Ayah 38:41حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا ذکر :
41: وَاذْکُرْ عَبْدَنَآ اَیُّوْبَ (اور آپ ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے)
نحو : ایوب یہ عبدنا سے بدل یا عطف بیان ہے اور اذؔ اس سے بدل الاشتمال ہے۔ اِذْ نَادٰٰی رَبَّہٗ (جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا) نادی دعا کے معنی میں ہے۔ اَنِّیْ مَسَّنِیَ (کہ مجھے پہنچایا ہے) یہ بانی مسنی ہے اور یہ ان کے کلام کی حکایت ہے جس کے سبب سے انہوں نے پکارا۔ اگر حکایت کلام نہ ہوتی تو اس طرح ہوتا۔ بانہ مسَّہٗ کیونکہ وہ غائب ہے غائب کا صیغہ چاہیے تھا۔ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ ( شیطان نے رنج اور دکھ)
قراءت : عام قراء نے تو صاد کا جزم پڑھا۔ یزید نے بنصُبِ صادؔ کو ضمہ دیا۔ اور یعقوب نے نُصْب اور نَصَبْ جیسا کہ رشد اور رَشَدٌ اور ہبیرہ نے اصل مصدر کی صورت میں نَصْب پڑھا ہے۔ معنی سب کا ایک ہے تکلیف و مشقت کو کہتے ہیں۔ وَّعَذَابٍ (دکھ) نمبر 1۔ ان کی مراد اس سے بیماری ہے اور جو اس بیماری میں قسم قسم کی دردیں پیش آتیں تھیں۔ نمبر 2۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد وہ وسوسہ ہے جو ان کے اس مرض کو بڑھا کر پیش کرتا اور ان کو کراہت و گھبراہٹ پر آمادہ کرتا۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجاء کی کہ اللہ تعالیٰ اس آزمائش کو ہٹا کر ان کی کفایت فرمائیں نمبر 3۔ یا اس کے دفاع کی توفیق اور صبر جمیل سے اس کو لوٹانے کی ہمت دے۔
روایت میں ہے ان کی عیادت کو تین شخص آتے تھے۔ ایک ان میں سے مرتد ہوگیا اس سے جب پوچھا گیا تو القائے شیطانی سے وہ کہنے لگا اللہ تعالیٰ انبیاء اور صالحین کو ابتلاء میں نہیں ڈالتا۔ اور اس نے ذکر کیا کہ ایوب کی آزمائش کا سبب یہ ہے کہ اس نے ایک بکری ذبح کی اور اس کو کھالیا حالانکہ ان کا ہمسایہ بھوکا تھا۔ 2 نمبر۔ یا ایوب نے کوئی منکر فعل دیکھ کر اس پر خاموشی اختیار کی جس کی وجہ سے ابتلاء آئی۔ نمبر 3۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات کو بلند کرنے کیلئے بلا لغزش سابقہ ان کو ابتلاء میں ڈالا ہے۔
Ayah 38:42ایڑی سے چشمہ ابلنے لگا :
42: اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ (اپناپائوں مارو) یہ اس کی حکایت ہے جو ایوب (علیہ السلام) کو جواب دیا گیا یعنی ہم نے ان کی طرف جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا ارکض برجلک تم اپنا پائوں زمین پر مارو۔ یہ جابیہ شام کا علاقہ تھا۔ آپ نے پائوں مارا تو چشمہ ابل پڑا۔ پس ان کو کہا گیا۔ ھٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ (یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا) یعنی یہ وہ پانی ہے جس سے تو غسل کرے گا اور پیئے گا اور تیرا ظاہر و باطن سب درست و صحت یاب ہوجائے گا۔
ایک قول :
دو چشمے جاری ہوئے ایک سے غسل کیا اور دوسرے سے پانی نوش فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم سے اندر باہر سے بیماری کا اثر جاتا رہا ہے۔
Ayah 38:4343: وَوَھَبْنَا لَہٗ اَھْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَھُمْ (اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ عنایت فرمایا اور ان کے برابر اور بھی) ایک قول : اللہ تعالیٰ نے انہی کو زندہ کردیا اور اتنے اور بھی دے دیئے۔ رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ (اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور اہل عقل کے یادگار رہنے کے سبب سے) دونوں کیلئے۔ مفعول ہے ای الھبۃ کانت للرحمۃ لہ و لتذکیر اولی الالباب (یہ ہبہ ان پر رحمت کیلئے اور عقلاء کو یاد دلانے کیلئے تھا) کیونکہ جب وہ سنیں گے کہ ہم نے صبر کی وجہ سے ان پر انعام فرمایا تو تکالیف پر صبر کرنے میں ان کو اس سے رغبت حاصل ہوگی۔
