33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر خدا سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا بیشک خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

1: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ (اے نبی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور کافروں) وَالْمُنٰفِقِیْن اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا (اور منافقوں کا کہنا نہ مانیے بیشک اللہ تعالیٰ بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے) ۔ قول ابی بن کعب ؓ کا مطلب : حضرت ابی نے زر کو کہا سورة احزاب کی آیات تمہارے شمار میں کتنی ہیں انہوں نے جواب میں کہا۔ 73 آیات حضرت کعب نے کہا اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم ابی اٹھاتا ہے یہ سورة بقرہ کے برابر تھی یا اس سے بھی زیادہ لمبی ہم نے اس میں آیت رجم پڑھی۔ الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ نکالا من اللہ واللّٰہ عزیز حکیم۔ حضرت ابی کی مراد یہ ہے کہ یہ سورت من جملہ قرآن کے اس حصہ میں سے جو منسوخ ہوا۔ نشاندہی : باقی وہ جو حکایت بیان کی جاتی ہے کہ یہ اضافہ ایک صحیفہ میں تھا جو عائشہ ؓ کے گھر میں پڑا تھا اس کو بکری نے کھالیا یہ حکایت ملحدین اور رافضیوں کی تصنیفات سے ہے۔ یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ اے ہماری طرف سے خبر دینے والے، ہمارے اسرار کے امین ‘ ہمارے خطابات ہمارے بندوں تک پہنچانے والے۔ قراءت : نافع نے لنبیٔ ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے یہاں انداز خطاب لقب سے ہے نام سے نہیں جیسا کہ دیگر انبیاء (علیہم السلام) کو یا آدم، یا موسیٰ کہا گیا۔ آپ کی تشریف اور فضیلت کو ظاہر فرمانے کے لئے کیا گیا ہے البتہ دوسری آیت محمد رسول اللہ ﷺ ] الفتح : 29[ اور بعض دیگر آیات میں نام کی تصریح یہ تعلیم دینے کیلئے ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہے۔ کفار اور منافقین کی باتیں نہ مانیں : اتَّقِ اللّٰہَ (اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! ) تقوی پر ثابت قدم رہو اور ہمیشگی اختیار کرو اور اس میں اضافہ کرو کیونکہ یہ ایسا باب ہے جس کی انتہاء کو پایا نہیں جاسکتا۔ وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ (کسی بھی چیز میں کفار و منافقین کی مساعدت و مددنہ فرمائیں) اور ان سے بچتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ اور مؤمنوں کے دشمن ہیں۔ روایت تفسیریہ میں ہے کہ ابو سفیان، عکرمہ بن ابوجہل، ابو الاعور سلمی احد لڑائی کے بعد مدینہ آئے۔ اور عبد اللہ بن ابی کے ہاں مہمان رہے نبی اکرم ﷺ نے ان کو امان دیا کہ وہ آپ سے گفتگو کرسکیں۔ انہوں نے آپ سے کہا۔ ہمارے معبودوں کا تذکرہ چھوڑ دو ۔ اور کہو کہ وہ سفارشی ہیں اور نفع و نقصان دے سکتے ہیں۔ منافقین نے ان کی اس بات میں مدد کی مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو یہ آیت اتری۔ اتق اللہ فی نقض العھد ولا تطع الکافرین من اھل مکۃ والمنافقین من اہل المدینۃ فیما طلبوا۔ وعدہ خلافی میں اللہ تعالیٰ کا لحاظ رکھو اور کفار مکہ کا اور منافقین مدینہ کی بات نہ مانیں جو کچھ انہوں نے کہی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا (بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والے ہیں) ان کے اعمال کی خیانت کو حَکِیْمًا اور ان کے ساتھ حکم قتال کی تاخیر میں حکمت والا ہے۔
Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو (کتاب) تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اسی کی پیروی کئے جانا بیشک خدا تمہارے سب عملوں سے خبردار ہے

2: وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (اور اتباع کریں اس حکم کی جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے وحی کے ذریعہ بھیجا جانا ہے) تقویٰ پر ثابت قدمی اور کفار و منافقین کی عدم اطاعت میں۔ اِنَّ اللّٰہَ (بیشک اللہ تعالیٰ ) وہ ذات ہے جو آپ کی طرف وحی بھیجتا ہے۔ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا (وہ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے) وہ انے اور تمہارے اعمال سے پہلے سے باخبر ہے۔ ایک قول یہ ہے : تعملونؔ کو جمع لائے کیونکہ اتبع سے مراد آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ ہیں۔ قراءت : ابوعمرو نے یاء سے یعملون پڑھا ہے مطلب یہ ہوگا منافقین اور کفار تمہارے خلاف جو مکر و تدابیر کررہے ہیں۔
Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

3: وَّ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور تم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو) اپنا معاملہ اس کے سپرد کرو اور اس کی تدبیر کے حوالے کردو۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا (اور اللہ تعالیٰ کافی کا رساز ہے) محافظ ہے ہر معاملہ اسی کے حوالہ ہے۔ قول زجاج (رح) : یہ الفاظ اگرچہ خبر کے ہیں مگر ان کا معنی انشاء کا ہے ای اکتف باللہ وکیلا محفوظ ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ پر اکتفاء کرو۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا یہ سب تمہارے مونہوں کی باتیں ہیں اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے

