38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 38:1

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)

صٓ وَالْقُرْٰانِ ذِی الذِّکْرِ ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّ شِقَاقٍ (ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے۔ بلکہ یہ کفار تعصب اور مخالفت میں ہیں) 1: صؔ نمبر 1۔ حروف معجم میں سے اس حرف کا تذکرہ بطور تحدی اور اعجاز پر متنبہ کرنے کیلئے فرمایا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد قسم کا ذکر کیا جس کا جواب محذوف ہے۔ کیونکہ تحدی اس جواب پر دلالت کر رہی ہے گویا تقدیر کلام اس طرح ہے والقرآن ذی الذکر ای ذی الشرف انہٗ لکلام معجز۔ مرتبے والے قرآن کی قسم بیشک وہ معجز کلام ہے۔ نمبر 2۔ ص یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہو۔ اس طرح کہ وہ سورت کا نام ہو۔ گویا تقدیر کلام اس طرح سے ہو۔ ھذہٖ ص ای ھٰذہ السورۃ التی اعجزت العرب والقرآن ذی الذکر۔ یہ ص نام والی سورت ہے جس نے عرب کو عاجز کرکے رکھ دیا اور نصیحت والے قرآن کی قسم۔ یہ اسی طرح ہے جیسا تم کہو ھذا حاتم واللہ۔ تمہاری مراد اس سے یہ ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی قسم سخاوت میں مشہور ہے۔ اور اسی طرح جب اس سے قسم اٹھائی جائے تو گویا اس طرح کہو گے اَقْسَمُتْ بِصٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ ۔ اِنَّہٗ لَمُعْجِزٌ میں قسم اٹھاتا ہوں۔ صٓ کی اور قرآن نصیحت والے کی بیشک وہ قرآن معجز ہے۔ پھر فرمایا۔
Ayah 38:2

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں

2: بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ (اس پر یقین کرنے سے تکبر کر رہے ہیں اور اعتراف ِحق سے بڑائی اختیار کرنے والے ہیں) وَّ شِقَاقٍ (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ہیں) فائدئہ تنکیر : عزۃ اور شقاق کی تنوین تنکیریہ ظاہر کر رہی ہے۔ کہ ان کا تعصب اور مخالفت واکڑ انتہائی درجہ کی ہیں۔ قراءت : فی عِزَّۃٍپڑھا گیا ہے یعنی اس چیز سے غفلت میں مبتلا ہیں جس میں غور و فکر اور اتباع حق ان پر لازم ہے۔
Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا

3: کَمْ اَھْلَکْنَا (بہت سی امتوں کو ہم ہلاک کرچکے) تعصب واکڑ والے لوگوں کیلئے وعید ہے۔ مِنْ قَبْلِھِمْ (ان سے قبل) یعنی آپ کی قوم سے پہلے مِّنْ قَرْنٍ (امتیں) فَنَادَوْا (انہوں نے ہائے پکار کی) پس انہوں نے پکارا اور اس وقت فریاد کی جب انہوں نے عذاب دیکھا۔ وَّ لَاتَ (حالانکہ تھا) یہ لا مشبہ بلیس ہے اس پر تائے تانیث کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ رب اور ثم پر تاکید کیلئے اضافہ کیا جاتا ہے اور اس سے اس کا حکم بھی بدل گیا۔ اس صورت میں یہ صرف احیان پر داخل ہوتا ہے۔ اور اس کا ایک ہی مقتضٰی ظاہر ہوتا ہے خواہ اسم ہو یا خبر۔ دونوں پر اس کا ظہور ممتنع ہوجاتا ہے۔ یہ خلیل و سیبویہ کا مذہب ہے، اخفش نحوی کہتے ہیں۔ یہ لانفی جنس ہے اور تاء اس میں زائد ہے۔ اور احیان کی نفی کے ساتھ خاص ہے۔ حِیْنَ مَنَاصٍ (رہائی کا وقت) اور اسی لا کی وجہ سے منصوب ہے۔ گویا یوں کہا گیا ولا حین مناص لھم اور خلیل و سیبویہ کے نزدیک نصب کی وجہ لا مشبہ بلیس ہے۔ ولات الحین حین مناص ای لیس الحین حین مناص وہ وقت رہائی کا نہ تھا۔
Ayah 38:4

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

کفار کا تعجب : 4: وَ عَجِبُوْا اَنْ جَآ ئَ ھُمْ (اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس آگیا) عجب کا صلہ من محذوف ہے۔ کہ آمد سے تعجب کیا۔ مُّنْذِرٌ مِّنْھُمْ (ڈرانے والا انہی میں سے) رسول انہی میں سے یعنی انہوں نے اس بات کو بعید قرار دیا کہ کوئی بشر پیغمبر بن جائے۔ وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ (اور کافر کہنے لگے کہ یہ شخص ساحر کذاب ہے)
Ayah 38:5

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اسنے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے

توحید پر تعجب مگر شرک پر نہیں : 5: اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھـًا وَّاحِدًا اِنَّ ھٰذَا ( کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا) واقعی لَشَیْئٌ عُجَابٌ (یہ بہت ہی عجیب بات ہے) یہاں وقالوا کا لفظ استعمال نہیں فرمایا تاکہ ان پر غضب کا اظہار ہو اور اس بات پر دلالت ہو کہ اس بات کی جسارت وہ کافر ہی کرسکتا ہے جو کفر میں انتہاء کو پہنچا ہو۔ اور گمراہی میں خوب مشغول ہو۔ اس لئے کہ اس سے بڑا کفر اور کیا ہوگا کہ جسے اللہ تعالیٰ سچا بناکر بھیجے یہ اس کو کاذب و ساحر کہیں اور توحید جیسے واضح اور کھلے ہوئے حق پر تعجب کا اظہار کریں اور شرک پر ان کو ذرا تعجب نہ ہو۔ حالانکہ وہ محض باطل ہے۔ سردارانِ قریش کا وفد : روایت میں ہے کہ جب عمر ؓ اسلام لائے تو مسلمان بڑے خوش ہوئے اور قریش پر یہ بات بجلی بن کر گری چناچہ سردارانِ قریش کے پچیس سردار جمع ہوئے اور ابوطالب کے پاس جادھمکے اور کہنے لگے تم ہمارے بزرگ ہو اور یہ بیوقوف جو کچھ کررہے ہیں وہ تمہاری نظروں سے اوجھل نہیں۔ یہ مسلمانوں کو بیوقوف کہتے تھے۔ ہم تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں۔ تاکہ تم ہی ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان فیصلہ کردو۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلوا بھیجا۔ اور کہا اے بھتیجے ! یہ تمہاری قوم تم سے ایک مطالبہ کررہی ہے۔ تم مکمل طور پر اپنی قوم پر حملہ آور مت ہوجائو۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ مجھ سے کیا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں۔ سردارانِ قریش : ہمیں اور ہمارے معبودوں کو چھوڑدو۔ ہم تمہیں اور تمہارے معبود کو چھوڑ دیں گے کچھ نہ کہیں گے۔ آپ ﷺ نے کہا تم میری ایک بات مان لو جس سے تم پورے عرب پر غلبہ پالو گے۔ بلکہ عجم بھی تمہارے پیچھے چلیں گے۔ سرداران قریش نے کہا ہاں ہاں ایسی تو دس باتیں ماننے کیلئے ہم تیار، ہم مانیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تم لا الٰہ الا اللہ کہہ دو ۔ سردارانِ قریش فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اجعل الٰالھۃ الٰھًا واحدًا۔ کیا اس نے کردیا ایک معبود ! ان ھذا لشیٔ عجاب ] رواہ احمد 1/362، ترمذی 3232، الحاکم 2/432، ابن حیان 6686[۔ عجابؔ تعجب میں انتہاء کو پہنچا ہوا۔ ایک قول : عجیب وہ جس کی کوئی مثال ہو۔ عجاب۔ جس کی عجیب ہونے میں کوئی مثال نہ ہو۔
Ayah 38:6

