Ayah 36:1یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ ۔ (یٰسٓؔ قرآن پر حکمت کی قسم ہے) ۔
اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (کہ بیشک آپ من جملہ رسولوں میں سے ہیں۔ سیدھے راستہ پر ہیں) ۔ یسؔ۔ قول ابن عباس ؓ : اے انسان۔ یہ بنوطے کی لغت ہے۔
قول ابن حنفیہ (رح) :
یا محمد ﷺ حدیث میں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مجھے سات ناموں سے پکارا ہے محمد، احمد، طہ، یس، المزمل، المدثر، عبد اللہ (کنزالعمال : 32169) ۔ ایک قول یہ ہے اے سردار۔
قراءت : علی، حماد، حمزہ، خلف، حماد، یحییٰ نے اس میں امالہ پڑھا ہے۔
Ayah 36:22: وَالْقُرْٰانِ الْحَکِیْمِ والقرآن ؔ قسم ہے الحکیمؔ۔ (حکمت والا) ۔ نمبر 2۔ یہ حکمت کی منہ بولتی دلیل ہے۔ نمبر 3۔ یہ حکیم کا کلام ہے۔ پس متکلم کی صفت سے اس کو موصوف کیا گیا۔
Ayah 36:33: اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (بیشک آپ من جملہ پیغمبروں میں سے ہیں) ۔ یہ جواب قسم ہے اس میں کفار کے اس مقولہ کی تردید ہے جس کو دوسرے مقام پر ذکر فرمایا۔ لست مرسلاً ۔ ] الرعد : 43[
Ayah 36:44: عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سیدھے راستے پر ہیں) نمبر 1۔ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ نمبر 2۔ مرسلین کا صلہ ہے۔ ای الذین ارسلوا علی صراط مستقیم۔ جن کو بھیجا گیا وہ سیدھے راستہ یعنی اسلام پر ہیں۔
Ayah 36:55: تَنْزِیْلَ (نازل کیا ہوا ہے) ۔
قراءت : شامی، کوفی سوائے ابوبکر کے اور علی نے لام کا نصب پڑھا ہے۔ اقرأ تنزیل۔ نمبر 2۔ یہ مصدر منصوب ہے ای نزل تنزیل۔ دیگرقراء نے رفع سے پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ ای ھو تنزیل اور مصدر بمعنی مفعول ہے۔ الْعَزِیْزِ (زبردست) وہ اپنی نظم کتاب کی فصاحت کے سبب سرکشوں کے اوہام پر غلبہ والا ہے۔ الرَّحِیْمِ (مہربان کی طرف سے ہے) اپنے خطاب کے معنی کی لطافت سے ہدایت والوں کے فہموں کو کھینچنے والا ہے۔
Ayah 36:66: لِتُنْذِرَ قَوْمًا (تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں)
نحو : لتنذر کا لام المرسلین کے معنی کے ساتھ متصل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ارسلت لتنذر قوما۔ (تمہیں بھیجا گیا تاکہ تم ایسی قوم کو ڈرائو) مَّآ اُنْذِرَ ٰابَآ ؤُ ھُمْ (نہیں ڈرائے گئے جن کے آباء و اجداد )
فائدہ : جمہور کے نزدیک یہ ماؔ نافیہ ہے۔ اس صورت میں قوماً کی صفت ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے قوما غیر منذر اباؤ ھم اس کی دلیل اس ارشاد میں ہے۔ لتنذر قومًا ٰاتھُمْ من نذیر من قبلک ] السجدہ : 3[ دوسری جگہ فرمایا وما ارسلنا الیہم قبلک من نذیر ] سبا : 44 [ نمبر 2۔ ماؔ موصولہ ہے مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہے العذاب الذی اُنْذِرَہ اباء ھم۔ وہ عذاب جس سے ان کے آباء کو ڈرایا گیا۔ یہ اسی طرح ہے جیسا اس ارشاد میں انا انذر نا کم عذابا قریبًا ] النباء : 40[ نمبر 3۔ ماؔ مصدریہ ہے تقدیر کلام یہ ہے لتنذر قومًا اِنْذَارَ اباء ھم ای مثل انذار اباء ھم تاکہ تم قوم کو ان کے آباء کے ڈرانے کی طرح ڈرائو۔ فَھُمْ غٰفِلُوْنَ (پس اسی لئے بیخبر ہیں) اگر ماؔ کو نافیہ مانیں تو اس وقت اس کا تعلق نفی سے ہوگا۔ تقدیر کلام یہ ہوگی۔ لم ینذروا فھم غافلون۔ وہ ڈرائے نہیں گئے۔ اس لئے وہ غافل ہیں۔ نمبر 2۔ یہ انک لمن المرسلین سے متعلق ہے اور اصل عبارت ہے : انک لمن المرسلین لتنذر فھم غافلون بیشک تم رسولوں میں سے ہوتا کہ تم ڈرائو اس لئے کہ وہ غافل ہیں۔ جیسا تم کہو ارسلتک الی فلان لتنذرہ فانہ غافل او فھو غافل۔
Ayah 36:77: لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓی اَکْثَرِ ھِمْ فَہُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ (ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہوچکی ہے پس یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے) القولؔ سے یہ مراد ہے لأملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین ] السجدہ : 13[ یعنی یہ قول ان سے متعلق ہوجائے گا اور ان پر ثابت و لازم ہوجائے گا۔ اس لئے کہ وہ ان میں سے ہونگے جن کا کفر پر مرنا معلوم ہوچکا۔
Ayah 36:8کفر پر پختگی کی تمثیل :