جیسے دل ایک ہے اسی طرح ایک عورت آدمی کی یا ماں ہوگی یا بیوی : 4: مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ وَمَا جَعَلَ (اور اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور تمہاری ان بیویوں) اَزْوَاجَکُمُ الّٰئِٓیْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ وَمَا جَعَلَ (کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنادیا اور تمہارے منہ بولے) اَدْعِیَآ ئَ کُمْ اَبْنَآ ئَ کُمْ (بیٹوں کو تمہارا بیٹا نہیں بنادیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک سینے میں دو دل جمع نہیں کیے اور نہ ہی کسی عورت میں زوجیت اور امومت اور نہ بنو ّت اور دعوی ابنیت کو جمع کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک انسان کے دو دل نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ حالت دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو وہ ایک سے ایسے افعال کریگا۔ جیسے دوسرے لوگ اپنے دلوں سے کرتے ہیں تو ایک دل فضول و بےکار ہو اس کی ضرورت نہ ہوئی اور یا پھر وہ دوسرے دل سے لوگوں کے دلوں کے الٹ کریگا۔ تو اس سے اس کا دو متضاد صفات سے موصوف ہونا لازم آئے گا۔ کہ وہ ارادہ کرنے والا بھی ہے اور مجبور بھی ‘ جاننے والا اور گمان کرنے والا بھی اور یقین کرنے والا اور شک میں پڑا ہوا بھی۔ پس ثابت ہوا کہ ایک ہی دل سینے میں ہے اور ایک ہی ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی عورت یا تو کسی شخص کی ماں ہوگی یا بیوی۔ کیونکہ ماں مخدومہ ہے اور بیوی خادمہ ہے اور ان دونوں کے درمیان منافات ہے۔ اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی کسی کا منہ بولا بیٹا ہو اور حقیقی بیٹا ہو کیونکہ بنوت نسبت میں داخل کرنے والی ہے اور منہ بولا بیٹا ہونا صرف نام سے ملانے والا ہے اس کے سواکچھ نہیں تاکہ ایک شئی میں اصلیت اور غیر اصلیت جمع نہ ہو۔ حضرت زید ؓ کی مثال : درحقیقت یہ مثال ہے جو زید بن حارثہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے یہ بنو کلب قبیلہ سے تھے بچپن میں قید ہوئے حکم بن حزام نے اپنی پھوپھی خدیجہ کیلئے ان کو خرید لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ سے خدیجہ کا نکاح ہوگیا تو خدیجہ نے زید آپ کو ہبہ کردیا۔ زید کے والد اور چچا تلاش کے بعد مکہ پہنچے اور آپ ﷺ سے اس کا مطالبہ کیا آپ نے زید کو اختیار دیا تو زید نے والد و چچا کی بجائے رسول اللہ ﷺ کو چن لیا۔ آپ نے ان کو آزاد کر کے بیٹا بنا لیا۔ چناچہ لوگ زید بن محمد کہنے لگے۔ جب جوان ہوئے تو اپنی پھوپھی زاد بہن زینب بنت جحش سے نکاح کردیا۔ مگر نباہ نہ ہوئی زید نے طلاق دے دی۔ آپ نے بحکم الٰہی زینب بنت حجش سے نکاح کرلیا۔ تو منافقین نے پروپیگنڈا کیا کہ محمد نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ حالانکہ یہ دوسروں کو اس سے روکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ایک قول یہ ہے منافقین کہتے تھے کہ محمد کے دو دل ہیں ایک دل تمہارے ساتھ ایک اپنے اصحاب کے ساتھ۔۔ قول دیگر ابو معمر عربوں میں بڑے حافظہ والا مشہور تھا اس کو لوگ ذوالقلبین کا لقب دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے قول کی تردید فرمائی اور اس کو ظہار اور تبنی میں بطور مثال بیان فرمایا۔ تاکیدات : نمبر 1۔ رجل میں تنوین تنکیر نمبر 2۔ قلبین پر منؔ استغراقیہ داخل کرنا۔ نمبر 3۔ جوفؔ کا لفظ خاص کر لانا۔ یہ تمام تاکیدات ہیں۔ قراءت : اللَّائی ہمزہ کے بعد یاء ؔ جہاں بھی آئے کوفی اور شامی اسی طرح پڑھتے ہیں مگر نافع اللاء پڑھتے ہیں ان کے ساتھ یعقوب وسہل بھی شامل ہیں۔ یہ التی کی جمع ہے۔ تُظَاھِرون عاصم نے ظَاھَرَ سے پڑھا جبکہ کوئی شخص اپنی بیوی کو انت علیّ کظھر امی کہے تو یہ ظہار کہلاتا ہے۔ تَظَاھَرونؔ علی، حمزہ اور خلف نے پڑھا ہے۔ تَظَّاھَرون۔ شامی ظاء کی تشدید کے ساتھ اظاہر بمعنی تظاھر سے لیا اور پڑھا تَظَّھَّرُوْن دیگر قراء نے پڑھا۔ اظَّھَّر بمعنی تَظَھّر سے لیا ہے۔ نحو : تظاھرونؔ کو من سے متعدی بنایا گیا۔ کیونکہ یہ بعد کے معنی کو متضمن ہے اس لئے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ طلاق شمار ہوتی تھی اس کی دوسری نظیر آلٰی من امرأتہ ہے۔ کیونکہ ایلاء میں بھی بعد کا معنی پایا جاتا ہے اسی لئے منؔ سے متعدی بنایا گیا ہے۔ ورنہ اصل میں ایلاء تو قسم کے معنی میں آتا ہے۔ اور حَلَفَ اور اَقْسَم کا یہ حکم نہیں ہے۔ الدّعیّ یہ فعیل بمعنی مفعول ہے اور لڑکا جس کی نسبت کسی آدمی یا خاندان کی طرف کی جائے۔ نحو : اس کی جمع یہاں ادعیاء شاذ اور خلاف قیاس ہے۔ کیونکہ جو فعیل بمعنی فاعل ہو اس کی جمع اس وزن پر آتی ہے مثلاً تقی جمع اتقیاء شقی جمع اشقیاء مگر رَمِیٌ اور سَمِیّ کی جمع اس وزن پر نہیں آتی اور نہ بنا سکتے ہیں اگرچہ لفظی مناسبت موجود ہے۔ ظہار یا متبنّیٰ محض منہ کی بات ہے : ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَا ھِکُمْ (یہ تمہارے منہ سے صرف کہنے کی بات ہے) یعنی تمہارا اپنی بیوی کو کہنا کہ یہ میری ماں ہے اور متبنّیٰ کو بیٹا کہنا یہ نری منہ کی بات ہے جس کی تہہ میں حقیقت نہیں کیونکہ بیٹا ولادت سے بنتا ہے اسی طرح ماں وہ جس نے پیٹ سے جنا ہو۔ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ (اور اللہ تعالیٰ حق بات فرماتے ہیں) یعنی وہ بات جس کا ظاہر و باطن حق ہو۔ وَ ھُوَ یَھْدِیْ السَّبِیْلَ (اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے) حق کا راستہ پھر حق و ہدایت جو راہ حق کی طرف جانے والا تھا بتلایا چناچہ فرمایا۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

(مومنو ! ) لے پالکوں کو ان کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

5: اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآپـھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچائی والی بات ہے) اقسط کا معنی عدل والی۔ وضاحت فرما دی کہ ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ ایک قول یہ ہے زمانہ جاہلیت میں جب کسی کو کسی شخص کی بہادری پسند آتی تو اس کو اپنے ساتھ شامل کرتا اور اپنی مذکر اولاد جیسا اس کا میراث میں حصہ مقرر کردیتا وہ اسی کی طرف منسوب ہوتا کہا جاتا یہ فلاں بن فلاں ہے۔ کمالِ فصاحت : کتنا فصیح کلام ہے کہ انشائی اور طلبی جملوں کو ملایا پھر خبر یہ جملہ سے ان کا فاصلہ کیا پھر ان کے ساتھ ملایا پھر جملہ اسمیہ کو اس سے الگ کیا اور ان کے درمیان وصل کیا۔ پھر درمیان میں انشائی جملہ لے آئے۔ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا ٰابَآئَ ھُمْ (اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو) یعنی تمہیں ان کے سلسلہ نسب کے باپ معلوم نہیں جن کی طرف تم ان کی نسبت کرو تو فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ (وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں) پھر وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دینی دوست ہیں۔ پس یا اخی، یا مولا کہہ کر آواز دو ۔ اس سے اخوت دینی اور ولایت مذہبی مراد ہے۔ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ (اس سے تم پر کچھ گناہ نہیں جو بھول چوک سے ہوجائے) ممانعت کے آنے سے قبل جو تم نے بھول کر کہہ سن لیا اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ (لیکن وہ جو تم دل کے ارادہ سے کرو) لیکن گناہ اس میں ہے جو تم ممانعت کے بعد جان بوجھ کر کرو۔ نمبر 2۔ اس وقت کوئی گناہ نہیں جب تم دوسرے کے لڑکے کو۔ اے بیٹے ! بطور خطاء اور سبقت لسانی کے کہو۔ لیکن جب تم جان بوجھ کر کہو گے تو گناہ ہوگا۔ نحو : ماؔ یہ موضع جر میں پہلے ماؔ پر معطوف ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ عفو عن الخطأ مراد لی عفو عن العمد مراد نہ ہو جیسا عموم کا تقاضا ہے پھر اپنے عموم کے لحاظ سے خطاء ً بیٹا بنانا یا عمداً بیٹا بنانا دونوں کو شامل ہے۔ جب لے پالک پایا جائے اگر وہ مجہول النسب ہے اور عمر میں چھوٹا ہے۔ تو اس کا نسب اس سے ثابت ہوجائے گا۔ اور اگر وہ غلام ہے تو لے پالک بنانے سے آزاد ہوجائے گا۔ اور اگر وہ عمر میں اس سے بڑا ہے تو نسب ثابت نہ ہوگا مگر امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک آزاد ہوجائے گا۔ اور اگر وہ معروف النسب ہے تو متبنّیٰ بنانے سے نسب ثابت نہ ہوگا۔ مگر وہ آزاد ہوجائے گا۔ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں) خطأ پر تم سے مواخذہ نہ فرمائیں گے اور عمد پر توبہ کو قبول فرمائیں گے۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں ان سب کی مائیں ہیں اور رشتہ دار آپس میں کتاب اللہ کی رو سے مسلمانوں اور مہاجرین سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو (تو اور بات ہے) یہ حکم کتاب (یعنی قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے

