Ayah 35:1فرشتوں میں ہر تخلیقی اضافہ وہی کرنے والا ہے :
1: اَلْحمْدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓپکَۃِ (تمام تر حمد اللہ تعالیٰ کے لائق ہے جو آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ جو فرشتوں) رُسُلًا اُوْلِیْ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ یَزِیْدُ (کو پیغام رساں بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو، تین تین اور چارچار پر دار بازو ہیں۔ وہ) فِی الْخَلْقِ مَایَشَآ ئُ اِنَّ اللّٰہَ علٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (پیدائش میں جو چاہے زیادہ کرتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے) ۔
اَلْحمْدُ لِلّٰہِ (اللہ تعالیٰ نے تعلیم و تعظیم کیلئے اپنی ذات کی حمد فرمائی ہے) ۔ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ (آسمانوں کی ابتداء کرنے والا) اور انوکھا بنانے والا ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
میں فاطر کا معنی نہ جانتا تھا یہاں تک کہ دو دیہاتی میرے پاس ایک کنوئیں کا جھگڑا لے کر آئے ان میں سے پہلا کہنے لگا۔ انا فطرتھا ای ابتدأ تھا میں نے اس کی ابتداء کی۔ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓپکَۃِ رُسُلًا (اور زمین کو وہ فرشتوں کو اپنے بندوں کی طرف قاصد بنانے والا ہے) ۔ اُوْلِیْ اَجْنِحَۃٍ (پروں والے) اولی یہ ذو کی اسم جمع ہے اور
نحو : یہ رسلاً سے بدل ہے یا صفت ہے اجنحۃ یہ جناح کی جمع ہے۔
مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ یہ اجنحۃ کی صفات ہیں یہ منصرف نہیں کیونکہ ان میں عدل دو بار آیا ہے۔ یہ اعداد سے عدول کرکے دوسرے صیغوں میں چلے گئے جیسا عمر کا لفظ عامر سے بنا ہے۔ تکریر سے غیر تکریر کی طرف۔ دوسرا قول عدل اور وصف دو سبب ہیں اور اسی پر اعتماد ہے معنی یہ ہے ملائکہ میں بعض جماعتوں کے دو دو پر ہیں۔ ہر ایک کے دو دو پر ہیں۔ اور کچھ فرشتوں کے تین تین پر ہیں شاید کہ تیسرا پشت کے درمیان میں ہو۔ جو دوسرے دو پروں کا معاون ہو۔ اور بعض فرشتوں کی جماعتیں چار چار پر رکھتی ہیں۔ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ (وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدائش میں اضافہ کرتا ہے) ۔ یعنی پروں وغیرہ کی پیدائش میں اضافہ کرتا ہے۔ مَایَشَآ ئُ (جتنا وہ چاہتا ہے) ایک قول یہ ہے چہرے کے حسن میں اضافہ اور آواز کی خوبصورتی میں اضافہ، بالوں کی خوبصورتی میں اضافہ ‘ چہرے کے خدوخال کی خوبصورتی اور آنکھوں کی ملاحت میں اضافہ مراد ہے۔ آیت مطلق ہے۔ اس میں ہر تخلیقی اضافہ شامل ہے خواہ وہ جسم کی قدوقامت کی طوالت اور اعتدال کی صورت میں ہو یا رائے کی عمدگی اور زبان کی طلاقت اور مؤمنوں کے دل میں محبت کی شکل میں ہو اور وہ تمام چیزیں جو اس کے مشابہ ہیں وہ اس میں شامل ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ علٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے) قدیر بمعنی قادر ہے۔
Ayah 35:22: مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ (اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کیلئے کھول دے) رحمۃؔ کے لفظ کو نکرہ لاکر اشاعت و ابہام یعنی ہر قسم رحمت کو شامل کیا گویا اس طرح فرمایا جونسی رحمت ہو خواہ رزق، بارش یا صحت یا اور کچھ فَلاَ مُمْسِکَ لَھَا (اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں) کسی کو اس کے روکنے اور بند کرنے کی طاقت نہیں۔ یفتح کا لفظ اطلاق و ارسال کے معنی کیلئے بطور مجاز استعمال فرمایا۔ مراد عطاء کرنا ہے اس کے بالمقابل ما یمسک کا لفظ جو روکنے اور بند کرنے کے معنی میں۔ استعمال کیا گیا۔ وَمَا یُمْسِکْ (اور جو وہ بند کردے) ۔ فَلاَ مُرْسِلَ لَہٗ (اس کو کوئی جاری کرنے والا نہیں) یعنی بندش و روک کو دور کرنے والا مِنْ بَعْدِہٖ (اس کے بعد) یعنی اس کے بند کردینے کے بعد۔
فائدہ : رحمتؔ کی طرف لوٹائی جانے والی ضمیر معنی کا لحاظ کر کے مؤنث لائے پھر دوسری ضمیر لفظ کا لحاظ کر کے مذکر لائی گئی کیونکہ اس میں تانیث نہیں اس لئے کہ اول کی تفسیر رحمت سے کی گئی پس تفسیر کے بعد ضمیر کا لانا مناسب ہے۔ اور دوسرے کی تفسیر نہیں کی گئی پس اصل تذکیر پر اس کو چھوڑ دیا گیا۔
رحمت کا ہاتھ امت پر :
معاذ ؓ سے مرفوعًا روایت ہے کہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا دست دراز رہتا ہے جب تک ان کے خیار اشرار کی موافقت نہ کریں۔ اور ان کے نیک ان کے فساق و فجار کی تعظیم نہ کرنے لگیں اور ان کے قراء ان کے امراء کی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں معاونت نہ کریں۔ جب وہ یہ افعال کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ اپنا رحمت کا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ [ ذکرہ الغزالی فی الا حیاء 2/150[
وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہ زبردست ہے) وہ غالب اور ارسال و امساک پر قدرت رکھنے والا ہے۔ الْحَکِیْمُ (حکمت والا ہے) اسی چیز کو روکتا اور کھولتا ہے جس کے روکنے اور کھولنے کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔
Ayah 35:3سب سے بڑی نعمت منعم کا ایک ہونا ہے :
3: یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اذْکُرُوْا ( اے لوگو ! تم یاد کرو) زبان و دل سے نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو جو اس نے تم پر کیے) وہ انعامات زمین کا بچھونے کی طرح بچھا دینا اور آسمان کا بلاستون بلند کرنا اور قرب الٰہی پانے اور اس کے راستوں کی طرف بلانے کیلئے رسولوں کو بھیج دینا اور مخلوق میں اضافہ فرما کر رزق کے دروازوں کا کھولنا ہیں۔ پھر نعمتوں کے آخر میں خبردار کیا کہ سب سے بڑی نعمت تو منعم کا ایک ہونا ہے۔ فرمایا ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ (کیا اللہ تعالیٰ کے سواء اور کوئی خالق ہے) ۔