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے

قریش کا ردعمل : 6: وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْھُمْ اَنِ امْشُوْا (ان کفار کے سردار یہ کہتے ہوئے چل دیے کہ چلو) ابوطالب کی مجلس سے سردارانِ قریش یہ کہتے ہوئے چل دیئے اس کے بعد کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو لا جواب کردیا اور کھر اکھرا جواب دیا۔ وہ ایک دوسرے کو کہتے جارہے چلو۔ چلو۔ اَنؔ یہاں ای کے معنی میں ہے کیونکہ بات چیت کی مجلس سے جانے والے لازماً باہمی بات کریں گے اور محفل میں پیش آنے والے معاملہ کو دہرائیں گے۔ پس ان کا جانا اس قول کے معنی کو متضمن ہے۔ وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِھَتِکُمْ اِنَّ ھٰذَآ لَشَیْ ئٌ یُّرَادُ (اور اپنے معبودوں پر قائم رہویہ کوئی مطلب کی بات ہے) ۔ واصبروا سے مرادبتوں کی عبادت پر قائم رہنا۔ ھذا کا مشارٌ الیہ امراسلام ہے۔ لشیٔ یرادؔ یعنی جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ رکھتے ہوں اور اس کے ہوجانے کا فیصلہ کرتے ہوں پس اس کے لئے لوٹنا نہیں اس میں سوائے صبر کے اور کوئی چیز ہمیں کام نہ دے گی۔ یا یہ معاملہ حوادث زمانہ میں سے ہے جو ہم پر آن پڑا ہم اس سے الگ نہیں رہ سکتے۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے

7: مَاسَمِعْنَا بِھٰذَا (ہم نے تو یہ بات نہیں سنی) یعنی توحید فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ (پچھلے مذہب میں) ملت عیسیٰ (علیہ السلام) میں جو کہ آخری ؔ ملت ہے کیونکہ نصاری تثلیث کے قائل ہیں۔ وحدانیت کے قائل نہیں۔ یا ملت قریش جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا۔ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ (نہیں ہے یہ مگر ایک گھڑت ہے) یہ کذب ہے جس کو محمد ﷺ نے (نعوذ باللہ) اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا

8: ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ ( کیا اس شخص پر کلام الٰہی نازل کیا گیا) الذکر سے قرآن مراد ہے۔ مِنْم بَیْنِنَا (ہم سب میں سے) انہوں نے اشراف کے ہوتے ہوئے آپ کا اس شرف سے مختص ہوجانا عجیب خیال کیا۔ اور حسد کی وجہ سے آپ پر کتاب اترنے کو انوکھا قرار دیا۔ جواب : بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ (بلکہ یہ لوگ تو میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں) ذکری سے قرآن مجید مراد ہے۔ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ (بلکہ انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزا چکھا نہیں) بلکہ ابھی تک انہوں نے میرا عذاب چکھا نہیں جب چکھ لیں گے۔ تو ان سے شک زائل ہوجائے گا۔ اور حسد کی دیوار گرجائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اسی وقت تصدیق کریں گے جب ان کو آکر عذاب گھیرے گا پھر مانیں گے مگر فائدہ نہ دارد۔
Ayah 38:9

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے

9: اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآپنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَھَّابِ (کیا ان کے پاس آپ کے پروردگار فیاض کی رحمت کے خزانے ہیں) یعنی وہ خزائن رحمت کے مالک نہیں تاکہ وہ جس کو چاہیں بانٹ دیں۔ یا ان کو خرچ کر ڈالیں جن پر پسند کریں اور بعض سرداروں کو نبوت کیلئے منتخب کریں اور اس سے محمد (ﷺ) سے اونچے ہوجائیں بلاشبہ جو رحمت اور اس کے خزائن کا مالک ہے وہ غالب اور اپنی مخلوق پر زبردست ہے۔ الوہابؔ بہت عطاء کرنے والا۔ اور مواقع پر عطا یا پہنچانے والا وہ عطاء جس کو اپنی حکمت کے تقاضوں سے تقسیم کرتا ہے۔ پھر اسی معنی پر ترشیح کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 38:10

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان (سب) پر انہیں ہی کی حکومت ہے تو چاہیے کہ رسیاں تان کر (آسمانوں پر) چڑھ جائیں

10: اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا (کیا ان کو آسمان و زمین اور جو ان کے مابین ہے۔ اس کا اختیار حاصل ہے) کہ جس کی بناء پر امور ربانیہ میں کلام بازی پر اتر آئے اور ان تدابیرالٰہیہ کے متعلق جو رب العزت و الکبریاء کے ساتھ خاص ہیں۔ بات کرنے لگے پھر ان کو خوب شرمایا اور فرمایا ! اگر وہ تدبیر خلائق اور تقسیم رحمت میں تصرف پر مختار بن گئے ہیں تو فَلْیَرْ تَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ (تو ان کو چاہیئے کہ سیڑھیاں لگا کر چڑھ جائیں) اور ان راستوں پر چلیں جو آسمان تک پہنچنے والے ہیں۔ تاکہ جہان کے معاملات کی تدبیر کریں۔ اور اللہ کی ملکوت کا معاملہ چلائیں اور اپنے من پسند پر وحی اتار لائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے نصرت کا وعدہ فرمایا۔
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے

کفارِ قریش کو شکست ہوگی : 1 1: جُنْدٌ مَّا ھُنَا لِکَ (ان لوگوں کی یونہی بھیڑ ہے اس مقام پر) جندٌ مبتدأ اور ماؔ موصولہ یہ نکرہ مبتدأ کی تقویت کیلئے لایا گیا۔ اس کی خبر مہزوم ہے اور من الاحزاب یہ جندٌ یا مھزوم کے متعلق ہے۔ ھنالکؔ سے بدر اور اس میں کفار کی قتل گاہوں کی طرف اشارہ ہے یا اس طرف اشارہ ہے جس بڑے کام میں انہوں نے اپنے کو ڈال رکھا تھا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ جو آدمی کسی ایسے کام میں پڑے جس کی اہلیت نہ ہو تو کہتے ہیں۔ لست ھنالک تو اس کام کو نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح یہاں فرمایا : ما ھنالک مَھْزُوْمٌ (شکست دئیے جائیں گے) ۔ مِّنَ الْاَحْزَابِ (من جملہ گروہوں میں سے ) مراد یہ ہے یہ ایک گروہ کفار ہے جو رسول اللہ ﷺ کے خلاف جتھہ بندی کرنے والوں میں سے ہے یہ عنقریب شکست کھائیں گے۔ آپ ان کی باتوں کی پرواہ نہ کریں۔ اور نہ غم زدہ ہوں اس پر جس کے لئے یہ گروہ بندی کر رہے ہیں۔
Ayah 38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اسکی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں

12: کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ (ان سے پہلے جھٹلایا) اہل مکہ سے پہلے قَوْمُ نُوْحٍ (قوم نوح نے) نوح (علیہ السلام) کو وَّ عَادٌ (اور عاد نے) ہود (علیہ السلام) کو وَّ فِرْعَوْنُ (اور فرعون نے) موسیٰ (علیہ السلام) کو ذوالْاَوْتَادِ (میخوں والا) ایک قول : کہ اس کے ہاں کیلیں اور رسیاں تھیں جن سے اس کے سامنے کھیلتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جس کو وہ سزا دیتا اس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں ٹانگوں میں کیل ٹھونک دیتا۔
Ayah 38:13

