37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمدارک التنزیل

Ayahs 37:41–42

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

(یعنی) میوے اور ان کا اعزاز کیا جائے گا

تمام رزق فواکہ ہوگا : 41، 42: اُو لٰٓپکَ لَھُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ۔ فَوَاکِہُ (ان کے واسطے ایسی غذائیں ہیں جن کا حال معلوم ہے یعنی میوے) رزق معلوم کی تفسیر فواکہ سے کی گئی ہے فاکھہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو بطور لذت استعمال کی جائے نہ کہ حفاظت صحت کے لئے بطور خوراک کھائی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا تمام رزق وہ فواکہ ہی ہوگا۔ کیونکہ خوراک کے ساتھ حفاظت صحت کی ان کو ضرورت نہ ہوگی اس وجہ سے کہ ان کے جسم مضبوط ہمیشگی کے لیے پیدا کئے گئے ہونگے۔ پس جو کچھ بھی وہ کھائیں گے وہ لذت کے لیے ہی ہوگا۔ اور یہ بھی درست ہے کہ رزق معلوم سے مراد بعض خصوصیتوں کا حامل رزق ان کو دیا جائے۔ مثلاً ذائقے اور خوشبو کی عمدگی اور لذت اور حسن منظر وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے : کہ ان کا وقت معلوم ہوگا۔ جیسا اس ارشاد میں ہے ولھم رزقھم فیھابکرۃ وعشِیًّا ] مریم : 62[ اور نفس کو اسی میں زیادہ سکون ملتا ہے۔ وَھُمْ مُّکْرَمُوْنَ (اور وہ لوگ بڑی عزت سے ہونگے) یعنی ان کی عزت کی جائیگی۔
Ayah 37:43

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

43: فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (آرام کے باغوں میں) جائز ہے کہ یہ ظرف بنے اور یہ بھی درست ہے کہ حال ہو اور یہ بھی احتمال ہے۔ کہ یہ دوسری خبر ہو اور اسی طرح عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ بھی۔
Ayah 37:44

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر (بیٹھے ہوں گے)

44: عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ (تختوں کے اوپر آمنے سامنے بیٹھے ہونگے) تقابل زیادہ مانوس کرنے والا اور خوشی کی تکمیل کرنے والا ہے
Ayah 37:45

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

شراب لطیف کے جام کا ان میں دور چل رہا ہوگا

45: یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِکَاْسٍ (اور ان کے پاس جام شراب لایا جائے گا۔ ) قراءت : کاس بغیر ہمزہ کے ابو عمرو ‘ ابوجعفر اور سو سی نے پڑھا ہے۔ اور حمزہ نے وقف کی حالت میں اس طرح پڑھا اور دیگرقراء نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے کاس شیشے کا گلاس اور شراب کو بھی کاس کہا جاتا ہے۔ بقول اخفش کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں کاس کا لفظ شراب ہی کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی بھی یہ تفسیر ہے۔ مِّنْ مَّعِیْنٍ (بہتی ہوئی شراب سے) یعنی ایسی شراب سے جو بہنے والی ہوگی یا ایسی نہر سے جو سطح زمین پر ظاہر میں آنکھوں کے سامنے جاری ہونے والی ہو۔ اس میں شراب کی وہی صفت ذکر کی گئی جو پانی کی بیان کی جاتی ہے کیونکہ وہ جنت میں نہروں کے اندر پانی کی طرح بہنے والی ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وانھٰر من خمر ] محمد : 15[
Ayah 37:46

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی

46: بَیْضَآ ئَ (سفید) یہ جام کی صفت ہے لَذَّۃٍ (لذت) لذت سے اس کی تعریف کی گئی گویا وہ بعینہٖ لذت ہے یا ذات لذت لِّلشّٰرِبِیْنَ (پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی)
Ayah 37:47

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس سے دردسر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے

شرابِ جنت فتورِ عقل سے خالی : 47: لَا فِیْھَا غَوْلٌ (نہ اس میں دردسر ہوگا) یعنی دنیا کی شراب کی طرح اس سے عقل میں فتور نہ آئے گا۔ غول کا لفظ ہلاک کرنے اور بگاڑنے کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ وَّ لَا ھُمْ عَنْھَا یُنْزَفُوْنَ (نہ اس سے ان کو نشہ چڑھے گا) یہ نزف الشارب سے لیا گیا ہے جبکہ اس کی عقل چلی جائے۔ نشے والے کو نزیف اور منزوف یعنی مسلوب العقل کہا جاتا ہے۔ قراءت : ینزفون علی اور حمزہ نے اسی طرح پڑھا ہے۔ یعنی ان کو نشہ نہیں چڑھے گا۔ یا ان کی شراب نشہ نہیں لائے گی اس صورت میں یہ انزف الشارب سے لیا گیا ہے۔ جبکہ اس کی عقل چلی جائے یا اس کی شراب چلی جائے۔
Ayah 37:48

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی

48: وَ عِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہونگی) یعنی ان کی نگاہیں اپنے خاوندوں پر اکتفاء کرنے والی ہو نگی غیر کی طرف نگاہ نہ اٹھائیں گی۔ عِیْنٌ (بڑی بڑی آنکھ والی) یہ عیناء کی جمع ہے یعنی وسیع آنکھ والی۔
Ayah 37:49

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

49: کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ (گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپے ہوئے) یہاں مکنون بمعنی محفوظ ہے ان کو شتر مرغ کے انڈے سے تشبیہ دی گئی جو چٹان میں چھپا ہوا ہو اور اہل عرب عورتوں کو اسی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اور عورتوں کو بیضات الخدور کہتے ہیں۔
Ayah 37:50

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے

اہل جہنم سے اہل جنت کی گفتگو : 50: فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآ ئَ لُوْنَ (پس وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے) ۔ بعض سے مراد یہاں اہل جنت ہیں اور اس کا عطف یطاف علیہم پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شراب پئیں گے اور پینے والوں کی عادت کے مطابق باہمی گفتگو کریں گے۔ شاعر کا قول ہے۔ وَمَابَقِیَتْ مِنَ اللَذَّاتِ اِلاَّ ٭ اَحَادِیْثُ الْکَرامِ عَلی الْمُدَامِ ۔ صرف یہی لذت باقی رہ گئی کہ محفل شراب میں شرفاء سے باتیں چلتی ہیں۔ اہل جنت ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر دنیا میں ان کے حق یا خلاف جو باتیں پیش آئیں ان کا تذکرہ کریں گے۔ مگر یہاں ماضی کے صیغہ سے ذکر کیا گیا جیسا کہ قرآنی اخبار کا انداز ہے۔
Ayahs 37:51–52

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ میرا ایک ہم نشین تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

(جو) کہتا تھا کہ بھلا ہم بھی ایسی باتوں کے باور کرنے والوں میں ہو

51، 52: قَالَ قَآپلٌ مِّنْہُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ (ان میں ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ملاقاتی تھا) یَّقُوْلُ اَئِنَّکَ (وہ کہا کرتا تھا کیا تو ) قراءت : شامی، کوفی نے دو ہمزہ سے پڑھا ہے۔ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ (تصدیق کرنے والوں میں سے ہے) قیامت کے دن کی۔
Ayah 37:53

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا ؟

53: ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا (کیا جب ہم مرجائیں گے ہم مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا) لَمَدِیْنُوْنََ (ہم جزاء دیئے جائیں گے) مدینون کا معنی بدلہ دیے جائیں گے۔ یہ لفظ دینؔ سے بناء ہے۔ وہ جزاء کو کہتے ہیں۔
Ayah 37:54