نحو : نمبر 1۔ غیرُ رفع کے ساتھ یہ محلاً صفت ہے کیونکہ خالقؔ مبتدأ ہے اس کی خبر لکم محذوف ہے تقدیر کلام ہے : خالق لکم نمبر 2۔ غَیْرِ یہ جر کے ساتھ علی اور حمزہ نے پڑھا اور لفظاً صفت قرار دیا۔ یَرْزُقُکمْ (جو تمہیں رزق دے) نمبر 1۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ نمبر 2۔ خالق کی صفت ہے۔ مِّنَ السَّمَآئِ (آسمان سے) بارش کے ذریعہ وَالْاَرْضِ (اور زمین سے) قسم قسم کی نبات کے ذریعہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (اس کے سوا کوئی معبود نہیں) ۔
نحو : یہ جملہ الگ ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔
فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ (پھر تم کدھر الٹے جارہے ہو) کس وجہ سے تم توحید سے شرک کی طرف جار ہے ہو۔
Ayah 35:4تسلیٔ رسول ﷺ :
4: وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ (اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر جھٹلائے جاچکے ہیں) اس سے اطلاع دی گئی کہ قریش مکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو بدترین انداز سے مسترد کررہے اور ان کا انکار کر رہے ہیں۔ اور اپنے رسول ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کیلئے پہلے انبیاء (علیہم السلام) میں نمونہ موجود ہے اسی لیے رسلٌ کا لفظ نکرہ لایا گیا۔ یعنی کثیر تعداد رسول اور بہت سی آیات اور نذر والے اور طویل عمروں والے اور صبرو عزم بالجزم کے مالک۔ کیونکہ اس سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے۔
تقدیر کلام اس طرح ہے وان یکذبوک فتأس بتکذیب الرسل من قبلک ( اگر وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ اپنے سے پہلے رسولوں کی تکذیب کو پیش نظر فرمائیں) کیونکہ جزاء شرط کے بعد لائی جاتی ہے اور اگر اس کو ظاہر پر رکھا جائے تو جزاء پہلے آئے گی۔ اسی لئے فقد کذبت رسل من قبلک کو فَتَأَسَّ کی جگہ لایا گیا۔ سبب پر اکتفاء کیا مسبب کی ضرورت نہ سمجھی گئی یعنی تکذیب کو ذکر کیا جو کہ سبب ہے اور تاس مسبب کو ترک کیا گیا۔ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ( اور تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے پیش کیے جائینگے) یہ کلام و عد اور وعید دونوں پر مشتمل ہے کہ سارے معاملات اس کے حکم کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اور وہ جھٹلانے والے اور جھٹلائے ہوئے کی مجازات کا مالک ہے۔
Ayah 35:5قراءت : شامی، حمزہ، علی، خلف، یعقوب، سہل نے تاء کے فتحہ سے تَرْجِعُ پڑھا ہے۔
5: یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ (اے لوگو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ) جو بعث و جزاء سے متعلق ہے۔ حَقٌّ (ضرور سچا ہے) پورا ہوکر رہے گا۔ فَلاَ تَغُرَّ نَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا (پس دنیوی زندگی تم کو دھوکا میں ڈالے نہ رکھے) پس دنیا تمہیں فریب خوردہ نہ بنا دے اور نہ دنیا سے تمتع اور اس کے منافع سے لذت اندوزی تمہیں آخرت کی طلب و سعی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہے اس کی طلب سے غافل کر دے۔ وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ (اور ایسا نہ ہو کہ تمہیں دھوکہ باز شیطان اللہ تعالیٰ سے دھوکہ میں ڈال دے) الغرورؔ شیطان، وہ تمہیں جھوٹی تمنائیں دلاتا اور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو تمہاری عبادت سے بےنیاز ہے اور تمہیں سزا دینے سے بھی بےنیاز ہے (اس لئے عبادت کی ضرورت نہیں اور معاصی سے کوئی فرق نہیں پڑتا) ۔
Ayahs 35:6–7شیطان سے دشمن والا معاملہ کرو نہ کہ دوست والا :
6، 7: اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ (شیطان بیشک تمہارا دشمن ہے) اس کی دشمنی کھلی ہوئی ہے اس نے تمہارے باپ کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے بعد بھی تم اس سے ایسا معاملہ کر رہے ہو جیسا اس شخص سے کیا جاتا ہے جس کے حالات سے بیخبر ی ہو۔ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا (پس تم اسکو دشمن سمجھتے رہو) اپنے عقائد و افعال کے سلسلہ میں اور تمہاری طرف سے ظاہر و باطن میں اسکے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے جو اس کی دشمنی پر دلالت کرنے والا ہو۔ پھر آیت کے اگلے حصہ میں اس کے پوشیدہ معاملے کا خلاصہ بیان کردیا اور اس آدمی کی خطا کاری ذکر کردی جو اس کی پیروی کرتا ہے کیونکہ شیطان کی اصل غرض اپنے پیروکاروں کے متعلق یہی ہے کہ ان کو ہلاکت کے گھاٹ پر لا اتارے۔ فرمایا : اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَہٗ لِیَکُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ (وہ اپنے گروہ کو محض اسلئے بلاتا ہے کہ وہ لوگ دوزخیوں میں سے ہوجائیں۔ جو لوگ کافر ہوگئے۔ ان کے لئے سخت عذاب ہے) ۔ یعنی جس شخص نے شیطان کی بات کو دعوت کے وقت قبول کرلیا اس کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ وہ اس کا لشکری بن گیا یعنی اس کا متبع ہوگیا۔ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے) اور شیطان کی بات کو قبول نہ کیا اور نہ ہی اس کے گروہ سے بنے بلکہ اس کی دشمنی اختیار کی۔ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ ( ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر ہے) ۔ کیونکہ انہوں نے بہت بڑا جہاد کیا۔
Ayah 35:8شیطان کی تزیین میں آنے والے پر افسوس نہ کرو :
8: جب دونوں فریق کا تذکرہ ہوچکا تو اپنے پیغمبر ﷺ کو فرمایا : اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا (کیا وہ شخص جس کو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھلایا گیا پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا) شیطان کی تزیین کے سبب، کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کیلئے اس نے اعمال کو مزین نہ کیا ہو۔ پس گویا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ نہیں۔ پھر فرمایا فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآ ئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآ ئُ فَلاَ تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ (پس اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان پر) حَسَرٰتٍ (افسوس کر کے آپ کی جان نہ جاتی رہے ) ۔
قولِ زجاج (رح) !
