Yaseen 36:80

Yaseen · from ayah 80

36:80

١لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ ۟اۨلَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡـتُمۡ مِّنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ

جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس (کی ٹہنیوں کو رگڑ کر ان) سے آگ نکالتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is] He who made for you from the green tree, fire, and then from it you ignite.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:80

وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس (کی ٹہنیوں کو رگڑ کر ان) سے آگ نکالتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جس نے تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی ہے۔ پھر تم ذرا سی دیر میں اس سے سلگانے کا کام لیتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس نے تمہارے لیے ہرے پیڑ میں ا ٓ گ پیدا کی جبھی تم اس سے سلگاتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی پھر اب تم اسی سے آگ سلگاتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کردی، پھر یکایک تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی ہے جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی جس سے تم آگ سلگاتے ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ویہ ہے جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی پس تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کردی کہ تم جھٹ پٹ اس سے آگ سلگا لیتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ ایسا ہے کہ ہرے درخت سے آگ تمہارے لئے پیدا کردیتا ہے پھر تم اس سے (اور) آگ سلگا لیتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کردی تو تم اس سے آگ سلگاتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس کی ٹہنیوں کو رگڑ کر آگ نکالتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He Who created from a green tree a fire for you, a fire to light your stoves with.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__ the One who created for you fire from the green tree, and in no time you kindle from it.

— Muhammad Taqi Usmani

__ the One who created for you fire from the green tree, and in no time you kindle from it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He Who produces for you fire out of the green tree, when behold you kindle therewith.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who hath appointed for you fire from the green tree, and behold! ye kindle from it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is] He who made for you from the green tree, fire, and then from it you ignite.

— Saheeh International

He has created fire for you out of the green tree from which you can kindle other fires.

— Muhammad Sarwar

He Who has made for you the fire (to burn) from the green tree, so that with it you kindle (fire).

— Muhammad Habib Shakir

Who giveth you out of the green tree fire, and lo! ye kindle therewith.

— Abdul Majid Daryabadi

"The same Who produces for you fire out of the green tree, when behold! ye kindle therewith (your own fires)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–80

موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور ﷺ سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–83

سورة یٰسٓ 68 یا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہرے بھرے درختوں میں وہ آتش گیر مادہ رکھا ہے جس کی بدولت تم لکڑیوں سے آگ جلاتے ہو۔ یا پھر یہ اشارہ ہے مرْخ اور عَفَار نامی ان دو درختوں کی طرف جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو لے کر اہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تھے تو ان سے آگ جھڑنے لگتی تھی۔ قدیم زمانہ میں عرب کے بدّو آگ جلانے کے لیے یہی چقماق استعمال کیا کرتے تھے اور ممکن ہے آج بھی کرتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 80–81

(آیت) جعل لکم من الشجر الاخضر ناراً ، عرب میں دو درخت معروف تھے۔ ایک مرخ دوسرا عفار۔ عرب لوگ ان دونوں درختوں کی دو شاخیں مثل مسواک کے کاٹ لیتے تھے جو بالکل ہری تازہ پانی سے بھری ہوتی تھیں، ایک کو دوسری پر رگڑنے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی۔ ہرے درخت سے آگ پیدا کرنے میں اس طرف اشارہ ہے۔ (قرطبی) اور اگر درختوں کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو ہر درخت بھی اس کا مصداق ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت میں بظاہر یہی مراد ہے (آیت) افرءیتم النار التی تورون انتم انشاتم شجر تھا ام نحن المنشؤن، یعنی کیا تم اس آگ کو نہیں دیکھتے جس کو تم سلگا کر اپنے کام میں لیتے ہو کیا اس آگ سے شعلہ بننے والے درخت کو تم نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 80 یعنی اس بات کو مستعبد نہ خیال کرو کہ راکھ اور مٹی سے زندگی نمودار ہوجائے گی۔ ضد سے ضد کے نمودار ہونے کا کرشمہ تم برابر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ تم سرسبز درخت کی دو شاخیں لیتے اور ان کو ایک دوسرے سے رگر کر ان سے آگ چلا لیتے ہو۔ جس خدا نے اپنی قدرت کی یہ شان دکھائی ہے اس کے لئے یہ کیا بعید ہے کہ وہ مٹی اور راکھ کے اندر سے زندگی نمودار کردے۔ ! الشجرالاخضر ‘ سے مراد وہ درخت ہیں جو عرب کے بعض علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور صحرائوں کے مسافر ان کی شاخوں سے چقماق کا کام لیتے رہے ہیں۔ سلف میں سے بعض لوگوں نے اس آیت کی تاویل اس سے مختلف بھی کی ہے لیکن مجھے اس میں تکلیف محسوس ہوتا ہے۔ یہ تاویل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