8: پھر ان کی کفر پر پختگی کو تمثیل سے سمجھایا۔ کہ کفر سے ان کے لوٹنے کی کوئی راہ نہیں۔ ان کو اس طرح قرار دیا گویا کہ وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے گلے میں طوق پڑے ہوئے ہوں جس سے ان کے سرا چکے ہوں۔ ادھر ادھر سر نہ پھیر سکتے ہوں۔ اسی طرح لوگ بھی حق کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے اور نہ اپنی گردنیں حق کی طرف موڑتے ہیں اور نہ اس کے لئے اپنے سروں کو جھکاتے ہیں۔
اور یہ لوگ ان لوگوں کی طرح ہیں جو دو دیواروں کے درمیان پھنس جائیں نہ سامنے دیکھیں اور نہ پیچھے اسی طرح یہ عدم تامل اور عدم تبصر میں اور اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر سے بتکلف اندھا پن اختیار کرنے میں ان لوگوں کی طرح ہیں۔ فرمایا۔ اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلاً فَھِیَ (ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں پھر وہ ٹھوڑیوں تک ہیں) اِلَی الْاَذْقَانِ فَھُمْ مُّقْمَحُوْنَ (جس سے ان کے سر اوپر کو اچک گئے ہیں) مطلب یہ ہے کہ طوق ٹھوڑیوں تک پہنچنے والے اور ان سے چمٹے ہوئے ہیں۔ مقمحون ان کے سر اوپر کو اٹھے ہیں۔ عرب کہتے ہیں قمح البعیر فھو قامح جبکہ اس کو سراٹھائے دیکھا جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ گردن میں ڈالے جانے والے طوق کے دونوں سرے ٹھوڑی کے نیچے ملتے ہیں ایک حلقے کا کیل جو دوسرے کنڈے میں پڑتا ہے وہ ٹھوڑی تک بلند ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کا سر نیچے کو جھک نہیں سکتا ہمیشہ اوپر اٹھا رہتا ہے۔
Ayah 36:99: وَجَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِھِمْ سَدًّا۔ (اور ہم نے ایک آڑ ان کے پیچھے اور ایک ان کے سامنے کردی)
قراءت : سَدًّا حمزہ، علی، حفص نے سین کے فتحہ سے پڑھا۔
ایک قول :
یہ ہے کہ جو لوگوں نے روک بنائی ہو اس کے لئے سین مفتوح ہوگی اور جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے بنائی مثلاً پہاڑ وغیرہ وہ سُدًّا ضمہ سے آتا ہے۔ فَاَغْشَیْنٰھُمْ (جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا) یعنی ان کی آنکھوں کو ڈھانپ دیا یعنی ہم نے ان کو ڈھانپ کر ان پر پردہ ڈال دیا۔ فَھُمْ لَایُبْصِرُوْنَ (پس وہ دیکھ نہیں سکتے) حق و ہدایت کو۔
ابوجہل کی بدترین حرکت :
ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت بنو مخزوم کے متعلق اتری۔ اس لئے کہ ابو جہل نے قسم اٹھائی کہ اگر وہ محمد کو (ﷺ) نماز پڑھتا دیکھ لے گا۔ تو پتھر سے ان کا سر کچل دے گا۔ پھر وہ آیا جبکہ آپ نماز ادا فرما رہے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک پتھر بھی تھا تاکہ آپ کے سر پر مار کر کچل دے۔ جب اس نے ہاتھ اٹھائے تاکہ وہ پتھر آپ کی طرف پھینکے تو پتھر اس کے ہاتھ سے چمٹ گیا اور چمٹا رہا یہاں تک کہ بڑی مشکل سے اس کو اس کے ہاتھ سے جدا کیا پس وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گیا اور ان کو واقعہ کی اطلاع دی۔ دوسرے مخزومی نے کہا یہ پتھر مجھے دو ۔ میں اس سے اس کو قتل کر ونگا۔ وہ پتھر لے کر ادھر بڑھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اندھا کردیا۔
Ayah 36:1010: وَسَوَآ ئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْ ھُمْ (اور ان کے حق میں آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برا بر ہے) ۔ لَا یُؤْمِنُوْنَ (یہ ایمان نہ لائیں گے) یعنی ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے۔ مطلب یہ ہے۔ جو گمراہی کے اس درجہ کو پہنچا ہو۔ اس کے لئے ڈرانا نفع بخش نہیں۔
ایک عبرتناک حکایت :
میں ہے کہ عمربن عبدا لعزیز رحمۃ اللہ نے اللہ قدری فرقہ کے غیلان نامی آدمی کو یہ آیت پڑھ کر سنائی تو وہ کہنے لگا۔ یہ آیت تو گویا اب تک میری نگاہ سے گزری نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آج سے میں قدریہ فرقہ کے عقائد سے تائب ہوتا ہوں۔ عمربن عبد العزیز نے دعا کی اے اللہ اگر اس نے سچ کہا ہے تو اس کی تو بہ قبول فرما لے۔ اگر اس نے جھوٹ بولا تو اس پر ایسے شخص کو مسلط کر دے جو رحم نہ کرنے والا ہو چناچہ ہشام بن عبدالملک نے اپنے زمانہ میں اس کو پکڑ کر (اس کی اس باطل پرستی پر) اس کے ہاتھ پائوں کٹوا کر باب دمشق پر سولی دے دی۔