افمن زین لہ سوء عملہ کا معنی ہے کیا وہ شخص جس کا عمل بد اس کے لئے مزین کیا گیا ہو اس پر افسوس کرتے آپ کی جان چلی جائے گی۔ پس جواب کو حذف کردیا اس لئے کہ فلا تذھب نفسکؔ میں اس پر دلالت موجود ہے۔ نمبر 2۔ یا کیا آیا وہ شخص جس کے عمل کو اس کے لئے مزین کیا گیا ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہو۔ اس کو حذف کردیا۔ کیونکہ فان اللہ یضل من یشاء ویھدی من یشاء میں اس پر دلالت موجود ہے۔
قراءت : یزید نے فلا تُذْھِب نفسک پڑھا ای لا تہلکھا اس کو ہلاک مت کرو۔ حسراتٍ یہ مفعول لہ ہے یعنی فلا تھلک نفسک للحسرات (پس اپنے نفس کو افسوس کی بناء پر ہلاک نہ کرو) ۔ اور علیہمؔ یہ تذھب کا صلہ ہے۔ جیسا تم کہو ھلک علیہ حبًا و مات علیہ حزنا۔ مگر یہ جائز نہیں کہ اس کو حسرات کے متعلق کیا جائے کیونکہ مصدر کا صلہ اس پر مقدم نہیں ہوتا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِمَا یَصْنَعَوُنَ (بیشک اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام کاموں کی خبر ہے) ۔
Ayah 35:9دلائلِ قدرت :
9: وَاللّٰہُ الَّذِیْْ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ (اور اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے)
قراءت : مکی اور حمزہ، علی نے الرِّیْح پڑھا ہے۔
فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ (پھر وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم ان بادلوں کو ایک خشک قطعہ زمین کی طرف ہانک کرلے جاتے ہیں۔ )
قراءت : مدنی، حمزہ، علی، حفص نے میتٍ کو تشدید سے پڑھا۔ دیگر قراء نے تخفیف کے ساتھ ادا کیا۔
فَاَحْیَیْنَا بِہٖ (پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے زمین کو زندہ کردیا) بارش کے ذریعہ کیونکہ ضمناً اس کا ذکر پہلے ہوچکا۔ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا (اس کے مرجانے کے بعد) یعنی اس کے سبب سے۔ یہاں تثیر لا یا گیا تاکہ اس حال کی حکایت کی جائے جس میں ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں۔ اور یہ قدرت ربانی پر دلالت کرنے والی صورت کے استحضار کیلئے ہے اور اہل عرب اس فعل کے ساتھ اسی طرح انوکھے پن کا معاملہ کرتے ہیں جس میں کوئی امتیازی قسم اور خصوصیت پائی جائے۔
اور اسی طرح بادلوں کو مردہ زمین کی طرف چلانا اور زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو زندہ کردینا ہے۔ اس لئے کہ ظاہر و باہر یہ دلائل قدرت سے ہے۔ اس لئے فسقنا اور احیینآ فرمایا۔ غائب کا لفظ نہیں بولا گیا تاکہ ایسا لفظ لایا جائے جو اختصاص میں زیادہ دخل رکھتا ہو اور اسپر زیادہ دلالت کرنے والا ہو۔ کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ (اسی طرح دوبارہ اٹھنا ہے) کاف محل رفع میں ہے یعنی مردہ زمین کو زندہ کرنے کی طرح مردوں کو اٹھانا ہے۔ ایک قول یہ ہے اللہ تعالیٰ مخلوق کو ایسے پانی سے زندہ فرمائیں گے جو پانی عرش کے نیچے سے بھیجا جائے گا اس سے مخلوق کے اجسام اگیں گے۔
Ayah 35:10عزت اللہ کے پاس ہے وہ بری تدابیر سے نہیں ملتی :
10: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا (جوشخص عزت حاصل کرنا چاہے تو تمام تر عزت اللہ تعالیٰ کیلئے ہے) یعنی عزت ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ خواہ دنیا کی عزت ہو یا آخرت کی۔ کافر بتوں سے عزت حاصل کرتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا واتخذوا من دون اللہ الھۃ لیکونوا لھم عزّا ] مریم : 81[
منافقین کفار مشرکین کے ذریعہ اپنی عزت بناتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعًا ] النساء : 139[ پس اس سے یہ واضح ہوا کہ حقیقی عزت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے فلیطلبھا عند اللہ پس للہ العزۃ جمیعًا کو اس کی جگہ لائے اس کی ضرورت نہ رہی کیونکہ اس پر دلالت موجود ہے اس لئے کہ قاعدہ یہ ہے کہ چیز اسی سے طلب کی جاتی ہے جو اس کا مالک وصاحب ہو۔ اس کی مثال عرب کا یہ قول ہے من ارادالنصیحۃ فھی عند الابرار۔ اس کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ نصیحت انہی کے ہاں سے طلب کرے البتہ اس پر دلالت کرنے والی چیز کو اس کے قائم مقام لایا گیا۔ حدیث میں وارد ہے۔ ان ربکم یقول کل یوم، انا العزیز، فمن اراد عزالدارین فلیطع العزیز ] ذکرہ ابن الجوزی فی الموضوعات : 1/121[ پھر بتلایا کہ جس چیز سے عزت حاصل ہوسکتی ہے وہ ایمان اور عمل صالح ہے فرمایا : اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ (اسی تک اچھا کلام پہنچتا ہے) ۔ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ (اور اچھا کام اس (اچھے کلام) کو پہنچا دیتا ہے۔ الیہؔ سے مراد قبولیت و رضا مندی کا مقام اور ہر وہ چیز جس کی صفت قبولیت لائیں۔ اس کی تعریف رفعت و صعود سے کی جاتی ہے اور اس جگہ کی طرف کی جاتی ہے جہاں اسی ہی کا حکم نافذ ہو۔
الکلم الطیب ؔ، کلمات توحید مراد ہیں یعنی لا الٰہ الا اللہ جس کے واحد اور جمع میں صرف تاء کا فرق ہو اس میں تذکر و تانیث برابر ہیں۔ العمل الصالحؔ خالص عبادت۔ مطلب یہ ہے کہ والعمل الصالح یرفعہ الکلم الطیب۔ عمل صالح کو کلمات طیبہ بلند کرتے ہیں۔ پس بلند کرنے والے کلمات ہیں اور بلند ہونے والے عمل ہیں۔ کیونکہ عمل فقط موحد ہی کا مقبول ہے۔ ایک قول یہ ہے بلند کرنے والے اللہ ہیں۔ اور بلند ہونے والا عمل ہے۔ یعنی العمل الصالح یرفعہ اللہ۔ اس میں اشارہ ہے کہ عمل کا دارومدار بلند ہونے پر ہے اور کلمات طیبہ بذات خودبلند ہوتے ہیں۔
ایک اور قول یہ ہے عمل صالح عامل کو بلند کرتے اور اس کو مشرف باد کرنے والے ہیں۔ یعنی جو آدمی عزت چاہتا ہے پس اسے چاہیے کہ اعمال صالحہ کرے اس لئے کہ اعمال صالحہ ہی بندے کو بلند کرتے ہیں۔
وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ (اور وہ لوگ جو بری بری تدبیریں کررہے ہیں) السیئات مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ای المکرات السیئات کیونکہ مکر ایسا فعل ہے جو متعدی نہیں اس طرح نہیں کہا جاسکتا۔ مکر فلان عملہ۔ یہاں اس سے مراد قریش کی وہ تدابیر ہیں جن کے لئے وہ دارالندوۃ میں جمع ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا واذیمکربک الذین کفروا الیثبتوک ] الانفال : 30[ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ (ان کو سخت عذاب ہوگا) آخرت میں وَ مَکْرُ اُولٰٓپکَ (اور ان کا یہ مکر) ھُوَ یَبُوْرُ (نیست و نابود ہوجائے گا) ۔
نحو : اولئک مبتدأ ھوؔ ضمیر فصل اور یبورؔ خبر ہے۔ ای ومکر اولٰئک الذین مکروا ھو خاصۃ یبور۔ ان لوگوں کا مکر جنہوں نے مکر کیا وہی خاص کر نیست و نابود ہوگا۔ یبورؔ کا معنی فاسد و باطل ہوگا نہ کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر جب ان کو مکہ سے نکالا اور ان کو قتل کیا اور قلیب بدر میں گاڑدیا ان کے سارے مکران کے خلاف اور ان میں جمع کردیئے اور اللہ تعالیٰ کی یہ بات ان میں صادق ہوئی۔ ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر الماکرین ] الانفال : 30[ اور یہ ارشادولا یحیق المکرالسَیِّیُٔ الا باھلہٖ ۔] فاطر : 43[
