37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 37:121

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

بیشک ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

121: اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) ۔
Ayah 37:122

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

122: اِنَّھُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے) ۔
Ayah 37:123

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے

حضرت الیاس ( علیہ السلام) کا تذکرہ : 123: وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (اور بیشک الیاس پیغمبروں میں سے تھے) ان کا سلسلہ نسب یہ ہے الیاس بن یاسین۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ قراءت : ابن مسعود ؓ نے الیاس کی جگہ ادریس پڑھا ہے۔
Ayah 37:124

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں

124: اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلاَ تَتَّقُوْنَ (جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا۔ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے) ۔ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔
Ayah 37:125

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

125: اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا (کیا تم بعل کو پوجتے ہو) بعل یہ سونے کا بنایا ہوا بت تھا۔ اس کی لمبائی بیس ہاتھ تھی۔ اس کے چار چہرے تھے۔ وہ اس کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوگئے۔ اور اس کی تعظیم کرنے لگے۔ یہاں تک کہ اس کے خدام کی تعداد چار سو تھی۔ اور ان سادھوؤں کو لوگ بعل کے رسول کہتے تھے۔ جس مقام پر یہ بت پایا جاتا تھا۔ وہ بک کے نام سے معروف تھا۔ پس دونوں ناموں کو جوڑ کر بعلبک بنا لیا گیا۔ یہ شام کا شہر ہے۔ ایک قول : یہ ہے الیاس (علیہ السلام) کی ڈیوٹی جنگلوں اور بیابانوں کی لگی ہے جیسا کہ خضر کی سمندروں پر لگی ہے۔ قولِ حسن بصری (رح) : الیاس وخضر (علیہما السلام) دونوں فوت ہوچکے۔ ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسا لوگ کہتے ہیں۔ کہ وہ دونوں زندہ ہیں۔ وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ( اور تم اس کو چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بہتر بنانے والا ہے) تم نے اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ دیا جو سب سے زیادہ قدرت والے ہیں۔
Ayah 37:126

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے

126: اللّٰہَ رَبَّکُمْ وَرَبَّ اٰبَآ ئِکُمُ الْاَوَّ لِیْنَ (اللہ تعالیٰ جو تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آباء و اجداد کا رب ہے) قراءت : اللہ اور رب کو نصب تمام عراقی قراء نے دیا سوائے ابوبکر اور ابو عمر و کے۔ احسن سے اس کو بدل قراردیا۔ اور دیگر قراء نے ابتداء کیو جہ سے مرفوع پڑھا ہے۔
Ayahs 37:127–128

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (مبتلائے عذاب) نہیں ہوں گے

127، 128: فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ (پس ان لوگوں نے ان کو جھٹلادیا اس لئے وہ لوگ پکڑے جائیں گے) آگ میں اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (مگر جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے تھے) ان کی قوم میں سے۔
Ayah 37:129

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا

129: وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ (اور الیاس کیلئے پچھلے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی)
Ayah 37:130

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ الیاسین پر سلام ہے

130: سَلٰمٌ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ (کہ الیاس پر سلام ہو) یعنی الیاس اور ان کی مومن قوم پر۔ الیاسینؔ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں۔ الخبیبون یعنی ابو خبیب عبد اللہ بن الزبیر اور ان کے پیروکار۔ قراءت : شامی، نافع نے آل یاسین پڑھا کیونکہ یاسینؔ حضرت الیاس کے والد کا نام ہے۔ اسی لئے آل کی اضافت ان کی طرف کردی۔
Ayah 37:131

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

131: اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں)
Ayah 37:132

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

132: اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک وہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھے)
Ayah 37:133

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے

تذکرئہ لوط۔ : 133: وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (بیشک لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے)
Ayah 37:134

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں (کو سب کو) عذاب سے نجات دی

134: اِذْ نَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَہٗ اَجْمَعِیْنَ (جبکہ ہم نے اس کو اور ان کے سب متعلقین کو نجات دی)
Ayah 37:135

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

135: اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ (مگر بڑھیا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے رہ گئی) الغابرین باقی رہنے والوں میں سے (جو عذاب میں گرفتار کیے گئے)
Ayah 37:136

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

136: ثُمَّ دَمَّرْنَاالْاٰخَرِیْنَ (پھر ہم نے اور سب کو ہلاک کردیا )
Ayah 37:137

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم دن کو بھی (ان کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو

137: وَاِنَّکُمْ (اور تم تو) اے اہل مکہ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ (ان پر گزرتے ہو صبح) وقت صبح میں۔
Ayah 37:138

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

138: وَبِالَّیْلِ ( اور رات کو ) قراءت : اس پر وقف مطلق ہے۔ اَفَـلاَ تَعْقِلُوْنَ (کیا پھر بھی تم عقل نہیں کرتے) یعنی دن ‘ رات ‘ شام کے تجارتی اسفار میں تم ان کے مکانات کے پاس سے گزرتے ہو۔ کیا پھر بھی تم اپنی عقلوں سے کام لے کر عبرت حاصل نہیں کرتے ہو۔ یونس و لوط (علیہما السلام) کا واقعہ اس طرح ختم نہیں فرمایا جیسا کہ ان سے قبل کے واقعات کو ختم کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں پر سورت کے آخر میں سلام بھیجا اس لئے ہر ایک پر انفرادی سلام کی بجائے اس اجتماعی سلام پر اکتفاء کیا گیا۔
Ayah 37:139

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے

تذکرئہ یونس ( علیہ السلام) اور قوم سے ان کا نکل جانا : 139: وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے)
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے

140: اِذْ اَبَقَ (جبکہ وہ بھاگ کر پہنچے) الاؔ باق ایسی جگہ بھاگنا جہاں ڈھونڈا نہ جاسکے۔ قوم میں بلا اذن نکلنے کو مجازاً ھربؔ سے تعبیر کیا گیا۔ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ (بھری ہوئی کشتی کے پاس) المشحونؔ بھری ہوئی۔ یونس (علیہ السلام) سے ان کی قوم کو عذاب دینے کا وعدہ کیا گیا جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو ان سے مخفی طور پر نکل کھڑے ہوئے اور سمندر کی راہ لی۔ اور کشتی میں سوار ہوئے۔ وہ رک گئی۔ کشتی والے کہنے لگے یہاں آقا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے۔ کشتی رانوں کا خیال تھا کہ جب کشتی میں کوئی آقا سے بھاگا ہوا غلام سوار ہوجائے تو کشتی رک جاتی ہے۔ پھر انہوں نے قرعہ اندازی کی۔ قرعہ یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ آپ نے فرمایا میں ہی بھاگا ہوا ہوں۔ خود اپنے کو سمندر کے پانی کے حوالہ کردیا۔ اس کو اگلی آیت میں بیان فرمایا۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

اس وقت قرعہ ڈالا تو انہوں نے زک اٹھائی

141: فَسَاھَمَ (پس وہ بھی شریک قرعہ ہوئے) انہوں نے ایک مرتبہ قرعہ ڈالا۔ نمبر 2۔ تیروں سے تین مرتبہ قرعہ ڈالا۔ المساھمۃ ؔ قرعہ کے طور پر تیر ڈالنا۔ فَکَانَ مِنَ الْمُدْ حَضِیْنَ (پس یہی مقام کامیابی سے ہارے ہوئے ٹھہرے) المدحضؔ قرعہ میں ہارا ہوا مغلوب۔
Ayah 37:142

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے

مچھلی کا نگلنا اور پھر اگلنا : 142: فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَھُوَ مُلِیْمٌ (پھر ان کو مچھلی نے نگل لیا اور یہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے) ملیمؔ ملامت میں داخل ہونے والا۔
Ayah 37:143

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پھر اگر وہ (خدا کی) پاکی بیان نہ کرتے

143: فَلَوْلَآ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ (پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے) مسبحؔ تسبیح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے۔ نمبر 2۔ یا تسبیح کے یہ کلمات کہنے والے لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ] الانبیاء : 87[ نمبر 3۔ اس سے پہلے نماز پڑھنے والوں میں سے۔ قول ابن عباس ؓ : تسبیح کا لفظ قرآن میں جہاں وارد ہے اس سے صلوٰۃ مراد ہے۔ مقولہ : جب کوئی آدمی لغزش کھاجائے تو عمل صالح ہی اس کو اٹھاتا اور بلند کرتا ہے۔
Ayah 37:144

