Ayah 34:1ہر قسم کے تمام محامد کا حقدار :
1: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (تمام تر حمد اسی اللہ تعالیٰ کے لائق ہے جس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور) وَلَہُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَۃِ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (جو کچھ زمین میں ہے اور اسی کی حمد آخرت میں سزا وار ہے اور وہ حکمت والا خبردار ہے) ۔ اَلْحَمْدُ اگر الف لام عہد کا لیا جائے تو اس سے مراد وہ ہے جس سے اس کی تعریف کی جائے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے محمود ہے نمبر 2۔ اور اگر الف لام استغراق کا مانیں تو وہ تمام محامد ظاہریہ، باطنیہ، سریہ ‘ جہریہ کا حقدار ہے۔ للّٰہ لام تملیک کا ہے کیونکہ تمام حمد کرنے والوں کا وہ خالق ہے پس تعریف کا مالک جس کی ملکیت میں ہو وہی حمد کا اہل و حقدار ہے۔ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (وہ ذات کہ اس کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے) خلقت، ملک و غلبہ کے لحاظ سے پس وہی اس لائق ہے کہ سروجہر میں اسی ہی کی حمد کی جائے۔ وَلَہُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَۃِ ( اور آخرت میں بھی حمداسی ہی کیلئے ہوگی) جیسا کہ دنیا میں اس کے لئے ہے۔ اس لئے کہ نعمتیں ہر دوجہان میں مولیٰ کی طرف سے ہیں۔ البتہ حمد یہاں واجب ہے کیونکہ دنیا تکلیف کا گھر ہے۔ وہاں ایسا نہیں یعنی حمد و اجب نہیں کیونکہ وہ دارالتکلیف نہیں۔ اہل جنت نعمتوں پر خوش ہو کر حمد کریں گے اور جو بڑا اجر ان کو ملا اس سے لذت اندوز ہوتے ہوئے حمد کریں گے۔ (قالوا الحمدللہ الذی ھدانا لھذا الایۃ) جیسا کہ اس قول میں مذکور ہے الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ ] الزمر : 74[ الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ] فاطر : 34[
وَھُوَ الْحَکِیْمُ (وہ حکمت والا ہے) ۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کی تدبیر کرنے والا ہے۔ الْخَبِیْرُ (وہ خبردار ہے) اس کے ضمیر کی باتوں سے جو بھی قیامت تک اس کی تعریف کرے یا اس سے اعراض کرے۔
Ayah 34:22: یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ (وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے) ۔ یعلم یہ جملہ مستانفہ ہے۔ مایلجؔ کا معنی جو داخل ہوتی ہے۔ مراد اموات اور دفائن ہیں۔ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا (اور جو چیز اس میں سے نکلتی ہے) یعنی نبات، اور معادن سے نکلنے والے جواہرات وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآ ئِ (اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے) ۔ یعنی بارش سے قسم قسم کی برکات۔ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا ( اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے) اس کی طرف چڑھنے والی چیزیں یعنی ملائکہ اور دعائیں۔ وَھُوَ الرَّحِیْمُ (اور وہ رحیم ہے) ان چیزوں کو نازل کرتا ہے جن کی ان کو ضرورت ہے۔ الْغَفُوْرُ (وہ غفور ہے) ان چیزوں کا جن کی وہ اس کی مخالفت میں جرأت کرتے ہیں۔
Ayah 34:3علم قیامت عقوبات باری تعالیٰ ہے :
3: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور کافر کہتے ہیں) جو کہ منکرین بعث ہیں لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ (ہم پر قیامت نہ آئے گی) اٹھنے کی نفی اور قیامت کی آمد کا انکار کرنا ہے۔
قُلْ بَلٰی (آپ فرما دیجئے کہ کیوں نہیں) یعنی قیامت ضرور آئے گی۔
مسئلہ : نفی کے بعد اثبات کیلئے بلٰی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اس کی آمد کے سوا کوئی بات نہیں۔
وَرَبِّیْ لَتَاْ تِیَنَّکُمْ (قسم ہے مجھے پروردگار کی وہ ضرور آئے گی) اس میں بلیٰ کے ایجاب کو دوبارہ تاکید سے لوٹایا۔ اور ایسی چیز لائے جو تاکید میں بہت بڑھ کر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانا ہے۔ اور اس تاکید میں مزید اضافہ اس طرح کردیا کہ مقسم بہٖ کا وصف ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ (جوعالم الغیب ہے) کیونکہ مقسم بہٖ کی عظمت مقسم علیہ کی حالت کی قوت اور شدت ثبات اور استقامت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ وہ اس امر پر بمنزلہ استشہاد کے ہوتا ہے اور جتنا مستشہد بہٖ مرتبہ میں بلندہوتا ہے۔ اتنی ہی شہادت زیادہ مضبوط و مؤکد ہوتی ہے اور مستشہدعلیہ زیادہ ثابت و پختہ ہوجاتا ہے۔
قیامت کا قیام غیو بات مشہورہ سے ہے۔ اس کو خفیہ میں داخل فرمایا۔ وصف ایسا لائے جس سے علم غیب کی طرف علم کو سپرد کیا جائے یہ زیادہ بہتر وانصب ہے۔ یعنی چونکہ امور غیبیہ میں سے ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی شہادت ہی ثبوت کیلئے کافی ہے) ۔
قراءت : عالمُ الغیب مدنی اور شامی نے پڑھا اے ھو عالم الغیب اور حمزہ علی نے عَلاّم الغیب پڑھا اور مبالغہ کا صیغہ لائے۔
لَایَعْزُبُ عَنْہُ (اس سے غائب نہیں) قراءت : زاء کو علی نے مکسور پڑھا۔ کہا جاتا ہے عزب یعزب اذاغاب جبکہ وہ غائب اور دور ہوجائے مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ (ایک ذرہ کی مقدار) سب سے چھوٹی چیونٹی کی مقدار فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَ لَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ (آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ چھوٹی چیز اس سے) یعنی ذرہ کی مقدار سے وَلَآ اَکْبَرُ (اور نہ کوئی چیز بڑی) یعنی مقدار ذرہ سے (اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (مگر کہ وہ کتاب مبین میں ہے) کتاب مبین سے لوح محفوظ مراد ہے۔
نحو : ولا اصغرولا اکبر کو رفع کے ساتھ پڑھیں گے جبکہ مثقال ذرۃ پر عطف کریں گے اور الا لکن کے معنی میں آئے گا یا ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔ اور فی کتابؔ یہ خبر کی وجہ سے مرفوع ہوگی۔
Ayah 34:4نیکوں کو بدلہ بروں کو سزا :
4: لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (تاکہ ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے) ۔ اُولٰٓپکَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ (ایسے لوگوں کیلئے مغفرت) ان چیزوں کی جو مدارج ایمان میں ان سے کو تاہیاں ہوئیں۔ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ (اور عزت کی روزی ہے) اس لئے کہ انہوں نے احسان کے فوائد کو حاصل کرنے کیلئے ثابت قدمی دکھائی۔
