33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ کی بیویو ! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (کسی اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی امید (نہ) پیدا کرے اور دستور کے مطابق بات کیا کرو

کوئی جماعت ِنساء تمہارے برابر نہیں : 32: یٰنِسَآ ئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآ ئِ (اے نبی ﷺ کی ازواج تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو) یعنی تم عورتوں کی جماعتوں میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہو۔ جب عورتوں کی تمام جماعتوں کی ایک جماعت کر کے پڑتال کی جائے تو کوئی ایک جماعت بھی تمہاری فضیلت میں برابری کرنے والی نہ ملے گی۔ اَحَدٌ اصل میں وَحَدٌ ہے اور وہ ایک کو کہتے ہیں پھر نفی عام کیلئے اس کو وضع کیا گیا اس میں مذکر و مؤنث اور واحد اور اس کے ماوراء کو برابر قرار دیا گیا۔ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ (اگر تم تقویٰ اختیار کرو) اگر تم تقوی کا ارادہ کرو۔ نمبر 2۔ اگر تم متقی ہو۔ فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ (تو تم بولنے میں نزاکت مت کرو) یعنی جب تم مردوں سے پردے میں بات کرو تو بولنے میں نرم اور چبا چبا کر باتیں مت کرو جیسے امید دلانے والی عورتیں کلام کرتی ہیں۔ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ (ایسے شخص کو طمع اور خیال ہونے لگتا ہے۔ جس کے دل میں خرابی ہے) ۔ فیطمعَ کو نصب کی صورت میں نہی کا جواب بنائیں گے۔ مرضؔ سے شک اور فجور مراد ہے۔ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (اور تم قاعدہ کے موافق بات کہو) ۔ اچھی بات ہو باوجودیکہ انداز درشت ہو۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے

33: وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی ( اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو۔ اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو) ۔ قراءت : مدنی اور عاصم سوائے ہبیرہ کے قَرْنَ پڑھتے ہیں۔ صرف : یہ اصل میں اِقْرَرْنَ تھا ایک راء کو تخفیف کیلئے حذف کردیا۔ اور اس کا فتحہ ماقبل کو دے دیا۔ یا یہ قار یقار سے ہے جس کا معنی جمع ہونا آتا ہے۔ دیگر تمام قراء نے قرن پڑھا اور اس کو وقر وقارًا سے یا قر ّیقرّ سے قرار دیا پہلی راء کو تکرار کی وجہ سے حذف کردیا ای اقررن قرارًا اور کسرہ قاف کو دے دیا۔ قراءت : فی بُیُوتکن میں باء کا ضمہ بصری، مدنی، حفص نے پڑھا ہے۔ جاہلیت اولی سے قدیم جاہلیت اور التبرج سے مراد چلنے میں نزاکت و نخرہ یا اظہار زینت۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی۔ لا تبرجن تبرجًا مثل تبرج النساء فی الجاھلیۃ الاولی۔ قدیم زمانہ جاہلیت میں جیسے عورتیں اظہار زینت کر کے نکلتیں تھیں تم اس طرح زینت کر کے مت نکلو۔ جاہلیت ِاولیٰ : اس سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں ابراہیم (علیہ السلام) پیدا ہوئے نمبر 2۔ آدم و نوح (علیہما السلام) کا درمیانی زمانہ، نمبر 2۔ زمن دائود و سلیمان علیہما السلام۔ جاہلیت اخریٰ : عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان والا زمانہ نمبر 2۔ جاہلیت اولی سے اسلام سے قبل کفرکا زمانہ اور جاہلیت اخری اسلام میں فسق و فجوروالی جاہلیت۔ وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃِ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مانو) نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے ہوئے امر کا الگ الگ صیغہ استعمال فرمایا پھر دیگرتمام طاعات کیلئے ایک ہی صیغہ امر استعمال فرمایا۔ اس سے ان دونوں کی تمام احکام پر عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ جو ان پر مواظبت اختیار کرنے والا ہے۔ یہ دونوں اس کو دوسرے احکام کی تعمیل کی طرف کھینچ لے جانے والی ہیں۔ ترغیب اور گناہوں سے نفرت دلانے کا انداز : اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ (اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے گھروالو ! تم سے آلودگی کو دور رکھے) الرجس سے الاثم یعنی گناہ مراد ہے۔ نحو : اھل البیت یہ نداء کی وجہ سے منصوب ہے یا مدح کی بناء پر منصوب ہے۔ دلیل : اس میں دلیل ہے کہ آپ کی ازواج آپ کے اہل بیت سے ہیں۔ عنکمؔ کی ضمیر مذکر لائے۔ کیونکہ اس سے آپ کی آل کے مردو عورتیں دونوں مراد ہیں۔ وَیُطَھِّرَ کُمْ تَطْھِیْرًا (اور وہ تمہیں پاک صاف رکھے۔ ) گناہوں کی نجاست سے۔ اس سے واضح ہوا کہ آپ نے ازواج کو بعض باتوں کا حکم دیا اور بعض سے روکا۔ اور ان کو نصیحت کی تاکہ اہل بیت رسول ﷺ گناہوں کا ارتکاب نہ کریں اور تقوی کے ذریعہ اس سے اپنے کو بچائیں۔ گناہوں کیلئے بطور استعارہ الرجسؔ کا لفظ استعمال کیا اور تقوی کیلئے تطھیرؔ کا کیونکہ قباحت کے مقامات پر ارتکاب کرنے والے کا اپنے کو پیش کرنا اس کو اسی طرح ملوث کردیتا ہے جیسا کہ گندگیوں سے اس کا بدن پلید ہوجاتا ہے۔ باقی رہے نیکیوں کے مقامات تو ان پر آپ کو پیش کرنے سے پاک کپڑے کی طرح انسان پاک رہتا ہے۔ اس میں عقلمندوں کو گناہوں سے نفرت دلائی اور اوامر کی ترغیب دی ہے۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو بیشک خدا باریک بین اور باخبر ہے

34: وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ ٰایٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ (اور تم یاد رکھو ان آیات الٰہیہ اور علم کی باتوں کو جن کا تمہارے گھروں میں چرچا رہتا ہے) آیات سے مراد قرآن اور حکمت سے سنت مراد ہے۔ یا حکمت سے معانی قرآن کی وضاحت۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا (بیشک اللہ تعالیٰ راز داں ہے) وہ اشیاء کی گہرائیوں کو جاننے والا ہے۔ خَبِیْرًا (خبردار ہے) اشیاء کے حقائق سے واقف ہے مطلب یہ ہے وہ تمہارے افعال و اقوال اور احوال کو جاننے والا ہے۔ امرونہی کی مخالفت سے بچتی رہو اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرو۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں کچھ شک نہیں کہ انکے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