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے

144: لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں رہتے) ظاہر معنی یہ ہے کہ بعث تک اس کے پیٹ میں زندہ رہتے۔ قولِ قتادہ : مچھلی کا پیٹ ان کے لئے قیامت تک قبر بن جاتا آپ مچھلی کے پیٹ میں تین دن رہے یا سات یوم یا چالیس ایام رہے۔ قولِ شعبی (رح) : چاشت کے وقت مچھلی نے نگلا اور پچھلے پہر اگلا۔
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو جبکہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا

145: فَنَبذْنٰـہُ بِالْعَرَآ ئِ (پس ہم نے ان کو میدان میں ڈال دیا) پس ہم نے ان کو اس خالی جگہ میں ڈالا جس میں کوئی درخت نہ تھا اور نہ عمارت۔ وَھُوَ سَقِیْمٌ (اور وہ اس وقت مضمحل تھے) مچھلی کے نگلنے سے جو تکلیف ان کو پہنچی تھی اس سے بیمار تھے۔ روایت میں ہے کہ ان کا بدن مبارک بچے کی طرح نرم پڑچکا تھا جبکہ وہ پیدا ہو۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ان پر کدو کا درخت اگایا

146: وَاَنْچبَتْنَاعَلَیْہِ شَجَرَۃً (اور ہم نے ان پر ایک درخت بھی اگا دیا تھا) ان کے جسم کو سایہ دینے کیلئے وہ درخت اگا یا جیسا کہ انسان پر خیمہ تن دیا جائے۔ مِّنْ یَّقْطِیْنٍ (بیلدار) جمہور کا قول ہے کہ یہ کدو ہے۔ اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ مکھیاں اس پر جمع نہیں ہوتیں اور تمام درختوں اور بیلوں سب سے جلداگتا ہے اور جلد پھلتا اور بلندہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ کدو کو پسند فرماتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں ! یہ میرے بھائی یونس کا درخت ہے۔ (قال ابن حجر لم اجدہ)
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ان کو لاکھ یا اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا

147: وَاَرْسَلْنٰہُ اِلٰی مِا ئَۃِ اَلْفٍ (اور ہم نے ان کو ایک لاکھ آدمیوں کی طرف پیغمبر بنایا) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی طرف لقمہ بنائے جانے سے پہلے مبعوث ہوئے۔ نحو : قد مضمر ہے۔ اَوْیَزِیْدُوْنَ (یا اس سے زیادہ) جب دیکھنے والا دیکھے تو اس کی نگاہ میں زیادہ نظر آئیں اور وہ کہے یہ ایک لاکھ ہیں بلکہ اس سے زیادہ۔ قول الزجاج : بہت سے علماء نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے بل یزیدون بلکہ یہ تو اس سے زائد ہیں۔ گویا اوؔ بل کے معنی میں ہے۔ فراء ابوعبیدہ کا یہی قول ہے ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا۔
Ayah 37:148

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

تو وہ ایمان لے آئے سو ہم نے بھی ان کو (دنیا میں) ایک وقت (مقرر) تک فائدے دیتے رہے

148: فَٰامَنُوْا (پھر وہ لوگ ایمان لے آئے تھے) ان پر اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات پر فَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْنٍ (تو ہم نے ان کو ایک زمانہ تک زندگی دی) حینؔ سے انتہائے اجل تک کا وقت مراد ہے۔
Ayah 37:149

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے ؟

قریش مکہ کی طرف التفات : 149: فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ (پس ان لوگوں سے پوچھیے کہ کیا تیرے رب کیلئے بیٹیاں) وَلَھُمُ الْبَنُوْنَ (اور ان کیلئے بیٹے) سورت کی ابتداء میں اسی جیسی آیت پر اس کا عطف ہے۔ آیت یہ ہے فاستفتہم اھم اشد خلقا ] الصافات : 11[ اگرچہ معطوفات کے مابین فاصلہ بہت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ پہلے قریش سے بعث بعد الموت کے انکار کا باعث دریافت کریں۔ پھر کلام کو ملا کر چلاتے رہے پھر حکم فرمایا کہ آپ قریش سے بھونڈی تقسیم جو انہوں نے تجویز کر رکھی ہے اس کی وجہ دریافت کریں۔ بقول ان کے لڑکیاں اللہ تعالیٰ کیلئے اور مذکر اولاد اپنے لئے۔ قریش کہتے تھے الملائکۃ بنات اللّٰہ۔ حالانکہ ان کو بنات سے اس قدر نفرت تھی کہ وہ ان کو زندہ درگور کردیتے اور ان کا تذکرہ بھی اپنی شان کے لائق نہ سمجھتے۔
Ayah 37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے

150: اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓپکَۃَ اِنَاثًا وَّھُمْ شَاھِدُوْنَ (ہاں ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور وہ دیکھ رہے تھے) شاہد بمعنی حاضرموجود ہے۔ آیت میں ان کے علم کو مشاہدہ کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ ان سے استہزاء اور ان کی انتہائی جاہلیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ جس طرح یہ بات ان کے مشاہدہ میں نہیں آئی اسی طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ان کے دلوں میں پیدا کرنے سے بھی معلوم نہیں کیا اور نہ ہی مخبرصادق نے ان کو اطلاع دی۔ اور نہ استدلال و نظر سے دریافت ہوا۔ ( پھر ان کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ مؤنث ہیں) ۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ انتہائی جہالت کی بناء پر اپنے دلوں کو اطمینان دلانے کیلئے یہ کہتے ہیں گویا انہوں نے ان کی تخلیق کا مشاہدہ کرلیا ہو۔
Ayah 37:151

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنی جھوٹ بنائی ہوئی (بات) کہتے ہیں

151: اَ لَآ اِنَّھُمْ مِّنْ اِفْکِھِمْ لَیَقُوْلُوْنَ (خوب سن لو ! وہ تو اپنی سخن تراشی سے کہتے ہیں)
Ayah 37:152

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ خدا کے اولاد ہے کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

152: وَلَدَ اللّٰہُ وَاِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ (کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اور وہ یقینا جھوٹے ہیں) اپنی اس بات میں۔
Ayah 37:153

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اس نے بیٹوں کے نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ہے ؟

153: اَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِیْنَ (کیا اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیاں زیادہ پسندکیں) نحو : ہمزئہ استفہام مفتوح ہے۔ یہ استفہام توبیخی ہے اور ہمزہ وصل کو ہمزہ استفہام پر استغناء کرتے ہوئے حذف کردیا۔
Ayah 37:154

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تم کیسے لوگ ہو کس طرح کہ فیصلہ کرتے ہو ؟

154: مَالَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ (تم کو کیا ہوگیا تم کیا حکم لگاتے ہو) یہ فاسد حکم۔
Ayah 37:155

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

155: اَفَـلَا تَذَکَّرُوْنَ (کیا تم سوچ سے کام نہیں لیتے ہو) قراءت : حمزہ، علی، حفص نے تخفیف سے پڑھا۔
Ayah 37:156

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہے ؟

156: اَمْ لَکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ (ہاں کیا تمہارے پاس واضح دلیل ہے) ایسی دلیل جو تم پر آسمان سے اتری ہو جس میں یہ بتلایا گیا ہو کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔
Ayah 37:157

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

157: فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ (پس اپنی وہ کتاب پیش کرو) جو تم پر اس سلسلہ میں اتری ہو۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اپنے اس دعویٰ میں۔
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے

جنات کے متعلق غلط بیانی : 158: وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ (اور اللہ تعالیٰ اور) وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ (جنات میں قرار دی) الجنۃ سے مراد فرشتے ہیں۔ ان کے چھپنے کی وجہ سے ان کو جن کہہ دیا۔ نَسَبًا ( رشتہ داری) اور وہ ان کا خیال مزعومہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنات سے شادی کی۔ (معاذ اللہ) جس سے ملائکہ پیدا ہوئے۔ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ (اور فرشتوں کو معلوم ہے کہ بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بات کہی ہے) لَمُحْضَرُوْنَ (وہ ضرور گرفتار ہونگے) آگ میں۔
Ayah 37:159

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

159: سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ (اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو اولاد اور بیوی سے پاک قرار دیا۔
Ayah 37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر خدا کے بندگان خالص (مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے)

160: اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ (مگر جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں) ۔ فائدہ : یہ محضرین سے مستثنیٰ منقطع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مخلصین آگ سے نجات پانے والے ہیں۔ سبحان اللہ یہ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ یصفونؔ کی وائو سے مستثنیٰ ہو یعنی یصفہ ھولاء بذلک ولکن المخلصین براء من ان یصفوہ بہٖ یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ کے متعلق اس قسم کی بات کہتے ہیں مگر مخلص لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی باتیں کہنے سے بریٔ الذمہ ہیں۔