80۔ 1 کہتے ہیں عرب میں دو درخت ہیں مرخ اور عفار۔ ان کی دو لکڑیاں آپس میں رگڑی جائیں تو آگ پیدا ہوتی ہے، سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کے حوالے سے اس طرف اشارہ مقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 80–83

24: عرب میں دو درخت ہوتے تھے، ایک مرخ اور دوسرا عفار۔ اہل عرب ان سے چقماق کا کام لیتے تھے، اور ان کو ایکد وسرے کے ساتھ رگڑنے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی۔ فرمایا یہ جارہا ہے کہ جس ذات نے ایک سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی ہے، اس کے لیے دوسرے جمادات میں زندگی پیدا کردینا کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الذی جعل۔۔۔۔ توقدون (36: 80 ) ” وہ جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو “۔ یعنی یہ سادی ابتدائی مشاہدہ ہی اللہ کی قدرت مذکورہ کی تصدیق کر دے گا۔ یہ مشاہدہ تم لوگ روز کرتے ہو لیکن اس کی حقیقت نہیں پاتے ہو۔ یہ سرسبز درخت جو پانی کے رس سے بھرا ہوا ہے جب اس کا ایک حصہ دوسرے سے رگڑا جاتا ہے تو اس سے آگ پیدا ہوتی ہے اور یہ درخت بھی پھر اس آگ کا ایندھن بن جاتا ہے۔ باوجود اپنی سرسبزی اور تروتازگی کے۔ اور وہ گہری تحقیق کہ درخت کے اندر جو طبیعی حرارت کا خزانہ ہوتا ہے ، جو وہ سورج کی تاب کاری سے جذب کرتا ہے اور وہ اسے اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتا ہے حالانکہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اول پانی سے سرسبز و شاداب درخت تیار کیا پھر اسی تروتازہ درخت کو سکھا کر ایندھن بنادیا جس سے اب تم آگ نکال رہے ہو۔ پس جو خدا ایسی متضاد صفات کو ادل بدل سکتا ہے کیا وہ ایک چیز کی موت وحیات کے الٹ پھیر پر قادر نہیں ؟ (تنبیہ) بعض سلف نے " شجر اخضر " (سبزدرخت) سے خاص وہ درخت مراد لیے ہیں جن کی شاخوں کو آپس میں رگڑنے سے آگ نکلتی ہو۔ جیسے بانس کا درخت ہے یا عرب میں مرخ اور عفار تھے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80 { الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا } ”جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کردی“ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہرے بھرے درختوں کے اندر جلنے اور آگ پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ ان کی لکڑیوں کو تم لوگ خشک کر کے جلاتے ہو اور آگ کے حوالے سے اپنی مختلف ضروریات پوری کرتے ہو۔ اس کے علاوہ اس سے بعض ایسے درخت بھی مراد ہیں جن کی سبزٹہنیوں کو رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً بانس کی بعض اقسام میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے صحرائوں میں خاص طور پر بعض ایسے درخت پیدا کر رکھے ہیں جن کی مدد سے مسافر ضرورت پڑنے پر آگ پیدا کرسکیں۔ جیسے کہ عرب کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

