Ayah 38:8181: اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ (معین وقت کی تاریخ تک تجھے مہلت دے دی) الوقت المعلوم سے مراد وہ وقت جس میں نفخہ اولی ہوگا۔ اور نفخہ کا وقت اس دن کے اجزاء میں سے ہے۔ المعلومؔ کا معنی بلا شبہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معلوم و معین ہے۔ نہ متقدم ہوگا اور نہ متاخر۔
Ayah 38:8282: قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ (کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کروں گا) شیطان نے عزت الٰہی کی قسم کھائی ! عزت سے سلطنت اور غلبہ الٰہی مراد ہے۔
Ayah 38:8383: اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کئے ہوئے ہیں)
قراءت : مُخْلِصِیْنَ ، مکی، بصری وشامی قراء نے لام کا کسرہ پڑھا۔
Ayah 38:8484: قَالَ فَالْحَقُّ (اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں سچ کہتا ہوں)
نحو : الحقُّ رفع کے ساتھ علی کے علاوہ دیگر کوفی قراء نے پڑھا ہے۔ اور ابتداء کی وجہ سے مرفوع مانا ہے۔ ای الحقُّ قسمی یا خبر کی بناء پر مرفوع ہے۔ ای انا الحق ۔ نمبر 2۔ دیگر قراء نے نصب سے پڑھا ہے اس لئے کہ یہ مقسم بہٖ ہے جیسا کہ اس طرح کہا جاتا ہے اللّٰہَ افعلن کذا۔ یعنی باء کو حذف کردیا تو منصوب پڑھا گیا۔ اور اس کا جواب قسم لأ ملان ہے۔ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ (اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں)
نحو : مقسم بہٖ اور مقسم علیہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ اور اقول کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا معنی یہ ہے ولا اقول الا الحق میں حق ہی کہتا ہوں۔ الحقؔ سے مراد اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک مراد ہے۔ جو اس آیت میں آیا ہے بان اللّٰہ ھوالحق ] الحج : 62[ نمبر 2۔ الحق یہ باطل کی ضد ہے اس کی قسم سے حق کی شان بڑھانا مقصود ہے۔
Ayah 38:85اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان :
85: لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ (میں ضرور جہنم بھرونگا تجھ سے) منک سے مراد تیری جنس سے اور مراد شیاطین ہیں۔ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنہُمْ سے مراد اولاد آدم ہے ( ان میں سے جو تیرا ساتھ دے گا) اَجْمَعِیْنَ (تمام) یعنی جہنم میں تابع اور متبوع تمام ہونگے یہ کہہ کر بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے۔
Ayah 38:8686: قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ (کہہ دیجئے میں اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا) علیہ کی ضمیر قرآن مجید یا وحی کی طرف راجع ہے۔ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ (اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں) ان لوگوں میں سے جو بناوٹ کرتے اور ایسے کاموں کیلئے تزیین کرتے ہیں جن کے وہ اہل نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی تم میرے بارے میں جانتے ہو کہ میں نے کبھی تکلف وتصنع کیا ہو۔ اور نہ ہی کسی ایسے کام کا دعویٰ کرتے پایا ہو جو میرے پاس نہ ہو یہاں تک کہ میں نبوت کی نسبت کروں اور قرآن بنا لائوں۔
Ayah 38:8787: اِنْ ھُوَ (نہیں ہے وہ) قرآن مجید اِلَّا ذِکْرٌ (مگر نصیحت) اللہ تعالیٰ کی طرف سیلِّلْعٰلَمِیْنَ (تمام جہان والوں کیلئے) جن و انس کیلئے اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی تاکہ میں اس کو پہنچا دوں۔
فرمانِ رسول ﷺ :
متکلف کی تین علامات ہیں۔ نمبر 1۔ اپنے سے بڑے کے ساتھ منازعت و جھگڑا کرتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ کہتا ہے جو وہ جانتا نہیں۔ نمبر 3۔ وہ دیتا ہے جو وہ پاتا نہیں ( الثعلبی)
Ayah 38:8888: وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعْدَ حِیْنٍ ( اور تھوڑے دنوں بعد تم کو اس کا حال معلوم ہوجائے گا) ہٗ کی ضمیر قرآن مجید کی طرف لوٹ رہی ہے اور جو اس میں وعدے اور وعید اور بعث و نشور کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بعد حینؔ سے مراد ہے موت کے بعد کا وقت یا یوم بدر یا قیامت کا دن۔
ربط اوّل و آخر :
ابتدائے سورت ذکر سے کی گئی اور اختتام سورت بھی ذکر پر فرمائی۔