نبی کا حق جان سے زیادہ : 6: اَلنَّبِیُّ اَوْلٰٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ (نبی زیادہ حقدار ہیں ایمان والوں کیلئے ان کی جانوں سے بڑھ کر) یعنی دین و دنیا کے تمام معاملات میں زیادہ حقدار ہیں اور آپ کا حکم ایمان والوں پر ان کے اپنے نفس کے حکم سے زیادہ نافذ ہونے والا ہے پس مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے نفوس کو آپ کے حکم پر قربان کردیں۔ اور آپ کی ذات پر قربان کردیں نمبر 2۔ آپ زیادہ مہربان ہیں ایمان والوں پر ان کی جانوں سے بڑھ کر اور زیادہ نرمی کرنے والے اور زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں جیسا کہ فرمایا بالمؤمنین رء وف رحیم ] التوبہ : 128[ قراءت ِابن مسعود۔ : النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسہم وھو ابٌ لہم قول مجاہد (رح) : ہر پیغمبر اپنی امت کا باپ ہے اسی لئے مومن بھائی بھائی ہوئے کیونکہ نبی اکرم ﷺ ان کے روحانی باپ ہیں۔ مائیں حرمت و تعظیم میں ہیں : وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُھُمْ ( اور آپ کی ازواج ان کی مائیں ہیں) نکاح کی حرمت اور تعظیم کے لازم ہونے میں۔ وہ امت کیلئے ان دو کے علاوہ بقیہ باتوں مثلاً وراثت وغیرہ میں اجنبیات عورتوں کی طرح ہیں اسی لئے یہ تحریم ان کی بیٹیوں کی طرف سبقت کرنے والی نہیں۔ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ (اور رشتہ دار) قرابت والے۔ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ (وہ ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں) سلسلہ میراث میں۔ ابتدائے اسلام : مسلمان ابتدائے اسلام میں دین و ہجرت کی بنیاد پر وارث بنتے تھے۔ قرابت داری بنیاد نہ تھی۔ پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور میراث کو قرابت کے حق سے متعلق کردیا گیا۔ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی کتاب میں) اس کے حکم و تقدیر میں نمبر 2۔ لوح محفوط میں نمبر 3۔ اس میں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا۔ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ (بنسبت دوسرے مؤمنین و مہاجرین کے) یہ اولی الارحام کا بیان بھی بن سکتا ہے۔ مطلب یہ ہوگا ان میں سے جو قریبی رشتہ دار ہیں وہ اجانب کی نسبت وراثت کے زیادہ حقدار ہیں۔ یہ منؔ بیانیہ کے لحاظ سے معنی ہے۔ نمبر 2۔ منؔ ابتدائیہ بھی ہوسکتا ہے مطلب یہ ہوگا رشتہ دار حق قرابت میں میراث کے زیادہ مستحق ہیں ایمان والوں سے یعنی انصار سے ولایت فی الدین کے باعث اور مہاجرین سے حق ہجرت کے سبب۔ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْا اِلٰٓی اَوْلِیٰٓپکُمْ مَّعْرُوْفًا (مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے اچھاسلوک کرنا چاہو) یہاں استثناء خلاف جنس سے ہے یعنی لیکن تمہارا اپنے اولیاء کے ساتھ بھلا سلوک کرنا جائز ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ان میں سے جس کیلئے پسند کرو وصیت کرسکتے ہو۔ (جو ثلث مال سے کم ہو) پس یہ مال وصیت کے لحاظ سے ان کو ملے گا۔ نہ کہ میراث سے۔ مسئلہ : تفعلوا کو الیٰؔ کے ساتھ متعدی بنایا گیا ہے کیونکہ وہ تسدوا کے معنی میں ہے۔ الاولیاءؔ سے مراد دینی ولایت والے یعنی مومن اور مہاجر کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا (یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے) یہ توارث بالا رحام لوح محفوظ میں مندرج ہے۔
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے اور عہد بھی ان سے پکا لیا

7: وَاِذْاَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّیْنَ مِیْثَاقَھُمْ (جب ہم نے انبیاء (علیہم السلام) سے پختہ عہد لیا) یعنی اس وقت کو یاد کرو (اذ سے پہلے اذکر محذوف ہے) جب ہم نے انبیاء (علیہم السلام) سے تبلیغ رسالت کا عہد لیا اور دین قیم کی طرف دعوت دینے کا وعدہ لیا۔ وَ مِنْکَ (اور آپ سے) خصوصاً ۔ نکتہ تقدیم : رسول اللہ ﷺ کو نوح اور بعد والے انبیاء (علیہم السلام) پر مقدم کیا کیونکہ یہ عطف بیان فضیلت کیلئے ہے اس لئے کہ یہ اولوالعزم انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ اور سارے صاحب شریعت ہیں۔ جبکہ حضرت محمد ﷺ ان سب سے افضل تھے اسی لئے آپ کو مقدم کردیا۔ اگر ایسا ملحوظ نہ ہوتا تو جن کا زمانہ مقدم ہے ان کو مقدم کیا جاتا۔ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وََاَخَذْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا (اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ بن مریم سے بھی ہم نے ان سب سے خوب پختہ عہد لیا) وصف کو ملانے کی غرض سے میثاق کا دوبارہ ذکر کردیا اور بتلادیا کہ ہم نے ایسا ضرور کیا ہے۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کہنے والوں سے انکی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

8: لِّیَسْئَلَ (تاکہ اللہ تعالیٰ تحقیقات کرے) الصّٰدِقِیْنَ (سچوں سے) یعنی انبیاء (علیہم السلام) سے عَنْ صِدْقِہِمْ (ان کی سچائی کے متعلق) جو انہوں نے کہا اپنی اقوام کو نمبر 2۔ تاکہ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کرنے والوں سے پوچھے۔ کیوں کہ جس نے صادق کو صدقت کہا وہ اپنی بات میں سچا ہے۔ نمبر 3۔ تاکہ انبیاء (علیہم السلام) سے پوچھے کہ ان کی امتوں نے ان کو کیا جواب دیا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہے : یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم ] المائدہ : 109[ وَاَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ (اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کیلئے) جو رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ عَذَابًا اَلِیْمًا (دردناک عذاب) ۔ نحو : اس کا عطف اخذنا پر ہے کیونکہ معنی اس طرح ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو پختہ طور پر حکم دیا کہ وہ اس کے دین کی طرف دعوت دیں تاکہ ایمان لانے والوں کو ثواب سے نوازا جائے اور انکار کرنے والوں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یا جس پر لیسأل الصادقین دلالت کر رہا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا : پس اس نے ایمان والوں کو ثواب دیا اور کافروں کے لئے عذاب تیار کیا۔
Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

مومنو ! خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جو (اس نے) تم پر (اس وقت کی) جب فوجیں تم پر حملہ کرنے کو) آئیں تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل) کئے جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان کو دیکھ رہا ہے