72 اللہ نے ہر مردہ میں زندہ اور زندہ میں مردے کی خاصیت رکھ دی ہے :۔ یعنی درخت کو پانی سے پیدا کیا۔ پھر آخر میں اسے ایندھن بنا کر اس سے آگ نکالی۔ درخت کا آغاز پانی سے ہوا اور انتہا آگ پر ہوئی اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد بلکہ ایک لحاظ سے ایک دوسرے کی دشمن ہیں۔ آگ تھوڑی مقدار میں ہو تو پانی اس کا وجود ختم کردیتا ہے۔ اور پانی کم مقدار میں ہو تو آگ اسے آبی بخارات میں تبدیل کرکے اسے ختم کردیتی ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ ایک ہی چیز کے آغاز اور انجام میں متضادصفات پیدا کرسکتے ہیں تو پھر ایک ہی چیز کو زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کیوں نہیں بناسکتے۔ یہ تو عام درختوں اور پودوں کا حال ہے۔ پھر کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

54۔ (تو جو رطوبت سے آگے پیدا کرتا ہے اس کیلئے جماد میں حیات پیدا کردینا کیا مشکل ہے) (آیت) ” منہ تو قدون “۔ دیا سلائی وغیرہ کے دور سے بہت قبل آگ عموما چقماق سے پیدا کیجاتی تھی۔ اور عرب میں وہ مخصوص درختوں کی رگڑ سے پیدا کی جاتی تھی۔ (آیت) ” جعل ..... نارا “۔ یہاں ضمنا آتش پرستی کا بھی رد آگیا۔ آگ ایسی چیز ہے تو تمامتر مخلوق ہے۔ اس میں معبودیت والوہیت کا شائبہ تک نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی جعل لکم من الشج الاخضر نارا فاذا انتم منہ تو قدون . وہی ہے جس نے تمہارے فائدے کیلئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس سے اور آگ سلگاتے ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : دو قسم کے درخت ہیں : ایک کو مرخ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عفار ‘ دونوں درختوں کی مسواک کی دوہری شاخیں اتنی ہری کہ ان سے پانی ٹپکتا ہو ‘ کاٹ لی جائیں پھر مرخ کو عفار سے رگڑا جائے تو ان سے آگ نکلتی ہے۔ عرب کہتے ہیں : ہر درخت میں آگ ہے اور مرخ ‘ عفار میں گھس جاتی ہے۔ علماء کہتے ہیں : سوائے عناب کے ہر درخت میں آگ ہے۔ فَاِذآا اَنْتُمْ مِنْہُ تُوْقِدُوْنَ یعنی آگ سلگانے کے وقت تم کو شک نہیں رہتا کہ ہرے درخت میں آگ نکلتی ہے۔ آگ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور مکہ والو وہ ایسا ہے جو ہرے درخت سے تمہارے لیے آگ پیدا کردیتا ہے پھر تم اس سے اور آگ سلگا لیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا : ”الْاَخْضَرِ“ سے مراد تروتازہ درخت ہے، جو پانی سے لبریز ہوتا ہے۔ یہ دوبارہ زندگی کی دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اشیاء سے ان کی ضد نکالنے پر قادر ہے، وہ بوسیدہ ہڈیوں سے دوبارہ زندہ انسان بنا دے گا، کیونکہ دیکھو، پانی اور آگ ایک دوسرے کی ضد ہیں، مگر اس نے پانی سے لبریز تازہ درخت میں آگ پکڑنے والا وہ مادہ رکھ دیا ہے جس سے تازہ لکڑی بھی جلنے لگتی ہے۔ اسی طرح وہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور نکالے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 80–83

اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت پر متنبہ فرمایا اور مردوں کو زندہ کرنے کے ساتھ اپنی کمال قدرت پر دلیل قائم کی ان چیزوں سے جنہیں وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ تر لکڑی سے ایسی چیز نکالی جو جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور خشک ہوتی ہے اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ کافر نے کہا : نطفہ زندگی کی طبیعت کی وجہ سے گرم تر ہے اور ہڈی موت کی طبیعت کی بنا پر ٹھنڈی اور خشک ہے تو اس سے زندگی کیسے نکلتی ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فامیا کہ سبز درخت پانی سے جنم لیتا ہے پانی ٹھنڈا تر ہے جو آگ کی ضد ہے یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں اللہ تعالیٰ نے اس سے آگ کو پیدا کیا تو وہ اس پر قاد رہے کہ ضد کو ضد سے نکالے وہ ہر چیز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 79–83

2:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ ہڈی تھی اس نے اس کو اپنے ہاتھ سے توڑا پھر کہا اے محمد ﷺ اس کو اللہ تعالیٰ کیسے زندہ کرے گا اس حال میں کہ وہ بوسیدہ ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا) اور تجھ کو موت دے گا پھر تجھ کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ، وھو بکل خلق علیم “ (آپ فرمادیجئے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار ان کو زندگی عطا کی اور وہ سب طرح پیدا کرنا خوب جانتا ہے ) بروز قیامت دوبارہ زندہ ہونا : 3:۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْ [وہ جس نے ] جَعَلَ لَكُمْ [بنایا تمہارے لئے ] مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ [ہرے (بھرے) درخت میں سے ] نَارًا [ایک آگ ] فَاِذَآ اَنْتُمْ [پھر تب ہی تم لوگ ] مِّنْهُ [اس سے ] تُوْقِدُوْنَ [آگ بھڑکاتے ہو ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 80 کا یا تو یہ مطلب ہے کہ اس نے ہرے بھرے درختون میں وہ آتش گیر مادہ رکھا ہے جس کی بدولت تم آگ جلاتے ہو۔ یا پھر یہ اشارہ ہے مرخ اور عفار نامی ان دو درختوں کی طرف جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو لے کر اہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تھے تو ان سے آگ جھڑنے لگی تھی۔ قدیم زمانے میں عرب کے بدو آگ جلانے کے لئے یہی چقماق استعمال کرتے تھے اور ممکن ہے آج بھی کرتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِِذَا اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ ) (جس نے تمہارے لیے ہرے درخت سے آگ پیدا کی۔ سو اچانک تم اس میں سے جلاتے ہو) یعنی جس ذات پاک نے ہرے درخت میں سے آگ نکالی حالانکہ درخت پانی کے اثر سے ہرا بھرا ہوتا ہے اور درخت کو نچوڑیں تو اس میں سے پانی نکلتا ہے اور آگ اور پانی آپس میں ضد ہیں، اس کے لیے جماد یعنی ایسی بےجان چیز میں جان ڈالنا کیا مشکل ہے جس میں ظاہری اعتبار سے اس کے مخالف اور منافی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور وہ ایک بار زندگی پاچکی ہے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ مرخ اور عفار دو درخت ہوتے تھے اور سرسبز ہوتے تھے جن میں سے پانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–83

بآشکار ونہاں ہر چہ کردی وگفتی جزا و بد بتو دانائے آشکارد نہاں منکرین حشر کا ایک شبہہ یا وسوسہ اور اس کا جواب (1) قال اللہ تعالیٰ اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فسبحن الذی بیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دلائل اور براہین سے وحدانیت کو ثابت کردیا اور اس ضمن میں انکار حشر کا بھی زکر تھا اب آئندہ آیات میں ثبوت حشر ونشر پر دلائل قائم کرتے ہیں اور منکرین حشر کے ایک شبہ اور استبعاد کا جواب دیتے ہیں یہ لوگ حشر ونشر کو ناممکن اور محال اور بعید از عقل جانتے تھے اور عجیب عجیب باتیں کرتے تھے چناچہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ابی بن خلف یا عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49:۔ الذی جعل الخ :۔ اس کی قدرت کاملہ کا ایک ادنی کرشمہ یہ ہے کہ وہ سبز درخت سے آگ نکالتا ہے۔ جسے تم روشن کرتے ہو۔ سبز درخت سے عفار بانس اور مرخ مراد ہیں۔ ان تینوں درختوں کی تازہ لکڑیوں کو باہم رگڑ کر آگ حاصل کی جاتی تھی۔ وھی الزنا والتی توری بھا الاعراب و اکثرھا من المرخ والعفار (مدارک ج 4 ص 12) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ دروس میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے توحید کے عقلی دلائل دیے جن میں غور و فکر کرکے انسان اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہی دلائل وقوع قیامت کے لیے بھی کافی ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کفار و مشرکین کی بیہودہ باتوں سے غمگین نہ ہوں ، ہم ان کے ظاہر و باطن کو جانتے ہیں اور ان کے عقائد و اعمال کا ضرور بدلہ دیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی اللہ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ مشرکین کا رد فرمایا ہے۔ انسان کی پیدائش ارشاد ہوتا ہے اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ کیا انسان نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَآ اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ۝ 80 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ شجر الشَّجَرُ من النّبات : ما له ساق، يقال : شَجَرَةٌ وشَجَرٌ ، نحو : ثمرة وثمر . قال تعالی: إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] ، وقال : أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] ، وقال : وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] ، لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، إِنَّ شَجَرَةَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–80

