Ayahs 32:1–21، 2: الٓمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ لَارَیْبَ فِیْہِ (الم ! یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس میں کچھ شبہ نہیں) ۔ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (یہ رب العالمین کی طرف سے ہے)
الٓمٓ : نمبر 1۔ اگر اس کو سورت کا نام مانا جائے تو یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبرتنزیل الکتاب ہے۔ نمبر 2۔ اگر اس کو حروف مقطعات سے شمار کریں تو پھر تنزیل الکتاب مبتدأ محذوف کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہوگی۔
تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ : : نمبر 1۔ یہ مبتدا ٔ اور اس کی خبر لا ریب فیہ ہے۔
لَارَیْبَ فِیْہِ : مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع اور اس کی خبر من رب العالمین ہے اور لا ریب فیہ جملہ معترضہ ہے اور اس کی ضمیر مضمون جملہ کی طرف راجع ہے گویا کلام اس طرح ہے لا ریب فی ذلک ای فی کونہ منزلًا من رب العالمین۔ اس میں شبہ نہیں یعنی اس کے رب العالمین کی طرف سے منزل ہونے میں شبہ نہیں کیونکہ وہ انسانوں کو عاجز و درماندہ کرنے والا ہے۔ اور ایسی شئی شبہ سے بعید تر ہے۔ پھر اس سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 32:3جب یہ اللہ کا اتارا ہوا ہے تو اس کو مفتری کہنے کی کوئی وجہ نہیں :
3: اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٹہُ (کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو پیغمبرنے گھڑ لیا ہے) یعنی محمد ﷺ اس کو بنا کر لائے ہیں۔ کیونکہ ام ؔ منقطعہ ہے جو کہ بل کے معنی میں ہے ہمزہ انکار و تعجب کیلئے ہے کلام اس طرح ہے بل ایقولون افتراہ (بلکہ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کو بنا لیا ہے) اس لئے کہ قرآن تین آیات جو اس کی مثل ہوں کے چیلنج سے ان کے بلغاء کو عاجز کرچکا (پھر کس منہ سے اس کو من گھڑت کہتے ہیں) بَلْ ھُوَالْحَقُّ (بلکہ یہ سچی کتاب ہے) پھر ان کے انکار سے اعراض کرتے ہوئے اثبات کی طرف رخ پھیر دیا کہ بیشک وہ برحق ہے۔ مِنْ رَّبِّکَ (آپ کے رب کی جانب سے ہے) اس کو محمد ﷺ نے خود نہیں بنایا۔ جیسا کہ کفار مکہ محض ضد اور جہالت کی وجہ سے کہتے تھے۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا (ـتاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں) قوم سے اہل عرب مراد ہیں۔ مَّآ اَتٰہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ (جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا) ۔
نحو : ماءؔ نا فیہ ہے اور جملہ قوماً کی صفت حالت نصبی میں واقع ہے۔ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ (تاکہ وہ لوگ راہ پر آجائیں) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے امید کی بناء پر لعل لایا گیا جیسا کہ موسیٰ و ہارون کی طرف سے امید پر ان کے لئے استعمال ہوا۔ لعلہ یتذکر ] طہ : 44[
Ayah 32:4خالق و مدبر وہی ہے :
4: اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین) وَمَا بَیْنھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (اور جو کچھ ان کے مابین ہے چھ دن کے عرصہ میں پیدا کیا پھر عرش پر قائم ہوا) پھر عرش پر استیلاء کیا اس کے احداث کے سبب۔ مَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ (تمہارے لئے اس کے سوا) اللہ تعالیٰ کے سوا مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ ( کوئی مددگار اور سفارش کرنے والا نہیں) یعنی جب تم اس کی رضا مندی سے تجاوز کر جائو تو اپنے لئے اس کو مددگار نہ پائو جو تمہاری امداد کرے۔ اور نہ کوئی سفارشی پائو گے جو تمہاری سفارش کرے۔ اَفَلاَ تَتَذَکَّرُوْنَ (کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جانے والے مواعظ سے نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 32:55: یُدَبِّرُ الْاَمْرَ (وہ معاملات کی تدبیر کرتا ہے) دنیا کے معاملات کی مِنَ السَّمَآ ئِ اِلَی الْاَرْضِ (آسمان سے زمین تک) یہاں