Ayah 38:44بیوی کے متعلق حلف سے نکلنے کا طریقہ :
44: وَخُذْ (اور تم لو) اس کا ارکض پر عطف ہے۔ بِیَدِکَ ضِغْثًا (اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا) ضِغْثًاگھاس کے تنکوں کا ایک گٹھا یا ریحان کا مٹھا یا اور کسی چیز کا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ (پس اس سے مارلو اور قسم نہ توڑو ! ) انہوں نے ایام مرض میں حلف اٹھا لیا تھا کہ اپنی بیوی کو ایک سو کوڑے لگائیں گے اگر ان کو صحت یابی میسر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم سے حلال ہونے کا ایسا راستہ بتلایا جو ان کے اور ان کی بیوی کیلئے سہل ترین تھا۔ اس لئے کہ اس نے آپ کی ایام مرض میں بہت خوب خدمت کی تھی اور یہ رخصت باقی ہے۔ واجب یہ ہے کہ مضروب کو سو میں سے ہر ایک پہنچے۔ قسم کا باعث یہ ہوا کہ ایک دن کسی کام کے دوران ان سے واپسی میں سستی ہوگئی جس سے آپ کا دل تنگ ہوا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے دو برتن جو آپ سے متعلق تھے جب آپ اٹھے تو وہ دو روٹیوں کے بدلے فروخت کردیے۔ اِنَّا وَجَدْنٰـہُ (بیشک ہم نے اس کو پایا) یعنی اس کو جاناصَابِرًا (صابر) مصائب پر۔
سوال : انہوں نے اپنی تکلیف کا شکوہ تو کیا اور رحمت الٰہی طلب کی۔
جواب : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکوہ جزع میں آتا ہی نہیں
یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا قال انما اشکوا بثی و حزنی الی اللّٰہ ] یوسف : 86[ اس کے ساتھ ساتھ آپ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے شفاء طلب کرتے تاکہ آپ کی قوم فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائیں کہیں شیطان ان کے دل میں یہ وسوسہ اندازی کرنے لگ جائے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو ان پر ایسا ابتلاء نہ آتا اور طلب شفاء سے طاعت پر قوت حاصل کرنا بھی مقصود تھا۔ کیونکہ بیماری کے اثر سے دل اور زبان کے علاوہ سارا جسم نڈھال ہوچکا تھا۔ نِعْمَ الْعَبْدُ (اچھے بندے تھے) ایوب (علیہ السلام) اِنَّہٗ اَوَّابٌ (بیشک وہ بہت رجوع کرتے تھے)
Ayah 38:45آخرت سے غافل بےبصیرت ہے :
45: وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ (اور ہمارے بندوں کا ذکر کرو)
قراءت : عبدنا مکی نے پڑھا ہے۔
اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ (ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا )
فائدہ : جنہوں نے جمع پڑھا انہوں نے ابراہیم اور مابعد کو عبادنا کا عطف بیان قرار دیا اور جنہوں نے واحد پڑھا انہوں نے صرف ابراہیم کو عطف بیان مان کر پھر ان کی اولاد کو عبدنا پر عطف بنا لیا۔
وجہ : اکثر اعمال کی انجام دہی ہاتھوں سے ہوتی ہے تو ان کو تغلیباً ذکر کردیا۔ ہر عمل کے متعلق کہا جاتا ہے ھذا مماعملت ایدیہم خواہ ایسا کام ہو جس میں براہ راست ہاتھ کا دخل نہ ہو۔ یا کام کرنے والے مجذوم ہوں کہ ان کے بالکل ہاتھ نہ ہوں۔ اور اس ارشاد کا یہی مطلب ہے۔ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ (یعنی وہ اعمال و فکروالے تھے)
بےبصیرت :
گویا جو لوگ آخرت کے اعمال اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور دینی فکر سے خالی ہیں وہ اپاہج لوگ ہیں جو کہ اپنے اعضاء سے کام کرنے سے عاجز ہوتے ہیں اور مسلوب العقل ہیں جن میں بصیرت کا نشان نہیں یا اس میں ان لوگوں پر تعریض کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنے والے نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت حاصل کرنے والے ہیں اور مجاہدہ اور غور و فکر چھوڑنے پر ان کو توبیخ کی گئی حالانکہ ان دونوں باتوں پر قدرت حاصل تھی۔
Ayah 38:46انبیاء ( علیہ السلام) یادِ آخرت کے لئے مخصوص :