خدا تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے۔ قل یحیہا الذی انشائھا اول مرۃ اے محمد ﷺ کہہ دے ان بوسیدہ ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا کہ جس نے ان کو اول بار بنایا تھا اور ان کا کچھ بھی وجود نہ تھا، پھر باردگر بنانا اس کو کیا نہیں آتا ؟ وھو بکل خلق علیم حالانکہ وہ ہر ہر چیز مخلوقات کی جانتا ہے، کوئی ذرہ اجزائِ بدن کا اس سے مخفی نہیں، بارِدگر سب کو ملادے گا اور روح ڈال دے گا یا یوں کہو وہ ہر طرح سے پیدا کرنا جانتا ہے، کوئی ذرہ اجزائِ بدن کا اس سے مخفی نہیں۔ بارِدگر سب کو ملادے گا اور روح ڈال دے گا یا یوں کہو وہ ہر طرح سے پیدا کرنا جانتا ہے۔ فالخلق مصدر وعلی الاول بمعنی المخلوق۔ اس کے بعد اور دلیل بیان فرماتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمْ مِّنَ الشَّجَرِالْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَٓا اَنْـتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 80) (وہی ہے جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔ ) ضد سے ضد کا ظہور تمہیں اس بات میں استبعاد نظر آتا ہے کہ موت سے زندگی کیسے نکل سکتی ہے، ضد سے ضد کا ظہور کیسے ہوسکتا ہے، خزاں سے بہار کیسے پھوٹ سکتی ہے۔ اسی لیے تمہیں انسانوں کا دوبارہ جی اٹھنا بعیدازعقل معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ ضد سے ضد کا ظہور تمہارے اپنے مشاہدات کا حصہ ہے۔ کیا آج کی دنیا میں پانی سے بجلی پیدا نہیں کی جاتی، کوئلے سے سفید دھاگا نہیں نکالا جاتا۔ چلیے اسے تو آپ مشینوں کا عمل سمجھ لیجیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 78–80

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر قیامت قائم ہونے کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اگر انسان کو اپنی تخلیق یاد ہو تو وہ قیامت کا انکار نہ کرے اور نہ ہی اس کے بارے میں بحث و تکرار کرے۔ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے۔ اس نے نہ صرف انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے بلکہ تمہارے لیے ہر بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے جس سے تم آگ حاصل کرتے ہو۔ کیا انسان اس پر بھی غور نہیں کرتا کہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور جس نے سبز درخت میں آگ پیدا کی اور جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ کیا اب وہ انہیں پیدا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80: الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا (وہ ایسا ہے کہ ہرے درخت سے تمہارے لئے آگ پیدا کردیتا ہے) ۔ فَاِذَا اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ (پھر تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو) توقدون کا معنی سلگانا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق کے عجائبات کے ذکر کرتے ہوئے فرمایا سبز درخت سے آگ کا سلگانا جبکہ آگ اور پانی میں تضاد ہے۔ اور پانی سے آگ بجھتی ہے۔ وہ چقماق ہے جس سے جنگلی لوگ آگ جلاتے ہیں۔ اور اکثر تو مرخ و عفار نامی درختوں اور اسی طرح کے دیگر درختوں کی ٹہنیوں کو رگڑ کر سلگاتے ہیں۔ ان کی امثلہ میں مشہور۔ ] کتاب الامثال : 202[ فی کل شجرنار واستمجد المرخ و العفار، ویسے تو ہر درخت میں آگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