تک کہ قیامت آجائے ثُمَّ یَعْرُجُ اِلِیْہِ (پھر یہ سب امر اسی کی بارگاہ میں پہنچ جائے گا) وہ سارے امور اس کی بارگاہ میں پہنچیں گے تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ فرمائے۔ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ اَلْفَ سَنَۃٍ (ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے) وہ قیامت کا دن ہے۔ مِّمَّا تَعُدُّوْنََ (تمہاری گنتی کے موافق) دنیا کے دنوں کے موافق۔
تردید فرقہ باطلہ :
فرقہ مشبہ کیلئے الیہ ؔ کے لفظ سے استدلال کی کوئی گنجائش نہیں ہے وہ اس سے جہت ثابت کرتے ہیں حالانکہ اس سے الی حیث یرضاہ۔ (اس کی رضا کا مقام) یا الٰی امرہ۔ (اس کے حکم کی طرف) مراد ہے جیسا کہ ان آیات میں ان کے لئے الیٰ سے استدلال کا موقعہ نہیں۔ نمبر 1۔ انی ذاھب الی ربی ] الصافات : 99[ نمبر 2۔ انی مھاجرالی ربی ] العنکبوت : 26[ نمبر 3۔ ومن یخرج من بیتہٖ مھاجرًا الی اللہ ] النساء : 100[
Ayah 32:6وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے :
6: ذٰلِکَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ (وہی ہے جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر باتوں کا) یعنی وہ ان تمام چیزوں کو جو مخلوق سے پوشیدہ یا مخلوق کے مشاہدہ میں ہے جاننے والا ہے۔ الْعَزِیْزُ (وہ زبردست ہے) اس کا حکم و تدبیر ہر چیز پر غالب ہے۔ الرَّحِیْمُ (وہ مہربان ہے) اس کی نرمی اور آسانیاں انتہاء کو پہنچنے والی ہیں۔
قراءت : ایک قول یہ ہے کہ اس پر وقف نہیں کیونکہ الذی جملہ اس کی صفت ہے۔
Ayah 32:7اس کی دلیل :
7: الَّذِیْ (وہ جس نے) یہ ماقبل کی صفت ہے۔ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْ ئٍ (ہر شئی کو خوبصورت بنایا) اس کو خوب بنایا کیونکہ ہر چیز کو تقاضہ حکمت سے مرتب فرمایا گیا ہے۔ خَلَقَہٗ قراءت : کوفی، نافع، سہل نے صفت قرار دیا ای کل شی خلقہ فقد احسن۔ ہر چیز جو اس نے پیدا کی خوب بنایا۔ دیگر قراء نے خَلْقَہٗ بدل قرار دیا۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ احسن خَلْقَ کل شیٔ ہر چیز کی پیدائش کو خوب بنایا۔ وَبَدَأ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ (اور انسان کی تخلیق کی ابتداء مٹی سے کی) الانسان الف لام عہد کا ہے اور مراد آدم ( علیہ السلام) ہیں۔
Ayah 32:88: ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ (پھر اس کی نسل کو بنایا) اس کی اولاد کو۔ مِنْ سُلٰلَۃٍ (خلاصہ اختلاط سے) یعنی نطفہمِّنْ مَّآ ئٍ (یعنی پانی سے) مراد منی ہے۔
نحو : یہ سلالہ سے بدل ہے۔ مَّھِیْنٍ (بےقدر سے) کمزور و حقیر۔
Ayah 32:9دوسری دلیل :
9: ثُمَّ سَوّٰ ہٗ (پھر اس کے اعضاء درست کئے) جیسا کہ فرمایا فی احسن تقویم ] التین : 4[ وَنَفَخَ (اور اس نے پھونکی) داخل کی۔ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ (اس میں اپنی روح)
نحو : اس میں اضافت تخصیص کیلئے ہے گویا اس طرح فرمایا ونفخ فیہ من الشی الذی اختص ہو بہ و بعلمہ اس نے اس میں ایسی شئی پھونک دی جس کے وہ خاص ہے۔ اپنے علم کے ساتھ خاص ہے۔
تیسری دلیل :
وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ (اور اس نے کان، آنکھیں اور دل بنا دیے) تاکہ تم سن، دیکھ اور سمجھ سکو۔ قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ (بہت کم شکریہ تم لوگ ادا کرتے ہو) تم شکر کم کرتے ہو۔