غزوئہ احزاب کے حالات : 9: یٰٓـاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو) یعنی وہ انعام جو اللہ تعالیٰ نے احزاب کے دن فرمایا۔ جس کو یوم خندق بھی کہا جاتا ہے۔ یہ احد کے ایک سال بعد پیش آیا۔ اِذْجَآ ئَ تْکُمْ جُنُوْدٌ (جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے) تمام گروہ جس میں قریش، غطفان، قریظہ، بنی نضیر سب شامل تھے۔ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا (پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی) بادصبا نبی (علیہ السلام) نے فرمایا نصرت بالصبا واھلکت عاد بالدبور۔] رواہ احمد 1/228 و 324 والبخاری 4105 و مسلم 900[ فرشتوں کے لشکر : وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا (اور ایسی فوج جو تم کو نظر نہ آتی تھی) وہ فرشتے تھے جن کی تعداد ایک ہزار تھی۔ اللہ تعالیٰ نے صبا بار دہ کو انتہائی سردرات میں ان پر مسلط کردیا۔ جس نے ان کو کپکپا کر رکھ دیا اور ان کے چہرے خاک آلود ہوگئے۔ اور فرشتوں کو حکم دیا گیا انہوں نے خیموں کی رسیاں توڑ کر خیموں کو اکھاڑ پھینکا۔ آگ بجھ گئی ہانڈیاں الٹ گئیں۔ اور گھوڑے ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے۔ ان کے دلوں پر رعب طاری ہوگیا۔ ملائکہ نے ان کے لشکر کے گرد نعرہ تکبیر بلند کیا وہ بغیر لڑائی کے شکست کھاگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آمد کی خبر سن کر سلمان فارسی ؓ کے مشورہ سے خندق کھودی تھی۔ پھر تیاری کے ساتھ تین ہزار مسلمانوں کو لے کر خندق کے اس طرف خیمے لگا دیے کفار اور آپ کے لشکر کے درمیان خندق حائل تھی بچوں اور عورتوں کو گڑھوں میں محفوظ کردیا گیا خوف شدید ہوگیا۔ قریش دس ہزار احابیش اور بنی کنانہ اور اہل تہامہ کے ساتھ ابوسفیان کی قیادت میں نکلے اور غطفانیوں کی تعداد ایک ہزار تھی جن کی قیادت عیینہ بن حصن فزاری کے پاس تھی ان کے ساتھ اہل نجد میں سے جو ان کے پیرو تھے وہ بھی شامل تھے ادھر عامر بن طفیل ہوازن کا لشکر لے کر آملا۔ یہود بنو قریظہ اور بنو نضیر نے بھی ان کی معاونت کی (اس طرح اس لشکر کی تعداد چودہ سے 24 ہزار تک بتلائی جاتی ہے) ایک ماہ تک دونوں لشکر آمنے سامنے پڑے رہے کوئی لڑائی نہ تھی بس کبھی کبھی تیروں اور پتھروں کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مدد نازل فرمائی۔ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو) اے مسلمانوں ! تمہارے اعمال کو خندق کے ذریعہ حفاظت اور نبی اکرم ﷺ کی معاونت پر ثابت قدم رہنے کو۔ بَصِیْرًا (دیکھتے تھے) قراءت : ابو عمرو نے یاء کے ساتھ یعملون پڑھا ہے معنی یہ ہے کفار جو بغاوت کر رہے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانے کیلئے کوشاں تھے۔ وہ دیکھنے والے تھے۔
Ayah 33:10

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

لشکر ِکفار : 10: اِذْ جَآ ئُ وْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ (جب وہ لوگ تم پر آچڑھے) (مدینہ) کی بالائی جانب سے۔ نحو : اذ جاء و کم یہ اذ جاء تکم سے بدل ہے۔ من فوقکم سے وادی کی بالائی جانب جو کہ مشرقی تھی اور اس طرف سے بنو غطفان حملہ آور تھے۔ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ (اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی) وادی کی نچلی جانب جو کہ مغربی جانب تھی اس طرف سے قریش حملہ آور تھے۔ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ (اور جبکہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں) حیرانی کی وجہ سے اپنے دیکھنے کے انداز و طریق سے پھر گئیں تھیں۔ نمبر 2۔ ہر چیز سے مڑ چکی تھیں۔ وہ سوائے اپنے دشمن کے اور کسی کی طرف دیکھتی ہی نہ تھیں کیونکہ گھبراہٹ و خوف شدید تھا۔ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الحَنَاجِرَ (اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے) الحنجرۃؔ حلقوم کا انتہائی حصہ، حلقوم کی وہ رگ جس سے کھانا اور پانی اندر جاتا ہے۔ علماء کا قول ہے کہ خوف کی وجہ سے پھیپھڑے پھول جاتے ہیں اور پھیپھڑوں کے پھول جانے کی وجہ سے دل اوپر کو حلق کی طرف اٹھنے لگتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اضطراب قلب کیلئے یہ ایک مثال ہے خواہ حقیقۃً حلق کو نہ پہنچے۔ روایت میں ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا دل حنجرہ تک پہنچے ہوتے ہیں کیا کوئی ایسا کلمہ ہے جو ہم کہیں آپ نے فرمایا اس طرح کہو : اللّٰھُمَّ اسْتُر عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَا تِنَا ] رواہ احمد : 2/25[ ابودائود 5074، ابن ماجہ 3871، ادب المفرد : 1200[ کمزور دل منافقین کا حال : وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا (اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے) یہ ایمان والوں کو خطاب ہے ان میں کچھ انتہائی مضبوط دل اور ثابت الاقدام تھے بعض کمزور دل، کچھ منافق۔ اول گروہ نے گمان کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے پس اس میں پھسل جانے سے ڈرے۔ اور آزمائش کو اٹھانے میں کوئی کمزوری نہ واقع ہوجائے۔ پچھلوں نے وہ گمان کیا جو ان کے متعلق بیان کیا گیا۔ قراءت : ابو عمرو اور حمزہ نے الظنونا کو بغیر الف پڑھا ہے خواہ حالت وقف ہو یا وصل اور یہ قیاس ہے مگر مدنی، شامی، ابوبکر نے دونوں میں الف پڑھا۔ وصل کو وقف کے مقام پر جاری کرتے ہوئے اور مکی، علی و حفص نے وقف میں الف پڑھا اور اسی کی مثل الرسولاؔ ] الاحزاب : 66[ اور السبیلا ] الاحزاب : 67[ اور فاصلہ میں اس کا اضافہ کیا جیسا کہ شاعر نے قافیہ میں بڑھایا ہے قول شاعر۔ اقلی اللوم عاذل والعتابا اور یہ تمام حروف مصحف امام میں الف کے ساتھ ہیں۔
Ayah 33:11

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے

1 1: ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ (اس موقع پر ایمان والوں کا امتحان لیا گیا) ایمان پر ثابت قدم رہنے کا امتحان لیا گیا۔ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالاً شَدِیْدًا (اور ان کو سخت جھنجھوڑا گیا) خوف کے باعث ان کو خوب ہلایا گیا۔
Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ خدا اور اس کے رسول نے تو ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا

12: وَاِذْیَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ (اور جب منافقین کہہ رہے تھے) اسکا پہلے اذؔ پر عطف ہے۔ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ ( اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے) ایک قول یہ ہے یہ منافقین کا ہی وصف ہے۔ جو وائو کے ساتھ اس طرح لایا گیا جیسا اس قول میں۔ ؎ الی الملکِ القرم وابن الھمام ٭ و لیثِ الکتیبۃِ فی المزدحم الملک القرم اور ابن الھمام سے ایک ہی شخص مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دین میں کوئی سمجھ بوجھ نہ تھی۔ منافقین ان کو شبہات ڈال کر اپنی طرف مائل کرتے۔ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اِلَّا غُرُوْرًا (ہم سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے محض دھوکا ہی کا وعدہ کر رکھا ہے) تفسیری روایت میں ہے کہ معتب بن قشیر نے جب مختلف گروہوں کو دیکھا تو کہنے لگا محمد تو ہمیں فارس، روم کی فتح کے وعدے کرتا ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ خوف کی وجہ سے قضائے حاجت کیلئے نکل نہیں سکتے یہ وعدہ کیا ہے محض دھوکا ہے۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ اے اہل مدینہ (یہاں) تمہارے لئے (ٹھہرنے کا) مقام نہیں تو لوٹ چلو اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے

13: وَاِذْ قَالَتْ طَّاپفَۃٌ مِّنْھُمْ (اور جب کہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا) یہ منافقین میں سے عبدا للہ بن ابی اور اس کے ساتھی تھے۔ یٰٓـاَھْلَ یَثْرِبَ (اے یثرب کے لوگو ! ) یہ مدینہ منورہ کا پرانا نام ہے۔ لَامُقَامَ لَکُمْ (تمہارے لئے ٹھہرنے کا موقعہ نہیں) قراءت : مُقَام ضم میم کے ساتھ حفص نے پڑھا۔ اور مَقَام ابن کثیر نافع، ابو عمرو، حمزہ، کسائی نے پڑھا معنی یہ ہے تمہارے لئے یہاں ٹھہرنا نہیں ہے۔ اور نہ کوئی جگہ ہے کہ جس میں تم کھڑے بھی ہوسکو۔ نمبر 2۔ یا اقامت پذیر ہوسکو۔ فَارْجِعُوْا (پس لوٹ چلو) کفر کی طرف نمبر 2۔ لشکر رسول اللہ ﷺ سے ہٹ کر مدینہ کی طرف۔ وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ النَّبِیَّ (اور ان میں سے ایک گروہ نبی اکرم ﷺ سے اجازت طلب کرتا تھا) یہ بنو حارثہ قبیلہ کے لوگ تھے۔ منافقین کی بہانہ بازی : یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَۃٌ (وہ کہتے تھے ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں) ای ذات عورۃ غیر محفوظ وَمَا ھِیَ بِعَوْرَۃٍ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا (حالانکہ وہ غیرمحفوظ نہیں وہ صرف بھاگنا ہی چاہتے ہیں) العورۃؔ خلل۔ عورۃ سے مراد ذات العورۃ ہے۔ یہ ابن عباس ؓ کی قراءت ہے کہتے ہیں عور المکان عَوَرًا جبکہ اس میں کوئی خلل ظاہر ہو جس سے دشمن اور چور کا خطرہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عورۃ یہ عَوِرۃ کی تخفیف ہو۔ انہوں نے عذر پیش کیا کہ ان کے مکانات دشمنوں اور چوروں کی زد میں ہیں کیونکہ وہ قلعہ بند نہیں ہیں انہوں نے اس لئے اجازت طلب کی تاکہ وہ ان کی حفاظت کریں اور ان کی حفاظت کا انتظام ہونے کے بعد وہ واپس لوٹ آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات غلط قرار دی کہ ان کو اس بات کا خطرہ نہیں۔ بلکہ وہ تو لڑائی سے بھاگنا چاہتے ہیں۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً ) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں

14: وَلَوْدُ خِلَتْ عَلَیْھِمْ (اور اگر ان پر گھس آئے) یعنی مدینہ میں نمبر 2۔ ان کے گھروں میں یہ اس محاورہ سے لیا گیا ہے۔ دخلت علی فلان دارہ۔ مِّنْ اَقْطَارِھَا (اس کی اطراف سے) مدینہ کی جوانب سے نمبر 2۔ اگر یہ اجتماعی لشکر جن سے بھاگنے کی یہ تدابیر کر رہے ہیں۔ اگر یہ لشکر اجتماعیہ ان کے مدینہ میں داخل ہوجائیں جن سے ڈر کر یہ بھاگ رہے ہیں۔ نمبر 3۔ ان کے گھروں میں تمام اطراف سے داخل ہوجائیں اور ان کے اہل واموال پر لوٹ مار کا بازار گرم کردیں۔ ثُمَّ سُئِلُوْا (پھر ان سے درخواست کی جائے) ایسی گھبراہٹ میں الْفِتْنَۃَ (فساد کی) فساد سے مراد ارتداد اور کفر کی طرف لوٹ جانا اور مسلمانوں سے لڑائی کرنا۔ لَاٰتَوْھَا (تو یہ اس کو منظو ر کرلیں گے) ضرور ارتکاب کریں گے۔ قراءت : حجازی نے بلا مد پڑھا ہے اس کا معنی اس کو کر گزریں گے اس کی پناہ لیں گے۔ وَمَا تَلَبَّثُوْا بِھَا (اور نہیں ٹھہریں گے ان گھروں میں) اس کے قبول کرنے میں۔ اِلَّا یَسِیْرًا (مگر بہت معمولی) صرف اتنی دیر کہ ان سے سوال ہو اور یہ اس کو فوراً قبول کرلیں۔ نمبر 2۔ اپنے ارتداد کے بعد یہ مدینہ میں زیادہ دیر نہ ٹھہریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کردیں گے مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کو ایک بہانہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس بہانہ سے وہ نصرت ِرسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کی مدد سے دست کش ہوجائیں اور ان گروہوں کے مقابلہ سے علیحدہ ہوجائیں جن کے رعب سے ان کے دل بھرے ہوئے ہیں۔ اور یہ کفار کے گروہ ان کے علاقہ اور سرزمین پر اچانک لوٹ مچا دیں اور ان کے سامنے کفر پیش کر کے کہیں کہ اب ہمارے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہو تو جلدی سے ان کی بات قبول کرلیں گے اور اس میں ذرا توقف نہ کریں گے اور یہ حرکت صرف حبّ کفر اور اسلام سے ناراضی کے باعث ان سے سرزد ہوگی۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اس) کی ضرور پرسش ہوگی

منافقین کا وعدہ : 15: وَلَقَدْ کَانُوْاعَاھَدُوْا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ لَایُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ (حالانکہ یہی لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے عہد کرچکے تھے کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے) بنو حارثہ قبیلہ کے لوگ غزوہ خندق سے قبل) یا اس لشکر احزاب کو دیکھنے سے پہلے کہ وہ شکست کھا کر نہ بھاگیں گے۔ وَکَانَ عَھْدُ اللّٰہِ مَسْئُوْلًا (اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا جاتا ہے اس کی بازپرس ہوگی) وہ عہد مطلوب و مقصود ہے تاکہ اس کو پورا کیا جائے۔
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے جانے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے

16: قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ (اور کہہ دیجئے تم کو بھاگنا ہرگز فائدہ مند نہ ہوگا اگر تم موت) اَوِ القَتْلِ وَاِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا (یاقتل سے بھاگتے ہو اور اس حالت میں تم فائدہ نہ اٹھائو گے مگر تھوڑے دنوں) مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری موت کا وقت آچکا تو میدان سے بھاگنا تمہیں فائدہ نہ دے گا۔ اور اگر موت کا وقت ابھی نہیں آیا اور تم بھاگے تو تم دنیا میں رہنے کا ذرا سا فائدہ اٹھا لو گے اور وہ دنیا میں رہنا وہی مدت حیات ہے جو کہ معمولی ہے۔ نکتہ : کسی مروانی سے منقول ہے کہ اس کا گزر ایسی دیوار کے پاس سے ہوا جو گرا چاہتی تھی اس نے تیزی سے قدم اٹھایا دیکھنے والے نے یہ آیت تلاوت کردی۔ تو اس نے جواب دیا وہی قلیل تو ہم ڈھونڈ رہے ہیں۔
Ayah 33:17

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے (تو کون اس کو ہٹا سکتا ہے ؟ ) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو اپنا نہ دوست پائیں گے اور نہ مددگار

17: قُلْ مَنْ ذَاالَّذِیْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ (فرما دیجئے وہ کون ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ سے بچا سکے گا) من اللہ سے مرادوہ عذاب جس کے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ہے۔ اِنْ اَرَادَبِکُمْ سُوْ ئً (اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کرنا چاہے) تمہارے نفوس کے سلسلہ میں قتل ہو یا اور کوئی صورت۔ اَوْ اَرَادَ بِکُمْ رَحْمَۃً یا (وہ کون ہے جو اس کے فضل کو روک سکے) اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہے۔ رحمۃ سے مراد عافیت و سلامتی کے ساتھ طویل عمر۔ مطلب یہ ہے کون اللہ تعالیٰ کو روک سکتا ہے رحم کرنے سے اگر وہ تم پر رحم کرنا چاہے ؟ یہ روکنے کا معنی اس لئے کیا کیونکہ یعصمکم میں منع کا معنی پایا جاتا ہے۔ وَ لَایَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَانَصِیْرًا (اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مدد گار) نصیر بمعنی ناصر (مددگار) ہے۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