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

(پھر) کہے گا کہ بھلا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو

54: قَالَ (وہ کہے گا) وہ کہنے والا ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ (کیا تم جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو) آگ کی جانب تاکہ میں تمہیں تمہارا وہ ملاقاتی دکھلائوں۔ ایک قول یہ ہے : جنت میں ایک روشن دان ہے۔ جس سے اہل جنت اہل نار کو دیکھیں گے۔ یا اللہ تعالیٰ اہل جنت کو فرمائیں گے۔ کیا تم آگ کو جھانکنا چاہتے ہو تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تمہارا مکان اہل نار سے کتنا دور ہے۔
Ayah 37:55

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

(اتنے میں) وہ (خود) جھانکے گا اور اس کو وسط دوزخ میں دیکھے گا

55: فَاطَّلَعَ (پس وہ شخص جھانکے گا) وہ مسلمان فَرَاٰہُ (پس وہ اس کو دیکھ لے گا) اپنے ملاقاتی و ساتھی کو فِیْ سَوَآ ئِ الْجَحِیْمِ (جہنم کے وسط میں) درمیان جہنم میں۔
Ayah 37:56

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

کہے گا کہ خدا کی قسم ! تو تو مجھے ہلاک ہی کرچکا تھا

56: قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ (کہے گا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ! تو تو مجھے تباہ کرنے کا تھا) اِنْ یہ مخففہ من المثقلہ ہے۔ یہ کاد پر داخل ہے۔ جیسا کان پر داخل ہوتا ہے۔ لامؔ کا جواب میں آنایہ اِنْ نافیہ اور اس میں فرق ڈالنے والا ہے۔ الارداءؔ : ہلاک کرنا) ۔ نحو : یعقوب نے دونوں حالتوں میں یاء ؔ سے پڑھا۔
Ayah 37:57

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں

57: وَلَوْلَا نِعْمَۃُ رَبِّیْ (اگر میرے رب کا فضل نہ ہوتا) اس سے مراد عصمت اور توفیق الٰہی ہے جس کی بناء پر اسلام کی رسی کو تھامے رکھا۔ لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ (تو میں بھی پکڑے ہوئے لوگوں میں سے ہوتا) ان لوگوں میں سے ہوتا جن کو عذاب پر حاضر کیا جائے گا۔ جیسا کہ تجھے اور تجھ جیسے اور لوگوں کو حاضر کیا گیا۔
Ayahs 37:58–59

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

ہاں ! (جو) پہلی بار مرنا (تھا سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہونے کا

جنتی کا حال : 58، 59: اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی (کیا ہم سوائے پہلی مرتبہ مرنے کے اب نہیں مریں گے) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ (اور نہ ہم کو عذاب ہوگا) ۔ فاء عاطفہ ہے۔ اور عطف محذوف پر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ أنحن مخلدون منعّمون فما نحن بمیتین ولا معذبین۔ (کیا ہم ہمیشہ نعمتوں میں رہیں گے ہم نہ مریں گے اور نہ عذاب دیے جائیں گے) ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایمان والوں کا حال ہے وہ یہ کہ پہلی موت صرف ان پر آئے گی۔ مگر کفار کی حالت اس سے مختلف ہوگی اس لئے کہ وہ تو ہر گھڑی میں موت کے متمنی ہونگے۔ قولِ حکیم : موت سے زیادہ بری کیا چیز ہے ؟ اس نے کہا وہ چیز جس میں موت کی تمنا کی جائے۔ یہ بات مومن تو حدیث نعمت کے طور پر کرے گا۔ جبکہ اس کا ساتھی سن رہا ہوگا۔ اس کی غرض اس کو توبیخ کرنا ہوگا۔ اور تاکہ اس کے دکھ میں اضافہ ہو۔ موتتنا یہ مصدر کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور استثناء متصل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے لان موت الامرۃ یا مستثنیٰ منقطع ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے لکن الموتۃ الاولٰی قد کانت فی الدنیا۔ (لیکن پہلی موت دنیا میں تھی) ۔ پھر اپنے اس ساتھی کو خبر دار کرنے کیلئے کہے گا۔
Ayah 37:60

