Ayahs 37:161–162161، 162: فَاِنَّکُمْ (پس تم) اہل مکہ وَمَا تَعْبُدُوْنَ (اور جن کی تم عبادت کرتے ہو) اور تمہارے معبود مَآ اَنْتُمْ (نہیں ہو تم) اور وہ سب ملک کر عَلَیْہِ (اللہ تعالیٰ سے) بِفَا تِنِیْنَ (پھیر سکتے) فاتنین۔ گمراہ کرنے والے۔
Ayah 37:163163: اِلَّا مَنْ ھُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ (مگر اسی کو جو جہنم رسید ہونے والا ہے) ۔ صالؔ یہ لام مک سورة کے ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم کسی کو گمراہی پر نہیں ڈال سکتے۔ مگر وہ لوگ ہی گمراہی کا شکار ہونگے جن کے متعلق علم الٰہی میں بد اعمالیوں سے جہنمی ہونا لکھا جاچکا۔ عرب کہتے ہیں۔ فتن فلان علی فلان امراتہ جیسا تم کہو افسدھا علیہ۔ اس نے اس عورت کو اس کے متعلق بگاڑ کر رکھ دیا۔ قول حسن (رح) : تم جو کہ ایسی بات کہنے والے ہو اور جن بتوں کو تم پوجتے ہو تم بتوں کی عبادت پر کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ہو مگر جس کے متعلق یہ طے ہوچکا ہو کہ اس نے جہنم ہی میں داخل ہونا ہے۔ ایک قول یہ ہے تم گمراہ نہیں کرسکتے مگر اس کو جس کے بارے میں پہلے گمراہی لازم ہوچکی۔
نحو : ماؔ نافیہ ہے۔ اور منؔ موضع نصب میں فاتنین کی وجہ سے منصوب ہے۔
قراءت : حسن نے صال الجحیم پڑھا اور وجہ یہ بتلائی کہ صیغہ جمع تھا نون کو بوجہ اضافت حذف کردیا۔ اور وائو کا حذف التقائے ساکنین کی وجہ سے ہوگیا اور وہ ساکنین وائو اور لام ہیں۔ منؔ یہ لفظ کے لحاظ سے واحد ہے۔ مگر معنًی جمع ہے۔ ھوؔ لفظ کا لحاظ کر کے لایا گیا اور الصالونؔ معنی کی وجہ سے لائے۔
Ayah 37:164164: وَمَا مِنَّآ (اور نہیں ہے ہم میں سے کوئی ایک) ہر ایک ہم میں سے اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ (مگر کہ اس کا درجہ معین ہے) عبادت میں وہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتا۔
نحو : یہ موصوف کو حذف کر کے صفت کو اس کے قائم مقام لائے۔
Ayah 37:165165: وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآ فُّوْنَ (اور ہم صف بستہ کھڑے ہیں) ہم اپنے اقدام کی نماز میں صف بندی کرتے ہیں یا ہم عرش الٰہی کے گرد مؤمنوں کے لئے دعا کرنے کی خاطر صف بندی کرنے والے ہیں۔
Ayah 37:166166: وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ (اور ہم پاکی بیان کرنے میں لگے ہوئے ہیں) المسبحون کا معنی اس کو عیبوں سے پاک قرار دینے والے ہیں یا نماز ادا کرنے والے ہیں۔
صحیح بات یہ ہے :
یہ آیت اور اس کا ماقبل سبحان اللّٰہ عما یصفون یہ ملائکہ کا کلام ہو تاکہ یہ ولقد علمت الجنۃ میں ملائکہ کے تذکرہ سے متصل ہوجائے۔ گویا تقدیر کلام اس طرح ہے ولقد علم الملائکۃ وشہدوا ان المشرکین مفترون علیہم فی مناسبۃ رب العزۃ وقالوا سبحان اللّٰہ فنزھوہ عن ذلک واستثنوا عباد اللہ المخلصین وبرؤوھم منہ وقالوا للکفرۃ والھتکم لا تقدرون ان تفتنوا علی اللّٰہ احدًامن خلقہ و تضلوہ الامن کان من اہل النار و کیف نکون مناسبین لرب العزۃ ومانحن الا عبید اذلاء بین یدیہ لکل منامقام معلوم من الطاعۃ لا یستطیع ان یزل عنہ ظفرا خشوعا لعظمتہ و نحن الصافون اقدامنا لعبادتہ مسبحین ممجدین کما یجب علی العباد لربھم ملائکہ نے جان لیا اور گواہی دی کہ مشرکین ان کو رب العزت کے ساتھ جوڑنے میں مفتری ہیں اور انہوں نے سبحان اللہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کو عیبوں سے منزہ قرار دیا اور مخلص بندوں کو اسی بات سے مستثنیٰ اور بریٔ الذمہ قرار دیا۔ اور کافروں کو کہنے لگے کہ تم اللہ کے متعلق اس کی مخلوق میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ہو مگر اسی کو جو سیدھا جہنم کا ایندھن بننے والا ہو۔ ہم رب تعالیٰ کے ساتھ رشتہ داری سے کیسے متعلق ہوسکتے ہیں۔ جبکہ ہم اللہ تعالیٰ کے عاجز ترین بندے ہیں۔ اور اطاعت میں ہم میں سے ہر ایک کا مرتبہ متعین ہے اس کی عظمت کی وجہ سے اس مرتبہ سے ادھر ادھر سرک نہیں سکتے۔ بلکہ ہم اس کی عبادت کیلئے اپنے قدموں کو قطار میں سیدھے کرنے والے ہیں۔ اور اسی کی تسبیح و تمجید کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ بندوں پر ان کے رب کی طرف سے لازم ہے۔