Ayah 36:111 1: اِنَّمَا تُنْذِرُمَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ (بس آپ تو ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر چلے) یعنی آپ کے انذار سے قرآن کے پیروکاروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ (اور رحمان سے بن دیکھے ڈرے) اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا حالانکہ اس کو دیکھا نہیں۔ فَبَشِّرْ ہُ بِمَغْفِرَۃٍ (پس آپ اس کو خوشخبری سنا دیں مغفرت کی) مغفرت گناہوں کی معافی کو کہتے ہیں۔ وَّ اَجْرٍ کَرِیْمٍ (اور عمدہ عوض) یعنی جنت کی۔
Ayah 36:12ان کے اگلے پچھلے اعمال کو لکھ لیتے ہیں :
12: اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی (بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے) ان کی موت کے بعد ان کو اٹھا کھڑا کریں گے نمبر 2۔ شرک سے ایمان کی طرف نکالیں گے۔ وَنَکْتُبُ مَا قَدَّ مُوْا (اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے جاتے ہیں) جو اعمال صالحہ وغیرہا انہوں نے آگے بھیجے۔ وَ ٰاثَارَ ھُمْ (اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو وہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں) جو کسی اچھے عمل کا اثر انہوں نے باقی چھوڑا۔ جیسے کسی کو علم سکھایا یا کتاب تصنیف کردی یا سرائے بنائی یا مسجد تعمیر کرادی، جہاد کیلئے گھوڑا وقف کردیا۔ یابرے کام پیچھے چھوڑے جیسے ظالم کوئی ٹیکس لگا دے۔ اسی طرح اچھا طریقہ ایجاد کیا یا برے طریقے کی طرح ڈالی۔ دوسرے مقام میں اس طرح فرمایا۔ ینبؤا الانسان یومئِذ بما قدم واخر ] القیامۃ : 13[ یعنی جو اس نے اپنے اعمال آگے بھیجے اور جو آثار پیچھے چھوڑے۔ ایک قول یہ ہے یہ جمعہ اور جماعت کے لئے چلنے والے قدم ہیں۔ وَ کُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ (اور ہم نے ہر چیز کو ضبط کردیا تھا) ہم نے اس کو شمار کیا اور واضح کردیا۔ فِیْ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ (ایک واضح کتاب میں) امام مبین سے لوح محفوظ مراد ہے۔ کیونکہ وہی کتاب کی اصل ہے۔
Ayah 36:13بستی والوں واقعہ :
13: وَاضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ (اور ان لوگوں کے سامنے ایک قصہ) یعنی ایک بستی والوں کا قصہ اس وقت کا بیان کردیں) اضرب کا معنی مثل لھم ہے ان کے سامنے بیان کریں۔ اہل عرب کہتے ہیں عندی من ہذا الضرب کذا ای من ہذا المثل اور کہتے ہیں : ہٰذہ الاشیاء علٰی ضرب واحد ای علٰی مثال واحد مطلب یہ ہوا ان کے سامنے ایک مثال بیان کریں۔ مثال ایسی بستی والوں کی۔ القریۃؔ سے مراد انطاکیہ ہے۔ یعنی ان کو بستی والوں کا عجیب واقعہ سنائیں۔ دوسرا مثل اول کا بیان ہے۔
اِذْ : یہ اصحاب القریۃ سے بدل ہے۔ جَآ ئَ ھَا الْمُرْسَلُوْنَ (جبکہ اس بستی میں کئی رسول آئے) المرسلون سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد ہیں۔ جن کو مبلغ بنا کر ان بت پرستوں کے پاس بھیجا۔
Ayah 36:14حبیب نجار کا واقعہ :
14: اِذْ (جبکہ) : یہ اذؔ پہلے اذؔ کا بدل ہے۔ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمُ (ہم نے ان کے پاس بھیجا) عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمارے حکم سے ان کی طرف بھیجا۔ اثْنَیْنِ (دو ) صادق اور صدوق کو۔ جب دونوں شہر کے قریب پہنچے۔ تو انہوں نے ایک بوڑھے مرد کو اپنی چند بکریاں چراتے ہوئے پایا۔ یہ بوڑھا وہی حبیب النجار تھا۔ اس بوڑھے نے ان سے ان کے احوال دریافت کئے تو دونوں نے کہا ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کے نمائندے ہیں۔ ہم تمہیں عبادت اوثان سے عبادت رحمان کی طرف بلاتے ہیں۔ اس نے سوال کیا کہ تمہارے پاس کوئی صداقت کا نشان ہے انہوں نے کہا ہم مریض کو شفا اور مادرزاد اندھے کو بینا اور مبروص کو درست کرتے ہیں۔
اس چرواہے کا بیٹا کئی سال سے بیمار تھا۔ دونوں نے اس پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ بھلا چنگا اٹھ کھڑا ہوا۔ حبیب نے دولت ایمان کو سمیٹ لیا۔ یہ اطلاع پورے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ ان کے ہاتھ سے بہت سے لوگ شفایاب ہوئے۔ شدہ شدہ اطلاع بادشاہ کو ملی تو اس نے دونوں کو بلا بھیجا اور کہنے لگا کیا ہمارے معبودوں کے علاوہ ہمارا کوئی اور معبود بھی ہے ؟ دونوں نے کہا جی ہاں ! وہ جس نے تمہیں اور تمہارے معبودوں کو وجود بخشا !
