Ayah 36:4141: وَ ٰایَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَہُمْ (اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا) ۔
قراءت : ذریا تھم مدنی و شامی نے پڑھا ہے۔
فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ (بھری کشتی میں) مشحون ؔ بھری ہوئی ذریتؔ سے مراد اولاد ہے۔ اور جن کا اٹھانا ان کو مقصود ہو۔ وہ ان کو خشکی و سمندر کی تجارتوں کیلئے بھیجتے تھے۔ نمبر 2۔ آباء مراد ہیں کیونکہ یہ اضداد میں سے ہے اس صورت میں فلک سے مراد سفینہنوح (علیہ السلام) ۔
ایک قول :
یہ ہے کہ اس کا معنی اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کو اس میں سوار کردیا یعنی ان کے پہلے آباء و اجداد کو اس میں سوار کردیا جبکہ وہ اور ان کی اولادیں اپنے باپوں کی اصلاب میں تھیں۔ یہ بات تذکرئہ احسان میں زیادہ بلیغ ہے۔
Ayah 36:42تمام جدید سواریاں :
42: وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ (اور ہم نے ان کے لئے کشتی جیسی اور چیزیں پیدا کردیں) ہٗ کی ضمیر کشتی کی طرف راجع ہے۔ مَایَرْکَبُوْنَ (جن پر یہ سواری کرتے ہیں) جیسے اونٹ جو کہ سفائن صحراء کہلاتے ہیں۔ (اب تو بیشمار قسم کی جدید سواریاں اسی قرآنی اشارے کا مصداق ہیں)
Ayah 36:4343: وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْھُمْ (اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں) سمندر میں فَلاَ صَرِیْخَ لَھُمْ (پھر نہ تو ان کا کوئی فریادرس ہو) صریخ کا معنی فریاد کو پہنچنے والا۔ یا صریخ مصدری معنی میں ہے فریاد رسی۔ وَلَا ھُمْ یُنْقَذُوْنَََ (اور نہ یہ نجات پاسکیں گے) نجات دیے جائیں۔
Ayah 36:4444: اِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَا عًا اِلٰی حِیْنٍ (مگر یہ ہماری ہی مہربانی ہے۔ اور ان کو ایک وقت معین تک فائدہ دینا ہے) ای لا ینقذون الا لرحمۃ منا۔ یعنی رحمت کی وجہ سے ان کو بچایا جارہا ہے اور اس لئے بھی تاکہ وقت مقررہ تک دنیا کے سازوسامان سے فائدہ اٹھائیں۔
نحو : رحمۃ اور متاعًا مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Ayah 36:45اگلے پچھلے گناہوں سے ڈرو :
45: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے) ۔ وَمَا خَلْفَکُمْ (اور جو تمہارے پیچھے ہے) یعنی جو گناہ کر کے آگے روانہ کرچکے اور جو ابھی کررہے ہو۔ یا ان وقائع سے ڈرو جن میں تم سے پہلی اقوام تکذیب انبیاء کے نتیجہ میں مبتلا ہوئیں۔ اور اس سے ڈرو جو تمہارے پیچھے قیامت والی گھڑی تیار کھڑی ہے۔ یا نمبر 3۔ دنیا کی آزمائش اور عقوبت آخرت سے ڈرو۔ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (تاکہ تم پر رحم کیا جائے) تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار بن سکو۔
نحو : اذا کا جواب مضمر ہے تقدیر جواب یہ ہے اَعْرَضُوْا۔ اس کا حذف جائز ہے کیونکہ ما تاتیہم الایۃ اس پر دلالت کر رہی ہے۔
Ayah 36:4646: وَمَا تَاْتِیْھِمْ مِّنْ ٰایَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا (اور ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی آیت ان کے رب کی آیات میں سے نہیں آئی) عَنْھَامُعْرِضِیْنَ (جس سے یہ سرتابی نہ کرتے ہوں) ۔
نحو : پہلا مِنْ تاکیدنفی کیلئے ہے۔ اور دوسرا تبعیض کیلئے ہے۔ یعنی ان کی عادات ثانیہ ہے کہ ہر موعظت و نصیحت کے وقت اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 36:47یہ پیدائشی فقیر ہیں ‘ ہم ان کو کیوں دیں ؟
47: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے) اور جب مشرکین مکہ کو کہا جاتا ہے۔ اَنْفِقُوْا مِمَّارَزَقَکُمُ اللّٰہُ (تم اس میں سے خرچ کرو۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق دے رکھا ہے) فقراء پر صدقہ کرو۔ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآ ئُ اللّٰہُ اَطْعَمَہٗ (کافر مسلمانوں کو کہتے ہیں۔ کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانا دیں جن کو اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو کھانے کو دیدے)
قول ابن عباس ؓ :