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن کے رہنے والے بھی یہی وہ گروہ ہیں

ثمود و فرعون کی تکذیب اور اس کا نتیجہ : 13: وَثَمُوْدُ (اور قوم ثمود نے) صالح (علیہ السلام) کو وَقَوْمُ لُوْطٍ (اور قوم لوط نے) لوط (علیہ السلام) کو وَّ اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ (اور بن والوں نے) شعیب (علیہ السلام) کو اُولٰٓپکَ الْاَحْزَابُ (وہ گروہ یہی لوگ ہیں) اس اشارہ کا مقصد یہ ہے کہ اعلان کردیا جائے۔ وہ گروہ جن میں سے ان کو شکست خوردہ قرار دیا گیا ہے وہ انہی میں سے ہیں اور وہ ایسے ہی لوگ تھے جن سے تکذیب پائی گئی۔
Ayah 38:14

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا

14: اِنْ کُلٌّ اِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ (ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا) اولاً ان کی تکذیب کا تذکرہ جملہ خبر یہ سے کیا اور اس میں ابہام باقی رکھا اس طرح کہ مکذب کو واضح کردیا۔ اور جن کی تکذیب کی گئی یعنی رسل ان کو بیان کردیا۔ اور یہ ذکر فرمایا کہ ان گروہوں میں سے ہر ایک نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ اس لئے کہ ایک کی تکذیب وہ سب کی تکذیب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغام و دعوت سب کی ایک ہے۔ تکذیب کو دوبارہ لائے، ابہام کے بعد اس کی وضاحت کی، اور شروع میں جملہ لا کر باربار لانے میں اس کی تنویع کی طرف اشارہ کردیا۔ پھر جملہ استثنائیہ سے دوبارہ لائے اور استثنائیہ کو جس انداز سے لائے۔ اس میں کئی قسم کا مبالغہ کردیا۔ تاکہ ان کا سخت سزائوں کا مستحق ہونا خوب ثابت ہوجائے۔ پھر مزید فرما دیا۔ فَحَقَّ عِقَابِ (پس میرا عذاب واقع ہوگیا) پھر اس سے یہ لازم ہوگیا کہ میں سزادوں جیسے سزا دینی چاہیے۔ قراءت : یعقوب نے دونوں حالتوں میں عقابیؔ پڑھا ہے۔ اسی طرح عذابیؔ۔
Ayah 38:15

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا انتظار کرتے ہیں

15: وَ مَایَنْظُرُ ھٰٓؤُ لَآ ئِ (نہیں یہ انتظار کر رہے) یعنی ھؤلاء کا مشارالیہ اہل مکہ ہیں۔ اِلَّا صَیْحَۃً وَّ احِدَۃً (مگر ایک زور کی چیخ کا) نفخہ اولی مراد ہے اور وہ بڑی گھبراہٹ کا دن ہے۔ مَّا لَھَا مِنْ فَوَاقٍ (جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی) قراءت : حمزہ اور علی نے ضمہ سے پڑھا فواقؔ یعنی وہ ایک سانس کی مقدار بھی نہ رکے گی۔ فواقؔ دراصل دودھ دوہنے والے کے پہلی مرتبہ تھنوں سے دودھ نکالنے اور دوسری مرتبہ نکالنے کا درمیانی وقفہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کا وقت آجائے گا تو اتنے وقت کی مقدار بھی توقف و تاخر نہ ہوگا۔ قول ابن عباس ؓ : اس کیلئے لوٹنا اور لوٹانا نہیں ہے۔ یہ افاق المریض سے ماخوذ ہے۔ جبکہ وہ صحت کی طرف لوٹ آئے۔ اور فواق الناقہؔ وہ وقفہ جس میں دودھ اپنے تھنوں میں واپس لوٹ آئے۔ مراد یہ ہے کہ بس وہ تو ایک پھونک ہے۔ نہ دوسرا سانس اور نہ سانس کا لوٹانا۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے

استہزائے کفار : 16: وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا (اور یہ لوگ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمارا حصہ ہم کو پہلے دے دے) جنت والا حصہ۔ کیوں کہ رسول (علیہ السلام) نے مؤمنین کے ساتھ وعدئہ جنت کو ذکر کیا تو کفار بطور استہزاء کہنے لگے۔ ہمیں تو ہمارا حصہ اس میں سے جلدی دے دو یا بقول تمہارے اگر ہم عذاب کے حقدار ہیں تو عذاب والا حصہ جلدی ملا دو ۔ جیسا دوسرے موقعہ پر فرمایا ویستعجلونک بالعذاب ] الحج : 47[ القطؔ کسی چیز کا حصہ۔ کیونکہ وہ اسی کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ یہ قطہؔ سے ہے جبکہ اس کو کاٹا جائے۔ اس لئے انعامی دستاویز کو قطؔ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ (قیامت کے دن سے پہلے)
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے

تلقین صبر : 17: اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (آپ ان کے اقوال پر صبر کیجئے) جو آپ کے متعلق کہہ رہے ہیں اور اپنی حد تک جس صبر کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں اس سے مت پیچھے ہٹیں اور ان کی طرف سے پیش آئندہ تکلیف کو برداشت کریں۔ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ (اور ہمارے بندے دائود کو یاد کیجئے) اور ان کا اکرام بارگاہ الٰہی میں اور وہ معمولی لغزش جو پیش آئی جس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عتاب ہوا۔ ذَا الْاَیْدِ (وہ بڑی قوت والے تھے) ۔ دین میں بڑے مضبوط اِنَّہٗ اَوَّابٌ (وہ بہت رجوع کرنے والے تھے) یعنی رضائے الٰہی کی طرف بہت رجوع کرنے والے۔ یہ ذا الاید ؔ کی علت ہے۔ روایت ہے : دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار فرماتے اور یہ سخت ترین روزہ ہے۔ اور نصف رات قیام فرماتے۔
Ayah 38:18

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے

18: اِنَّا سَخَّرْنَا (بیشک ہم نے حکم کررکھا تھا) مطیع کردیا تھا۔ الْجِبِالَ مَعَہٗ (پہاڑوں کو ان کے ساتھ) ایک قول : یہ ہے کہ ان کی تسخیر یہ تھی کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ چلتے۔ جب وہ ان کو چلانے کا ارادہ فرماتے۔ جہاں کا ارادہ فرماتے۔ یُسَبِّحْنَ (وہ تسبیح کریں) ۔ فائدہ : یہ مضارع حال واقع ہے مسبحات کے معنی میں ہے مسبحات کی بجائے مضارع اس لئے لایا گیا تاکہ پہاڑوں سے اس تسبیح کے یکے بعد دیگرے اور ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں کرنے پر دلالت ہو۔ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ (صبح وشام) یعنی دن کے دونوں اطراف میں العشیؔ عصر سے رات تک کا وقت اور اشراقؔ وقت طلوع سے چاشت تک کا وقت باقی شروق طلوع کو کہا جاتا ہے جیسا کہتے ہیں : شرقت الشمس ولما تشرق۔ سورج طلوع تو ہوگیا مگر ابھی خوب روشنی نہیں ہوتی۔ قول ابن عباس ؓ : مجھے صلاۃ ضحی کا پتہ اس آیت سے چلا۔
Ayah 38:19

