Ayah 37:81قوم حشر :
81: اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے) پھر احسان کی علت ایمان کو قرار دیا۔ تاکہ ایمان کا عظیم الشان مرتبہ تمہارے سامنے واضح کردیں اور صفات ِمدح و تعظیم میں یہ کم سے کم ہے۔
Ayah 37:8282: ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ (پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو ڈبو دیا) یعنی کفار کو۔
Ayah 37:83ابراہیم ( علیہ السلام) نوح ( علیہ السلام) میں 2640 سال کا فاصلہ :
83: وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰھِیْمَ (اور نوح کے طریقہ والوں میں ابراہیم بھی تھے) ہٖ کی ضمیر نوح (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی ان میں سے جنہوں نے اصول دین میں نوح (علیہ السلام) کی مشایعت کی یا اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھامنے اور تکذیب پر صبر و ضبط میں ان کے طریقہ پر چلنے والے ابراہیم تھے۔ ان کے اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان 2640 سال کا عرصہ ہے۔ اور درمیانے عرصہ میں صرف ہود اور صالح (علیہما السلام) دو پیغمبر ہوئے۔
Ayah 37:8484: اِذْ جَآ ئَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ (جبکہ وہ اپنے رب کی طرف صاف دل سے متوجہ ہوئے) ۔
: اذ کا تعلق لفظ شیعۃ میں مشایعت کے معنی کے ساتھ ہے۔ یعنی بیشک ان میں سے جنہوں نے اس کے دین میں ان کی مشایعت کی اور اس کو تقویت دی جبکہ وہ اپنے رب کی طرف شرک سے صاف دل سے متوجہ ہوئے۔ یا دلوں کی بیماریوں سے صحیح سالم نمبر 2۔ ابراہیم سے متعلق ہے۔ نمبر 3۔ محذوف سے متعلق ہے اور وہ اذکر ہے۔ اور المجیٔ لقلبہٖ ربہ کا مطلب یہ ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنے دل کو خالص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جان لیاتو المجیٔؔ کو اس جان لینے کیلئے بطور مثال بیان کیا۔
Ayahs 37:85–86ابراہیم ( علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ قصہ :
85، 86: اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ ۔ اَ ئِفْکًا اٰلِھَۃً دُوْنَ اللّٰہِ تُرِیْدُوْنَ (جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے فرمایا۔ تم کس چیز کی عبادت کیا کرتے ہو کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا چاہتے ہو)
نحو : افکًا یہ مفعول لہ ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ اتریدون آلھۃ من دون اللّٰہ افکًا (کیا تم ارادہ کرتے ہو اللہ کے سوا معبودوں کا افتراء کرتے ہوئے) مفعول بہٖ کو فعل پر بطورعنایت کے مقدم کیا اور مفعول لہٗ کو مفعول بہٖ پر مقدم کردیا۔ کیونکہ سب سے اہم بات آپ کے ہاں یہی تھی کہ آپ ان کا مقابلہ اس طور پر کریں کہ وہ اپنے شرک میں افتراء و باطل پر ہیں۔
نمبر 2۔ افکاً مفعول بہٖ ہے یعنی اتریدون افکاً کیا تم بہتان کا ارادہ رکھتے ہو۔ پھر افک کی تفسیر آلھۃً من دون اللّٰہ سے فرمائی۔ اس طور پر کہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے افک ہی ہے۔ نمبر 3۔ یہ حال ہے یعنی کیا تم ارادہ کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے سوا معبودوں کا اس حال میں کہ تم افتراء پر دازہو۔
