34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے بس جو عمل وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا

کمزوروں کا جواب : 33: وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا (اور یہ کمزور لوگ اپنے ان رئوساء سے کہیں گے) ۔ سوال : یہاں حرف عطف وقال الذین استضعفوا میں لائے۔ جبکہ قال الذین استکبروا میں نہیں لایا ؟ جواب : الذین استضعفوا پہلے ان کے کلام میں گزر چکا اس کا جواب حرف عاطف کو حذف کر کے جملہ مستانفہ کے طریقہ سے لائے۔ پھر مستضعفین کا دوسرا کلام ذکر کیا۔ تو ان کے اولا کلام پر عطف کردیا۔ بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ (بلکہ تمہاری رات دن کی تدابیر نے روکا) بلکہ تم ہمارے ذریعہ دن رات تدابیر اختیار کرتے تھے۔ ظرف کو وسعت دے کر مفعول کی جگہ لائے اور مکرؔ کی اضافت اس کی طرف کردی۔ نمبر 2۔ ان کے دن رات کو مکر کرنے والے قرار دیا۔ یہ بطور اسناد مجازی کیا یعنی دن رات مکر کرنا یہ کہ لمبی دیر تک تم نے سلامتی سے دن رات گزارے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا تم حق پر ہو۔ اِذْتَاْ مُرُ وْنَنَآ اَنْ نَّکْفُرَ بِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَہٗ انْدَادًا (جب کہ تم ہمیں فرمائش کرتے رہتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے لئے شریک قرار دیں) انداد ًا کا معنی مشابہ۔ مطلب یہ ہے جب مستکبرین نے اپنے اس قول سے کمزوروں کی بات کا انکار کیا أنحن صدد ناکم کہ ہم تمہارے کفر کا سبب نہیں ہیں اور یہ کہہ کر بل کنتم مجرمین ثابت کیا کہ کفر تم نے اپنے اختیار و کسب سے حاصل کیا۔ پیروکاروں نے ان کی بات کو دوبارہ تردید کرتے ہوئے کہا بل مکر الیل والنھار۔ گویا ان کے اضراب کو اپنے اضراب سے باطل قرار دیا۔ گویا کہ اس طرح کہا جرم ہماری طرف سے نہ تھا۔ بلکہ جرم کی آمد تمہارے مکر کی وجہ سے تھی جو دن رات ہم پر چلتا رہا اور تم نے ہمیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے شریک بنانے پر آمادہ کیا۔ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ (وہ لوگ شرمندگی کو پوشیدہ رکھیں گے) چھپائیں گے یا نمبر 2۔ ظاہر کریں گے۔ یہ اسرواؔ کا لفظ اضد اد میں سے ہے اور وہ اپنے اس قول میں ظالم ہیں۔ اذالظالمون موقوفون ] سبا : 31[ بڑے لوگ ان کی گمراہی پر شرمندہ ہونگے اور ان کے اضلال پر نادم ہونگے اور ادنیٰ لوگ ان کی گمراہی پر نادم ہونگے اور اس بات پر کہ انہوں نے گمراہوں کی پیروی کی۔ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ (جبکہ عذاب کو دیکھیں گے) جہنم کو وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے) یعنی ان کی گردنوں میں جس کی وجہ سے وہ اغلال کے مستحق ہوئے اس پر دلالت کی بناء پر صراحۃً فرمایا۔ ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کو ایسا ہی بدلہ دیا گیا جیسا وہ کرتے تھے) دنیا کی زندگی میں۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اسکے قائل نہیں

تسلی ٔ رسول ﷺ : 34: وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ (اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرسنانے والا نہیں بھیجا) نذیر سے یہاں پیغمبر مراد ہے۔ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْھَآ (مگر کہ وہاں کے خوشحال طبقہ نے یہی کہا) مترف سے عیش پرست اور رئوساء مراد ہیں۔ اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ (ہم تو ان احکام کے منکر ہیں جو تم دے کر بھیجے گئے) ۔ یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ کیونکہ آپ کو اپنی قوم کی طرف سے تکذیب قرآن اور کفر بالقرآن کا سامنا تھا۔ بتلایا کہ کسی قوم کی طرف جب بھی کوئی نذیرآیا تو ان کو وہاں کے لوگوں نے وہی کہا جو رسول اللہ ﷺ کو کہہ رہے ہیں کفار مکہ کثرت اموال و اولاد پر فخر کرنے لگے جیسا کہ فرمایا :
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا

35: وَقَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا وَّمَا نَحْنُ (اور انہوں نے یہ بھی کہا ہم مال واولاد میں تم سے زیادہ ہیں اور ہم کو) بِمُعَذَّبِیْنَ (کبھی عذاب نہ ہوگا) ان کی مراد یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے معزز ہیں اس لئے وہ ان کو عذاب نہ دے گا۔ اس کی دلیل وہ اپنی دنیا کے حالات کو پیش کرتے تھے ان کے گمان میں یہ بات تھی کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت والے نہ ہوتے تو ان کو رزق نہ ملتا اور اگر مومن حقیر نہ ہوتے تو رزق سے محروم نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کو باطل قرار دیا کہ رزق تو فضل الٰہی ہے اس کو جس طرح چاہتا ہے وہ تقسیم کرتا ہے بسا اوقات نافرمان پر وسعت کردیتا اور مطیع پر تنگی کرتا ہے اور بعض اوقات اس کا الٹ ہوتا ہے اور بعض اوقات دونوں ہی پر وسعت کرتا ہے اور دونوں پر تنگ بھی کردیتا ہے اس پر ثواب کے معاملے کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے تنگ) کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

36: قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ (کہہ دکیجئے کہ میرا پروردگار جس کو چاہتا ہے زیادہ روزی دیتا ہے) وَیَقْدِرُ (اور جس کو چاہتا ہے کم کردیتا ہے) ۔ قَدْ رُ الرزق کا معنی تنگ کرنا جیسا کہ فرمایا ومن قدر علیہ رزقہ ] الطلاق : 7 [ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ واقف نہیں) اس بات سے۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلا ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے

37: وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ (تمہارے اموال و اولادایسی چیز نہیں) تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی (جو تم کو درجہ میں ہمارے مقرب بنا دے) نہ تمہارے سارے اموال اور نہ تمہاری ساری اولادیں ایسی ہیں جو کہ تمہیں مقرب بنادیں۔ نحو : یہاں جماعۃ اموال و اولاد معنی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں جمع مکسر کے صیغے دونوں ہیں اور جمع تکسیر میں عقلاء و غیر عقلاء تانیث و تذکیر میں برابر ہوتے ہیں۔ جماعۃ اگرچہ مؤنث ہے مگر اس سے کچھ فرق نہ پڑیگا۔ الزلفٰی والزلفۃ یہ القربی اور القربۃ کی طرح ہے۔ زلفی محلاً منصوب ہے ای تقربکم قربۃً جیسا کہ اس ارشاد میں واللہ انبتکم نباتًا ] نوح : 17[ اِلَّامَنْ اٰمنَ وَعَمِلَ صَالِحًا (مگر جو شخص ایمان لایا اور نیک عمل کیے) فائدہ : کُمْ جو کہ تقربکم میں ہے اس سے استثناء ہے یعنی مال کسی کو مقرب نہیں بناسکتا مگر مومن صالح کو جو کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتا ہے اور اولاد کسی کو مقرب نہیں بناسکتی مگر اس شخص کو جس نے اولاد کو خیرو بھلائی سکھائی اور ان کو دین میں سمجھ دار بنادیا اور صلاح وطاعت ان میں راسخ کردی۔ قول ابن عیسیٰ (رح) : اِلَّا لکن کے معنی میں ہے اور من شرطیہ ہے اس کا جواب اولئک ھم جزاء الضعف ہے۔ فَاُولٰٓپکَ لَھُمْ جَزَآئُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا (پس ایسے لوگوں کیلئے دوگنا بدلہ ان کے عمل کا ہے) ۔ نحو : جزاء الضعف میں مصدر کی اضافت مفعول کی طرف کردی گئی ہے۔ اس کی اصل اس طرح ہے فاولئک لھم ان یجازوا الضعف ثم جزاء الضعف ثم جزاء الضعف۔ پس وہ لوگ جن کے لئے یہ ہے ان کو دوگنا بدلہ دیا جائے پھر دوگنا بدلہ پھر دوگنا بدلہ۔ کا مطلب : یہ ہے کہ ان کی ایک نیکی کو دس تک بڑھا دیا جائے گا۔ قراءت : یعقوب نے جزاء الضعفُ پڑھا علی نے فاولئک لھم الضعف جزاء بما عملوا یعنی ان کے اعمال کے سبب۔ وَ ھُمْ فِی الْغُرُفٰتِ (اور وہ بالاخانوں میں) جنت کے مکانات کے بالا خانے۔ قراءت : حمزہ نے فی الغرفۃ پڑھا ہے۔ ٰامِنُوْنَ (چین سے ہونگے) ہر خوفناک و مشغول کردینے والی سے۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

38: وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْ ٰایٰتِنَا (اور وہ لوگ جو ہماری آیات کے متعلق کوشش کر رہے ہیں) ان کو باطل کرنے میں مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓپکَ فِی الْعَذَابِ (تھکانے کیلئے وہ عذاب میں) مُحْضَرُوْنَ (حاضر کیے جائیں گے) ۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