Ayah 34:5نحو : یہ لتاتینکم کے متعلق ہے اور اس کی تعلیل ہے۔
5: وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْ ٰایٰتِنَا (اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کے متعلق کوشش کی تھی) یعنی قرآن کی تردید میں خوب محنت کی۔ مُعٰجِزِیْنَ (ہرانے اور عاجز کرنے کیلئے) سبقت کی اس گمان سے کہ وہ ہم سے نکل جائیں گے۔
قراءت : مُعَجّزِیْنَ مکی اور ابو عمرو نے پڑھا) یعنی اس کی اتباع اور اس میں غور کرنے سے لوگوں کو روکنے والے تھے۔ یا اللہ تعالیٰ کی نسبت عاجزی و درماندگی کی طرف کرنے والے ہیں۔ اُولٰٓپکَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ (ایسے لوگوں کیلئے سختی کا دردناک عذاب ہوگا) ۔
قراءت : مکی نے الیمٍ کو الیمٌ پڑھا۔ عذابٌ کی صفت بنایا۔ یعنی عذابوں میں سے درد ناک عذاب ان کو دیا جائے گا۔
قولِ قتادہ m :
(سخت عذاب) دیگر قراء نے رجز کی صفت قرار دے کر اس کو مجرور پڑھا ہے۔
Ayah 34:66: وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ (اور جانتے ہیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا) یَرٰی۔ یہ یعلم جاننے کے معنی دے رہا ہے۔
: یہ موضع رفع میں جملہ مستانفہ ہے۔ اوتوا العلم سے مراد اصحاب رسول ﷺ اور ان کے پیروکار یا نمبر 2۔ علمائے اہل کتاب جنہوں نے اسلام قبول کیا جیسے عبداللہ بن سلام اور کعب احبارو غیرہم۔ الَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (جو آپ کے رب کی طرف سے بھیجا گیا) یعنی قرآن مجید ھُوَ الْحَقَّ (وہ حق ہے) یعنی سچ ہے۔
نحو : ھُوَیہ ضمیر فصل ہے اور الحقؔ یہ مفعول ثانی ہے۔ نمبر 2۔ موضع نصب میں لیجزی پر معطوف ہے ای لیعلم اوتوا العلم عند مجئی الساعۃ انہ الحق علمًا لا یزاد علیہ فی الایقان تاکہ قیامت کی آمدپرعلم والے جان لیں کہ علمی اعتبار برحق ہے اس علم سے ان کے یقین میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔
وَیَھْدِیْ (اور وہ راستہ بتلاتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ راستہ بتلاتا ہے۔ نمبر 2۔ قرآن راستہ بتلاتا ہے۔ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ (عزیز حمید کے راستہ کی طرف) وہ راستہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔
Ayah 34:7بعث سے کفار کا تجاہل عارفانہ :
7: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور کافر کہتے ہیں) قریش کے زعماء نے ایک دوسرے کو کہا۔ ھَلْ نَدُلُّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ (کیا ہم تمہیں ایک ایسا آدمی بتلائیں) اس سے وہ حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی مراد لیتے تھے۔
وجہ تنکیر :
یہ آپ کا تذکرہ نکرہ کے ساتھ کیا حالانکہ آپ ان میں معروف و مشہور تھے۔ اور بعث کے متعلق آپ کی باتیں ان میں شائع و ذائع تھیں۔ درحقیقت آپ ﷺ اور بعث سے تجاہل عارفانہ کرتے ہوئے یہ بات کہی اس سے ان کا مقصد آپ کی تحقیر اور قیامت کا بعید از عقل ہونا ثابت کرنا تھا۔ یُّنَبِّئُکُمْ اِذَا مُزِّ قْتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ اِنَّکُمْ لَفِیْ (جو تم کو خبر دیتا ہے۔ کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجائوگے تو تم ضرور) خَلْقٍ جَدِیْدٍ (ایک نئی پیدائش میں آئوگے) وہ تمہیں عجیب عجیب باتیں بتلاتا ہے۔ کہ تم اٹھائے جائو گے۔ اور ریزہ ریزہ اور مٹی میں مل جانے کے بعد تم نئی پیدائش میں اٹھائے جائو گے تمہارے اجسام کہنگی سے مکمل طور پر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ کل ممزقؔ وہ تمہیں یعنی اجزاء کو مکمل منتشر کر دے گا۔ یہاں ممزق مصدر بمعنی تمزیق ہے اور اذاؔ میں عامل وہ ہے جس پر انکم لفی خلق جدید دلالت کررہا ہے۔ ای تبعثون۔ الجدیدؔ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے یہ بصر یین کی رائے ہے۔ کہا جاتا ہے جد فھو جدید جیسے قل فھو قلیلٌ اِنّکُمْ اِنَّ کا فتحہ نہیں پڑھ سکتے کیونکہ اس کی خبر پر لام ہے۔
Ayah 34:88: اِفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (معلوم نہیں اس شخص نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھا ہے۔ ) کیا وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنے والا ہے۔ اس میں سے جو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
نحو : ہمزہ استفہام کا ہے اور ہمزہ وصل ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔
اَمْ بِہٖ جِنَّۃٌ (یا اس کو کسی طرح کا جنون ہوگیا) وہ جنون اس کو یہ توہمات ڈال کر اس کی زبان پر لاتا ہے۔ بَلِ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ فِی الْعَذَابِ (بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ عذاب) وَالضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ (اور دور کی گمراہی میں ہیں)
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد (ﷺ) نہ مفتری ہیں اور نہ مجنون وہ اس قسم کی چیزوں سے بری الذمہ ہیں بلکہ یہ قیامت کے منکرین آگ کے عذاب میں مبتلا ہونگے اور حق سے دور ہٹ کر بیخبر ی میں گمراہی کے گڑھے میں گر رہے ہیں۔ اور یہ سب سے بڑاجنون ہے جس کا وہ خود شکار ہیں۔
نکتہ : ان کے عذاب میں پڑنے کو گمراہی میں پڑنا قرار دیا گیا گویا یہ دونوں ایک وقت میں پیش آنے والے ہیں۔ کیونکہ ضلال کے لوازم میں وقوع عذاب ہے تو ان کو ہم قرین بنادیا گیا اور ضلالؔ کی صفت بعید لائی گئی ہے۔ یہ اسناد مجازی کی قسم ہے کیونکہ اصل تو بعیدؔ ضال کی صفت ہے اس لئے کہ وہی سیدھے راستہ سے دور ہٹتا ہے۔ (مگر مجسمہ ضلالت ہونے کی وجہ سے اس کو ضلال کہہ کر اس کی صفت بنادی) ۔
Ayah 34:9یہ تکذیب کر کے کیسے سے بچیں گے جب کہ آسمان و زمین اس کے گھیرے میں ہے :
9: اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ مِّنَ السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ (کیا انہوں نے آسمان و زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے اور پیچھے موجود ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں) اَوْتُسْقِطْ عَلَیْھِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآ ئِ (یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرا دیں) ۔