Ayah 37:8787: فَمَا ظَنُّکُمْ (تو تمہارا کیا خیال ہے) کیا ہے تمہارا گمان بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (رب العالمین کے متعلق) حالانکہ تم دوسروں کی اسے چھوڑکر عبادت کرتے ہو۔ ماؔ مرفوع ہے مبتدأ ہونے کی وجہ سے اور ظنکم اس کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ تمہارا اس کے متعلق کیا گمان ہے کہ وہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ اور تمہیں کس طرح سزا دیں گے۔ حالانکہ تم نے اس کے سوا اوروں کی پوجا کی۔ اور یہ جانتے ہوئے کہ حقیقی منعم اللہ تعالیٰ ہے۔ پس وہی عبادت کا حقدار تھا۔
Ayah 37:88ستاروں پر نگاہ ڈالنا :
88: فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ (پس ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں کو ایک نگاہ بھر کر دیکھا) آپ نے ستاروں کو دیکھا اس حالت میں کہ آپ اپنی نگاہ آسمان پر ڈالنے والے تھے۔ اپنے دل میں سوچ بچار کر رہے تھے کہ وہ کس طرح تدبیرو حیلہ کریں یا ان کو دکھایا کہ وہ ستاروں کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ کفار کا عقیدہ ستاروں کے متعلق تھا۔ پس آپ نے ان کے وہم میں یہ بات ڈالی کہ وہ اس نشانی سے استدلال کر رہے ہیں کہ وہ عنقریب بیمار ہوجائیں گے۔
Ayah 37:8989: فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ (پس آپ نے فرمایا میں بیمار ہونے کو ہوں) عنقریب بیمار ہوجائیں گے۔ یہ مرض طاعون تھا۔ اس علاقہ میں عام بیماری یہی تھی۔ وہ اس کے متعدی ہونے سے خوفزدہ تھے۔ تاکہ وہ اس سے بھاگ سکیں۔ چناچہ وہ عید کیلئے چلے گئے۔ اور آپ کو بیت الاصنام میں چھوڑ کر چلے گئے جبکہ آپ کے ساتھ کوئی اور نہ تھا۔ پس آپ نے بتوں کے ساتھ جو حشر کرنا تھا، کیا۔ لوگوں نے کہا کہ علم نجوم برحق تھا پھر اس کی پہچان کیلئے سیکھنا منسوخ کردیا گیا۔ کذب حرام ہے۔ مگر تعریض کرنا جائز ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو فرمایا یہ تعریض ہے یعنی میں عنقریب بیمار ہونے والا ہوں۔ یا جس کی گردن میں موت لٹکی ہو وہ بیمارہی ہے۔ اہل عرب کہتے ہیں۔ کفی بالسلامۃ داء۔ اور اچانک آدمی مرجائے تو کہتے ہیں۔ وہ مرگیا حالانکہ وہ صحیح تھا۔ تو ایک اعرابی کہنے لگا۔ کیا وہ آدمی صحیح ہوسکتا ہے جس کی گردن میں موت ہو۔ یا مراد ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ تھی کہ تمہارے کفر کی وجہ سے میرا نفس بیما رہے۔ ( میں ہر وقت اس پر کڑھتا ہوں) جیسا کہا جاتا ہے۔ انا مریض القلب کذا۔
Ayah 37:9090: فَتَوَلَّوْا (پس انہوں نے اس سے اعراض کیا) عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ (پیٹھ پھیرتے ہوئے)
Ayah 37:9191: فَرَاغَ اِلٰٓی اٰلِھَتِھِمْ (پس آپ ان کے معبودوں کی طرف مخفی طور پر مائل ہوئے) فَقَالَ (پس بطور استہزاء فرمایا) أَلاَ تَاْکُلُوْنَ (تم کھاتے کیوں نہیں) اور کھانے ان کے ہاں پڑے تھے۔
Ayah 37:92بتوں کا خاتمہ :
92: مَالَکُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ (تم بولتے کیوں نہیں) وائو ؔ جمع سالم کی لائے کیونکہ آپ نے بمنزلہ عقلاء ان کو مخاطب فرمایا۔
Ayah 37:9393: فَرَاغَ عَلَیْھِمْ ضَرْبًام (مخفی طور پر ان کی طرف متوجہ ہوئے گویا اس طرح کہا کہ آپ نے ان کو مارامارنا) کیونکہ فراغ علیہم بمعنی ضربہم ہے۔ یا راغ علیہم ان کی طرف خفیہ گئے اس حال میں کہ آپ ان پروار کررہے تھے۔ بِالْیَمِیْنِ (دائیں ہاتھ سے) زور دار قوی ضرب سے کیونکہ یمین دونوں ہاتھوں میں قوی تر اور مضبوط تر ہے۔ یا قوت ومتانت سے یا اس حلف کے سبب جو آپ نے اٹھایا تھا۔ جو اس قول میں مذکور ہے۔ تا اللّٰہ لا کی دن اصنامکم ] الانبیاء : 57[