39: قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآ ئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُلَہٗ وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ (آپ فرمادیجئے بیشک میرا رب رزق فراخ کردیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگی سے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو چیز تم خرچ کروگے پس وہ اس کا بدلہ دیگا) یبسطؔ کا معنی وسعت دینا ماؔ انفقتم میں ماؔ شرطیہ ہے۔ اور موضع نصب میں واقع ہے۔ من شئیؔ میں من ؔ بیانیہ ہے۔ یخلفہ کا معنی عوض دینا ہے اس کے سوا کوئی عوض دینے والا نہیں خواہ وہ جلد مال سے دے یا ایک وقت مقررہ پر ثواب سے دے۔ نحو : جواب شرط ھو خیرالرازقین ہے۔ وَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ (وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے) الرازقین (کا معنی کھانا کھلانے والا) کیونکہ جو بھی رزق اس کے علاوہ بادشاہ یا آقا یا کوئی اور پہنچاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا رزق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں میں جاری فرمایا ہے رزق کا خالق وہی ہے اور ان اسباب کا بھی خالق ہے جن سے مخلوق رزق کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا الحمد للہ الذی أَوْجدنی وجعلنی ممن یشتھی، فکم من مشتہٍ لا یجدو واجد لا یشتہی۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لائق ہیں جس نے مجھے وجود دیا اور ان لوگوں میں سے بنادیا جو چاہنے والے ہیں۔ کتنے ہی چاہنے والے ہیں جو کچھ نہیں پاتے اور کتنے پانے والے ہیں۔ جو چاہنے والے نہیں۔
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے ؟

محشر کا ایک منظر : 40: وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ (اور جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع فرمائے گا پھر فرمائے گا) ۔ لِلْمَلٰٓپکَۃِ اَھٰٓؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ (فرشتوں کو کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے) ۔ قراءت : یحشر اور یعبدون کو یاء سے حفص ‘ یعقوب نے پڑھا ہے۔ نافع ‘ ابن کثیر ‘ ابو عمرو نے تاء سے پڑھا ہے۔ اس میں فرشتوں کو خطاب کر کے کفار کو خبردار کیا گیا یہ مثل مشہورہ کے مطابق لایا گیا ایاک اعنی واسمعی یا جارۃُ یہ مثال اس کے لئے بیان کی جاتی ہے جو مخاطب اور کو کرے اور مراد دوسرے کو سنانا ہو جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ئَ انت قلت للناس اتخذونی الایۃ ] المائدہ : 116[ اس میں خطاب عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہے مگر غیر اللہ کی پوجا کرنے والے سب کو سنانامقصود ہے۔
Ayah 34:41

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ یہ بلکہ یہ جنات کو پوجا کرتے تھے ؟ اور اکثر انہی کو مانتے تھے

غیر اللہ کی عبادت پر رضامندی سے براءت : 41: قَالُوْا (وہ عرض کریں گے) یعنی فرشتے سُبْحٰنَکَ آپ ( پاک ہیں) آپ اس سے پاک ہیں کہ آپ کے ساتھ اور کی عبادت کی جائے۔ اَنْتَ وَلِیُّنَا (ہمارا تو آپ سے تعلق ہے) الموالات یہ معادات کے خلاف ہے یہ ولی کے لفظ سے مفاعلہ اور وہ قرب کو کہا جاتا ہے اور ولی کا اطلاق موالی (غلام) اور موا لی (سردار) دونوں پر ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے تیری ہی ذات سے ہم موالات کرتے ہیں۔ مِنْ دُوْنِھِمْ (نہ کہ ان سے) اس لئے کہ ہمارے اور ان کے مابین کچھ موالات نہیں۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی موالات کو ثابت کر کے اور کفار کی معادات ظاہر کر کے واضح کیا کہ وہ غیر اللہ کی عبادت پر رضا مندی سے بریٔ الذمہ ہیں۔ کیونکہ وہ اس طرح حالت رکھتا ہو اس کی حالت اس کے منافی ہے۔ بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ (بلکہ وہ جنات کی عبادت کرتے تھے) جن سے مراد شیاطین ہیں۔ عبادت کا مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کی عبادت میں شیاطین کی اطاعت کی۔ نمبر 2۔ یا وہ جنات بتوں کے پیٹ میں گھس جاتے جب لوگ بتوں کی عبادت میں مصروف ہوتے۔ پس بتوں کی عبادت کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی۔ نمبر 3۔ یا شیاطین نے لوگوں کو جنات کی ایسی اشکال بنا کر پیش کیں جن کے متعلق یہ تصور دیا کہ یہ فرشتوں کی صورتیں ہیں۔ پس تم ان کی پوجا کرو۔ اَکْثَرُھُمْ (ان کی اکثریت) مراد انسانوں کی اکثریت یا کفار کی اکثریت بِھِمْ (ان پر) یعنی جنات پر مُّؤْمِنُوْنَ (اعتقاد جمانے والے تھے) ۔
Ayah 34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو

42: فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلاَ ضَرًّا (پس آج کے دن تم میں سے نہ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نقصان پہنچانے کا) کیونکہ اختیار تمام تر اللہ تعالیٰ وحدہ ہی کے لئے ہے۔ اس میں کوئی کسی کیلئے ذرہ بھر منفعت و ذرہ بھر نقصان کا اختیار نہیں رکھتا اس لئے کہ یہ ثواب و عقاب کی جگہ ہے اور ثواب دینے اور سزا دینے والا وہ خود ہے۔ پس اس جہان کی حالت دنیا کی حالت سے بہت مختلف ہے۔ کیونکہ دنیا دار التکلیف ہے۔ اور لوگوں کو دنیا میں آزادانہ طور پر ایک دوسرے سے نفع اٹھانے اور پہنچانے اور نقصان دینے اور دلانے کا پورا اختیار حاصل ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہی ضارونافع ہونگے۔ پھر ظالمین کا انجام اس قول سے ذکر کردیا۔ ونَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (ہم ظالموں کو کہیں گے) ظالم ان کو اس لئے کہا کہ انہوں نے عبادت کو غیر محل میں رکھ دیا۔ نحو : اس کا عطف لا یملک پر ہے۔ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ کُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ (تم آگ کے اس عذاب کو چکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے) یعنی دنیا میں۔
Ayah 34:43

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے جو اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

قرآن کو سحر کہنے والے شرک کے مدعی کس طرح بن بیٹھے : 43: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ ٰایٰتُنَا (جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں) یعنی جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے۔ بَیِّنٰتٍ (جو صاف صاف ہیں) واضح ہیں۔ قَالُوْا (وہ کہتے ہیں) یعنی مشرکین مَا ھٰذَا ( نہیں ہے یہ) محمد ﷺ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ ٰابَآ ؤُکُمْ وَقَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّآ اِفْکٌ مُّفْتَرًی وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (مگر یہ ایک ایسا شخص ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں ان چیزوں سے باز رکھے جن کی عبادت تمہارے بڑے کرتے تھے۔ اور کہتے ہیں کہ یہ محض تراشا ہوا جھوٹ ہے اور کافر کہتے ہیں) ھذا کا مشار الیہ قرآن ہے اور وہ کہتے ہیں قرآن سے عدول یہ ان کے بڑے انکار اور سخت غصے کی علامت ہے۔ لِلْحَقِّ (حق کو) یعنی قرآن مجید کو یا تمام امر نبوت کو لَمَّا جَآ ئَ ھُمْ (جبکہ وہ ان کے پاس پہنچا) اور وہ اس کی مثال لانے سے عاجز آگئے۔ اِنْ ھٰذَا (بیشک یہ) یعنی حق اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (نہیں ہے مگر صریح جادو) انہوں نے پہلے قطعی طور پر کہا کہ یہ جادو ہے پھر قطعیت کے ساتھ کہا کہ صریح جادو ہے ہر عاقل غور کرے تو اس کو جادو نام دے گا۔
Ayah 34:44

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی

44: وَمَآ ٰاتَیْنٰھُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَھَا (اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ وہ ان کو پڑھتے پڑھاتے ہوں) یعنی ہم نے مشرکین مکہ کو کتابیں نہ دی تھیں کہ جن کو وہ پڑھتے پڑھاتے ہوں۔ جن میں شرک کے صحیح ہونے پر دلیل موجود ہو۔ وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمْ قَبْلَکَ مِنْ نَّذِیْرٍ (اور ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا تھا) اور نہ ہی ہم نے ان کی طرف کسی کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا جو ان کو عقاب و سزا سے ڈرائے اگر وہ شرک نہ کریں مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کی طرف کوئی پیغمبر نہیں بھیجا جس نے ان کو شرک کی دعوت دی ہو اور ترک شرک پر عذاب سے ڈرایا ہو پھر یہ شرک کے مدعی کیسے بن بیٹھے۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

45: پھر ان کی تکذیب پر ان کو ڈرایا فرمایا : وَکَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (اور ان سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے تکذیب کی تھی) یعنی ان سے پہلی جو امتیں اور زمانے گزرے انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی جیسا انہوں نے کی ہے۔ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ ٰاتَیْنٰھُمْ ( اور وہ تو اس سامان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے ان کو دے رکھا تھا) یعنی اہل مکہ تو عمروں کی طوالت، قوت اجسام اور کثرت اموال میں گزشتہ امتوں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے۔ فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ (پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب۔ ) ان سے پہلے تکذیب کرنے والوں کو پھر ان کو ایسے عذاب سے محتاط ہونا چاہیے۔ رُسُلِیْ ۔ وصل وقف دونوں حالتوں میں یعقوب نے یاء سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے جب انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلادیا تو میرا انکار ان پر تباہی و استیصال لایا۔ اور جن چیزوں کو وہ سہارا قرار دیتے تھے وہ ان کو فائدہ مند نہ ہوئیں۔ پھر ان کا کیا معاملہ ہے خود سوچ لیں ؟ نکتہ : فرمایا فکذبوارسلی حالانکہ اس سے قبل یہی مضمون و کذب الذین من قبلھم میں آچکا اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جواب یہ ہے کہ جب وکذب الذین من قبلھم اور فعل الذین من قبلہم کا معنی تکذیب ہے اور انہوں نے اس کا ارتکاب کیا ہے تو تکذیب رسل کو مسبّب عنہ قرار دیا اور اس کی مثال یہ قول ہے اقدم فلان علی الکفر فکفر بمحمدٍ ا۔
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو تمہارے رفیق کو مطلق سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