46: اِنَّآ اَخْلَصْنٰھُمْ (ہم نے ان کو مخصوص کیا تھا) ہم نے ان کو اپنے لیے خاص کرلیا۔ بِخَا لِصَۃٍ (ایک خاص بات سے) ایک خاص خصلت کے ساتھ جس میں ملاوٹ نہ تھی۔ ذِکْرَی الدَّارِ (وہ یاد آخرت کی ہے)
نحو : نمبر 1۔ ذکرٰی یہ محل نصب میں ہے۔ یا محل رفع میں ہے اعنی محذوف مانیں تو نصبی حالت اور ہی مقدر ہو تو رفعی ہے۔ نمبر 3۔ خالصۃ سے بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ مطلب یہ ہوا ہم نے ان کو یاد آخرت کے ساتھ مخصوص کردیا یعنی ہم نے اس طرح خالص بنایا کہ وہ لوگوں کو آخرت یاددلانے والے ہیں اور دنیا سے بےرغبتی دلانے والے ہیں۔ جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) کا طرز عمل ہے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے وہ آخرت کا کثرت سے تذکرہ کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتے اور دنیا کا تذکرہ بھول جاتے ہیں۔
قراءت : مدنی نے بخالصۃ ذکری پڑھا ہے اور یہ اضافۃ الشئی الٰی مایبینہ کے قبیل سے ہے یعنی کسی ایسی شئی کی طرف اضافت کرنا جو اس کو بیان کردے کیونکہ خالص ذکر اور غیر ذکر کئی چیزیں ہوسکتی ہیں۔ ذکری مصدر ہے جس کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے بان خلص ذکری الدار ایک قول یہ ہے : خالصہ یہ خلوص کے معنی میں ہے۔ اور اس کی اضافت فاعل کی طرف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح بنے گی بان خلصت لھم ذکری الدار علی انہم لایشوبون ذکری الداربہم آخر انما ھمھم ذکری الدار لاغیر۔ یہ کہ ان کا آخرت کا تذکرہ خالص ہے اس طرح کہ وہ آخرت کے تذکرہ کے ساتھ اور کسی فکر کو نہیں ملاتے ان کا ایک غم اور فکر ہے وہ آخرت کی یاد ہے نہ کہ اور کچھ۔
ایک قول :
ذکری الدار سے دنیا میں اچھی تعریف ہے اور یہ بات ہے جس کے ساتھ ان کو خالص کرلیا گیا اوروں کا تذکرہ اس طرح نہیں کیا جاتا جیسا ان کا کیا جاتا ہے اسی معنی کی تقویت اس قول سے بھی ہوتی ہے۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیًّا ] مریم : 50[
Ayah 38:4747: وَاِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ( اور بیشک وہ ہمارے یہاں منتخب اور سب سے اچھے لوگوں میں سے ہیں) (المصطفینؔ اپنے ہم جنسوں میں مختار و منتخب الاخیار جمع خیر یا خَیّر جیسا کہ اموات جمع میت اور مَیت۔
Ayah 38:4848: وَاذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ (اور تذکرہ کریں اسماعیل اور یسع (علیہما السلام) کا) الف لام جو کہ حرف تعریف ہے معلوم ہوتا ہے۔ کہ وہ یسع پر داخل کیا گیا ہے۔ وَذَا الْکِفْلِ وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ (اور ذوالکفل کا بھی یہ سب اچھے لوگوں میں سے تھے)
نحو : کُلٌّ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے ای کُلّھمْ ۔
Ayah 38:49متقین کو ملنے والی جنت کی تفاصیل :
49: ھٰذَا ذِکْرٌ وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ (یہ ایک نصیحت کا مضمون تو ہوچکا اور پرہیز گاروں کیلئے اچھا ٹھکانہ ہے) ھذا سے مراد مرتبہ اور اچھا تذکرہ جس سے ان کو یاد کیا جاتا رہے گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ عمدہ لوٹنے کی جگہ ہے مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اچھائی سے انکاتذکرہ جاری رہے گا اور آخرت میں وہ رب جلیل کی مغفرت کو پائیں گے۔
فائدہ : پھر اس لوٹنے کے مقام کی خوبی و حسن کو ذکر فرمایا۔
Ayah 38:5050: جَنّٰتِ عَدْنٍ (ہمیشہ رہنے کے باغات )
نحو : یہ حسن مٰاب سے بدل ہے۔
مُّفَتَّحَۃً (اس حال میں کہ کھلے ہونگے) : یہ جنات سے حال ہے کیونکہ وہ عدن کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ ہے۔ عدنؔ علم ہے اور اس کا عامل فعل کا وہ معنی ہے جو للمتقین میں عمل کر رہا ہے۔ لَّھُمُ الْاَبْوَابُ (ان کے لئے دروازے)