ایک قول یہ ہے :
یہ قول رسول اللہ ﷺ قرار دیا جائے مطلب یہ ہوگا کہ ہر مسلمان کا قیامت کے روز ایک متعین مرتبہ ہوگا۔ جو اس کے عمل کی مقدار سے ملے گا۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا : عسٰی ان یبعثک ربک مقاما محمودًا ] الاسراء : 79[ پھر ان کے اعمال کا ذکر کیا کہ وہ نماز میں صف بستہ ہیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والے اور اس کو عیب والی باتوں سے منزہ اور پاک قرار دینے والے ہیں۔
Ayah 37:167167: وَاِنْ کَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَ (اور یہ لوگ کہا کرتے تھے) مشرکین قریش آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے۔
Ayah 37:168168: لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ (اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت پہلے لوگوں کی آتی (کتابوں کے طور پر آتی) یعنی کوئی کتاب ان کتابوں میں سے جو پہلے لوگوں کے پاس آئیں جیسے تورات وانجیل۔
Ayah 37:169169: لَکُنَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (تو ہم اس کے خاص بندے ہوتے) ہم اللہ تعالیٰ کی مخلصانہ عبادت کرتے اور جیسے انہوں نے تکذیب کی اس طرح ہم تکذیب نہ کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کی اس طرح مخالفت نہ کرتے جس طرح انہوں نے مخالفت کی۔ مگر اب ان کے پاس تمام ذکروں کا سردار آیا اور کتابوں میں معجز کتاب دی۔ یہ اس کی تکذیب پر اتر آئے۔
Ayah 37:170170: فَکَفَرُوْا بِہٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (پھر یہ لوگ اس کا انکار کرنے لگے پس ان کو معلوم ہوا جاتا ہے) اپنی تکذیب کا انجام کیا ہونے والا ہے اور کیا انتقام ان سے لیا جائے گا۔
آیت 167 میں اِنْ مخففہ من المثقلہ ہے اور لام اس کو ظاہر کر رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی بات کو انتہائی تاکید اور شدو مد سے کہا کرتے تھے ان کی پہلی اور پچھلی بات میں کتنا بڑا فرق ہے۔
Ayah 37:171171: وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ (ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبروں کیلئے ہمارا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہوچکا ہے) کلمہ سے مراد یہ ارشاد ہے۔
Ayah 37:172172: اِنَّھُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ (کہ بیشک وہی غالب کیے جائیں گے)
Ayah 37:173ایمان والوں کو بالآخر دنیا میں اور آخرت میں یقینی غلبہ ملے گا :
173: وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ (اور ہمارا ہی لشکر غالب رہتا ہے) اس کو کلمہؔ کہا حالانکہ یہ تو کلمات ہیں۔ کیونکہ جب ایک معنی میں پروئے ہوئے ہیں تو یہ کلمہ مفردہ ہی کے حکم میں ہے۔ اور مراد یہ ہے کہ ان کو ان کے دشمنوں پر غلبہ دیا جائے گا۔ جہاں دشمن سے جھگڑا اور لڑائی پیش آئے۔ یہ تو دنیا میں غلبہ کا وعدہ ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی غلبہ کا وعدہ ہے۔
قولِ حسن (رح) :
کوئی پیغمبر لڑائی میں مغلوب نہیں ہوا۔
قول ابن عباس ؓ :
اگر ان کی مدد اور غلبہ دنیا میں نہ ہوا تو آخرت میں ضرور ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ ان کے معاملے میں بنیادی قانون یہی ہے۔ اور عمومی طور پر ان کو کامیابی اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔ اور اگر ان بار بار کی فتوح میں تھوڑا سا ابتلاء و مشقت کہیں پیش آجائے تو اس کا اعتبار نہیں کیونکہ اعتبار غالب حالت کا ہے۔
Ayah 37:174174: فَتَوَلَّ عَنْہُمْ (پس انکاخیال نہ کیجئے) ان سے اعراض کریں۔ حَتّٰی حِیْنٍ (تھوڑے زمانہ تک) معمولی مدت تک اور وہ ان کی مہلت کا زمانہ ہے۔ یا بدر کے دن تک یا فتح مکہ تک۔