مکہ میں کچھ زندیق لوگ تھے جب ان کو مساکین پر خرچ کرنے کیلئے کہا جاتا تو کہتے لا واللہ۔ نہیں اللہ کی قسم ! کیا اللہ تعالیٰ ان کو فقیر بنائیں اور ہم ان کو کھانا کھلائیں ؟ (یہ ہرگز نہ ہوگا) اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (تم صریح غلطی میں ہو) یہ مقولہ الٰہی ہے یا مؤمنین کے قول کی حکایت ہے۔ یا نمبر 3۔ ایمان والوں کو کافر جو جواب دیتے تھے یہ بھی ان میں سے ایک جواب ہے۔
Ayah 36:4848: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (وہ کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ) الوعد سے وعدئہ بعث بعد الموت اور قیامت مراد ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ؓ کو مخاطب کیا گیا۔
Ayah 36:49قیامت تو اسرافیل کی ایک صیحہ ہے :
49: مَا یَنْظُرُوْنَ (نہیں وہ منتظر) اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً (مگر ایک زور کی آواز کے) اس سے نفخہ اولیٰ مراد ہے۔ تَاْ خُذُھُمْ یَخِصِّمُوْنَ (جو ان کو آپکڑے گی اور وہ سب باہم لڑ جھگڑ رہے ہونگے) ۔
قراءت : حمزہ نے سکون خاؔ ء و تخفیف صاد سے یَخْصِمُوْنَ پڑھا اور خصمہ سے قرار دیا۔ جبکہ وہ خصومت میں غلبہ پالے۔ باقی قراء نے تشدید صادؔ سے پڑھا ہے۔ ای یخصّمون تاء کو صاد میں مدغم کردیا مگر مکی نے خاء کا فتحہ پڑھا تاء ؔ مدغمہ کی حرکت کو نقل کر کے خاء کو دیا۔ اور مدنی نے سکون خاء اور یاءؔ اور خاؔ کے کسرہ سے پڑھا۔ یحییٰ نے یاء کو خاء کی اتباع میں کسرہ دیا اور دیگر قراء نے یاء کا فتحہ اور خاء کا کسرہ پڑھا۔ مطلب یہ ہے وہ قیامت ان کو آن پکڑے گی۔ جبکہ وہ معاملات میں باہمی جھگڑ رہے ہونگے۔
Ayah 36:50قیامت آنے پر ذرا فرصت نہ ملے گی :
50: فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً (پس ان کو وصیت کرنے کی فرصت نہ ہوگی) اپنے معاملات میں سے کسی کے سلسلہ میں وصیت کرنے کی بھی ان کو طاقت نہ رہے گی۔ وَّ لَآ اِلٰٓی اَھْلِہِمْ یَرْجِعُوْنَ (اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاسکیں گے) ۔ نہ ہی اپنے مکانات کی طرف واپس لوٹنے کی قدرت رہے گی بلکہ جہاں آواز کو سن پائیں گے وہیں موت سے ڈھیر ہوجائیں گے۔
Ayah 36:5151: وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ (اور صور میں پھونک ماردی جائے گی) یہ نفخہ ثانیہ ہے۔ الصور۔ قرن کو کہتے ہیں۔ یا نمبر 2۔ جمع صورۃ ہے۔ فَاِذَا ھُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّھِمْ یَنْسِلُوْنَ (پس وہ یکایک قبروں سے اپنے رب کی طرف جلدی جلدی چلنے لگیں گے) ۔ اجداث جمع جدث وقبر کو کہتے ہیں۔ یَنْسِلُوْن۔ (تیزی سے دوڑیں گے۔ )
قراءت : ینسِلُوْن۔ سین کے کسرہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 36:52بےوقت بعث کا اقرار :
52: قَالُوْا (وہ کہیں گے) یعنی کفار یٰوَیْلَنَا مَنْ 0 بَعَثَنَا (ہائے ہماری کم بختی ہم کو کس نے اٹھا دیا) بعثنابمعنی اَنْشَرْنَا ہے۔ مِنْ مَّرْقَدِنَا (ہماری قبروں سے) یعنی خواب گاہوں سے۔
قراءت : حفص کے نزدیک یہاں وقف لازم ہے۔
قولِ مجاہد (رح) :
کفار کو نیند کا ایک جھٹکا محسوس ہوگا جس میں نیند کا ذائقہ پائیں گے۔ اسی وقت اچانک آواز دی جائے گی۔ اے اہل قبور ! وہ جواب دیں گے ہم کو کس نے زندہ کر کے اٹھا دیا ؟ ّ (وہ اپنے خیال کی تغلیط کر کے کہیں گے یہ نیند نہیں بلکہ انبیاء والی سچی قیامت ہے) ۔
ھٰذَا مَاوَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ (یہ وہی ہے جس کا رحمان نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبر سچ کہتے تھے) نمبر 1۔ یہ ملائکہ کا کلام ہے۔ یا متقین کا کلام ہے یا کافروں کا کلام ہے۔ ان کو اس وقت رسولوں کا سنا ہوا یاد آئے گا۔ بذات خود یہ جواب دیں گے اپنے آپ کو مخاطب کر رہے ہونگے۔ یا ایک دوسرے کو مخاطب کرکے کہیں گے۔ یا ماؔ مصدریہ ہے اور اس کا معنی اس طرح ہے۔ یہ رحمان کا وعدہ ہے۔ اور رسولوں کی سچائی ہے۔ گویا موعود و مصدق کو وعد اور صدق سے تعبیر کیا۔ نمبر 3۔ ماؔ موصولہ مانیں تو تقدیر کلام یہ ہوگی ھذا الذی وعدہ الرحمٰن والذی صدقہ المرسلون ای والذی صدق فیہ المرسلون یہ وہی ہے جس کا رحمان نے وعدہ کیا اور وہ جس میں رسولوں نے سچ کہا۔
Ayah 36:5353: اِنْ کَانَتْ (وہ بس) نفخہ اخیرہ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ (ایک زور کی آواز ہوگی جس سے یکایک سب جمع ہو کر ہمارے پاس حاضر کردیئے جائیں گے) حساب و کتاب کیلئے۔