قراءت : نخسِفّ بھم علی نے ادغام سے پڑھا ہے۔ کیونکہ فاء اور باء میں تقارب پایا جاتا ہے۔ بعض نے اس کو اس لئے ضعیف کہا کیونکہ فاء کی آواز باء سے زائد ہے۔ نشأ نخسف اور نسقط ان تینوں کو یاء سے عاصم کے علاوہ کوفی قراء پڑھتے ہیں کیونکہ ارشاد افتری علی اللہ کذبا غائب کے صیغہ سے ہے۔ کِسَفًا یہ حفص کی قراءت ہے اور سین کا سکون دیگر قراء نا فع ‘ ابن کثیر ‘ ابو عمرو وغیرہ کی قراءت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ کیا وہ اندھے ہیں کہ آسمان و زمین کو نہیں دیکھتے حالانکہ یہ دونوں تو جہاں ہوں۔ جس طرف چلیں۔ ان کے آگے پیچھے ان کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان کی اطراف سے ان کو نکلنے کی بساط نہیں اور اللہ تعالیٰ کی حکومت سے باہر نہیں جاسکتے۔ وہ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اگر زمین میں دھنسا دے۔ نمبر 2۔ ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا تکذیب آیات اور تکذیب رسول اور تکذیب قرآن کی وجہ سے آگرے جیسا کہ قارون کے ساتھ ہوا اور اصحاب ایکہ کے ساتھ کیا گیا۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بےشک اس میں) آسمان و زمین میں غور و تدبر کرنے اور جس قدرت الٰہی پر دونوں دلالت کرتے ہیں۔ اس میں لَاٰیَۃً (البتہ نشانی ہے) یعنی ضرور راہنمائی ہے۔ لِّکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ (ہراس بندے کیلئے جو متوجہ ہونے والا ہو) اپنے دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا، اس کی اطاعت کرنے والا ہو۔ اس لئے کہ منیب بندہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں اس پر غور کرنے سے کبھی غافل نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کو بعث بعد الموت کی قدرت کا ملہ اور اپنے منکرین کو سزا دینے کی پوری طاقت ہے۔
Ayah 34:10واقعہ دائود اور تسبیح جبال و پرند :
10: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا یٰجِبَالُ (اور ہم نے دائود کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی۔ اے پہاڑو ! )
نحو : نمبر 1۔ یٰجبالؔ یہ فضلاؔ سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ آتیناؔ سے بدل ہے۔ مگر اس صورت میں قولناؔ یا جبال سے پہلے مقدر ماننا پڑے گا۔ نمبر 2۔ قلناؔ یا جبال قدر ماننا پڑے گا۔ اَوِّبِیْ مَعَہٗ (تم بار بار دائود کے ساتھ تسبیح کرو) یہ لفظ التاویب ؔ سے ہے۔ ای رجّعی معہ التسبیح تم اس کے ساتھ تسبیح کو دوہرائو۔
تسبیح جبال کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان میں ایسی تسبیح پیدا کردیتے جو ان سے اسی طرح سنائی دیتی جیسی تسبیح کرنے والے سے سنتے ہیں۔ یہ معجزہ دائودی ہے۔ وَالطَّیْرَ (اور پرندوں کو بھی حکم دیا)
نحو : اس کا محل جبال پر عطف ہے۔
قراءت : زیدنے جبال پر عطف کر کے والطیرُ پڑھا ہے۔
بلاغت ِکلام :
اس نظم میں کمال فخامت پائی جاتی ہے۔ پہاڑوں کو بمنزلہ عقلاء قرار دیا گیا جو حکم کرنے پر اطاعت کرتے ہیں۔ اور جب ان کو بلائو تو جواب دیتے ہیں۔ اس سے ظاہر فرمایا کہ حیوان ہو یا جماد وہ مشیت الٰہی کا منقاد و مطیع ہے اگر یہ کلام اس طرح ہوتا آتینا داؤدمنا فضلاً تاویب الجبال معہ والطیر۔ تو اس میں وہ فخامت شان نہ ہوتی جواب ہے۔ وَاَلَنَّالَہُ الْحَدِیْدَ (اور ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا) ۔ یعنی لوہے کو ان کے لئے مٹی اور گوندھے ہوئے آٹے کی طرح کردیا کہ اپنے ہاتھ سے جس طرح چاہتے بغیر آگ میں تپائے اور ہتھوڑے کے استعمال کے اس کو موڑ لیتے اور جو چاہتے بنا لیتے۔
ایک قول :
یہ ہے کیونکہ ان کو بہت قوت عنایت فرمائی تھی تو لوہا ان کے ہاتھ میں نرم ہوگیا۔
Ayah 34:11زر ہوں کی بناوٹ :
1 1: اَنِ اعْمَلْ (کہ تم بنائو)
نحو : یہ اں اَنْ ای کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہوا امرناہ ان اعمل ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم بنائو۔
سٰبِغٰتٍ (پوری زرہیں) پوری وسیع زرہیں۔ یہ لفظ السبوغؔ سے ہے۔ وہ سب سے پہلے زر ہوں کو بنانے والے تھے۔ وہ ایک زرہ چارہزار میں فروخت کرتے۔ اس میں سے اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے اور فقراء کو صدقہ کردیتے۔
ایک قول :
یہ ہے آپ بھیس بدل کر نکلتے اور لوگوں سے اپنے متعلق پوچھ گچھ کرتے اور فرماتے دائود کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے وہ اچھی تعریف کرتے اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ انسانی شکل میں بھیجا۔ اس کی آپ سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے اپنی عادت مالوفہ کے مطابق اس سے سوال کیا تو اس نے کہا وہ بندہ تو بہت خوب ہے۔ اگر ایک بات نہ ہوتی۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کا خرچہ بیت المال سے کرتا ہے۔ اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ میرے لئے ایسا ذریعہ پید افرما دیا جائے جس کی بناء پر میں بیت المال سے مستغنی ہوجائوں۔ اللہ تعالیٰ نے زر ہوں کی صنعت آپ کو تعلیم فرمائی۔
وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ (اور جوڑنے میں اندازہ کرو) ۔ کیلیں نہ تو اس قدر پتلی بنائو کہ وہ پھٹ جائیں اور نہ اس قدر موٹی کہ کڑیاں ٹوٹ جائیں۔ السردؔ زرہیں بننا۔ وَاعْمَلُوْا ( اور تم عمل کرو) اس میں ضمیر دائود اور ان کے اہل کی طرف لوٹتی ہے۔ صَالِحًا (نیک) ایسے خالص جو قبولیت کے لائق ہوں۔ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (میں تمہارے سب کے اعمال دیکھ رہا ہوں) پس میں اس پر تمہیں بدلہ دونگا۔
Ayah 34:12ہوا کا تابع کرنا :
12: وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ ( اور سلیمان کیلئے ہم نے ہوا کو مسخر کیا) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے اللہ تعالیٰ نے صبا کو مسخر کیا۔
نحو : ابو بکر، حماد، فضل نے الریحُ کو مرفوع پڑھا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگا : لسلیمان الریح مسخرۃٌ۔ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ (اس کا صبح چلنا مہینہ بھر کی مسافت تھی اور اس کا شام چلنا مہینہ بھر کی مسافت تھی) صبح کے وقت تھوڑی دیر میں وہ مہینہ بھر کی مسافت طے کرلیتی اور شام کو چلنا بھی اسی طرح تھا۔ آپ صبح دمشق سے چل کر اصطخرفارس میں قیلولہ فرماتے ان کے مابین ایک ماہ کی مسافت ہے اور شام کو اصطخر سے روانہ ہو کر کابل میں رات گزارتے۔ ان کے مابین تیز شہسوار کیلئے ایک ماہ کی مسافت ہے۔ ایک ول یہ ہے آپ صبح ری میں اور شام سمر قند میں گزارتے۔
تانبے کا چشمہ ابلنا :
وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ (اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہادیا) یعنی تابنے کی کان، القطر، تانبا اور وہ دھات ہے لیکن مہینے میں تین دن بہتا جیسا کہ پانی بہتا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) سے قبل یہ پگھلتا نہ تھا۔ اس کا نام عین القطر اس وجہ سے رکھ دیا کہ بالآخر پگھل کر بہنے لگتا ہے۔ گویا انجام کے لحاظ سے نام رکھ دیا۔ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ (اور جنات میں سے بعضے کام کرتے) مَنْ یہ موضع نصب میں واقع ہے ای وسخرنا لہ من الجن من یعمل۔ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ( ان کے سامنے ان کے رب کے حکم سے) اس کے امر سے وَمَنْ یَّزِعْ ( اور جو سرتابی کرے گا) یعنی عدول کرے گا۔ مِنْھُمْ عَنْ اَمْرِنَا (ان میں سے ہمارے حکم سے) یعنی جو حکم ہم نے ان کو اطاعت سلیمان (علیہ السلام) کا دے رکھا ہے۔ نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ (ہم اس کو دوزخ کا عذاب چکھائیں گے) عذاب سعیر سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک فرشتہ رہتا تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہوتا ہے۔ جو جن سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے سرتابی کرتا وہ فرشتہ اس کو کوڑا ما ر کر جلا ڈالتا۔
Ayah 34:13مصنوعات :
13: یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ (وہ جنات ان کے لئے جو وہ چاہتے بناتے یعنی بڑی بڑی عمارات) محاریب یعنی مساجد نمبر 2۔ مساکن وَتمَاثِیْلَ (اور مورتیاں) پرندوں و درندوں کی تصاویر، روایت تفسیریہ ہے : انہوں نے آپ کے تخت کے نیچے دوشیر اور اوپر دو گدھ بنائے۔ جب آپ تخت پر چڑھنا چاہتے توشیر اپنے دونوں بازو دراز کردیتے اور جب آپ تشریف فرما ہوجاتے تو گدھ اپنے سروں سے سایہ کرلیتے۔ اس زمانہ میں تصویر مباح تھی۔ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ (اور حوض جیسے لگن) جفان جمع جفنۃ اور جوب جمع جابیہ۔ بڑا حوض۔
ایک قول :
ایک پیالے پر ایک ہزار آدمی بیٹھ کر کھاسکتے تھے۔
قراءت : مکی اور یعقوب اور سہل نے وقف و وصل میں کالجوابی پڑھا ہے۔ ابو عمرو نے وصل میں ان کی موافقت کی ہے۔ باقی قراء نے کسرہ پر اکتفاء کرتے ہوئے بغیر یاء کے پڑھا ہے۔
وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ (اور ایک جگہ جمی رہنے والی دیگیں) جو اپنے چولہوں پر جمی رہتیں ان سے اتاری نہ جاسکتی تھیں کیونکہ وہ جسامت میں بہت بڑی ہوتی تھیں۔ ایک قول یہ ہے یہ یمن میں باقی ہیں۔ اور ہم نے ان کو حکم دیا۔ اِعْمَلُوْا ٰالَ دَاوٗ دَ شُکْرًا (اے آل دائود شکریہ ادا کرو) ملک والوں پر رحم کرو۔ اور اپنے رب سے عافیت مانگو۔
فضیل کا قول :
شکرًا مفعول لہ ہے نمبر 2۔ حال ہے اس حال میں کہ وہ شکر کرنے والے تھے۔ نمبر 3۔ مفعول مطلق ہے ای شکرًا کیونکہ اعملوا میں اشکروا کا معنی پایا جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ منعم کے لئے عمل کرنا اس کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ نمبر 4۔ مفعول بہٖ ہے تقدیر کلام اس طرح ہے اناسخرنا لکم الجن یعملون لکم ماشئتم فاعملوا انتم شکرا بیشک ہم نے تمہارے لئے جنات کو مطیع کیا تمہارے لئے وہ کام کریں گے جو تمہیں پسند ہیں پس تم شکریہ ادا کرو۔
قول جنید۔ :
معبود کے سامنے اپنی پوری کوشش صرف کرنا یہی شکر ہے۔ وَ قَلِیْلٌمِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ( اور میرے بندوں میں شکرگزارکم ہیں)
قراءت : حمزہ نے عِبَادِیْ کو سکون یاء سے پڑھا جبکہ دیگر قراء نے فتحہ یاء سے پڑھا ہے۔
ادائیگی ٔ شکر :
الشکورؔ ادائیگی شکر میں بڑھنے والا اور اس میں اپنی پوری قوت کو صرف کرنے والا ہو۔ اس طرح کہ اس کا دل، زبان، اعضاء تمام کے تمام اعتقاد اور اعتراف اور کوشش کے لحاظ سے اس میں مشغول ہوں۔
قول ابن عباس ؓ :
الشکوروہ ہے جو اپنے تمام احوال میں شاکر ہو۔
ایک قول :
یہ ہے جو شکر پر شکر کرے وہ شکور ہے۔
قولِ دیگر :
جو شکر سے اپنی عاجزی کا معترف ہو۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے متعلق مروی ہے کہ آپ نے اپنی رات اور دن کی گھڑیاں اپنے گھرو الوں میں تقسیم کر رکھی تھیں۔ کوئی گھڑی چوبیس گھنٹہ میں ایسی نہ تھی جب کوئی نہ کوئی گھر میں سے بارگاہ خدا وندی میں نماز میں مصروف نہ ہو ( سبحان اللہ) ۔
Ayah 34:14موتِ سلیمانی :
14: فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ (پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم جاری کردیا) ۔ ہٗ کی ضمیر کا مرجع سلیمان (علیہ السلام) ہیں مَادَلَّھُمْ (تو کسی نے ان کی موت کا پتہ نہ بتایا) جنات کو نمبر 2۔ آل دائودعلیہ السلام کو عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ (مگر گھن کے کیڑے نے) دیمک اس چھوٹے سے جانور کو سرفۃ کہتے ہیں اور الارض یہ اس کیڑے کا فعل ہے کہ یہ لکڑی کو کھا کر مٹی بنا دیتی ہے اسی لئے اس کی طرف اضافت کی گئی کہا جاتا ہے ارضت الخشبۃ ارضًا جبکہ اس کو دیمک چاٹ جائے۔ تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗ (کہ وہ سلیمان کا عصا کھاتا تھا) المنساۃ، عصا، لاٹھی اس کو منسأ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ینسا بھا ای یطر سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے : اس سے ہانکا اور ہٹایا جاتا ہے۔
قراءت : مِنْسَاتہ، مدنی ابو عمرو نے بلا ہمزہ پڑھا ہے۔
جنات کی بیخبر ی :
فَلَمَّا خَرَّ (جب وہ گرپڑے) سلیمان (علیہ السلام) گرپڑے۔ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ (تب جنات کو حقیقت معلوم ہوئی) ۔ جنات کو واضح طور پر معلوم ہوگیا اسکے بعد کہ ان کے عوام وضعفاء پر معاملہ ملتبس تھا۔ اَنْ لَّوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا (اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو وہ نہ رہتے) سلیمان (علیہ السلام) کی موت کے بعد فِی الْعَذَابِ الْمُھِیْنِ (ذلیل کرنے والے عذاب میں) ۔
روایت میں ہے کہ دائود (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی بنیاد کو موسیٰ (علیہ السلام) کے خیمہ کی جگہ رکھا۔ مگر وہ تکمیل سے قبل ہی وفات پا گئے اور سلیمان (علیہ السلام) کو تعمیر کی وصیت فرمائی آپ نے جنات کو اس کی تکمیل کا حکم دیا۔ جب آپ کی عمر کا ایک سال رہ گیا تو آپ نے بارگاہ رب العالمین میں سوال کیا کہ ان کی موت کو ان پر معمہ بنا دے یہاں تک کہ یہ فارغ ہوں۔ تاکہ جنات کا دعویٰ غیب دانی بھی باطل ہوجائے۔ سلیمان (علیہ السلام) کی عمر تریپن سال تھی جب آپ نے تخت سنبھالا اس وقت تیرہ سال عمر تھی چالیس سال حکومت کی۔ بیت المقدس کی تعمیر اس وقت شروع کی جب حکومت کا پانچواں سال تھا۔