Ayah 37:175175: وَّ اَبْصِرْھُمْ (اور ان کو دیکھتے رہو) یعنی دیکھو جو ان کو اس دن پہنچے گا۔ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ (پس عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے) اس کو۔ یہ سوف وعید کے لئے ہے تبعید کیلئے نہیں یا ان کی طرف دیکھیں جب ان کو عذاب دیا جائے گا۔ پس وہ دیکھ لیں گے جس کو وہ اوپر اقرار دیتے ہیں۔ یا ان کو بتلایا کہ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 37:176176: اَفَبِعَذَ ابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ (کیا وہ ہمارے عذاب کا تقاضا کر رہے ہیں) اس کا وقت آنے سے پہلے۔
Ayah 37:177177: فَاِذَا نَزَلَ بِسَا حَتِہِمْ (پس وہ ان کے رودر رو نازل ہوگا) ساحتھمؔ ان کے صحن میں۔ فَسَآ ئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ (وہ دن ان لوگوں کا جن کو ڈرایا جاچکا تھا بہت ہی برا ہوگا) ان کی صبح۔ المنذرینؔ میں لام مبہم ہے اس چیز کے سلسلہ میں جس سے ان کو ڈرایا گیا کیونکہ ساء اور بئس اس کو پورا کر رہے ہیں۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کا مکہ میں اترنا ہے اور یہ ان پر اترنے والے عذاب ہی کی طرح ہے۔ اس لئے کہ ان کو ڈرایا گیا مگر انہوں نے انکار کیا۔ ایک ایسے لشکر کے ساتھ جس کے اچانک حملہ سے قوم کو بعض ناصحین نے ڈرایا مگر قوم کے لوگوں نے ان کے انذار کی طرف توجہ نہ دی۔ یہاں تک کہ وہ لشکر ان کے صحنوں میں اترپڑا اور ان پر حملہ آور ہوگیا۔ ان کے لوٹ ڈالنے والوں کی عادت صبح کے وقت حملہ کی ہوا کرتی تھی۔ پس وہ لوٹ کو صباح ہی کہتے تھے۔ خواہ وہ آخری وقت میں کیوں نہ ہو۔
Ayah 37:178178: وَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ (اور آپ تھوڑے زمانہ تک ان کا خیال نہ کیجئے)
Ayah 37:179179: وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ (اور دیکھتے رہیے پس عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے) ۔ یہ دوبارہ لائے تاکہ تسلی در تسلی ہو اور میعاد پر واقع ہونے کی تاکید پہ تاکید ہوجائے اور اس میں ایک فائدہ اور ہے دونوں فعلوں کو مفعول سے مقید نہیں کیا۔ (نمبر 1۔ یبصر، نمبر 2، یبصرون) کہ وہ مسرت و غم کی لاتعداد انواع کو دیکھے گا اور وہ بھی دیکھیں گے۔ گویا کثرت انواع کی طرف اشارہ کیلئے مفعول سے فعلوں کو آزاد چھوڑا گیا۔ ایک قول یہ ہے ایک سے دنیا کا عذاب مراد ہے۔ اور دوسرے سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔
Ayah 37:180تمام عزتیں اسی ہی کے ساتھ خاص ہیں :
180: سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ (آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے) ۔ عزت کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی کیونکہ تمام عزتیں اسی ہی کے ساتھ خاص ہیں۔ گویا اس طرح فرمایا ذوالعزۃ۔ (وہ عزت والا ہے) جیسا کہتے ہیں صاحب صدق۔ سچائی کے ساتھ مخصوص ہونے کی وجہ سے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس طرح کہا جائے کسی کو جو عزت حاصل ہے۔ وہی اس کا مالک و رب ہے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ و تعزمن تشاء ] آل عمران : 26[ عَمَّا یَصِفُوْنَ (پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں) یعنی بیٹا ‘ بیوی ‘ شریک وغیرہ۔
Ayah 37:181181: وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ (اور سلام ہو پیغمبروں پر) سلام میں تمام رسل کو شامل فرمایا اگرچہ خاص طور پر بعض انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق سورت میں آچکا۔ کیونکہ ہر ایک کا تذکرہ سلام کے ساتھ کرنے میں تطویل تھی۔ اسی لئے بطور اختصار تمام کو شامل کردیا گیا۔
Ayah 37:182182: وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (اور تمام ترخوبیاں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں جو تمام عالم کا پروردگار ہے) وہ دشمنوں کی ہلاکت اور نصرت انبیاء (علیہم السلام) کی قدرت رکھتا ہے۔