بادشاہ نے کہا میں تمہارے معاملہ میں غور کرتا ہوں پھر لوگوں کو ان کے پیچھے لگا دیا۔ انہوں نے انہیں مارا۔ اور بعض کہتے ہیں قید میں ڈال دیا۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) نے شمعون کو روانہ فرمایا۔ وہ ایک ناواقف صورت میں داخل ہوا اور بادشاہ کے مصاحبین کے ساتھ اس طرح رہنے لگا کہ وہ اس سے مانوس ہوگئے اور انہوں نے اس کے حالات بادشاہ کو بتلائے بادشاہ اس سے بڑا مانوس ہوا۔ ایک دن شمعون نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم نے دو آدمیوں کو قید کر رکھا ہے۔ کیا تم نے ان کی بات سنی ہے ؟ بادشاہ نے کہا نہیں۔ بادشاہ نے ان دونوں کو جیل سے بلایا۔ ان سے شمعون نے سوال کیا ! تم کس کے قاصد اور پیا مبرہو۔
دونوں کا جواب یہ تھا ہمیں اس اللہ تعالیٰ نے بھیجا جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر زندہ کو رزق سے نوازا۔ جس کا کوئی شریک نہیں۔ شمعون نے دوسرا سوال کیا تم اس اللہ تعالیٰ کی مختصر انداز میں صفات بیان کرو !۔ دونوں کا جواب تھا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو ارادہ فرماتا ہے اس کا فیصلہ فرماتا ہے۔ شمعون کا تیسرا سوال تھا۔ تمہارے پاس کیا نشان حق ہے ؟ دونوں نے جواب دیا۔ جو بادشاہ کی تمنا ہو ؟ بادشاہ نے ایک مادر زاد اندھا لڑکا بلایا۔ دونوں نے دعا کی وہ درست آنکھوں والا ہوگیا۔ شمعون نے بادشاہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا تم اپنے معبود کو کہو کہ وہ بھی اسی طرح کر دے۔ پھر تم اور تمہارا معبود جیت گئے ؟ بادشاہ نے جواب میں کہا کہ میرا کوئی راز تجھ سے پوشیدہ نہیں حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معبود نہ دیکھتا ہے، نہ سنتا اور نہ نفع کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نقصان کا مالک۔
پھر بادشاہ نے کہا اگر تمہارا معبود مردہ کو زندہ کر دے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔ انہوں نے سات روز پہلے وفات پا جانے والا لڑکا منگوایا۔ وہ ان کی دعا سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں شرک پر مرنے کی وجہ سے آگ کی سات وادیوں میں داخل ہوا۔ اس لئے میں تمہیں اس شرک کے متعلق ڈرارہا ہوں جس میں تم مبتلا ہو پس تم ایمان لائو۔ اور کہنے لگا آسمان کے دروازے کھلے تو میں نے ایک خوبصورت نوجوان دیکھا جو ان تین آدمیوں کے متعلق سفارش کررہا تھا۔ بادشاہ نے کہا وہ تین کون ہیں ؟ اس نے کہا ایک شمعون اور دو یہ ؟ بادشاہ کو بڑا تعجب ہوا۔ جب شمعون نے دیکھا کہ اس کی بات کا بادشاہ پر اثرہوگیا تو اس کو نصیحت کی جس کے نتیجہ میں وہ ایمان لے آیا اور کچھ لوگ ایمان لائے جو ایمان نہ لائے ان پر جبرئیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری جس سے وہ تمام ہلاک ہوگئے۔
فَکَذَّبُوْھُمَا (پس ان لوگوں نے ان دونوں کو جھوٹا بتلایا) بستی والوں نے دونوں رسولوں کو جھٹلایا۔ فَعَزَّزْنَا (پھر تائید کی ہم نے) ہم نے دونوں کو مضبوط کیا۔
قراءت : ابوبکر نے فعزَزنا پڑھا۔ ازعزَّہ یعزّہٗ ۔ غالب آنا۔ پس ہم نے ان کو غالب و فائق کیا۔ بِثَالِثٍ (تیسرے سے) اور وہ شمعون تھا۔ مفعول بہٖ کا ذکر چھوڑ دیا۔ کیونکہ مقصود معززبہٖ کا تذکرہ ہے اور وہ شمعون ہے۔ اس نے کیا ہی لطیف تدبیر کی جس سے حق کو عزت ملی اور باطل رفو چکر ہوا۔ جب کلام سے ایک غرض ثابت ہو رہی تھی۔ اسی لئے سیاق کلام اس کی طرف متوجہ کردیا گویا اس کے ماسوا کو چھوڑ دیا گیا۔ فَقَالُوْا اِنَّآ اِلَیْکُمْ مُّرْسَلُوْنَ (ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں) تینوں نے بستی والوں کو کہا۔
Ayah 36:1515: قَالُوْا (بستی والوں نے کہا) : مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا (تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو)
سوال : بشرٌ کا لفظ یہاں مرفوع ہے۔ اور ماھذا بشرًا ] یوسف : 31[ میں منصوب ہے کیوں ؟
جواب : کیونکہ یہاں الا کی وجہ سے ماؔ مشبہ بلیس نہ رہا کہ اس کا عمل ہوتا۔ اور سورة یوسف میں اس کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْ ئٍ (اور رب رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی) شئی سے مراد وحی ہے۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَکْذِبُوْنَ (تم نرا جھوٹ بولتے ہو) یعنی تم جھوٹے ہی تو ہو۔
Ayah 36:1616: قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ (ان رسولوں نے کہا ہمارا پروردگار علیم ہے۔ کہ بیشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں) اول مرسلون کو لام سے مؤکد نہیں کیا۔ دوسرے کو لام سے مؤکد کیا۔ کیونکہ اول ابتدائے اخبار ہے۔ اور دوسرا انکار کا جواب ہے۔ اس لئے زیادہ تاکید کی ضرورت پڑی۔ ربنا یعلمیہ تاکید کے لحاظ سے قسم کے قائم مقام ہے اسی طرح۔ شہد اللہ، علم اللہ کا قول بھی۔
Ayah 36:1717: وَمَا عَلَیْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا تھا) یعنی ظاہر تبلیغ جو مشاہداتی دلیل سے اس کی صحت کو ثابت کر دے۔
Ayah 36:18جہال کا طرز عمل :