Ayah 36:5454: پھر وہ ذکر کیا جو اس دن ان کو کہا جائے گا۔ فَالْیَوْمَ لَاتُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّلَاتُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پھر اس دن کسی شخص پر ذرا ظلم نہ ہوگا۔ اور تم کو بس انہی کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے) ۔
Ayah 36:55جنتیوں کے کچھ احوال :
55: اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِالْیَوْمَ فِی شُغُلٍ فٰکِھُوْنَ (اہل جنت بیشک اس روز اپنے مشغلوں میں خوش دل ہونگے)
قراءت : شُغُلکو کوفی، شامی نے دو ضموں سے پڑھا۔ اور مکی نے شُغْل ضمہ اور سکون سے پڑھا نافع و ابو عمرو نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ مطلب یہ ہے کیا خوب مشغولیت میں اور ایسی مشغولیت جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اور وہ ضیافت ملک الجبار یا جنت کی سروں کا سننا، یا نہروں کے کنارے درختوں کے نیچے حوروں سے ہم خوابی۔
نحو : فاکھون یہ خبر ثانی ہے۔ یزید نے فَکِھُوْن پڑھا۔ الفاکہ والف کہ خوش عیثی کی چیز جس سے تلذذ حاصل کیا جائے۔ اسی سے الفکاھۃ خوش گپی ہے کیونکہ اس سے بھی تلذذ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح الفاکھۃ فروٹ سے بھی لذت اندوزی کی جاتی ہے۔
Ayah 36:56نمبر : 2
56: ھُمْ وَاَزْ وَا جُھُمْ فِیْ ظِلٰلٍ (وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں) ۔
نحو : ھم مبتدأ اور ازواجہم اس کا معطوف ہے۔ فی ظلال یہ حال ہے۔ ظلال جمع ظِلّ کی ہے۔ ایسی جگہ جہاں دھوپ نہ پڑے۔ جیساذئب و ذئاب یا جمع ظُلۃ کی ہے جیسے برمۃ و برام۔ اس کی دلیل حمزہ، علی کی قراءت ظُلَلٌ جمع ظلّۃ ہے۔ ظُلّہ دھوپ سے جو چیز سایہ دے مثلاً خیمہ، قنات عَلَی الْاَرَآ ئِکِ جمع اریکۃ پردہ دار مسہری یا بستر پردہ میں مُتَّکِئُوْنَ (مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے)
نحو : یہ خبر ہے۔ یا فی ضلال ؔ خبر ہے اور علی الارائک جملہ مستانفہ ہے۔
Ayah 36:57نمبر : 3
57: لَھُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ وَّ لَھُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ (ان کے لئے وہاں میوے ہونگے اور جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا) ۔
نحو وصرف : یدعون یہ باب افتعال از دعاء ہے جو اہل جنت مانگیں وہ ان کے پاس آجائے گا۔ یا جو وہ تمنا کریں گے اہل عرب کہتے ہیں۔ ادّع عَلَیّ ماشئت ای تمنہ علی۔ جو تمنا کرو۔ فراء نحوی کہتے ہیں : یہ الدعوی سے ہے وہ اس چیز سے نہ مانگیں گے جس کے حقدار نہ ہونگے۔
Ayah 36:58نمبر : 4
58: سَلٰـمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ (ان کو پروردگار مہربان کی طرف سے سلام دیا جائے گا) سلام یہ ما یدعون سے بدل ہے گویا اس طرح ان کو فرمایا سلام یقال لھم سلام ان کو کہا جائے گا۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ ملائکہ کے واسطہ سے ان کو سلام فرمائے گا۔ نمبر 2۔ بغیر واسطہ کے ان کی عظمت کے لئے اللہ تعالیٰ سلام فرمائیں گے۔ یہ اہل جنت کی منتہی تمنا ہے اور ان کے لئے اس سے روک نہ ہوگی۔ قول ابن عباس ؓ ہے کہ فرشتے ان کے پاس رب العالمین کی طرف سے تحفہ سلام لے کر حاضر ہونگے۔
Ayah 36:59کافر و مومن کی علیحدگی :
59: وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنََ (اے مجرمو ! آج الگ ہوجائو) ۔ مجرمو ! مؤمنین سے الگ ہوجائو۔ یہ اس وقت ہوگا۔ جب میدان محشر میں مؤمنوں کو جنت کی طرف لے جایاجائے گا۔
قولِ ضحاک :
ہر کافر کا جہنم میں ایک گھر ہوگا جس میں وہ رہے گا۔ نہ وہ کسی کو ہمیشہ کیلئے دیکھ پائے گا اور نہ اس کو کوئی دیکھے گا۔ قیامت کے دن کفار کو کہا جائے گا۔
Ayah 36:6060: اَلَمْ اَعْھَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْ ٰادَمَ (اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی کہ تم) اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے) العھدؔ وصیت، عرب کہتے ہیں۔ عہد الیہ اذاوصاہ، اللہ تعالیٰ کے عہد سے مراد جو دلائل عقلیہ پیدا کئے اور دلائل نقلیہ کتابوں میں اتارے عبادۃ الشیطانؔ وسوسہ اندازی اور تزین میں شیطان کی طاعت۔