Ayah 35:11اللہ تعالیٰ خالق ہے اور عمرکا کم زیادہ ہونا اسی کے اختیار میں ہے :
1 1: وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ (اور اللہ تعالیٰ نے ہی تمہیں پیدا کیا) یعنی تمہارے باپ کو مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ (مٹی سے پھر) تمہیں پیدا کیا مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجًا (نطفہ سے پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا) ازواجًا کا معنی اصناف ہے یا مذکر ومؤنث وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَاتَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ (اور کسی عورت کو حمل نہیں رہتا اور نہ وہ جنتی ہے مگر سب اس کی اطلاع سے) بعلمہؔ یہ موضع حال میں ہے ای الا معلومۃ لہ مگر کہ اس کو معلوم ہے۔ وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ (اور نہ کسی کی عمر زیادہ کی جاتی ہے) ۔ یعنی وما یعمر من احد نہ کسی کی عمر زیادہ کی جاتی ہے۔ اس کو معمر کہا کیونکہ وہ اس کی طرف جانے والا ہے۔ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہٖٓ اِلَّا فِیْ
کِتٰبٍ (اور نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے۔ مگر یہ سب لوح محفوظ میں ہوتا ہے) کتاب سے لوح محفوظ یاصحیفہ انسانی مراد ہے۔
قراءت : زید نے ولا یَنْقُصُ پڑھا ہے۔
سوال : انسان یا تو طویل العمر ہوگا یا قصیر العمر پھر یا تو اس پر عمر ملنا پے در پے ہوگا۔ اور اس کے خلاف محال ہے تو پھر وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہٖ کیسے درست ہوا ؟
جواب : اس کلام میں گنجائش چھوڑی گئی۔ اس کی تاویل کے سلسلہ میں سامعین کے فہم پر اعتبار کیا گیا اور ان کی عقلوں پر بھروسہ کیا گیا کہ وہ اس کا درست معنی عقلوں سے معلوم کرلیں گے اور یہ کہ ان پر عمر میں طول و قصر کا محال ہونا ملتبس نہ ہوگا۔ اور لوگوں کی کلام کا مدار اسی پر ہے۔ لوگ کہتے ہیں۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ثواب یا سزا نہیں دیتے مگر یہ برحق ہے۔ نمبر 2۔ آیت کی تاویل یہ ہے وہ صحیفہ میں لکھتے ہیں کہ اس کی عمر اتنے اتنے سال ہے پھر اس کے نیچے لکھتے ہیں ایک دن چلا گیا یہ دو دن چلے گئے یہاں تک کہ وہ عمر انتہاء کو پہنچتی ہے۔ اس کی عمر کا کم ہونا ہے ( یہ سعید بن جبیر کا قول ہے) قتادہ سے مروی ہے کہ المعمر جس نے اپنی عمر کے ساٹھ سال پائے۔ المنقوص عمر سے مراد جو ساٹھ سال سے پہلے مرجائے۔ اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ سب) شمار کرنا یا زیادت و نقصان عمر عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ (اللہ تعالیٰ پر آسان ہے) ۔
Ayah 35:12قدرت کا ایک اور نمونہ :
12: وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ ھٰذَا (اور دونوں دریا برابر نہیں) ھذایہاں احدھما کے معنی میں ہے ان دونوں میں سے ایک عَذْبٌ فُرَاتٌ (ایک تو میٹھا) نہایت شیریں ایک قول یہ ہے وہ جو پیاس کو بجھا دے۔ سَآ ئِغٌ شَرَابُہٗ (خوشگوار اس کا پینا) مٹھاس کی وجہ سے حلق سے جلد نیچے اترنے والا، اسی لئے اس کا پینا اچھا ہے۔ وَھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ (اور ایک شور تلخ ہے) نہایت نمکین ایک قول یہ ہے جو اپنی نمکینی سے جلا ڈالے۔ وَمِنْ کُلٍ (ان میں ہر ایک سے) تَاْ کُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا (تم تازہ گوشت کھاتے ہو وہ مچھلی ہے) ۔ وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا (اور اس سے زیور نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو) اس زیور سے مراد مونگے اور موتی ہیں۔ وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ (اور تو کشتیوں کو ہر ایک میں دیکھتا ہے) ۔ مَوَاخِرَ (پانی کو پھاڑتی ہیں) چلنے سے پانی کو پھاڑتی ہیں کہا جاتا ہے خرت السفینۃ الماء ای سقتہٗ مواخر جمع ماخر کی ہے۔ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ (تاکہ تم اس کی روزی ڈھونڈو) فضلہ ای من فضل اللہ آیت میں اگرچہ اس کا ذکر نہیں آیا مگر پہلے اس کا ذکر آیا ہے۔ اگر پہلے تذکرہ نہ بھی ہوتا تو پھر بھی اشکال نہیں تھا کیونکہ معنی میں اس کے لئے دلالت موجود ہے۔ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (اور تاکہ تم شکر گزار ہو) اللہ تعالیٰ کے اس کے انعامات پر جو اس نے محض اپنے فضل سے دے رکھے ہیں۔ سمندروں کا شیریں اور کھاری ہونا یہ مومن و کافر کی مثالیں ہیں۔ پھر بطور استطراد دونوں سمندروں کی صفات اور جو انعامات و عطیات ان کی وجہ سے عنایت فرمائے ان کا ذکر کردیا۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ غیر استطرادی طور پر ذکر کیا ہو اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ دونوں جنسوں (مؤمن و کافر) کو دو سمندروں سے تشبیہ دی پھر کڑوے سمندر کو کافر پر فضیلت دیتے ہوئے فرمایا۔ کڑوا سمندر تو میٹھے کے ساتھ بعض اہم فوائد میں شریک ہے۔ مثلاً مچھلی، موتی، جہازوں کا چلنا مگر کافر بالکل نفع سے خالی ہے۔ اس صورت میں یہ آیت اس کے مشابہ ہے : ثم قست قلوبکم من بعد ذلک فھی کالحجارۃ او اشد قسوۃ پھر فرمایا۔ وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الا نھار و ان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ ] البقرہ : 74[
Ayah 35:13مظاہرِ قدرت ‘ دن رات کا آنا جانا :
13: یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ ویُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ (وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے) ۔ ایک کی کچھ گھڑیاں دوسرے میں داخل کردیتا ہے یہاں تک کہ ان میں سے بڑھنے والا پندرہ گھنٹہ سے بڑھ جاتا ہے اور کم ہونے والا نو گھنٹے وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے) اس نے صورت میں سب سے زیادہ روشن کو سب سے زیادہ بد سیرت کے تابع کردیا۔ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی (ہر ایک ان میں ایک وقت مقررہ تک چلتے رہیں گے) یعنی قیامت کے دن ان کی چال منقطع ہوجائے گی۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ (یہی اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت ہے) ۔
نحو : ذلکم مبتدأ اللہ ربکم لہ الملک یہ اخبارمترادفہ ہیں۔ نمبر 2۔ اللہ ربکم یہ ان کی خبر ہے۔ لہ الملک۔ یہ جملہ ابتدائیہ ہے جو قرآن میں واقعہ ہے۔
وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (اور اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو) یعنی وہ بت جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو۔
قراءت : قتیبہ نے یَدْعُوْن پڑھا ہے۔
جن کو معبو دقرار دیا گیا وہ قیامت کے دن کا انکار کریں گے :
مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ (وہ کھجور کی گٹھلی کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے) قطمیر وہ چھلکا جو گٹھلی پر لپٹا ہوتا ہے۔
