36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 36:1–12

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ بیشک تم پیغمبروں میں سے ہو

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا متنبہ کردو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائینگے

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر الل رہے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنادی اور ان کے پیچھے بھی پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) انکے نشان پیچھے رہ گئے ہم انکو قلمبند کرلیتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح) محفوظ میں لکھ رکھا ہے

اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید مکذبین نبوت ومنکرین قیامت قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اور ابن عباس ؓ اور عکرمہ ؓ اور ضحاک (رح) اور حسن بصری (رح) اور سفیان بن عینیہ (رح) سے منقول ہے وہ کہتے تھے کہ یٰسین کے معنی یا انسان کے ہیں اس لئے آپ ﷺ سید البشر اور سید الانس والجان ہیں لفظ یٰسین یا انسان کا مخفف ہے اور انسان سے انسان کامل مراد ہے جس کا مصداق محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ قسم ہے اس قرآن حکیم کی جو غایت درجہ محکم اور سراپا علم و حکمت ہے اس کا ہر حرف علم اور حکمت کا منبع اور سرچشمہ ہے جہاں باطل اور سحر کا کہیں گذر نہیں اور نہ اس میں شعر و شاعری کا کوئی شائبہ ہے جس کو یہ نبی امی تم کو پڑھ کر سنا رہا ہے۔ اے نبی آپ ﷺ بلاشبہ خدا کے پیغمبروں میں سے ہیں اور سیدھے راستے پر ہیں جو سیدھا خدا تک پہنچانے والا ہے۔ ” صراط مستقیم “ سے دین اسلام اوردین حق مراد ہے اور یہ کفار ٹیڑھے راستہ پر ہیں یعنی دین باطل پر ہیں صراط مستقیم پر استقامت ہی منزل مقصود تک پہنچاتی ہے اور یہی قرآن حکیم جو علم اور حکمت سے بھرا پڑا ہے آپ ﷺ کی رسالت کی دلیل ہے اور آپ ﷺ کی گفتار اور کردار بھی آپ کی نبوت کی دلیل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ حق پر ہیں اور سیدھی راہ پر ہیں اور یہی راہ خدا تک پہنچانے والی ہے جس نے اس راہ سے اعراض اور انحراف کیا وہ گمراہ ہوا۔ نکتہ : والقران الحکیم قسم ہے اور انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم۔ جواب قسم ہے۔ اس قسم سے ایک تو کفار کا رد مقصود ہے جو قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ رسول نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں قسم کھا کر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان کیا کہ آپ ﷺ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں دوم یہ کہ یہ قسم دراصل جواب قسم کی دلیل ہے۔ دلائل نبوت اور براہین رسالت میں سب سے بڑی دلیل آپ کی نبوت کی یہ قرآن حکیم ہے جس طرح توریت اور انجیل حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی نبوت کی دلیل تھی اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر یہ قرآن آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی دلیل ہے اور اس کے بعد کا یہ جملہ (علی صراط مستقیم) پہلے جملہ کی تاکید ہے اس لئے کہ جو رسول ہوگا وہ ضرور راہ راست پر ہوگا۔ ان آیات میں قرآن حکیم کی قسم کھا کر آپ ﷺ کی رسالت کو بیان کیا قرآن حکیم آپ کی نبوت کی سب سے بڑی علمی دلیل ہے یہ آنحضرت ﷺ کی خاص خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کیا آپ ﷺ کے سوا کسی اور نبی اور رسول کی رسالت کو قسم کھا کر نہیں بیان فرمایا اور اس کے بعد آنے والے جملہ لینذر قوما سے یہ بتلایا کہ نبی کا کام انذار ہے نہ کہ اجبار یعنی نبی کا کام فقط ڈرانے کا ہے باقی ہدایت دینا یہ اللہ کا کام ہے اور یہ قرآن حکیم ایسے رب العزت کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ اس قوم کو عذاب خداوندی سے ڈرائیں جن کے قریبی آباء و اجداد قریبی زمانہ فترت میں کسی رسول کے ذریعہ خدا کے قہر سے نہیں ڈرائے گئے پس وہ حق اور ہدایت سے غافل اور بیخبر ہیں اس لئے وہ اس بات کے محتاج تھے کہ کوئی ہادی برحق آئے اور ان کو خدا کا راستہ بتلائے اور خواب غلفت سے ان کو بیدار کرے سو اس عزیز رحیم نے اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ تنبیہ : کوئی اس سے یہ خیال نہ کرے کہ آپ عرب کے لئے مبعوث ہوئے تھے آپ ﷺ تو سارے ہی عالم کے لئے مبعوث ہوئے مگر چونکہ آپ ﷺ عربی تھے اس لئے آپ کی دعوت اور خطاب کے بالذات اور اول مخاطب عرب تھے جو دوسروں کی نفی پر دلالت نہیں کرتا اس لئے کہ آپ ﷺ کی عموم بعثت بیشمار آیات اور احادیث سے ثابت ہے۔۔ کما قال تعالیٰ قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا وغیر ذلک من الایات جس میں ساری دنیا شریک ہے یہ کتاب حکمت جو اللہ نے آپ پر نازل کی ہے وہ بلاشبہ اپنے ذات سے تمام عالم کے لئے اور عرب وعجم کے لئے باران رحمت اور مشعل راہ ہے لیکن البتہ تحقیق ان میں سے اکثر لوگوں پر جو نفس اور شیطان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں، پہلے ہی سے تقدیری طور پر۔ ان پر کلمہ برحق اور حکم محکم جاری ہوچکا ہے اور ” حق القول “ سے کلمہ حق لاملئن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین مراد ہے اور اس کے ہم معنی ان الذین حقت علیہم کلمۃ ربک لا یؤمنون جیسی آیتیں مراد ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے کافروں کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے پس یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا اے نبی آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ نہ ہوں یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کو اللہ تعالیٰ ازل میں جانتا ہے کہ یہ لوگ کفر اور عناد پر رہیں گے جیسے ابوجہل اور ابی بن خلف اور عتبہ اور شیبہ وامثالہم۔ ان میں سے اکثروں پر خدا کا کہا پورا ہوا جو ازلی بدنصیب اور دل کے اندھے تھے ان کو آفتاب ہدایت کی روشنی سے فائدہ نہ ہو۔ اب آئندہ آیات میں اس بات کی علت بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لائیں گے سو عالم اسباب میں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ عناد کی وجہ سے توفیق خداوندی سے محروم کر دئیے گئے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق ہم نے اپنی کسی حکمت اور مصلحت سے ان بدبختوں کی گردنوں میں بڑے بھاری طوق ڈال دئیے ہیں اور ایسے چپکا اور چمٹا دئیے ہیں کہ وہ ان کی گردنوں سے نہ نکل سکیں پس وہ طوق ان کی گردنوں سے لپٹ گئے ہیں اور ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں جو خوب اچھی طرح ان کی گردنوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور وہ ان میں بہت سخت جکڑے ہوئے ہیں۔ پس ان کی حالت اور کیفیت یہ ہے کہ ان کے سر اوپر کو الل کر رہ گئے یعنی اوپر اٹھ گئے ہیں لہٰذا اب وہ اپنا سر نیچے نہیں جھکا سکتے اور ایسے سخت جکڑے ہوئے ہیں کہ اب وہ اپنا سر ہلابھی نہیں سکتے جیسے کسی جانور کو جب پانی یا چارہ دینا منظور نہیں ہوتا تو اس کا منہ بند کردیتے ہیں اور سر اس کا باندھ دیتے ہیں تاکہ وہ جانور نہ سر ہلا سکے اور نہ ہاتھ ہلا سکے یہی حال ان معاندین کا ہے جو نفسانیت اور عناد کے طوقوں میں ایسے جکڑ دئیے گئے ہیں کہ وہ حق کے سامنے سر نہیں جھکا سکتے ان آیات میں جو مثال ذکر کی گئی ہے وہ اس کافر کی ہے جس نے حق کو خوب پہچان لیا اور پھر بجائے اس کے قبول کرنے کے اس کی دشمنی اور عداوت پر تل گیا۔ اور علاوہ ازیں ہم نے ایک آڑ اور بڑی دیوار تو ان کے سامنے کھڑی کردی ہے اور ایک آڑ اور بڑی دیوار ان کے پیچھے کھڑی کردی ہے اور پھر اس کے علاوہ ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ کما قال تعالی۔ وعلی ابصارہم غشاوۃ تاکہ آنکھ پس پردہ کی کسی چیز کو نہ دیکھ سکے۔ لہٰذا ایسی حالت میں یہ لوگ حق کو نہیں دیکھ سکتے جب آگے اور پیچھے سے دیوار حال ہو اور اوپر سے آنکھوں پر پردہ دال دیا گیا تو پھر راہ کیسے نظر آئے۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے ان کی شقاوت ازلیہ کی مثال بیان فرمائی ہے کہ فرض کرو کسی کے گلے میں اتنا بڑا طوق ہے کہ وہ ٹھوڑی تک اس میں جکڑا ہوا ہے تو لا محالہ اس کا منہ اوپر کو اللہ جائے گا اور وہ اپنے زیر قدم اور پاس کی راہ کو بلکہ کسی چیز کو بھی نہ دیکھ سکے گا اور مزید برآں جب آگے اور پیچھے بڑی بڑی دیواریں کھڑی کردی جائیں اور اوپر سے آنکھوں پر کوئی پردہ ڈال دیا جائے تو پھر دور اور نزدیک کی کسی چیز کے نظر آنے کی کوئی صورت نہیں۔ کفار کی اس کیفیت اور حالت کو بیان کرنے سے آنحضرت ﷺ کی تسلی مقصود ہے کہ آپ ﷺ ان کے ایمان لانے کی امید نہ رکھیں ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگ چکی ہے اور آنکھوں پر پردہ پڑچکا ہے۔ اور جب یہ لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس حالت کو پہنچ گئے تو ایسوں کو عذاب الٰہی سے ڈرانا اور نہ ڈرانا سب برابر ہے یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اس لئے کہ اب ان میں ایمان کی صلاحت ہی باقی نہیں رہی اور یہ برابری ان کے حق میں ہے نبی کے حق میں نہیں نبی کو بہرحال انذار کا اجر ملے گا۔ اللہ کے علم ازلی میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے بلکہ کفر پر مریں گے ایسے لوگوں کو انذار اور تبلیغ اتمام حجت کے لئے ہے ہاں البتہ آپ ﷺ کا ڈرانا صر ایسے شخص کو سود مند ہوسکتا ہے جس میں ایمان اور قبول حق کی کوئی صلاحیت تو موجود ہو اور وہ وہ شخص ہے کہ جو نصیحت کی پیروی کرے یعنی نصیحت کو سنے اور اس کے سمجھنے کی کوشش کرے اور سمجھ میں آجانے کے بعد اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے اور بغیر دیکھے غائبانہ خدا سے ڈرتا ہو۔ خدا سے بغیر دیکھے ڈرنا اور بغیر دیکھے آخرت اور قیامت کے احوال اور اہوال سے ڈرتا کہ دیکھئے آخرت میں مجھ پر کیا گزرے گی یہ خوف ہی طلب حق پر آمادہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ڈرانا ایسے ہی شخص کو سود مند ہوسکتا ہے کہ جو طالب حق ہو اور خدا سے ڈرتا ہو اور جو شخص سرے ہی سے خدا کا قائل نہ ہو یا اس کے دل میں خدا کا ڈر ہی نہ ہو اس کو ڈرانا اور نہ ڈرانا سب برابر ہے پس ایسے خدا ترس بندہ کو گزشتہ تقصیرات پر خدا کی مغفرت کی اور طاعات پر آئندہ زمانہ میں بڑے اچھے ثواب اور انعام کی خوشخبری سنا دیجئے جو اس کو اس عالم سے گذرنے کے بعد ملے گا۔ بیشک ہم قیامت کے دن مردوں کو دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ دنیا میں انذار اور تبشیر کے ثمرہ کو ظاہر کریں اور یہ ثمرہ دوبارہ زندگی ہی میں ظاہر ہوگا اور ہم یعنی ہمارے کراما کاتبین ہمارے حکم سے ان کے اعمال کو لکھتے جاتے ہیں جو انہوں نے اپنی زندگی میں کئے اور ان آثار ونشانات کو بھی لکھتے جاتے ہیں جو انہوں نے اپنے مرنے کے بعد چھوڑے۔ آثار سے وہ اعمال مراد ہیں جن کا اثر مرنے کے بعد بھی باقی رہے جیسے علم دین کے بارے میں کوئی کتاب لکھی یا کوئی ناول اور ڈرامہ لکھا یا مسجد اور دینی مدرسہ بنا کر چھوڑا یا سینما اور کالج بنا کر چھوڑا۔ اسی کے مطابق جزا وسزا ملے گی۔ غرض یہ کہ لفظ آثار عام ہے خواہ وہ آثار حسیہ ہوں یا معنویہ، سب کے سب نامہ اعمال میں درج ہیں اور مذکورہ بالا تمام چیزیں ان الفاظ کے عموم میں داخل ہوں۔ حتی کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں جاتے وقت جو قدم زمین پر پڑے ہیں وہ بھی اس میں داخل ہیں ان پر بھی اجر ہے جیسا کہ بعض احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔ دیارکم تکتب لکم اثارکم اس لئے کہ محققین کے نزدیک اثارہم سے مطلق آثار مراد ہیں خواہ وہ آثار حسی ہوں یا معنوی اس لئے اثارہم میں وہ نان قدم بھی داخل ہوں گے جو طاعت اور معصیت اور مسجد اور سینما کی طرف چلنے میں ظاہر ہوں۔ اور ہمارا علم اس قدر وسیع اور محیط ہے کہ ہم اس کتابت کے محتاج نہیں جو وقوع عمل کے بعد ہوئی ہے کیونکہ ہم نے تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے سب چیزوں کا علم ہے اور ہر چیز پہلے ہی سے ہمارے احاطہ علم میں ہے مگر جزاء اور سزا وقوع کے بعد ملتی ہے۔ ہر چیز وقوع سے پہلے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور وقوع کے بعد نامہ اعمال میں لکھی ہوئی ہے۔ ” امام مبین “ سے لوح محفوظ مراد ہے جو کتاب اعمال کے علاوہ ہے جس میں بندوں کے اعمال لکھے جاتے ہیں اور جو قیامت کے دن بندوں کے ہاتھوں میں دئیے جائیں گے۔
Ayahs 36:13–21