80، الذی جعل لکم من الشجر الا خضرنارا، حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ دوقسم کے درخت ہیں ایک کو مرخ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عفار ، دونوں درختوں کی مسواک کی دوہری شاخیں اتنی ہری کہ ان سے پانی ٹپکتا ہو، کاٹ لی جائیں ۔ پھر مرخ کو عفار سے رگڑاجائے تو ان سے آگ نکلتی ہے اللہ عزوجل کے حکم سے۔ عرب کہتے ہیں کہ ہر درخت میں آگ ہے اور مرخ، عفار میں گھس جاتی ہے۔ حکماء کا قول ہے کہ ہر درخت میں آگ ہے سوائے عناب کے ۔ ، فاذا انتم منہ توقدون، اس سے تم آگ سلگا تے ہو اور تمہیں اس بات میں شک رہتا کہ ہرے درخت سے آگ نکلتی ہے ۔ پھر وہ تو اپنی عظیم قدرت والی ذات ہے جو انسان کو پیدا کرنے پر قاد رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 80–83

80 تا 83۔ انسان کی عقل کی رسائی سے باہر یہ اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی ہے کیوں کہ انسان کا عقلی تجربہ تو یہی ہے کہ کسی ہرے درخت کی ٹہنیوں پر آگ ڈال دی جاوے تو اس کی ٹہنیاں جل جاویں گی یہ ساری صاحب قدرت کی قدرت ہے کہ مثلاً بانس اور بعضے درختوں میں اس نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان درختوں کی ہری ٹہنیوں کو توڑ کر ایک ٹہنی کو دوسری ٹہنی سے رگڑا جاوے تو ان تنیوں میں سے آگ نکلتی ہے جس آگ کو مسافر لوگ کام میں لاتے ہیں۔ پھر فرمایا جس صاحب قدرت نے ان منکرین حشر کے سر پر بغیر ستون کے سات آسمان کھڑے کردیئے ان کے رہنے اور بسنے کے لیے پانی پر زمین بچھادی کیا ایک دفعہ پیدا کر کے پھر دوبارہ ان منکرین حشر کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 77–83

آیت 77 ان آیت کریمہ میں، منکرین قیامت کے شبہات اور ان کے مکمل، بہترین اور واضح جواب کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (اولم یر الانسان) کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے پر غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے (من نطفۃ) ” نطفے سے “ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتی کہ بڑا ہو کر جو ان ہوجاتا ہے اور اس کی عقل کا مل اور درست ہوجاتی ہے (فاذا ھو خصیم مبین) ’ دتو یکایک وہ صریح جھگڑا لو بن بیٹھتا ہے۔ “ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتد ا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت پر غور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–83

کسی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا مشکل، دوبارہ آسان ہوتا ہے قول باری ہے (قال من یحی العظام وھی رمیم کہنے لگا ہڈیاں جب بوسیدہ ہوجائیں تو انہیں کون زندہ کرے گا ؟ ) پھر ارشاد ہوا (قل یحیھا الذی انشاھا اول مرہ۔ آپ کہہ دیجئے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا) اس میں اس بات کی واضح ترین دلیل موجود ہے کہ جو ذات ابتداء کرنے پر قادر ہے وہ اعادے پر زیادہ قادر ہوتی ہے۔ کیونکہ ظاہری طور پر کسی چیز کا اعادہ کرنا اس کی ابتدا کرنے سے زیادہ سہل ہوتا ہے۔ اس لئے جو ذات شروع میں کسی چیز کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتی ہے وہ اس صورت میں اس چیز کو دوبارہ پیدا کرنے پر زیادہ قادر ہوتی ہے جس میں اس چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 80–81

83 بعث بعد الموت کے کائنات کے وجود سے استدلال : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کے خالق کیلئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ آسمانوں اور زمین کے مقابلے میں یہ انسان ضعیف البنیان ایک ذرئہ بےمقدار کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَخَلْقُ السَّمٰوٰاتِ وَالاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ } ۔ (المومن : 57) ۔ سو جب اس قادر مطلق، خالق کل نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرما دیا اور اس کو کسی طرح کی تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں تو پھر اس کیلئے اس چند فٹ کے اس انسان کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 76–82