فائدہ : ابواب مفتحۃ کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور ضمیرعائد محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے مفتحۃ لہم الابواب منھا۔ ضمیر اس میں اسی طرح حذف کی جیسا اس ارشاد میں حذف کی ہے فان الجحیمھی الماوٰی ] النازعات : 39 [ ای لھم۔ نمبر 2۔ یا تقدیر کلام اس طرح مانیں ابوابہا مگر اول وجہ عمدہ ہے۔ نمبر 3۔ یا مفتحۃ کی ضمیر سے بدل ہے اور وہ ضمیر جنات ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ مفتحۃ ہی الابواب اور جنات کا بدل الاشتمال ہے۔
Ayah 38:5151: مُتَّکِئِیْنَ فِیْہَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ (وہ ان باغوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے وہ وہاں بہت سے میوے) کَثِیْرَۃٍ وَّ شَرَابٍ (اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے)
نحو : متکئین یہ لھم کی ضمیر سے حال ہے۔ اور اس کا عامل مفتحۃ ہے۔ فاکھۃؔ کے بعد کثیرۃ کی صفت یہ شراب کی بھی صفت ہے عطف اس کا متقاضی ہے پہلے پر اکتفاء کرکے دوسرے سے حذف کردی گئی ہے۔
Ayah 38:5252: وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی) ان کی نگاہیں اپنے خاوندں تک محدود رہیں گی۔ اَتْرَابٌ (ہم عمر) دونوں کی عمریں یکساں ہونگیں کیونکہ ہم عمروں میں محبت زیادہ قائم رہنے والی ہوتی ہے۔ گویا ہم عمروں کو اتراب کہہ دیا کیونکہ ان کو مٹی نے ایک ہی مرتبہ چھوا۔
Ayah 38:5353: ھٰذَا مَاتُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ (یہ وہ ہے جس کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ کیا جاتا ہے)
قراءت : مکی اور ابوعمرو نے یوعدون یاء سے پڑھا ہے۔ یوم حساب سے مراد جس دن ہر نفس کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا۔
Ayah 38:5454: اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَہٗ مِنْ نَّفَادٍ (بیشک یہ ہماری عطاء ہے اس کا کہیں ختم ہونا ہی نہیں) نفادؔ انقطاع کو کہتے ہیں۔
نحو : یہ جملہ الرزق سے حال ہے اور اس کا عامل اسم اشارہ ہے۔
Ayah 38:5555: ھٰذَا (یہ بات ہوچکی) یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ تقدیرکلام الا مرھذا یا ھذا کما ذکر۔ وَاِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ (اور سرکشوں کیلئے برا ٹھکانہ ہے)
Ayah 38:56مجرمین کے ٹھکانہ جہنم اور اس کی تفاصیل :
56: جَھَنَّمَ (دوزخ) یہ بدل ہے یَصْلَوْنَھَا (وہ اس میں داخل ہونگے) فَبِئْسَ الْمِھَادُ (وہ بہت برا ٹھکانہ ہے) سونے والا جو کپڑا سونے کیلئے نیچے بچھاتا ہے آگ کو اس بچھو نے سے تشبیہ دی ہے۔
Ayah 38:5757: ھٰذَا فَلْیَذُوْقُوْہُ حَمِیْمٌ وَّغَسَّاقٌ (یہ لوگ پس اس کو چکھیں یہ کھولتا ہوا پانی ہے) یعنی یہ گرم کھولتا پانی ہے پس اس کو چکھیں۔
نحو : ھذامبتدأ اور حمیمٌ اس کی خبر ہے اور غساق یہ خبر پر معطوف ہے فلیذوقوہ یہ جملہ معترضہ ہے۔ نمبر 2۔ العذاب مبتدأ ھذا اس کی خبر ہے۔ فلیذوقوہ جملہ معترضہ ہے پھر ھو مبتدأ محذوف اور حمیم و غساق اس کی خبر ہے۔
قراءت : حمزہ، علی، حفص نے غساق کو تشدید سے پڑھا ہے۔
اور تخفیف سے بھی ہے۔ غساقؔ وہ کچ لہو جو جہنم والوں کے زخموں سے بہے گا۔ کہا جاتا ہے غَسَقتِ العین آنکھ بہہ پڑی۔
ایک قول :
الحمیم : وہ گرم پانی جو اپنی حرارت سے جلائے۔ الغساقؔ وہ ٹھنڈا پانی جو ٹھنڈک سے جما دے۔
Ayah 38:5858: وَّ ٰاخَرُ (اور دوسری) یعنی دوسر اعذاب یا چکھائی گئی دوسری چیز مِنْ شَکْلِہٖٓ (اسی قسم کی) مذکور عذاب جیسی۔
قراءت : بصری قراء نے اُخَرُ پڑھا۔ یعنی مَذُوقات اُخَرُ من شکل ھذا المذوق فی الشدۃ والفظاعۃ۔ دوسری چکھنے کی چیزیں جو ذلت و سختی میں اس کی طرح ہونگی۔ اَزْوَاجٌ (طرح طرح کی چیزیں) یہ آخر کی صفت ہے کیونکہ جائز ہے۔
کہ اس کی اقسام ہوں۔