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک یہ بڑی کامیابی ہے

60: اِنَّ ھٰذَا (بیشک یہ) وہ معاملہ جس میں ہم ہیں) ۔ لَھُوَالْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (البتہ بڑی کامیابی ہے) پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا۔
Ayah 37:61

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں

61: لِمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ (ایسی ہی کامیابی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے) ایک قول : یہ ہے یہ اسی مومن کا کلام ہے۔
Ayah 37:62

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا درخت ؟

62: اَذٰلِکَ خَیْرٌ نُّزُلًا (بھلا یہ دعوت و مہربانی بہتر ہے) نزلاًؔ یہ تمیز ہے یعنی جنت کی نعمتیں اور جو اس میں مشروبات و مطعومات کی لذات وافرہ ہیں یہ بہترین مہربانی ہے۔ اہل نار کی خوراک اور اس کی تفصیل : اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُوْمِ (یا زقوم کا درخت) وہ بہتر مہربانی ہے ؟ النزلؔ مہمان کیلئے جو مکان پر رزق وغیرہ پیش کیا جائے۔ الزقومؔ تہا مہ میں پیدا ہونے والا ایک کڑوا درخت (تھور)
Ayah 37:63

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس کو ظالموں کے لئے عذاب بنا رکھا ہے

63: اِنَّا جَعَلْنٰھَا فِتْنَۃً لِّلظّٰلِمِیْنَ (ہم نے اس درخت کو ظالموں کیلئے موجب امتحان بنایا ہے) آخرت میں ان کے لئے مشقت و عذاب کا باعث ہوگا۔ نمبر 2۔ دنیا میں ابتلاء کا باعث اور وہ اس طرح کہ انہوں نے کہا کہ آگ میں درخت کیسے ممکن ہے جبکہ آگ تو درختوں کو جلاتی ہے اسلئے کفار نے اس کا انکار کردیا۔
Ayah 37:64

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کے اسفل میں اگے گا

64: اِنَّھَا شَجَرَۃٌ تَخْرُجُ فِیْ اَصْلِ الْجَحِیْمِ (یہ درخت ہے۔ جو جہنم کی قعر سے نکلتا ہے) ایک قول : اس کی جڑ تو قعر جہنم میں ہے اور اس کی شاخیں جہنم کے مختلف طبقات میں پہنچنے والی ہیں۔
Ayah 37:65

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر

65: طَلْعُھَا کَاَنَّہٗ رُ ئُ وْسُ الشَّیٰطِیْنِ (اس کے پھل ایسے جیسے سانپ کے پھن) طلعؔ گا بھہ کھجور کے لئے استعمال ہوتا ہے اس کو زقوم کے درخت پر ظاہر ہونے والے بوجھ کیلئے بطور استعارہ لایا گیا ہے۔ اور اس پھل کو رؤسِ شیاطین سے تشبیہ دے کر اس سے انتہائی نفرت و کراہت منظر ظاہر کرنا مقصود ہے کیونکہ شیطان لوگوں کے طبائع میں بہت ہی قبیح و بد صورت ہے کیونکہ خیال میں وہ مجسمہ شر ہے۔ ایک قول : یہ ہے الشیطان۔ ایک معروف سانپ ہے جو انتہائی بد صورت اور خوفناک ہوتا ہے۔
Ayah 37:66

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو وہ اسی میں کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

66: فَاِنَّھُمْ لَاٰ کِلُوْنَ مِنْھَا (تو وہ لوگ اس میں سے کھائیں گے) یا اس کے پھل سے کھائیں گے۔ فَمَا لِئُوْ نَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ (اور اسی سے پیٹ بھریں گے) سخت بھوک کے غالب آنے کی وجہ سے وہ اسی سے پیٹ بھریں گے۔
Ayah 37:67