لوگوں کے دوبارہ پیدا کیے جانے کے قرآنی دلائل تشریح : اللہ جل شانہ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ان کی باتوں سے یعنی کفار کی حجت بازی سے پریشان نہ ہوں۔ میرے علم میں یہ بات بخوبی ہے کہ اصل میں یہ آپ کی حقیقی خوبیوں کو جانتے ہیـں مانتے ہیں مگر صرف ضد بازی میں آپ کے سامنے اور لوگوں کے سامنے یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ انسان ہے کیا چیز ! اگر یہ اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب دلیلوں کے ساتھ مل جائیں۔ انہوں نے اگر مردہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو کیا ہوا ؟ ہر وقت یہ ہر طرف انسان، چرند پرند، پھول پھل اور ہر قسم کی نباتات کو پیدا ہوتے پھولتے پھلتے نہیں دیکھتا ؟ کیا یہ ثبوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 79–80

ف 6 یعنی اس نے پہلے تو پانی سے سرسبز شاداب درخت پیدا کیا پھر اسے سکھا کر ایندھن بنا دذیا جس سے اب تم آگ جلا رہے ہو۔ بعض علماء تفسیر نے ” سبز درخت “ سے مراد غفار اور مرخ نامی دو درخت لئے ہیں جن کی ہری بھری ٹہنیاں لے کر اہل عرب انہیں آپس میں ٹکراتے تو ان سے آگ پیدا ہوجاتی اور وہ انہی سے آگ حاصل کرتے تھے واللہ اعلم۔ ( کذا فی الوضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:80) الشجر الاخضر۔ سبز درخت، ہرا بھرا درخت، موصوف وصفت ۔ فاذا انتم منہ توقدون۔ اور پھر تم اس سے (اور ) آگ سلگا لیتے ہو۔ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الشجر الاخضر ہے توقدون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم آگ سلگاتے ہو، تم آگ روشن کرتے ہو۔ ایقاد (افعال) مصدر۔ وقد مادہ۔ وقود ایندھن کی لکڑیاں جن سے آگ جلائی جائے۔ آگ کا شعلہ۔ الشجر الاخضر سے آگ کے مہیا ہونے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں ! (1) اللہ تعالیٰ کسی چیز کی ہیئت کو منقلب کرسکتا ہے ” فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی سے میں نے درخت اگائے جو سرسبز و شاداب ہرے بھرے اور پھل دار ہوئے۔ پھر وہ سوکھ گئے اور ان کی لکڑیوں میں سے میں نے آگ نکالی۔ کہاں وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–83

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 80–83

(ف 1) انسان کی عقل کی رسائی سے باہر اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی ہے کہ کیونکہ انسان کا عقلی تجربہ تو یہی ہے کہ کسی ہرے درخت کی ٹہنیوں پر آگ ڈال دی جائے تو اس کی ٹہنیاں جل جائیں گی یہ اسی کی قدرت ہے کہ بعض درختوں میں اس نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان درختوں کی ہر ٹہنیوں کو توڑ کر ایک ٹہنی کو دوسری سے رگڑاجائے تو ان ٹہنیوں میں سے ـآگ نکلتی ہے جس آگ کو مسافر لوگ کام میں لاتے ہیں عرب میں دودرخت ہیں جو وہاں کے جنگلوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ایک کا نام مزح ہے اور دوسرے کا نام عفار۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ جب ان کی سبز شاخیں کاٹ کر ایک دوسرے پر رگڑی جائیں تو ان سے آگ نکلتی ہے باوجوی کہ وہ اتنی تری ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–83