روایت میں ہے کہ افریدون نے آپ کے تخت پر بیٹھنے کی کوشش کی جب وہ قریب ہوا تو دونوں شیروں نے پنجہ مار کر اس کی پنڈلی توڑ ڈالی اس کے بعد کسی کو تخت کے قریب پھٹکنے کی بھی جرأت نہ ہوئی۔
Ayah 34:15قوم سبا کا حال :
15: لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِھِمْ (سبا کیلئے ان کے وطن میں نشانیاں موجود تھیں) ۔
فائدہ : سبا اگر خاندان کا نام مان لیں تو منصرف ہے اور قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے۔ ابو عمرو اسی کے قائل ہیں۔
قراءت : حمزہ و حفص نے مَسْکَنِھِمْ پڑھا مَسْکِنِھِمْ علی اور خلف نے پڑھا۔ رہائش کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اس سے مراد ان کا وہ شہر ہے جو علاقہ یمن میں واقع تھا اور اس میں رہتے تھے نمبر 2۔ ان میں سے ہر ہر شخص کی رہائش مراد ہے۔ دیگر تمام قراء نے مساکنہم پڑھا ہے۔ ٰایَۃٌ (نشانیاں) جَنَّتٰنِ (دو باغ) ۔
نحو : ایۃٌ یہ کان کا اسم ہے اور جنتان اس کا بدل ہے۔ نمبر 2۔ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ الایۃ جنتان۔
آیت ہونے کا مطلب :
یہ کہ جب سبا کے باشندوں نے اللہ تعالیٰ کے شکر سے منہ موڑ لیا تو ہم نے ان سے نعمتوں کو چھین لیا تاکہ عبرت حاصل کریں اور نصیحت پذیر ہوں۔ اور کفر کی طرف لوٹ کر نہ جائیں اور نہ ہی نعمتوں کی ناقدری کریں۔ نمبر 2۔ ان دونوں کو ایسی علامت بنادیا جو اللہ تعالیٰ کی قدرت و احسان پر دلالت کرنے والی اور اس کے شکریے کو لازم کرنے والی تھی۔
عَنْ یَّمِیْنٍ وَّشِمَالٍ (دائیں اور بائیں) مراد بہت سارے باغات ہیں جو شہر کے دائیں اور بائیں جانب واقع تھے اور دونوں طرف کے باغات قریب قریب ہونے اور ملے جلے ہونے میں اس طرح تھے گویا کہ وہ ایک ہی باغ ہے جیسا کہ عمومًا آبادعلاقوں کے باغ ہوا کرتے ہیں۔ یا نمبر 2۔ ہر آدمی کے دو باغات اس کی اپنی رہائش گاہ کے دائیں اور بائیں جانب واقع تھے۔ کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ (تم اپنے رب کا رزق کھائو اور اس کا شکر ادا کرو) یہ اس قول کی حکایت ہے جو انبیاء (علیہم السلام) نے ان کو فرمایا۔ یا نمبر 2۔ قول کی زبان سے ان کو یہ بات کہی یا وہ اس بات کے حقدار تھے کہ ان کو یوں کہا جائے۔ جب ان کو اس بات کا حکم دیا گیا تو اس کے بعد یہ ارشادباری تعالیٰ لایا گیا۔ بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ (عمدہ شہر اور بخشنے والا پروردگار) یعنی یہ تمہارا وہ شہر ہے۔ جس میں اس نے تمہیں رزق دیا۔ یہ پاکیزہ شہر ہے۔ اور تمہارا رب وہ ذات ہے جس نے تمہیں رزق دیا اور تم سے شکریے کا مطالبہ بھی اس بخشنے والے رب نے کیا۔ جو شکر گزار کو بخشنے والا ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
قوم سبا صنعاء سے تین فرسخ کے فاصلے پر رہائش پذیر تھی۔ یہ انتہائی شاداب علاقہ تھا ایک عورت اپنے سر پر ٹوکری لئے اپنے ہاتھ سے کام کاج کرتی چلی جاتی اور ان درختوں کے نیچے چلتی رہتی۔ اس کی وہ ٹوکری گرنے والے پھلوں سے بھر جاتی۔ وہ ایسی ستھری سرزمین تھی۔ کہ جہاں مچھر، مکھی، چیچڑی، بچھو اور سانپ کا نام نہیں تھا۔ جو جو ؤں والا مسافر وہاں سے گزرتا تو اس کے عمدہ ہوا کے اثر سے جوئیں مرجاتیں۔
Ayah 34:16اعراض کا نتیجہ :
16: فَاَعْرَضُوْا (انہوں نے سرتابی کی) یعنی انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت سے منہ موڑ لیا اور ان کو جھٹلایا اور کہنے لگے ہم اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت نہیں جانتے جو اس نے ہم پر کی ہو۔ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ (ہم نے ان پر بند کا سیلاب چھوڑ دیا) سیل عرم سے مراد سخت بارش یاعرم وادی کا نام ہے۔ یا اس سے مراد وہ چوہا ہے جس نے اس بند کے نیچے سوراخ کیا۔ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر چوہوں کو مسلط کردیا جس نے بند کے نچلی جانب سوراخ کر کے ان کو ڈبو دیا۔ وَبَدَّلْنٰھُمْ بِجَنَّتَیْھِمْ (اور ہم نے ان دو باغوں کے بدلے میں دو اور باغ دے دیئے) جنتیؔ سے مراد جن کا اوپر ذکر ہوا۔ جَنَّتَیْنِ (دو باغ) بدلے میں دیئے جانے والے درختوں کو جنتین کے ساتھ محض مشاکلت کے لئے تعبیر کیا گیا۔ اور کلام کی مناسبت کے لئے ایسا کیا گیا ہے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا ] الشور ٰی : 40[
ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ (جو بدمزہ پھل والے تھے) خمط وہ پھل جو بدمزہ ہو۔
قراءت : اکل کو ثقل اور تخفیف کے ساتھ پڑھا گیا یہ نافع اور مکی کی قراءت ہے۔ الخمط پیلو کا درخت یا ہر کانٹے دار وَّاَثْلٍ وَّ شَیْ ئٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ (اور جھائو اور قدرے قلیل بیری) الاثل جھائو کے مشابہ درخت ہے اس سے کچھ بڑا ہوتا ہے اور اس کی لکڑی عمدہ ہوتی ہے۔
قراءت : جن قراء نے اکل کو تنوین کے ساتھ پڑھا ان کے نزدیک اس کی اصل یہ ہے ذواتی اکل خمطٍ پس مضاف کو حذف کردیا گیا اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام لے آئے۔ یہ ابو عمرو کے علاوہ دوسرے قراء کا قول ہے۔ نمبر 2۔ اکل کی صفت خمط کے ساتھ لائی گئی گویا اس طرح کہا گیا ذواتی اکل بشع۔ ابوعمروکے ہاں وجہ یہ ہے کہ اکل خمط کا معنی پیلو ہے گویا عبارت یوں ہے ذواتی بَرِیْرٍ اور الاثل اور سدر دونوں کا عطف اکل پر ہے خبط پر نہیں۔ کیونکہ جھائو کا کوئی پھل نہیں۔
قولِ حسن (رح) :
سدر کے ساتھ قلیل کا لفظ لایا گیا کیونکہ وہ ان سے بہتر ہے جو ان کو بدلے میں دی گئیں۔ اس لئے کہ یہ عموماً باغات میں ہوتی ہے۔
Ayah 34:1717: ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِمَا کَفَرُوْا (ان کو یہ سزا ہم نے ناسپاسی کی وجہ سے دی) یعنی ان کو یہ سزا ان کی ناشکری کی دی۔
نحو : ذلک دوسرا مفعول ہے۔ جو مقدم لایا گیا۔
وَھَلْ نُجٰزِیْ اِلَّا الْکَفُوْرَ (اور ایسی سزا بڑے ناشکرے کو دیا کرتے ہیں) ۔
قراءت : کوفی قراء ابوبکر کے علاوہ نے یہ پڑھا۔ دیگر قراء نے ھل یُجَازٰی الا الکفور پڑھا۔ مطلب یہ ہوا اس جیسی سزا اس کو دی جاتی ہے جو نعمت کی ناشکری کرے اور بالکل قدر نہ کرے۔ نمبر 2: یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والے کو یہ سزا دی جاتی ہے۔ نمبر 3: یا یجازی بمعنی یعاقب ہے کیونکہ جزاءؔ کا لفـظ اگرچہ عام ہے اور معاقبت اور ثواب ہر دو معنی میں آتا ہے۔ لیکن یہاں خاص مراد ہے اور وہ سزا وہ عذاب ہے۔ قول ضحاک (رح) : یہ قوم اس زمانہ فترت میں تھی جو حضرت عیسیٰ و محمد ﷺ کے درمیان تھا۔