Ayah 37:94بت پرستوں کی کارروائی :
94: فَاَقْبَلُوْا اِلَیْہِ (پس وہ لوگ اس کے پاس آئے) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس یَزِفُّوْنَ (دوڑتے ہوئے) تیزی کے ساتھ یہ الزیف سے نکلا ہے اور وہ تیزی کو کہتے ہیں۔
قراءت : حمزہ نے یُزِفون پڑھا اس کو اَزفّ سے لیا۔ جبکہ وہ تیزی میں داخل ہو۔ مصدر ازفاف ہے۔ گویا معلوم ہوتا ہے کہ بعض نے توڑتے دیکھا تھا اور دوسروں نے نہ دیکھا تھا۔ جنہوں نے دیکھا تھا وہ جلدی سے آپ کی طرف متوجہ ہوئے پھر جنہوں نے توڑتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ وہ بھی پہنچ گئے اور کہنے لگے ہمارے ان معبودوں کے ساتھ کس نے یہ حرکت کی ہے۔ من فعل ھذا باٰلھتنا انہ لمن الظالمین ] الانبیاء : 59[ دوسروں نے تعریض کے انداز سے اس طرح جواب دیا۔ سمعنا فتی یذکر ھم یقال لہ ابراہیم ] الانبیاء : 60[ پھر سب مل کر کہنے لگے ہم تو ان کی عبادت کرتے ہیں اور تو ان کو توڑتا ہے ؟ آپ ( علیہ السلام) نے ان کو جواباً فرمایا۔
Ayah 37:9595: قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ (کیا تم ان کی پوجا کرتے ہو جن کو خود تراشتے ہو) خود اپنے ہاتھوں سے۔
Ayah 37:9696: وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ (حالانکہ تمہیں اور تمہاری ان بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے) اور اس نے پیدا کیا جو تم بت وغیرہ بناتے ہو ؟ نمبر 2۔ ماؔ مصدریہ ہے اس نے تمہارے اعمال کو پیدا کیا۔ یہ آیت خلق افعال پر ہماری دلیل ہے یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے خالق اور تمہارے اعمال کے خالق ہیں پھر تم اس کے سوا اوروں کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟
Ayah 37:97آگ میں ڈالنے کا فیصلہ :
97: قَالُوا ابْنُوْا لَہٗ (وہ لوگ کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے تیار کرو) لامؔ اجلیہ ہے۔ بُنْیَا نًا (ایک آتش خانہ) پتھروں سے جس کی طوالت تیس ہاتھ اور عرض بیس ہاتھ ہو۔ فَاَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ (پھر اس کو اس دہکتی آگ میں ڈال دو ) الجحیم سے سخت آگ مراد ہے۔
ایک قول یہ ہے :
ہر وہ آگ جو ایک دوسری کے اوپر جلائی جائے وہ جحیم ہے۔
Ayah 37:9898: فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا (پس انہوں نے آپ کے ساتھ برائی کرنا چاہا) کید سے آگ میں ڈالنا مراد ہے۔ فَجَعَلْنٰھُمُ الْاَسْفَلِیْنَ (پس ہم ہی نے ان کو نیچا کردیا) ہم نے ان کو ڈالنے کے وقت مغلوب کردیا۔
Ayah 37:9999: پھر ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے نکلے۔ وَقَالَ اِنِّیْ ذَاھِبٌ اِلٰی رَبِّیْ ( ابراہیم کہنے لگے میں تو اپنے رب کی طرف جاتا ہوں) یعنی ایسی جگہ جہاں جانے کا اس نے حکم دیا۔ سَیَھْدِیْنِ (وہ مجھکو پہنچا ہی دے گا) وہ میری راہنمائی فرمائیں گے۔ جس میں میرے دین کی بھلائی ہے۔ وہ میری حفاظت کرے گا اور مجھے توفیق عنایت فرمائے گا۔ قراءت : سَیَہْدِیْنِیْ دونوں مقام پر یعقوب نے پڑھا ہے۔
Ayah 37:100بیٹے کے لئے دُعا :