[26] یعنی اول پانی سے سبز و شاداب درخت تیار کیا پھر اسی تروتازہ درخت کو سکھا کر ایندھن بنادیا جس سے اب تم آگ نکال رہے ہو۔ ماہرین ارضیات کی تحقیق یہ ہے کہ کوئلہ کی تخلیق درختوں سے ہوئی۔ آج سے ہزاروں سال پہلے جب انسانوں کی تعداد کم تھی زمین پر دور دور تک جنگل پھیلے ہوئے تھے۔ بڑی بڑی جھیلوں اور دریاؤں کے کنارے اونچی اور گھنی کائیاں تھیں۔ زلزلوں کی وجہ سے کائیاں اور جنگلات زمین میں دب گئے اور زمین کے دباؤ اور دیگر کیمیائی تغیرات سے وہ پہلے نسواری رنگ کے گوند میں تبدیل ہوگئے۔ بعد میں یہی گوند سیاہ ہو کر کوئلہ بن گیا۔ آج ہم زمین سے یہی کوئلہ نکال کر جلاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: وہ ہرے بھرے درختوں سے آگ کی چنگاریاں نکال سکتا ہے ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ تو کیا اس کے لئے یہ مشکل و دشوار ہے ۔ کہ پھر سے انسانوں کو پیدا کردے ۔ بلی وحو الرحاقی العلیم ۔ ضرور وہ قادر ہے ۔ اور بڑا پیدا کرنے والا اور دانا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(80) وہ پہلی بار پیدا کرنے والا ایسا ہے جو تمہارے لئے ہرے اور سبز درخت سے آگ پیدا کرتا ہے۔ پھر تب ہی تم اس سبز درخت سے اور آگ سلگاتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اول پتھر سے نکالتے ہیں یا درخت سبز سے ٹہنیاں اس کی آپس میں رگڑتی ہیں تو آگ نکلتی ہے جیسے بانس ہے۔ بانس کے درخت سے آگ کا نکلنا تو مشہور ہے جب ہوا سے بانس آپس میں رگڑتے ہیں تو ان میں آگ پیدا ہوجاتی ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ پانی سے جو لکڑی پیدا ہوتی ہے وہی آگ کا کام دیتی ہے۔ یہ تغیر اور تبدل اس امر کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے یا اہل عرب چونکہ عام طور سے مرخ اور عفار کو رگڑ کر آگ نکالتے تھے اس کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 80–83

ف 1۔ چناچہ عرب میں ایک درخت تھا مرخ اور ایک عفار، ان سے چقماق کا کام لیتے تھے، پس جب پانی میں کہ خضرت اسی کا اثر ہے، آگ پیدا کردیتے ہیں تو جماد میں حیات پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ وہ ذات ہے جس نے سبز درخت سے تمہارے لیے آگ پیدا کردی : 80۔ گزشتہ آیتوں میں بیان کیا گیا مضمون بھی کوئی مشکل نہیں تھا بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتا تھا لیکن تاہم ان میں کچھ ایسے اسرار و رموز تھے کہ شاید تم میں ان کے سمجھنے کی اہلیت نہ ہو جن کے باعث کروڑوں سال گزرنے کے باوجود اس نظام عالم میں کہنگی کے آثار کہیں نظر نہیں آتے ‘ ابھی تو جوانی ہی کا عالم نظر آتا ہے اور معلوم نہیں کہ اس کا بڑھاپا کب ہوگا اور اگر یہ دھرتی بوڑھی ہوگئی ہو سکتا ہے کہ آسمان نے ابھی مزید شادی رچانا ہو اس لیے ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن یہ تو ایک بالکل موٹی سی بات ہے کہ پانی اور آگ میں طبعی تضاد ہے آگ کا بس چلے تو پانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–81

In verse 80, it was said: جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ‌ الْأَخْضَرِ‌ نَارً‌ا (the One who created for you fire from the green tree). Two trees used to be well known in ` Arabia - Markh (Cynanchum Vinimale) and ` Afar. The Arabs were accustomed to cutting two twigs from these two trees as they did with siwak or miswak. These twigs would be solid, green, and full of fresh water inside. By rubbing one on the other, it worked like firestone. They could strike fire out of these. This is what has been alluded to in striking fire out of the green tree. (Qurtubi) And if we were to consider the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–83

68 It either means that He has placed the inflammable matter in the green trees due to which people kindle fire from the pieces of wood. Or, it is an allusion to the markh and 'afar trees, whose green branches the Arabs struck against each other to produce the sparks. In ancient times the Bedouins used this method of kindling the fire and might even be using the same today.

Read the full tafseer →