Ayah 36:6161: وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ (اور یہ کہ میری عبادت کرنا) مجھے وحدہٗ لا شریک ماننا اور میری اطاعت کرنا۔ ھٰذَا اس سے اس عہد کی طرف اشارہ ہے جو شیطان کی نافرمانی اور طاعت رحمانی کیلئے لیا گیا۔ صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (یہ سیدھا راستہ ہے) یہ راستہ جو اپنی استقامت میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے اور کوئی راستہ اس سے زیادہ مضبوط نہیں۔
Ayah 36:6262: وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلًّا کَثِیْرًا (وہ تم میں ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا) ۔ جبلاؔ جیم کے کسرہ اور باء مک سورة اور تشدید کے ساتھ مدنی، عاصم، سہل نے پڑھا۔ نمبر 2۔ جبلاؔ تخفیف سے شامی اور ابو عمرو نے پڑھا۔ نمبر 3۔ جُبُلاًّ جیم اور باء کے ضمہ اور لام کی تشدید سے یعقوب نے پڑھا۔ نمبر 4۔ جُبُلًا ضمہ جیم و تخفیف لام کے ساتھ دیگر قراء نے پڑھا۔ یہ تمام لغات ہیں معنی تمام کا مخلوق ہے۔
اَفَلَمْ تَکُوْنُوْاتَعْقِلُوْنَ (پس کیا تم نہیں سمجھتے تھے) یہ استفہام تو بیخ کیلئے ہے کہ تم نے عقل سے کیوں کام نہیں لیا۔
Ayah 36:6363: ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (یہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) ای توعدون بھا،
Ayah 36:6464: اِصْلَوْھَاالْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ (آج اپنے کفر کے بدلے اس میں داخل ہوجائو) یعنی اپنے کفر اور جہنم کے انکار کے باعث اس میں داخل ہوجائو۔
Ayah 36:65کافر کا گواہی ماننے سے انکار :
65: اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ (آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) یعنی ان کو گفتگو سے روک دیں گے۔ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا (اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے) کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (جو کچھ یہ لوگ کرتے تھے)
مروی ہے کہ کافر انکار کریں گے اور جھگڑا کرنے لگیں گے ( بلکہ قرآن مجید میں فرمایا وہ کہیں گے : واللہ ربنا ماکنا مشرکین) ان کے خلاف ان کے پڑوسی اور گھریلو رشتہ دار، خاندان کے لوگ گواہی دیں گے۔ وہ قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے بالکل شرک نہیں کیا۔ اس وقت ان کو کلام سے روک دیا جائے گا۔ اور ہاتھ، پائوں کو بولنے کا حکم ہوگا۔ ارشاد نبوت ﷺ ہے کہ بندہ کہے گا آج میں اپنے متعلق کسی کی گواہی نہ مانوں گا سوائے اس گواہ کے جو میرے اپنے نفس سے ہو۔ پس اس کے منہ پر مہر لگا دی جائیگی اور اس کے ارکان جسم کو کہا جائے گا بات کرو۔ وہ اعضاء اس کے اعمال بول کر بیان کریں گے۔ پھر کلام کے بعد اس کو تخلیہ میں چھوڑ دیا جائے گا۔ وہ اپنے اعضاء کو مخاطب کر کے کہے گا۔ تمہارا ستیا ناس ہو۔ میں تمہاری طرفداری کیلئے تو جھگڑ رہا تھا۔ ] مسلم، 2969[
Ayah 36:66درت سے ان کی آنکھوں کو ملیا میٹ کرسکتے ہیں :
66: وَلَوْ نَشَآ ئُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓی اَعْیُنِھِمْ (اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کو ملیا میٹ کردیتے) ضرور ہم ان کو اندھا کردیتے اور ان کی بصارت لے جاتے۔ الطمسؔ آنکھوں کا شگاف پاٹ کر پپوٹہ کا نشان مٹا دینا۔ فَاسْتَبَقُوْا الصِّرَاطَ (پھر یہ راستے کی طرف دوڑتے پھرتے) ۔
نحو : جار کو حذف کر کے فعل کو ملادیا۔ ای استبقوا الی الصراط فَاَنّٰی یُبْصِرُوْنَ (پھر ان کو کہاں نظر آتا) انی یہاں کیف کے معنی میں ہے۔ پھر اس وقت وہ کیسے دیکھتے جبکہ ہم ان کی آنکھیں مٹا چکے ؟
Ayah 36:67پتھر بنانے کی قدرت :
67: وَلَوْ نَشَآ ئُ لَمَسَخْنٰھُمْ (اور اگر ہم چاہتے تو ان کی صورتیں بدل ڈالتے) بندر و سور یا پتھر بنا دیتے۔ عَلٰی مَکَا نَتِہِمْ (ان کی جگہ پر باقی رکھتے ہوئے)
قراءت : ابوبکر و حماد نے مکاناتہم پڑھا۔ المکانۃ و المکان ایک ہیں جیسے المقامۃ والمقام۔ مطلب یہ ہے جن گھروں میں گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے اند رہی ہم ان کی شکلیں مسخ کردیتے فَمَا اسْتَطَاعُوْا (نہ طاقت رکھتے) یعنی آنے جانے کی قدرت نہ رہتی یا مُضِیًّا (آگے چلنے کی) وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ (نہ پیچھے لوٹ جانے کی ) ۔