100: رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (اے میرے رب مجھکو ایک نیک فرزند دے) صالحین میں سے ایک مراد اس سے بیٹا ہے۔ کیونکہ لفظ ہبہ کو ولدؔ پر غلبہ دیا گیا۔
Ayah 37:101قبولیت دعا :
101: فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ (پس ہم نے ان کو حکیم المزاج فرزند عنایت کیا) ۔ بشارت تین چیزوں پر مشتمل ہے۔ نمبر 1۔ اولاد مذکر غلام ہوگا۔ نمبر 2۔ وہ بلوغت کی عمر پائے گا۔ کیونکہ صبی کی صفت حُلُمکے لفظ سے نہیں کی جاسکتی۔ نمبر 3۔ حوصلہ مند ہوگا۔ اور اس سے بڑا حوصلہ کیا ہوگا کہ جب اس کا والد اس پر ذبح کا معاملہ پیش کرتا ہے تو وہ یہ کہتا ہے۔ ستجدنی ان شاء اللّٰہ من الصابرین ] الصافات : 102[ پھر اس کے لئے کامل اطاعت گزاری کا اظہار کیا۔
Ayah 37:102بیٹا ہاتھ بٹانے کے قا بل ہوا تو ذبح کا حکم ہوا :
102: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ (جب وہ لڑکا اس کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا) وہ اس عمر کو پہنچا کہ والد محترم کے ساتھ ان کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکے۔ معہؔ کا لفظ بلغؔ سے متعلق نہیں۔ کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے۔ کہ حد سعی کو وہ دونوں اکٹھے پہنچے ہوں۔ نہ کہ سعی کے ساتھ اس لئے کہ مصدر کا صلہ اس سے مقدم نہیں ہوتا۔ پس اب یہ ضرورت باقی رہی کہ وہ بیان بن جائے۔ گویا جب یہ کہا فلما بلغ السعی ای الحد الذی یقدرفیہ علی السعی۔ جب وہ دوڑنے کی عمر کو پہنچ گئے یعنی اس حد کو پالیا جس میں دوڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ کہا گیا کس کے ساتھ ؟ تو فرمایا اپنے والد کے ساتھ۔ اس وقت اسماعیل (علیہ السلام) کی عمرتیرہ سال تھی۔ قَالَ یٰـبُنَیَّ (کہا اے میرے بیٹے) حفص کی یہ قراءت ہے۔ دیگر قراء نے یاء کے کسرہ سے پڑھا ہے۔
اِنِّیْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْ بَحُکَ (میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں) دونوں میں یاء مفتوح ہے۔ حجازی اور ابو عمرو کے ہاں یہ ہے۔ ان کو خواب میں کہا گیا تم اپنا بیٹا ذبح کر ڈالو۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کا خواب وحی ہوتا ہے۔ جیسا کہ بیداری کی وحی۔
اسمائے ایّام :
کلام میں رأیت نہیں فرمایا کیونکہ انہوں نے بار بار دیکھا۔ پس کہا گیا ہے کہ آٹھویں کی رات انہوں نے دیکھا کہ ایک قائل ان کو کہہ رہا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم کرتا ہے۔ کہ تم اس بیٹے کو ذبح کرو۔ جب صبح ہوئی تو صبح سے دوپہر تک اس میں غور و فکر کیا۔ کیا یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے اسی وجہ سے اس کا نام یوم الترویہ رکھا گیا۔ جب شام ہوئی تو پھر ایسا ہی خواب نظر آیا۔ پس انہوں نے جان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام یوم عرفہ پڑا۔ پھر تیسری رات بھی ایسا ہی خواب نظرآیا۔ پس آپ نے ذبح کا پختہ ارادہ فرمایا۔ اسی لئے اس دن کا نام یوم النحر ہے۔
فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی (پس تم سوچ لو تمہاری کیا رائے ہے) یہ رأی بطریق مشورہ سے ہے رؤیت العین سے نہیں۔ اور ان سے مشورہ ان کی رائے کی طرف رجوع کیلئے نہیں کیا بلکہ ان کے جزع یا صبر کو معلوم کرنے کیلئے۔
