (وصححہ) وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی (رح) نے الشعب میں معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جنت کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں دودھ اور پانی اور شہد اور شراب کے سمندر ہوں گے پھر ان سے بعد میں نہریں نکلیں گی۔ 6:۔ حارث بن ابی اسامہ فی مسندہ والبیہقی (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ نیل کی نہر جنت میں شہد کی نہر ہوگی اور دجلہ کی نہر جنت میں جنت میں دودھ کی نہر ہوگی اور فرات کی نہر جنت میں شراب کی نہر ہوگی اور سیحان کی نہر جنت میں پانی کہ نہر ہوگی۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من مآء غیر اسن “ اس جنت کی مثال جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں کبھی بگاڑ نہ ہوگا) کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے ابوصالح نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جب مجھے آسمانوں پر لے جایا گیا میرے ساتھ فرشتہ بھی چلا، مجھے ایک شراب کی نہر پر لے گیا وہاں ابراہیم (علیہ السلام) تھے میں فرشتے سے کہا یہ کونسی نہر ہے ؟ اس نے کہا یہ نہر دجلہ ہے میں نے کہا یہ تو پانی ہے فرشتے نے کہا یہ دنیا میں پانی تھا اللہ تعالیٰ نے جسے چاہا سیراب فرمایا اور وہ آخرت میں جنت والوں کے لئے شراب ہے پھر میں فرشتہ کے ساتھ شراب کہ نہر کی طرف چلا۔ میں نے فرشتے سے پوچھا یہ کونسی نہر ہے ؟ فرشتہ نے کہا وہ جیحون ہے۔ اور وہ ایسا پانی ہے جس کی بو اور مزا نہیں بگڑتا۔ اور یہ دنیا میں پانی تھا اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا اس کو سیراب فرماتے رہے، اور آخرت میں یہ ایسا پانی ہے جس کا ذائقہ اور بو نہیں بگڑے گا۔ پھر مجھے لے چلا اور دودھ کی نہر پر پہنچا یا جو قبلہ کی سمت سے ملی ہوئی تھی میں نے فرشتہ سے پوچھا یہ کونسی نہر ہے ؟ اس نے کہا یہ فرات کی نہر ہے۔ میں نے کہا یہ پانی ہے ؟ اس نے کہا یہ پانی تھا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جس کو چاہا اس کو سیراب فرماتے رہے اور وہ آخرت میں یہ دودھ ہے مومنین کے لئے کہ جن سے اور جن کے آباؤ اجداد سے اللہ راضی ہوا پھر مجھے لے چلا اور مجھے شہد کی نہر پر پہنچایا۔ جو مدینہ کی جانب سے نکلتی ہے میں فرشتہ سے پوچھا جو میرے ساتھ بھیجا گیا تھا یہ کونسی نہر ہے ؟ اس نے کہا یہ مصر کی نہر ہے۔ میں نے کہا کیا یہ پانی ہے فرشتہ نے یہ پانی تھا اللہ تعالیٰ دنیا میں جس کو چاہا اس سے اس کو سیراب فرماتے رہے۔ اور وہ آخرت میں یہ شہد ہے جنت والوں کے لئے (پھر فرمایا) (آیت ) ” ولھم فیھا من کل الثمرت “ (اور اس میں ان کے لئے ہر پھول میں سے ہوگا) یعنی جنت میں (آیت ) ” ومغفرۃ من ربھم “ (اور مغفرت ہوگی اور ان کے رب کی طرف سے) ان کے گناہوں کی۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری ومسلم (رح) والترمذی والنسائی نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی جس نے تھیک بن سنان کہا جاتا تھا ابن مسعود ؓ کے پاس آیا اور کہا اے ابوعبدالرحمن (یہ ابن مسعود کا لقب ہے) آپ اس حرف کو کیسے پڑھتے ہیں کیا یا کے ساتھ یا الف کے ساتھ (آیت ) ’ من غیر یاسن “ یا ” من مآء غیر اسن “ ؟ عبداللہ نے اس سے فرمایا کیا تو نے پورے قرآن کو اس کے علاوہ سمجھ لیا ہے اس نے کہا کہ میں تو ایک ہی رکعت میں سورة مفصل پڑھتا ہوں۔ پھر فرمایا یہ تو اس شعر کی طرح ہے کہ ایک قوم قرآن پڑھتی ہے جو اس کے گلے سے آگے نہیں جاتا لیکن قرآن جب دل میں واقع ہوجاتا ہے اور ان میں واضح ہوجاتا ہے پھر نفع دیتا ہے۔ بلاشبہ میں ایسے نظائر پہچانتا ہوں کہ ان کو رسول اللہ ﷺ پڑھا کرتے تھے۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے سعد بن ظریف (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوالسحاق (رح) سے (آیت ) ” مآء غیر اسن “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس کے بارے میں حارث سے سوال کیا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ (آیت ) ” مآء غیر اسن “ سے مراد تسنیم ہے پھر فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس کو کوئی ہاتھ نہیں چھوئے گا اور یہ پانی اس طرح آئے گا یہاں تک کہ (خود بخود) منہ میں داخل ہوجائے گا (واللہ تعالیٰ اعلم )