Ayah 38:59جہنمیوں کی باہمی چپقلش :
59: ھٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَکُمْ (یہ ایک جماعت) اور آئی جو تمہارے ساتھ گھس رہی ہے) یہ اکٹھی جماعت ہے جو تمہارے ساتھ دوزخ میں گھسنا چاہتی ہے یعنی تمہارے ساتھ ہی دوزخ میں داخل ہورہی ہے۔ الاقتحام کسی چیز میں زبردستی داخل ہونا۔ القحمہ سختی کو کہتے ہیں۔ یہ سرکش سرداروں کو باہمی کلام ہے۔ فوجؔ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ گمراہی میں گھس گئے پس وہ ان کے ساتھ عذاب میں گرفتار ہونگے۔ لَامَرْحَبًام بِھِمْ (ان پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ! ) یہ اپنے پیروکاروں کے متعلق بددعا ہے تم دعا کیلئے کہو گے مرحبًا ای اتیت رحبًا من البلاد لا ضیقًا (تو کھلی جگہ میں آیا نہ کہ تنگی میں) یا رحبت بلادک رحبًا۔ پھر اس پر لا داخل کیا گیا اور بددعا کیلئے لایا گیا ہے۔
نحو : بہم ؔ میں ان لوگوں کا بیان ہے جن کے متعلق بددعا کی گئی ہے۔
اِنَّھُمْ صَالُوا النَّارِ (یہ بھی دوزخ میں ہی آرہے ہیں) داخل ہو رہے ہیں۔ اس میں ان کے جلد بددعا دینے کی علت بیان کی گئی ہے۔ ایک قول یہ ہے ھذا فوج مقتحم یہ جہنم کے داروغہ کا کلام ہے۔ جو وہ روسائے کفار کو ان کے پیروکاروں کے سلسلہ میں کریں گے۔ اور لا مرحبًا بہم انہم صالوا النار۔ یہ رئو ساء کا کلام ہے۔ ایک قول یہ ہے یہ تمام جہنم کے داروغہ فرشتوں کا کلام ہے۔
Ayah 38:6060: قَالُوْا (وہ کہیں گے) وہ پیروکار بَلْ اَنْتُمْ لَامَرْحَبًام بِکُمْ (بلکہ تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی پھٹکارہو) یعنی جو بددعا ہمیں دے رہے ہو وہ تمہارے لائق ہے اور پھر اس کی علت بتلائی اَنْتُمْ قَدَّ مْتُمُوْہُ لَنَا (بلکہ تمہیں تو یہ ہمارے سامنے لائے) ہٗ کی ضمیر عذاب کی طرف راجع ہے یا ان کے داخلے کی طرف لوٹتی ہے یعنی تم نے ہمیں اس کی طرف بلایا پس ہم نے تمہاری اتباع میں کفر اختیار کیا۔ فَبِئْسَ الْقَرَارُ (پس وہ بہت برا ٹھکانہ ہے) یعنی آگ۔
Ayah 38:6161: قَالُوْا (وہ کہیں گے) پیروکار رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا ھٰذَا فَزِدْہُ عَذَابًا ضِعْفًا (اے ہمارے رب جو شخص اس کو ہمارے آگے لایا اس کو دوگنا عذاب دیجیو) ضعف بمعنی مضاعف ہے بڑھا کردیا جائے۔ فِی النَّارِ (دوزخ میں) بڑھائی والا عذاب جیسا دوسرے ارشاد میں فرمایا ربنا ھٰٓؤلائِ اضلونا فٰاتہم عذابا ضعفا ] الاعراف : 38[ ضعفؔ اسی طرح کا اور بڑھانا۔
Ayah 38:62جہنم والوں کا جنت والوں کے متعلق باہمی سوال :
62: وَقَالُوْا (وہ کہیں گے) کفار کے سرداروں کی طرف ضمیر لوٹتی ہے۔ مَا لَنَالَا نَرٰی رِجَالًا ( کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے) کُنَّا نَعُدُّھُمْ (ہم ان کو شمار کرتے تھے) دنیا میں مِّنَ الْاَشْرَارِ (برے لوگوں میں سے) رذیل جن میں کوئی خیر نہ پائی جائے اور نہ شرافت۔
Ayah 38:6363: اَتَّخَذْنٰـھُمْ سِخْرِیًّا (کیا ہم نے ان کا مذاق اڑا رکھا تھا)
قراءت : یہ قراءت ابوعمرو ‘ حمزہ، کسائی کی ہے اور خبر کے انداز سے عراقی قراء نے سوائے عاصم کے پڑھا ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ رِجَالاً کی صفت ہے یہ کنانعدھم من الاشرار کی طرح ہے دیگر تمام قراء نے ہمزہ استفہام سے پڑھا ہے اس طرح تمسخر کا اپنے نفوس کے متعلق انکار ہے۔ مدنی، حمزہ، علی، خلف، مفصل نے سُخْریًا پڑھا ہے۔
اَمْ زَاغَتْ (یا چکرا رہی ہیں) عَنْہُمُ الْاَبْصَارُ (ان سے آنکھیں) یہ مالناؔ سے متصل ہے۔ مطلب یہ ہے مالنا لا نراھم فی النار کانہم لیسوا فیھا ؟ بل ازاغت عنہم ابصارنا فلانراہم وھم فیھا ؟ ہمیں کیا ہوا کہ ہم ان کو آگ میں دیکھ نہیں رہے گویا آگ میں نہیں ہیں ؟ بلکہ ہماری آنکھیں ان سے پھر گئیں جس کی بناء پر ہم ان کو دیکھ نہیں رہے اگر وہ اس میں ہیں ؟ انہوں نے اپنے معاملے کو دو باتوں میں منحصر کیا کہ آیا وہ اہل جنت سے ہیں یا اہل دوزخ سے ہر دو حالتوں میں ان کی جگہ ہمیں نظر نہیں آرہی۔