قراءت : علی، حمزہ نے تُرِی پڑھا ہے یعنی تو کیا بتاتا اور کیا ظاہر کرتا ہے اپنی رائے میں سے۔
اطاعت ِپسر :
قَالَ یٰٓـاَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤْمَرُ (کہا ابا جان آپ کو جو حکم ہوا ہے آپ کیجئے) یعنی ماتؤ مربہٖ اور قراءت میں بہٖٓ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآ ئَ اللّٰہُ مِنَ الصّّٰبِرِیْنَ (انشاء اللہ تعالیٰ آپ مجھ کو صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے) ذبح پر صبر کرنے والا۔ ایک روایت میں ہے : کہ ذبیح نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کہا ابا جان یہ میری پیشانی کے بال پکڑیں اور میرے کندھوں کے مابین بیٹھ جائیں۔ تاکہ جب چھری مجھ پر چلے تو آپ کو ایذاء نہ پہنچے۔ اور ایسی حالت میں مجھے ذبح نہ کریں کہ آپ کی نگاہ میرے چہرے پر ہو۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کے دل میں رحم آجائے۔ میرا چہرہ زمین کی طرف کرلیں۔ ایک روایت یہ ہے مجھے سجدہ کی حالت میں ذبح کردیں میری والدہ کو سلام کہہ دیں اور اگر پسند کریں تو میری قمیص والدہ کی طرف واپس کردیں۔ تاکہ ان کو صدمہ سہنے میں سہولت ہو۔ (یہ اسرائیلیات ہی کی قسم سے ہیں) (مترجم)
Ayah 37:103103: فَلَمَّآ اَسْلَمَا (غرض جب دونوں نے تسلیم کرلیا) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرلی اور اس کے سامنے جھک گئے۔
قولِ قتادہ m :
اس نے اپنے بیٹے کو سپرد کیا اور بیٹے نے اپنے نفس کو وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ (اور باپ نے بیٹے کو کروٹ کے بل لٹادیا) اس کو لٹایا پیشانی کی جانب اور چاقو اسماعیل کے حلق پر رکھ کر چلایا۔ تو چاقو نہ چلا پھر چاقو اس کی گدی پر رکھ کرچلایا تو چاقو پلٹ گیا۔ اور آواز دی گئی۔ اے ابراہیم ! تم نے خواب سچا کردیا۔ روایت میں ہے کہ یہ مقام منٰی میں صخرہ کے پاس تھا۔
: لمّا کا جواب محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہے فلما اسلما وتلہ للجبین۔
Ayahs 37:104–105آزمائش میں کامیابی :
104، 105: وَنَادَیْنٰہُ اَنْ یّٰـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْ یَا (اور ہم نے اس کو آواز دی اے ابراہیم تم نے خواب کو سچا کردیا) یعنی تم نے سچا کردکھایا جو ہم نے تمہیں خواب میں حکم دیا تھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کے حوالہ کردو۔ ہوا جو کچھ ہوا۔ حال خود اسپر دلالت کر رہا ہے۔ اور بیان میں لایا نہیں جاسکتا کہ ان کو کس قدرخوشی ہوئی۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتنی تعریفیں کیں اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ بہت بڑی مصیبت کو اترنے کے بعد دفع فرمایا نمبر 2۔ یا جواب قبلنا منہ ہے اور نادیناہ اس پر معطوف ہے۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم اسی طرح مخلصین کو صلہ دیا کرتے ہیں) اس میں ان کو جس بات کا عادی بنایا گیا تھا کہ تکلیف کے بعد کشادگی آتی ہے۔ اس کی علت بتلائی۔
Ayah 37:106106: اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ (حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان) وہ کھلا امتحان جس میں مخلصین دوسروں سے الگ ہوتے ہیں۔ یا واضح مشقت۔
Ayah 37:107عظیم فدیہ :