Ayah 35:1414: اِنْ تَدْعُوھُمْ (اگر تم ان کو پکارو بھی) یعنی بتوں کو لَا یَسْمَعُوْا دُعَآ ئَ کُمْ (وہ تمہاری پکار کو سنیں گے نہیں) ۔ کیونکہ وہ جماد ہیں۔ وَلَوْ سَمِعُوْا (اور اگر وہ سن لیں) بالفرض مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ (تو وہ تمہارا کہنا نہ مانیں گے) کیونکہ وہ اس الوہیت کے دعویدار نہیں جس کے تم ان کے متعلق دعویدار ہو۔ اور وہ اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْ کِکُمْ (اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے کی مخالفت کریں گے) تمہارے شریک ٹھہرانے اور ان کی عبادت کرنے کا اور کہیں گے ما کنتم ایانا تعبدون ] یونس : 28[ وَلَا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ (اور تمہیں خبر رکھنے والے کی طرح کوئی نہیں بتلائے گا) یعنی دھوکے کے اسباب پر مر مٹنے والے ! تمہیں اور کوئی اس طرح نہ بتلائے گا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاملات کی مخفی حقیقتوں کی خبر دی ہے۔ اور اس کی حقیقت اس طرح ہے : ولا یخبرک بالأ مر مخبر ھو مثل خبیر عالم بہٖ ۔ اور اے مخاطب تجھے کوئی خبردینے والا اس امر کی خبر نہ دے گا۔ جو خبردینے والا اس کی طرح ہو جو کہ اس کا پورے طور پر علم رکھنے والا ہے۔ مرادیہ ہے کہ اس معاملے سے خبر رکھنے والا وہ اکیلا ہی ہے جو کہ تجھے حقیقت کی خبردے سکتا ہے دوسرے مخبرین نہیں۔ مطلب یہ ہوا میں نے بتوں کے متعلق تمہیں خبر دی ہے یہ برحق ہے کیونکہ جو خبر میں نے دی میں اس کی اچھی طرح خبر رکھنے والا ہوں۔ (محض اٹکل کی بات نہیں کہہ رہا )
Ayah 35:15وہ ایسا غنی جو اغنیاء کو دینے والا ہے :
15: یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآ ئُ اِلَی اللّٰہِ (اے لوگو ! تم اللہ تعالیٰ ہی کے محتاج ہو) ۔
قولِ ذوالنون (رح) :
مخلوق ہر سانس اور قدم اور ہر لحظہ اس کی محتاج ہے اور کیسے نہ ہو ؟ اس لئے کہ ان کا وجود اسی کے وجود دینے سے اور ان کی بقاء اسی سے ہے۔ وَاللّٰہُ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (اور اللہ تعالیٰ ہی بےنیاز ہیں) تمام اشیاء سے۔
الْحَمِیْدُ : (خوبیوں والے ہیں) ہر زبان کی مدح خواں ہے۔
انسانوں کو تحقیر کیلئے فقراء نہیں فرمایا۔ بلکہ انسان کے استغناء پر تعریض کی گئی ہے اسی لئے تو اپناوصف الغنی لائے غنی وہ ذات ہے جو اغنیاء کو کھانا کھلائے اور الْحَمِیْدُ ۔ کا ذکر کیا۔ تاکہ یہ دلالت ہو کہ اللہ تعالیٰ بےنیاز ہیں اور اپنی بےنیازی سے مخلوق کو نفع پہنچانے والے ہیں۔ وہ ایسے سخی ہیں جو کہ ان پر انعام فرمانے والے ہیں۔ کیونکہ غنی اپنے غناء سے فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ وہ غنی سخی و انعام کرنے والا نہ ہو۔ جب وہ سخاوت کرے گا اور انعام فرمائے گا۔ تو انعام یافتہ اس کی تعریف کریں گے۔
قولِ سہل (رح) :
جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنے لئے غناء کی صفت اختیار فرمائی اور مخلوق کیلئے فقر کی جس نے غناء کا دعوی کیا اس کو اللہ تعالیٰ سے حجاب میں کردیا جاتا ہے اور جس نے اپنے فقر کو ظاہر کیا اس کا فقر اس کو اللہ تعالیٰ تک پہنچا دے گا۔ پس بندے کو مناسب یہ ہے کہ پوشیدہ طور پر اسی ہی کی بارگاہ میں محتاجی کا اظہار کرے اور غیر سے کٹ کر اسی کا ہو رہے۔ تاکہ اس کی عبادت اخلاص والی بنے۔
عبودیت و غناء :
العبودیت : کی حقیقت تذلل و خضوع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے سوال نہ کرنا یہ اس کی علامت ہے۔
قولِ واسطی :
ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے استغناء طلب کرے وہ محتاج نہ ہوگا۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ سے عزت پائی وہ ذلیل نہ ہوگا۔
قول الحسین۔ :
بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جتنی محتاجی ظاہر کرنے والا ہوگا اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ سے غناء پانے والا ہوگا۔ جوں جوں اس کی طرف محتاجی بڑھتی جائے گی غناء ترقی کرتا جائے گا۔
قولِ یحییٰ (رح) :
کہ فقر بندے کیلئے غناء سے زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ فقر میں عاجزی ہے اور غناء میں کبر ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف تو اضع و عاجزی سے رجوع کرنا کثرت اعمال کے ذریعہ رجوع کرنے سے بہتر ہے۔
اولیاء کی صفات ثلاثہ : نمبر 1۔ ہر چیز میں اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین نمبر 2۔ ہر چیز میں اسی ہی کی طرف احتیاجگی نمبر 3۔ اور ہر چیز میں اسی ہی کی طرف رجوع۔
قولِ شبلی m :
فقرمصائب کو کھینچ لاتا ہے اور اس کی تمام آزمائش عزت ہے۔
Ayahs 35:16–1716، 17: اِنْ یَّشَاْ یُذْ ھِبْکُمْ (اگر وہ چاہے تم کو فناء کر دے) تم سب کو عدم میں پہنچا دے۔ ان کا غناء قدم میں تمہاری وجہ سے نہیں بلکہ ذاتی ہے۔ وَیَاْ تِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ (اور نئی مخلوق کو لے آئے) وہ تمہاری حمد کے بغیر بھی حمید ہے۔ وَمَا ذٰلِکَ (اور یہ) پیدائش و افناء عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ (اللہ تعالیٰ پر مشکل نہیں) ممتنع نہیں۔
قول ابن عباس ؓ :
وہ تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا کر دے جو اس کی عبادت کرنے والے ہوں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنے والے نہ ہوں۔
Ayah 35:18ہر ایک اپنا ذمہ دار ہوگا :
18: وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّ زْرَ اُخْرٰی (اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا) کوئی گناہ گار نفس کسی دوسرے نفس کا گناہ اپنے اوپر نہ اٹھائے گا۔
الوزر اور الوقر دونوں لفظ ایک ہیں۔ کہتے ہیں وزرالشی جبکہ وہ اس کو اٹھائے الوازرۃؔ یہ نفس کی صفت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر نفس قیامت کے دن اپنا بوجھ ہی اٹھائے گا۔ جو ان گناہوں کا ہوگا جن کا اس نے ارتکاب کیا۔ کوئی دوسرا نفس اس کے گناہوں کے بدلے میں پکڑا نہ جائے گا۔ جیسا کہ دنیا کے جبابرہ دوست کو دوست اور پڑوسی کو دوسرے پڑوسی کے بدلے پکڑتے ہیں۔
یہاں وازرۃ فرمایا گیا۔ ولاتزر نہیں فرمایا کیونکہ مطلب آیت کا ہے کہ گناہوں سے بوجھل نفوس میں جس کو بھی تم دیکھو گے وہ اپنا بوجھ اپنے اوپر لادنے والا ہوگا نہ کہ دوسرے کا۔ ارشاد فرمایا ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم ] العنکبوت : 13[ یہ آیت گمراہوں اور گمراہ کرنے والوں کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کا بوجھ اپنے بوجھوں کے ساتھ اٹھانے والے ہونگے اور یہ ان کے اپنے ہی بوجھ ہیں اس میں ذرہ بھر بھی دوسرے کے بوجھ شامل نہیں ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کس طرح اس قول میں تکذیب فرمائی۔ اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطایا کم ] العنکبوت : 12[ فرمایا وماھم بحاملین من خطایا ھم من شیٔ۔
وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِھَا (اور اگر کوئی بوجھ لدا ہوا کسی کو بوجھ اٹھانے کیلئے بلائے گا) مثقلۃ سے نفس مثقلہ مراد ہے جو گناہوں سے بوجھل ہوگا کسی دوسرے کو بوجھ اٹھانے کی طرف بلائے گا۔ الیٰ حملھا سے اپنے بوجھ کی طرف جو کہ گناہوں کا ہوگا تاکہ وہ اس سے کچھ بوجھ اٹھائے۔ لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْئٌ وَّلَوْ کَانَ (تب بھی اس میں سے کچھ بوجھ بھی اٹھایا نہ جائے گا۔ اگرچہ وہ شخص قرابتدارہی ہو) یعنی جس کو ملایا گیا اور یہ ان تدع سے سمجھ آرہا ہے۔ ذَا قُرْبٰی قرابتدار جیسے باپ، بیٹا، بھائی۔
فرق :
ولا تزر وازرۃ وزراُخری اور وان تدع مثقلۃ الی حملھا لایحمل منہ شیٔ میں یہ ہے کہ اول آیت اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلوں میں عدل کو بتلارہی ہے اور یہ بتلارہی ہے کہ بغیر گناہ کے کسی سے مواخذہ نہ ہوگا۔ اور دوسری آیت میں یہ بیان کیا گیا کہ جو آدمی فریاد رس اس دن طلب کرے گا اس کی کوئی فریادرسی کرنے والا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی ایسا نفس جس کو بوجھ نے نڈھال کر رکھا ہو وہ اگر اپنے بوجھ میں تخفیف کیلئے بلائے گا۔ تو کوئی اس کی بات کو قبول نہ کرے گا۔ اور نہ اس کی فریاد رسی کرے گا۔ خواہ جس کو اس نے مدد کی دعوت دی ہے اس کا قریب ترین رشتہ دار ہو۔ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ (بیشک آپ ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو اپنے رب تعالیٰ سے ڈرتے ہیں) تمہارے انذار سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔
بِالْغَیْبِ (بن دیکھے) یہ فاعل سے حال ہے نمبر 2۔ مفعول سے حال ہے ای یخشون ربہم غائبین عن عذابہٖ یا یخشون عذابہ غائبا عنہم وہ اپنے رب تعالیٰ سے اس حال میں ڈرنے والے ہیں کہ اس کا عذاب ان کے سامنے نہیں یا وہ اس کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں اس حال میں کہ وہ عذاب ان سے غائب ہے۔ ایک اور قول یہ ہے وہ اپنے رب سے خوشحالی میں ڈرتے ہیں۔ اس طرح کہ کسی دوسرے کو اس کی اطلاع بھی نہیں۔ وَاَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ (اور وہ نماز کو اس کے اوقات میں قائم کرنے والے ہیں) ۔ وَمَنْ تَزَکّٰی (اور جس شخص نے پاکیزگی اختیار کی) طاعات کر کے اپنے کو پاک کیا اور گناہوں کو چھوڑ کر پاک ہوئے۔ فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ (وہ اپنے نفس کیلئے پاکیزگی اختیار کرنے والا ہے) یہ جملہ معترضہ ہے۔ جو ان کی خشیت کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ اور اقامت ِصلوٰۃ کی تاکید ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کا تعلق تزکیہ سے ہے۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے) لوٹنے کی جگہ ہے اس میں مشرکین کو ثواب کا وعدہ کیا جارہا ہے بشرطیکہ وہ ایمان قبول کرلیں۔
Ayah 35:19مومن و کافر برابر نہیں جیسے اندھیرا و روشنی ‘ سایہ و دھوپ برابر نہیں :
19: وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ (اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں) یہ مومن و کافر کی مثال ہے۔ نمبر 2۔ عالم و جاہل کی مثال ہے۔
Ayah 35:2020: وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ (اور نہ اندھیرے یعنی کفر اور نہ روشنی یعنی ایمان ) ۔
Ayah 35:2121: وَ لَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ (اور نہ سایہ اور نہ دھوپ) حق اور باطل نمبر 2۔ جنت و دوزخ۔ الحرورؔ گرم ہوا کو کہتے ہیں جیسے لُو۔ البتہ لو ؔ دن کو ہوتی ہے۔ اور الحرور یہ دن، رات ہوتی ہے، یہ فراء سے منقول ہے۔
Ayah 35:22کفار کو مردوں کی طرح مسموعات سے فائدہ نہیں :
22: وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآ ئُ وَلَا الْاَمْوَاتُ (اور برابر نہیں زندہ اور نہ مردہ) یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اسلام میں داخل ہوئے اور وہ لوگ جو اس میں داخل نہ ہوئے۔ اور لاؔ کا اضافہ نفی کے معنی کی تاکید کیلئے ہے۔ اور ان واوات کے درمیان فرق یہ ہے کہ بعض تو طاق کو طاق کے ساتھ اور بعض جفت سے جفت تک کیلئے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآ ئُ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی القُبُوْرِ (بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا سکتا ہے اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں) ۔ یعنی وہ جانتا ہے کہ کون اسلام میں داخل ہوگا۔ اور کون نہیں داخل ہوگا۔ پس جس کو چاہتا ہے وہ ہدایت دیتا ہے باقی آپ پر ان کا معاملہ مخفی ہے اسی لئے آپ ان لوگوں کے اسلام پر بھی حرص کرنے والے ہیں۔ جو اسلام سے علیحدگی اختیار کرنے والے اور ہٹنے والے ہیں۔ اس میں کفار کو مردوں سے تشبیہ دی کہ جس طرح وہ اپنے مسموعات سے فائدہ حاصل نہیں کرسکتے اسی طرح یہ بھی۔
Ayah 35:2323: اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ (آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں) یعنی آپ کے ذمہ صرف یہ ہے کہ آپ پہنچا دیں اور ڈرائیں خواہ جس کو ڈرسنایا گیا۔ ان میں سے ہو جو سن کر نفع حاصل کرتا ہے۔ خواہ ان میں سے ہو جو نفع حاصل نہیں کرتا بلکہ اصرار علی الکفر کرنے والا ہے۔ آپ پر کچھ گناہ نہ ہوگا۔
Ayah 35:2424: اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ (ہم ہی نے آپ کو حق دے کر بھیجا) بالحق : یہ دونوں میں سے ایک سے حال ہے۔ ای محقا یا محقین۔ نمبر 2۔ مصدر کی صفت ہے ای ارسالا مصحوبا بالحق۔ ایسا بھیجنا جو حق سے ملا ہوا ہے۔ بَشِیْرًا (خوشخبری سنانے والے ہیں) وعدوں کے ساتھ وَّ نَذِیْرًا ( اور ڈر سنانے والے ہیں) وعید کے ذریعہ وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ (اور کوئی امت ایسی نہیں) جو امت بھی آپ کی امت سے پہلے ہوئی۔ الامہؔ کثیر جماعت کو کہتے ہیں۔ جیسا اس ارشاد میں ہے وجد علیہ امۃ من الناس ] القصص : 23[ امت ہر زمانہ والوں کو کہا جاتا ہے یہاں اہل زمانہ ہی مراد ہیں۔ انذار کے آثار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان موجود تھے۔ وہ زمانے کسی نذیر سے خالی نہیں رہے۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کے انذار کے اثرات مٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو بھیجا۔ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ (مگر کہ ان میں ایک ڈرانے والا گزرا) خلاؔ گزرنے کے معنی میں ہے ڈرانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو سرکشی کی بدمزگی اور ناشکری کے بدترین انجام سے ڈرائیں۔
نکتہ : آیت کے شروع میں بشیر و نذیر دونوں کا ذکر کیا مگر انتہاء پر نذیر کے ذکر پر اکتفا کیا کیونکہ نذارت و بشارت اضداد ہیں ایک کا تذکرہ دوسرے کے تذکرہ پر دلالت کرتا ہے۔
Ayah 35:2525: وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا) ۔ جَآ ئَ تْہُمْ رُسُلُھُمْ (ان کے رسول ان کے پاس لائے)
نحو : یہ حال ہے اور قد مضمر ہے۔