Ayah 38:6464: اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ بات) جو ہم نے ان کی طرف سے بیان کی ہے۔ لَحَقٌّ (بالکل سچی بات ہے) یہ سچائی ہر صورت پوری ہو کررہے گی وہ ضرور کلام کریں گے پھر بتلایا کہ وہ کیا بات سچی ہے فرمایا۔ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ (جہنمیوں کا باہمی لڑناجھگڑنا) جب اللہ تعالیٰ نے ان کے باہمی لے دے اور گفتگو کو اس بات سے تشبیہ دی جو دو باہمی جھگڑے والوں میں ہوتی ہے۔ تو اس کو تخاصم سے تعبیر فرما دیا۔ کیونکہ سرداروں کا قول لا مرحبا بہم اور ان کے معتقدین کا قول بل انتم لا مرحبا بکم یہ خصومت و جھگڑے ہی کی قسم میں سے ہے۔ اس وجہ سے ان کی ساری گفتگو کو تخاصم کہہ دیا۔ کیونکہ ان کی باتوں میں مخاصمت پائی جاتی ہے۔
Ayah 38:6565: قُلْ (کہہ دیں) اے محمد ﷺ ان مشرکین مکہ کو۔ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ (کہ میں تو ڈرانے والا ہوں) میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈر سنانے والا اور ان کے عذاب سے ڈرانے والا رسول ہوں۔ وَّ مَامِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ (اور سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی عبادت کے لائق نہیں) اور میں تمہیں کہتا ہوں کہ توحید باری تعالیٰ یہی دین حق ہے اور تمہارا یہی اعتقاد ہونا چاہیے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو الْوَاحِدُ (اکیلا ہے) بلاشریک وشرکت غیر۔ الْقَھَّارُ (غالب) ہر شئی پر۔
Ayah 38:6666: رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا (وہ پروردگار آسمان و زمین کا ہے اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں) تمام جہاں میں بادشاہی و ربوبیت اسی ہی کیلئے ہے۔ الْعَزِیْزُ (زبردست) وہ ذات جب وہ سزا دے تو مغلوب نہیں ہوتا۔ الْغَفَّارُ (بخشش کرنے والا ہے) جو گناہوں سے اس کی پناہ میں آئے۔
Ayah 38:67توحید کا عظیم الشان مضمون :
67: قُلْ ھُوَ (آپ کہہ دیجئے یہ) یعنی جو میں نے اپنے رسول منذر ہونے کی خبر دی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ وحدہٗ لا شریک ہے
نَبَؤٌا عَظِیْمٌ ایک عظیم الشان مضمون ہے) شدید ترین غافل ہی اس سے اعراض کرسکتا ہے۔ پھر تمہارا حال یہ ہے۔
Ayah 38:6868: اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ (کہ اس سے تم بےپروائی اختیار کرنے والے ہو) غافل ہونے والے ہو۔
Ayah 38:6969: مَاکَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍم بِالْمَلَاِ الْاَ عْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ (مجھے عالم بالا کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے) اس سے آپ کی نبوت کے صحیح ہونے پر استدلال کیا گیا کہ آپ ملا ٔ اعلی کی باہمی گفتگو کی اطلاع دے رہے ہیں۔ جس کا آپ کو پہلے بالکل علم نہ تھا۔ پھرا سکو جان لیا اور جاننے کیلئے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو لوگ اختیار کرتے ہیں کہ جس کو نہیں جانتے اس کو اس علم کے جاننے والوں سے اخذ کرتے اور لیتے ہیں اور کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جب یہاں ان میں سے کوئی ذریعہ ثابت نہیں تو ثابت ہوا کہ وحی سے ہی معلوم ہوئی ہے۔
Ayah 38:7070: اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (میرے پاس وحی صرف اس سبب سے آتی ہے کہ میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں) یعنی اس لئے کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ میرے پاس وحی ڈر سنانے کے لئے ہوتی ہے۔
