33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے اور (اے عورتو ! ) خدا سے ڈرتی رہو بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اقارب کے احکام : 55: آیت حجاب نازل ہوئی تو باپوں، بیٹوں اور اقارب نے کہا یارسول اللہ ﷺ کیا ہم بھی ان سے پردے کے پیچھے سے بات کریں پس یہ آیت نازل ہوئی۔ لَاجُنَاحَ عَلَیْھِنَّ فِیْ ٰابَآئِھِنَّ وَلَآ اَبْنَآپھِنَّ وَلاَ اِخْوَانِھِنَّ (پیغمبر (ﷺ) کی بیویوں پر اپنے باپوں کے بارے میں کوئی گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں کے) وَلَآ اَبْنَآپھِنَّ وَلاَ اِخْوَانِھِنَّ وَلاَ نِسَائِھِنَّ (اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے) نسائھن سے مومنہ عورتیں مراد ہیں۔ وَلَا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ (اور نہ اپنی لونڈیوں کے) یعنی ان پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ ان سے پردہ نہ کریں آیت میں چچا اور ماموں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ بمنزلہ والدین ہیں۔ اور اَبٌ کا اطلاق چچا پر آیا ہے۔ ارشاد فرمایا : والٰہ اباءک ابراھیم و اسماعیل واسحاق ] البقرۃ : 133[ اسماعیل یعقوب (علیہم السلام) کے چچا ہیں۔ اور غلام جمہور کے نزدیک اجنبی شمارہوتے ہیں۔ پھر کلام کو غیبت سے خطاب کی طرف منتقل کردیا۔ اور اس انتقال میں بڑی فضیلت ہے گویا اس طرح کہا گیا ہے واتقین اللہ فیما امرتن بہٖ من الاحتجاب وانزل فیہ الوحی من الاستتار واحتطن فیہ اور تم اس حکم حجاب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جس استتار کی وحی اتر چکی اس میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور پوری احتیاط کرو۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدًا (بیشک اللہ تعالیٰ ہر شی پر گواہ ہے۔ ) جاننے والا ہے۔ ابن عطاء کہتے ہیں۔ الشھید : جو دل کے خطرات اور وساوس کو اسی طرح جانے جیسا اعضاء کی حرکات کو جانتا اور قرار دیتا ہے۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو ! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو

درود وسلام کا حکم : 56: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓپکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ (بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں نبی ﷺ پر) یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ (اے ایمان والوں تم ابھی آپ ﷺ پر رحمت بھیجا کرو) یعنی تم اس طرح کہو : اللھم صل علی محمدٍ یاصلّی اللہ علی محمدٍ وَسِلّمُوْا تَسْلِیْمًا (اور خوب سلام بھیجا کرو) یعنی اس طرح کہا کرو : اللھم سلم علی محمد یا آپ کے حکم کی اطاعت کرو خوب اطاعت کرنا۔ آنحضرت ﷺ سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔ جب بھی کسی مسلمان کے ہاں میرا تذکرہ ہوتا ہے پھر مجھ پر درود پڑھتا ہے تو دونوں فرشتے کہتے ہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ اور ملائکہ ان دونوں فرشتوں کو کہتے ہیں آمین اور جس مسلمان بندے کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو فرشتے کہتے ہیں لا غفر اللہ لک اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کی طرف سے ان فرشتوں کے جواب میں آمین کہی جاتی ہے (مجمع الزوائد 7/93) قول کرخی (رح) : یہ ایک مرتبہ واجب ہے۔ قول طحاوی (رح) : جب بھی آپ کا نام لیا جائے اس وقت واجب ہے اور احتیاط اسی قول میں ہے اور جمہور کا یہ قول ہے۔ اگر دوسرے کیلئے صلاۃ کا لفظ بولا جائے گا تو تابع کی حیثیت سے آئے گا۔ جیسا کہیں صلی اللہ علی النبی وآلہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔ باقی جب اہل بیت میں سے کسی کیلئے الگ طور پر صلاۃؔ کا لفظ لایا جائے گا۔ تو یہ مکروہ ہے اور رافضیوں کی نشانات میں سے ہے۔
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

