Ayahs 37:1–3چار اقسام اور ان کی قسمیں :
1، 2، 3: وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا (اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو صف باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کی جو روکنے والے ہیں روکنا) فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا (پھر ان فرشتوں کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والے ہیں) اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی مختلف جماعتوں کی قسم اٹھائی۔ نمبر 2۔ یا ان کے نفوس کی کہ نماز میں صف بستہ ہیں پھر بادلوں کو چلانے کیلئے ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے ہیں اور الہام خیر کے ذریعہ معاصی سے روکنے والے ہیں۔ پھر کتب منزلہ میں سے اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ یہ ابن عباس، ابن مسعودؓ اور مجاہد کا قول ہے۔
نمبر 3۔ ان علمائے عاملین کے نفوس کی قسم کھائی گئی جو تہجد میں اپنے قدم جمانے والے اور اسی طرح دیگر نمازوں میں۔ پھر جو مواعظ ونصائح سے ڈانٹ ڈپٹ کر کے معاصی سے روکنے والے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت، شرائع و احکامات کو پڑھانے والے ہیں۔ نمبر 4۔ غازیوں کی جانوں کی قسم اٹھائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صف باندھ کر جہاد میں مصروف ہیں۔ اور جہادی گھوڑوں کو تیز و سست چلانے کیلئے ڈانٹنے والے ہیں۔ اور اس حالت میں بھی ذکر الٰہی میں مصروف و مشغول رہتے ہیں۔
نحو : صفاً ، زجراً دونوں مصدر مؤکد ہیں۔ اور فاء ترتیب تفاضل فی الصفات کو ظاہر کرتی ہے۔ فضیلت کو صف بستگی پھر زجر پھر تلاوت سے مقید کیا گیا یا اس کا عکس پہلے تلاوت پھر زجر پھر صف بندی۔
Ayah 37:44: اِنَّ اِلٰھَکُمْ لَوَاحِدٌ (کہ تمہارا معبود ایک ہے)
فائدہ : یہ جواب قسم ہے یا ایک قول کے مطابق یہ کفار کے قول اَجَعَلَ الْاٰ لِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا ] ص : 5[ کا جواب ہے۔
Ayah 37:55: رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے)
نحو : یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے یا مبتدأ محذوف ھو کی خبر ہے۔
مطالع الشمس :
وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ (اور جو ان کے مابین ہے اور پروردگار ہے طلوع کرنے کے مواقع کا) مشارق سے سورج کے مطالع مراد ہیں۔ اور وہ تین سو ساٹھ ہیں۔ اور اسی طرح مغارب بھی۔ ہر روز سورج ایک مطلع سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور ایک مغرب میں ڈوب جاتا ہے۔ دو دن ایک مطلع سے نہ طلوع کرتا اور نہ ہی دو دن ایک مغرب میں غروب ہوتا ہے۔
M: قرآن مجید میں رب المشرقین و رب المغربین فرمایا گیا۔
حل : وہ سردی و گرمی کے دو مشرق و مغرب مراد ہیں۔ اور جہاں رب المشرق والمغرب آیا تو وہاں مطلقاً جہت مراد ہے۔ پس مشرق ایک جہت اور مغرب دوسری جہت ہے۔ (فلا اشکال)
Ayah 37:66: اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآ ئَ الدُّنْیَا (بیشک ہم ہی نے رونق دی اس طرف والے آسمان کو) الدنیا سے مراد جو تم سے قریب تر ہے۔ یہ ادنیٰ کی مؤنث ہے۔ بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ (عجیب آرائش یعنی ستاروں کے ساتھ)