Ayah 32:1010: وَقَالُوْا (اور لوگ کہتے ہیں) یہ کہنے والا ابی بن خلف تھا کیونکہ اس کی یہ بات سب کو پسند تھی اس لئے سب کی طرف اسناد و نسبت کردی۔ ئَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ (کیا جب ہم زمین میں نیست و نابود ہوگئے) یعنی مٹی ہوگئے اور زمین کی مٹی سے اس طرح رل مل گئے اس سے امتیاز نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ پانی اور دو دھ مل جاتے ہیں۔ نمبر 2۔ زمین میں دفن ہو کر غائب ہوگئے۔
قراءت : علی نے ضَلِلْنَا لام کے کسرہ سے پڑھا ہے کہا جاتا ہے ضَلَّ یَضِلُّ ۔ ضَلَّ یَضَلُّ ۔
نحو : اذا ظرف أاذا ضللنا میں منصوب ہوگا اس پر أانا لفی خلق جدید دلالت کرتا ہے۔
أَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ( کیا ہم نئی پیدائش میں آئیں گے) اور وہ دوبارہ اٹھنا ہے۔ بَلْ ھُمْ بِلِقَآیِٔ رَبِّھِمْ کٰفِرُوْنَ (بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں) ضد سے انکار کرنے والے ہیں۔ جب ان کے انکار بعث بعد الموت کو ذکر کیا تو اس سے بلیغ تر کی طرف اعراض کرتے ہوئے فرمایا۔ اور وہ یہ ہے کہ وہ آخرت میں جو کچھ بھی ہونے والا ہے اس سب کے منکر ہیں فقط بعث ہی کے منکر نہیں۔
Ayah 32:111 1: قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ (کہہ دیجئے تمہاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تم پر متعین) ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ (ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جائو گے) تم کو موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے وہ قبض کرے گا تمہاری ارواح کو قبض کرکے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جائوگے۔ اس کے بعد حساب و کتاب کیلئے تم اٹھائے جائو گے۔ لقاء اللہ کا یہ معنی ہے۔
منکرین آخرت کو فہمائش :
التوفیؔ: روح کو پورا پورا لینا تم سب کی ارواح کو قبض کیا جائے گا۔ اہل عرب کہتے ہیں یوفیت حقی من فلان۔ جبکہ پورا پورا بغیر کسی نقصان کے لے لیاجائے۔
قول مجاہد (رح) ہے کہ ملک الموت کیلئے زمین سمیٹ دی جاتی اور ایک پلیٹ کی طرح کردی جاتی ہے وہ جہاں سے چاہتا ہے روح لے لیتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ملک الموت ارواح کو آواز دیتا ہے تو وہ اس کو جواب دیتی ہیں پھر اپنے ساتھیوں کو حکم دیتا ہے وہ اس کو قبض کرلیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی اس سب کا حکم دینے والے ہیں۔ وہی مخلوقات کے افعال کا خالق ہے یہ اس آیت اور دوسری آیات توفتہٗ رسلنا ] الانعام : 61[ میں اور اللہ یتوفی الانفس حین موتھا ] الزمر : 42[ میں موافقت کی ایک صورت ہے۔
Ayah 32:1212: وَلَوْ تَرٰٓی (اور اگر آپ دیکھیں) یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے نمبر 2۔ ہر ایک کو خطاب ہے۔
نحو : لوؔ امتناعیہ ہے اور اس کا جواب محذوف ہے ای لرأیت امرًا عظیمًا۔
مجرمین کا حال :
اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ (جبکہ یہ مجرم لوگ) وہی لوگ ہیں جنہوں نے أاذا ضللنا فی الارض ] السجدہ : 10[ کے الفاظ کہے تھے۔ لو اور اذادونوں ماضی کیلئے آتے ہیں اور یہ جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو منتظر ہے وہ بھی موجود ہی کی طرح ہے۔ تری اور جن کو یہ شامل ہے ان کے لئے مقدرماننے کی ضرورت نہیں گویا اس طرح فرمایا گیا ولوتکون منک الرؤیۃ اور اِذؔ اس کا ظرف ہے۔