نحو : لام کو حذف کردیا گیا اور فعل کو اس تک پہنچا کر منصوب ہوا اور یہ بھی درست ہے کہ اس معنی کے لحاظ سے یہ مرفوع ہو مایوحی الی الا ھذا وھو أن انذروا بلغ ولا افرّط فی ذٰلک یعنی مجھے صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں ڈرائوں اور بلا کم وکاست پہنچا دوں۔ اس کے علاوہ اور کچھ میرے ذمہ نہیں۔
قراءت : اِنَّمَآ کو مکسور یزید نے حکایۃً پڑھا ہے۔ یعنی الا ھذا القول وھو ان اقول لکم انما انا نذیر مبین ولا ادعی شیئا آخر، مگر یہ قول کہ میں تمہیں کہوں انما انا نذیر مبین اس کے علاوہ اور کسی چیز کا دعوی نہ کروں۔ ایک قول یہ ہے النبا ٔ العظیم سے مرادقصص آدم (علیہ السلام) اور بغیر کسی سے سننے کے ان کی اطلاع دینا۔ قول ابن عباس ؓ : النبأ العظیم سے قرآن مجید مراد ہے۔ قول حسن (رح) قیامت کا دن مراد ہے۔ اور ملا ٔ اعلیٰ سے اصحاب القصہ۔ یعنی ملائکہ، آدم، ابلیس مراد ہیں کیونکہ وہ آسمان میں تھے اور گفتگو ان کے مابین ہوئی۔
اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ (جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے) یہ محذوف سے متعلق ہے اس کا معنی یہ ہے ماکان لی من علم بکلام الملأ الا علی وقت اختصامہم مجھے کوئی علم نہ تھا۔ ملأ اعلیٰ کی گفتگو کا جب کہ وہ آپس میں مصروف گفتگو تھے۔
Ayah 38:71تخلیق آدم ( علیہ السلام) کی فرشتوں کو اطلاع :
71: اِذْقَالَ رَبُّکَ (جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا) ۔
نحو : اذقال یہ اذیختصمون سے بدل ہے۔ آدم (علیہ السلام) کی شان میں فرشتے کی زبان پر فرمایا۔
لِلْمَلٰٓپکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌم بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ (کہ میں گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں) اور فرمایا انی جاعل فی الارض خلیفۃ قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ] البقرۃ : 30 [
Ayah 38:7272: فَاِذَا سَوَّ یْتُہٗ (پس جب میں اس کو پورا بنا چکوں) جب میں اس کی خلقت کی تکمیل کردوں اور درست کردوں۔ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (اور اس میں اپنی طرف سے جان ڈالدوں) وہ جس کو میں نے بنایا۔ روح کی اضافت تخصیص کیلئے ہے جیسے بیت اللہ، ناقۃ اللہ۔ مطلب یہ ہے اس کو زندہ کردوں اور حسن والا بنا دوں اور جاندار کردوں۔ فَقَعُوْا (پس تم سب گر جانا) یہ وقع یقع سے امر ہے یعنی سقطوا علی الارض معنی سجدہ کرو۔ لَہٗ سٰجِدِیْنَ (اس کے روبرو سجدہ میں) ایک قول یہ ہے۔ یہ جھکنا تھا جو کہ تواضع پر دلالت کرتا ہے ایک قول یہ سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کو تھا یا سجدئہ سلام و تعظیم تھا۔
Ayah 38:73فرشتوں کا سجدہ اور ابلیس کا انکار :
73: فَسَجَدَ الْمَلٰٓپکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ (پس سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا) کل احاطہ کیلئے ہے اور اجمعون اجتماع کیلئے کہ مل کر کیا۔ پس اس سے نتیجہ نکلا کہ انہوں نے ملکر ایک ہی وقت میں تمام نے سجدہ کیا کوئی پیچھے نہ رہا۔
Ayah 38:7474: اِلَّآ اِبْلِیْسَ اِسْتَکْبَرَ (مگر ابلیس نے تکبر کیا) سجدہ کرنے سے بڑائی ظاہر کی وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ (اور کافروں میں سے ہوگیا) حکم کے انکار کی وجہ سے کافروں میں سے ہوگیا۔
Ayah 38:7575: قَالَ یٰٰٓاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ (فرمایا اے ابلیس کونسی چیز تجھ کو سجدہ کرنے سے مانع بنی) تمہیں کس چیز نے سجدہ سے روکا۔ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ (جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا) یعنی بلاواسطہ کے میرے حکم کو مانتے ہوئے اور میرے خطاب کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے۔