قراءت : حمزہ اور حفص نے زینۃ سے اس کو بدل قرار دیا۔ تقدیر عبارت یہ ہوئی۔ انا زینا السماء الدنیا بالکواکب بزینۃ الکواکب ہم نے آسمان دنیا کو کواکب سے یعنی آرائش کو اکب سے زینت دی۔ ابوبکر نے محل زینۃ سے بدل مان کر پڑھا یا اعنیکو مضمر مانا یا مصدر منون کو مفعول میں عامل قرار دیا بزینۃ الکواکب دیگر قراء نے مصدر کو فاعل کی طرف مضاف مانا۔ تقدیر کلام یہ بتائی بان زان تھا الکواکب اور اس کی اصل بزینۃ اڑلکواکب یا اضافت المفعول تسلیم کر کے اصل اس طرح نکالی بان زان اللّٰہ الکواکب و حسّنھا لانھا انما زینت السماء لحسنھا فی انفسھا اور اس کی اصل بزینۃ اڑلکواکب قراءت ابوبکر کی بناء پر۔
Ayah 37:77: وَحِفْظًا (اور حفاظت بھی کی ہے) اس کو معنی پر محمول کیا ہے۔ معنی یہ ہے۔ انا خلقنا الکواکب زینۃ للسماء وحفظا من الشیاطین (بیشک ہم نے ستاروں کو آسمان کیلئے زینت اور شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بنایا) جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ولقد زینّا السماء الدنیا بمصابیح وجعلنٰھا رجومًا للشیاطین ] الملک : 5[ یا نمبر 2۔ فعل معلل مقدر ہے گویا اس طرح کہا گیا وحفظا من کل شیطان زینا ھا بالکواکب اور ہر شیطان سے حفاظت کیلئے ہم نے اس کو ستاروں سے زینت دی ہے۔ یا اس کا معنی اس طرح لیں۔ حفظنا ھا حفظا (ہم نے اس کی حفاظت کی حفاظت کرنا۔ ) مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ (ہرشریر شیطان سے) مارد جو اطاعت سے نکلنے والا ہو۔
Ayah 37:88: لَا یَسَّمَّعُوْنَ (وہ شیاطین کان نہیں لگاسکتے)
فائدہ : اس میں ضمیر ہر شیطان کی طرف ہے اور کیونکہ وہ شیاطین کے معنی میں ہے۔
قراءت : ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء نے یسمّعون صرف میم کو مشددپڑھا ہے۔ اور اس کی اصل یتسمّعون ہے۔ التسمّع سماع کا پیچھا کرنا۔ کہا جاتا ہے تسمع فسمع۔ مناسب یہ ہے کہ کلام منقطع ابتدائی بنے۔ چوری سننے کیلئے کان لگانے والوں کی حالت کی پڑتال کرتے ہوئے اور اس بات کے پیش نظر کہ وہ ملائکہ کے کلام کو سننے یا زبردستی اس پر کان لگانے کی قدرت نہیں رکھتے۔
ایک قول یہ ہے اس کی اصل یہ ہے لئلا یسمعوا لام کو حذف کردیا جیسا کہ اس قول میں حذف کیا جئتک ان تکرمنی پس ألا یسمعوا باقی رہ گیا۔ پھر اَنْ کو حذف کردیا اور اس کے عمل کو ضائع کردیا۔ جیسا اس ارشاد میں ہے۔ الا اَیُّھا الزَّاجِری اَحْضُرُ الوغٰی۔
مگر اس قول میں ظلم و زیادتی ہے قرآن مجید کو اس قسم کی امثال سے محفوظ کرنا ضروری ہے۔ دونوں حذف انفرادی طور پر قابل رد نہیں۔ لیکن ان دونوں حذف کا اجتماع قابل انکار ہے۔ اور سمعت فلانا یتحدث اور سمعت الیہ یتحدث و سمعت حدیثہ اور سمعت الی حدیثہٖ میں فرق یہ ہے کہ متعدی بنفسہٖ ادراک کا فائدہ دیتا ہے۔ اور متعدی بالی اصغاء مع الادراک کے لئے مفید ہے۔ اِلَی الْمَلَأِ الْاَعْلٰی (عالم بالا کی طرف) یعنی عالم ملائکہ کیونکہ وہ آسمانوں کے ساکنین ہیں۔ اور جن و انس یہ ملاءؔ الاسفل ہیں۔ کیونکہ یہ سکان ارض ہیں۔ وَیُقْذَفُوْنَ (وہ دھکے دیئے جاتے ہیں مار کر) یعنی ان پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ (ہر طرف سے) آسمان کی تمام جوانب و اطراف سے جس طرف سے بھی بات چرانے کیلئے اوپر چڑھیں۔
Ayah 37:9دُنیا میں شہاب سے آخرت میں عذاب سے :