بِالْبَیِّنٰتِ (دلائل) معجزات وَبِالزُّبُرِ (اور صحیفے) وَ بِالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ (اور روشن کتابیں) یعنی تورات، انجیل، زبور۔ جب یہ اشیاء جنس انبیاء (علیہم السلام) میں پائی گئیں۔ اسی لئے لانے کی نسبت مطلقًا تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف کردی۔ اگرچہ بعض چیزیں ان تمام میں پائی جاتی تھیں۔ اور وہ واضح دلائل ہیں اور بعض بعض انبیاء (علیہم السلام) میں تھیں اور وہ زبر اور کتابیں تھیں اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔
Ayah 35:2626: ثُمَّ اَخَذْتُ (پھر میں نے پکڑ لیا) سزا دی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (کافروں کو قسم قسم کی سزائوں سے) فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ (پھر میرا عذاب کیسا رہا) ۔ میرا انکار اور میرا سزا دینا ان کو کیسا رہا۔
Ayah 35:27قدرت کے نمونے :
27: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً فَاَخْرَجْنَا بِہٖ ( کیا تم نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس کے ذریعہ ہم نے نکالا) ہٗ کی ضمیر ماءؔ کی طرف راجع ہے۔ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُھَا (پھل مختلف رنگت کے) الوان سے اجناس مراد ہیں جیسے انار، سیب، انجیر، انگور وغیرہ جن کی تعداد گنی نہیں جاسکتی۔ نمبر 2۔ الوانؔ سے ہیئت مراد ہے۔ جیسے سرخی، زردی، سبزی وغیرہ۔ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ (اور پہاڑوں کے بھی مختلف حصے ہیں) جددجمع جُدَّۃ کی ہے جیسے مدد جمع مُدّۃ کی ہے راستہ کے معنی میں۔ مختلف رنگ کے راستے۔ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُھَا وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ (سفید اور سرخ ان کی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ) غرابیب جمع غربیب یہ اسود کی تاکید ہے عرب کے لوگ کہتے ہیں۔ اسود غربیب وہ جو انتہائی سیاہ ہو اور سخت سیاہ ہو غراب کا لفظ اسی سے ہے۔
قاعدہ یہ تھا کہ تاکید کو مؤکد کے بعد لاتے جیسا کہتے ہیں۔ اصفر فاقع، مگر مؤکد کو پہلے مضمر لائے اور بعد والے کو اس کی تاکید بنایا۔ اور ایسا تاکید مزید کیلئے کیا جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ ایک ہی معنی پر دو طریقوں سے اظہار و اضمار سے یکساں دلالت کرتا ہے۔ مضاف کو محذوف مانناضروری ہے۔ ومن الجبالؔ میں ای من الجبال ذوجدد بیض و حمر وسود، تاکہ وہ اس قول کی طرف لوٹ آئے۔ ومن الجبال مختلف الوانہ جیسا کہ فرمایا ثمرات مختلفا الوانہا ] فاطر : 27 [
Ayah 35:2828: وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ (اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں۔ کہ انگی رنگتیں مختلف ہیں۔ ) یعنی ان میں سے بعض مختلف رنگت کے ہیں۔ کَذٰلِکَ (اسی طرح) جیسے پھل، پہاڑ مختلف ہیں۔
فائدہ : جب پہلے الم تران اللہ انزل من السماء ماء کہا اور آیات الٰہیہ کو شمار کیا اور اس کی قدرت کے نشانات گنائے اور اس کی کاریگری کے نمونے بتلائے اور جو مختلف قسم کی اجناس بنائیں۔ اور جن چیزوں سے اس کی ذات وصفات پر استدلال کیا جاسکتا تھا ان کو گنوا چکے تو اس کے بعد فرمایا :
ایک چیز پر بس نہیں :
اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا (اللہ تعالیٰ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں) اس کو جاننے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو صفات سے پہچانا اور اس کی تعظیم کی اور جس کا علم اس کے متعلق زیادہ ہوا اس کا خوف اس سے بڑھ گیا اور جس کا علم اس کے متعلق کم ہے وہ مطمئن ہوا بیٹھا ہے حدیث میں فرمایا تم میں سب سے زیادہ علم والے وہ سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے علماء ہی ہیں :
نکتہ : اسم باری تعالیٰ کو مقدم اور العلماء کے لفظ کو مؤخر کر کے یہ اعلان کرنا مقصود ہے کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے بندوں میں سے وہ علماء ہیں نہ کہ غیر۔ اگر اس کا عکس ہوتا تو پھر معنی اس طرح بنتا کہ وہ نہیں ڈرتے مگر اللہ تعالیٰ سے جیسا کہ اس ارشاد گرامی میں ہے۔ ولا یخشون احدًا اِلا اللّٰہ ] الاحزاب : 39 [ حالانکہ اس آیت کا مفہوم اور ہے اور اس کا اور ہے اس آیت میں یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے علماء ہی ہیں۔ اور احزاب والی آیت میں فرمایا کہ جس ذات سے ڈرا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔
قراءت : ابو حنیفہ، عمر بن عبد العزیز، ابن سیرین رحمہم اللہ نے اس طرح پڑھا : انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء۔
اس قراءت میں خشیت استعارہ ہے مطلب یہ ہے انما یعظم اللہ من عبادہ العلماء اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے علماء کو عظمت دیتا ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ عَزِیزٌ غَفُوْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ زبردست بخشنے والے ہیں) اس آیت میں خشیت کے وجوب کی علت ذکر فرمائی۔ کیونکہ اس کی دلالت نافرمانوں کو سزا دینے اور مغلوب کرنے اور اہل اطاعت کو ثواب دینے اور ان سے درگزر کرنے کی ہے۔ اور معاقب اور مثیب کا حق یہ ہے کہ وہ اس سے ڈریں۔
Ayah 35:2929: اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ (جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں) تلاوت پر مداومت اختیار کرتے ہیں۔ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً (اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں) یعنی نفلی صدقات کو چھپا کر اور فرضی صدقات سرعام کرتے ہیں۔ یعنی عمل کی حلاوت سے ہٹ کر فقط اس کی تلاوت پر قناعت نہیں کرتے۔ یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً (وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں) تجارتؔ سے مراد اطاعت کے بدلہ میں ثواب طلب کرنا۔
نحو : یرجونؔ یہ انّ کی خبر ہے۔ لَّنْ تَبُوْرَ (جو کبھی ماندنہ ہوگی) ہرگز کساد بازاری کا شکار نہ ہوگی یعنی ایسی تجارت جس میں خسارہ نہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ چلے گی۔
Ayah 35:30وفائے اجر سے وعدئہ لقاء مراد ہے :
30: لِیُوَ فِّیَہُمْ (تاکہ وہ ان کو پورا پورا دے) یہ لن تبور کے متعلق ہے۔ ای لیوفیھم بنفاقھا عندہ (تاکہ وہ ان کو اپنے ہاں رائج کر کے پورا پورا بدلہ دے) اُجُوْرَھُمْ (ان کا بدلہ) یعنی ان کے اعمال کا ثواب وَیَزِیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (اور اپنے فضل سے ان کو اور دے) ان کی قبور کو وسیع کر دے۔ نمبر 2۔ ان کا سفارشی بنا دے جنہوں نے ان پر احسان کیا۔ نمبر 3۔ ان کی نیکیوں کو دوگنا کر دے نمبر 4۔ اپنی لقاء کا وعدہ پورا فرما دے۔ یرجونؔ یہ موضع حال میں ہے یعنی وہ امیدوار ہیں اور لام ؔ یتلون اور مابعد سے متعلق ہے یعنی انہوں نے یہ تمام کام تلاوت ‘ اقامت صلوٰۃ اور انفاق اس غرض کیلئے کیے۔ اور اِنَّ ؔ کی خبر انہٗ غفور شکور ہے۔ اِنَّہٗ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ (بیشک وہ بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے) ۔ یعنی ان کو بخشنے والا ہے۔ ان کے اعمال کی قدردانی کرنے والا ہے۔ یعنی قلیل عمل پر کثیر اجر عنایت فرمانے والے ہیں۔