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر اس (کھانے) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کردیا جائے گا

67: ثُمَّ اِنَّ لَہُمْ عَلَیْھَا (پھر ان کو اس پر) کھانے کے بعد لَشَوْبًا (ملا کردیا جائے گا) مِّنْ حَمِیْمٍ (گرم پانی) شدید گرم پانی جو ان کے چہروں کو جھلسا اور انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ جیسا کہ اہل جنت کے مشروب کے متعلق فرمایا۔ ومزاجہ من تسنیمٍ ] المطففین : 27[ مطلب یہ ہے کہ وہ زقوم کے درخت سے پیٹ بھریں گے اور وہ ایسا گرم ہوگا کہ ان کے پیٹوں کو اندر سے جلا دے گا اور شدید پیاس لگے گی۔ اس پیاس سے جب خوب سزا مل جائے گی تو پھر شدیدگرم مشروب پلایا جائے گا۔ اور وہ مشروب گرم پانی کے ساتھ ملا ہوا ہوگا۔
Ayah 37:68

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا

68: ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَھُمْ لَا اِلَی الْجَحِیْمِ (پھر ٹھکانہ ان کا دوزخ ہی کی طرف ہوگا) یعنی ان کے مقامات اور مکانات سے جو جہنم میں ہونگے اور وہ مقامات درکات جہنم ہیں۔ زقوم کے درخت کی طرف لے جایا جائے گا۔ وہ اس سے کھاتے جائیں گے یہاں تک کہ اکتا جائیں گے۔ پھر ان کو گرم پانی پلا کر واپس طبقات دوزخ میں کردیا جائے گا۔ ثم تراخی کیلئے آتا ہے۔ تراخی کا معنی اس میں ظاہر ہے۔
Ayahs 37:69–70

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ ہی پایا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

سو وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں

69، 70: اِنَّہُمْ اَلْفَوْا اٰبَآئَ ہُمْ ضَآلِّیْنَ ۔ فَھُمْ عَلٰٓی اٰثٰرِھِمْ یُھْرَعُوْنََ (انہوں نے اپنے بڑوں کو گمراہی کی حالت میں پایا تھا۔ پھر یہ بھی ان ہی کے قدم بہ قدم تیزی کے ساتھ چلتے تھے) ۔ اس میں ان کے ان مصائب میں مبتلا ہونے کا سبب دین میں اپنے آباء و اجداد کی اتباع اور گمراہی میں ان کا پیچھا کرنا اور دلیل کو ترک کرنا بتلایا گیا ہے۔ الاھراعؔ بہت تیزی کرنا گویا ان کو پیچھے سے دھکیلا جارہا ہو۔
Ayah 37:71

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور ان سے پیشتر بہت سے پہلے لوگ بھی گمراہ ہوگئے تھے

71: وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَھُمْ (اور ان سے پہلے بھی گمراہ ہوچکے ہیں) قبلہم سے مراد قریش سے پہلے اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ (اگلے لوگوں میں اکثر) گزشتہ زمانہ میں گزرنے والے لوگ جنہوں نے غور وفکر کو چھوڑ کر محض گمراہ آباء کی تقلید کی۔
Ayah 37:72

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے

72: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ (ہم نے ان میں ڈر سنانے والے بھیجے تھے) ۔ وہ انبیاء (علیہم السلام) تھے۔ جنہوں نے ان کو انجام سے ڈرایا۔
Ayah 37:73

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

سو دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا ؟

73: فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ (پس دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا) ان لوگوں کا جن کو ڈرایا گیا وہ تمام ہلاک کردیے گئے۔
Ayah 37:74

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (کا انجام بہت اچھا ہوا)

74: اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (مگر اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے) مگر وہ لوگ جو ان میں سے ایمان لائے اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کردیا یا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کیلئے خالص کرلیا۔ قراءت : لام کے فتحہ وکسرہ کی قراءت سے۔
Ayah 37:75