قومی غیرت کو ایک طرف رکھ کر سوچو تو حق ضرور مل جائے گا : 46: قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ (آپ کہہ دیجئے میں تمہیں صرف ایک بات سمجھاتا ہوں) ایک بات کی اور اس کی تفسیر اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ سے کی۔ ( کہ تم اللہ تعالیٰ کیلئے کھڑے ہوجائو) ۔ : یہ اس کا عطف بیان ہے۔ یہ بدل ہے ان دونوں صورتوں میں یہ محل جر میں ہے۔ نمبر 2۔ یہ محل رفع میں ہے۔ اس کی تقدیر عبارت یہ ہوگیھی ان تقوموا۔ نمبر 3۔ اعنی کو مقدرمان کر نصب پڑھیں۔ نمبر 1۔ قیام سے مراد یہاں مجلس رسول ﷺ سے اٹھ جانا اور آپ کے پاس سے منتشر ہونا ہے۔ نمبر 2۔ قیام سے مراد اس کا قصد کرنا ہے اس سے ہٹ جانا اور اٹھ جانا مراد نہیں۔ اب مطلب یہ ہے میں ایک بات کی تمہیں نصیحت کرتا ہوں اگر تم اس کو اختیار کرلو تو حق کو پالوگے۔ اور کفر سے چھوٹ جائو گے۔ وہ یہی ہے کہ تم خالص اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر کھڑے ہوجائو۔ نہ عصبیت و قومی غیرت کی خاطر بلکہ طلب حق کے لئے۔ مَثْنٰی (دو ، دو ) وَفُرَادٰی (اور ایک، ایک) ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا (پھر تم سوچو) حضرت محمد ﷺ اور جو چیز وہ لے کر آئے ہیں ان کے متعلق پھر دو سوچنے والے وہ سوچ کر ان میں سے ہر ایک اپنی فکر و سوچ دوسرے کے سامنے پیش کرے گا۔ وہ دونوں اس میں سچائی اور انصاف کی نگاہ سے دیکھیں گے یہ صحیح نظر ان کو حق تک لے آئے گی۔ بالکل اسی طرح ایک فرد اپنے دل میں غور کرے گا۔ اور عدل و انصاف سے کام لے گا اور اپنی فکر کو عقل پر پیش کرے گا تو وہ بھی حق کو ضرورپالے گا۔ باقی دو اور ایک الگ ہونے کا مطلب یہ ہے اجتماع و اکٹھ سے دلوں میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔ اور بصیرت اندھی ہو کر دیکھنے سے روک دیتی ہے انصاف پر کم نگاہ پڑتی ہے جھکائو زیادہ ہوتا ہے اور تعصب کا شور جوش زن ہوتا ہے۔ اور فقط وہ بات سنی جاتی ہے جو اپنے مذہب کیلئے مدگار ہو۔ نحو : اور تتفکروا کا عطف تقوموا پر ہے۔ مَا بِصَاحِبِکُمْ ( اور تمہارے ساتھی کو نہیں ہے) یعنی محمد ﷺ کو مِّنْ جِنَّۃٍ (ذرہ بھر جنون) مطلب یہ ہے کہ پھر سوچو جس سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارے ساتھی کو جنون نہیں۔ اِنْ ھُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ (وہ فقط تمہیں ایک آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہے) بین یدیؔ کا معنی سامنے آگے، عذاب شدیدؔ سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ یہ اس ارشاد نبوی ﷺ کی طرح ہے بعثت بین یدی الساعۃ ] احمد 1/31، مسلم 7 86، نسائی 3/188۔ ابن ماجہ، 45[
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تمہارا میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