Ayah 36:68جوانی سے بڑھاپے کی قدرت ہے تو اٹھانے کی قدرت کیوں نہیں ؟
68: وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَـکِّسْہُ (جس کی ہم زیادہ عمر کردیتے ہیں اس کو الٹا کردیتے ہیں) ۔
قراءت : عاصم و حمزہ نے نُنَکِّسہٗ پڑھا ہے۔۔ التنکیس۔ چیز کو الٹا کرنا۔ باقی قراء نے ننکسہٗ فی الخلق سے لیا یعنی اس میں اس کو پلٹ دیتے ہیں۔ یعنی جس کی عمر کو ہم طویل کرتے ہیں۔ اس کے اعضاء کو پلٹ دیتے ہیں۔ پس طاقت کی جگہ ضعف و کمزوری آجاتی ہے۔ جوانی کی بجائے بڑھاپا آجاتا ہے۔ اور یہ اس لئے کہ ہم نے شروع میں کمزور جسم والا پیدا کیا اور عقل و علم بنائے پھر ان کو بڑھنے والا بنایا۔ یہاں تک کہ یہ جوانی کو پہنچا اور اپنے میں کمال پایا اور اپنے حقوق و فرائض کو سمجھنے اور جاننے والا بن گیا۔ پھر جب عمر کی انتہاء کو پہنچاتو پھر اس کو پلٹ دیا۔ فِی الْخَلْقِ (طبعی حالت میں) ہم نے اس کو کم ہونے والا بنادیا۔ یہاں تک کہ یہ ایسی حالت کی طرف لوٹ گیا جو کمزوری جسم میں بچے کی حالت کے مشابہ تھی۔ اسی طرح عقل کی قلت اور علم سے فارغ جیسا کہ تیر کو پلٹ کر اس کے بلند حصہ کو نچلا حصہ بنادیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکی لا یعلم بعد علم شیئا ] النحل : 70[
اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ (کیا یہ لوگ پھر بھی نہیں سمجھتے) کہ جو ذات ان کو جوانی سے بڑھاپے میں منتقل کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔ اور ضعف سے قوت کی طرف لے جانے کی قدرت ہے۔ اور تیز عقل سے سٹھیا نے تک لے جاسکتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ قدرت رکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں مٹا دیں اور ان کے گھروں میں مسخ کردیں۔ اور موت کے بعد ان کو اٹھا کھڑا کریں۔
قراءت : مدنی، یعقوب، سہل نے تعقلونؔ تاء سے پڑھا ہے۔
Ayah 36:69سخت الزام کا جواب :
69: مشرکین مکہ آپ کو شاعرکہتے۔ وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ (اور ہم نے اس کو شاعری کا علم نہیں دیا) یعنی ہم نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شعراء کے قول نہیں سکھائے یا ہم نے ان کو تعلیم قرآن کے سبب شعر کا علم نہیں دیا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجیدشعر و شاعری نہیں۔ وہ تو کلام موزوں اور مقفی ہے جو معنی پر دلالت کرتا ہے۔ مگر نہ وزن نہ قافیہ۔ پس اس کے اور شعر کے درمیان کوئی مناسبت نہیں پائی جاتی جبکہ تم حقیقت کی نگاہ سے دیکھو۔ وَمَا یَنْچبَغِیْ لَہٗ (اور نہ آپ کے شایان شان ہے) نہ آپ کے لئے درست ہے اور نہ آپ کے شایان شان ہے اور نہ مناسب۔ اور اگر طلب کریں تو بتکلف بھی اس کو پا نہیں سکتے مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو ایسا بنایا ہے کہ اگر آپ شعر بنانے کا ارادہ کریں تو نہیں بنا سکتے اور نہ زور کے ساتھ آواز کو بلند کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ کو امی بنایا آپ خط کی طرف راہنمائی نہیں پاسکتے۔ تاکہ حجت زیادہ پختہ اور شبہ بالکل مٹنے والا ہو۔
ایک سوال کا جواب :
سوال : غزوئہ حنین کے موقعہ پر آپ کا یہ قول ؎
انا النبی لا کذب ٭ انا ابن عبد المطلب
اور یہ قول ؎
ھل انت الا اصبعٌ د میت ٭ و فی سبیل اللہ ما لقیت
جواب : یہ آپ کے اس کلام کی جنس سے ہے جو سلیقہ سے بغیر صنعت و تکلف کے فرمائے یہ بلا قصد اور بلا التفات موزوں ہوگیا۔ جیسا کہ لوگوں کے خطبات و رسائل و محاورات میں بلا تکلف کئی جملے موزوں ہوجاتے ہیں۔ ان کو کوئی بھی نہ شعر کہتا ہے کیونکہ اس جملے کے کہنے والے کو وزن مقصود نہیں ہوتا۔ اور ادھر شعر میں تو وزن ضروری ہے۔ صرف : آپ (علیہ السلام) نے لقیتؔ کی تاء کو سکون سے پڑھا اور مطلب ؔ کی باء کو کسرہ دیا اور کذبؔ کی باء کا فتحہ پڑھا۔ قرآن کے جنس شعر سے ہونے کی نفی کرتے ہوئے۔ فرمایا اِنْ ھُوَ (یعنی سکھایا ہوا) اِلَّا ذِکْرٌ وَّ قُرْٰانٌ مُّبِیْنٌ (نہیں وہ مگر نصیحت اور قرآن واضح) وہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ہے جس سے جن و انس کو وعظ کیا جاتا ہے۔ وہ قرآن ایک آسمانی کتاب ہے جو محرابوں میں پڑھی جاتی ہے اور عبادت خانوں میں تلاوت کی جاتی ہے اور اس کی تلاوت پر عمل سے دونوں جہان کی کامیابی میسر آتی ہے۔ اس کے اور شعر کے درمیان کتنا بڑا فاصلہ ہے۔ شعر تو شیاطین کے وساوس کا ملغوبہ ہے۔