خدا تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم

دوسروں کو نصرت ِرسول سے روکنے والے : 18: قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْکُمْ (اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو جانتے ہیں جو مانع بنتے ہیں) یعنی جو دوسروں کو نصرت رسول اللہ ﷺ سے روکتے ہیں۔ وہ منافقین تھے۔ وَالْقَآپلِیْنَ لِاِخْوَانِھِمْ (اور اپنے نسبی یا وطنی بھائیوں کو کہتے ہیں) کھلے طور پر اپنے مسلمان بھائیوں سے کہتے ہیں) ھَلُمَّ اَلَیْنَا (تم ہمارے پاس آجائو) تم اپنے کو ہمارے قریب کردو اور محمد ﷺ کو چھوڑ دو ۔ لغت : یہ اہل حجاز کی لغت ہے ان کے ہاں اس میں واحد و جماعت برابر ہے۔ مگر بنو تمیم کہتے ہیں ھلم یا رجلُ ، ھلموا یا رجال، یہ ایک صوت ہے جو فعل متعدی کے نام کے طور پر استعمال ہوتی ہے جیسے احضر وقر ّب۔ وَلَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًا (اور وہ لڑائی میں بہت کم ہی آتے ہیں) ۔
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) انکی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دئیے اور یہ خدا کو آسان تھا

خوف کے وقت منافقین کا حال : 19: اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ (تمہارے حق میں بخیلی لیے ہوئے ہیں) ۔ یہ جمع شحیح کی ہے اس کا معنی بخیل ہے یا تون کی ضمیر سے حال ہے تقدیر کلام اس طرح ہے یا تون الحرب بخلاء علیکم بالظفر والغنیمۃ وہ لڑائی میں اس حال میں شامل ہوتے ہیں کہ تمہارے متعلق کامیابی اور غنیمت کے سلسلہ میں بخل کرنے والے ہیں۔ فَاِذَا جَآ ئَ الْخَوْفُ (پس جب خوف پیش آتا ہے) خواہ دشمن کی جانب سے ہو یا رسول اللہ کی جانب سے ہو۔ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ (تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے لگے ہیں) اس حالت میں تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ (کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں) ۔ دائیں، بائیں (وہ اپنی آنکھوں سے یوں دائیں بائیں دیکھتے ہیں) کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ (جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو) جیسے ڈر کر گھبرا کر پناہ کی غرض سے موت کی غشی میں مبتلا انسان دیکھتا ہے۔ فَاِذَا ذََھَبَ الْخَوْفُ (پھرجب وہ خوف دورہو جاتا ہے) وہ خوف جب دور ہوجاتا ہے اور وہ امن میں ہوجاتے ہیں۔ اور غنائم جمع کرلیے جاتے ہیں۔ سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ (تو تم کو تیز تیز زبانوں سے طعنے دیتے ہیں) وہ تم سے سخت انداز سے تخاطب کرتے ہیں اور کلام سے ایذاء پہنچاتے ہیں کہا جاتا ہے خطیبؔ مسلق یعنی فصیح خطیب، ورجل مسلاقؔ یعنی کلام میں مبالغہ کرنے والا آدمی۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہمیں زیادہ حصہ دو ہم نے تمہاری حفاظت کی ہے اور تمہارے ساتھ ہو کر لڑائی بھی کی ہے۔ ہمارے وجود کی وجہ سے تو تمہیں دشمن پر غلبہ ملا ہے۔ اَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْرِ (مال پر حریص ہیں) یعنی وہ تم سے اس انداز سے خطاب کرتے ہیں کہ مال اور غنیمت کے متعلق حریص ہیں ( کہ زیادہ سے زیادہ مل جائے) نحو : اشحۃً یہ سلقوکم کے فاعل سے حال ہے۔ اُولٰٓپکَ لَمْ یُؤْمِنُوْا (یہ لوگ ایمان نہیں لائے) حقیقت میں بلکہ صرف زبانی مومن ہیں۔ فَاَحْبَطَ اللّٰہُ اَعْمَالَھُمْ (پس اس نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا) ان کے اعمال ظاہرہ کو اندر کفر چھپانے کی وجہ سے باطل کردیا۔ وَکَانَ ذٰلِکَ (اور یہ ان کے اعمال کا ضیاع) عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا (اللہ تعالیٰ کے نزدیک بالکل آسان اور معمولی ہے) ۔
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

(خوف کے سبب سے) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں رہیں (اور) تمہاری خبریں پوچھا کریں اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم

منافقین کی چاہت : 20: یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْھَبُوْا (ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ لشکر نہیں گئے) وہ اپنی بزدلی کی وجہ سے خیال کرتے تھے کہ کفار کے لشکر شکست کھا کر نہیں لوٹے حالانکہ وہ لوٹ چکے ہیں۔ وَاِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ (اور اگر وہ گروہ دوبارہ آجائیں) دوسری مرتبہ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّھُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ (یہ یہی چاہتے ہیں کہ کاش ہم دیہاتیوں میں باہر صحراء میں جار ہیں) البادون جمع البادی کی ہے بمعنی دیہاتی۔ مطلب یہ ہے کہ منافق اپنی بزدلی کی وجہ سے تمنا کرتے ہیں کہ وہ مدینہ سے باہر جنگل میں ہوتے اور دیہاتیوں کے درمیان رہائش پذیر ہوتے تاکہ وہ محفوظ رہ سکتے اور اس قتال سے جس میں مسلمان مبتلا ہیں الگ تھلگ رہتے۔ یَسْأَ لُوْنَ ( مدینہ سے آنے والوں سے) پوچھتے عَنْ اَنْچبَآپکُمْ (تمہاری خبریں اور حالات اور جو تم پر گزری) ۔ وَلَوْ کَانُوْا فِیْکُمْ (اور اگر وہ تمہارے اندرشامل رہتے) اور مدینہ واپس نہ لوٹتے۔ اور لڑائی ہوجاتی تو مَّا قٰتَلُوْا اِلَّا قَلِیْلًا (وہ تھوڑا سا لڑتے) وہ بھی شہرت ودکھلاوے کی غرض سے۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو

جناب رسول اللہ ﷺ تمہارے مقتداء ہیں : 21: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ (تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں اُسوئہ حسنہ ہے) اسوۃ یہ جہاں بھی ہو ضمہ کے ساتھ آئے گا عاصم کے نزدیک اس کا معنی قدوہ (نمونہ) آتا ہے۔ جس کو نمونہ بنایا جائے جس کو مقتدیٰ مانا جائے جیسا کہتے ہیں فی البیضۃ عشرون مناحدید یعنی خود میں بیس سیرلوہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے مقتداء ہیں۔ تمہیں ان کی اقتداء مناسب ہے۔ نمبر 2۔ یا آپ ﷺ کی سیرت میں تمہارے لئے خصائل حمیدہ موجود ہیں جو تمہارے لئے واجب العمل ہیں مثلاً آپ کا بذات خود قتال کرنا (شدائد پر صبر کرنا وغیرہ) لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوْا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ ( اس کے لئے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور آخرت کے دن سے ڈرتا ہو) یعنی وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت سے ڈرتا ہو۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے ثواب کا امیدوار ہو۔ اور آخرت کی نعمتوں کا چاہنے والا ہو۔ نحو : لمن یہ لکم سے بدل ہے مگر یہ کمزور قول ہے کیونکہ ضمیر مخاطب سے بدل آ نہیں سکتا۔ نمبر 2۔ لمن یہ حسنۃ کے متعلق ہے ای اسوۃ حسنۃ کائنۃ لمن کان یرجوا اللہ۔ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ کو وہ بہت یاد کرے) خوف ورجاء اور خوشحالی، تنگدستی میں۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی

22: وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ (جب مؤمنوں نے ان لشکروں کو دیکھا) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان کے قدم اکھاڑ دے گا۔ بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں اور اسی سے مدد کے طالب ہوں اس سے اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا گیا : ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ الی قولہ قریب۔] البقرۃ : 214[ جب لشکر آگئے وہ مضطرب ہوئے اور سخت مرعوب ہوئے۔ قَالُوْا ھٰذَا مَاوَعَدنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (کہنے لگے یہ وہی ہے جس کی ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) نے سچ فرمایا) اور انہیں یقین ہوگیا کہ جنت و نصرت الٰہی دونوں ان کے لئے لازم کردی گئیں ہیں۔ قول ابن عباس ؓ : کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ لشکر تمہاری اس ماہ کے آخری نو دس راتوں میں پہنچنے والے ہیں جب اصحاب نے لشکروں کو دیکھا کہ وہ اس میعاد میں پہنچ گے ہیں تو انہوں نے یہ کہا ( قال الحافظ، لم اجدہٗ ) ھذا کا مشار الیہ بلاء و مصیبت اور آزمائش ہے۔ وَمَا زَادَھُمْ (اس میں جو کچھ انہوں نے لشکروں کا اجتماع دیکھا) اور ان کی آمد سنی اور اس سے ترقی ہوئی۔ اِلَّآ اِیْمَانًا ( ان کے ایمان میں) جو اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر تھا۔ وَّ تَسْلِیْمًا (اور اطاعت میں) اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور اس کی تقدیر پر۔
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار انہوں نے خدا سے کیا تھا اسکو سچ کر دکھایا تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا

نذر پوری کرنے والے : 23: مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ (ان مؤمنوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اس میں سچے اترے) اس بات میں جس میں انہوں نے اس سے عہد کیا تھا) حرف جار کو حذف کردیا گیا جیسا کہ اس مشہور مثال میں صدقنی سن بَکرِہٖ ای صدقنی عن سن بکرہٖ اور فعل کو اس کے ساتھ ملا دیا۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے قسم کھائی تھی کہ جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر قتال کا موقعہ ملے تو ثابت قدم رہیں گے اور اس وقت تک قتال کریں گے یہاں تک کہ شہید ہوجائیں گے ان کے نام یہ تھے عثمان بن عفان، طلحہ، سعد بن زید، حمزہ و مصعب وغیرہم۔ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ (پس ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے) یعنی شہادت پالی جیسے حمزہ، مصعب ؓ ۔ قضائے نحب : یہ موت کی تعبیر ہے کیونکہ ہر زندہ مرنے والا ہے کیونکہ وہ محدث ہے اس کے ذمہ جو نذر لازم تھی اس سے کنایہ کیا گیا ہے جب وہ مرگیا تو اس نے گویا اپنا حصہ پورا کردیا یعنی نذر کو۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ (اور ان میں سے کچھ منتظر ہیں) یعنی موت کے جیسے عثمان و، طلحہ ؓ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا (اور انہوں نے ذرا تغیر و تبدل نہیں کیا) اس عہد کو نہیں بدلا۔ نہ تو شہید کیے جانے کو اور نہ انتظار شہادت کو۔ اس میں ان لوگوں پر تعریض کی جنہوں نے عہد کو بدل دیا تھا اور جو دلوں کے بیمار تھے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے ولقد کانوا عاھدوا اللّٰہ من قبل لا یولون الا دبار ] الاحزاب : 15[
Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا (چاہے) تو ان پر مہربانی کرے بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

24: لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِھِمْ (تاکہ اللہ تعالیٰ سچے مسلمانوں کو ان کے سچ کا بدلہ دے) صدق سے مراد وعدئہ وفا ہے۔ وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآ ئَ (اور منافقوں کو چاہے سزا دے) جبکہ وہ توبہ نہ کریں۔ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ (یا ان کو توبہ کی توفیق دے) اگر وہ توبہ کریں۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا (بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں) قبولیت توبہ کے ذریعہ رَّحِیْمًا (رحم کرنے والے ہیں) غلطی معاف کر کے۔ نکتہ : یہاں منافقین کو اس طرح ذکر فرمایا گویا کہ انہوں نے برے انجام کا قصد کیا اور تبدیل عہد کر کے اس کا ارادہ کیا جیسا کہ سچے لوگوں نے وفاء عہد سے سچے انجام کا قصد کیا۔ کیونکہ ہر دو فریق سے ثواب و عقاب میں سے ایک انجام کو ہر صورت پہنچنا ہے گویا دونوں طلب میں برابر اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں بھی یکساں ہیں۔
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور جو کافر تھے ان کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے

کفار کی شکست : 25: وَرَدَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو واپس کردیا) کافروں سے یہاں لشکر مراد ہے۔ بِغَیْظِھِمْ ـ(ان کے غصہ سمیت ) ۔ نحو : یہ حال ہے ای مغیظین جیسا کہ اس ارشاد میں تنبت بالدھن ] المؤمنون : 20[ میں ہے۔ لَمْ یَنَا لُوْا خَیْرًا (ان کو کچھ بھی کامیابی نہ ملی) خیر سے یہاں غلبہ مراد ہے۔ یعنی مسلمانوں پر غلبہ نہ پاسکے۔ اس کو ان کے زعم کے مطابق خیر فرمایا۔ نحو : یہ حال ہے ای غیر ظافرین اس حال میں کہ وہ کامیاب ہونے والے نہ تھے۔ وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ (اور اللہ تعالیٰ مؤمنین کیلئے لڑائی میں کافی ہوگیا) ہوا اور ملائکہ کے ذریعہوَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا (اللہ تعالیٰ بڑی قوت والے بڑے زبردست ہیں) قدرت و غلبہ والے۔
Ayah 33:26

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو انکے قلعوں سے اتار دیا اور انکے دلوں میں دہشت ڈال دی تو کتنوں کو تم قتل کردیتے تھے اور کتنوں کو قید کرلیتے تھے

غزوئہ بنو قریظہ : 26: وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاھَرُوْھُمْ (اوراتار دیا ان لوگوں کو جنہوں نے ان کی مدد کی تھی) ان لشکروں کی معاونت کی۔ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ (اہل کتاب میں سے) یہود بنی قریظہ مراد ہیں۔ مِنْ صَیَاصِیْھِمْ (ان کے قلعوں سے) الصیصۃ کی جمع ہے بمعنی گڑھی، قلعہ، مکان حفاظت۔ روایت تفسیریہ میں ہے کہ جبرئیل امین (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس رات جس میں لشکر شکست کھا کر بھاگے اس کی صبح تشریف لائے۔ مسلمان مدینہ منورہ لوٹے۔ اور اپنے ہتھیار رکھ دیے جبرئیل (علیہ السلام) اپنے الحیزوم گھوڑے پر سوار تھے ان کے گھوڑے کی کاٹھی اور چہرے پر غبار تھا۔ آپ نے فرمایا جبرئیل یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا قریش کا پیچھا کرنے کی وجہ سے یہ غبار ہے رسول اللہ ﷺ ان کے گھوڑے کی پیشانی اور زمین سے غبار پوچھنے لگے اور عرض کیا یارسول اللہ ! فرشتوں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں رکھے اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجائیں۔ میں انہی کی طرف جا رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح کھٹکھٹا دیا ہے جیسے خود چٹان پر کھٹکھٹاتے ہیں۔ وہ تمہارے لئے لقمہ ہیں۔ لوگوں میں اعلان کردیں جو حکم ماننے والا فرمانبردار ہے وہ بنی قریظہ میں عصر کی نماز ادا کرے۔ آپ ﷺ نے پچیس راتیں ان کا محاصرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے حکم پر اتر آئو ! انہوں نے انکار کردیا۔ پھر فرمایا سعد بن معاذ کے حکم پر اتر آئو ! وہ اس پر رضا مند ہوگئے حضرت سعد بن معاذ نے کہا میں ان کے متعلق فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے مقاتلین کو قتل کردیا جائے اور ان کی اولاد و نساء کو قیدی بنا لیا جائے۔ پھر ان کو اترنے کیلئے کہا گیا۔ مدینہ کے بازار میں ان کے لئے ایک خندق کھودی گئی جس میں ان کی گردنیں مار دیں گئیں۔ ان کی تعداد 800 سے 900 کے درمیان تھی۔ ایک قول : چھ سو مقاتل تھے اور سات سو قیدی تھے۔ (سیرت ابن ہشام 3/224) وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ (اور ان کے دلوں پر رعب طاری کردیا) الرعب سے مراد خوف ہے۔ قراءت : الرُعُبُ شامی وعلی نے عین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فَرِیْقًا (ایک فریق کو) تَقْتُلُوْنَ (تم قتل کرتے تھے) تقتلون کی وجہ سے فریقًا منصوب ہے۔ یہ مقتولین لڑنے والے مرد تھے۔ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًا (اور ایک گروہ کو قید کرتے تھے) یہ عورتیں اور بچے تھے۔
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور انکی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنادیا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