کفر کرنا ایذائے رسول ہے : 57: اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں) یوذون اللہ ورسولہ سے مراد رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینا ہے اور اسم الٰہی تشریف کیلئے ہے۔ نمبر 2۔ اللہ اور رسول کی ایذاء یہ مجازاً تعبیر ہے ایسے افعال کی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند نہ ہوں۔ مثلاً کفر اور انکار نبوت وغیرہ۔ دونوں کے متعلق مجازقرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کیلئے حقیقی ایذاء مانی جائے تو حقیقت و مجاز کا اجتماع ایک لفظ کے ماتحت لازم آئے گا اور یہ درست نہیں اس لئے مجاز ہی مراد لیا۔ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے) اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دونوں جہانوں میں دور کردیا ہے۔ وَاَعَدَّ لَھُمْ عَذابًا مُّھِیْنًا (اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے) آخرت میں۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

ایمان والوں کو ایذاء کی ممانعت : 58: وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (اور وہ لوگ جو ایمان والے مردوں اور مؤمنات کو) بِغِیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا (بغیر اس کے کہ وہ کچھ کرتے ایذاء پہنچاتے ہیں) نکتہ : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ایذاء کو بلا قیدذکر کیا تو مؤمنوں اور مؤمنات کی ایذاء کو مقید فرمایا کیونکہ وہ تو ہمیشہ ناحق ہوتی ہے اور یہ کبھی حق سے ہوتی ہے جیسے حدودو تعزیرات میں اور کبھی ناحق اس لئے مقید کرنے کی ضرورت پڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ ان منافقین کے متعلق اتری جو علی مرتضی ؓ کو ایذاء دیتے تھے اور ان کو وہ کلمات سنا کر کرتے تھے۔ قول دیگر یہ ہے ان زانیوں کے متعلق اتری جو عورتوں کا پیچھا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ عورتیں بھی اس بات کو ناپسند کرتیں تھیں۔ قول فضیل (رح) : جب کسی کتے جیسے جانور کو ایذاء دینا حلال نہیں اسی طرح ناحق خنزیر کو تکلیف پہنچانا جائز نہیں تو مؤمنین و مؤمنات کو ایذاء پہنچانا کیونکر جائزہوسکتا ہے۔ فَقَدِ احْتَمَلُوْا (وہ باراٹھاتے ہیں) اٹھاتے ہیں۔ ُ بھْتَا نًا (بہتان بڑا) وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا (اور کھلا گناہ) یعنی ظاہر گناہ۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

پردے کا حکم : 59: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ (اے پیغمبر (ﷺ) اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے) وَنِسَآ ئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ (اور مؤمنوں کی بیویوں سے بھی کہہ دیں کہ نیچی کرلیا کریں اور اپنے اوپر) جَلَابِیْبِھِنَّ (تھوڑی سی اپنی چادریں) الجلبابؔ وہ کپڑا جس سے تمام جسم کو لپیٹاجائے جیسے بڑی چادر۔ قول مبرد (رح) : یدنین علیھن من جلا بیبہن کا معنی یہ ہے اپنے اوپر چادر کو ڈھیلا کر کے لٹکالیں اور اس سے اپنے چہروں اور کندھے کو ڈھانپ لیں۔ عرب کہتے ہیں جبکہ کپڑا عورت کے چہرے سے ہٹ جائے۔ اَدْنِی ثوبک علی وجھک اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لو۔ من تبعیضیہ ہے یعنی اپنی بڑی چادر کا بعض حصہ لٹکائے اور بچا ہوا چہرے پر ڈال لے اور پردہ بنا لے تاکہ لونڈیوں سے اس کا امتیاز ہوسکے۔ یا وہ چادر اوڑھ لیں جو ان کی چادریں ہیں مطلب یہ ہے وہ صرف دوپٹہ اور اوڑھنی پہنے نہ ہوں جیسا کہ لونڈیوں کا لباس ہوتا ہے، عورت کیلئے تو اپنے گھر میں دو یا زیادہ اوڑھنیاں ہیں۔ اور اس کا باعث یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں عورتوں کی عادات جاہلیت کے مطابق تھیں۔ کام کاج والے کپڑے پہننے والی ہوتیں۔ عورت اوڑھنی اور ڈوپٹے میں نکلتی اس کے اور لونڈیوں کے مابین کوئی امتیاز نہ ہوتا تھا۔ کچھ نوجوان لونڈیوں کے راستہ میں رکاوٹ بنتے جبکہ وہ رات کو کھجوروں اور گہرے کھڈوں میں قضائے حاجت کے لئے نکلتیں اور بسا اوقات آزاد عورتوں کو لونڈیاں سمجھ کر انکا سامنا کرتے۔ پس آزاد عورتوں کو لونڈیوں سے لباس میں فرق کرنے کا حکم دیا گیا کہ وہ بڑی چادر لیں اور اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر نکلیں تاکہ ان کے متعلق کوئی طمع باز طمع نہ کرے اور آیت کے اگلے حصہ میں اسی کا تذکرہ فرمایا۔ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ (اس سے جلد پہچان ہوجایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی) مطلب یہ ہے بہتر یہ ہے کہ ان کی پہچان ہوجائے پس وہ ان کا راستہ نہ روکیں۔ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا (اور اللہ تعالیٰ بخشنے والے) اس کو جو ان کی طرف سے کوتاہی ہوچکی۔ رَّ حِیْمًا (مہربان ہیں) کہ ان کو مکارم اخلاق کی تعلیم دی۔
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر) میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو انکے پیچھے لگا دینگے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