35: : نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے متعلق یہ فضائل والی آیات اتریں تو امت کی عورتوں نے کہا ہمارے متعلق تو فضیلت کی کوئی آیت نہیں اتری۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ امت کی عورتوں کے فضائل : اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ (بیشک مسلمان مردو عورتیں) المسلمؔ جو لڑائی کے بعد صلح میں داخل ہو۔ ایسے مطیع کو کہتے ہیں جو سرکشی نہ کرے۔ نمبر 2۔ اپنا آپ جو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے۔ اور اسی پر بھروسہ کرنے والا ہو۔ جیسا اس آیت میں ہے : من اسلم وجھہ للہ۔ وَالْمُؤْمِنِیْنَ (اور مؤمن) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تصدیق کرنے والے اور وہ باتیں جن کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقٰنِتِیْنَ (اور مومنہ عورتیں اور فرمانبرداری کرنے والے مرد) جو طاعت پر قائم رہنے والے ہیں۔ وَالْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ (اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں اور سچ بولنے والے مرد) منہیات میں اور اقوال و اعمال میں سچ۔ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ (اور سچ بولنے والی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں) طاعات پر جمے رہنے والے اور سیئات سے گریزاں۔ وَالْخٰشِعِیْنَ (اور خشوع اختیار کرنے والے مرد) الخاشع وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کیلئے دل اور جوارح سے تواضع کرنے والا ہو۔ یا خائفین مراد ہے۔ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ ( اور خشوع کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں) خواہ صدقہ فرضی ہو یا نفلی وَالصَّآپمِیْنَ وَالصّٰپمٰتِ (اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں) فرضی ہو یا نفلی ایک قول یہ ہے کہ جس نے ایک ہفتہ میں ایک درہم صدقہ کیا وہ متصدقین میں شمار ہوجائے گا اور جس نے ہر ماہ ایام بیض کے روزے رکھے وہ الصائمین میں شمار ہوگا۔ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ (اور وہ مردجو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں) ۔ ان مقامات سے جو حلال نہیں۔ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا ( اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والیاں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرنے والے مرد) تسبیح وتحمید اور تکبیر وتہلیل اور قراءت ِ قرآن مجید، علم میں مشغولیت کے ذریعہ۔ علم میں مشغولیت یہ بھی ذکر ہے۔ عطف کے فرق کا لطیفہ : مطلب یہاں یہی ہے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والیاں اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والیاں۔ مگر الذاکرات کو ماقبل کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا۔ اور مؤنثات کے مذکروں پر عطف اور جوڑے کے جوڑے پر عطف میں فرق یہ ہے کہ اول دوسرے قول کی نظیر ہے ثیبات وابکارًا۔ ] التحریم : 5[ یہ دونوں مختلف جنسیں ہیں مگر حکم ایک ہے اس لئے ان کے درمیان حرف عطف لانے کے بغیر چارہ کار نہ تھا۔ مگر دوسرا وہ عطف الصفۃ علی الصفۃ بحرف الجمع کے قبیل سے ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مرد ان صفات کو اپنے اندر جمع کرنے والے اور جو عورتیں اپنے میں یہ صفات جمع کرنے والیاں ہیں۔ وَّ الذّٰکِرٰتِ (اور بہت یاد کرنے والی عورتیں) ۔ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (ان سب کیلئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے) جو ان کی طاعات پر ان کو ملے گا۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

36: : رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہ کے نکاح کا پیغام اپنی پھوپھی زاد زینب بنت حجش کو بھیجا۔ ان کے بھائی عبداللہ بن حجش نے انکار کیا تو یہ نازل ہوئی۔ وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ (کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کے لئے گنجائش نہیں) یعنی کسی مومن و مومنہ کیلئے درست نہیں۔ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَمْرًا (جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے دیں) کاموں میں سے کسی کام کا۔ اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ (کہ ان کو ان کے اس کام میں کوئی اختیار رہے) کہ وہ اس معاملہ میں جس بات کا چاہیں چنائوکریں بلکہ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی رائے کو رسول ﷺ کی رائے کے تابع بنادیں اور اپنے اختیار کو آپ کے اختیار کے ماتحت کردیں۔ ان دونوں نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم راضی ہیں۔ پھر زینب ؓ کا نکاح حضرت زید سے کردیا۔ اور زید کی طرف سے ان کی طرف مہر روانہ کردیا گیا۔ وجہ ضمیر : لھمؔ میں ضمیر جمع لائی گئی حالانکہ ضمیر مفرد کی آنی چاہیے۔ کیونکہ مذکورین نفی کے تحت وارد ہوئے۔ پس حکم ہر مومن و مومنہ کے لئے عام ہوگیا پھر معنی کا لحاظ کرتے ہوئے ضمیر جمع لائی گئی لفظ ظاہر کا اعتبار نہ رہا۔ قراءت : یکونؔ یاء ؔ کے ساتھ کوفی نے پڑھا ہے اور تکونؔ تاء کی قراءت ابن کثیر، نافع، ابن عامر، ابو جعفر وغیرہ دیگرقراء کی ہے۔ الخیرۃؔ : وہ چیز جس کو چنا اور پسند کیا جائے۔ فائدہ : اس سے یہ معلوم ہوا کہ امر و جوب کیلئے آتا ہے۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا (اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا) معصیت دو قسم کی ہے اگر یہ عصیان قبولیت سے انکار اور حکم کو مسترد کرنے والا ہے تو یہ کفرو ضلال ہے اور اگر فعلی عصیان ہے مگر حکم کو قبول کرلیا اور حکم لازم ہونے کا اعتقاد ہے۔ تو یہ فسق و فجور اور گناہ کبیرہ ہے۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے انکے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے (اپنی) حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا

حضرت زید ؓ کا تذکرہ : 37: وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ (اور جب آپ فرما رہے تھے اس کو جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا) اسلام کی توفیق دی جو سب سے اعلیٰ نعمت ہے۔ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ (اور آپ نے انعام کیا) اس کو آزاد فرما کر متبنّیٰ بنا لیا۔ گویا وہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے انعامات میں کروٹ بدلنے والا ہے مراد اس سے زید بن حارثہ ہیں۔ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ (اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے) زوجؔ سے مراد یہاں زینب بنت جحش ہیں۔ اور واقعہ اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زید سے نکاح کے بعد ان کو دیکھا تو اچھی معلوم ہوئیں آپ نے فرمایا سبحان اللہ مقلب القلوب اس سے قبل آپ کے دل کا میلان قطعاً نہ تھا زینب ؓ نے یہ تسبیح سنی اور زید سے اس کا تذکرہ کیا۔ زید سمجھ گئے۔ (یہ کلام مفسر مرحوم نے معلوم نہیں کہاں سے نقل کیا۔ یہ منصب نبوت کے خلاف اور باطل ہے۔ آپ کو ان کے نکاح سے کوئی چیز مانع نہ تھی زید کے ساتھ نکاح آپ نے خود کیا تھا) اللہ تعالیٰ نے زید کے دل میں زینب سے نفرت اور اعراض ڈال دیا۔ زید ؓ نے ایک دن حاضر خدمت ہو کر کہا میں اپنی بیوی کو چھوڑنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ کیا اس کے کسی معاملے میں شک معلوم ہوا ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ! اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے اس سے سوائے خیر کے اور کچھ نہیں دیکھا۔ مگر وہ اپنے شرافت نسبی کی وجہ سے مجھ پر بڑائی ظاہر کرتی ہے اور مجھے ایذاء پہنچاتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں برقرار رکھ۔ وَاتَّقِ اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈر) نمبر 1۔ اور اس کو طلاق نہ دے ‘ یہ نہی تنز یہی ہے کیونکہ اولی بات یہ تھی کہ وہ طلاق نہ دیں۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور تکبر و بڑائی کی طرف نسبت کر کے اس کی مذمت نہ کرو اور خاوند کو ایذاء دینے والی بات اس کے ذمہ مت لگا۔ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ (اور آپ اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا) یعنی اپنے دل میں ان کے ساتھ نکاح کی بات اگر زید طلاق دے دیں۔ اور یہی وہ بات ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔ ایک قول : یہ ہے آپ کے دل میں اس کی طرف میلان اور زید سے ان کی جدائی کی پسندیدگی یہ وہ بات تھی کہ جس کو آپ دل میں چھپائے تھے۔ (اس دوسرے قول بلا دلیل کے متعلق عرض یہ ہے کہ تخفی فی نفسک سے اگر محبت و میلان مراد ہے تو ما اللہ مبدیہ کے وعدہ کا ایفاء کہاں اور کس آیت میں ہے۔ حالانکہ آیت تو صاف زوجنکھا ؔ ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہی آپ قلب اطہر میں چھپائے ہوئے تھے۔ کہ اگر زید نے طلاق دے دی تو مجھے زینب سے نکاح کرنا پڑے گا۔ اس کے بغیر زینب اور اس کے بھائیوں کی اشک شوئی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ طبعاً کراہت کے باوجود اطاعت رسول کی خاطر انہوں نے نکاح کردیا تھا۔ (مترجم انظر البیان) وتخفی فی نفسک میں وائو حالیہ ہے۔ وَتَخْشَی النَّاسَ (اور آپ لوگوں سے اندیشہ کرتے تھے) یعنی لوگوں کی اس بات سے کہ اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ ( جو جاہلیت عرب میں حقیقی بہو کی طرح ناجائز سمجھا جاتا تھا) وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ (اور ڈرنا تو آپ کو اللہ تعالیٰ ہی سے زیادہ سزاوار ہے) نحو : وائو حالیہ ہے مطلب یہ ہے امسک علیک زوجک مخفیافی نفسک ارادۃ الاّ یمسکھا وتخفی خاشیا قالۃ الناس و تخشی الناس حقیقًا فی ذلک بان تخشی اللہ ( یہ مفسر (رح) کا قول محتاج دلیل ہے) مترجم۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ وحی میں سے کوئی چیز چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے ( جب اس کو بھی نہیں چھپایا تو کسی چیز کو نہیں چھپایا) فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌمِّنْھَا وَطَرًا (پھر جب زید کا اس سے جی بھر گیا) الوطرؔ حاجت و ضرورت جب کوئی شخص کسی چیز سے متعلق اپنی مقصودی ضرورت کو پالے تو اس وقت کہتے ہیں قضی منہ وطرہٗ مطلب یہ ہے کہ جب زینب کے متعلق زید کی کوئی ضرورت نہ رہی اور زید ؓ کی ہمت نے جواب دے دیا۔ اور اس کو طلاق دے دی اور زینب ؓ کی عدت ختم ہوگئی۔ زَوَّجْنٰکَھَا (ہم نے آپ سے اس کا نکاح کردیا) روایت تفسیر یہ میں ہے کہ جب ان کی عدت مکمل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے زید ؓ کو فرمایا مجھے تم پر سب سے بڑھ کر اعتماد ہے زینب ؓ کو میری طرف سے پیغام نکاح دو ۔ زید ؓ کہتے ہیں میں چل دیا اور میں نے آواز دے کر کہا : یا زینب أبشری ! رسول اللہ ﷺ تمہیں نکاح کا پیغام دیتے ہیں۔ زینب اس پر خوش ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا اور اس سے شب باشی فرمائی۔ اور جو ولیمہ ان کے نکاح پر کیا وہ اور کسی بیوی کے نکاح پر نہیں کیا۔ آپ نے ایک بکری ذبح فرمائی اور لوگوں کو روٹی و گوشت کھلایا یہانتک کہ آدھا دن گزر گیا۔ (ابو یعلی بغیر سند) لِکَیْ لَایَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآپھِمْ (تاکہ مؤمنوں سے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ ہو) اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا (رہے جب وہ ان سے اپنا جی بھر چکیں) ایک قول یہ ہے کہ قضائے وطر ؔ حاجت کا پانا لینا اور مراد کو پہنچنا۔ وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کا حکم) جس کے متعلق وہ چاہتے ہیں کہ وجود میں آئے۔ مَفْعُوْلاً (ہونے والا تھا) ہر صورت میں پورا ہونے والا تھا۔ اور یہ مثال ہے اس کی جو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ زینب کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے ہو کر رہے گا۔
Ayah 33:38

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

پیغمبر ﷺ پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے انکے لئے مقرر کردیا اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے اور خدا کا حکم ٹھہر چکا تھا

حلال کے استعمال میں پیغمبر ﷺ کو کیا قباحت : 38: مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ (اور نبی اکرم ﷺ پر کوئی الزام نہیں اس بات میں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کردی) فرض اللہ ؔ سے مراد جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کیا اور اس کا حکم دیا اور وہ زید ؓ کی بیوی زینب ؓ سے نکاح تھا۔ نمبر 2۔ جو عورتوں کی تعداد آپ کے لئے مقرر کردی تھی۔ سُنَّۃَ اللّٰہِ (اللہ عزوجل کا طریقہ) اور اللہ تعالیٰ نے یہی معمول بنا رکھا ہے) سنۃ یہ اسم ہے جس کو مصدر کی جگہ رکھا گیا ہے جیسے کہتے ہیں : تربًا وجندلًا، یہ ماکان علی النبی من حرج کی تاکید ہے۔ گویا تقدیر کلام اس طرح ہے سن اللہ ذلک سنۃ فی الانبیاء الماضین اللہ تعالیٰ نے انبیائے ماضین میں یہی طریقہ مقرر فرما رکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مباح کام کے کر گزرنے میں ان پر کوئی پابندی نہیں اور نکاح وغیرہ میں ان پر وسعت کی گئی۔ کہ ان کے حرم میں آزاد اور باندیاں دونوں ہی تھیں۔ دائودعلیہ السلام کی ایک سو بیویاں اور تین سو باندیاں تھیں اور سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو آزاد عورتیں چھ سو باندیاں تھیں۔ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ (ان کے حق میں جو پہلے گزرے) وہ انبیاء (علیہم السلام) جو آپ سے قبل گزرے۔ وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا (اور اللہ تعالیٰ کا حکم تجویز کردہ ہوتا ہے) فیصلہ شدہ، قطعی طے شدہ۔ قراءت و نحو : اس پر اس صورت میں وقف نہ کیا جائے گا جبکہ الذین یبلغون کو اول الذین سے بدل بنایا جائے۔ اور اگر تم اس کو محل رفع میں قرار دو ۔ تو اس پر وقف کریں گے اور الذین یبلغون سے کلام ابتدائی ہو۔
Ayah 33:39

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(اور) جو خدا کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور خدا کے سواء کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور خدا ہی حساب کرنے کو کافی ہے