18: قَالُوْآ اِناَّ تَطَیَّرْنَا بِکُمْ (وہ لوگ کہنے لگے ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں) ہم تم سے بدشگونی لیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان کے دین کو براخیال کیا اور ان کے نفوس اس سے نفرت کرنے لگے۔ جہلاء کی عادت ہی یہ ہے کہ ہر ایسی چیز کی تمنا کرتے ہیں۔ جس کی طرف جھکائو اختیار کرتے ہیں اور جس کو ان کے طبائع قبول کرتے ہیں۔ اور جس چیز سے نفرت ہو اس کو وہ منحوس قرار دیتے ہیں اور ناپسند کرتے ہیں۔ پھر اگر ان کو کوئی مصیبت یا نعمت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اس کی نحوست اور اس کی برکت سے حاصل ہوئی۔
ایک قول :
یہ ہے ان سے بارش بند کردی گئی پس انہوں نے یہ کہا : لَپنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا (اگر تم اپنی بات سے بازنہ آئو گے) لَنَرْجُمَنَّکُمْ (ضرور ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے) ضرور ہم تمہیں قتل کردیں گے یا ضرور تمہیں یہاں سے ہانک دیں گے یا تمہیں گالی گلوچ کریں گے۔ ولَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ (تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی) ضرور تمہیں جلنے کا عذاب جھیلنا پڑے گا اور وہ سخت ترین عذاب ہے۔
Ayah 36:1919: قَالُوْا طَآپرُکُمْ (ان رسولوں نے کہا تمہاری نحوست) یعنی تمہاری نحوست کا سبب مَّعَکُمْ (تمہارے ساتھ ہے) اور وہ کفر ہے۔ اَپنْ (کیا اگر )
قراءت : ہمزہ استفہام اور حرف شرط کے ساتھ کوفی اور شامی نے پڑھا ہے۔
ذُکِّرْتُمْ (تمہیں نصیحت کی جائے) وعظ کیا جائے اور اسلام کی طرف بلایا جائے۔ جواب شرط مضمر ہے۔ تقدیرکلام یہ ہے۔ تطیر تم۔
قراءت : این اور نافع کو ہمزہ ممدودہ جس کے بعد یائے مک سورة ہو ابوعمرو نے پڑھا ہے۔ اور ہمزہ مقصورہ أین جس کے بعد یائے مک سورة ہو مکی نے پڑھا ذکرؔ تم کو تخفیف کے ساتھ یزید نے پڑھا ہے۔
بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ (بلکہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو) ۔ نافرمانی میں حد سے آگے گزرنے والے ہو۔ اس وجہ سے تمہارے پاس نحوست آئی ہے۔ نہ کہ رسولوں کی طرف سے اور ان کے نصیحت کردینے کی وجہ سے۔ نمبر 2۔ بلکہ تم اپنی گمراہی اور راستہ سے بھٹکنے میں حد سے بڑھے ہوئے ہو۔ وہ اس طرح کہ ان ہستیوں کو نحوست کا سبب قرار دیتے ہو۔ جو کہ تبرک کے قابل و لائق ہیں۔
Ayah 36:20حبیب نجار کا وعظ :
20: وَجَآ ئَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی (اور ایک شخص شہر کے اور کسی مقام سے دوڑتا ہوا آیا) ۔ یہ حبیب نجار تھا۔ یہ پہاڑ کے ایک غار میں مقیم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا۔ جب اس کو رسولوں کی آمد کی خبر ملی اور اس نے اپنے دین کا اظہار کیا۔ پھر کہنے لگا۔ کیا تم جو کچھ لائے ہو اس پر اجر طلب کرتے ہو۔ انہوں نے کہا : نہیں ! قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ کہا اے میری قوم تم رسولوں کی بات مانو۔ )
Ayah 36:2121: اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُکُمْ اَجْرًا وَّ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ (ان کی بات مانو ! جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ خودراہ راست پر ہیں) ۔ اجر ؔ سے مراد تبلیغ پر مزدوری، ھمؔ سے مراد رسل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا۔ کیا تو بھی انہی کے دین پر ہے۔ تو اس نے کہا :
Ayah 36:2222: وَمَالِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ (اور میرے پاس کونسا عذر ہے کہ میں عبادت نہ کروں اس کی جس نے مجھ کو پیدا کیا) ۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) ۔
قراءت : حمزہ نے ومالی پڑھا ہے۔
Ayah 36:2323: ئَ اَتَّخِذُ قراءت : کوفی نے دونوں ہمزہ سے پڑھا ہے۔ مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً (کیا میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑکر اور ایسے ایسے معبود قراردے لوں) یعنی اصنام کو اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَا عَتُہُمْ (اگر رب رحمان مجھ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ معبودوں) شَیْئًا وّ لَا یُنْقِذُوْنِ (کی سفارش کچھ میرے کام آسکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا سکیں) کسی بھی تکلیف سے۔
قراءت : ولا ینقذونی، فَاسْمَعُوْنِ ] یٰسین : 25[ دو حالوں میں یعقوب نے پڑھا ہے۔
Ayah 36:2424: اِنّیْ اِذًا (اور بیشک میں) جبکہ میں نے بنا لیا۔ لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (اس وقت ضرور کھلی گمراہی میں جا پڑا) ۔
Ayah 36:2525: جب اس نے اپنی قوم کو نصیحت کی تو وہ اس کو پتھر مارنے لگے پس وہ رسولوں کی طرف قتل سے قبل چل دیا۔ اور ان کو مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ اِنِّیْ ٰامَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ (میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا پس تم میری بات سن لو) تم میری اس ایمانی بات کو سن لو تاکہ تم میرے متعلق کل آخرت میں گواہی دو ۔ جب وہ قتل کردیا گیا تو