107: وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ (اور ہم نے اس کے عوض میں دیا ایک ذبیحہ) ذبحؔ جس کو ذبح کیا جاتا ہے۔ قول ابن عباس ؓ : وہ وہی دنبہ تھا جس کو قابیل نے قربت الٰہی کیلئے پیش کیا تھا۔ وہ جنت میں چرتا رہا یہاں تک کہ اسماعیل کے فدیہ میں دیا گیا۔ دوسری روایات میں ہے کہ اگر یہ ذبح ان سے مکمل ہوجاتا تو یہ سنت و طریقہ بن جاتا۔ اور لوگ اپنے بیٹوں کو ذبح کرتے۔ عَظِیْمٍ (بہت بڑا) بڑے جسم والا۔ فربہ۔ قربانیوں میں یہی سنت ہے۔ روایت میں ہے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) سے چھوٹ کر بھاگ گیا۔ اور جمرہ کے پاس پہنچا۔ تو آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں۔ یہاں تک کہ اس کو پکڑ لیا گیا۔ رمی میں یہ سنت قائم ہوگئی۔
ایک روایت ہے :
کہ جب آپ نے اس کو ذبح کیا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا اللہ اکبر اللہ اکبر، ذبیح (علیہ السلام) نے کہا لا الٰہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اس پر ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد۔ پس یہ سنت باقی رہی۔
استدلالِ ابوحنیفہ (رح) :
امام صاحب نے اسی آیت سے استدلال فرمایا جو آدمی اپنے بیٹے کے ذبح کی نذرمان لے۔ وہ ایک بکری ذبح کرلے۔
قولِ اظہر :
ذبیح اسماعیل ہیں اور یہ قول ابوبکر ‘ ابن عباس، ابن عمر ؓ اور تابعین کی ایک جماعت کا ہے۔حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ انا ابن الذبیحین ] مستدرک حاکم : 2/554[ ایک تو آپ کے جد امجد اسماعیل اور دوسرے آپ کے والد عبداللہ ہیں۔ اور اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ کہ عبدالمطلب نے نذر مانی کہ اگر ان کے بیٹوں کی تعداد دس تک پہنچ گئی تو سب سے آخری لڑکے کو بطور تقرب میں ذبح کرونگا۔ عبداللہ ان کے آخری لڑکے تھے۔ عبدالمطلب نے ایک سواونٹوں کا فدیہ دیا۔ اس دنبے کے دوسینگ کعبہ میں لٹکتے رہے تاآنکہ زمانہ حجاج و ابن الزبیر میں بیت اللہ کے پردوں میں آگ لگ جانے کی وجہ سے وہ جل گئے۔ اصمعی کہتے ہیں کہ میں نے ابوعمرو بن العلاء سے سوال کیا ذبیح کون ہے اس نے کہا اے اصمعی تمہاری عقل کہاں گئی ؟ اسحاق کب مکہ میں تھے ؟ مکہ میں تو اسماعیل ہی تھے اور انہی نے اپنے والد کے ساتھ ملکر بیت اللہ بنایا اور منحر بھی مکہ میں ہے۔ اور علی، ابن مسعود، عباس اور تابعین ؓ کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ وہ اسحاق ہیں۔ اور اس پر یعقوب (علیہ السلام) کا خط یوسف (علیہ السلام) کے نام دلالت کرتا ہے۔ من یعقوب اسرائیل اللّٰہ بن اسحاق ذبیح اللّٰہ بن ابراہیم خلیل اللہ۔ (مگر تحریفات یہود کے ہوتے ہوئے یہ خط کیسے مسلم دلیل بن سکتا ہے۔ پھر اس میں اسرائیل اللہ کو ملاحظہ فرمائیں۔ اگر اسراء بمعنی بندہ اور ئیلؔ اللہ کے معنی میں ہے تو اسرائیل اللہ کا کیا مطلب ہے۔ اسی طرح اسحاق کے بعد ذبیح اللہ بڑھا دینا ان کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے) ۔
نکتہ :