60: لَپنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ (اگر باز نہ آئے منافقین اور وہ لوگ) فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ (جن کے دلوں میں بیماری ہے) فجور وفسق کی بیماری اس سے مراد زانی لوگ ہیں۔ دوسرے مقام پر یہی لفظ اس معنی میں ارشاد فرمایا فیطمع الذی فی قلبہ مرض۔ [ الاحزاب : 32] وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ (اور مدینہ میں افواہیں اڑانے والے) وہ کچھ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے غزوات و سرایا کے متعلق غلط خبریں پھیلاتے تھے اور کہتے ان کو شکست ہوئی اور قتل کردیئے گئے اور ان پر ایسا ایسا واقعہ گزرا وغیرہ۔ اس سے ان کا مقصد مؤمنوں کے دلوں کو توڑنا تھا عرب کہتے ہیں ارجف بکذا جبکہ وہ اس کے متعلق غیر حقیقی خبر دے کیونکہ وہ خبر ہلا دینے والی اور پائوں اکھاڑدینے والی غیر ثابت شدہ ہوتی ہے۔ یہ الرجفۃ سے لفظ بنا ہے اور وہ زلزلہ کو کہتے ہیں۔ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ (ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ان پر مسلط کردیں گے یا ان کے ساتھ قتال کا حکم دیں گے۔ ثُمَّ لَایُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ پھر (وہ آپ کے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے) اور جلا وطنی ان کے حق میں سب سے بڑی مصیبت تھی تو اس کو بطور عطف لائے اور عطف ثمؔ سے کیا کیونکہ معطوف علیہ سے اس کا حال بہت دور ہے۔ اِلَّا قَلِیْلًا (مگر بہت تھوڑا) زمانہ مطلب یہ ہے لئن لم ینتہ المنافقون عن عداوتہم وکید ھم والفسقۃ عن فجورہم والمرجفون عما یؤلفون من اخبار السوء لنأمرنک بان تفعل بھم الافعال التی تسوؤ ھم ثم بان تضطر ھم الی طلب اخلاء عن المدینہ والی الا یساکنوک فیھا الا زمانا قلیلا ریثما یرتحلون۔ اگر منافقین اپنی عداوت اور کید سے باز نہ آئے اور فساق اپنے فجور سے باز نہ آئے اور افواہیں پھیلانے والے جو بری اطلاعات سے الفت رکھتے ہیں اگر وہ بازنہ آئے۔ تو ضرور ہم آپ کو حکم دیں گے کہ آپ ان کے ساتھ وہ سلوک کریں جو ان کو برا لگے وہ اس طرح کہ آپ ان کو مجبور کر کے مدینہ سے نکال دیں اور یہ بھی کہ وہ آپ کے ساتھ مدینہ میں بہت کم رہ سکیں گے جلد کوچ کر جائیں گے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اغراء سے بطور مجاز تعبیر فرمایا۔ اغراء برانگیختہ کرنے کو کہتے ہیں۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے

61: مَّلْعُوْنِیْنَ (وہ بھی پھٹکارے ہوئے) نحو : یہ شتم کی وجہ سے منصوب اے ادم ملعونین نمبر 2۔ حال کی وجہ سے تقدیر کلام یہ ہے لا یج اور ونک الا ملعونین پس حرف استثناء ظرف وحال دونوں پر اکٹھا داخل ہوا ہے جیسا کہ پہلے گزرا یادر ہے کہ یہ اخذوا کی وجہ سے منصوب نہیں کیونکہ کلمہ شرط کا مابعد اپنے ماقبل میں عمل نہیں کرتا۔ اَیْنَمَا ثُقِفُوْآ (جہاں ملیں گے) وہ پائے جائیں گے۔ اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا (پکڑ دھکڑ اور ماردھاڑ کی جائے گی) قتِّلوا کی تشدید کثرت کو ظاہر کرتی ہے۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے اور تم خدا کی عادت میں تغیر و تبدل نہ پاؤ گے

62: سُنَّۃَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں یہ طریقہ رکھا) یہ مصدر مؤکد ہے ای سن اللہ فی الذین ینافقوں الانبیاء ان یقتلوا اینما وجدوا۔ اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ ان لوگوں کے متعلق رہا ہے جو انبیاء (علیہم السلام) سے منافقت اختیار کرتے رہے ہیں کہ جہاں وہ پائے جائیں ان کو قتل کردیاجائے۔ فی الذین خلوا من قبل ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلاً ، (جو پہلے ہو گزرے ہیں اور تم ہرگز اللہ تعالیٰ کے دستور میں ردو بدل نہ پائو گے) مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے طریقے نہیں بدلتے۔ بلکہ تمام امتوں میں ایک ہی طرح جاری رکھتے ہیں۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

بطورِ استہزاء وقت قیامت کا سوال : 63: یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ (آپ سے لوگ قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں) ۔ مشرکین رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے وقت کو دریافت کرتے اور جلد آنے کا بطور استہزاء مطالبہ کرتے اور یہودی بطور امتحان سوال کرتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تورات اور ہر کتاب میں عمومی بتلایا ہے پس اپنے رسول کو حکم فرمایا کہ ان کو جواباً فرمائیں کہ اس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ پھر اپنے رسول ﷺ کے سامنے واضح فرمایا کہ قیامت قریب الوقوع ہے اس سے جلدمطالبہ کرنے والوں کو دھمکادیا اور امتحان کرنے والوں کو خاموش کردیا۔ فرمایا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ وَمَایُدْرِیْکَ (کہہ دیجئے بیشک اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور آپ کو اس کی) لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوْنُ قَرِیْبًا۔ (کیا خبر کہ عجب نہیں کہ قیامت قریب ہی واقع ہوجائے) قریب والی چیز ہے یا ساعۃ زمانہ کے معنی میں ہو۔ شاید کہ اس کا زمانہ قریب ہو۔
Ayahs 33:64–65

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ابدالآباد رہیں گے نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار

64، 65: اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الْکٰفِرِیْنَ وَاَعَدَّ لَھُمْ (بیشک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے) سَعِیْرًا۔ ( اور انکے لئے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے) سعیرًا (وہ آگ جو سخت بھڑکنے والی ہو) ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا (وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) اس میں جہمیہ فرقہ کے اس خیال کی تردید ہے کہ جنت ونا رفنا ہوجائیں گے۔ : سعیراً یہاں وقف نہیں ہے کیونکہ خالد بن لھمؔ کی ضمیر سے حال ہے۔ لَایَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا (وہ نہ کوئی یار پائیں گے اور نہ کوئی مددگار) ایسا مددگار جو ان کو عذاب سے روک سکے۔
Ayah 33:66

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں کہیں گے اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے اور رسول (خدا) کا حکم مانتے