9: دُحُوْرًا : یہ مفعول لہ ہے۔ ای یقذفون للدحور (دھتکارنے کیلئے) ان پر شہاب پھینکے جاتے یا یہ حال ہے۔ اس حال میں کہ وہ دھکتارے ہوئے ہیں۔ یا یہ مفعول مطلق معناً مان لیں۔ کیونکہ قذف وطرد قریب المعنی ہیں۔ گویا اس طرح کہا گیا یدحرون دحورًا۔ یا یقذفون قذفا وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّ اصِبٌ (اور ان کے لئے دائمی عذاب ہوگا) واصبؔ دائم کے معنی میں ہے یہ وصوب سے بنا ہے کہ یہ دنیا میں شہابوں سے سنگ سار کیے جاتے ہیں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عذاب دائمی کی خاص قسم تیار کر رکھی ہے جو ان سے منقطع نہ ہوگی۔
Ayah 37:1010: اِلَّا مَنْ (مگر جو شیطان) منمحل رفع میں لایسمعون کی وائو سے بدل ہے مطلب یہ ہے لایسمع الشیاطین الا شیطان الذی (وہ شیاطین نہیں سن پاتے مگر وہ شیطان جو) خَطِفَ الْخَطْفَۃَ (کچھ خبر لے بھاگے) یعنی چھین لے کچھ چھیننا یعنی فرشتوں کی کلام میں سے جلدی سے کچھ لے لے۔ فَاَتْبَعَہٗ (اس کا پیچھا کرتا ہے) آملتا ہے۔ شِھَابٌ (ایک رجم والاستارہ) ثَاقِبٌ (روشن) ۔
Ayah 37:11مشکل کی ایجاد مشکل نہیں تو آسان تر کی کیسے مشکل ہو ؟
1 1: فَاسْتَفْتِھِمْ (پس ان سے آپ پوچھئے) کفار مکہ سے استفسار کرو۔ اَھُمْ اَشَدُّ خَلْقًا (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ مضبوط ہیں) خلقت میں مضبوط تر ہیں۔ عرب کا قول ہے شدیدالخلق و فی خلقہ شدۃ یا اصعب خلقا واشقہٗ اس معنی میں کہ اس میں ان کے انکار بعث کی تردید کی گئی ہے۔ اور وہ ذات جس کو اتنی بڑی مخلوقات بناناآسان ہے۔ اور ان کی ایجاد میں اسے کوئی مشکل پیش نہ آئی تو انسان کی پیدائش تو اس پر آسان تر ہے۔ اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا (یا ہماری پیدا کردہ یہ چیزیں) اس سے مراد مخلوقات میں سے جن کا تذکرہ ہوا مثلاً ملائکہ، آسمان و زمین اور جو ان کے مابین ہے۔
مَنْ کا لفظ عقلاء کو غیروں پر غلبہ دے کر ذکر کردیا۔ اور اس پر ان قراء کی قراءت دلالت کرتی ہے۔ جنہوں نے ام من عددنا تخفیف و تشدید کے ساتھ پڑھا۔ اِنَّا خَلَقْنٰھُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّا زِبٍ (ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے) لازب چپکنے کے معنی دیتا ہے یا لازم کرنا۔ اور یہاں اس کو اس طرح پڑھا گیا ہے۔ یہ ان قراء کے خلاف شہادت ہے کہ یہ ضعیف ہے کیونکہ جو چیز مٹی سے بنائی جاتی ہے۔ اس کی صفت صلابت و قوت سے نہیں لائی جاتی۔ یا یہ ان کے خلاف حجت ہے کہ طین لازب وہی مٹی ہے جس سے ان کو پیدا کیا گیا۔ پھر مٹی سے پیدا ہونے پر ان کو کیوں تعجب ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں ءاذا کنا ترابًا ] الرعد : 5[ اس معنی کی تائید اس کے بعد انکار بعث کے تذکرہ کا آنا بھی ہے۔
Ayah 37:1212: بَلْ عَجِبْتَ (بلکہ آپ تعجب کرتے ہیں) کہ یہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ وَیَسْخَرُوْنَ (اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں) آپ سے اور آپ کے اس تعجب کرنے سے یا آپ کو ان کے انکار بعث پر تعجب ہے۔ اور وہ معاملہ بعث کا تمسخر اڑاتے ہیں۔
قراءت : حمزہ، علی نے بل عجبتُ پڑھا ہے۔ میں نے اس کو بہت بڑاسمجھا ہے۔ العجبؔ جب کسی چیز کو بڑا سمجھا جائے گا۔ تو اس وقت جو گھبراہٹ پیش آتی ہے اللہ تعالیٰ کے حق میں خالص بڑا قرار دینے کے معنی میں لیا گیا ہے کیونکہ گھبراہٹ کا اطلاق اس پر نہیں کیا جاسکتا یا اس کا معنی یہ ہے۔ اے محمد ﷺ ! کہہ دیجئے بلکہ مجھے تعجب ہے۔