Ayah 36:7070: لِّیُنْذِرَ (تاکہ وہ ڈرائے) قرآن یا رسول ﷺ ۔
قراءت : مدنی، شامی، سہل، یعقوب نے لتُنْذِرَ پڑھا ہے۔
مَنْ کَانَ حَیًّا (ایسے شخص کو جو زندہ ہو) سوچ وبچار کرنے والا، عقل مند، کیونکہ غافل تو مردے کی طرح ہے۔ یا اس کا دل زندہ ہو۔ وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ (اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے) اور عذاب والی بات لازم ہوجائے۔ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (کافروں پر) وہ لوگ جو تامل نہیں کرتے وہ مردوں کے حکم میں ہیں۔
Ayah 36:71چوپائوں کو ان کے لئے بنایا :
71: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَھُمْ مِمَّا عَمِلَتْ (کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے لئے اپنی ہاتھ کی پیدا) اَیْدِیْنَآ اَنْعَامًا (کردہ چیزوں میں سے مویشی پیدا کیے) یعنی جن کے ایجاد کے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں۔ ہمارے سوا اور کسی کو اس پر قدرت نہیں۔ فَھُمْ لَھَا مَالِکُوْنَ (پھر یہ لوگ ان کے مالک بنے بیٹھے ہیں) یعنی ہم نے ان کو ان کی خاطر بنایا پس مالک حقیقی تو ہم ہی ہیں۔ یہ صرف ان میں تصرف کرنے والے ہیں۔ جیسے مالک تصرف کرتے ہیں۔ ان سے نفع اٹھانا ان کے ساتھ خاص کیا۔ یا مالکوں کا معنی یہ ان پر غالب اور کنٹرول کرنے والے ہیں۔
Ayah 36:7272: وَذَ لَّلْنٰھَا لَھُمْ (ہم نے ان مویشیوں کو ان کا تابع بنادیا) ہم نے ان کا مطیع کردیا ورنہ کس کو ان پر قابو میسر آتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی تسخیر و تذلیل نہ ہوتی۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے سوار پر لازم کیا کہ وہ اس نعمت کا شکرگزار ہو اور اپنے اس قول سے تسبیح خواں ہو۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنالہ مقرنین ] الزخرف : 13[
فَمِنْھَا رَکُوْبُھُمْ (پس ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں) رکوبؔ جس پر سواری کی جائے۔ وَمِنْھَا یَاْ کُلُوْنَ (ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیں) ہم نے ان کو انسانوں کا مطیع بنایا تاکہ ان کی پشت پر سواری کریں اور ان کا گوشت کھائیں۔
Ayah 36:7373: وَلَھُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ (اور ان لوگوں کے ان میں اور بھی منافع ہیں) ان کے چمڑوں اور اون سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ وَمَشَارِبُ (اور پینے کی چیزیں) دودھ۔ یہ مشرب کی جمع ہے اور وہ پینے کی جگہ اور گھاٹ کو کہتے ہیں۔ یا مصدر میمی مانیں تو پینا اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ (پس کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے ؟ ) ان مویشیوں کے انعام پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ کیوں نہیں ادا کرتے۔
Ayah 36:7474: وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ٰالِھَۃً (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں) لَّعَلَّھُمْ یُنْصَرُوْنَ (اس امید پر کہ ان کو مدد ملے) یعنی شاید کے ان کے بت کسی معاملے کے پیش آجانے پر ان کی مدد کریں۔
Ayah 36:7575: لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (وہ طاقت نہیں رکھتے) یعنی ان کے معبود نَصْرَھُمْ (ان کی مدد کی) اپنے عبادت کرنے والوں کی وَھُمْ لَھُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ (اور وہ ان لوگوں کے حق میں ایک فریق بن جائیں گے) یعنی کفار اصنام کیلئے مددگار ومعاون ہیں۔ اور ان کی خدمت کرتے ہیں۔ اور ان سے نقصان دہ اشیاء کو دور کرتے ہیں یا انہوں نے بت اس لئے بنا رکھے ہیں تاکہ وہ بت اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی مدد کریں ان کی شفاعت کریں حالانکہ معاملہ اس کے الٹ ہے جو انہوں نے اپنے خیال میں تجویز کر رکھا ہے۔ اس طرح کہ وہ قیامت کے دن ان کے لئے تیار کیا ہو الشکر ہے۔ ان کو انہیں عذاب دینے کے لئے لایا جائے گا۔ اور ان پر جلنے والی آگ کا ایندھن بنادیا جائے گا۔