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے سب ان کے فرمانبردار تھے

دائود ( علیہ السلام) اور پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح : 19: وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً (اور پرندوں کو جو کہ جمع ہوجاتے تھے) یعنی ہم نے پرندوں کو ان کا مطیع کردیا جو ہر طرف سے جمع ہوجاتے تھے۔ قول ابن عباس ؓ جب دائود (علیہ السلام) تسبیح کرتے تو پہاڑ تسبیح سے ان کا جواب دیتے اور پرندے پر باندھ کر آجاتے اور تسبیح کرتے پس ان کے جمع ہونے کا یہی معنی ہے۔ کُلٌّ لَّہٗ اَوَّابٌ (سب ان کی وجہ سے مشغول ذکر رہتے) ہر ایک خواہ پہاڑ ہوں یا پرندے وہ دائود (علیہ السلام) کی تسبیح کی وجہ سے تسبیح خواں تھے۔ کیونکہ وہ ان کی تسبیح کی وجہ سے تسبیح کرتے تھے۔ آیت میں اَوّاب کا لفظ لایا گیا۔ مُسبِّحٌ نہیں فرمایا کیونکہ اَوّاب توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ جس کی عادت کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کی رضا مندیوں کا ڈھونڈنا ہو۔ اور دائمی طور پر اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہے۔ ایک قول یہ ہے ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی ہر ایک خواہ وہ دائود اور پہاڑو پرند ہوں اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح کرنے والا اور اس کو بار بارلوٹانے والا ہے۔
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)

مضبوط سلطنت ‘ فیصلہ کن خطاب : 20: وَ شَدَدْنَا مُلْکَہٗ (اور ہم نے ان کی سلطنت کو مضبوط کردیا) ان کے ملک کو مضبوط کردیا۔ ایک قول یہ ہے آپ کے قلعہ کے گرد تینتیس ہزار آدمی بطور حفاظت مقر ر تھے۔ وَاٰتَیْنٰـہُ الْحِکْمَۃَ (اور ہم نے ان کو حکمت) حکمت سے مراد زبور اور شریعت کا علم ایک قول ہے کہ ہر موافق حق کلمہ حکمت کہلاتا ہے۔ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطاء فرمائی) فیصلہ کرنے کا علم اور جھگڑا طے کرنے کی اہلیت اور حق و باطل میں جدائی کرنے والاعلم دیا۔ الفصلؔ دو چیزوں میں امتیاز کو کہا جاتا ہے کلام بین کو فصل بمعنی مفصول کہا جاتا ہے جیسا کضرب الا میر اے مضروب الامیر۔ فَصْلَ الْخِطَابِ : ایسا واضح کلام جس سے مخاطب پر بات کھل جائے اور ذرا التباس نہ رہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ فصل کو فاصل اسم فاعل کے معنی میں لیاجائے جیسا کہ صوم بمعنی صائم ؔ اور الزور بمعنی زائرؔ آتا ہے۔ اس صورت میں فصل الخطاب کا معنی وہ فیصلہ کن خطاب جو صحیح وفاسد اور حق و باطل میں جدائی کردے۔ اس سے آپ کا وہ کلام مراد ہے جو فیصلوں اور جھگڑوں اور تدابیر مملکت اور مشوروں کی صورت میں آپ نے فرمایا۔ قول علی ؓ : وہ مدعی پر دلیل سے حکم لگانا اور یمین سے مدعیٰ علیہ کے متعلق فیصلہ کرنا۔ یہ حق و باطل میں فاصلہ کرنا ہے۔ (یعنی مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ اگر گواہ نہ ہو تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی) ۔ قولِ شعبی (رح) : کہ فصل الخطاب سے اما بعدؔ کا لفظ مراد ہے کہ حمد وثنا اور اپنے کلام میں فاصلہ کرتا ہے اور دائو دعلیہ السلام نے سب سے پہلے کہا گویا غرض کلام اور حمد وثناء میں فاصلہ کرنے والا ہے۔
Ayah 38:21

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے

عبادت گاہ میں دو فریق کا داخلہ : 21: وَھَلْ اَتٰـکَ نَبَؤُ ا الْخَصْمِ (اور کیا آپ کو اہل مقدمہ کی خبر بھی پہنچی ہے) یہ بظاہر استفہام ہے اور اس کا مقصدعجیب خبر پر دلالت کرنا ہے۔ الخصم : الخصماءؔ یہ واحد و جمع دونوں پر بولے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ اصل میں مصدر ہے تم کہوگے خصمہ خصمًا۔ اذؔ یہ محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے وھل اتاک نبأ تحاکم الخصم یا بالخصم کیونکہ اس میں فعل کا معنی ہے۔ اِذْ تَسَوَّرُ وا الْمِحْرَابَ (جبکہ وہ عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر آئے) اس کی دیوار پر چڑھ کر آپ کی طرف اتر آئے۔ السورؔ بلند دیوار المحراب کمرہ، بالاخانہ، یا عبادت گاہ یابرآمدئہ مسجد۔
Ayah 38:22

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے گا اور ہم کو سیدھا راستہ دکھا دیجئے