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور بعضے آدمی ایسے ہیں کہ وہ آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو اہل علم سے کہتے ہیں کہ حضرت ابھی کیا بات فرمائی تھی ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی نفسائی خواہشوں پرچلتے ہیں

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مؤمن اور منافق نبی کریم ﷺ کی طرف جمع ہوئے تھے جو کچھ آپ فرماتے تھے مؤمن اس میں سے کان لگا کر دھیان سے سنتے تھے اور اس کو یاد کرلیتے تھے اور منافق بھی ان (باتوں) کو سنتے تھے مگر یاد نہیں کرتے تھے جب وہاں سے باہر نکلے تو مومنوں سے سوال کرتے کہ آپ نے ابھی کیا فرمایا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت ) ” ومنہم من یستمع الیک “ (اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں ) 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے پھر جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے تو حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھتے آپ نے ابھی کیا فرمایا تو وہ فرماتے کہ آپ نے اس طرح اور اس طرح فرمایا اور ابن عباس ؓ ان لوگوں میں سے تھے جو علم دیئے گئے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) والحاکم وصححہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) حتی اذا خرجوا من عندک قالوا للذین اوتوا العلم ماذا قال انفا “ (یہاں تک کہ جب منافق آپ کے پاس سے باہر نکلے تو انہوں نے ان لوگوں سے پوچھا جو علم دیئے گئے ابھی ابھی آپ نے کیا ٖفرمایا میں بھی اہل علم میں تھا اور مجھ سے سوال کئے جاتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” ومنہم من یستمع الیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ منافق لوگ تھے (اس میں سے جو آدمی داخل ہوئے پس ایک آدمی کو اللہ کی طرف سے علق دی گئی اور وہ اس چیز سے نفع اٹھاتا تھا جو وہ سنتا ہے اور دوسرے آدمی کو اللہ کی طرف سے عقل نہیں دی گئی اس نے نہ توجہ سے سنا اور نہ اس نے نفع اٹھایا۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن عساکر (رح) نے ابن بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) حتی اذا خرجوا من عندک قالوا للذین اوتوا العلم ماذا قال انفا “ سے عبداللہ بن مسعود ؓ مراد ہیں۔ 6:۔ ابن عساکر (رح) نے الکلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس سے عبداللہ بن مسعود ؓ مراد ہیں۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ صحیح راہ پر ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور ان کو ان کے تقوی کی توفیق دیتا ہے

قولہ تعالیٰ : والذین اھتدوا “ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے اہل کتاب کی فضیلت : 7:۔ ابن المنذر (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ اپنے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی اور پھر محمد ﷺ پر بھی ایمان لائے آپ کی بعثت سے پہلے جب آپ کی بعثت ہوئی تو انہوں نے آپ کا انکار کردیا۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” فاما الذین اسودت وجوھھم اکفرتم بعد ایمانکم “ (آل عمران آیت 106) (لیکن جو لوگوں کے چہرے کالے ہوجائیں گے ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان کے بعد کفر کیا تھا) اور اہل کتاب میں سے کچھ لوگ اپنے رسولوں پر اور محمد ﷺ پر بعثت سے پہلے ایمان لے آئے پھر جب آپ کی بعثت ہوئی تو پھر بھی آپ پر ایمان لے آئے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوہم “ (اور جو لوگ ہدایت پر ہیں اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور ان کو ان کے تقوی کی توفیق دیتا ہے) 8:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب قرآن نازل ہوا تو وہ اس پر ایمان لے آئے تو یہ ان کے لئے ہدایت ہے جب ناسخ منسوخ سے کھل کر واضح ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت میں اور زیادہ کردیا۔