Ayah 36:76تسلیٔ رسول ﷺ :
76: فَلاَ یَحْزُنْکَ قَوْلُھُمْ (تو ان کی باتیں آپ کے لئے آزردگی کا باعث نہ بنیں) ۔
قراءت : نافع نے یُحْزِنْکَ ، حزنہ واحزنہ سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ بنے گا۔ آپ ان کی تکذیب و ایذاء اور جفاء و ظلم کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ (بلاشبہ ہم سب جانتے ہیں جو یہ دل میں رکھتے ہیں) یعنی ان کی عداوت وَمَا یُعْلِنُوْنََ (اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں) ۔ اور ہم ان کو اس پر سزا دینے والے ہیں۔ پس آپ کو چاہیے کہ ان کی اس وعید سے تسلی حاصل کریں اور ان کی صورت حال کا استحضار فرمائیں تاکہ غم و رنج کا ازالہ ہو۔
تردید ِقول :
جس نے یہ خیال جمایا ہے کہ جس نے اَنَّا نعلم فتحہ سے پڑھ دیا اس کی نماز فاسد ہوگئی اور اگر اس کے معنی کا اعتقاد کرلیا تو اس نے کفر کیا۔ یہ خیال غلط ہے۔ کیونکہ اس کو لام تعلیل کے حذف پر محمول کرنا ممکن ہے۔ اور یہ قرآن مجید میں بہت ہے۔ اور اشعار میں کثرت سے موجود ہے اور ہر کلام میں پایا جاتا ہے۔ اور تلبیہ رسول اللہ ﷺ میں اسی طرح پایا جاتا ہے۔ اَنَّ الْحَمد والنعمۃ لک۔ ] رواہ البخاری و المسلم : 1549، 1184[
ائمہ رحمہم اللہ میں سے امام ابوحنیفہ (رح) نے کسرہ اور امام شافعی (رح) نے فتحہ پڑھا اور دونوں کا کلام تعلیل ہے۔ اگر تم کہو اگر مفتوح کو قولھمؔ سے بدل بنائیں گویا اس طرح کہا گیا فلا یحزنک انا نعلم مایسرون وما یعلنون تو اس کا غلط ہونا ظاہر ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ معنی تو مک سورة کے ہوتے ہوئے بھی قائم ہے جبکہ تم اس کو قول کا مفعول بنائو۔ پس یہ واضح ہوگیا۔ کہ حزنؔ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے عالم ہونے کے ساتھ ہے اور اس کا عدم تعلق کا دارومدار اِنَّ کے مکسور و مفتوح ہونے سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دارومدار تمہارے مقدر ماننے پر ہے۔ پس تم فرق کرو گے اگر تم اَنَّ کو فتحہ سے پڑھو گے تو تعلیل کا معنی مقدر مانو گے۔ بدل کا معنی مقدر نہ مانو گے۔ جیسا کہ تم فرق کرو گے جبکہ اِنَّ کو کسرہ سے پڑھو گے۔ تو تعلیل کا معنی مقدر مانو گے۔ مفعولیت کا معنی مقدر نہیں مان سکتے۔
پھر اگر تم کسرہ یافتحہ کی تقدیر مانو اور اس سے بقول قائل اتنی بڑی مصیبت آن پڑتی ہو کہ اس سے کفر لازم آجاتا ہے حالانکہ اس میں صرف رسول اللہ ﷺ کو ان پر غم کرنے کی ممانعت کی گئی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کفار کی ظاہری و باطنی حالت کو جاننے والے ہیں۔ اور آپ کے حزن کی نہی آپ کے حزن کا اثبات نہیں بنتا۔ جیسا کہ اس قول میں ہے۔ فلا تکونن ظھیرًا للکافرین ] القصص : 86[ اور ولا تکونن من المشرکین ] الانعام : 14[ اسی طرح فلاتدع مع اللہ الھًا آخر ] القصص : 88[ ( میں نہی نہ کرنے سے شرک وغیرہ کا اثبات لازم آتا ہے۔ پس دونوں میں بڑا فرق ہے فافہم)
Ayah 36:7777: یہ آیت ابی بن خلف کے متعلق نازل ہوئی۔ جبکہ اس نے ایک پرانی ہڈی لی اور آپ ﷺ کے سامنے اپنے ہاتھ سے اس کو ریزہ ریزہ کر کے کہنے لگا۔ اے محمد ﷺ کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو ریزہ ریزہ ہونے کے بعد زندہ کر دے گا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جی ہاں اور تمہیں اٹھائے گا۔ اور جہنم میں داخل فرمائے گا۔ ] واحدی اسباب النزول : 246[
اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَاْنُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ (کیا آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا) جو مرد کی پیشاب والی نالی سے نکلتا ہے۔ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ (پس وہ اعلانیہ اعتراض کرنے لگا) مبیناس نے جھگڑا کھلے طور پر کیا یعنی وہ اپنے اصل کی ذلت اور حقارت پر قائم ہے کہ اپنے رب سے جھگڑا پر اتر آیا اور اس کی مردوں کو زندہ کرنے والی قدرت کا انکار کردیا کہ ریزہ ریزہ ہونے کے بعد ہڈیاں کیونکر زندہ ہوسکتی ہیں۔ پھر اس کا جھگڑا اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت میں ہے جو اس پر سب سے زیادہ لازم اور ملصق ہے کہ یہ خود مردہ سے پیدا شدہ ہے۔ اور یہ اپنے مرنے کے بعد اس کے اٹھائے جانے کا انکار کر رہا ہے۔ اور یہ مکابرہ کی انتہاء ہے۔ ( کہ اپنے اوپر گزرنے والی اتنی بڑی بداہت کا انکار کرنے لگا) (مترجم)