22: اِذْدَخَلُوْا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْہُمْ (جب وہ دائود کے پاس ٓائے تو وہ ان سے گھبرا گئے) نحو : اذؔ یہ پہلے اذ سے بدل ہے۔ روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس دو فرشتے انسانی شکلوں میں بھیجے پس انہوں نے ان کے پاس آنا چاہا۔ تو دائود کو عبادت کے دن میں پایا۔ پہرہ داروں نے ان کو روک لیا۔ وہ عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر ان کے سامنے بیخبر ی کی حالت میں جا کھڑے ہوئے۔ اس دم آپ ان سے گھبرائے۔ کیونکہ وہ دونوں یوم الفصل کے علاوہ داخل ہوئے تھے۔ اور اوپر سے ان کے پاس اتر آئے۔ جبکہ یہ دن عبادت خانہ میں علیحدگی کا تھا اور پہرہ دار داخلہ کیلئے کسی کو چھوڑنے والے نہ تھے۔ قَالُوْا لَا تَخَفْ خَصْمٰنِ (وہ کہنے لگے ڈرو نہیں ہم تو اہل معاملہ ہیں) نحو : یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے ای نحن خصمان، بَغٰی بَعْضُنَا عَلٰی بَعْضٍ (ہم نے ایک دوسرے پر زیادتی کی ہے) بغٰی کا معنی حد سے گزرنا، ظلم کرنا۔ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ (آپ ہمارے مابین انصاف سے فیصلہ کردیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے) لا تشطط یہ الشطط سے لیا گیا اس کا معنی حد سے تجاوز کرنا اور حق کی حدود کو پھاندنا۔ پس معنی یہ ہے حق سے تجاوز مت کریں۔ وَاھْدِنَآ اِلٰی سَوَآ ئِ الصِّرَاطِ (اور ہم کو سیدھی راہ بتلا دیجئے) ہماری راہنمائی میانے اور روشن راستے کی طرف کریں۔ مراد اس سے بعینہٖ حق اور خالص راستہ۔ روایت ہے : دائود (علیہ السلام) کے زمانہ میں لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے اور دوسرے مسلمان کی خاطر اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرلیتے اور دوسرا اپنی مرضی سے اس کے ساتھ شادی کرلیتا۔ ہمدردی میں ان کے مابین یہ بات چلی ہوئی تھی۔ انصار مدینہ بھی مہاجرین کے ساتھ اس قسم کی ہمدردی کا اظہار کرنے والے تھے۔ اتفاقاً دائودعلیہ السلام کی نگاہ اور یا کی بیوی پر پڑی۔ پسند آنے کی صورت میں اور یا کو طلاق کا حکم دیا۔ اور یا نے جواب دینے کی بجائے اس کو قبول کرلیا۔ آپ نے اس سے شادی کرلی۔ یہ سلیمان ( علیہ السلام) کی والدہ ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ آپ کو اپنے عظیم مرتبہ اور کثیرتعداد میں عورتوں کے ہوتے ہوئے مناسب نہ تھا کہ ایسے آدمی سے اس کی بیوی کو علیحدہ کر وائیں جس کی ایک ہی بیوی تھی۔ بلکہ آپ کو اپنی تمنا پر کنٹرول کرنا چاہیے تھا۔ اور نفس کو دبانا چاہیے تھا۔ اور اس امتحان پر صبر کرنا تھا۔ ایک قول یہ ہے : اوریا نے اس عورت کی طرف پیغام نکاح بھیجا۔ پھر دائود (علیہ السلام) نے پیغام نکاح بھیج دیا۔ عورت کے گھر والوں نے آپ کو ترجیح دی۔ پس لغزش یہ تھی کہ آپ نے اپنے ایک مومن بھائی کے پیغام پر پیغام دیا تھا حالانکہ آپ کی بہت سی بیویاں موجود تھی۔ ایک بےاصل بات کی تردید : یہ بات جو بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے اور یا کو بار بار غزوئہ بلقاء میں بھیجا تاکہ وہ قتل ہوجائے اور آپ اس کی بیوی سے شادی کرلیں۔ یہ بات تو عام مسلمانوں کے اصلاح کرنے والے افراد کو بھی درست نہیں تو ایک جلیل القدر پیغمبر کی عظمت کے کیونکر لائق و مناسب ہے ( نعوذ باللہ منہ) ۔ قولِ علی ؓ : جو تمہیں دائود (علیہ السلام) کے متعلق وہ بات بیان کرے۔ جس کو قصہ گولوگ بیان کرتے ہیں میں اس کو ایک سو ساٹھ کوڑے ماروں گا۔ یہ انبیاء (علیہم السلام) پر بہتان کی سزا ہے۔ (عام لوگوں پر بہتان کے اسی کوڑے اور انبیاء (علیہم السلام) پر بہتان کے دوگنا) ایک روایت میں ہے کہ عمربن عبدالعزیز (رح) کے سامنے یہ بات بیان کی گئی۔ آپ کے پاس اہل حق میں سے ایک شخص بیٹھا تھا۔ اس نے بیان کرنے والے کی تکذیب کی اور کہا اگر واقعہ اتنا ہی ہے۔ جتنا قرآن مجید میں ہے تو اس کے خلاف اور کہیں سے تلاش کرنا مناسب نہیں۔ اور اس کے علاوہ اور قصہ بیان کرنا تو اس سے بھی زیادہ بڑھ کر گناہ ہے۔ اور اگر بقول تیرے قصہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ستاری فرماتے ہوئے بیان نہیں فرمایا تو تجھے اس کا ظاہر کرنا جائز نہیں اس پر عمر کہنے لگے اس کلام کا سننا مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ (کیونکہ انہوں نے اس قصہ کی حقیقت کھول دی جس سے نبوت کا دامن پاک ہوگیا) علامہ نسفی (رح) کا فرمان : وہ مثال جس کو ان کے واقعہ کے لئے بیان فرمایا گیا وہ صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کی طلب یہ تھی کہ وہ آپ کی خاطر بیوی کو چھوڑدے۔ فقط۔ اور بات بھی تمثیل کے طریقہ اور تعریض کے انداز سے ذکر کی گئی صراحت نہیں گئی کیونکہ توبیخ کیلئے تمثیل وتعریض کا طریقہ زیادہ موثر اور دل میں جمنے والا ہے۔ اور صراحت کے ترک میں حسن ادب کی زیادت رعایت ہے۔
Ayah 38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اسکے (ہاں) نناوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دنبی ہے یہ کہتا ہے یہ بھی میرے حوالے کر دے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے

نعجہکا واقعہ : 23: اِنَّ ھٰذَا اَخِیْ (یہ شخص میرا بھائی ہے) نحو : اخیؔ یہ ھذا کا بدل یا خبر ہے۔ کیونکہ مراد اخوت ِدین یا اخوت الفت و صداقت یا اخوت ِشراکت وخلاطت مراد ہے جیسا کہ دوسرے ارشاد میں فرمایا ان کثیرًا من الخلطاء ] ص : 24 [ لَہٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّ لِیَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ (اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے) ۔ قراءت : یہ حفص کی قراءت ہے وَلِیْ یہ نافع ابن کثیر، حمزہ کی قراءت ہے۔ النعجۃ یہ مرأۃ سے کنایہ ہے اور جب یہ مسئلہ کی تصویر ہے۔ اور بطور فرض یہ ذکر کیا گیا تو ملائکہ کیلئے اپنے نفسوں کے بارے میں فرض کرنا ممتنع نہیں۔ جیسا تم کہو۔ لی اربعون شاۃً ولک اربعون فخلطنا ھا وما لکما من الاربعین اربعۃ ولا ربعھا۔ فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا (وہ کہتا ہے وہ بھی مجھے دے دو ) مجھے اس کا مالک بنادو۔ اور حقیقت اس کی اس طرح ہے اجعلنی اکفلھا کما اکفل ماتحت یدی۔ مجھے اس کا بھی اسی طرح کفیل بنادو جیسا میں ان کا کفیل ہوں جو میرے ماتحت ہیں۔ قول ابن عباس۔ : اجعلھا کفلی : اس کو میرے حصہ میں کر دے۔ وَعَزَّنِی (اور مجھے دباتا ہے) اور مجھ پر غالب ہے عرب کہتے ہیں عزہ یعزہ وہ غالب آیا۔ فِی الْخِطَابِ (بات چیت میں) جھگڑے میں ‘ وہ دلیل پیش کرنے میں مجھ سے زیادہ قدرت رکھتا ہے۔ اور الخطاب ؔ سے مراد حجت ومجادلہ والا خطاب ہے۔ یا میں نے عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ اور اس نے بھی نکاح کا پیغام بھیجا وہ پیغام نکاح میں مجھ پر غالب آگیا۔ اور اس عورت مخطوبہ سے نکاح کرلیا۔ وجہ تمثیل : یہ ہے کہ اور یا کے واقعہ کو دائود کے ساتھ جو پیش آیا بطورتمثیل ذکر کیا۔ کہ جیسے ایک آدمی جس کے پاس ایک بکری ہو۔ اور اس کے شراکت دار کے پاس ننانوے بکریاں ہوں۔ اور اس کا شراکت دار پوری سو ملکیت میں کرنا چاہتا ہو اور اپنے شراکت دار کی ایک بکری پر طمع کی نظر رکھے اور اس کی ملک سے اس بکری کے نکل جانے کی طمع رکھتا ہو۔ اور اس سے حریص کی طرح حجت بازی کرے۔ تاکہ اس کا مقصد پورا ہو۔ یہ بات آپ کے پاس فیصلہ کروانے کے انداز میں تھی۔ آپ نے ان کو اس ارشاد سے فیصلہ دیا۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بیشک تجھ پر ظلم کرتا ہے اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گرپڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا

24: قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ (دائود (علیہ السلام) نے کہا یہ جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کرتا ہے۔ تو واقعی تجھ پر ظلم کرتا ہے) تاکہ وہ اپنے حکم سے رکاوٹ بنے۔ یہ قسم محذوف کا جواب ہے۔ اس میں شریک کے فعل کا سخت انکار و مذمت ہے۔ : السوالؔ یہ مصدر ہے جس کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔ اور یہ اضافت کے معنی کو متضمن ہے اسی لئے اس کی طرف متعدی کیا گیا۔ گویا تقدیرکلام یہ ہے باضافۃ نعجتک الی نعاجہٖ علی وجہ السوال والطلب۔ وہ طلب وسوال کے انداز سے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی کا اضافہ چاہتا ہے۔ اس میں دوسرے کو ظالم قرار دیا گیا اس کے بعد کہ اس کے شریک نے خود اعتراف کرلیا۔ لیکن یہ قرآن میں بیان نہیں کیا گیا۔ کیونکہ خود سمجھ آرہا ہے۔ ایک روایت : روایت میں ہے کہ اس نے کہا میں اس سے لینا چاہتا ہوں۔ اور اپنی بکریوں کی تعداد سو پوری کرنا چاہتا ہوں۔ دائود (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تو نے اس کا قصد کیا تو ہم تیرے ناک اور پیشانی پر ماریں گے۔ اس نے کہ اے دائود تم اس بات کے زیادہ مستحق ہو کہ تمہیں یہ مارے جائیں۔ تم نے ایسا کیا پھر دائود (علیہ السلام) نے دیکھا۔ تو کوئی نظرنہ آیا پس اس کو پہچان لیا جو سلسلہ پیش آیا۔ وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآ ئِ (اور بیشک اکثر شرکاء) یعنی اکثر ساتھی اور شرکاء لَیَبْغِیْ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا (ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں۔ مگر ہاں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں) الصّٰلِحٰتِ وَقَلِیْلٌ مَّا ھُمْ وَظَنَّ دَاوٗدُ (اور نیک کام کرتے ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور دائود کو خیال آیا) : مستثنیٰ منصوب ہے۔ اور وہ جنس سے ہے اور مستثنیٰ بعضہم ہے قلیل ماھمؔ میں مامبہم ہے جو ابہام ہی کیلئے لایا گیا ہے ھمؔ مبتدأ اور قلیلؔ خبر مقدم ہے۔ ظنؔ یہاں علم اور ایقن کے معنی میں ہے۔ اور بطور استعارہ ظن کا لفظ ان کی جگہ لایا گیا کیونکہ ظن غالب یقین کے قریب ہے۔ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ (کہ ہم نے اس کو آزمایا) فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ (پس انہوں نے اپنے رب سے توبہ کی) اپنی لغزش کی وَ خَرَّ رَاکِعًا (اور سجدہ میں گرپڑے) یعنی اپنے ماتھے کے بل بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوگئے۔ : اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رکوع سجدہ کے قائم مقام ہے جبکہ وہ اس میں نیت کرلے۔ کیونکہ مقصود صرف وہ حالت ہے۔ اس کی تلاوت کے وقت تواضع کو ظاہر کرسکے۔ نماز کے اندر رکوع یہ کام دے جاتا ہے۔ غیرصلوٰۃ کا رکوع یہ کام نہیں دیتا۔ (اسی لئے اس سے سجدئہ تلاوت غیر صلوٰۃ میں ادا نہیں ہوتا) وَّ اَنَابَ (اور رجوع کیا توبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے۔ روایت میں ہے انہوں نے سجدہ میں چالیس دن رات گزارے صرف فرضی نمازوں کے لئے سجدہ سے سرا ٹھاتے تھے۔ یا اتنا جتنا کرنا ضروری تھا۔ ان کے آنسو نہ رکتے تھے یہاں تک کہ ان کے آنسوئوں سے گھاس اگ آئی۔ اور جب پانی پیتے تو اس کے دو حصے آنکھوں سے گرنے والے آنسو ہوتے۔
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

25: فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ (پس ہم نے ان کو وہ معاف کردیا) یعنی ان کی لغزش وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَ نَا لَزُلْفٰی (اور ہمارے یہاں ان کے لئے قرب) زلفٰی قربت کو کہتے ہیں۔ وَ حُسْنَ مَاٰبٍ (اور نیک انجامی ہے) لوٹنے کی جگہ یعنی جنت۔
Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے راستے سے بھٹکا دے گی جو لوگ خدا کے راستے سے بھٹکتے ہیں انکے لئے سخت عذاب (تیار) ہے لہ انہوں نے حساب کے دن کو بھولا دیا

26: یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ (اے دائود ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنا یا) ہم نے زمین میں ملک پر حکمران بنایا۔ یا ہم نے آپ کو ان انبیاء (علیہم السلام) کا خلیفہ بنایا جو حق پر قائم رہنے والے تھے۔ فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ ان کی حالت توبہ کے بعد اسی طرح باقی رہی اس میں تغیر نہ آیا۔ عدل کے فیصلے کا حکم : فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ (تم لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے رہنا) اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ اس لئے کہ تم خلیفہ ہو۔ یابالحق کا معنی بالعدل ہے یعنی انصاف سے۔ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی (اور خواہش نفسانی کی پیروی مت کرنا) اپنے فیصلوں میں خواہش نفس فَیُضِلَّکَ (وہ بھٹکا دے گی) یعنی خواہش نفس عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستہ سے) سَبِیْلِ اللّٰہِ (بھٹکتے ہیں) سبیل اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا دین لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ 0 بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ (ان کے لئے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے) ان کے یوم حساب و عذاب کو بھلا دینے کے سبب۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے

27: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآ ئَ وَالْاَرْضَ وَمَابَیْنَھُمَا (اور ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے نہیں پیدا کیا) مابینؔ سے مراد جو مخلوق ان کے درمیان ہے۔ بَاطِلاً (خالی ازحکمت) فضول تخلیق جس میں کوئی اہم حکمت نہ ہو یا بیکار کھیل تماشے کیلئے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وما خلقنا السماء والارض وما بینہما لاعبین ] الانبیاء : 16 [ تقدیر کلام یہ ہے۔ ذوی باطل یا عبثا پھر باطل کو اس کے قائم مقام لائے ای ما خلقناھما وما بینھما للعبث واللعب ولکن للحق المتین یعنی ہم نے دونوں کو اور جو ان کے مابین ہے کھیل کود کیلئے نہیں بنایا۔ لیکن مضبوط حق کیلئے بنایا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو پیدا کر کے ان میں عقل رکھی اور سنجیدگی اور وقار دیا۔ اس کے اسباب و علل کی وضاحت کی پھر مکلف بنا کر بیشمار منافع پر نفوس کو پیش کردیا۔ اور ان نفوس کیلئے اعمال کے مطابق جزاء اور انجام بنایا ذٰلِکَ (یہ) اس سے باطل تخلیق والی بات کی طرف اشارہ ہے۔ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (ان لوگوں کا خیال ہے جو کافر ہیں) الظنؔ کا معنی مظنون ہے یعنی کہ اس کی تخلیق عبث ہے بتقاضائے حکمت نہیں یہ کافروں کا خیال ہے۔ نکتہ : اس آیت میں ان کو ظانین قرار دیا کہ ان کی تخلیق عبث ہے حکمت کی بناء پر نہیں حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین اور جو ان کے مابین ہے اس کا خالق مانتے تھے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ ولئن سالتھم من خلق السمٰوٰت والارض لیقولن اللّٰہ ] لقمان : 25[ کیونکہ جب وہ بعث، حساب، ثواب و عقاب کے منکر ہیں اور اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر چیز کی تخلیق عبث و باطل ہے۔ ان کو اس طرح قرار دیا گیا گویا کہ وہ اس کا گمان کرتے اور زبانوں سے کہتے ہیں کیونکہ بدلہ ہی وہ چیز ہے جس کی طرف تخلیق کائنات میں حکمت لے جاتی ہے پس جو جزاء کا منکر ہوا تو وہ گویا تخلیق عالم کی حکمت ہی کا منکرہوگیا۔ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ (پس کافروں کیلئے بڑی خرابی ہے یعنی دوزخ ) ۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے کیا ان کو ہم انکی طرح کردیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے

28: اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے) کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ (ان کے برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرتے پھرتے ہیں۔ یا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے) ام منقطعہ ہے۔ اور استفہام انکاری ہے۔ مراد یہ ہے اگر جزاء باطل ہو جیسا کہ کفار کہتے ہیں تو نیک وبد کے احوال برابر ہوئے اور متقین اور فاجر میں فرق نہ ہوا اور جو ان کے مابین برابری کرتا ہے وہ عقل مند نہیں بلکہ عقل سے پیدل اور بیوقوف ہے۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

29: کِتٰبٌ (یہ کتاب ہے) اَنْزَلْنٰـہُ اِلَیْکَ (جس کو ہم نے تیری طرف اتارا) یعنی قرآن مجید مُبٰرَکٌ (با برکت ہے) یہ دوسری صفت ہے۔ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ (تاکہ وہ اس کی آیات پر غور کریں) اس کی اصل لیتدبروا ہے اور اس طرح بھی پڑھا گیا ہے۔ اور اس کا معنی تاکہ وہ اس میں سوچ و بچار کریں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی اطلاع پائیں اور اس پر عمل کریں۔ قولِ حسن (رح) : اس قرآن کو غلاموں اور بچوں نے پڑھا۔ جن کو اسکے مطالب کا علم نہیں اور اسکے حروف کو یاد کیا اور اس کی حدود کو ضائع کیا۔ قراءت : یزید نے لتدبّروا خطاب کا صیغہ ایک تاء کو حذف کرکے پڑھا ہے۔ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (تاکہ اہل فہم نصیحت حاصل کریں) تاکہ عقلاء قرآن سے نصیحت پکڑ لیں۔
Ayah 38:30

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے

حضرت سلیمان ( علیہ السلام) پر گھوڑوں کا پیش کیا جانا : 30: وَوَھَبْنَا لِدَاوٗ دَ سُلَیْمٰنَ نِعْمَ الْعَبْدُ (اور ہم نے دائود کو سلیمان عطا کیا بہت اچھے بندے تھے) یعنی سلیمان۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ دائود (علیہ السلام) ہیں۔ اور یہ درست نہیں مخصوص بالمدح محذوف ہے۔ اِنَّہٗ اَوَّابٌ (بہت رجوع کرنے والے تھے) ممدوح ہونے کی علت اواب بتلائی یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔
Ayah 38:31

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے

31: اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ (جبکہ پیش کیے گئے ان کے روبرو) سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے بِالْعَشِیِّ (شام کے وقت) ظہر کے بعد الصّٰفِنٰتُ (اصیل) تین پائوں پر کھڑے ہونے والے گھوڑے اور چوتھا صرف کھرکاکنارہ لگاتے ہیں۔ الْجِیَادُ (عمدہ گھوڑے) جمع جواد کی ہے، تیز رفتار، کیونکہ وہ گھوڑدوڑ میں عمدہ ہوتے ہیں۔ ان کو صفون کہا کیونکہ یہ صفت عربی گھوڑوں میں ہوتی ہے۔ دوغلے گھوڑوں میں نہیں ہوتی۔ ایک قول یہ ہے : ان کو صافن اور جیاد کہا تاکہ وہ دونوں وصفوں کے جامع بن جائیں رکنے اور دوڑنے والے۔ یعنی جب کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے مواقف پر ساکن و مطمئن ہوتے ہیں اور جب دوڑتے ہیں تو وہ اپنی دوڑ میں تیز اور خفیف ہوتے ہیں۔ ایک اور قول یہ ہے کہ الجیاد، لمبی گردنوں والے۔ یہ الجیدؔ سے بنا ہے۔ روایت میں ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اہل دمشق اور نصیبین سے جہاد کیا۔ جس میں ایک ہزار گھوڑے ملے۔ ایک قول یہ ہے کہ باپ کی طرف سے وراثت میں ملے اور آپ کے والد نے وہ عمالقہ سے حاصل کیے۔ ایک قول یہ بھی ہے سمندر سے گھوڑے نکلے جن کے پر بھی تھے۔ ایک دن آپ ظہر کی نماز پڑھ کر اپنی کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔ اور ان کا معائنہ کرنے لگے۔ معائنہ میں مصروف رہے۔ تاآنکہ سورج غروب ہوگیا اور عصر کی نماز سے غفلت ہوگئی۔ اور یہ فرض تھی۔ آپ غمزدہ ہوئے کیونکہ وہ فوت ہوگئی تھی۔ ان کو واپس منگوایا اور قرب الٰہی حاصل کرنے کیلئے ان تمام کو ذبح کرڈالا صرف سورة گئے۔ آجکل جو لوگوں کے پاس گھوڑے ہیں یہ انہی کی نسل سے ہیں۔ ایک قول یہ ہے جب ان کو ذبح کرڈالا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر ہوا عنایت فرمائی جو ان کے حکم سے چلتی تھی۔
Ayah 38:32

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

32: فَقَالَ اِنِّیْ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ( تو کہنے لگے کہ میں اس مال کی محبت میں اپنے رب کی یاد) ذِکْرِ رَبِّیْ (سے غافل ہوگیا) یعنی میں نے گھوڑوں کی محبت کو رب کی یاد پر ترجیح دی۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ پس اَحْبَبْتُ کا معنی ٰاثرت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فاستحبوا العمی علی الھدی ] فصلت : 17[۔ عن ؔ یہ علیٰ کے معنی میں ہے گھوڑے کو خیر فرمایا۔ گویا وہ مجسمہ خیر ہے کیونکہ خیر اس سے متعلق ہے۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ الخیل معقود بنواصیھا الخیرالی یوم القیامۃ۔ ] بخاری، 2849، المسلم 1871[ ابو علی کا قول ہے کہ احببت کا معنی جلست ہے یہ احباب البعیر اونٹ بٹھانا سے ماخوذ ہے۔ نحو : حب الخیر۔ یہ مفعول لہ ہے جس کی اضافت مفعول کی طرف ہے۔ حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ (یہاں تک کہ سورج پردہ میں چھپ گیا) توارت سے سورج کا چھپنا مراد ہے۔ الحجاب سے پردہ میں چھپنا۔ توارت کی ضمیر کا مرجع سورج اس لئے ہے کہ پہلے عشی کا ذکرگزرا ہے۔ مضمر کیلئے پہلے ذکرضروری ہے یا ذکر کی دلیل ضروری ہے۔ نمبر 2۔ یا ضمیر صافنات کی طرف راجع ہے یعنی وہ رات کے پردے یعنی اندھیرے میں چھپ گیا۔
Ayah 38:33

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

گھوڑوں کا واپس لوٹا کر ذبح کرنا : 33: رُدُّوْھَا عَلَیَّ (ان گھوڑوں کو ذرا پھر تو میرے پاس لائو) ملائکہ کو کہا سورج کو واپس لائو تاکہ میں عصر کی نماز ادا کرلوں پس سورج لوٹا دیا گیا۔ اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی۔ یا عمدہ گھوڑوں کو میری طرف واپس کردو۔ فَطَفِقَ مَسْحًام بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ (پس انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا) پس چھونے لگے چھونا یعنی تلوار سے ان کی پنڈلیوں کو چھونے لگے۔ سوقؔ یہ جمع ساق کی ہے جیسا دار اور دور اور اعناق کو چھونے لگے۔ یعنی کاٹنے لگے۔ کیونکہ گھوڑے نماز عصر کیلئے رکاوٹ بنے تھے۔ تم کہو گے مسح عِلَاوَتَہُ جبکہ وہ اس کی گردن اڑا دے۔ اور مسح المسفر الکتاب جب کہ وہ اپنی تلوار سے اس کے اطراف کو کاٹ ڈالے۔ ایک قول یہ ہے : نمبر 1۔ یہ کفارئہ صلوٰۃ کیلئے کیا۔ نمبر 2۔ سورج لوٹانے کے شکریہ میں کیا۔ ان کی شریعت میں گھوڑا ما کو لات میں سے تھا۔ پس تلف کرنا نہ پایا گیا۔ ایک قول یہ ہے آپ نے ہاتھ سے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو بطور استحسان اور پسندیدگی کے چھوا۔
Ayah 38:34