47: پھر واضح فرمایا کہ میں اس انذار پر تم سے مزدوری کا طالب نہیں ہوں۔ قُلْ مَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ (کہہ دیجئے اگر میں نے تم سے کچھ معاوضہ مانگا ہو) اپنے اس انذار اور تبلیغ رسالت پر فَھُوَ لَـکُمْ (تو وہ تمہارا ہی رہا) یہ شرط کی جزاء ہے تقدیرکلام اس طرح ہے۔ ای شئی سالتکم من اجر ( میں نے اس پر مزدوری میں کونسی چیز تم سے مانگی ہے) ۔ یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ ] فاطر : 2[ مطلب سرے سے مزدوری کے مطالبے کی نفی ہے۔ جیسے کہتے ہیں : مالی فی ھٰذا فھو لک ای لیس لی فیہ شیٔ اس میں میرے لئے کچھ نہیں اِنْ اَجْرِیَ (میرا معاوضہ تو ) قراءت : مدنی، شامی، حفص ‘ ابو عمرو نے نصب یاء کے ساتھ پڑھا اور باقی قراء نے سکون یاء سے پڑھا ہے۔ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ (بس اللہ تعالیٰ ہی کے ذمہ ہے۔ اور وہی ہر چیز پر اطلاع رکھنے والا ہے) پس وہ جانتا ہے کہ میں تمہیں نصیحت کرنے اور دعوت دینے پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میں تو اسی سے اجر لونگا۔
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اتارتا ہے اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

حق سے باطل کو پاش کردیا جائے گا : 48: قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ (آپ کہہ دیجئے میرا رب حق کو غالب کرتا ہے) وحی کے ذریعہ۔ القذفؔ کا معنی تیر کو متوجہ کرنا اور اعتماد سے قصد کرنا۔ ڈالنے کے معنی میں بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس ارشاد میں یہی معنی ہے۔ وقذف فی قلوبھم الرعب ] الاحزاب : 26 [ اسی طرح اس ارشاد میں۔ ان اقدفیہ فی التابوت ] طہ : 39 [ یقذف بالحقؔ کا مطلب وحی کا القاء کرنا اور بھیجنا ہے۔ یا حق کو باطل پر پھینک کر پاش پاش اور تتربتر کردینا ہے۔ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ (وہ علام الغیوب ہے) یہ یقذف کی ضمیر سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ مبتدأ محذوف ھوؔ کی خبر ہے۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا

49: قُلْ جَآ ئَ الْحَقُّ (کہہ دیجئے حق آگیا) حق سے اسلام اور قرآن مراد ہے وَمَا یُبْدِیُٔ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ (اور باطل کرنے دھرنے کا نہ رہا) ۔ یعنی باطل زائل ہوگیا اور تباہ و برباد ہواکیون کہ ابداء و اعادہ یہ اللہ تعالیٰ کی جو حی وقیوم ہے اس کی صفات سے ہے۔ پس ان کا عدم یہ ہلاکت کی تعبیر ہے حاصل یہ ہوا حق آیا اور باطل بھاگ گیا جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : جاء الحق وزھق الباطل ] الاسراء : 81[ قولِ ابن مسعود ؓ : نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت کعبہ کے گرد بت تھے۔ آپ ان کو نبع درخت کی چھڑی سے ان کو چوک دیتے اور فرماتے جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا ‘ جاء الحق وما یبدیٔ الباطل ومایعید۔ ] بخاری۔ 2478، مسلم۔ 1781، احمد۔ 1/377[ ایک قول : الباطل سے بت مراد ہیں۔ قولِ دیگر : ابلیس کیونکہ وہ باطل والا ہے یا وہ تباہ ہونے والا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ شیطان کو شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ یہ شاطؔ بمعنی ھلک سے ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ شیطان اور بت نہ کسی چیز کو پیدا کرتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھائیں گے نئے سرے سے پیدا کرنے والا اور اٹھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے بیشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے

فائدہ خالص توحید ِالٰہی سے ہے : 50: جب کفار نے کہا تو اپنے آباء کا دین چھوڑ کر گمراہ ہوگیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْ (کہہ دیجئے اگر میں گمراہ ہوجائوں تو میری گمراہی مجھ ہی پر ہے) یعنی اگر میں گمراہ ہوجائوں تو وہ میری طرف سے ہے اور اس کا وبال بھی مجھ پر ہے۔ وَاِنْ اھْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْ اِلَیَّ رَبِّیْ (اور اگر میں راہ پر ہوں تو یہ اس وحی کے سبب ہے جو میرے رب نے مجھ پر کی ہے) اس لئے یہ وحی کے ذریعہ اس میں میری راہنمائی کردی گئی ہے۔ تقابل کے قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا وان اھتدیت فانما اھتدی لھاجیسا کہ اس آیت میں فرمایا : فمن اھتدٰی فلنفسہٖ ومن ضلّ فانما یضل علیھا ] الزمر : 41 [ لیکن ان دونوں میں معنوی تقابل پایا جاتا ہے۔ کیونکہ نفس پر جو بوجھ اور جو اس کے لئے نقصان دہ ہے۔ وہ نفس کی وجہ اور اسی کے سبب سے ہے کیونکہ نفس کا طبعی میلان برائی کی طرف ہے۔ اور جس چیز میں نفس کو فائدہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور اس کی توفیق سے ہے۔ اور یہ حکم ہر ایک مکلف کے لئے ہے۔ اس نے اپنے رسول کو حکم فرمایا اس کا اسناد وہ اپنی ذات کی طرف کرے کیونکہ جب رسول اپنے عظیم الشان مرتبے اور راستے کی درستگی کے باوجود اس کے تحت داخل ہوگیا تو غیر رسول بدرجہ اولیٰ اس کے تحت داخل ہے۔ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ بیشک وہ سب کچھ سنتا ہے) اس کو جو میں تمہیں کہتا ہوں۔ قَرِیْبٌ (بہت نزدیک ہے) میرے اور تمہارے وہ مجھے بھی بدلہ دے گا اور تمہیں بھی بدلہ دے گا۔
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے

51: وَلَوْ تَرٰٓی (اور اگر آپ وہ وقت ملاحظہ کریں) ۔ اس کا جواب محذوف ہے۔ ای رأیت امرًا عظیمًا وحالا ھائلۃً تو ضرور تم بڑا معاملہ اور خوفناک حالت دیکھو گے۔ اِذْ فَزِعُوْا (جبکہ وہ گھبراتے پھریں گے) جب اٹھیں گے یا موت کے وقت یا بدر کے دن فَلاَ فَوْتَ (پھر نکلنے بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی) کوئی بھاگنے کا راستہ نہیں یا نہ وہ اللہ تعالیٰ سے آگے نکل سکیں گے اور نہ پیچھے بھاگ سکیں گے۔ وَاُخِذُوْا (اور پکڑ لیے جائیں گے) اُخُذوا کا عطف فزعوا پر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے فزعوا واخذوافلا فوت لھم پھر وہ گھبرائیں گے اور پکڑ لیے جائیں گے پس نکل کر نہ بھاگ سکیں گے۔ نمبر 2۔ لا فوتؔ پر عطف ہے۔ معنی اس طرح ہوگا۔ اذفزعوا فلم یفوتوا واخذو امن مکان قریب۔ جب وہ گھبرائے تو بھاگ نہ سکے اور قریب جگہ سے پکڑ لیے گئے۔ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیبٍ (قریب جگہ سے) جو موقف میں آگ سے قریب ہے جبکہ وہ اٹھیں گے یا وہ جگہ قریب ہے زمین کی سطح سے زمین کے پیٹ کی طرف جبکہ ان پر موت آئے گی یا وہ جگہ قریب ہے صحرائے بدر سے قلیب بدر کی طرف جبکہ وہ قتل ہوئے )
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے

طلب ناممکن کی تمثیل : 52: وَّقَالُوْا (اور وہ کہیں گے) جب عذاب کو آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ٰامَنَّا بِہٖ (ہم اس پر ایمان لے آئے) یعنی محمد ﷺ پر ہٗ کی ضمیر کا مرجع آپ ہیں کیونکہ اس آیت میں تذکرہ گزرا۔ مابصاحبکم من جنۃ ] سبا : 46[ یا ہٗ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ وَاَنّٰی لَھُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ (اور کیونکر ان کے ہاتھ آنا ممکن ہے اتنی دور جگہ سے) ۔ التناوشؔ (لینا، پکڑنا) مطلب یہ ہے کہ وہ توبہ کو کس طرح حاصل کرسکتے ہیں۔ حالانکہ وہ ان سے دور جاچکی۔ مقصد یہ ہے کہ توبہ تو دنیا میں ان سے قبول کی جانی تھی اور دنیا ختم ہوئی اور آخرت سے دور ہوچکی۔ ایک قول : یہ تمیثل ناممکن کی طلب کیلئے ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کا ایمان اسوقت اسی طرح فائدہ دے جیسا کہ مؤمنین کے ایمان نے ان کو دنیا میں فائدہ دیا۔ ان کی حالت کو اس آدمی کی حالت کے مماثل قرار دیا جو یہ چاہتا ہے کہ دور فاصلہ سے ہاتھ کے ساتھ کوئی چیز پکڑے۔ جیسا کہ دوسرا آدمی اپنے گریبان کی تھیلی سے لیتا ہے۔ قراءت : ابو عمرو اور حفص کے علاوہ کوفی قراء نے التناؤش کو ہمزہ سے پڑھا ہے وائو کو ہمزہ کردیا کیونکہ وہ وائو جو مضموم ہو اس کا ضمہ لازم ہے اگر تم چاہو تو اس کو ہمزہ سے بدل لو۔ اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنے دو جیسا کہتے ہیں ادورٌ وتقاوم ہمزہ پڑھیں اور ادؤرٌ اور تقاءم پڑھیں تب بھی درست ہے۔ ثعلب (رح) کا قول : التناؤش جو ہمزہ سے ہے۔ اس کا معنی دور سے لینا، پکڑنا اور بلا ہمزہ قریب سے لینا، پکڑنا۔
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے

غیب کے متعلق بلا تحقیق باتیں : 53: وَّ قَدْ کَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ (حالانکہ پہلے سے یہ لوگ اس حق کا انکار کرتے رہے) من قبل العذاب : عذاب سے پہلے یا دنیا میں وَیَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ (اور بےتحقیق باتیں کہتے تھے) اس کا عطف قد کفروا پر ہے۔ حال ماضی کی حکایت ہے۔ مطلب یہ ہے وہ غیب کے متعلق باتیں کرتے یا اس شئی کے متعلق بات کرتے جو غائب ہے کہا کرتے تھے نہ بعث بعدالموت ہے اور نہ حساب ہے۔ یا کہا کرتے کہ محمد ﷺ شاعر، ساحر، کذاب ہے اور یہ تکلم بالغیب ہے اور مخفی بات کے متعلق نکالی گئی بات ہے کیونکہ انہوں نے آج تک آپ سے سحر، شعر اور نہ ہی کذب کا مشاہدہ کیا۔ اور اب وہ یہ پوشیدہ کر رہے ہیں جو آپ کی حالت سے بہت ہی بعید ہے۔ اس لئے کہ جو قرآن آپ لے کر آئے ہیں۔ وہ سحر و شعر سے سب سے زیادہ دور ہے۔ اور آپ کی عادات سے سب سے دور بات کذب ہے جیسا کہ وہ تجربہ کرچکے کہ زندگی کے کسی معاملہ میں کبھی آپ نے جھوٹ نہیں بولا آپ ان میں الصادق معروف ہیں۔ قراءت : وُیقَذَفُوْن ابوعمرو سے مجہول پسندیدہ پڑھا گیا ہے۔ مطلب یہ ہوگا۔ ان کے شیاطین ان کے پاس لاتے ہیں۔ اور القاء کرتے ہیں۔ نمبر 1۔ اگر تم چاہو تو اس کو وقالوا آمنا بہٖ سے معلق کردو۔ اس طرح کہ ان کی مثال دی گئی ہے کہ وہ ایسی چیز کے حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آخرت میں آمنا کہہ کر جس سے دنیا میں انہوں نے علیحدگی اختیار کی۔ مگر یہ معنی بعید ہے۔ نمبر 2۔ اور یہ جائز ہے کہ آمنا بہٖ کی ضمیر بین یدی عذاب شدید [ سبا : 46] میں جس عذاب کا ذکر ہے اس کی طرف ہو جیسا کفار کہا کرتے تھے۔ وما نحن بمعذبین کہ ہمیں عذاب نہ ہوگا اگر بات اسی طرح ہوئی جیسے اے مسلمانو تم ثواب، عقاب، قیامت کا قیام بتلاتے ہو، کیونکہ ہم عذاب دیے جانے سے بالا تر ہیں۔ اس بات کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ آخرت کو بھی دنیا پر قیاس کرتے تھے۔ پس یہی ان کا قذف بالغیب تھا۔ اور یہ غیبی بات ہے جو بعید انداز سے کہی جارہی تھی۔ کیونکہ دارالجزاء کا داردنیا پر قیاس ہی سرے سے غلط ہے۔ مِنْ مَّکَانٍ 0 بَعِیْدٍ ۔ (ایک دور جگہ سے)
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

ان کی تمنائوں پر پانی پھرجائے گا : 54: وَحِیْلَ (اور روک ڈال دی گئی) ۔ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَھُوْنَ (ان میں اور ان کی تمنائوں میں) ایمان کا نفع اس دن اور اس کے ذریعہ آگ سے چھٹکارا اور جنت کی کامیابی۔ یا نمبر 2 دنیا کی طرف واپسی جیسا کہ ان کے متعلق اس قول میں مذکور ہے۔ فارجعنا نعمل صالحًا ] السجدہ : 12[ یقینی وقوع کی بناء پر یہ افعال ماضیہ لائے گئے ہیں۔ اگرچہ مراد استقبال ہے اور وہ افعال یہ ہیں : فزعوا، اخذوا وحیل۔ کَمَا فُعِلُ بِاَشْیَا عِہِمْ مِّنْ قَبْلُ (جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کے ساتھ یہی کیا جائے گا۔ جو ان سے پہلے ہوئے تھے) ۔ اشیاع سے مراد وہ کفار جو ان کے مشابہ تھے۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا فِیْ شَکٍّ (بیشک وہ سب شک میں تھے) رسالت و بعث کے معاملے میں مُّرِیْبٍ (جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا) مریب کا معنی تردد میں ڈالنے والایہ ارابہٖ سے لیا گیا ہے۔ جبکہ وہ شک و تردد میں ڈالے۔ اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جن کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شک کی وجہ سے عذاب نہ دیں گے۔