Ayahs 36:26–2726، 27: قِیْلَ (اس کو ارشاد ہوا) ۔ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ (کہ جا جنت میں داخل ہو) اس کی قبر سوق انطاکیہ میں ہے۔
انداز کلام : یہاں قیلؔ لہ نہیں کہا گیا بلکہ صرف قیل کہا گیا ہے کیونکہ کلام مقولہ کو بیان کرنے کیلئے لایا گیا ہے مقول لہ کے لئے نہیں لایا گیا اگرچہ وہ معلوم و معروف ہے۔ اس میں دلالت پائی جاتی ہے کہ جنت پیدا ہوچکی ہے۔
قول الحسن (رح) :
ہے کہ جب قوم نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا وہ جنت میں ہے۔ وہ آسمانوں و زمین کی فناء کے وقت موت کا شکار ہوگا۔ (مگر یہ قول محل نظر اور محتاج دلیل ہے) جب وہ جنت میں داخل ہوا اور اس کی نعمتوں کو دیکھا تو کہنے لگا۔ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ بِمَا غَفَرَلِیْ رَبِّیْ (کہنے لگا کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا) بما غفرلی ربی ای بمغفرۃ ربی لی میرے رب کے مجھے بخش دینے کے سبب یا بالذی غفرلی اس ذات کو جس نے مجھے بخش دیا۔ اول صورت میں ماؔ مصدر یہ اور دوسری میں موصولہ ہے۔ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ (اور مجھے عزت داروں میں شامل کردیا) جن کو جنت کا اعزاز ملا۔
Ayah 36:28قوم نجار کی ہلاکت :
28: وَمَآ اَنْزَلْنَاعَلٰی قَوْمِہٖ مِنْ 0 بَعْدِہٖ (اور ہم نے نہیں اتارا اس کی قوم پر اس کے بعد) ماؔ نافیہ ہے قوم سے حبیب نجار کی قوم مراد ہے۔ بعدہؔ سے مراد اس کے قتل یا رفع کے بعد۔ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآئِ (آسمان سے کوئی لشکر) ان کو سزا دینے کیلئے وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ (اور نہ ہم اتارنے والے تھے) نہ ہی ہماری حکمت کے لحاظ سے یہ درست تھا کہ حبیب نجار کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے آسمان سے لشکر اتاریں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی ہلاکت کا سلسلہ بعض وجوہ کی بناء پر مقتضائے حکمت جاری کر رکھا ہے۔ اور دوسری بعض کی بناء پر نہیں۔
Ayah 36:2929: اِنْ کَانَتْ (نہیں تھی) وہ پکڑیاسزا اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً (پس مگر آواز) جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک چیخ ماری۔ فَاِذَا ھُمْ خَامِدُوْنََ (پس اسی لمحہ وہ بجھ کر رہ گے) مرگئے جیسا کہ آگ یکبار بجھتی ہے۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کی چیخ کو ان کے لئے کافی کردیا۔ آسمان سے ان کی ہلاکت کیلئے لشکر نہیں اتا را جیسا کہ بدر کے دن اور خندق کے روز آسمانوں سے فرشتے اتارے۔
Ayah 36:30قابل حسرت لوگ :
30: یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ (افسوس بندوں کے حال پر کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں) اِلَّاکَانُوْا بِہٖ یَستَھْزِئُ وْنَ (آیا کہ جس کی ہنسی انہوں نے نہ اُڑائی ہو) الحسرۃؔ انتہائی شرمندگی کو کہتے ہیں۔ یہ نداء ہے جو ان کی حالت پر اظہار افسوس کیلئے لائی گئی ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا : تعالیٰ یا حسرۃ، فھذہ من احوالک التی حقک ان تحضری فیھا وھی حال استھزائھم بالرسل۔ اے فسوس تو آ۔ یہ حالت ان احوال میں سے ہے جس میں تجھے حاضر ہونے کا حق ہے۔ وہ حالت انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ استہزاء والی ہے۔ مطلب یہ ہے وہ اس بات کے حقدار ہیں۔ کہ حسرت کرنے والے ان پر اظہار حسرت کریں اور افسوس کرنے والے افسوس کا اظہار کریں۔ یا وہ ملائکہ اور مؤمنین دونوں کی طرف سے قابل حسرت ہیں۔
Ayah 36:3131: اَلَمْ یَرَوْا (کیا ان کو معلوم نہیں) کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ الْقُرُوْنِ (کہ ان سے پہلے بہت سے اہل زمانہ کو ہم ہلاک کرچکے)
نحو : کمؔ یہ اھلکنا کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور یرواؔ کمؔ میں عمل کے سلسلہ میں معلق ہے کیونکہ کمؔ سے پہلے آنے والا عامل اس پر عمل نہیں کرتا خواہ کم استفہامیہ ہو یا خبر یہ کیونکہ اس کی اصل استفہام ہے البتہ اس کا معنی جملہ میں نافذ ہے اور اَنَّہُمْ اِلَیْھِمْ لَا یَرْجِعُوْنَ (کہ وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آتے)
نحو : یہ کم اھلکنا سے معناً بدل ہے لفظاً نہیں تقدیر کلام اس طرح ہے الم یروا کثرۃ اھلاکنا القرون من قبلھم کو نہم انہم غیر راجعین الیھم کیا ان کو معلوم نہیں کثرت سے اہل زمانہ کو ان سے پہلے ہلاک کرنا اور انکا ان کی طرف واپس نہ آنا۔
Ayah 36:32قدرت کی نشانی ‘ احیائے موتیٰ کی دلیل :
32: وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ (اور ان میں کوئی ایسا نہیں جو مجتمع طور پر ہماری طرف حاضر نہ کیا جائے)