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

(یعنی) جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک دیکھتے ہیں اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسوں کے لیے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے راستے پر ہیں

قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے اس سے شہر انطاکیہ مراد ہے جو شام کے علاقہ میں ایک بستی ہے اور اس قصہ میں جن مرسلین کا ذکر ہے ان سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری مراد ہیں جو شہر انطاکیہ میں وعظ اور نصیحت اور تبلیغ اور دعوت کی غرض سے آئے تھے۔ تاکہ وہاں کے بت پرستوں کو توحید اور رسالت اور قیامت پر ایمان لانے کی دعوت دیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے رفع الی السماء سے کچھ پہلے ان تین حواریوں کو انطاکیہ کی طرف بھیجا کہ ان کو دین حق کی دعوت دیں اور چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان حواریوں کو اللہ کے حکم سے بھیجا تھا اس لئے اذ ارسلنا الیہم اثنین میں ان کے ارسال کو خداوند ذوالجلال کی طرف منسوب کیا گیا غرض یہ کہ اس رکوع میں جن کو مرسلین کہا گیا وہ خداوند کے بلاواسطہ رسول نہ تھے بلکہ نائب رسول یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ تھے اور وہ تینوں عیسیٰ (علیہ السلام) کے مبلغ اور ایلچی تھے ان کی طرف سے لوگوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی اور ان کی شریعت کی اتباع کی دعوت دیتے تھے اس لئے اہل قریہ نے ان مبلغین کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قائم مقام اور وکیل سمجھ کر ان انتم الا بشر مثلنا کہا۔ اہل قریہ کی طرف سے ظاہر میں یہ خطاب حواریین کو تھا مگر در پردہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تھا اس لئے کہ اصل رسول تو عیسیٰ (علیہ السلام) تھے اور یہ حواری ان کے وکیل اور قائم مقام اور نمائندہ تھے اور مرسل اور ” مرسلین “ کے معنی فرستادہ کے ہیں۔ خواہ خدا تعالیٰ کے رسول مرسل ہوں یا کسی نبی کے فرستادہ ہوں۔ لفظ مرسل کا اطلاق سب پر آیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کی ایک جماعت آئی تو یہ فرمایا۔ قال فما خطبکم ایھا المرسلون اس آیت میں مرسلین سے فرشتے مراد ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ اور ملکہ بلقیس نے جو سلیمان (علیہ السلام) کے پاس قاصد اور ایلچی بھیجے تھے ان پر بھی مرسلین کا اطلاق آیا ہے۔ انی مرسلۃ الیہم بھدیۃ فناظرۃ بم یرجع المرسلون۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں مرسلین سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مراد ہوں۔ اور بعض علماء تفسیریہ کہتے ہیں کہ تینوں شخص بلا واسطہ خدا کے رسول تھے اس قریہ والوں کی طرف اول دو رسول بھیجے گئے۔ جیسے اہل مصر کی طرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ دیکھو تفسیر (ف 1) قرطبی ص 14 ج 15۔ 1 قال الامام القرطبی قیل ہم رسل من اللہ علی الابتداء وقیل ان عیسیٰ (علیہ السلام) بعثہم الی انطاکیۃ للدعاء الی اللہ تعالیٰ وھو قولہ تعالیٰ اذ ارسلنا الیہم اثنین واضاف الرب ذلک الی نفسہ لان عیسیٰ (علیہ السلام) اوسلھما بامرا لرب وکان ذلک حین رفع عیسیٰ الی السماء اھ تفسیر قرطبی ص 14 ج 15۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسی قریہ والوں کی طرف اول دو رسول بھیجے پھر بعد میں ان کی تائید اور تقویت کے لئے تیسرا رسول بھیجا۔ تینوں نے مل کر ان بت پرستوں کو توحید کی دعوت دی۔ اہل قریہ نے ان کے جواب میں کہا ما انتم الا بشر مثلنا کہ تم لوگ تو ہم ہی جیسے بشر اور آدمی ہو۔ اہل قریہ کا یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تینوں شخص بلا واسطہ خدا کے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل انطاکیہ کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ نہ تھے پس اگر یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مبلغ اور ایلچی یا ان کے فرستادہ ہوتے تو اہل قریہ ان سے یہ نہ کہتے ما انتم الا بشر مثلنا کیونکہ آدمی کی طرف سے آدمی کے ایلچی ہونے کے وہ بھی منکر نہ تھے نیز اگر وہ تینوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو وہ خود کہتے کہ ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ پیام لے کر آئے ہیں اور ہم ان کے قاصد اور ایلچی ہیں اس لئے حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس قریہ سے قریہ انطاکیہ مراد نہیں بلکہ گزشتہ زمانہ کی کوئی بستی مراد ہے جہاں یہ واقعہ گذرا ہے اور ہم کو اس کی تفصیل اور تعیین معلوم نہیں نیز یہ بستی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے پہلے ایمان لانے والی بستیوں میں سے ہے۔ منکرین اور مکذبین رسالت سے نہیں اور نہ یہ بستی عذاب الٰہی سے ہلاک ہوئی۔ معلوم ہوا کہ اس رکوع میں جس قریہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے انطاکیہ مراد نہیں بلکہ پہلے زمانہ کی کوئی بستی مراد ہے۔ جس کا ہمیں علم نہیں اور یہ قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے زمانہ کے مکذبین رسالت کا ہے جہاں اول بار خدا تعالیٰ نے دو رسول بھیجے اور پھر ان کی مدد کے لئے تیسرا رسول بھیجا پھر ان تین رسولوں کی مدد کے لئے شہر کے کنارہ سے ایک مرد صالح آیا جس نے رسولوں کی اطاعت اور اتباع کے متعلق نہایت معقول اور مدلل تقریر کی جس پر نادانوں نے برافروختہ ہو کر اس مرد صالح کو قتل کردیا یا خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عنایت سے اس کو صحیح سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ بہر حال اس قریہ سے قریہ انطاکیہ مراد نہیں بلکہ کوئی اور بستی مراد ہے اور قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے یہ ثابت نہیں کہ یہ قصہ کس بستی کا ہے اور کن رسولوں اور پیغمبروں کے زمانہ کا یہ واقعہ ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ بستی کی تعیین سے سکوت کیا جائے اس لئے کہ ان آیات کی تفسیر اس قریہ کی اور رسولوں کی تعیین پر موقوف نہیں اس قصہ کے بیان سے منکرین رسالت کی تہدید مقصود ہے وہ بہر صورت حاصل ہے۔ مقصود کفار مکہ کو سنانا ہے کہ سن لیں منکرین نبوت و رسالت کا یہ انجام ہوتا ہے جو اہل قریہ کا ہوا پس اے ہمارے نبی آپ ﷺ یہ قصہ اہل مکہ کو سنا دیجئے تاکہ جو ایمان کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ایمان لے آئیں اور جو کٹر کافر ہیں وہ روز بد کے لئے تیار ہوجائیں غرض یہ کہ آیات قرآنیہ تعیین قریہ کے بارے میں مبہم ہیں اس لئے اب ہم بھی تعیین سے سکوت کرتے ہیں اور قرآن کریم نے جس اجمال اور ابہام کے ساتھ اس قصہ کو ذکر کیا ہے اسی کے مطابق ہم اس کی تفسیر کرتے ہیں۔ چناچہ حق جل شانہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مکذبین رسالت کے لئے اگلوں کی تکذیب اور ان کی بد انجامی کی ایک داستان بیان کیجئے جس سے ان کو معلوم ہو کہ ان سے پہلے ایک قوم نے پیغمبروں کی تکذیب کی پھر وہ لوگ قیامت سے پہلے ہی دنیاوی عذاب میں گرفتار ہوئے یعنی ان کے سامنے اس بستی والوں کا حال بیان کر۔ جس میں تین رسول آئے تھے۔ اول بار ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے پس لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور سنتے ہی فورا ان کی تکذیب کردی۔ پھر دوسری بار ہم نے تیسرے رسول سے ان کو قوت دی۔ ان دونوں کی تائید اور تقویت کے لئے تیسرے کو ہم نے وہاں جانے کا حکم دیا تاکہ تین کے جمع ہوجانے سے دعوت اور تبلیغ میں قوت پیدا ہو۔ پس ان تینوں رسولوں نے بستی والوں سے کہا کہ ہم تینوں من جانب اللہ تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ تم کو خدا کا راستہ بتلائیں۔ بت پرستی کو چھوڑو اور توحید و رسالت پر ایمان لاؤ اہل قریہ نے جواب دیا کہ تم کچھ نہیں سوائے اس کے کہ تم ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ صفات بشریہ میں ہم اور تم یکساں ہیں پس خدا نے تم کو نبوت اور رسالت کے ساتھ کیوں خاص کیا اور علاوہ ازیں مسئلہ نبوت و رسالت سرے ہی سے غلط ہے اس لئے کہ تمہارے قول کی بنا پر نبوت کا دارومدار وحی الٰہی ہے اور اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز یعنی وحی اور کتاب نازل نہیں کی جیسے یہود نے عناد میں کہا تھا۔ ما انزل اللہ علی بشر من شیء اسی طرح ضد اور عناد میں ان لوگوں نے بھی یہی کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی لہٰذا تمہارا یہ کہنا کہ ہم خدا کے فرستادہ ہیں اور خدا نے بذریعہ وحی کے ہم کو یہ حکم دیا ہے یہ سب غلط ہے وحی کوئی چیز نہیں۔ اور بولے کہ نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے ہو کہ اللہ نے ہم کو نبی بنا کر بھیجا ہے اور ہم پر یہ وحی نازل کی ہے۔ اللہ کو اگر پیغام دینا منظور ہوتا تو کسی فرشتہ کو بھیجتا انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہم نے اپنی طرف سے کوئی جھوٹ نہیں بنایا بلکہ حقیقۃً اللہ تعالیٰ نے ہم کو بھیجا ہے بلاشبہ ہم تمہاری طرف خدا کا پیغام دے کر بھیجے گئے ہیں سو وہ ہم نے تم تک پہنچا دیا ہے اور ہمارا کام تو صرف اللہ کے پیغام اور احکام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا دینا ہے اب آگے ماننا اور نہ ماننا وہ تمہارا کام ہے اس کے بعد شاید اہل شہر قحط اور دیگر مصائب میں مبتلا کر دئیے گئے ہوں۔ جیسا کہ اللہ کی سنت ہے کہ عذاب نازل کرنے سے پہلے نافرمانوں کو قحط وغیرہ میں مبتلا کرتے ہیں۔ تاکہ متنبہ ہوجائیں۔ مگر وہ بدبخت الٹا پیغمبروں پر الزام لگانے لگے اور بولے کہ تحقیق ہم نے تم کو منحوس پایا۔ کہ تمہاری وجہ سے ہم کو یہ نحوست پہنچی جب سے تمہارے ” منحوس قدم “ اس شہر میں آئے بارش نہیں برسی اور ہماری سب کھیتیاں خشک ہوگئیں اور قوم میں نااتفاقی ہوگئی اور بولے کہ تحقیق ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ جب سے تم آئے ہو ہم طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار ہیں جب سے تم اس شہر میں آئے ہو اس وقت سے بارش نہیں ہوئی اور ہماری سب کھیتیاں خشک ہوگئیں۔ اگر تم اپنے اس دعوے سے اور اپنی اس تبلیغ اور دعوت سے اور ایسی باتوں سے باز نہ آئے تو سن لو کہ ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تمہارا کام تمام کردیں گے اور بلکہ اس سے پہلے ہی تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی یعنی طرح طرح سے ہم تم کو ستائیں گے۔ ان رسولوں نے کہا کہ تمہارا یہ شگون بد اور یہ نحوست سب تمہارے ساتھ ہے ہم سے اس کا کوئی تعلق نہیں یہ نحوست جو تم کو پہنچی ہے۔ وہ تمہاری طرف سے آئی ہے اور اس پر ڈھٹائی یہ ہے کہ ڈراتے اور دھمکاتے ہو ہم کو۔ ہم اللہ کے فرستادہ ہیں اور مجسم رحمت ہیں حق اور ہدایت لے کر آئے ہیں جس چیز کو تم نے نحوست سمجھا ہے وہ محض تمہارا گمان ہے اور اپنی وہمی اور خیالی نحوست کو ہماری طرف منسوب کرنا یہ بھی تمہارا خواب و خیال ہے جس پر عقلاً ونقلاً کوئی دلیل نہیں نحوست کا اصل منشا کفر اور معصیت ہے جو تمہیں چمٹا ہوا ہے کیا محض اس لئے کہ ہماری طرف سے تم کو نصیحت کی گئی ہے تم ہمیں الزام دینے لگے اور نصیحت اور دعوت حق کو نحوست بتلانے لگے اور ہمیں دھمکانے اور ڈرانے لگے تمہاری یہ باتی بالکل غلط ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے تم خود حد سے گذر جانے والے لوگ ہو اور یہ مصیبت اور نحوست تمہارے افعال بد کا نتیجہ ہے بلاوجہ اور بلا دلیل تم اس کو ہماری طرف منسوب کرتے ہو اور ہماری نصیحت کو نحوست کا سبب بتلانے لگے ہو۔ اور ہم جو کہہ رہے ہیں وہ سامان سعادت وسعودت ہے نہ کہ نحوست۔ اور جب اس گفتگو کی خبر تمام شہر میں پھیل گئی تو اسی اثنا میں ایک چوتھا شخص یعنی ایک مرد کامل منتہائے شہر سے مرسلین کی تائید اور اعانت کے لئے دوڑتا ہوا آیا۔ اور لوگوں کو نصیحت کرنے لگا اور یہ کہا کہ اے میری قوم عقل کا تقاضا یہ ہے کہ تم خدا کے ان فرستادوں کا اتباع اور ان کی پیروی کرو جو حق دے کر تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں لہٰذا ان کا کہنا مانو۔ بالکل سچے لوگ ہیں۔ خدا کی طرف سے تمہارے پاس نیک پیغام لے کر آئے ہیں اور تم کو صدق اور امانت اور عفاف اور صلہ رحمی اور مکارم اور محاسن اعمال اور توحید اور حسن عبادت کا حکم دیتے ہیں جس سے مقصود محض تمہاری خیر خواہی ہے اور جو شخص ایسی پاکیزہ باتوں کا حکم دے وہ کبھی منحوس نہیں ہوسکتا۔ عقل کا فتویٰ یہ ہے کہ ایسی پاکیزہ ہستیوں کا اتباع عقلا واجب ہے اور ان کی پیروی سراسر خیرو برکت ہے اور باعث سعادت ہے اور اس سے اعراض نحوست ہے نیز ان کے واجب الاتباع ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ عقل سلیم یہ حکم دیتی ہے کہ ایسے ناصح مخلص کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت اور معاوضہ نہیں مانگتا۔ وہ ناصح مخلص ہے وہ تم سے نہ مال کا طالب ہے اور نہ جاہ کا طالب ہے۔ بےغرض ہے حرص اور طمع سے بالکلیہ پاک ہے محض تمہاری شفقت اور خیر خواہی کے لئے تم نادانوں کی طرف سے یہ مشقتیں برداشت کر رہا ہے ایسے شخص کی پیروی میں کیا تردد ہے مخلص اور بےغرض ناصح کا اتباع عقلا واجب ہے اور علاوہ ازیں ان کے واجب الاتباع ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ خود راہ راست پر ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں اور تم کو بھی راہ راست پر چلانا چاہتے ہیں لہٰذا ان کے اتباع اور پیروی سے گریز میں تمہارے لئے کوئی عذر نہیں مگر ان بدبختوں اور بدعقلوں نے ایک نہ سنی۔ بالآخر اس چوتھے شخص کو شہید کر ڈالا۔ جیسا کہ عنقریب آتا ہے۔ نکتہ : حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کے بعد ایک جماعت ایسی بھی تھی جو کلمہ حق کو بشہادت قلبی پہچان لیتی ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کی پیروی کر کے خلق اللہ کو کلمہ حق کی دعوت دیتی ہے۔ آخرت میں انبیاء (علیہ السلام) کے بعد جو مراتب ومنازل ہیں وہ ان کو عطا کئے جائیں گے اور یہ صفت خلافت خاصہ کے لوازم میں سے ہے (ازالۃ الخفاء )
Ayahs 36:22–32