Ayah 34:18قوم سبا کی آبادیاں :
18: وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ (اور ہم نے آباد کردیے) قوم سبا کے درمیان۔ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا (اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی) وہاں کے رہنے والوں کو نعمتوں اور پانیوں میں وسعت عنایت کر کے۔ ان بستیوں سے مراد شام کی بستیاں ہیں۔
قُریً ظَاھِرَۃً (گائوں جو نظر آتے تھے) جو متصل تھے جن کو ایک دوسرے سے دیکھا جاسکتا تھا اس لئے کہ بہت قریب تھے دیکھنے والوں کو نظر آتے تھے۔ اور راستہ چلنے والوں کو بھی نظر آتے تھے۔ ان راستوں سے کچھ دور نہ تھے کہ ان پر مخفی رہیں۔ ان بستیوں کی تعداد چار ہزار سات سو تھی۔ سبا سے شام تک گائوں متصل تھے۔
وَّ قَدَّرْنَا فِیْھَا السَّیْرَ (ہم نے ان کے درمیان چلنے کا ایک خاص اندازہ کیا) ہم نے یہ بستیاں ایک مقررہ مقدار پر مقرر کیں۔ مسافر ایک بستی میں اگر قیلولہ کرتا تو شام کو دوسری بستی میں یہاں تک کہ وہ اس طرح سفر کرتے شام کو پہنچ جاتے۔ سِیْرُوْا فِیْھَا (تم ان میں چلو) یعنی ہم نے انہیں کہا تم چلو ! حالانکہ وہاں کوئی کہنا نہیں تھا۔ لیکن جب ان کو چلنے کا پورا اختیار حاصل تھا اور اس کے تمام اسباب میسر تھے تو گویا ان کو چلنے کا کہہ دیا تھا۔ لَیَالِیَ وَاَیَّامًا ٰامِنِیْنَ (رات اور دن امن و اطمینان سے) یعنی ان بستیوں میں خواہ تم رات کو چلو۔ خواہ دن کو چلو امن کی وجہ سے رات دن کا فرق نہیں یا نمبر 2۔ ان میں امن سے چلو نہ دشمن کا خطرہ نہ بھوک کا ڈر اور نہ پیاس کا احساس خواہ سفر کتنے ہی دنوں تک دراز ہوجائے۔
Ayah 34:19نعمت پر اترانا :
19: فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدِبَیْنَ اَسْفَارِنَا (پس وہ کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں میں درازی کردے) کہنے لگے کاش ! فاصلہ دور ہوتا تاکہ ہم اپنی تیز رفتار اونٹنیوں پر سفر کرتے اور تجارات میں خوب نفع کماتے اور اسباب و دواب پر فخر کرتے نعمت سے اترانے لگے اور عافیت سے اکتاگئے مشقت و تھکاوٹ کو طلب کیا۔
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے بَعِّدْ پڑھا ہے۔
وَظَلَمُوْا ( اور انہوں نے ظلم کیا) یہ بات کہہ کر اَنْفُسَھُمْ فَجَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ (اپنے اوپر پس ہم نے ان کو افسانہ بنادیا) جو لوگ بیان کرتے ہیں اور ان کے حالات سن کر تعجب کرتے ہیں۔ وَمَزَّقْنٰھُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ (اور ہم نے ان کو بالکل تتر بتر کردیا) ان کو مکمل طور پر منتشر کردیا لوگ اس کو ضرب الامثال کے طور پر بیان کرتے ہیں کہتے ہیں سباکا زور ٹوٹ گیا۔ ان کے انعامات جاتے رہے وہ شام کے غسانیوں اور یثرب کے اناریوں اور تہامہ کے جزامیوں اور عمان کے ازدیوں کے ساتھ مل گئے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ (بیشک اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں ہر صابر کیلئے) جو معاصی سے رکنے والا ہو۔ شَکُوْرٍ (شاکرکیلئے) یعنی نعمتوں کا قدر دان ہو یا ہر مومن کے لئے کیونکہ ایمان کے دو حصے ہیں نمبر 1۔ نصف شکر۔ نمبر 2۔ نصف صبر۔
Ayah 34:20شیطان کی وسوسہ اندازی کا جادو :
20: وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْھِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ (واقعی ابلیس نے اپنا گمان ان لوگوں کے متعلق صحیح پایا) صدق کو تشدید کے ساتھ کوفی نے پڑھا ہے یعنی ان پر اپنا گمان ثابت کردیا۔ نمبر 2۔ اپنے کو ان کے متعلق سچا پایا۔ صَدَقَ تخفیف کے ساتھ دیگر قراء نے پڑھا۔ مطلب یہ ہوا اس نے اپنے گمان میں سچ کہا فَاتَّبَعُوْہٗ (پس انہوں نے اس کی اتباع ) ۔
: علیہم اور اتبعوہ کی ضمیر اہل سبا کی طرف یا بنی آدم کی طرف لوٹتی ہے۔ اور شیطان نے اپنے بقول مؤمنوں کی تعداد تھوڑی بتلائی۔ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (مگر ایک جماعت ایمان والوں کی) جماعت اس لئے کہا کیونکہ کفار کے مقابلہ میں ان کی تعداد قلیل ہے۔ جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے ولا تجد اکثرھم شاکرین اور تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائیگا۔ ] الاعراف : 17[
Ayah 34:2121: وَمَا کان لَہٗ عَلَیْھِمْ (حالانکہ ابلیس کا ان پر کچھ زور نہیں) جن کے متعلق اس کا گمان درست ثابت ہوا۔ مِّنْ سُلْطٰنٍ سلطان تسلط کو کہتے ہیں اور وسوسہ اندازی سے ان پر غلبہ پانے کو۔ اِلَّا لِنَعْلَمَ (مگر ہم نے معلوم کرنا ہے) اس چیز کو موجود کر کے جس کو ہم معدوم ہونے کی حالت میں پہلے سے جانتے ہیں تغیر معلوم پر ہے نہ کہ علم پر مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ مِمَّنْ ھُوَ مِنْھَا فِیْ شَکٍّ (جو کہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ان لوگوں میں سے جو کہ آخرت کے متعلق شک میں پڑے ہیں) وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ ( اور آپ کا رب ہر شئی پر نگہبان ہے) محافظ ہے فعیل اور مفاعل ایک دوسرے کے معنی دیتے ہیں۔
Ayah 34:22تمہارے معبود پکارنے کے لائق ہی نہیں :
22: قُلِ (کہہ دیجئے) آپ اپنی قوم کے مشرکین کو کہہ دیں۔ ادْعُوْا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (تم ان کو پکارو جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا معبود سمجھ رہے ہو) یعنی تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود گمان کیا۔ اس میں مفعول اول وہ ضمیر ہے جو موصول کی طرف راجع ہے۔ اور وہ ضمیر یہاں اسی طرح محذوف ہے جیسا کہ اس ارشاد میں أھذا الذی بعث اللہ ] الفرقان : 4 [ یہ حذف بطور استخفاف ہے۔ اس لئے کہ موصول اپنے صلہ کے ساتھ ملک کر طویل ہوگیا اور دوسرا مفعول آلہۃ ہے اس کو حذف کیا گیا کیونکہ وہ موصوف ہے اور اس کی صفت من دون اللّٰہ ہے۔ اور موصوف کا حذف جائز ہے اور صفت کو اس کے قائم مقام لاسکتے ہیں۔ جبکہ موصوف کلام سے سمجھ آرہا ہو۔ پس زعمؔ کے دونوں مفعولوں کو دومختلف سببوں سے حذف کردیا۔ مطلب یہ ہوا کہ تم ان کو پکارو جن کی تم نے اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی ہے۔ خواہ وہ اصنام ہوں یا ملائکہ ہوں اور تم نے اللہ تعالیٰ کا نام ان کو دے دیا۔ اور تم پیش آئندہ معاملات میں ان کی پناہ ڈھونڈتے ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی ڈھونڈتے ہو۔ اور ان سے دعا کی قبولیت کے خواستگار ہو جیسا کہ تم ان سے اپنی استجابت کے منتظر ہو پھر ان کے جواب میں فرمایا۔ لَایَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ (وہ ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے) نہ خیر کا اور نہ شر کا نہ نفع میں سے اور نہ ہی نقصان میں سے۔ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْھِمَا مِنْ شِرْکٍ (نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ہی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے) اور نہ ان کی ان دونوں کی تخلیق میں کچھ شرکت ہے اور نہ ملکیت میں وَّ مَالَہٗ (اور نہ اللہ تعالیٰ کیلئے) مِنْھُمْ (ان معبودوں میں سے) مِّنْ ظَھِیْرٍ (کوئی مددگار ہے) کوئی معین ہے جو اس کی مخلوق کی تدبیر و انتظام میں معاون ہو۔ مراد یہ ہے کہ جب وہ عاجزی کی اس حالت میں ہیں تو پھر یہ کس طرح درست ہے کہ ان کو اسی طرح پکارا جائے جیسا اس کو پکارا جاتا ہے۔ اور ان کی طرف اسی طرح آس لگائی جائے جیسے اس کی بار گاہ میں آس لگائی جاتی ہے۔
Ayah 34:23ماذونِ شفاعت والوں کا حال :
23: وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗ اِلَّا لِمَنْ (اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کسی کیلئے کام نہیں آتی) مگر اَذِنَ لَہٗ (اس کے لئے جس کے لئے وہ اجازت دے دے) یعنی اللہ تعالیٰ اجازت دے دے کہ فلاں شفیع شفاعت کرسکتا ہے۔ لہؔ یہ لام اجلیہ ہے جیسا کہتے ہیں اذن لزیدٍ لعمروِ زیدکو عمرو کے حق میں اجازت دے دی گئی ای لاجل عمرو۔ یہ کفار کے قول ھولاء شفعاؤنا عند اللہ ] یونس : 18[ کی تردید ہے۔
قراءت : اُذِن لہ کوفی قراء نے عاصم کے علاوہ پڑھا : حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ (یہاں تک کہ ان کے دلوں سے جب گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے) جیسا شفاعت کرنے والے اور مشفوع لہ کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے۔ اس کلام سے جس سے اذن شفاعت ملتا ہے۔
قراءت : وَفَزَّع شامی نے پڑھا۔ ای اللہ تعالیٰ اور التفزیعؔ ازالۃ اور الفزع کو کہا جاتا ہے۔
حتٰی (یہاں تک کہ) یہ غایت ہے اس اذن کیلئے جو مفہوم ہو رہا ہے۔ کہ وہاں اذن کا کچھ انتظار کرنا ہوگا۔ اور ٹھہرنا پڑے گا۔ شفاعت وشفعاء سے گھبراہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہ آیا ان کو اجازت ملتی ہے یا نہیں ؟ گویا کلام اس طرح ہے یتربصون ویتوقعون ملیّا فزعین حتی غدا فزع عن قلوبھم (وہ انتظار کریں گے اور گھبراہٹ سے تھوڑی دیر توقع کریں گے یہاں تک کہ ان کے دلوں سے جب گھبراہٹ دور کی جائے گی) قَالُوْا (تو وہ کہیں گے) ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا ( تمہارے رب نے کیا کہا وہ کہیں گے) اس نے فرمائی الْحَقَّ (حق بات) اور وہ شفاعت کی اجازت ہے اس کے لئے جس کیلئے اس نے پسند فرمایا۔ وَھُوَالْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ (وہ عالیشان سب سے بڑا ہے) ۔ یعنی بلندیوں والا۔ کبریائی والا ہے۔ کسی فرشتے اور پیغمبر کو جرأت نہ ہوگی کہ اس دن بلا اجازت کلام کرسکے اور اس کی مرضی کے بغیر شفاعت کرسکے۔
Ayah 34:24بارِ دیگر :
24: قُلْ (کہہ دیجئے) اس میں آپ کو حکم دیا کہ بار دیگر انہیں فرما دیں۔ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (کہ کون تم کو آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے) ۔
کفار کی گمراہی پر تعریض :
قُل 1 اللّٰہِ (آپ کہہ دیجئے اللہ تعالیٰ ) پھر آپ کو حکم دیا کہ جواب اور اقرار بھی ان کی طرف سے خود اس طرح دیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رزق دیتا ہے اور یہ اس بات کو ظاہر کرنے کیلئے کہ اس بات کا اعتراف و اقرار وہ اپنے دلوں سے کرنے والے ہیں۔ ہاں بسا اوقات اس کو زبان پر نہ لائیں گے۔ کیونکہ انہوں نے منہ سے اللہ تعالیٰ کی رزاقیت کو مان لیا تو ان کو لازماً یہ کہا جائے گا پھر تم اس کی عبادت کیوں نہیں کرتے جو تمہیں رزق دیتا ہے اور ان کو اس کی ذات پر ترجیح دیتے ہو جو رزق کی قدرت نہیں رکھتے۔ پھر آپ کو حکم دیا گیا کہ ان کو یہ الزام دینے اور لا جواب کرنے کے بعد اگر وہ زبانی اقرار سے آگے نہیں بڑھے مگر اس بات سے قاصر نہ رہیں گے کہ وَاِنَّا اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ھُدًی اَوْفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (میں یا تم ضرور ہدایت پر یا صریح گمراہی میں ہیں) اس کا مطلب یہ ہے کہ موحدین و مشرکین ہر دو فریق میں سے ہر ایک ضروردو باتیں ہدایت و گمراہی میں سے ایک پر ہے یہ اس منصف کا کلام ہے جس نے اپنے ہر دوست و مخالف کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ تمہارے دوست نے تو تم میں سے ہر ایک کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ اس موقعہ پر جو بات کہنی تھی اس کے کہنے کے بعد اس بات پر مخفی دلالت ضرور موجود ہے کہ فریقین میں سے کون ہدایت اور کون کھلی گمرائی میں ہے لیکن تعریض نے مجادل و مقابل کو اصل مقصد تک پہنچا دیا اور اس کی مثال وہ ہے جو جھوٹے کو دی جاتی ہے : ان احدنا لکاذب کہ ہم میں سے ایک تو جھوٹا ہے۔
انداز میں فرق :
ہدایت پر علی کا لفظ اور ضلال پر فیؔ لایا گیا کیونکہ ہدایت یافتہ گویا عمدہ گھوڑے پر سوار اس کو جدھر چاہتا ہے چوپٹ دوڑاتا ہے۔ اور گمراہ گو اندھیرے کے سمندر میں ڈبکیاں کھا رہا ہے وہ نہیں جانتا کہ کدھر جائے۔
Ayah 34:2525: قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (آپ فرما دیجئے تم سے ہمارے گناہوں کی بازپرس نہ ہوگی اور ہم سے تمہارے گناہوں کی باز پرس نہ ہوگی) یہ بات پہلی سے بڑھ کرمخاطب کو انصاف کی طرف دعوت دے رہی ہے وہ اس طرح کہ جرائم کی اسنادمخا طبین کی طرف کی گئی (حالانکہ آپ اس پر مامور ومشکور ہیں) اور تعملون میں عمل کی نسبت مخاطبین کی طرف کی گئی۔ (تقاضائے تہذیب و خیر خواہی یہی ہے) حالانکہ ان کو اس سے روکا اور منع کیا گیا ہے۔
Ayah 34:2626: قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا (کہہ دیجئے کہ ہمارا رب ہم سب کو جمع کریگا) قیامت کے دنثُمَّ یَفْتَحُ (پھر وہ فیصلہ فرمائے گا) ۔ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ (ہمارے مابین حق کے ساتھ) بلا ظلم ومیلان کے وَھُوَ الْفَتَّاحُ (اور وہی بڑا فیصلہ فرمانے والا ہے) یعنی حاکم الْعَلِیْمُ (وہ جاننے والا ہے) اپنے فیصلے کو۔