نادرتحقیق :
یہ بات گزری ہے کہ دو ہاتھوں والا اعمال کو چونکہ براہ راست ہاتھوں سے انجام دیتا ہے۔ اس لئے تمام اعمال پر ہاتھوں کا عمل اس قدر غالب آیا کہ تمام اعمال کی تعبیر یدین سے کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اعمال قلبیہ کیلئے بھی کہتے ہیں ھو ما عملت یداک بلکہ جس آدمی کے ہاتھ بالکل نہ ہوں اس کو بھی کہتے ہیں۔ یداک اوکتاوفوک نفخ یہاں تک کہ اس قول ھذا مِمَّا عَمِلْتَہٗ وھذا مما عَمِلَتْہُ یداک۔ میں کوئی فرق نہیں رہا۔ اور اس ارشاد کا مطلب یہی ہے مما عملت ایدینا ] یٰسین : 71[ اور لما خلقت بیدی۔
اَسْتَکْبَرْتَ (کیا تو غرور میں آگیا) یہ استفہام انکاری ہے۔ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ (یا تو بڑے درجہ والوں میں سے ہے) جن پر تو بلند ہوا اور فوقیت لے گیا۔ ایک قول کیا تو نے اب تکبر کیا یا ہمیشہ سے متکبرین میں سے چلا آرہا ہے۔
Ayah 38:76بڑائی کا دعویٰ :
76: قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ (کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور) مِنْ طِیْنٍ (اس کو خاک سے پیدا کیا) یعنی اگر وہ آگ سے پیدا ہوا ہوتا تو ضرور اس کو بھی سجدہ نہ کرتا۔ اس لئے کہ وہ میری طرح کی مخلوق ہے پس میں اس کو کیسے سجدہ کرسکتا ہوں جو مجھ سے کم درجہ ہے ؟ کیونکہ وہ مٹی سے بنا ہے اور آگ مٹی پر غالب ہے اور اس کو کھا جاتی ہے۔
: دوسرا جملہ پہلے کیلئے اسی طرح لایا گیا جیسے عطف بیان اپنے معطوف علیہ کیلئے ہوتا ہے۔ اور دوسرا جملہ خلقتنی من نار ہے۔
Ayah 38:7777: قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو اس سے نکل) ھ اسے مراد جنت۔ نمبر 2۔ یا آسمان۔ نمبر 3۔ اس خلقت سے جس میں تو تھا کیونکہ وہ اپنی خلقت پر فخر کرنے لگا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو بدل دیا۔ سفید رنگت سے سیاہ ہوگیا خوبصورت سے بد صورت اور نورانی سے ظلمانی بن گیا۔ فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ (بیشک تو مردود ہے) دھتکارا ہوا ہے۔ ابلیس نے مٹی سے پیدا ہونے والی چیز کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور پھسل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا انہوں نے تعمیل میں ذرا توقف نہ کیا اللہ تعالیٰ کے خطاب اور حکم کی عظمت کے پیش نظر شیطان حکم الٰہی کو چھوڑ کر ملعون اور مردود ہوگیا۔
Ayah 38:7878: وَّاِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْ (اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے)
قراءت : مدنی نے لَعْنَتِیَّ پڑھا۔ لعنت ہر خیر سے دوری کو کہا جاتا ہے۔
اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ (قیامت کے دن تک) یوم جزاء تک اس سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اس کی لعنت کا یوم جزاء کو خاتمہ ہوجائے گا۔ اور پھر وہ منقطع ہوجائے گی۔ کیونکہ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو صرف اس پر لعنت ہے اور جب قیامت کا دن آجائے گا۔ تو لعنت کے ساتھ عذاب بھی مل جائے گا۔ اور لعنت کا اکیلا ہونا ختم ہوجائے گا۔ نمبر 2۔ جب زمانہ رحمت میں اس پر لعنت ہو رہی ہے تو جب رحمت کا وقت ہی نہیں تو اس پر کیونکر رحمت ہوگی اور لعنت منقطع بھی کیسے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا فَاذَّنَ مؤذن بینہم ان لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین ] الاعراف : 44[
Ayah 38:7979: قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ (کہنے لگا اے میرے رب تو مجھے مہلت دے) انظربمعنی امھل ہے۔ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک)
Ayah 38:8080: قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ (فرمایا بیشک تجھے مہلت دے دی گئی )