39: الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ (یہ سب لوگ ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات کو پہنچایا کرتے تھے) نحو : اول الذین سے بدل ہے نمبر 2۔ محل رفع میں کلام ابتدائی نمبر 3۔ مدح کی وجہ سے منصوب اے ھم الذین یبلغون نمبر 4۔ اعنی الذین یبلغون۔ وَیَخْشَوْنَہٗ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے) اس آیت میں انبیاء (علیہم السلام) کا وصف یہ بیان کیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرتے ہیں۔ یہ تصریح کے بعد تعریض ہے و تخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) اب اس آیت کے پیش نظر تخشی الناس کا معنی لیا جائے گا جو آپ کے مناسب ہوگا فافہم و تدبر) وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا (اور اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے) ہر مقام خوف کیلئے کافی ہے نمبر 2۔ صغیرہ اور کبیرہ پر محاسبہ کرنے والا ہے۔ وہی اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا : 40: مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّ جَالِکُمْ (محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں) حقیقتاً تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں کہ جس کی بنیاد پر آپ کے اور اس بیٹے کے درمیان حرمت مہرو نکاح ثابت ہوسکے۔ الرجالؔ سے بالغ اولاد مراد ہے اور حسن و حسین تو اس وقت بالغ نہ تھے ( یہ تو نواسے ہیں جو حکماً اولاد میں شامل ہوتے ہیں) طاہر و طیب وقاسم، ابراھیم ؓ بچپن میں فوت ہوگئے۔ وَلٰـکِنْ (لیکن وہ ہیں) رَّسُوْلَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں) ہر رسول اپنی امت کا باپ ہوتا ہے ان باتوں کے لحاظ سے جو ان کی توقیر و تعظیم کو امت میں لازم کرنے والی ہوں اور اسی طرح جو باتیں مشقت و نصیحت کو امت کے حق میں لازم کرنے والی ہوں۔ تمام احکام میں نہیں جو کہ ابناء و آباء کے درمیان ثابت ہوتے ہیں۔ اور زید تمہارے مردوں میں سے ایک ہیں وہ آپ کی حقیقی اولاد نہیں ہے۔ اس کا حکم تمہاری طرح ہے اور بیٹا بنا لینا اس سے اختصاص و تقرب حاصل ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔ وَخَاتَمَ النَّبِییِّٖنَ (اور سب نبیوں کے لئے خاتم ہیں) قراءت : خاتم تاء کے فتحہ سے عاصم نے پڑھا ہے اس کا معنی طابع یعنی ان سے آخر۔ مطلب یہ ہے آپ ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر بنایا نہ جائے گا اور عیسیٰ (علیہ السلام) تو ان میں سے ہیں جن کو نبوت پہلے دی جاچکی اور جب وہ اتریں گے تو شریعت محمد ﷺ پر عامل ہونگے گویا کہ وہ آپ کی امت کے ایک فرد ہیں۔ دیگرقراء نے تاء کے کسرہ کے ساتھ بمعنی طابع ہے ختم کرنے والے۔ اور ابن مسعود ؓ کی قراءت اس کی تائید کرتی ہے۔ ولٰکن نبیًا ختم النبین۔ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں) ۔
Ayah 33:41

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو

41: یٰٓـاَ یُّھَاالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو) قسم قسم کی ثناء کثرت کے ساتھ کرو۔
Ayah 33:42

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو

42: وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً (اور اس کی تسبیح کرو صبح) بُکرۃ دن کے ابتدائی حصہ کو کہتے ہیں۔ وَّ اَصِیْلًا (اور دن کے آخر میں) کثرت ذکر کا حکم ‘ وجہ تخصیص : ان دو اوقات کو ذکر کیلئے خاص کیا کیونکہ دن رات کے فرشتے ان دو اوقات میں جمع ہوتے ہیں۔ قولِ قتادہ m : سجواکا معنی یہ ہے کہ تم سبحان اللہ، والحمد اللّٰہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھو۔ دونوں فعل اذکروا اور سبحوا اوقات بکرہ اور اصیل کی طرف متوجہ ہیں۔ جیسا کہ کہتے ہیں۔ صم و صل یوم الجمعۃ اور تسبیح یہ منجملہ اذکار میں سے ہے تمام اقسام ذکر میں سے ان دو انواع کو خاص کرنا اسی طرح ہے جیسا کہ جبرئیل و میکائیل (علیہما السلام) کو تمام فرشتوں میں سے خاص کرنا۔ تاکہ تمام اذکار پر ان کی فضیلت ظاہر ہوجائے کیونکہ اس کا معنی اس کی ذات کو ایسی صفات سے پاک قرار دینا جو اس کی ذات کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ذکر اور کثرت ذکر سے مراد کثرت طاعات و عبادات ہوں۔ کیونکہ وہ بھی منجملہ ذکر میں سے ہے پھر اس میں سے تسبیح کو (بکرہ) صبح کیلئے خاص کیا وہ صلوٰۃ الفجر ہے اور اصیلًا کو خاص کیا یہ نماز ظہر ‘ عصر ‘ مغرب ‘ عشاء ہیں یا صلوٰۃ فجر اور مغرب و عشاء مراد ہیں۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اسکے فرشتے بھی تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور خدا مومنوں پر مہربان ہے

صلوٰۃ کا مطلب : 43: ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عََلَیْکُمْ وَمَلٰٓپکَتُہٗ (وہ وہی ذات ہے جو کہ تم پر رحمتیں بھیجتی ہے اور اس کے فرشتے) مصلی کی جب یہ حالت ہے کہ وہ اپنے رکوع اور سجدہ میں متوجہ ہوا ہے۔ تو دوسرے پر شفقت و نرمی کے ساتھ متوجہ ہونے والے کیلئے بطور استعارہ استعمال ہونے لگا۔ جیسا کہ مریض کی عیادت کرنے والا مریض پر شفقت میں اور عورت اپنے بیٹے پر شفقت کرتی ہے پھر اس کا استعمال کثرت سے رحمت و مہربانی میں ہونے لگا اور اسی معنی میں عرب کا یہ قول ہے : صلی اللہ علیک یعنی تم پر رحم فرمائے اور مہربانی فرمائے۔ صلاۃِؔ ملائکہ : سے مراد ملائکہ کا یہ قول ہے : اللھم صل علی المؤمنین کیونکہ وہ مستجاب الدعوات ہیں اس لئے ان کو اس طرح قرار دیا گیا گویا کہ وہ رحمت و مہربانی کرنے والے ہیں مطلب یہ ہے وہی ذات ہے جو تم پر رحم فرماتا اور مہربانی کرتا ہے اس طرح کہ وہ تمہیں خیر کی طرف بلاتا ہے اور تمہیں کثرت ِذکرکا حکم دیتا ہے۔ اور وافر مقدار میں صلاۃ وطاعت کا حکم دیتا ہے۔ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے) معصیت کے اندھیروں سے نور اطاعت کی طرف وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا (اور وہ مؤمنوں پر زیادہ مہربان ہے) ۔ : آیت کا یہ حصہ دلیل ہے کہ صلاۃ سے مراد رحمت ہے روایت میں ہے کہ جب آیت : ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی ] الاحزاب : 56[ نازل ہوئی تو ابوبکر ؓ نے کہا یارسول اللہ اللہ تعالیٰ نے جس شرف کے ساتھ بھی آپ کو خاص کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں حصہ دار اور شریک ضرور بنایا ہے پس یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے انکا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے

44: تَحِیَّتُہُمْ (ان کا سلام) یہ اضافت مصدرالیٰ المفعول کی قسم میں سے ہے۔ ای تحیۃ اللہ لکم۔ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ (جس دن وہ اس کو ملیں گے) اس کو دیکھیں گے۔ سَلٰمٌ (اللہ تعالیٰ السلام علیکم فرمائیں گے) وَاَعَدَّلَھُمْ اَجْرًا کَرِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اجر کریم تیار کر رکھا ہے) اجر کریم یعنی جنت۔
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

پیغمبر ﷺ کے اوصاف خمسہ : 45: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا (اے نبی (ﷺ) ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بناکر بھیجا کہ آپ شاہد ہونگے) ان پر جن کی طرف آپ مبعوث ہوئے اور ان کی تصدیق و تکذیب پر یعنی آپ کا قول ان کے متعلق خواہ حق میں ہو یا خلاف قبول کیا جائے گا۔ جیسا کہ شاہد عادل کا قول فیصلہ میں قبول کیا جائے گا۔ نحو : یہ حال مقدرہ ہے جیسا تم کہو مررت برجل معہ صقر صائدا بہ غدا ای مقدرًا بہٖ الصید غدًا۔ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا جس کے پاس باز ہے۔ اس حال میں کہ وہ اس سے صبح شکار کرنے والا ہے یعنی اسکے مقدر کیا گیا ہے شکار کو کل وَّ مُبَشِّرًا ( اور خوشخبری دینے والے ہیں) ایمان والوں کو جنت کی۔ وَّ نَذِیْرًا (اور وہ کافروں کو آگ سے ڈرانے والے ہیں) ۔
Ayah 33:46