آیت میں وفد یناہ فرمایا اگر فدیہ دینے والے ابراہیم (علیہ السلام) ہیں تو اللہ تعالیٰ مفتدی منہ ہوئے کیونکہ ذبح کا حکم اسی نے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہی فدیہ کیلئے د نبہ ابراہیم کو دیا۔ یہاں اشکال یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ عمل پہلو پر لٹانا، اور حلق پر چھری کا پھیرنا۔ ذبح کے حکم میں ہے یا نہیں ؟ اگر حکم ذبح میں ہے تو پھر فدیہ کا کیا معنی ہے۔ حالانکہ فدیہ کی حقیقت بدل دے کر ذبح سے چھوٹ جانا ہے ؟ اور اگر ذبح ہی نہ تھا تو پھر قد صدقت الرؤْیا کا کیا مطلب ہے۔ وہ خواب کو سچا کرنے والے تو تب بنتے جبکہ اصل یا بدل کی صورت میں ان سے ذبح پیش آتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ؟
حل اشکال :
ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی حتی الامکان کوشش کردی اور وہ کردیا جو ذبح کرنے والا کیا کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے چھری کو چلنے سے روک دیا۔ اور یہ چیز فعل ابراہیمی میں رکاوٹ نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے دنبہ عنایت فرمایا تاکہ اس کا ذبح کرنا اس حقیقی ذبیحہ نفس اسماعیل کا قائم مقام بن سکے۔ اور بدل ہو۔ اور یہ نسخ حکم نہیں۔ جیسا کہ بعض کو وہم ہوا۔ بلکہ یہ حکم کا ثبات و قیام ہے۔ البتہ وہ محل جس کی طرف اس کی نسبت کی گئی ہے۔ اس پر حکم بطور فدیہ کے نہیں اترا نہ کہ نسخ۔ اور یہ آزمائش تھی تاکہ امر کا حکم آخری حالت میں قائم ہوجائے۔ وہ اس طرح کہ ان سے بیٹے کے حق میں یہ چاہا گیا کہ اس کی قربانی پر صبر کریں۔ اور حکم کے لحاظ سے ان کو یہ قربانی کا حکم تھا۔ اور فدیہ دے کر ان کو عزت بخشی گئی۔ ذبح کی مشقت و تکلیف کے باعث اور صبر و مجاہدہ سے آزمائش کی مکا شفہ کی حالت کے لحاظ سے۔ امر سے جب مراد پختہ طور پر ثابت ہوچکی تو نسخ کا حکم ہوا۔ اس سے پہلے نہیں۔ قرآن مجید میں اس کو فداء فرمایا گیا نسخ نہیں۔
Ayahs 37:108–109108، 109: وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ (اور پچھلے لوگوں میں ان کی بات رہنے دی) اس پر وقف نہیں۔ سَلٰمٌ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ (سلام ہو ابراہیم پر) کیونکہ سَلٰمٌ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ ۔ وَ ترکنا کا مفعول ہے۔
Ayah 37:110110: کَذٰلِکَ نجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) ۔ یہاں کلام میں اِنَّاؔ استعمال نہیں فرمایا۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر ہے۔ کیونکہ اس واقعہ میں پہلے کہا جاچکا۔ اس لئے دوسری مرتبہ ذکر کرنے کی بجائے اس پر اکتفاء کیا گیا۔
Ayah 37:111111: اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے)
Ayah 37:112112: وَبَشَّرْنٰـہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا (ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت دی)
نحو : نبیا یہ اسحاق سے حال مقدرہ ہے۔ مضاف کا محذوف ماننا ضروری ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی۔ وبشرناہ بوجود اسحاق نبیًا۔ ای بان یوجد مقدرۃ نبوتہ۔ ان کی نبوت کا مقدر ہونا پایا جائے۔ پس حال میں وجود عامل ہے۔ فعل بشارت عامل نہیں۔
مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (کہ نبی اور نیک بختوں میں سے ہونگے)
نحو : یہ دوسرا حال ہے۔ اور یہ بطور ثناء لایا گیا ہے۔ کیونکہ ہر پیغمبر کا صالحین میں سے ہونا ضروری ہے۔
Ayah 37:113ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر برکات کا نزول :