Ayah 37:1313: وَاِذَا ذُکِّرُوْا لَا یَذْکُرُوْنَ (اور جب ان کو سمجھایا جاتا ہے یہ سمجھتے نہیں) ان کی عادت یہ ہے کہ جب ان کو کسی چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 37:1414: وَاِذَا رَاَوْاٰیَۃً (اور جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں) آیت سے مراد معجزئہ انشقاق قمر وغیرہ۔ یَّسْتَسْخِرُوْنَ (تو اس کی وہ ہنسی اڑاتے ہیں) وہ ایک دوسرے کو تمسخر کیلئے بلاتے ہیں۔ یا تمسخر میں مبالغہ کرتے ہیں۔
Ayah 37:1515: وَقَالُوْا اِنْ ھٰذَآ (اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو) انؔ نافیہ ہے۔ ای ماھذا۔ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (صریح جادو ہے) مبین کا معنی ظاہر۔
Ayah 37:16کفار کا قیامت پر استبعاد :
16: ئَ اِذَامِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ (بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم زندہ کیے جائیں گے)
نحو : ئَ اذا یہ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 37:1717: اَوَ ٰابَآؤُنَا ( کیا ہمارے اگلے باپ دادا)
نحو : یہ ان اور اس کے اسم پر معطوف ہے۔ نمبر 2۔ مبعوثون کی ضمیر پر عطف ہے۔ معنی یہ ہے کیا ہمارے آباء بھی اٹھائے جائیں گے۔ زیادتی استبعاد کیلئے وہ مراد لیتے تھے کہ وہ قدیم ترین ہیں۔ پس ان کا اٹھایا جانا زیادہ بعید اور باطل ترین ہے۔
قراءت : أو آباؤنا۔ سکون وائو کے ساتھ مدنی، شامی نے پڑھا ہے۔ یعنی انکار میں مبالغہ کیلئے کہنے لگے کیا ہم میں سے ایک اٹھایا جائے گا۔ الْاَوَّلُوْنَ (اگلے) پہلے۔
Ayah 37:1818: قُلْ نَعَمْ (آپ کہہ دیجئے کہ ہاں) تم اٹھائے جائو گے۔
قراءت : علی نے نِعَمْ پڑھا اور یہ دونوں لغات ہیں۔ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ (اور تم ذلیل بھی ہوگے)
ان کو جواب دیا وہ ایک مددگار ہے :
Ayah 37:1919: فَاِنَّمَا یہ شرط مقدر کا جواب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے اذا کان کذلک فما ھِیَ (پس وہ تو بس) زَجْرَۃٌ وَّ احِدَۃٌ (ایک للکار ہوگی) ھی یہ شئی کی طرف نہیں لوٹتی بلکہ یہ مبہم ہے۔ اس کو اس کی خبر واضح کرنے والی ہے۔ اور یہ بھی درست ہے انما البعثۃ زجرۃ واحدۃ۔ (بیشک بعثت تو ایک ڈانٹ ہے) ۔ اور وہ نفخہ ثانیہ ہے۔ الزجرۃؔ چیخ۔ جیسا کہتے ہیں۔ زجر الراعی الابل او الغنم۔ جبکہ وہ ان کو آواز دے کر بلائے۔ فَاِذَا ھُمْ (پس اسی وقت وہ) زندہ دیکھنے والے ہونگے۔ یَنْظُرُوْنَ (وہ دیکھنے والے ہونگے) اپنے برے اعمال کو یا وہ اترنے والے عذاب کے منتظر ہونگے۔
Ayah 37:2020: وَقَالُوْا یٰوَ یْلَنَا (اور وہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی) الویلؔ۔ یہ ایسا کلمہ ہے جس کو کہنے والا بوقت ہلاکت کہتا ہے۔ ھٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ (یہ تو وہی روز جزاء ہے) یعنی وہی دن ہے جس میں ہمیں بدلہ دیا جائے گا۔ یعنی ہمارے اعمال کی جزاء دی جائے گی۔
Ayah 37:2121: ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ (یہ فیصلہ کا دن ہے) قضاء کا دن۔ اور گمراہی و ہدایت کے درمیان فرق کا دن ہے۔ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ (جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے)
تین قول :
نمبر 1۔ پھر اس میں احتمال ہے کہ ھذا یوم الدین سے احشروا تک کفار کا کلام ہو۔ جو ایک دوسرے کو وہ کریں گے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ملائکہ کی گفتگو ہو جو ان سے کریں گے۔ نمبر 3۔ اور یا ویلنا ھذا یوم الدین یہ کفار کا کلام ہو اور ھذا یوم الفصل یہ ملائکہ کا کلام ہو جو ان کے جواب میں کہا گیا ہو۔