Ayah 34:2727: قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ (کہہ دیجئے ! تم مجھے وہ تو دکھلائو جن کو تم نے ملا رکھا ہے) یعنی تم نے ان کو ملا دیا ہے۔ بِہٖ (اللہ تعالیٰ کے ساتھ) شُرَکَآئَ (شریک بنا کر) اس کے ساتھ عبادت میں اور ارونی کا معنی یہ ہے ان کا خیال یہ تھا کہ محمد ﷺ ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی غلطی دکھلائے اور شریک ٹھہرانے کی اس حالت پر مطلع کرے۔ کَلَّا ( ہرگز نہیں) یہ کلاؔ ردع اور تنبیہ کیلئے ہے کہ تم اس بات سے باز آئو اور اپنی گمراہی پر متنبہ ہوجائو۔ بَلْ ھُوَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ (بلکہ وہی ہے اللہ تعالیٰ زبردست غالب) اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔
نحو : ھو یہ ضمیر شان ہے۔ اَلْحَکِیْمُ (وہ اپنی تدبیر میں حکمت والا ہے) ۔
Ayah 34:28آپ ﷺ سب کے لئے پیغمبر بنائے گئے ہیں :
28: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآ فَّۃً لِّلنَّاسِ (اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کیلئے پیغمبر بنا کر بھیجا ) ۔ کافۃ للناس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس طرح بھیجا جو بھیجنا ان کے لئے عام ہے اور ان کا احاطہ کرنے والا ہے کیونکہ جب وہ ارسال تمام کو شامل ہے تو پھر اس سے کوئی باہر رہ نہیں سکتا۔
قولِ زجاج (رح) :
لغت میں کافۃ کا معنی احاطہ ہے مطلب یہ ہوگا ہم نے آپ کو اس طرح بھیجا کہ آپ لوگوں کیلئے انذارو ابلاغ کو جمع فرمانے والے ہیں۔ ک ضمیر سے یہ حال ہے اور تاء مبالغہ کی ہے جیسا کہ راویۃ اور علامۃ میں ہے۔ بَشِیْرًا (خوشخبری سنانے والے) اللہ تعالیٰ کے فضل کی جو اقرار کرے۔ وَّ نَذِیْرًا (اور ڈرانے والے) عدل سے جو اصرار کرے۔ وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) پس ان کو ان کی جہالت و ناسمجھی آپ کی مخالفت پر آمادہ کرتی ہے۔
Ayah 34:29وعدئہ قیامت کے سوال کا جواب :
29: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا) الوعدؔ سے مراد قیامت جس کی طرف اس قول میں اشارہ فرمایا : (قل یجمع بیننا ربنا)] سبا : 26[ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) ۔
Ayah 34:3030: قُلْ لَّکُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ (کہہ دیجئے تمہارے لئے ایک خاص دن کا وعدہ ہے۔ )
نحو : میعاد یہ الوعد کا ظرف زمان یا مکان ہے یہاں ظرف زمان ہے۔ اس پر وہ قراءت دلالت کرتی ہے جس نے میعاد ٌ یومٌ پڑھا۔ پس یومؔ اس کا بدل ہے۔ اور اضافت بیانیہ ہے جیسا کہتے ہیں بعیر سانیۃ۔
لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسْتَقْدِمُوْنَ (کہ اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو) مطلب یہ ہے تمہارے لئے اس سے پیچھے ہٹنا مہلت طلب کر کے بھی ممکن نہیں اور نہ جلدی مچا کر اس کو آگے بڑھا سکتے ہو۔
وجہ انطباق :
ان کے سوال پر یہ جواب اس طرح منطبق ہوتا ہے کہ انہوں نے قیامت کے بارے میں سوال کیا۔ حالانکہ وہ قیامت کے منکر تھے۔ انہوں نے یہ سوال طلب ِہدایت کی خاطر نہ کیا تھا بلکہ محض ضد بازی کی وجہ سے کیا تھا۔ اسی لئے جواب بھی تہدید اور دھمکی کے انداز میں دیا گیا جو کہ ان کے انکار و تعنت کے سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب بنتا تھا۔ کہ وہ ایسے دن کے منتظر بیٹھے ہیں۔ جو اچانک ان کو آلے گا۔ اس سے ذرا آگے سرکنے کی ان میں طاقت نہ ہوگی۔
Ayah 34:31کفار نے قرآن کو واقعی ماننے سے انکار کیا تو قرآن نے ایک موقف محشر کی خبر دی :
31: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اور کافر کہتے ہیں) ابو جہل اور اس کے پیروکار۔ لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ (نہ تو اس قرآن پر ہم ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر) بین یدیہؔ قرآن مجید سے پہلے اترنے والی کتابیں۔ یا قیامت اور جنت و دوزخ۔ مطلب یہ ہے انہوں نے قرآن کو اللہ تعالیٰ کی واقعی کتاب ماننے سے انکار کردیا۔ اور جو قرآن مجید جزاء کے لئے دوبارہ اٹھائے جانے کی بات کہتا ہے اس کو واقعی ماننے سے انکار کردیا۔ وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْ قُوْفُوْنَ (اگر آپ اس وقت کی حالت دیکھیں جب یہ ظالم کھڑے کیے جائیں گے) روکے جائیں گے عِنْدَ رَبِّھِمْ یَرْ جِعُ (اپنے ربّ کے سامنے لوٹاتے ہونگے) اپنے رب کے سامنے ڈالتے ہونگے۔ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضِ اڑلْقَوْلَ (ایک دوسرے پر بات کو) جھگڑے اور جدال میں۔ اس آیت میں ان کے آخرت میں ہونے والے انجام اور نتیجے کی خبر دی گئی۔ پس رسول اللہ ﷺ یا مخاطب کو فرمایا۔ اگر تم آخرت میں ان کے موقف کو دیکھو جبکہ وہ طرح طرح سے جواب وسوال میں کھینچا تانی کر رہے ہونگے تو تم تعجب میں پڑ جائو۔ تو جواب کو حذف کردیا گیا۔ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا (ادنیٰ درجہ کے لوگ کہیں گے) پیروکار لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا (بڑے لوگوں کو) روساء، لیڈروں کو لَوْلَآ اَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ (اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آئے ہوتے) اگر تم ہمیں کفر کی طرف نہ بلاتے تو ہم اللہ اور اس کے رسول پر یقین کرنے والے ہوتے۔
Ayah 34:3232: قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْالِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا اَنَحْنُ صَدَدْنٰکُمْ عَنِ الْھُدٰی (یہ بڑے لوگ ان ادنیٰ درجہ کے لوگوں کو کہیں گے کیا ہم نے تم کو ہدایت سے روکا تھا)
نحو : نحن اسم ضمیر پر ہمزئہ استفہام انکاری لایا گیا۔ کیونکہ رئوساء کا مقصد اس بات سے انکار کرنا ہے کہ انہوں نے ان کو حق و ہدایت سے روکا ہے اور اس بات کو ثابت کرنا ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو ہدایت سے روکا اور اپنے اختیار سے گمراہی لی ہے۔ بَعْدَ اِذْجَآ ئَ کُمْ (اس کے بعد کہ وہ تمہیں پہنچ چکی تھی)
نحو : اذ کو جاء کی طرف اضافت کے ساتھ لائے۔ اگرچہ اذ اور اذا ایسے ظروف میں سے ہے جن کو ظرفیت لازم ہے کیونکہ زمان میں جو وسعت ہے وہ دوسروں میں نہیں اسلئے اس کی طرف زمان کی اضافت کردی۔ بَلْ کُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ (بلکہ تم ہی قصور وارہو) اپنے اختیار سے کفر اختیار کیا اور ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دی ہماری بات اور تزیین سے تم نے ہرگز کفر اختیار نہیں کیا۔