113: وَبٰرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ (اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں) ہم نے ان پر زمین و دنیا کی برکات کا فیضان فرمایا۔ ایک قول یہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں برکت عنایت فرمائی اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکت یہ تھی کہ ان کی اولاد میں ایک ہزار پیغمبر پیدا فرمائے۔ جن میں اول یعقوب اور آخری عیسیٰ (علیہم السلام) تھے۔ وَمِنْ ذُرِّیَّتِھِمَا مُحْسِنٌ (ان کی اولاد میں بعضے اچھے بھی تھے) محسن یہاں مومن کے معنی میں ہے۔ وَّظَالِمٌ لِنَفْسِہٖ (اور بعض ایسے ہیں جو اپنا نقصان کرنے والے ہیں) ظالم بمعنی کافر۔ مُبِیْنٌ (ظاہر) یا محسن الی الناس۔ لوگوں پر احسان کرنے والے اور حدود شرع سے تجاوز کرکے اپنے نفوس پر ظلم کرنے والے ہیں۔
مدارِ خیر و شر :
اس میں خبردار کیا کہ اچھائی اور برائی کا دارومدار رنگ و نسل اور عنصر پر نہیں۔ اور ان کی نسل میں کیا جانے والا ظلم و نافرمانی ان کے حق میں نقص و عیب کا باعث نہیں۔ نیک کی اولاد فاجر اور فاجر کی اولاد نیک ہوتی رہتی ہے۔ اور یہ چیز عناصر اور طبائع کے معاملے کو مٹانے اور ختم کرنے والی ہے۔ ان کے بعد کیا جانے والا ظلم و زیادتی ان کے حق میں کسی قسم کے نقص وعیب کا باعث نہیں۔ اور ہر انسان کو اس کے اپنے برے فعل پر عیب لگایا جاتا ہے۔ اور جن افعال کا ارتکاب اس کے ہاتھوں نے کیا ان پر سزا دی جائے گی۔ اس پر نہیں جو اس کی اصل و فرع میں پایا جائے۔
Ayah 37:114موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ :
114: وَلَقَدْ مَنَنَّا (اور ہم نے احسان کیا) یعنی انعام کیا عَلٰی مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ (موسیٰ و ہارون پر) ان کو نبوت سے نواز کر۔
Ayah 37:115115: وَنَجَّیْنٰھُمَا وَقَوْمَھُمَا (اور ہم نے ان دونوں اور ان کی قوم کو نجات دی) قوم سے بنی اسرائیل مراد ہیں۔ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ (بڑے غم سے) نمبر 1۔ غرق سے نمبر 2۔ فرعونی تسلط اور اس کے حواریوں کے ظلم وستم سے۔
Ayah 37:116116: وَنَصَرْ نٰھُمْ (اور ہم نے ان کی مدد کی) یعنی موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کی۔ فَکَا نُوْا ھُمُ الْغٰلِبِیْنَ (پس یہی لوگ غالب آئے) فرعون اور قوم فرعون پر۔
Ayah 37:117117: وَاٰتَیْنٰھُمَا الْکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ (اور ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب دی) تورات مراد ہے۔ جو اپنے بیان میں بلیغ پیرا یہ رکھتی تھی۔
Ayah 37:118118: وَھَدَیْنٰھُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (اور ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستہ پر قائم رکھا) اہل اسلام کا راستہ۔ اور وہ انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے۔ جیسا کہ فرمایا۔ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ] الفاتحہ : 7[۔
Ayah 37:119119: وَتَرَ کْنَا عَلَیْھِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَ (اور ہم نے ان دونوں کیلئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی)
Ayah 37:120120: سَلٰمٌٔ عَلٰی مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ (کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام ہو)