قراءت : لمَّاکو تشدید کے ساتھ شامی، عاصم، حمزہ نے پڑھا اور الا کے معنی میں لیا۔ اور اِنؔ نافیہ ہے۔ دیگر قراء نے لَمَّا کو تخفیف کے ساتھ پڑھا اس طور پر کہ ما تاکید کا صلہ ہے اور ان کو مخففہ من المثقلہ ہے اور لماؔ کی لام اس کے جواب میں ہے اور ماتاکید کیلئے لایا گیا۔ اور کل ٌؔ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب کو اٹھایا اور جمع کیا جائے گا۔ اور حساب کیلئے حاضر کیا جائے گا۔ یا عذاب کیلئے جمع کیا جائے گا۔ یہاں کلّ کے متعلق جمیعؔ کے لفظ سے خبر دی کیونکہ کُلًّا کا لفظ احاطہ کیلئے آتا ہے۔ جمیعؔ بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے۔ اور اس کا معنی اجتماع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ محشرتمام کو جمع کرے گا۔
Ayah 36:3333: وَ ٰایَۃٌ لَّھُمْ (اور ایک نشانی ان کے لئے) اور ایک نشانی اس بات پر دلالت کرنے کیلئے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کریں گے مردہ زمین کو آباد کردینا ہے۔ ایۃ مبتدأ اور لھمؔ خبر ہے۔ نمبر 2۔ ایۃ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو اور لہمؔ اس کی صفت ہے اور الارض المیتۃ اس کی خبر ہے۔ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ (مردہ زمین) خشک زمین۔
قراءت : مدنی نے المیتۃ کو تشدید سے پڑھا ہے۔ اَحْیَیْنٰھَا (ہم نے اس کو زندہ کیا) بارش سے۔
نحو : نمبر 1۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ جو کہ زمین کے مردہ ہونے کا نشانی ہونا بیان کرنے کیلئے لایا گیا اور اسی طرح نسلخ بھی مستانفہ ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ نسلخ کو الیلؔ اور احیینھٰا کو الارض کی صفت قرار دیں۔ کیونکہ یہاں مراد جنس لیل اور جنس ارض ہے۔ کوئی معین ارض و لیل مراد نہیں۔ اس لئے افعال کو ان کی صفت بنانے میں نکرات جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ فعل کے اس قسم کے معارف کی صفت بننے میں اشکال نہ رہا۔ اس کی مثال کلام عرب میں موجود ہے۔ وَلَقَدْ اَمُرّ علٰی اللئیم یسبُنِی اللئیم کی صفت یسبُّنِیہے۔ وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا (اور ہم نے اس میں سے غلے نکالے) یہاں جنس (حبّاؔ) غلہ مراد ہے۔ فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ (پس ان میں سے لوگ کھاتے ہیں) ۔
وجہ تقدیم :
منہؔ ظرف کو مقدم کر کے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ غلہ ہی وہ چیز ہے جس سے گزران زندگی کا بڑا حصہ متعلق ہے اور اسی کے استعمال سے انسانی جسم کی اصلاح و درستی ہے جب یہ کم ہوجائے تو قحط پڑجائے اور نقصان واقع ہو اور جب نایاب ہو تو ہلاکت سر آسوار ہو اور مصائب اتر پڑیں۔
Ayah 36:3434: وَجَعَلْنَا فِیْھَا (اور ہم نے اس میں لگائے) یعنی زمین میں جَنّٰتٍ (باغات) مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ (کھجوروں اور انگوروں کے) وَّ فَجَّرْنَا فِیْھَا مِنَ الْعُیُوْنِ (اور ہم نے اس میں چشمے جاری کردیئے) اخفش کے نزدیک من زائدہ ہے اور دوسروں کے نزدیک مفعول محذوف ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ماینفعون بہٖ ۔
Ayah 36:3535: لِیَاْ کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ (تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا پھل کھائیں) ثمرہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ ای لیاکلوا مما خلقہ اللہ من الثمر۔
قراءت : من ثُمُرہٖ حمزہ، علی نے پڑھا ہے۔
وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْھِمْ (اور اس میں سے جس کو ان کے ہاتھوں نے لگایا) یعنی اور اس میں سے جو ان کے ہاتھوں نے بونا، سیراب کرنا پیوند کرنا وغیرہ اعمال کیے یہاں تک کہ پھل اپنی میعاد کو پہنچا۔ مطلب یہ ہے کہ پھل فی نفسہٖ اللہ تعالیٰ نے بنایا اور پیدا کیا اس میں بنی آدم کی محنت کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کی اصل من ؔ ثمرنا ہے جیسا پچھلی آیت میں جعلنا، فجرنا کے صیغے دلالت کرتے ہیں۔ پھر بطریق التفات متکلم سے کلام کو غیبت کی طرف پھیر دیا گیا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ضمیر کا مرجع النخیل ہو اور اعناب کی طرف بلا ضمیر لوٹائے چھوڑ دیں لیکن یہ تو معلوم ہے کہ اس کا نخیل والا حکم ہے کیونکہ اکل ثمرہٖؔ کی وجہ سے یہ اس سے معلق ہے۔ نمبر 3۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ مراد ثمر مذکور ہو۔ اور وہ جنات ہیں۔ جیسا کہ رؤبہ شاعر کا قول ہے۔ فیھا خطوط من بیاض و بُلَق۔ کانہٗ فی الجلد تولیع البھق اس سے سوال کیا گیا تو اس نے کہا میری مراد کانَّ ذلک ہے۔ حفص کے علاوہ کوفی قراء نے مَا عَمِلَتْ پڑھا اور اہل کوفہ کے تمام مصاحف میں اسی طرح ہے اور مصاحف اہل حرمین اور بصرہ، شام میں ضمیر کے ساتھ ما عَمِلَتْہٗ ہے۔ ایک قول یہ ہے ماؔ نافیہ ہے اس طرح کہ پھل کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور لوگوں کے ہاتھوں نے اس کو نہیں بنایا اور نہ ہی لوگوں کو اس پر قدرت حاصل ہے۔ اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ (پھر وہ شکر کیوں ادا نہیں کرتے) سستی کرتے ہوئے اس میں شکر ادا کرنے پر آمادہ کیا گیا۔
Ayah 36:36تمام اصناف کو وہی پیدا کرنے والا ہے :