Ayahs 37:22–23حشر اور سوالات :
22، 23: اُحْشُرُوا (جمع کرلو) یہ ملائکہ کو خطاب ہے۔ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (ظالموں کو) ظالم سے کافر مراد ہیں۔ وَاَزْوَاجَھُمْ (اور ان کے ہم مشربوں کو) ان کے مماثل لوگوں کو۔ نمبر 2۔ شیاطین ساتھیوں کو نمبر 3۔ ان کی کافرہ عورتوں کو۔
: یہاں وائو بمعنی مع ہے۔ اور بعض نے کہا عطف کیلئے ہے۔ اور ظلموا ؔ کی ضمیر پر عطف کرتے ہوئے اس کو رفع سے پڑھا گیا۔ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے تھے) یعنی بت فَاھْدُوْھُمْ (پھر ان کو بتلا دو ) ۔ راہنمائی کردو۔
قول اصمعی (رح) کہتے ہیں ہدیتہ فی الدین ھدًی۔ اور اگر ھدیتہ فی الطریق کہیں تو ھدایۃ لائیں گے۔ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ (دوزخ کے راستہ کی طرف) آگ کی راہ۔
Ayah 37:2424: وَقِفُوْھُمْ ( اور ان کو ٹھہرائو) ان کو روک لو۔ اِنَّھُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ (ان سے پوچھا جائے گا) ان کے اقوال وافعال کے متعلق۔
Ayah 37:2525: مَا لَکُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ (اب تم کو کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی ایک دوسرے کی معاونت نہیں کرتے۔ یہ درحقیقت تناصر سے عاجزی پر توبیخ ہے۔ اس کے بعد کہ وہ دنیا میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ یہ ابو جہل کا جواب ہے۔ جو اس نے بدر کے دن کہا۔ نحن جمیعٌ منتصر ] القمر : 44[ حال کی وجہ سے موضع نصب میں واقع ہے۔ ای مالکم غیر متناصرین۔ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اس حال میں ہو کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے۔
Ayah 37:2626: بَلْ ھُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ (بلکہ وہ آج فرما نبرداری کا اظہار کرنے والے ہونگے) مطیع ہونگے نمبر 2۔ ایک دوسرے کی اطاعت کرنے والے ہونگے۔ اور عاجزی کی وجہ سے اطاعت کریں گے۔ پس ہر ایک مددگار نہ ہوگا بلکہ مطیع ہوگا۔
Ayah 37:2727: وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ (وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہونگے) تابع متبوع کی طرفیَّتَسَآ ئَ لُوْنَ (وہ سوال جواب کریں گے) باہمی جھگڑیں گے۔
Ayah 37:2828: قَالُوْا (وہ کہیں گے) پیروکار اپنے سرداروں کو اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاْ تُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ (تم ہم پر بڑے زور سے آتے تھے) یعنی قوت اور غلبہ کے ساتھ۔ کیونکہ دایاں ہاتھ قوت سے موصوف کیا جاتا ہے اور اسی سے پکڑا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے تم ہمیں گمراہی پر آمادہ کرتے اور زبردستی مجبور کرتے تھے۔
Ayah 37:29سرداروں کا جواب :
29: قَالُوْا (وہ کہیں گے) سردار بَلْ لَّمْ تَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ (بلکہ تم خود ایمان نہیں لائے تھے) یعنی تم نے خود ایمان سے انکار کیا۔ اور قدرت کے باوجود اس سے اعراض کیا۔ کفر کو اختیار کیا جو پسند کرکے نہ کہ مجبوری سے۔
Ayah 37:3030: وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ (اور ہمیں تم پر کوئی زور نہ تھا) ایسا تسلط نہ تھا کہ جس سے ہم تم سے اختیار چھین لیتے اور اختیارتم سے لے لیتے۔ بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ (بلکہ تم خود ہی سرکشی کیا کرتے تھے) ۔ تو اپنے اختیار سے سرکشی کرنے والے تھے۔