امتنانِ فتح : 27: وَاَوْرَثَکُمْ اَرْضَھُمْ وَ دِیَارَ ھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ (اور تمہیں ان کی زمینوں، گھروں اور مالوں کا وارث بنادیا) اموال سے مراد نقدی، مویشی اور اثاثہ تھا۔ روایت تفسیریہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی زمین صرف مہاجرین کو عنایت فرمائی اور انصار کو فرمایا تم اپنے گھروں میں ہو (واقدی) وَاَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْھَا (اور ایسی زمین کا جس پر تم نے قدم بھی نہ رکھا) لڑائی کی غرض سے اور وہ سرزمین نمبر 1۔ مکہ نمبر 2۔ یا فارس و روم نمبر 3۔ یا خیبر یا نمبر 4۔ ہر وہ زمین جو قیامت تک مسلمان فتح کریں گے مراد ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت والے ہیں) قدیربمعنی قادر ہے۔
Ayah 33:28

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح رخصت کردوں

طلب ِخوشی کا جواب : 28: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا (اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں سے فرمادیں۔ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی بہار چاہتی ہو) یعنی خوشحالی اور کثرت ِاموال فَتَعَالَیْنَ (تو آئو) ۔ یہ اصل میں تعال ہے۔ جو کسی بلند جگہ میں ہو اس کو نچلی جگہ والا بلانے کے لئے کہتا ہے پھر اس کا استعمال عام ہو کر اونچی، نیچی تمام جگہوں کیلئے ہونے لگا تعالین ؔ کا معنی اپنے ارادہ اور اختیار سے ایک امر کا چنائو کرلو۔ اس سے مراد جگہ سے اٹھ کرجانا نہیں ہے۔ جیسا کہ اس قول میں ہے قام یُھَدِّدُنِیْ (وہ مجھے دھمکانے لگا) ۔ اُمَتِّعْکُنَّ (میں تمہیں کچھ متاع دے دوں) متعہ طلاق مراد ہے۔ اور یہ متعہ طلاق ہر مطلقہ کیلئے مستحب ہے۔ سوائے اس عورت کے جو طلاق سے قبل اپنا حق تفویض کردے۔ یہ آیت تخییر ہے : وَاُسَرِّحْکُنَّ (اور تمہیں رخصت کر دوں) طلاق دے کر رخصت کرنا مراد ہے۔ سَرَاحًا جَمِیْلًا (اچھی طرح رخصت کرنا) دنیا کی جو چیز کپڑے، خرچہ میں اضافہ و تبدیلی اس میں کمی نہ کی جائے گی۔ آپ ﷺ اس بات سے غمزدہ ہوئے۔ پس یہ آیت تخییر نازل ہوئی۔ پس آپ نے حضرت عائشہ ؓ سے ابتداء کی یہ آپ کی سب سے زیادہ محبوب بیوی تھیں۔ ان پر جب آپ نے آیت تخییر پڑھی تو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کیا۔ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے غم کا بادل چھٹ کر چاند کی چمک آگئی۔ پھر تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرلیا۔ جیسے عائشہ ؓ نے کیا۔ روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے عائشہ ؓ کو فرمایا میں تمہیں ایک بات کہنے والا ہوں۔ تم اپنے والدین کے مشورہ کے بغیر اس کا جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ پھر ان کے سامنے قرآن مجید کی یہ آیات پڑھیں تو حضرت عائشہ ؓ نے آیات سننے کے بعد کہا کیا اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں۔ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت والے گھر کو پسند کرتی ہوں۔ ] رواہ البخاری : 4785: مسلم 1475[۔ تخییر کا حکم : طلاق کے سلسلہ میں تخییر کا حکم یہ ہے کہ جب اس نے اپنی بیوی کو کہا اختاری بیوی نے کہا اخترت نفسی۔ ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی۔ علی ؓ فرماتے ہیں۔ اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو اس کو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی اور اگر اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی۔
Ayah 33:29

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں ان کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

29: وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ (اور اگر تم اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول اور آخرت والے گھر کو چاہتی ہو) ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (پس اللہ تعالیٰ نے نیک کرداروں کیلئے تم میں سے اجر عظیم تیار کررکھا ہے) ۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول اللہ کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی اس کو دونی سزا دی جائے گی اور یہ بات خدا کو آسان ہے

معصیت کی قباحت کا بڑھنا ‘ زیادتی فضل کو ظاہر کرتا ہے : 30: یٰنِسَآ ئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ (اے ازواج نبی اکرم ﷺ جو تم میں سے کھلی ہوئی بےہودگی کرے گی) ۔ فاحشۃؔ (انتہائی قبیح برائی) ۔ مُّبَیِّنَۃٍ (جس کا فحش ظاہر ہو) یہ بَیَّنَ بمعنی تبیَّن ہے۔ قراءت : مکی، ابوبکر نے فتحہ یامُبَیَّنَۃٍ پڑھا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد ازواج مطہرات۔ کا رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور حکم عدولی کرنا مراد ہے۔ قول دیگر زنا مراد ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول اللہ ﷺ کو اس سے معصوم رکھنے والے ہیں۔ یُّضٰعَفْ لَھَا الْعَذَابُ (اس کو دوہری سزا دی جائے گی) قراءت : مکی وشامی نے یُضَعِّفْ لھا العذاب پڑھا ہے۔ جبکہ ابو عمرو، زید، یعقوب نے یُضَعَّف پڑھا ہے۔ ضِعْفَیْنِ (دوگنا) دوسری عورتوں کے مقابلہ میں دوگنی سزا کیونکہ جو دوسری عورتوں کیلئے قبیح ہے تو وہ ان کے لئے اقبح ہے۔ معصیت کی قباحت کا بڑھنا یہ زیادتی فضل کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی اور عورت کو ازواج النبی ﷺ جیسی فضیلت حاصل نہیں۔ اسی وجہ سے تو عالم عاصی جاہل عاصی کی نسبت زیادہ قابل مذمت ہے۔ کیونکہ عالم کی معصیت قبیح تر ہے۔ اور اسی لئے غلاموں کے مقابلہ میں احرار کی حد زیادہ ہے اور کافر کو رجم نہ کیا جائے گا۔ وَکَانَ ذٰلِکَ (اور یہ ان پر سزا کا دوگنا ہوجانا ) ۔ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا (اللہ تعالیٰ کو یہ بات آسان ہے) آسان معمولی۔
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے خدا اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل نیک کرے گی اس کو ہم دونا ثواب دیں گے اور اسکے لئے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے

اطاعت گزار کو دوگنا بدلہ : 31: وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (اور جو کوئی تم میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری کرے گی) الاقنوت۔ اطاعت کو کہتے ہیں۔ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَآ اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ (اور نیک عمل کرے گی ہم اس کو اس کا اجر دو مرتبہ دیں گے) دوسروں کے مقابلے میں دوگنا ثواب۔ وَاَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا (اور ہم نے اس کے لئے عزت والی روزی تیار کر رکھی ہے) قراءت : حمزہ، علی نے دونوں میں یاء پڑھی ہے۔ رزق کریم سے مراد عظیم الشان رزق ہے اور وہ جنت ہے۔