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا

سلیمان ( علیہ السلام) کا امتحان : 34: وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ (ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا) وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ (اور ان کے تخت پر لا ڈالا) کرسی سے تخت مراد ہے۔ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ (ایک دھڑ پھر انہوں نے رجوع کیا) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ ایک قول : سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش بیس سال حکومت کرنے کے بعد کی گئی۔ اور اس آزمائش کے بیس سال بعد آپ نے حکومت کی۔ ان کی آزمائش یہ تھی کہ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ شیاطین نے کہا اگر یہ زندہ رہا تو ہم مسخر ہونے سے چھوٹ نہیں سکتے۔ اس کا راستہ یہ ہے کہ ان کو قتل کردیں یا اس کو پاگل بنادیں۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم ہوگیا۔ آپ اس کو بادل میں دودھ پلواتے تاکہ شیاطین کی طرف سے نقصان نہ پہنچے۔ ایک دن انہوں نے بچے کو اپنے تخت پر مردہ پایا۔ پس آپ اپنی اس لغزش پر متنبہ ہوئے کہ اس میں اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے تو اچھا تھا۔ روایت ِبخاری : نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ آج رات میں اپنی ستر ازواج کے ہاں جائوں گا۔ ہر ایک ان میں سے ایک شہسواررو مجاہد فی سبیل اللہ جنے گی۔ انشاء اللہ نہ کہا۔ آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے کسی عورت کو حمل نہ ہوا سوائے ایک بیوی کے اس کے ہاں بھی ادھورا دھڑ جنا گیا۔ اسی کو لاکر کرسی پر ڈال دیا گیا اور آپ کی گود میں رکھ دیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر آپ انشاء اللہ فرما دیتے تو تمام مجاہد و شہسوار پیدا ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔ ] رواہ البخاری : 3424[ تبصرہ برتذکرہ : جو انگوٹھی اور شیطان کی بات لوگ بیان کرتے اور سلیمان (علیہ السلام) کے گھر میں بت کی پوجا کا تذکرہ کرتے ہیں وہ اباطیل یہود میں سے ہے۔
Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

35: قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا (کہا اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت دے) ملک کا عطیہ طلب کرنے سے پہلے استغفار لائے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کا طریقہ چلا آرہا ہے کہ وہ سوال سے پہلے استغفار کرتے ہیں۔ لَّا یَنْچبَغِیْ (جو میسر نہ ہو) جو نہ ہو لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ (کسی کو میرے بعد) میرے سوا۔ قراءت : مدنی اور ابوعمرو نے بَعدِیَ پڑھا ہے۔ آپ نے اس انداز کی سلطنت مانگی تاکہ وہ معجزۃًہو تاکہ کسی کو اس پر حسد نہ ہو۔ آپ سے پہلے ہوا و شیاطین کسی کیلئے مسخر نہ ہوئے تھے۔ جب آپ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کو ان کے لئے مسخر فرمادیا۔ اور بطورمعجزہ اور خرق عادت کے طور پر دیا گیا۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ (آپ بڑے دینے والے ہیں)
Ayah 38:36

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی

تسبیح ریح : 36: فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ (پس ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا) قراءت : ابو جعفر نے الریاح پڑھا ہے۔ تَجْرِیْ (وہ چلتی) نحو : یہ الریح سے حال ہے۔ بِاَمْرِہٖ (ان کے حکم سے) سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے رُخَآ ئً (نرمی کے ساتھ) نرم و پاکیزہ جو شدید نہ ہو۔ نحو : یہ تجری کی ضمیر سے حال ہے۔ حَیْثُ (جہاں ) نحو : یہ تجری کا ظرف ہے۔ اَصَابَ (وہ چاہتے) قصد و ارادہ کرتے۔ عرب کہتے ہیں۔ اصاب الصواب و اخطأ الصواب۔ اس نے صحیح بات کا قصد کیا اور اس نے غلط بات کا قصد کیا۔
Ayah 38:37

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور دیووں کو بھی (ان کے زیر فرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے

37: وَالشَّیٰطِیْنَ (اور شیاطین کو) نحو : اس کا عطف الریح پر ہے ای سخرنالہ الشیاطین کُلَّ بَنَّآ ئٍ (تعمیر کرنے والوں کو) یہ شیاطین سے بدل ہے شیاطین آپ کے لئے بڑی عمارات بناتے تھے۔ وَّ غَوَّاصٍ (اور غوطہ لگانے والوں کو بھی) یعنی موتی نکالنے کیلئے وہ سمندر میں غوطہ لگاتے۔ سلیمان (علیہ السلام) پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سمندر سے موتی نکالے۔ مطلب یہ ہے ہم نے تعمیر کرنے والے اور غوطہ لگانے والے شیاطین کو ان کا مطیع کردیا تھا۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور اوروں کو بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

بیڑی بند شیطان : 38: وَّ ٰاخَرِیْنَ مُقَرَّ نِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ (اور دوسروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے) نحو : آخرین کا عطف کل بناء پر ہے اور یہ حکم بدل میں داخل ہے۔ آپ سرکش شیاطین کو ایک دوسرے کے ساتھ قیود و سلاسل میں سزا کیلئے جمع کردیتے تاکہ وہ شروفساد نہ برپا کریں۔ الصفدؔ بیڑی اور عطاء کو کہتے ہیں کیونکہ وہ منعم علیہ کو منعم کے ساتھ جوڑتا ہے۔ حضرت علی ؓ کے قول میں ہے۔ من برّک فقد اسرک ومن جفاک فقداطلقک۔ جس نے تجھ پر احسان کیا اس نے تجھے قیدی بنا لیا اور جس نے درشتی اختیار کی اس نے تجھے آزاد کردیا۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے

رزق پر عدم دادگیر کا وعدہ : 39: ھٰذَا (یہ) جو تمہیں بادشاہی، مال ‘ و سعت ِرزق عنایت کی ہے۔ عَطَآ ؤُ نَا فَامْنُنْ (عطیہ ہے اس کو دو ) اس میں سے جو چاہو جتنا چاہو دو یہ فامنن اَلْمَنُّ سے بنا ہے۔ وہ عطاء کو کہتے ہیں اَوْاَمْسِکْ (یا نہ دو ) یعنی عطاء سے رک جائو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب دیتے تو اجر ملتا اور اگر روک لیتے تو گناہ گار نہ تھے بخلاف دیگر لوگوں کے۔ بِغَیْرِ حِسَابٍ (تم سے کچھ دار وگیر نہیں) یہ عطاؤنا کے متعلق ہے بعضؔ نے کہا یہ اس سے حال ہے یعنی یہ ہمارا کثیر مقدار میں عطیہ ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا یا نمبر 2۔ یہ تسخیر ہمارا عطیہ ہے۔ شیاطین میں سے جن کو تم چاہو احسان کر کے چھوڑ دو اور جن کو چاہو اپنے ہاں زنجیروں میں جکڑے رکھو اس سلسلہ میں آپ سے پوچھ گچھ نہ ہوگی۔
Ayah 38:40

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

40: وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ (اور ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور نیک انجامی ہے) نحو : لزلفٰی یہ اِنَّ کا اسم ہے اور لہؔ خبر ہے اور عندؔ میں خبر عامل ہے۔