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن

46: وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ (اور دعوت دینے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے حکم سے) اس کے امر سے یا اس کے میسر کردینے سے۔ نحو : تمام حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا (اور روشن چراغ ہیں) آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ظلمات شرک کو روشن کردیا گمراہوں کو ہدایت ملی جیسا کہ رات کے اندھیرے روشن سورج سے روشن ہوجاتے ہیں۔ اور روشنی سے راستہ پایا جاتا ہے۔ قول جمہور کہ سراج منیر سے مراد قرآن مجید ہے۔ اسکے مطابق تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ ذا سراج منیر اور سراج منیر کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ منیرؔ کی صفت سراج کیلئے لائی گئی کیونکہ جب دیئے کی بتی چھوٹی ہوجاتی اور تیل کم ہوجاتا ہے تو وہ روشنی نہیں دیتا۔ نمبر 2۔ شاہداًؔ کا معنی ہماری وحدانیت کی گواہی دینے والا مبشراًؔ (ہماری رحمت کی خوشخبری دینے والا) ۔ و نذیرا (ہمارے عذاب سے ڈرانے والا) وداعیا الی اللہ (ہماری عبادت کی طرف دعوت دینے والا) ۔ وسراجًا اور ہمارے وجود کی ظاہر دلیل )
Ayah 33:47

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہے

47: وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَضْلًا کَبِیْرًا (اور مؤمنین کو خوشخبری دے دیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے۔ ) فضل کبیر سے بڑا ثواب مراد ہے۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

48: وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ (اور آپ کافروں اور منافقوں کی اتباع مت کیجئے) اس سے مراد اس حالت پر برانگیختہ کرنا اور دوام و ثبات پیدا کرنا ہے جس میں آپ تھے۔ وَدَعْ اَذٰھُمْ (اور ان کی طرف سے جو ایذاء پہنچے اس سے صرف نظر فرمائیں) اذیٰ بمعنی ایذاء ہے۔ نحو : نمبر 1۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کی اضافت فاعل کی طرف ہو ای اجعل ایذائھم ایاک فی جانب ان کی ایذاء کو ایک طرف رکھ اور اس کی کوئی پرواہ مت کرو اور نہ ان کی ایذاء سے ڈرو۔ نمبر 2۔ اضافت مفعول کی طرف ہو۔ ای دع إیذاء ک إیّاھم مکافأۃ لھم۔ آپ ان کو بطور بدلہ ایذاء دینے کو رہنے دیجئے۔ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے) وہ ان کے لئے کافی ہے۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا (اور اللہ تعالیٰ کی کارسازی کافی ہے) اس کی سپرداری کفایت کرنے والی ہے۔ ایک قول : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پانچ اوصاف بیان فرمائے اور ان میں سے ایک کا مقابلہ ایک مناسب خطاب سے فرمایا مثلاً نمبر 1۔ شاہد کا مقابلہ وبشر المؤمنین سے کیونکہ آپ ﷺ امت پر شاہد ہونگے اور امت تمام امتوں پر شاہد ہوگی۔ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے نمبر 2۔ المبشر کا مقابلہ کفار و منافقین سے اعراض کرنے کے ساتھ کروایا کیونکہ جب ان سے اعراض کریں گے تو ایمان والوں کی طرف پورے طور پر متوجہ ہونگے اور بشارت کیلئے یہ بات مناسب ہے۔ نمبر 3۔ النذیر کا مقابلہ دع اذاھمؔ سے کیا کیونکہ جب وہ حاضر میں ان کی ایذاء کو چھوڑ دیں گے حالانکہ ایذاء کی جلدی سزا تو ضروری ہے۔ یا بدیر سزا۔ اور کفار کو مستقبل میں ملنے والی اس سزا سے ڈرایا گیا۔ نمبر 4۔ اور داعی الی اللہ کا تقابل تیسیر کے قول توکل علی اللہ کے ساتھ کیا۔ کیونکہ جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرلیتا ہے اس پر ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ نمبر 5۔ سراج منیر کا تقابل اللہ تعالیٰ کی وکالت پر اکتفاء سے کیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کی دلیل کو تمام مخلوق پر روشن کردیں تو وہ اس لائق ہے کہ تمام مخلوق کو چھوڑ کر اسی پر اکتفاء کیا جائے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

مومنو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کر کے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو

وجوبِ عدت : 49: یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِذَا نَـکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ (اے ایمان والو ! جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کرو) یعنی جب تم شادی کرو۔ نکاحؔ کا لفظ اصل میں وطی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور عقد کو بھی نکاح اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وطی تک پہنچنے کا ذریعہ اور واسطہ ہے جیسا کہ شراب کو اثم کہتے ہیں کیونکہ وہ شراب اس گناہ کا سبب ہے جیسا کہ راجز کے اس قول میں : اسنمۃ الا بال فی سحابہٖ شاعر نے پانی کا نام اسنمۃ الا بال رکھا کیونکہ وہ اونٹوں کے موٹا ہونے کا سبب اور ان کی سناموں کی بلندی کا سبب ہے۔ النکاحؔ : نکاح کا لفظ قرآن مجید میں عقد کے معنی میں ہی وارد ہوا ہے۔ کیونکہ وطی کے معنی میں تو یہ باب تصریح میں سے ہوجائے گا۔ حالانکہ آداب قرآن کا تقاضا اس کا (یعنی وجیء) کنایہ، الملامسۃ، المماسۃ، القربان، التغشی اور الاتیان ہے۔ وجہ تخصیص : مؤمنات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اشارہ کردیا کہ مومن کو مومنہ سے نکاح کرنا چاہیے۔ اگرچہ کتابیات جو از نکاح میں مؤمنات کے برابر ہیں۔ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ (پھر تم ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو ) اور خلوت صحیحہ مس کی طرح ہے۔ فَمَا لَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا (تو تمہاری ان کے اوپر کوئی عدت نہیں جس کو تم شمار کرنے لگو) مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ عورتوں پر مردوں کیلئے عدت واجب ہے اور تعتدونھا کا معنی اس کی گنتی کو پورا کرنے والے ہو۔ صرف : یہ عدّ سے باب افتعال ہیفَمَتِّعُوْھُنَّ (پس ان کو کچھ متاع دیدو) ۔ متعہ : اس عورت کے لئے لازم ہے جس کو دخول سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو اور اس کا مہر بھی مقرر نہ ہو ‘ دوسری عورتوں کے لئے نہیں۔ وَسَرِّ حُوْ ھُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا (اور ان کو خوبی کے ساتھ رخصت کردو) ۔ یعنی ان کو تکلیف دینے کیلئے نہ روکو۔ اور ان کو اپنے گھروں سے فارغ کردو۔ کیونکہ تمہاری طرف سے ان پر کچھ بھی عدت نہیں ہے۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے انکے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے) بطور مال غنیمت دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہارے خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہیں لیکن) یہ اجازت (اے محمد ﷺ خاص تم کو ہی ہے سب مسلمانوں کو نہیں ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