66: یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّار (جس روز ان کے چہروں کو آگ میں الٹ پلٹ کیا جائے گا) اطراف میں پھیرا اور گھمایا جائے گا۔ جیسا کہ گوشت کے قطعات کو تم ہانڈی میں جوش کے وقت پلٹتے دیکھتے ہو۔ وجہ خصوصیت : چہروں کو مخصوص کیا گیا۔ کیونکہ چہرے جسم میں معزز ترین عضو ہے۔ یا نمبر 2۔ وجہ بول کر سارا جسم مراد ہے۔ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ (یوں کہتے ہوں گے اے کاش ہم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ہوئی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی) پس اس عذاب سے چھوٹ جاتے یہ اس وقت کی تمنا ہے جب تمنا بےفائدہ ہوگی۔
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو راستے سے گمراہ کردیا

کفار کی چیخ و پکار : 67: وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّا اَطَعْنَا سَادَتَنَا (اور وہ یوں کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں کا کہا مانا) قراءت : شامی، سہل و یعقوب نے ساداتنا پڑھا ہے۔ جو جمع الجمع ہے اور مراد اس سے کفار کے وہ سردار ہیں جنہوں نے دوسروں کو کفر کی تلقین کی اور ان کے لئے کفر کی تزیین کی وَکُبَرَآ ئَ نَا (اور اپنے بڑوں کی) زیادہ عمر والے یا اپنے علماء کی فاضلو نا السبیلا (پس انہوں نے ہمیں راستہ سے گمراہ کیا تھا) عرب کہتے ہیں ضل السبیل واضلہ ایاہ اور الف کا اضافہ تو آواز کی خاطر ہے۔ آیات کے فاصلے اس طرح ہیں جیسے کہ اشعار کے قافیے ہوتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ وقف اور دلالت ہے کہ کلام میں انقطاع ہوگیا ہے اور بعد والا جملہ مستانفہ ہے۔
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

68: رَبَّنَآ ٰاتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ (اے ہمارے رب ان کو دوگنا عذاب دیجئے) گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا۔ وَالْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا (اور ان پر بڑی لعنت کیجئے) قراءت : کبیراً کو عاصم نے پڑھا ہے۔ تاکہ سخت لعنت اور بڑی لعنت پر دلالت ہو اور دیگرقراء نے تاء پڑھی تاء کہ لعنتوں کی گنتی زیادہ ہو۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو (عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے

69: یہ آیت زید اور زینب ؓ کے متعلق اتری۔ اور جو کچھ اس میں بعض لوگوں کی باتیں سنیں گئیں۔ یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ ٰاذَوْا مُوْسٰی (اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) فَبَرَّ اَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا (کو ایذاء دی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری کردیا جو انہوں نے کہا) نحو : ماؔ مصدریہ ہے یا موصولہ ہے جو بھی ہو براءت سے مراد بات کا مضمون اور اس کا مواد ہے۔ اور وہ غیب والا معاملہ ہے اور ایذاء موسیٰ (علیہ السلام) سے مراد وہ رنڈی کی حکایت ہے جس کا قارون نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے متعلق زنا کا الزام لگائے۔ یا موسیٰ پر یہ الزام کہ انہوں نے ہارون کو قتل کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا۔ انہوں نے زندہ ہو کر اطلاع دی کہ موسیٰ اس الزام سے بریٔ الذمہ ہیں۔ جیسا کہ آپ نے اس ارشاد سے اپنی براءت کی خبر دی۔ ماکان محمد ابا احدٍ من رجالکم ] الاحزاب : 40[ وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا (وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وقار والے تھے) وجیہًا کا معنی مرتبہ والے ‘ مقام والے اور مستجاب الدعوات۔ قراءت : ابن مسعود اور اعمش نے پڑھا وکان عبدًا للّٰہ وجیھًا۔
Ayah 33:70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

درست بات کا حکم : 70: یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور راستی کی بات کہو) ۔ سدیدًا (سچی اور درست بات) نمبر 2۔ حق جس سے مقصود ہو۔ السدادؔ : حق کا قصد کرنا اور عدل والا قول۔ مطلب یہ ہے لوگوں کو اس بات سے منع کرنا مقصود ہے۔ جس میں وہ مصروف تھے۔ قصہ زینب ؓ ۔ جس میں میانہ روی اور عدل سے گری باتیں کی جارہی تھیں۔ اور اس بات پر برانگیختہ کرنا ہے۔ کہ ہر موقعہ پر عدل والی بات کہیں کیونکہ حفاظت لسان ضروری ہے اور درست بات ہر خیر کی جڑ ہے۔
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا

قراءت : سدیْدًا یہاں پر وقف نہیں کیونکہ جواب امر یصلح لکم اعمالکم ہے۔ 71: یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو قبول کرے گا) تمہاری طاعات کو قبول کرے گا۔ نمبر 2۔ تمہیں صالح اعمال کی توفیق بخشے گا۔ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ( اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا) مٹا دے گا مطلب یہ ہے اپنی زبانوں کی حفاظت اور باتوں کی میانہ روی میں اللہ تعالیٰ کا لحاظ رکھو اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں مقصود یعنی قبولیت حسنات مہیا فرمادیں گے اور اس پر ثواب دیں گے اور تمہارے گناہوں کی بخشش فرما دیں گے سب گناہوں کو مٹا دیں گے۔ یہ آیت پچھلی آیت کے مضمون کو ثابت کرنے والی ہے اس کی بنیاد اس بات پر تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو ایذاء نہ پہنچائو۔ اور اس آیت کی بنیاد امر پر ہے کہ زبان کی محافظت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ تاکہ ان پر یکے بعد دیگرے نہی وامر کا حکم آجائے۔ نہی کے بعد موسیٰ ( علیہ السلام) کا واقعہ لائے جس میں وعید سنا دی گئی اور امر کے بعد بلیغ وعدہ کردیا گیا۔ جس سے ایذاء سے پھرنے کا مقصد پختہ اور مضبوط ہوگیا اور اس کے ترک کا داعیہ پیدا ہوا جب بڑی کامیابی کو اطاعت سے معلق فرمایا تو اسکے آخر میں یہ ارشاد فرمایا تھا۔ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا (جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔ پس وہ بہت بڑی کامیابی پا گیا) تو اسکے بعد یہ ارشاد لائے۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا

امانت کی وضاحت : 72: اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (بےشک ہم نے امانت آسمانوں اور زمین) ۔ وَالْجِبَالِ (ور پہاڑوں پر پیش کی) امانت سے مراد اطاعت اللہ ہے۔ اور حمل امانت سے مراد خیانت ہے عرب کہتے ہیں فلان حامل الا مانۃ ومحتمل لھا ای لا یؤدیہا الی صاحبھا حتی تزول عن ذمتہٖ یعنی وہ اس کو ادا نہیں کر تاکہ مالک کو پہنچ کر اس کے ذمہ سے اتر جائے۔ اس لئے کہ امانت گویا کہ مؤتمن پر سوار ہوتی ہے اور وہ اس کی سواری ہوتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے رکبتہؔ الدیون، ولی علیہ حق، وہ اس کو ادا کر دے تو وہ اس پر سوار نہیں رہتی اور نہ وہ حامل کہلا سکتا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ اجسام عظام یعنی آسمان ‘ زمین، پہاڑ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پورے طور پر مطیع ہیں۔ اور وہی ہے جو جمادات سے کام لینا جانتا ہے اور وہ اس کی ذات کیلئے اس کے لائق تعریف کرتے ہیں اور اس کے لئے وہ اطاعت انجام دیتے ہیں جو اطاعت ان کے لائق ہے۔ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت و ارادہ سے کوئی ایجاد وتکوین ممتنع نہیں اس نے مختلف حالتوں اور قسم قسم کی اشکال کو ٹھیک ٹھیک بنادیا۔ جیسا کہ فرمایا۔ ثم استوی الی السماء وھی دخان فقال لھا وللارض ائْتِیا طوعا اوکر ھا قالتا اتینا طائعین ] فصلت : 11[ اور اس نے خبر دی کہ سورج، چاند، نجوم، جبال، اشجار و دو اب اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اور بعض پتھر اللہ تعالیٰ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔ لیکن حضرت انسان کی حالت وہ نہیں جو اس کی ہونی چاہیئے اور جو اطاعت شعاری اور فرما نبرداری اس کے مناسب ہے۔ وہ اس نے اختیار نہیں کی۔ یہ حیوان عاقل ہے اور اس کو مکلف بنایا گیا۔ اس کی حالت ان جمادات جیسی ان چیزوں میں نہیں جو ان سے بھی درست طور پر ہو رہی ہیں اور جوا طاعت ان کے مناسب ہے اور جس سے وہ باز نہیں رہ سکتے۔ اور یہی معنی فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا ہے ( انہوں نے اس کی ذمہ داری سے انکار کردیا) مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اس میں خیانت اور عدم ادائیگی سے انکار کردیا۔ (حاصل یہ ہے کہ عرض سے فطری صلاحیت اور انکار سے لیاقت و صلاحیت کا فقدان اور اٹھانے سے مراد قابلیت و استعداد ہے (مترجم) وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا (اور اس سے ڈر گئے) اس میں خیانت سے ڈر گئے۔ وَحَمَلَھَا الْاَنْسَانُ (اور انسان نے اس کو اٹھا لیا) یعنی اس میں خیانت کی اور اس نے انکار کردیا مگر اس بات سے وہ اس کو اٹھائے گا اور اس کو ادا نہ کرے گا۔ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا (بیشک وہ ظالم ہے) کیونکہ وہ امانت کی ادائیگی کو چھوڑنے والا ہے۔ جَہُوْلًا (جاہل ہے) کیونکہ وہ سعیدبنانے والی چیز کو بھلانے والا ہے۔ حالانکہ اس کو اس پر قدرت حاصل ہے اور وہ قدرت اس کی ادائیگی ہی ہے۔ قول زجاج (رح) : کافر و منافق نے امانت کو اٹھایا۔ یعنی خیانت کی اور اطاعت نہ کی اور جس نے اطاعت اختیار کی جیسے انبیاء (علیہم السلام) اور مومن ان کو ظلوم جہول نہ کہا جائیگا۔ ایک قول ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے انسان کا مکلف بنایا جانا یہ اس کی انتہائی عظمت ہے اس لئے کہ یہی چیز مخلوقات الٰہی میں سے جو بڑے اجرام و اجسام اور زیادہ قوت والے ہیں ان پر پیش کی گئی تو انہوں نے یہ ذمہ داری اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے۔ انسان نے اپنے ضعف و کمزوری کے باوجود اس کو اٹھا لیا۔ بیشک یہ ظلوم و جہول ہے۔ اس حیثیت سے کہ اس نے امانت تواٹھالی پھر اس کو پورا نہیں کیا۔ ضامن تو بن گیا پھر اپنی ضمانت میں خیانت کی۔ کلام عرب میں ایسے انداز کلام کی بہت مثالیں ملتی ہیں۔ اور قرآن مجیداسلوب عرب کے مطابق آیا ہے۔ مثلاً عرب کا قول ہے لوقیل للشحم این تذھب ؟ قال اسوّی العوج۔ اگر چربی کو کہیں تو کہاں جائے گی۔ تو وہ ضرور یہ جواب دیتی میں ٹیڑھ کو درست کرونگی۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

73: لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ (تاکہ اللہ تعالیٰ منافقین اور منافقات) وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ (اور مشرکین اور مشرکات کو عذاب دے) ۔ نحو : لیعذب کی لام تعلیلیہ ہے کیونکہ یہ تعذیب اس تادیب کی طرح ہے جو اس قول میں ہے ضربتہ للتأدیب۔ اس صورت میں قراءت : جھولًا پر وقف نہ کریں گے۔ قراءت : اعمش نے وَیَتُوْبُ اللّٰہ پڑھا ہے۔ تاکہ حامل کے فعل پر یہ علت قاصرہ بنے اور جملہ ابتدائیہ ہوگا وَیَتُوْبُ اللّٰہُ اور مشہور معنی یہ ہے کہ انجام یہ ہوا کہ اللہ حامل امانت (خائن) کو عذاب دے گا۔ اور دوسروں پر رجوع فرمائے گا جو حامل امانت (خائن) نہیں کیونکہ جب وفا کرنے والے پر توجہ کی جائیگی تو چھوڑنے والے پر یہ عذاب کی قسم بن جائے گی۔ نمبر 2۔ لام عاقبت کا ہے یعنی انسان نے اس کو اٹھایا۔ اس میں حکم دیا گیا کہ بدبختوں کو سزا دی جائے گی۔ اور سعداء کی توبہ قبول کی جائے گی۔ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا (اور اللہ تعالیٰ غفور) ہیں تو بہ کرنے والے کیلئے رَّ حِیْمًا (رحیم ہے) اپنے مومن بندوں کیلئے۔