36: سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ (پاک ہے وہ ذات جس نے تمام مقابل اقسام پیدا کیں) ازواج کا معنی اصناف ہے۔ کُلَّہَا مِمَّا تُنْچبِتُ الْاَرْضُ (ان میں سے جن کو زمین اگاتی ہے) جیسے کھجوریں، درخت، کھیتیاں اور پھل وَمِنْ اَنْفُسِھِمْ (اور ان آدمیوں سے بھی) اولاد مذکر و مؤنث وَمِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ (اور ان چیزوں میں سے جن کو لوگ نہیں جانتے) اور بعض اصناف ایسی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مطلع نہیں فرمایا۔ اور نہ ان کی پہچان تک انسان پہنچے ہیں۔ وادیوں اور سمندروں میں بہت سی ایسی اشیاء ہیں جن کو لوگ جانتے ہی نہیں۔
Ayah 36:37رات کی نشانی :
37: وَ ٰایَۃٌ لَّھُمُ الَّیْلُ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ (اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ ہم اس پر سے دن کو اتار لیتے ہیں) ہم اس میں سے دن کو اس طرح نکال لیتے ہیں کہ دن کی روشنی میں سے کوئی چیز بھی اس کے ساتھ باقی نہیں رہتی، نمبر 2۔ اس سے روشنی کو ہم اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے سفید قمیص کھینچی جاتی ہے پس نفس زمانہ اسی طرح ننگا ہوجاتا ہے جیسا سیاہ حبشی کیونکہ آسمان و زمین کے مابین سیاہ فضا ہے اس کے بعض حصے نے سورج کی روشنی اسی طرح پہن لی جیسا کہ اندھیرے گھر میں دیار وشن کردیا جائے۔ جب دیا غائب ہو تو پھر گھر پہلے کی طرح اندھیر ہوجاتا ہے۔ فَاِذَا ھُمْ مُّظْلِمُوْنَ (پس یکایک وہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں) یعنی اندھیرے میں داخل ہوجاتے ہیں۔
Ayah 36:38سورج کا مقصد :
38: وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ (اور سورج چلتا رہتا ہے) اور ان کے لئے سورج کا چلنا نشانی ہے۔ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا (اپنے ٹھکانے کی طرف) اپنی اس حد کی طرف پہنچتا ہے، نمبر 1۔ سورج کو مسافر کے مستقر سے تشبیہ دی جبکہ وہ اپنا فاصلہ طے کرے۔ نمبر 2۔ اپنی حد کیلئے جیسا کہ ہر روز اپنی آنکھوں سے اس کا چلنا دیکھتے ہیں اور وہ مستقر مغرب ہے۔ نمبر 3۔ اپنے معاملے کی انتہاء کیلئے دنیا کے اختتام تک۔ ذٰلِکَ (یہ) اس اندازے سے چلنا اور دقیق حسابتَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ (اندازہ باندھا ہوا ہے اس کا جو زبردست) اپنی قدرت کے ساتھ ہر مقدور پر غالب ہے۔ الْعَلِیْمِ (علم والا ہے) ہر معلوم کا۔
Ayah 36:39منازلِ قمر :
39: وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ (اور چاند کیلئے منازل مقرر کیں)
نحو : قراءت القمر : اس فعل کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر قدرناؔ کررہا ہے۔ مکی، نافع، ابو عمرو، سہل نے اس کو مرفوع پڑھا اور مبتدأ قرار دیا اور قدرناؔ کو خبر بنایا یا ایۃ لھم کو مبتدأ اور القمر خبر یا عکس مان کر مرفوع پڑھا گیا۔ مَنَازِلَ (منزلیں) وہ اٹھائیس منزلیں ہیں۔ جن میں سے ہر ایک منزل میں ہر رات کو چاند اترتا ہے نہ اس کو عبور کرتا ہے اور نہ اس سے پیچھے رہتا ہے ابتدائی رات سے لے کر برابر انداز سے اٹھائیسویں منزل تک چلتا رہتا ہے۔ پھر دو راتیں چھپ جاتا ہے۔ جبکہ مہینہ کامل ہو اور اگر مہینہ ناقص ہو تو ایک رات چھپتا ہے۔ قدرناہ منازل میں مضاف کا حذف ماننا ضروری ہے۔ کیونکہ نفس قمر کے لیے تقدیر منازل کا کوئی معنی نہیں۔ کلام اس طرح ہوگا۔ نمبر 1۔ قدرنا نورہ یزید و ینقص یا قدرنا مسیرہٗ منازل۔ پس یہ ظرف ہوگا۔ جب چاند اپنی آخری منازل میں پہنچتا ہے تو باریک اور کمان کی طرح ہوجاتا ہے۔ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ (یہاں تک کے وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی) کھجور کی شاخ جب خشک اور ٹیڑھی ہوجائے العرجون بروزن فعلون ہے۔ یہ انعراج بمعنی انعطاف ہے۔ الْقَدِیْمِ (پرانی) جب یہ شاخ پرانی ہوتی ہے۔ تو زرد پڑجاتی اور کبڑی ہوجاتی ہے۔ پس چاند کے ساتھ اس کی مشابہت تین طرح سے ہے۔
Ayah 36:40وہ ایک دوسرے کو پکڑ نہ سکیں گے :
40: لَا الشَّمْسُ یَنْچبَغِیْ لَھَآ (نہ آفتاب کی مجال ہے) نہ سورج کو جائز درست و مناسب ہے۔ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ (کہ چاند کو جا پکڑے) پس اس کے ساتھ ایک وقت میں جمع ہوجائے اور اس کی سلطنت میں مداخلت کر کے اس کے نور کو مٹا دے کیونکہ ہر دوسیاروں کو اپنے اپنے دائرے میں غلبہ ہے۔ سورج کو دن پر غلبہ اور چاند کا غلبہ رات پر ہے۔ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ (نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے) رات دن سے سبقت نہیں کرسکتی یعنی رات کی نشانی دن کی نشانی سے سبقت نہیں کرسکتی۔ یہ دونوں روشن سیارے اس ترتیب پر رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آئے۔ پھر اللہ تعالیٰ سورج و چاند کو جمع کردیں گے اور سورج مغرب سے طلوع کریں گے۔ وَکُلٌّ اس کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے ای وکلّھم اور ضمیر شموس واقمار کی طرف راجع ہے۔ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ (ہر ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں) یعنی چل رہے ہیں۔