نہم شرط ‘ تابید نکاح ہے : 50: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْ (اے نبی مکرم (ﷺ) ہم نے آپ کیلئے آپ کی یہ بیویاں جن کے مہر) اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ (آپ دے چکے ہیں حلال کی ہیں) اجور کا معنی مہر ہے۔ کیونکہ مہر بضع کا بدلہ ہے۔ ( اتیت اجورھن کی قید احترازی نہیں۔ واقعی ہے کیونکہ آپ جلد ادا فرماتے تھے) کرخی (رح) کا قول : لفظ اجارہ سے نکاح اسی لئے جائز ہے کیونکہ مہرکو اجور فرمایا۔ جواب کرخی m : نکاح کی شرط تابید ہے اور اجارہ کی شرط تاقیت ہے اور دونوں میں منافات ہے اور ایتائو ھاؔ کا معنی اعطاء ھا عا جلاً ان کو جلد ادا کرنا یا اس کو مقرر کرنا اور عقد میں اس کا نام لینا ہے۔ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّااَفَآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ ( اور وہ عورتیں بھی جو تمہاری مملوکہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنیمت میں دلوادی ہیں) وہ صفیہ، جو یریہ ہیں ان دونوں کو آزاد کر کے ان سے نکاح فرمالیا۔ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ (اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور ماموئوں کی بیٹیاں اور خالہ) ۔ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ (کی بیٹیاں وہ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی) معؔ کا لفظ یہاں مقارنت کیلئے نہیں بلکہ فقط وجود ہجرت کو ثابت کرنے کیلئے ہے جیسا کہ اس ارشاد میں ص واسلمت مع سلیمان ] النمل : 44 [ امّ ہانی بنت ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا میں نے معذرت پیش کی۔ آپ نے میرے عذر کو قبول فرمایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری پس آپ کے لئے یہ (نکاح کرنا) حلال نہ قرار دیا گیا کیونکہ میں نے ہجرت نہ کی تھی۔ ] ترمذی : 3214[ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّ ھَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ (اور اس مومنہ عورت کو جو بلا عوض اپنے کو پیغمبرکو دیدے) اور آپ کے لئے حلال کردیا ہم نے اس عورت کو جو اپنے نفس کو آپ کے ہبہ کر دے اور یہ عورت مہر طلب نہ کرے اگر ایسا اتفاق ہو۔ اسی لئے امراۃ مؤمنۃ نکرہ لایا گیا۔ قول ابن عباس ؓ : یہ مستقبل کے حکم کو بیان کیا ہے۔ حالانکہ کوئی عورت ہبہ والی آپ کے ہاں نہ تھی۔ ایک قول یہ ہے کہ نفس کو ہبہ کرنے والی عورت آپ کے ہاں میمونہ بنت الحارث یا زینب بنت خزیمہ یا اُمّ شریک بنت جابر یا خولہ بنت حکیم تھیں۔ قراءت : حسن (رح) نے اَنْ وھبت پڑھا اور ان کو تعلیلیہ قرار دیا۔ اور لام کو محذوف مانا لان وھبت۔ اور ابن مسعود ؓ نے بغیر ان کے پڑھا۔ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا (اگر پیغمبر اس کو نکاح میں لانا چاہیں) اور اس کی طرف نکاح کی رغبت رکھتے ہوں۔ ایک قول یہ ہے نکح اور استنکح کا ایک معنی ہے دوسری شرط پہلی شرط کے لئے قید ہے حلال ہونے کی شرط یہ ٹھہرائی گئی ہے وہ عورت اپنا آپ آپ کو ہبہ کردے اور ہبہ میں نکاح کی طلب کا ارادہ خودموجود ہے گویا اس طرح فرمایا احللناھا لک ان وھبت لک نفسھا وانت ترید ان تستنکحھا اوارادتہھی : قبول الھبۃ وما بہٖ تتم۔ ہم نے آپ کے لیے حلال کردیا اگر وہ اپنا آپ آپ کو ہبہ کردے اور آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے ہوں۔ اور آپ کا ارادہ ہی قبول ہے جس سے وہ نکاح ہبہ تکمیل پذیر ہوگا۔ فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ لفظ ہبہ سے نکاح جائز ہے کیونکہ رسول ﷺ اور آپ کی امت احکام میں برابر ہیں سوائے ان احکام کے جن کو دلیل آپ کے لئے خاص ثابت کر دے۔ خَالِصَۃً (یہ مخصوص ہے آپ کے لئے) بلا مہر نکاح۔ نحو : یہ وھبت کی ضمیر سے حال ہے نمبر 2۔ مصدر مؤکد ہے تقدیرکلام یہ ہوگی خلص لک احلال ما احللنالک خالصۃ تمہارے لئے مخصوص کردیا گیا اس چیز کا حلال کرنا جو کہ ہم نے آپ کیلئے حلال کیا خصوصاً اور مصادر فاعِلۃ کے وزن پر کثرت سے آتے ہیں۔ مثلاً العاقبۃ، الکاذبۃ۔ لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ (نہ کہ دوسرے مؤمنین کیلئے) دوسروں کیلئے مہر واجب ہے خواہ اس وقت مذکور ہو یا اس کی نفی کردی گئی ہو۔ حکمتیں : اولاً خطابی انداز تھا پھر اس کلام کو غیبت کی طرف موڑ دیا ان اراد النبی میں پھر خطاب کی طرف کلام کو لوٹایا تاکہ اعلان کردیا جائے کہ یہ اختصاص نبوت کی وجہ سے بطور تکریم فرمایا گیا ہے۔ اور اس کو باربارعظمت شان کیلئے ذکر کیا۔ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْ اَزْوَاجِھِمْ (ہم کو وہ احکام معلوم ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیبیوں) یعنی جو مہر ہم نے آپ کی امت پر ان کی زوجات کے سلسلہ میں واجب کیے ہیں۔ نمبر 2۔ جو ہم نے ان کی ازواج کے سلسلہ میں حقوق لازم کیے ہیں۔ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ (اور لونڈیوں کے بارے میں مقرر کیے ہیں) ملکیت کے طور پر ان کو خرید لینے کی بناء پر لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ (تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ ہو) حرج کا معنی تنگی ہے یہ آیت کا حصہ خالصۃً لک من دون المؤمنین سے متصل ہے۔ اور قد علمنا ما فرضنا علیہم فی ازواجہم وما ملکت ایمانہم یہ جملہ معترضہ ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں) ۔ وہ اپنے بندوں پر وسعت فرمانے والے ہیں۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

(اور تم کو بھی یہ اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو اسے لے کر سب خوش رہیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے

51: تُرْجِیْ (اور اپنے سے دور رکھیں) قراءت : بلا ہمزہ مدنی، حمزہ، علی، خلف، حفص نے پڑھا اور دیگر قراء نے ہمزہ سے پڑھا۔ ترجی کا معنی مؤخر کرنا، دور رکھنا ہے۔ اصل مقصد کو جامع تقسیم : مَنْ تَشَآ ئُ مِنْھُنَّ وَتُئْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآ ئُ (جن کو آپ چاہیں ان میں سے اور نزدیک رکھیں ان میں جس کو آپ چاہیں) تُئْوِیکا معنی ملانا، نزدیک کرنا ہے۔ یعنی جس سے چاہیں اپنی خوابگاہ کو الگ فرمائیں اور جس سے چاہیں مضا جعت فرمائیں یا جس کو چاہیں طلاق دیں اور جس کو چاہیں روک رکھیں یا جن کے لئے چاہیں باری کی تقسیم فرمائیں اور جن کے لئے چاہیں نہ فرمائیں یا امت کی عورتوں سے جس سے چاہیں نکاح کرلیں اور جن سے چاہیں تزوج چھوڑ دیں۔ یہ تقسیم ایسی ہے جو کہ اصل مقصد کو جامع ہے۔ کیونکہ یا تو وہ طلاق دیں گے اور یا وہ روک کر رکھیں گے جب نکاح میں باقی رکھیں گے تو اس سے مضاجعت فرمائیں گے یا نہ فرمائیں گے اور باری تقسیم کریں گے یا نہ کریں گے۔ جب طلاق دے دی اور علیحدگی اختیار فرمائی تو پھر اس معزولہ کو بالکل چھوڑ دیں گے اس کو بالکل نہ چاہیں گے یا اس کو چاہیں گے۔ روایت میں ہے کہ آپ نے ان میں سے جو یریہ، سودہ، صفیہ اور میمونہ اور ام حبیبہ ؓ کو مؤخر اور دور کیا۔ آپ ان کے لئے باری کو جب چاہتے اور جس طرح چاہتے تقسیم فرماتے۔ اور جن عورتوں کو اپنے قریب کیا وہ عائشہ، حفصہ، ام سلمہ اور زینب ؓ تھیں۔ پانچ کو دور کیا اور چار کو نزدیک کیا (ابن ابی شیبہ مرسلاً ) آپ اختیار اور آزادی کے باوجود ان کے مابین برابری فرماتے۔ سوائے سو دہ کئے انہوں نے اپنی رات عائشہ ؓ کیلئے ہبہ کردی۔ اور عرض گزار ہوئیں۔ آپ مجھے طلاق نہ دیں تاکہ قیامت کے دن آپ کی ازواج میں سے اٹھائی جائوں۔ تقسیم کا معاملہ آپ کی مشیئت کے سپرد کیا : وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکَ (اور جن کو آپ طلب کریں ان میں سے جن کو آپ نے دور رکھا تھا۔ آپ پر کوئی گناہ نہیں) یعنی جن کو آپ اپنے بستر کی طرف بلائیں ان ازواج میں سے جن کو دور رکھا تھا۔ تو آپ پر اس سلسلہ میں کوئی تنگی نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ اگر پہلے آپ نے روک دیا تو اب اس کو لوٹا نہیں سکتے بلکہ آپ کو اختیار ہے۔ نحو : منؔ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے اور فلاجناح اس کی خبر ہے۔ ذٰلِکَ (یہ) یعنی آپ کی مشیئت کے سپرد کرنا۔ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّاَعْیُنُھُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَا (اس بات سے قریب تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ آزردہ خاطرنہ ہونگیں) ۔ ٰاتَیْتَھُنَّ کُلُّھُنَّ (اور جو کچھ بھی آپ ان کو دیں گے اس پر سب کی سب راضی رہیں گی) یعنی یہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور قلت ِحزن اور تمام کی رضا مندی کیلئے قریب تر بات ہے۔ کیونکہ جب ان کو معلوم ہوگیا یہ تفویض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی ہے تو ان کے نفوس مطمئن رہیں گے اور تغایر ختم ہو کر رضا حاصل ہوگی اور ان کی آنکھوں میں اس سے ٹھنڈک حاصل ہوگی۔ نحو : کُلُّھُنَّ یہ رفع کے ساتھ یر ضین کے نونؔ کی تاکید ہے۔ قراءت : اس طرح بھی پڑھا گیا ویرضین کلّھن بما اتیتھن کلھن کو مقدم کر کے اور ایک شاذ قراءت میں کُلَّھُن نصب کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں آتیتھن کی تاکید ہے۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَافِیْ قُلُوْبِکُمْ (اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اس کو جو تمہارے دلوں میں ہے) اس میں ان کے لئے وعید ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس تقسیم و تدبیر پر راضی نہ ہو۔ اور رسول اللہ ﷺ کی تفویض پسند نہ کرتی ہوں۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے ہیں) جو سینوں میں چھپا ہے۔ حَلِیْمًا (بردبار ہیں) جلدی سے سزا نہیں دیتے۔ اسی سے ڈرنا اور اسکی سز اسے بچنا ہے۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

موجودہ کے علاوہ حلال نہیں : 52: لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآ ئُ (حلال نہیں آپ کے لئے عورتیں) ۔ نحو، قراءت : ابو عمرو، یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کے علاوہ دیگر قراء نے مذکر صیغہ پڑھا ہے۔ کیونکہ تانیث جمع غیر حقیقی ہے اور جب بلا فصل قال نسوۃؔ ] یوسف : 30[ میں جائز ہے تو فاصلہ کی موجودگی میں بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔ مِنْ بَعْدُ (ان کے علاوہ) ان نو کے علاوہ کیونکہ 9 ازواج یہ آپ کے لئے اسی طرح نصاب تھا جیسا امت کیلئے چار نصاب ہے۔ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ (اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان ازواج کی جگہ دوسری بیبیاں کرلیں) ان کو طلاق دے کر۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو آپ ان ازواج تمام کی جگہ اور بیبیاں تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان میں سے بعض کی جگہ بعض بیبیاں تبدیل کرسکتے ہیں یہ ان کے اعزاز اور پیغمبر ﷺ کو اختیار کرنے اور راضی ہوجانے کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ عظمت عنایت فرمائی رسول ﷺ نے انہی پر اکتفاء فرمایا وہ نو یہ ہیں جن کو چھوڑ کر آپ نے وفات پائی۔ عائشہ نمبر 2۔ حفصہ، نمبر 3۔ ام حبیبہ نمبر 4۔ سودۃ۔ نمبر 5۔ ام سلمہ نمبر 6۔ صفیہ، نمبر 7۔ میمونہ، نمبر 7۔ زینب بنت جحش، نمبر 9۔ جویر یہ رضوان اللہ علیہن اجمعین۔ من ازواج میں مِنْ تاکید نفی کیلئے آیا ہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ جنس ازواج کی تحریم کا احاطہ کرنے والا ہے۔ وَّ لَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُں َّ (اگرچہ ان کا حسن آپ کو اچھا معلوم ہو) نحو : تبدل کی ضمیر فاعلی سے یہ موضع حال میں ہے اور تبدل اصل میں تبدّل یہ من ازواجؔ جو کہ مفعول ہے اس سے موضع حال میں نہیں ہے کیونکہ وہ تنکیر میں مشغول ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے مفروضا اعجابک بہن۔ (بالفرض آپ کو ان کا حسن بھلالگتا ہو) ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اسماء بنت عمیس بیوہ جعفر بن ابی طالب ہیں۔ یہ ان میں سے تھیں جن کا حسن بھلا معلوم ہوا۔ قول عائشہ و ام سلمہ ؓ : رسول اللہ ﷺ کیلئے وفات سے قبل تحریم کو اٹھا لیا تھا اور جن عورتوں سے چاہیں نکاح کی اجازت دے دی گئی تھی۔ مطلب ہوا کہ آیت منسوخ ہے۔ اس کا نسخ یا تو پھر سنت سے ماننا پڑے گا۔ یا اس آیت : انا احللنا لک ازواجک سے۔ باقی ترتیب نزولی ترتیب مصحف کے مطابق نہیں ہے۔ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ (مگر جو آپ کی مملوکہ ہو) مملوکات کو ان محرمات سے مستثنیٰ کردیا۔ نحو : ماؔ محل رفع میں النساء سے بدل ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ رَّقِیْبًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پورا نگران ہے) محافظ ہے۔ اس کی حدود سے تجاوز کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے تھے (اور کہتے نہیں تھے) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور انکے (دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے) اور تم کو یہ شایان نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ انکی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ (کا کام) ہے