Ayah 37:3131: فَحَقَّ عَلَیْنَا (پس ہم سب ہی پر ثابت ہوچکی) ہم سب پر لازم ہوگئی۔ قَوْلُ رَبِّنَآ اِنَّا لَذَآ ئِقُوْنَ (ہمارے رب کی بات کہ ہم سب نے مزا چکھنا ہے) یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعید ہے کہ ہم لامحالہ اس کے عذاب کو چکھنے والے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمارے حال سے واقف ہے اور اگر وعید کی اس طرح حکایت کی جاتی جیسا کہ وہ ہوتی ہے تو پھر اس طرح کہا جاتا انکم لذائقون، مگر اس انداز کو چھوڑ کر متکلم کے لفظ کی طرف عدول کیا گیا کیونکہ وہ اپنے نفوس کی طرف سے یہ بات کرنے والے ہونگے۔ اس کی مثال محاورئہ عرب میں اس طرح ہے۔ فقدزعمت ھوازنُ قَلَّ مالی۔ اگر اس کے قول کی حکایت کرتا تو شاعر اس طرح کہتا۔ قل مالک۔
Ayah 37:3232: فَاَغْوَیْنٰـکُمْ (تو ہم نے تم کو بہکایا) تمہیں گمراہی کی طرف دعوت دی۔ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ (ہم خود بھی گمراہ تھے) پس ہم نے تمہارے گمراہ کرنے کا ارادہ کیا تاکہ ہمارے جیسے ہوجائو۔
Ayah 37:33دونوں کو یکساں عذاب :
33: فَاِنَّھُمْ (تو وہ سب کے سب) پیروکار اور سردار تمام۔ یَوْ مَپذٍ (اس دن) قیامت کے دن فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ (عذاب میں شریک رہیں گے) جیسا کہ گمراہی میں شریک مشترک تھے۔
Ayah 37:3434: اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ (ہم ایسے مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں) مجرمین سے مشرکین مراد ہیں۔ اِنَّا (بلاشبہ) اس جیسا فعل ہم ہر مجرم سے کرتے ہیں۔
Ayah 37:3535: اِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ (وہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو تکبر کیا کرتے تھے) بلاشبہ یہ کلمہ توحید سن کر تکبر کرتے اور شرک کے علاوہ ہر چیز کا انکار کرتے تھے۔
Ayah 37:3636: وَیَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا (اور وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم)
قراءت : أئناکو دو ہمزہ کے ساتھ شامی و کوفی نے پڑھا۔
لَتَارِکُوْا ٰالِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ (اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانہ کیلئے چھوڑ دینگے) شاعر مجنون کہہ کر مراد حضرت محمد ﷺ لیتے تھے۔
Ayah 37:3737: بَلْ جَآ ئَ بِالْحَقِّ (بلکہ وہ ان کے پاس ایک سچا دین لائے) اس میں مشرکین کی تردید ہے۔ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ (اور دوسرے پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں) جیسا کہ فرمایا مصدقا لما بین یدیہ ] آل عمران : 3[
Ayahs 37:38–3938، 39: اِنَّکُمْ لَذَآ ئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ ۔ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تم سب کو دردناک عذاب چکھنا پڑے گا۔ اور تم کو اسی کا بدلہ ملے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے) بغیر کسی اضافے کے۔
Ayah 37:4040: اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (ہاں مگر جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے ہیں) یعنی لیکن اللہ کے بندے۔
نحو : گویا الا بمعنی لکن استثناء منقطع ہے۔
قراءت : کوفی اور مدنی نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