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہے کہ اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں ؟ اگر خدا میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تب تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا بولا کاش میری قوم کو خبر ہو

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ خدا نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں کیا

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم اتارنے والے تھے ہی

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشیں) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے

بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور جو بات میں نے اپنے لئے پسند کی ہے وہی تمہارے لئے پسند کرتا ہوں اور آخر مجھے کیا ہوا کہ حق واضح ہوجانے کے بعد تمہاری طرح شرک اور بت پرستی میں مبتلا رہوں اور کیا وجہ ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور پردہ عدم سے نکال کر وجود کا خلعت مجھ کو پہنایا اور نیست سے ہست کیا ہم پر خالص حق اسی ذات کا ہے جس نے ہم کو پیدا کیا جس میں میں اور تم برابر ہیں ایک بندہ اور پروردہ اپنے آقا اور مربی سے کیسے آزاد ہوسکتا ہے بندہ پر حق ہے کہ وہ اپنے خالق کی بندگی کرے جس نے اس کو وجود بخشا اور پالا اور آخر کار اس چند روزہ زندگی کے بعد پھر تم کو جانا اور لوٹنا ہے اور اس کے سامنے پیش ہونا ہے کیا منہ دکھاؤ گے تم اس کے دائرہ حکومت سے نکل کر بھا گ نہیں سکتے وہی ہمارا مبدا ہے اور وہی ہمارا منتہا ہے تم ہر طرف سے گھرے ہوئے ہو بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے خالق اور فاطر کے پیغام کو سنے اور اپنے مبد اور معاد کو پہچانے اسی وجہ سے حدیث میں آیا ہے کل مولود یولد علی الفطرۃ اور قرآن کریم میں ہے فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا وہ انسان ہی کیا ہوا جسے اپنے خالق اور مربی سے انس نہ ہو۔ نکتہ : وما لی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون اس مرد صالح نے بات اپنے اوپر رکھ کر قوم کو سنا دی اور والیہ ترجعون سے قوم کو خطاب کیا کہ اپنے مال اور انجام کی فکر کرو۔ یہ تو خالق کے مستحق عبادت ہونے کو بیان کیا اب آگے بت پرستی کا رد ہے کہ تمہارے یہ بت کسی طرح لائق عبادت نہیں کیا میں اپنے خالق اور فاطر کو چھوڑ کر ان بتوں کو اپنا معبود بنا لوں جو بالکل عاجز ہیں کہ باختیار خود اپنی جگہ سے جنبش بھی نہیں کرسکتے اور جن کی درماندگی اور عاجزی کی یہ کیفیت ہے کہ اگر خدائے مہربان اپنی کسی رحمت اور حکمت سے کسی وقت مجھے کسی تکلیف اور ضرر پہنچانے کا ارادہ کرے تو میرے لئے ان بتوں کی نہ تو کوئی سفارش کام آئے گی اور نہ یہ بت اپنی قدرت یا قوت سے مجھے اللہ کے عذاب سے چھڑا سکیں گے تحقیق میں ایسی حالت میں اگر ان کو معبود مان لوں تو صریح گمراہی میں جا پڑوں تم لوگ غور نہیں کرتے کہ تم کیسی صریح گمراہی میں مبتلا ہو میرے نصیحت کو گراں نہ جانو میں تمہارا صریح خیر خواہ ہوں تحقیق میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ہوں جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو پرورش کرتا ہے پس تم میری بات سنو اور تم سبھی اپنے خالق اور پروردگار پر ایمان لے آؤ۔ (یا یہ معنی ہیں) کہ اگر تم ایمان نہیں لاتے تو تم میرا کلمہ ایمان سن لو اور میرے ایمان پر گواہ ہوجاؤ تاکہ تم دنیا اور آخرت میں میرے ایمان کی گواہی دے سکو۔ نکتہ : بربکم کے لفظ میں اشارہ اس طرف ہے کہ جو میرا خالق اور پروردگار ہے وہی تمہارا بھی پروردگار ہے پھر اس سے برگشتگی کی کیا وجہ پس جب مرد صالح نے اپنا کلام نصیحت التیام اس حد تک پہنچا دیا تو اہل قریہ سن کر غصہ میں جامہ سے باہر ہوگئے اور اس مرد صالح و ناصح پر ٹوٹ پڑے اور پتھروں سے یا گلا گھونٹ کر نہایت بےدردی سے اس کو مار ڈالا۔ اور بعض علماء سلف جیسے حسن بصری (رح) (ف 1) سے یہ منقول ہے کہ اہل قریہ اس مرد صالح کو ابھی قتل کرنے نہ پائے تھے اس کے مار ڈالنے کا ارداہ ہی کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ صحیح سالم آسمان پر اٹھا لیا اور اس کو یہ حکم ہوا کہ جنت میں داخل ہوجا دنیا کے جیل خانہ سے تو نکل آیا اب ہمارے مہمان خانہ میں قیام کر کما قال تاعلی یایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی : جنت میں داخل ہونے کے بعد اس مرد صالح کو پھر اپنی قوم کی فکر ہوئی اور کہنے لگا کاش میری قوم جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور انبیا کے اتباع کی برکت سے میری مغفرت کردی اور مجھ کو عزت اور کرامت والوں میں سے بنا دیا اگر میری قوم کو میرا حال معلوم ہوجائے تو وہ سب ایمان لے آئیں پس جب اہل قریہ مرسلین کی تکذیب کرچکے اور خدا کے ایک ولی کے قتل کے درپے ہوئے تو غضب الٰہی جوش میں آیا کہ ان سنگدلوں سے اس کا انتقام لیا جائے چناچہ فرماتے ہیں اور اس مرد صالح کے قتل کے بعد یا اس کے رفع الی السماء کے بعد یا تکذیب مرسلین کے بعد یا اس سارے ماجرے کے بعد ہم نے اس خبیث قوم سے انتقام لینے کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اتارنے کی حاجت اور ضرورت تھی ان کا ہلاک کرنا کچھ مشکل نہ تھا کفار خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں خدا کی نظر میں اس قدر ذلیل اور حقیر ہیں کہ ان کے ہلاک کرنے کے لئے آسمانی لشکر اتارنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تفسیر عبد اللہ بن مسعود ؓ سے منقول ہے خدا تعالیٰ کے لئے تو آسمان اور زمین کا اور سارے عالم کا تباہ کرنا بھی مشکل نہیں ایک بستی کی تو حقیقت ہی کیا ہے اور اہل قریہ کے ہلاک کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوا مگر صرف ایک چیخ کافی ہوئی چناچہ جبرئیل امین (علیہ السلام) نے یا کسی اور فرشتہ نے اس شہر کے کنارہ پر ایک چیخ ماری جس سے یکلخت سب کے سب تباہ اور برباد ہوگئے پس ناگاہ اسی وقت سب بجھے ہوئے ہوگئے جبرئیل (علیہ السلام) اور فرشتہ کی ایک کرخت آواز سے سب کے کلیجے پھٹے اور بجھی ہوئی آگ کی طرح سب ٹھنڈے ہوگئے اور حیات کی حرارت ختم ہوئی اور کوئی باقی نہ بچا خدا تعالیٰ دشمنوں سے اپنے دوستوں کا اس طرح انتقام لیتا ہے سن لو اور سمجھ لو مطلب یہ ہے کہ ہماری حکمت اور مصلحت اس بات کو مقتضی نہیں کہ کسی قوم کے ہلاک کرنے کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر اتاریں اور نہ ہمیں اس کی ضرورت تھی ہمارے نزدیک تو سارے جہان کا ہلاک کرنا بھی آسان ہے ہمارے نزدیک سب ہیچ اور ناچیز ہیں گذشتہ قوموں نے جب خدا کی نافرمانی کی اور پیغمبروں کا مقابلہ کیا تو خدا تعالیٰ نے کسی قوم کو ہوا سے تباہ کیا اور کسی قوم پر پتھر برسائے اور کسی قوم کو سخت آواز نے پکڑا اور کسی کو زمین میں دھنسایا اور کسی کو دریا میں غرق کیا۔ غرض یہ کہ گذشتہ قومیں اس طرح ہلاک کی گئیں، ان کے ہلاک کرنے کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نازل نہیں کیا گیا۔ کما قال تعالیٰ فکلا اخذنا بذنبہ فمنہم من ارسلنا علیہ حاصبا ومنہم من اخذتہ الصیحۃ ومنہم من خسفنا بہ الارض ومنہم من اغرقنا۔ خدا تعالیٰ نے اس عالم کو عالم اسباب بنایا ہے اس لئے گذشتہ قوموں کے ہلاک کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ اسباب پیدا کئے ورنہ خدا تعالیٰ کو تو اس کی بھی ضرورت نہ تھی وہ چاہتا تو دم کے دن میں سب کا دم نکل جاتا۔ اور جنگ بدر اور جنگ احزاب اور جنگ حنین میں فرشتوں کے جو لشکر اتارے گئے اس سے آنحضرت ﷺ کا اعزاز اور اکرام مقصود تھا یہ آپ ﷺ کی عظمت شان اور جلالت قدر کے اظہار کے لئے فرشتوں کے لشکر اتارے گئے نیز یہ معاملہ صحابہ کرام ؓ کی دلجوئی اور ان کی قدر افزائی کے لئے تھا ورنہ ابوجہل کا لشکر ہلاک کرنے کے لئے فرشتوں کے لشکر کی ضرورت نہ تھی غرض یہ کہ جنگ بدر اور جنگ احزاب میں فرشتوں کا لشکر اتارنا محض آنحضرت ﷺ کے شرف اور کرامت اور جلالت شان کو ظاہر کرنے کے لئے اور صحابہ کرام کی بشارت اور ان کی سکینت اور طمانینت کے لئے تھا کما قال تعالیٰ وما جعلہ اللہ الا بشری لکم ولتطمئن قلوبکم بہ وما النصر الا من عند اللہ ورنہ ہزار کافروں کے ہلاک کرنے کے لئے ایک فرشتہ بھی کافی تھا قوم لوط کی تمام بستیوں کو یکلخت اوپر سے نیچے پھینک دیا دیکھو تفسیر کبیر للامام الرازی (رح) ص 75 ج 7 وحاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 127 ج 4۔ خلاصہ کلام یہ کہ جنگ بدر میں جو فرشتوں کا لشکر اتارا گیا اس سے قریش کے لشکر کو ہلاک کرنا مقصود نہ تھا بلکہ یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کرامت تھی محض صحابہ کی تقویت قلوب کے لئے فرشتوں کا لشکر اتارا گیا اور کفار قریش صحابہ کرام کے ہاتھوں مارے گئے اور قید کئے گئے دیکھو روح المعانی ص 2 ج 23 و روح البیان ص 368 ج 7۔ اسی طرح سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان اصحاب قریہ کی سرکشی اور شرارت کی سزا کے لئے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ اس کی ضرورت تھی ایک تند آواز نے سب کا خاتمہ کر ڈالا فرشتہ کی ایک چیخ سب کی ہلاکت کے لئے کافی ہوئی۔ نکتہ : اور وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء میں من بعدہ کی قید شاید اس لئے لگائی گئی تاکہ اشارہ ہوجائے کہ اگرچہ بعد میں بھی اس قسم کے لوگ ہوئے کہ جو اس قسم کے عذاب کے مستحق ہوئے مگر ہم نے اپنی رحمت سے ان کے ہلاک کرنے کے لئے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا اب آگے ان کے اس عمل بد پر اظہار افسوس تو کہاں ہے یہ وقت تیرے حاضر ہوجانے کا ہے تو حاضر ہو کر ان بندوں اور گندوں پر نازل ہوجا جو خدا کے نبیوں کی تکذیب اور استہزا میں اور خدا کے ولیوں کی تذلیل اور تحقیر میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ ان سرکشوں کا حال یہ ہے کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر اس کے ساتھ ٹھٹھا کرتے انبیا اور اولیاء کے ساتھ استہزاء اور تمسخر بھی ان کی حسرت کا سبب بنا پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ حاضرین گذشتہ امتوں کے حال بداعمال سے بھی عبرت نہیں پکڑتے اور نصیحت حاصل نہیں کرتے کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا اور نہیں جانا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو تکذیب رسل اور ان کے ساتھ استہزا کی سزا میں غارت اور ہلاک کرڈالا اور باوجود اس کے پھر بھی تکذیب رسل اور ان کے ساتھ استہزا سے باز نہیں آتے کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ جو سرکش ہلاک کر دئیے گئے اور عذاب کی چکی میں پیس دئیے گئے اور ان کا قصہ ختم ہوا اب وہ لوٹ کر ان کی طرف نہیں آتے یعنی وہ پھر دنیا میں ان کے پاس نہیں آتے جو آکر لوگوں کو اپنا حال بتلائیں مرنے کے بعد کسی مردہ میں یہ قدرت نہیں کہ وہ باختیار خود عالم آخرت سے عالم دنیا میں دو چار گھنٹے ہی کے لئے آجائے اور جن مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت ہے وہ محض اللہ کے حکم سے کسی حکمت کی بنا پر تھا باختیار خود نہ تھا اور کوئی نہیں مگر قیامت کے دن سب کے سب جمع کر کے ہمارے حضور میں حاضر کئے جائیں گے اور اپنے کئے کا بدلہ پائیں گے اور مجرم تو پابجولاں زنجیروں میں جکڑے ہوئے حاضر کئے جائیں گے اپنے انجام کو سوچ لیں۔
Ayahs 36:33–36