Ayah 35:3131: وَالَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ (اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس بطور وحی بھیجی ہے) الکتابؔ سے قرآن مراد ہے۔
نحو : مِنؔ بیانیہ ہے۔
ھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا (وہ بالکل ٹھیک ہے) یہ حال مؤکدہ ہے کیونکہ حق اس تصدیق سے ہرگز جدا ہونے والا نہیں۔ لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ (اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے) بین یدیہ سے گزشتہ کتابیں مراد ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیْرٌ 0 بَصِیْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا ہے خوب دیکھنے والا ہے) پس آپ کو جانتا اور آپ کے احوال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ اس نے آپ کو اہل دیکھ کر آپ کی طرف اس جیسی معجز کتاب اتاری جو کہ تمام کتب سے سبقت کرنے والی ہے۔
Ayah 35:32وارثین قرآن کے درجات :
32: ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ (پھر ہم نے یہ کتاب ان لوگوں کے ہاتھوں پہنچائی) قرآن مجید آپ کی طرف بذریعہ وحی نازل فرمایا پھر ہم نے اس کے پہنچانے کا فیصلہ کیا ان بندوں کو۔ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا (جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا) اور وہ آپ کی امت سے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین ؓ اور جو ان کے بعد ان کے پیروکار قیامت تک ہونگے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام امتوں پر چنا اور ان کو امت وسط بنایا تاکہ وہ لوگوں پر گواہ ہوں اور ان کو افضل الانبیاء (علیہم السلام) کی طرف نسبت کا شرف عنایت فرما دیا۔
فائدہ : پھر اس امت کے مراتب بالترتیب بیان فرمائے۔ فرمایا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ (پھر بعض تو ان میں سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں) وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر و امیدوار ہیں۔ وَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ (اور بعض ان میں متوسط درجہ کے ہیں) وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اچھے برے عمل ملا دیے ہیں۔ وَمِنْھُمْ سَابِقٌ 0 بِالْخَیْرٰتِ (اور بعض ان میں بھلائی میں ترقی کرنے والے ہیں) یہ تاویل قرآن مجید کے موافق ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ نمبر 1۔ والسابقون الاولون من المھاجرین ] التوبۃ : 100[ اور اس کے بعد فرمایا نمبر 2۔ وٰاخرون اعترفوا بذنوبھم ] التوبہ : 101[ اور پھر فرمایا وٰاخرون مرجون لامر اللہ۔ (التوبہ : 106) حدیث میں حضرت عمر ؓ سے مروی ہے آپ نے اس آیت کو منبر پر تلاوت فرمایا اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ہم میں جو سبقت کرنے والے ہیں وہ تو آگے بڑھ جانے والے ہیں۔ اور ہم میں جو مقتصد ہیں وہ نجات پانے والے ہیں۔ اور ہم میں جو ظالم ہیں۔ وہ بخش دیئے جائیں گے (رواہ ابن مردویہ ‘ رواہ العقیلی فی الضعفاء الکبیر 3/443) اور انہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سابق تو جنت میں بلا حساب جائیں گے اور متوسط کا معمولی حساب لیا جائے گا یہاں تک کہ وہ گمان کرنے لگے گا کہ وہ ہرگز نہ بچ سکے گا۔ پھر اس کو رحمت پالے گی اور جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ (رواہ احمد 5/198۔ مجمع الزوائد 7/95)
اثر ابن عباس ؓ : السابقؔ سے مخلص اور المقتصدؔ دکھاوا کرنے والا۔ اور الظالم سے نعمتوں کی ناشکری بلا اصرار کرنے والا۔ کیونکہ تینوں کے جنت میں داخلے کا حکم ہے۔
قول السلف۔ :
ربیع بن انس ؓ نے کہا الظالمؔ کبائر کا مرتکب۔ المقتصد صغیرہ گناہ کرنے والا۔ نمبر 3۔ السابق ان تمام سے گریز کرنے والا۔
قول حسن بصری m :
نمبر 1۔ الظالم جس کی سیئات زیادہ ہوجائیں نمبر 2۔ السابق جس کی حسنات بڑھ جائیں۔ نمبر 3۔ المقتصد جس کی حسنات و سیئات برابر ہوں۔
ابو یوسف (رح) سے اس آیت کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا۔ یہ تینوں مؤمنوں کی اقسام ہیں۔ کفار کے حالات تو اس کے بعد والذین کفروا لھم نار جھنم ] فاطر : 36[ میں تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ باقی تینوں طبقات ان بندوں میں سے ہیں۔ جن کو بندوں میں سے چنا گیا ہے۔ اسی لئے فرمایا فمنھم ومنہم و منہم تمام ضمائر الذین اصطفینا من عبادنا کی طرف لوٹنے والی ہیں۔ اور یہ اہل ایمان ہیں اور جمہور کا مسلک یہی ہے۔ البتہ الظالم کو مقدم اس لئے کیا گیا تاکہ بتلا دیا جائے کہ ان کی تعداد زیادہ ہے پھر مقتصدین کی تعداد ان کے مقابلہ میں قلیل ہے اور السابقون تو قلیل میں سے اقل ہیں۔
قول ابن عطاء m :
ظالمؔ کو مقدم اس لئے فرمایا تاکہ وہ اس کے فضل سے مایوس نہ ہوں ایک قول یہ ہے اس کو مقدم یہ بتلانے کیلئے کیا گیا کہ اس کا گناہ اس کو اس کے رب تعالیٰ سے دور نہیں کرسکتا۔
قولِ دیگر :
یہ ہے کیونکہ سب سے پہلی حالت معصیت پھر توبہ پھر استقامت ہے۔
قول سہل۔ :
السابق سے عالم المقتصد سے متعلم اور الظالم سے جاہل مراد ہے۔ اور یہ بھی کہا : سابق وہ ہے جو معاد میں مصروف ہو اور متقصد وہ جو معاش و معاد میں لگا ہو اور ظالم وہ ہے جو معاد کو چھوڑ کرمعاش میں مصروف ہو۔ ایک قول یہ ہے الظالم۔ جو غفلت و عادت سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔
المقتصد وہ ہے جو رغبت و رہبت کے ساتھ ان کی عبادت کرے۔ السابق جو ان کی عبادت ہیبت و استحقاق سے کرے۔
ایک قول :
یہ ہے الظالم جو دنیا خواہ حلال ہو یا حرام سب لے لے۔ المقتصد جو محنت کرے اور حلال ذریعہ سے حاصل کرے۔
السابق جو دنیا سے بالکل اعراض کرے۔ ایک قول یہ ہے الظالمؔ طالب دنیا المقتصدؔ طالب آخرت السابقؔ مولیٰ کا طالب ہو۔
بِاِذْنِ اللّٰہِ ) اللہ تعالیٰ کے حکم سے (یا اس کے علم سے یا اس کی توفیق سے ذٰلِکَ ) یہ) یعنی کتاب کا وارث بنانا۔ ھُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ ) بڑا فضل ہے)
Ayah 35:33جنات اور اس میں کلمات تشکر :
33: جَنّٰتُ عَدْنٍ ) ہمیشہ کے باغات )
نحو : یہ ذلک کی دوسری خبر ہے یا مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ یا یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبر ید خلونھا ہے۔ یَّدْخُلُوْنَھَا (وہ اس میں داخل ہونگے) یعنی تینوں جماعتیں۔
قراءت : ابو عمرو نے یدخلونھا پڑھا ہے۔
یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا) اور ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے) اساور جمع اسورۃ اور وہ سِوَارٌ کی جمع ہے۔ من ذھبؔ کا مطلب من ذھب مرصع باللؤ لؤ سونے کے جو موتیوں سے مزین ہونگے۔
قراءت : لؤلؤا نصب اور ہمزہ کے ساتھ نافع، حفص نے پڑھا۔ من اساور کے محل پر اس کا عطف کیا گیا۔ تقدیرکلام یہ ہے یحلون اسا ورولولؤا۔ وَلِبَاسُہُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ) اور ان کا لباس اس میں ریشم ہوگا) کیونکہ اس میں لذت وزینت ہے۔