آپ کے گھروں میں داخلہ کے وقت اذن کا حکم : 53: یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ (اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو) ۔ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰہُ (مگر جس وقت تم کو کھانے کیلئے اجازت دی جائے۔ ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو) ۔ نحو : ان یوذن لکم یہ موضع حال میں ہے تقدیر کلام یہ ہے لا تدخلوا الامأ ذونًا لکم۔ تم مت داخل ہو مگر اس حال میں کہ تمہیں اجازت دی گئی ہو۔ یا ظرف کے معنی میں ہو۔ تقدیر کلام یہ ہے وقت ان یوذن لکم۔ اور غیر ناظرین یہ لا تدخلوا سے حال ہے۔ اور استثناء حال اور وقت دونوں ہی سے واقع ہوا ہے۔ گویا تقدیر کلام اس طرح ہے لاتدخلوا بیوت النبی الاوقت الاذن ولا تدخلوھا الا غیر ناظرین ای غیر منتظرینتم پیغمبر کے گھروں میں مت داخل ہو مگر اجازت کے وقت، اور ان گھروں میں نہ داخل ہو مگر یہ کہ تم انتظار کرنے والے نہ ہو۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے کھانے کے وقت کا انتظار کرتے۔ پس داخل ہوتے اور کھانے کو پانے کے انتظار میں بیٹھ رہتے۔ مطلب یہ ہے کہ اے کھانے کے وقت کا انتظار کرنے والو ! تم گھروں میں داخل نہ ہو مگر اس وقت جبکہ کھانے کیلئے تمہیں اجازت دی جائے اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو۔ عرب کہتے ہیں انی الطعام کھانا تیار ہونا ‘ کہا جاتا ہے : انی الطعام انی جیسے کہتے ہیں : قلاہ قلی۔ ایک قول یہ ہے اناہ کا معنی اس کا وقت یعنی تم کھانے کے وقت کو دیکھنے والے نہ ہو۔ اور اس کے کھانے کی گھڑی کو دیکھنے والے نہ ہو۔ روایت میں ہے نبی اکرم ﷺ نے زینب بنت جحش کے نکاح پر کھجور، ستو اور گوشت سے ولیمہ کیا اور انس ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بلا کر لائے۔ پس لوگ ایک دوسرے کے بعد گروہ در گروہ گھر میں داخل ہو کر کھاتے اور نکلتے رہے یہاں تک کہ انس ؓ نے کہا یارسول اللہ ! میں نے دعوت دی ہے یہاں تک کہ اب میں کوئی شخص نہیں پاتا جس کو دعوت دوں۔ آپ نے فرمایا۔ کھانا اٹھالو۔ تمام لوگ منتشر ہوگئے۔ تین آدمی وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور انہوں نے طویل مجلس کی۔ آپ اٹھے تاکہ وہ بھی اٹھ کر چلے جائیں۔ آپ نے اپنے حجرات کا چکر لگایا اور ازواج کو سلام فرمایا۔ ان تمام نے سلام کا جواب دیا اور دعائیں دیں۔ پھر لوٹ کر تشریف لائے تو وہ بیٹھے ابھی باتوں میں مشغول تھے آپ بڑے حیا دار تھے۔ آپ و اپس مڑے۔ اب جب انہوں نے آپ کو واپس لوٹتے دیکھا تو وہ نکل کر چل دیئے۔ پس آپ گھرلوٹ آئے تو یہ آیت اتری۔ داخلہ دعوت کے آداب : وَلٰکِنْ اِذَا دُ عِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا (جب جب تمہیں بلایاجائے تو جایا کرو۔ پھر جب کھاناکھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو) ۔ فانتشروا کا معنی وہاں سے جدا ہوجایا کرو۔ وَلَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ (اور باتوں میں دل لگا کر مت بیٹھے رہا کرو) ۔ نحو : یہ مجرور ہے۔ اور اس کا عطف ناظرین پر ہے۔ نمبر 3۔ منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہے ولا تدخلوھا مستأنسین۔ ادب : زیادہ دیر بیٹھے رہنے اور ایک دوسرے کی بات میں دل لگا کر بات سننے کی غرض سے بیٹھنے کی ممانعت کردی۔ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِیْ النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ (اس سے پیغمبر کو ناگواری ہوتی ہے پس وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں) تمہیں نکالنے سے وَاللّٰہُ لَایَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ (اور اللہ تعالیٰ صاف صاف باتیں کہنے سے لحاظ نہیں کرتے) ۔ تمہارا اس وقت نکالنا درست ہے مناسب نہیں کہ اس میں لحاظ کیا جائے۔ جب حیاء کسی کو بعض افعال سے مانع بن جائے تو اس وقت کہا جاتا ہے لا یستحی من الحق یعنی وہ اس سے باز نہیں رہتے اور نہ اس کو اس طرح چھوڑ دیتے ہیں جیسے حیاء والا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ سست لوگوں کو ادب سکھایا گیا ہے۔ قول عائشہ ؓ : سست لوگوں کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو برداشت نہیں فرمایا اور فرمادیا۔ فاذا طعمتم فانتشروا۔ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ ( اور جب ان سے کوئی چیزمانگو) ھنؔ کی ضمیر ازواج پیغمبر ﷺ کی طرف راجع ہے کیونکہ پیچھے بیوت النبی ﷺ کا تذکرہ چل رہا ہے۔ اور ان بیوت میں آپ کی ازواج ہی تھیں۔ مَتَاعًا (کوئی چیز عاریۃً مانگو) یا ضرورۃ ًمانگو۔ فَسْئَلُوْھُنَّ (ان سے وہ چیز مانگو) ۔ مِنْ وَّرَآ ئِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِھِنَّ (تو پردہ کے باہر سے مانگا کرو۔ یہ بات تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے) شیطانی خیالات سے فتنوں ‘ کے پیش آنے سے۔ اس آیت کے نزول سے قبل عورتیں مردوں کے سامنے آجاتیں۔ عمرفاروق ؓ پسند کرتے کہ ان کو پردے میں ہونا چاہیے اور وہ چاہتے تھے کہ اس کے متعلق وحی نازل ہو۔ عرض کردیا۔ یا رسول اللہ ! اچھے اور برے سب لوگ آپ کے ہاں آتے ہیں۔ اگر آپ امہات المؤمنین کو حکم فرماتے کہ وہ پردہ کرلیا کریں ؟ پس یہ آیت نازل ہوئی (بخاری 4790) اور یہ بھی مذکور ہے کہ بعض نے یہ کہا کہ ہمیں روک دیا گیا کہ ہم اپنی چچازاد بہنوں سے پردے کے علاوہ بات کریں اگر محمد ﷺ فوت ہوگئے تو میں فلاں عورت سے شادی کرلوں گا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ ایذاء کی ممانعت : وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْا ( تمہارے لئے جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچائو) اور اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖ اَبَدًا (یہ بھی جائز نہیں کہ تم آپ کی ازواج سے آپ کے بعد کبھی بھی نکاح کرو) ۔ یعنی رسول ﷺ کو دکھ دینا تمہارے لئے جائز نہیں۔ اور نہ آپ کی موت کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح جائز ہے۔ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًایہ (اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بھاری بات ہے) یعنی بہت بڑا گناہ۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو) کہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے

54: اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا (اگر تم کسی چیز کو ظاہر کر وگے) نبی اکرم ﷺ کی ایذاء میں سے یا ان سے نکاح کروگے۔ اَوْ تُخْفُوْہُ (یا اپنے دلوں میں اس کو چھپائو گے) ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا (پس اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں) ۔ پس وہ اس پر تمہیں سزا دے گا۔