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں

منذرین کا گزشتہ زمانوں میں بھیجا جانا : 75: جب منذرین کا گزشتہ زمانوں میں بھیجا جانا اور ان کا بدترین انجام ذکر کیا تو اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور ان کی اس دعا کا ذکر کیا جو انہوں نے قوم سے مایوس ہونے کے بعد فرمائی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا تذکرہ : وَلَقَدْ نادٰنَا نُوْحٌ (اور نوح نے ہم کو پکارا) اس نے ہمیں پکاراتا کہ ہم غرق سے ان کو نجات دیں۔ ایک قول : یہ ہے اس سے ان کے اس قول کی طرف اشارہ ہے۔ انی مغلوب فانتصر ] القمر : 10[ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ (پس ہم خوب فریاد سننے والے ہیں) نِعم پر جو لام داخل ہے۔ یہ قسم محذوف کا جواب ہونے کی وجہ سے ہے۔ مخصوص بالمدح محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ولقد نادانا نوح فواللّٰہ لنعم المجیبون نحن، جمع ؔ عظمت وکبریائی کو ظاہر کرنے کیلئے لائے۔ مطلب یہ ہے ہم نے اس کو بہت خوب جواب دیا۔ اور اس کے دشمنوں پر اس کو غلبہ دیا۔ اور اس کے دشمنوں سے خوب انتقام لیا۔
Ayah 37:76

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی

76: وَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَہٗ (اور ہم نے ان کو اور ان کے پیروکاروں کو نجات دی) اہل سے مراد ایمان والے اور ان کی اولاد مراد ہے۔ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ (بڑے بھاری غم سے) اس سے مراد غرق ہونے کا غم ہے۔
Ayah 37:77

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے

77: وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ (اور ہم نے باقی ہی ان کی اولاد کو رہنے دیا) ان کے علاوہ تمام فناء ہوگئے۔ قولِ قتادہ m : تمام لوگ اس وقت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے تھے۔ نمبر 1۔ سام، یہ عرب، فارس، روم کا جدامجد ہے۔ نمبر 2۔ حام یہ مشرق سے مغرب تک حبشیوں کا باپ ہے۔ نمبر 3۔ یافث یہ ترک اور یاجوج ماجوج کا باپ ہے۔
Ayah 37:78

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا

78: وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ (اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں بات رہنے دی) آخرین سے مراد یہ پچھلی امتیں اور وہ بات یہ ہے۔ سلام علی نوح فی العالمین۔
Ayah 37:79

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

(یعنی) تمام جہان میں (کہ) نوح پر سلام

انجامِ نوح۔ : 79: سَلٰمٌ عَلٰی نُوْحٍ (سلام ہو نوح (علیہ السلام) پر) یعنی وہ امتیں ان کو سلام بھیجتی اور ان کے لئے دعا گو ہیں۔ یہ کلام حکایۃً نقل کی ہے جیسا کہتے ہیں۔ قراءت : سورة انزلنا ھا۔ میں نے ایک ایسی سورت پڑھی جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ فِی الْعٰلَمِیْنَ (دونوں جہاں میں) یہ سلام ان تمام میں قائم چلا آرہا ہے۔ ان میں سے کوئی زمانہ خالی نہیں۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ثبت اللہ التسلیم علی نوح و ادامہ فی الملائکۃ والثقلین یسلمون علیہ عن آخرھم۔ اللہ تعالیٰ نے سلام کو نوح (علیہ السلام) کے لئے قائم کردیا اور اس کو ہمیشہ رکھا فرشتوں اور جن و انس میں وہ تمام ان پر سلام بھیجتے ہیں۔
Ayah 37:80

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

نیکو کاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

80: اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) اپنے مجازات اور بدلے کے اس شاندار انعام کو آپ کے محسن ہونے سے معلل قرار دیا۔