36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 36:81

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (ان کو پھر) ویسے ہی پیدا کر دے ؟ کیوں نہیں اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے

آسمانوں کے خالق پر انسان کا اعادہ کیا مشکل ؟ 81: اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (اور جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے ہیں کیا وہ) بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَھُمْ (اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے آدمیوں کو پیدا کر دے) مثل کا مطلب آسمان و زمین کے مقابلہ میں ان جیسے چھوٹے چھوٹے ہیں یا مثل کا مطلب جیسے پہلے تھے اسی طرح ان کو لوٹا دے۔ کیونکہ لوٹانا ابتداء کی طرح ہے۔ کیا ایسا نہیں بَلٰی (کیوں نہیں) یعنی آپ فرما دیں کیوں نہیں وہ اس پر قادر ہے۔ وَھُوَ الْخَلّٰقُ (وہ بیشمار مخلوقات کو پیدا کرنے والا ہے) ۔ الْعَلِیْمُ (وہ بیشمار معلومات والا ہے) ۔
Ayah 36:82

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرما دیتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

82: اِنَّمَآ اَمْرُہٗ (بیشک اس کی شان یہ ہے) اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ (جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے کہ اس چیز کو کہہ دیتا ہے کہ ہوجا) اس کے ہونے کا ارادہ فرما لیتے ہیں۔ فَیَکُوْن (پس وہ ہوجاتی ہے) وہ پیدا ہوجاتی ہے۔ یعنی اس چیز کو وجود میں لا محالہ آنا ہی ہے۔ پس حاصل یہ ہوا کہ مکونات اس کی تخلیق وتکوین سے ہوتی ہیں۔ لیکن یہاں تعبیر ایجاد کے لفظ کنؔ سے فرمائی گئی ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کی طرف سے یہ کاف، نون ہوں۔ درحقیقت یہ سرعت ایجاد کو سمجھانے کی تعبیر ہے گویا وہ فرما دیتے ہیں۔ جیسا کہ تم پر کن کا قول ثقیل نہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ پر ابتدائے خلق و اعادہ ثقیل و مشکل نہیں۔ قراءت : فیکون شامی اور علی نے یقولؔ پر عطف کر کے پڑھا۔ اور رفع کی وجہ یہ ہے کہ یہ جملہ مبتدأ و خبر ہے۔ کیونکہ اس کی تقدیر عبارت یہ ہے فھو فیکون اور اس کا عطف اس کے مثل جملہ پر ہوسکتا ہے اور وہ امرہ ان یقول لہ کن ہے۔
Ayah 36:83

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

وہ (ذات) پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

83: فَسُبْحٰنَ (تو اس کی ذات پاک ہے) اس میں اللہ تعالیٰ کا اس سے منزہ ہونا بیان کیا گیا جو مشرکین بیان کرتے تھے اور ان کے مقولہ پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْ ئٍ (جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا پورا اختیار ہے) یعنی وہ ہر چیز کا بادشاہ ہے۔ نکتہ : مَلک میں وائو اور تاء کا اضافہ کر کے ملکوت کا لفظ لایا گیا اس سے مقصود مبالغہ ہے۔ مطلب یہ ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ وَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (ـاور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) ۔ تم موت کے بعد لوٹائے جائو گے اس سے پیچھے رہ نہیں سکتے۔ قراءت : یعقوب نے تَرْجِعُوْنَ پڑھا ہے۔ فضائل : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز کا ایک دل ہے اور قرآن کا دل سورة یٰسین ہے۔ جس نے اللہ کی رضا مندی کی خاطر یٰسین پڑھی اللہ تعالیٰ اس کو بخش دینگے اور اس کو اتنا اجر دینگے جتنا اس نے بائیس (22) مرتبہ قرآن پڑھا۔ ( راوہ الترمذی 2887) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنی حاجت کے لئے یٰسین پڑھی اس کی ضرورت پوری کردی جاتی ہے۔ (الدارمی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اس کو اس حال میں پڑھا کہ وہ بھوکا تھا۔ اللہ اس کو سیر کردینگے اگر وہ پیاسا تھا اللہ اس کو سیراب کردینگے۔ اگر وہ ننگا تھا۔ تو اللہ اس کو لباس پہنادینگے اگر وہ خوفزدہ تھا اللہ اس کو امن میں کر دینگے اگر وہ گھبراہٹ میں تھا اللہ اس کو مانوس کر دینگے اور اگر وہ فقیر تھا اللہ تعالیٰ اس کو غنی کر دینگے اگر وہ جیل میں تھا اللہ تعالیٰ اس کو نکلوا دینگے اگر وہ قیدی تھا تو اس کو آزاد کروا دینگے اگر وہ راستہ گم کرنے والا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کو راستہ دکھا دینگے اگر وہ مقروض ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے قرضے کو اپنے خزانوں سے ادا فرما دینگے۔ اس سورت کا نام الدٰفعہ اور القاضیہ ہے۔ کیونکہ یہ برائی کو دفع کرتی اور اس کی ہر حاجت کو پورا کرتی ہے۔ واللہ اعلم