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کیلئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایا پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس میں چشمے جاری کر دئیے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے

ذکر دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت وامکان حشرونشر قال اللہ تعالیٰ وایۃ لہم الارض المیتۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ومتاعا الی حین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان سرکشوں کا حال بیان کیا جو توحید کے بھی منکر تھے اور نبوت و رسالت کے بھی منکر تھے اور حشر ونشر کے بھی منکر تھے اب آگے اپنی قدرت کے دلائل بیان کرتے ہیں جس سے توحید ثابت ہو اور شرک کا ابطال ہو اور حشر ونشر کا امکان ثابت ہو۔ (نیز) گذشتہ مضمون کے ختم پر یہ فرمایا وان کل لما جمیع لدینا محضرون جس سے ان کفار کو تنبیہ تھی جو معاد کے منکر اور اس سے غافل تھے اب آگے دلائل قدرت کو ذکر کرتے ہیں تاکہ حشر ونشر کا اقرار کریں اور آخرت کی کچھ فکریں کریں اور ان دلائل قدرت کے ضمن میں اپنی نعمتوں کو بھی شمار کیا تاکہ اپنے منعم حقیقی کو پہچانیں اور اس کا شکر کریں اور کفر اور کفران سے باز آجائیں اور منعم حقیقی کی توحید کے قائل ہوں اور منعم حقیقی کے مرسلین یعنی خدا کے فرستادوں کی دعوت وتبلیغ کی طرف کان لگائیں تاکہ راہ راست پر چل سکیں اور منعم حقیقی کو راضی کرسکیں بعد ازاں حق تعالیٰ نے کفار ناہنجار کی طعن آمیز باتوں کو نقل کر کے ان کا جواب دیا اور جس شبہ کی بنا پر دوبارہ زندہ ہونے کو وہ محال سمجھتے تھے اس شبہ کا مفصل اور مدلل جواب دیا اور اس مضمون پر سورت کو ختم کیا کہ خدائے وحدہ لا شریک لہ قادر مطلق ہے وہ بلاشبہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے شبہ اور وسوسہ میں نہ پڑو اور اس مقام پر جس قدر دلائل قدرت ذکر کئے ان میں سے ہر دلیل کے ضمن میں متعدد دلائل ہیں ہر دلیل متعدد دلائل کا مجموعہ ہے چناچہ فرماتے ہیں۔ دلیل اول قال تعالیٰ وایۃ لہم الارض المیتۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ومن انفسہم ومما لا یعلمون۔ یہ اس کی قدرت کی پہلی دلیل ہے کہ اللہ کی آیات قدرت میں سے ایک زمین ہے جو ہر وقت تمہاری نظروں کے سامنے ہے اس کے حالات میں غور کرلو کہ ہم خشک زمین کو تروتازہ کر کے اس میں قسم قسم کے پھل اور غلے پیدا کرتے ہیں جو تمہاری زندگی کا سامان ہے تاکہ تم لوگ اس میں سے کھاؤ اور شکر کرو مگر افسوس تم شکر نہیں کرتے تمام عالم مل کر بھی ایک پھل پیدا کرنے پر قادر نہیں پس خوب سمجھ لو کہ جو ذات زمین سے غلوں اور پھلوں کے نکالنے پر قادر ہے وہ زمین سے مردوں کے نکالنے پر بھی قادر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان کافروں کے لئے خدا کی قدرت کی ایک عظیم نشانی مردہ زمین ہے یعنی خشک اور بےگھاس زمین ہے جس کو بارش کے ذریعہ ہم نے زندہ اور سرسبز کیا اور اس میں سے دانہ نکالا یعنی غلہ اور اناج نکالا پس اسی دانہ سے یہ لوگ کھاتے اور زندہ رہتے ہیں اور اسی زمین میں ہم نے قسم قسم کے باغات بنائے کھجوروں کے اور انگوروں کے کسی زمین میں انگور پیدا ہوتا ہے مگر خرما پیدا نہیں ہوتا جیسے کابل کی زمین اور کسی زمین میں کھجور پیدا ہوتا ہے اور انگور پیدا نہیں ہوتا جیسے مدینہ کی زمین یہ سب خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے کسی مادہ اور ایتھر کا تقاضہ نہیں اور زمین میں ہم نے چشمے جاری کئے جن سے اکثر کا پانی شیریں اور خوشگوار ہے جو نالوں اور نہروں اور ندیوں کی طرح جاری ہے تاکہ لوگ ان باغات کے پھلوں سے کھائیں جن کو اللہ نے پیدا کیا اور یہ سب کچھ ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا اور نہ ان کے معبودوں نے تخم ریزی اور آبپاشی کی بظاہر اگرچہ ان کے ہاتھوں نے کی ہے مگر غلوں اور پھلوں کا پیدا ہونا یہ تو خدا ہی کے دست قدرت کا کرشمہ ہے پس کیا یہ لوگ اللہ کی ان نعمتوں کا شکر نہیں کرتے جس نے یہ نعمتیں پیدا کیں اور خالص اللہ کی عبادت نہیں کرتے کہ جو ان نعمتوں کا خالق ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی قدرت کاملہ سے تمام متقابل اور متضاد انواع و اقسام کو پیدا کیا از قسم نباتات جن کو زمین اگاتی ہے کوئی چھوٹا اور کوئی بڑا کوئی شیریں اور کوئی تلخ اور خو دآدمیوں کی ذاتوں میں کسی کو مرد اور کسی کو عورت اور کسی کو عرب اور کسی کو عجم اور کسی کو شامی اور کسی کو حبشی۔ اور ان چیزوں سے جن کو یہ نہیں جانتے مختلف اقسام پیدا کیں جیسے اس نے قسم قسم کے چرند اور پرند اور حشرات الارض پیدا کئے پس جو ذات تنہا ان بیشمار مخلوقات کی خالق ہے اس کی عبادت کریں اور اسی کو خدائے وحدہ لا شریک مانیں مخلوقات میں ایک دوسرے کا مقابل موجود ہے مگر خدا تعالیٰ کا کوئی مقابل نہیں کما قال تعالیٰ ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون پس جس ذات کا کوئی جوڑ اور مقابل نہیں وہی لائق پرستش ہے زوجیت مخلوق کی صفت ہے اور فردیت خدائے وحدہ لا شریک لہ کی صفت ہے۔
Ayahs 36:37–40