Ayah 36:7878: وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا (اور یہ ہماری شان میں ایک عجیب مضمون بیان کرتا ہے) ہڈیوں کا ریزہ ریزہ ہونا۔ وَّ نَسِیَ خَلْقَہٗ (اور اپنی پیدائش کو بھول گیا) جو کہ منی سے ہوتی ہے۔ اور وہ ہڈیوں کے زندہ کرنے سے زیادہ غریب ہے۔
نحو : خَلْقَہٗ مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ ای خلقناہ ایاہ (ہم نے اس کو پیدا کیا ہے۔ )
قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ (اور کہتا ہے کہ ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوگئی کون زندہ کر دے گا ؟ ) رمیمؔ پرانی ہڈیوں کو کہتے ہیں یہ نام ہے وصف نہیں جیسا کہ الرِّمۃ اور الرفات وغیرہ ہیں۔ اسی لئے یہاں مؤنث نہیں لائے حالانکہ یہ مؤنث کی خبر بن رہی ہے۔
ایک استدلال ‘ ایک قول :
جو ہڈیوں میں زندگی کو ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں مردار کی ہڈیاں اس لیے نجس ہیں کیونکہ موت ان میں موثر تھی زندگی کے ان میں اترنے سے پہلے۔ اس قول پر استدلال اسی آیت سے کیا گیا ہے۔
قولِ احناف رحمہم اللہ :
ہمارے ہاں ہڈیاں طاہر ہیں۔ اسی طرح بال اور پٹھے بھی پاک ہیں کیونکہ حیات ان میں موثر نہیں۔ پس موت بھی موثر نہیں ( مگر یہ قول درست نہیں اس طرح کہنا زیادہ مناسب ہے کہ سبب نجاست دم مسفوح ہے اور ان میں دم مسفوح نہیں اسلئے نجس نہیں۔ کذا قال العلماء) آیت میں احیائے عظام سے مراد اسی حالت میں لوٹانا ہے جیسا کہ زندہ حساس بدن میں تروتازہ تھیں۔
Ayah 36:7979: قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْ اَنْشَاَھَا (آپ جو اب میں کہہ دیجئے۔ کہ ان کو وہ زندہ کریگا۔ جس نے اول بار ان کو پیدا کیا ہے)
انشاء ھا ؔ کا معنی ان کو پیدا کیا ہے۔ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (پہلی مرتبہ) یعنی ابتداء وَھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ (وہ سب طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے) خَلْق۔ مخلوق کے معنی میں ہے۔ علیم اللہ تعالیٰ پر اس کے اجزاء مخفی نہیں اور نہ مخفی ہوسکتے ہیں۔ خواہ خشکی و سمندر میں منتشر ہوجائیں۔ وہ ان کو جمع کر کے اسی طرح لوٹادے گا۔
Ayah 36:8080: الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا (وہ ایسا ہے کہ ہرے درخت سے تمہارے لئے آگ پیدا کردیتا ہے) ۔ فَاِذَا اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ (پھر تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو) توقدون کا معنی سلگانا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق کے عجائبات کے ذکر کرتے ہوئے فرمایا سبز درخت سے آگ کا سلگانا جبکہ آگ اور پانی میں تضاد ہے۔ اور پانی سے آگ بجھتی ہے۔ وہ چقماق ہے جس سے جنگلی لوگ آگ جلاتے ہیں۔ اور اکثر تو مرخ و عفار نامی درختوں اور اسی طرح کے دیگر درختوں کی ٹہنیوں کو رگڑ کر سلگاتے ہیں۔ ان کی امثلہ میں مشہور۔ ] کتاب الامثال : 202[ فی کل شجرنار واستمجد المرخ و العفار، ویسے تو ہر درخت میں آگ ہے مگر مرخ و عفار میں تو کثرت سے پائی جاتی ہے۔ ان دونوں درختوں کی تازہ مسواک جیسی ٹہنیاں کاٹ لیں اور مرخ (نر درخت) عفار (مؤنث درخت) پر رگڑ دیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ اس سے سلگنے لگتی ہے۔
قول ابن عباس ؓ : ہر درخت میں آگ ہے صرف عفار کے درخت میں نہیں۔ کیونکہ کپڑوں کیلئے اس کو پیسا جاتا ہے۔ پس جو ذات درخت میں آگ اور پانی جمع کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ انسان میں موت وحیات کے درمیان سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ دو اضداد میں سے ایک کے اجزاء کو دوسرے پر باری باری جاری کردینا یہ عقل کے لحاظ سے اس سے بہت آسان ہے کہ بلاترتیب ان کو ایک جگہ جمع کیا جائے۔ الاخضر لفظ کی بناء پر ہے اور معنی کا لحاظ کر کے الخضراء پڑھا گیا ہے۔ پھر بیان فرمایا کہ جو ذات آسمان و زمین کی اتنے عظیم الشان ہونے کے باوجود پیدا کرسکتی ہے وہ انسانوں کی تخلیق پر بدرجہ اولیٰ قادر ہیں۔