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چلتا رہتا ہے (یہ) خدائے غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

دلیل دوم قال تعالیٰ وایۃ لہم الیل نسلخ منہ النھار۔۔۔ الی۔۔۔ وکل فی فلک یسبحون۔ یہ اس کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ اس نے لیل ونہار کو اور شمس و قمر کو پیدا کیا دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا اور رات کا اندھیرا اور دن کی روشنی اور آفتاب وماہتاب کا ایک خاص روشنی پر رہنا جس میں نہ کبھی کمی ہوتی ہے اور نہ زیادتی یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے جس کی حقیقت کے ادراک سے دنیا کی عقلیں حیران ہیں تمام عالم مل کر بھی اس پر قادر نہیں کہ لیل ونہار اور طلوع و غروب میں کوئی تغیر کرسکے۔ گذشتہ آیت میں زمین کی نشانی کا ذکر فرمایا جو باشندگان عالم کا مکان ہے اب آئندہ آیت میں لیل ونہار کی نشانی کو ذکر فرماتے ہیں جو لوگوں کے لئے زمان ہے اور مکان اور زمان میں مناسبت ظاہر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان کے لئے ہماری قدرت کی ایک نشانی رات ہے جس کے اندر سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں یعنی اس میں سے دن کی روشنی کو کھینچ لیتے ہیں پس وہ اس وقت تاریکی اور اندھیرے میں داخل ہوجاتے ہیں سلخ کے معنی لغت میں بدن سے پوست (کھال) اتار لینے کے ہیں زمانہ اور وقت میں اصل ظلمت یعنی تاریکی ہے اور آفتاب کی روشنی امر عارضی ہے اور آفتاب اور دن کی روشنی رات کے وقت کو بمنزلہ پوست کے ساتر ہے یعنی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے پس جب اللہ تعالیٰ اس روشنی کو اس وقت اور زمانہ سے یا اس ہوا اور خلا سے یا روشنی کے مکان سے کھینچ لیتا ہے تو لوگ اسی دم تاریکی میں داخل ہوجاتے ہیں اور ان پر رات آجاتی ہے دن کی روشنی رات کو کھال کی طرح اپنے اندر چھپائے ہوئے تھی جب خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کھال کو اتار لیا تو رات نمودار ہوگئی جس طرح جانور کی کھال کھینچ لینے سے اندر کا گوشت ظاہر ہوجاتا ہے اسی طرح جب خلا اور ہوا سے روشنی کھینچ لی گئی تو اندر سے ظلمت اور تاریکی اور اندھیرا ظاہر ہوگیا اور لوگ روشنی سے نکل کر تاریکی اور اندھیرے میں داخل ہوگئے پس سمجھ لو کہ جس ذات کے ہاتھ میں ان تقلبات اور تصرفات کی باگ ہے وہی تمہارا معبود برحق ہے۔ غرض یہ کہ آیت ہذا یعنی نسلخ منہ النھار میں جو لفظ نسلخ بطور استعارہ استعمال کیا گیا بقدر ضرورت حضرات مدرسین کے لئے اس کی تشریح کردی گئی حضرات اہل علم اس کی تفصیل کے لئے روح المعانی اور حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی دیکھیں۔ اور اللہ کی قدرت کی ایک نشانی آفتاب ہے جو بحکم خداوندی اپنی قرار گاہ یعنی اپنے ٹھکانہ کی طرف چلتا رہتا ہے جو اس کے لئے مقرر ہے یہ اندازہ ہے جو مقرر کردہ ہے خدائے غالب اور باخبر کا یعنی آفتاب کی یہ سیر خدائے عزیز کا مقرر کردہ اندازہ ہے جس کی کوئی مخالفت نہیں کرسکتا اور علیم و حکیم کا مقرر کیا ہوا ہے جس میں غلطی اور خطا کا امکان نہیں یہ سب خدا وند عزیز وعلیم کی تسخیر ہے آفتاب کی مجال نہیں کہ خدا کی مقرر کردہ سیر سے ذرہ برابر انحراف کرسکے خدا تعالیٰ نے جو اس کی چال مقرر کردی ہے ذرہ برابر اس سے علیحدہ نہیں ہوسکتا خدا کے حکم کے مطابق طلوع و غروب کرتا ہے حق جل شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے آفتاب کے نور کی ایک خاص حد اور خاص مقدار مقرر فرمادی ہے اسی طرح اس کی حرکت اور مسافت کی بھی ایک حد مقرر فرما دی ہے اور یہ سب کچھ اس علیم وقدیر کا مقرر کردہ اندازہ ہے جس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے آفتاب باذن خداوندی اسی طرح چلتا رہے گا اور مشرق سے طلوع ہوتا رہے گا یہاں تک کہ جب قیامت آئے گی تو اس کی حکم ہوگا کہ جہاں سے تو آیا ہے یعنی جدھر سے تو غروب ہوا ہے ادھر ہی لوٹ جا پس اس وقت آفتاب مغرب سے طلوع کرے گا۔ ” مستقر “ کے معنی قرار گاہ یعنی منتہائے سیر کے ہیں جہاں پہنچ کر اس کا دورہ ختم ہوجاتا ہے اس آیت میں لفظ مستقر سے یا تو روزانہ کا منتہائے سیر مراد ہے یا سال بھر کا منتہائے سیر مراد ہے یعنی منازل بروج مراد ہے جن کو آفتاب سال بھر میں قطع کرتا ہے آفتاب برابر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک سال میں اس کا دورہ بروج ختم ہوجاتا ہے یا مستقر سے دائرہ نصف النہار مراد ہے جہاں پہنچ کر آفتاب کا ارتفاع اور بلند ہونا ختم ہوجاتا ہے اور انحطاط اور زوال شروع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ غروب ہوجاتا ہے۔ یا مستقر سے منتہائے عمر دنیا یعنی روز قیامت مراد ہے جو آفتاب کی سیر و حرکت کا منتہٰی ہے قیامت تک آفتاب اسی طرح چلتا رہے گا جب قیامت آجائے گی اس وقت اس کا طلوع اور غروب ختم ہوجائے گا اس وقت آفتاب کو قرار حاصل ہوجائے گا جب قیامت آجائے گی تو آفتاب ٹھہر جائے گا اور اس کی حرکت باقی نہ رہے گی اور روز قیامت آفتاب کا مستقر زمانی ہے کہ اس روز بساط عالم ہی لپیٹ دی جائے گی یا مستقر شمس یعنی آفتاب کی قرارگاہ اور منتہائے سیر سے عرش الٰہی مراد ہے جیسا کہ بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ آفتاب غروب کے بعد ہر رات عرش کے نیچے جاتا ہے اور وہاں جا کر سجدہ کرتا ہے اور طلوع کے لئے اذن مانگتا ہے تو اس کو اذن دیا جاتا ہے تب وہ طلوع کرتا ہے الیٰ آخر الحدیث معلوم ہوا کہ آفتاب کا مستقر زیر عرش ہے اور یہ آفتاب کا مستقر مکانی ہے جیسا کہ روز قیامت آفتاب کا مستقر زمانی ہے۔ بہتر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مستقر سے عام معنی مراد لئے جائیں جو ان تمام امور کو شامل ہوں جو ماقبل میں ذکر کیے گئے یعنی مستقر سے مطلق قرار گاہ اور ٹھکانا مراد لیا جائے خواہ وہ حرکت یومیہ کے اعتبار سے ہو یا سالانہ دورہ کے اعتبار سے ہو یا منتہائے عمر دنیا کے اعتبار سے ہو اور مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آفتاب کی رفتار اور حرکت کے لئے جو نقطہ اور حد متعین کردی ہے آفتاب قیامت تک اپنی حد معین پر باذن خداوندی اسی طرح برابر حرکت کرتا رہے گا یہ سب عزیز وعلیم کی تقدیر اور تسخیر ہے کوئی اس میں ذرہ برابر تغیر وتبدل نہیں کرسکتا البتہ جب خدا تعالیٰ خود چاہیں گے تو اس نطام کو درہم برہم کردیں گے طلوع و غروب کا یہ نظام خدا تعالیٰ کے کمال قدرت اور کمال حکمت کی دلیل ہے۔ اس آیت میں آفتاب کے جریان اور استقرار کو بیان فرمایا اب آئندہ آیت میں قمر کا حال بیان کرتے ہیں کہ وہ سورج کی طرح ایک حال پر نہیں رہتا گھٹتا بڑھتا رہتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور چاند کی سیر اور رفتار کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں جن کو وہ برابر طے کرتا رہتا ہے منازل قمر اٹھائیس ہیں ہر رات قمر ایک منزل میں نزول کرتا ہے نہ اس سے آگے بڑھتا ہے اور نہ اس سے پیچھے رہتا ہے ابتدا میں ماہتاب کا نور شب بہ شب زیادہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ چودھویں رات میں اس کا نور پورا ہوجاتا ہے پھر اس میں کمی شروع ہوجاتی ہے یہاں تک کہ کہ اخیر ماہ میں چاند کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح باریک اور پتلا ہوجاتا ہے ہر ماہ (ف 1) کے آخر میں اور ہر ماہ کے شروع میں چاند کمان کی طرح باریک ہوجاتا ہے اخیر مہینہ میں جب چاند باریک اور پتلا ہوجاتا ہے تو دو رات کے لئے پوشیدہ ہوجاتا ہے پھر شروع مہینہ میں بشکل ہلال ہو کر ظاہر ہوتا ہے چاند کا اس طرح گھٹنا اور بڑھنا یہ بھی اس کی قدرت کی نشانی ہے غرض یہ کہ شمس اور قمر دونوں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ہر ایک کی سیر اور رفتار کے لئے اور طلوع اور غروب کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک حد مقرر کردی ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتے لہٰذا نہ سورج کی یہ مجال ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور اس کی منزل میں نزول کر جائے اور اس کی حد میں داخل ہوجائے اور نہ چاند کی یہ مجال ہے کہ وہ سورج کو پکڑ سکے حالانکہ ماہتاب تیز رفتار ہے اور آفتاب سست رفتار ہے سورج سال بھر میں اپنی منزلیں قطع کرتا ہے اور چاند ایک مہینہ میں اپنی منزلیں قطع کرلیتا ہے غرض یہ کہ دونوں کی سیر اور رفتار اللہ تعالیٰ کی تسخیر اور تقدیر کے تابع ہے دونوں کا ایک منزل میں جمع ہونا ناممکن اور محال ہے اور ایک کا دوسرے کے وقت میں ظہور اور طلوع ناممکن ہے خدا تعالیٰ نے زمین کے جس خطہ اور حصہ میں طلوع و غروب کا جو نظام مقرر کردیا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس میں ردوبدل کرسکے اور نہ رات کی یہ مجال ہے کہ وہ دن سے آگے نکل جائے یعنی یہ ممکن نہیں کہ دن پورا ہونے سے پہلے ہی رات آجائے دن ہو یا رات اپنے مقرر وقت سے پہلے نہیں آسکتا۔ 1 قال ابن الشیخ حتی صار القمر فی اخر الشھر واول الشھر الثانی فی دقتہ واستقواتہ واصفرارہ کالعرجون القدیم روح البیان ص 399 ج 7۔ چاند اور سورج سب کے سب اپنے اپنے آسمان میں یا اپنے اپنے دائرہ میں تیرتے اور گھومتے اور چلتے رہتے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ اپنے دائرہ یا مدار سے باہر قدم نکال سکے اور کسی سیارہ سے جا کر ٹکرا جائے سب ستارے آفتاب وماہتاب وغیرہ اپنے اپنے آسمان میں تیرتے رہتے ہیں جیسے مچھلیاں پانی میں تیرتی رہتی ہیں۔ غرض یہ کہ چاند اور سورج اور سیارات سب کے سب حسب تسخیر خداوندی اپنے اپنے چرخے اور اپنے اپنے دائرہ میں تیرتے رہتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کردیا ہے کوئی سیارہ دوسرے سیارہ سے مزاحم نہیں ہوسکتا ہر سیارہ اپنی جگہ اس طرح حرکت کرتا رہتا ہے کہ گویا کہ مچھلیاں دریا میں تیرتی پھرتی ہے۔ لطائف ومعارف (1) والشمس تجری لمستقر لھا الخ سے معلوم ہوا کہ چاند اور سورج حرکت کرتے رہتے ہیں اور آسمان اور زمین ساکن ہیں۔ (2) شمس اور قمر اور ہر سیارہ کی خدا تعالیٰ نے ایک حد مقرر کردی ہے جو ان کو معلوم ہے اسی کے مطابق وہ حرکت کرتے ہیں اور بیشمار آیات اور احادیث سے ثابت ہے کہ شمس اور قمر اور کواکب اور نجوم اور جمادات اور نباتات میں ایک قسم کا شعور اور ادراک ہے یہ سب چیزیں اللہ کی تسبیح اور تحمید کرتی ہیں اور اس کو سجدہ کرتی ہیں۔ وان من شیء الا یسبح بحمدہ۔ سجود الشمس (3) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آفتاب غروب کے بعد عرش کے نیچے جاتا ہے اور سجدہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے طلوع کی اجازت مانگتا ہے سو اس کو مل جاتی ہے مگر قیامت کے قریب جب وہ زیر عرش سجدہ کرے گا اور چلنے کی اجازت چاہے گا تو اس کو اجازت نہ ملے گی اور یہ کہا جائے گا کہ جدھر سے آیا ہے ادھر ہی پھر لوٹ جا اور وہیں سے طلوع کر چناچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا اس کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور کسی کا ایمان قبول نہ ہوگا۔ (4) انسا کی طرح کائنات عالم کے لئے تسبیح وتحمید اور رکوع و سجود ثابت ہے مگر ہر نوع کا رکوع اور سجود اس کے جسم اور وجود کے لائق اور مناسب ہے۔ مثلاً انسان کے سجدہ کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ دے لیکن شمس اور قمر اور شجر وحجر کا سجدہ انکی شان کے لائق ہے جس کی حقیقت اللہ ہی کو معلوم ہے انسان کی تسبیح اور تحمید کے معنی یہ ہیں کہ وہ زبان سے سبحان اللہ اور الحمد للہ کہے مگر شجر اور حجر اور پہاڑوں کی تسبیح اور تحمید کے یہ معنی نہیں کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ۔ بہرحال سجود شمس حق ہے اب رہا یہ امر کہ وہ سجدہ روحانی ہے یا جسمانی ہے آنی ہے یا زمانی ہے اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ حدیث مطرب ومی گو وراز دہر کمتر جو کہ کس نہ کشود ونکشا ید بحکمت ایں معمارا