نَاکِسُوْا رُئُ وْسِھِمْ (وہ اپنے سروں کو جھکانے والے ہونگے) ذلت، حیاء، اور شرمندگی کی وجہ سے۔ عِنْدَ رَبِّہِمْ (اپنے رب کے ہاں) اپنے رب کے ہاں حساب دیتے وقت۔ اس پر وقف جائز ہے کیونکہ حذف کا حق ہے کیونکہ تقدیر کلام یقولون رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا (اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا) تیرا وعدہ اور وعید سچی ہے۔ وَسَمِعْنَا (اور ہم نے سن لیا) تیری طرف سے تیرے رسولوں کی تصدیق یا ہم اندھے اور بہرے تھے پس ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ فَارْجِعْنَا (تو ہمیں واپس لوٹا دے) دنیا کی طرف نَعْمَلْ صَالِحًا (ہم نیک عمل کریں گے) ایمان و اطاعت اختیار کریں گے۔ اِنَّا مُوْقِنُوْنَ (بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں) بعث بعد الموت اور حساب پر۔
Ayah 32:1313: وَلَوْشِئْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ (اگر ہمیں منظورہوتا تو ہم ہر نفس کو) دنیا میں ھُدٰھَا (اس کا راستہ عطاء فرماتے) یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو وہ مہربانی جو ہمارے پاس ہے وہ دے دیتے جس کو اگر وہ اختیار کرلیتے تو ہدایت پا جاتے لیکن ہم نے ان کو وہ مہربانی عنایت نہ کی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ کفر کو اختیار کریں گے اور وہ اس کو ترجیح دیں گے۔
ردِمعتزلہ :
کیونکہ معتزلہ کے ہاں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ہر نفس کو وہ چیز دے جس سے وہ ہدایت پائے اور اس نے دے بھی دی لیکن اس نے ہدایت نہ پائی۔ معتزلہ نے اس آیت کی تاویل مشیئت ِجبر سے کی ہے اور یہ فاسد تاویل ہے جیسا کہ دلائل سے معلوم ہوچکا۔ وَلٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَ مْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ (لیکن یہ بات ثابت ہوچکی کہ میں جہنم کو جنات اور انسان دونوں) وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (سے بھروں گا۔ ) لیکن یہ بات میری طرف سے لازم ہوچکی اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ وہ ایسے اعمال کریں گے جو ان پر جہنم کو واجب کردیں گے۔ اور وہ اسی طرح ہوا جیسا اس کے علم میں تھا کہ وہ ردو تکذیب کو پسند کریں گے۔
نکتہ تخصیص :
جن وانس کی تخصیص سے اشارہ کردیا کہ ملائکہ اس قسم کے اعمال سے معصوم ہیں جو جہنم کو واجب کرنے والے ہیں۔
Ayah 32:1414: فَذُوْقُوْا (پس تم چکھو) عذاب کو بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآ ئَ (اس وجہ سے کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا) اس وجہ سے کہ تم نے ملاقات کے اعمال کو ترک کردیا۔ یَوْمِکُمْ ھٰذَا (وہ عمل ایمان ہے جس کو بھلایا) ۔ اِنَّا نَسِیْنٰکُمْ (بیشک ہم نے تمہیں بھلا دیا) یعنی بھلائے ہوئے کی طرح عذاب میں چھوڑ دیا۔ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ (تم ہمیشہ کا عذاب چکھو) دائمی عذاب جو منقطع نہ ہوگا۔ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (اپنے اعمال کی وجہ سے) وہ کفر اور دیگرمعاصی ہیں۔
Ayah 32:15ایمان والوں کی صفات :
15: اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا (تو ہماری آیات پر وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جب ان کو وہ آیتیں یاد دلائی جائیں) یعنی ان آیات کے ساتھ نصیحت کی جائے خَرُّوْا سُجَّدًا (وہ سجدہ میں گرپڑتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تواضع اور خشوع سے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اسلام کی نعمت عنایت ہونے پر شکریہ میں سجدہ کرتے ہیں۔ وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّھِمْ (اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں) تسبیحؔ اللہ تعالیٰ کو ان باتوں سے جو اس کی ذات کے لائق نہیں پاک قرار دیتے ہیں۔ حمدؔ اس کی حمدو ثناء بیان کرتے ہیں۔ وَھُمْ لَایَسْتَکْبِرُوْنَ (اور وہ تکبر نہیں کرتے) ایمان لانے اور سجدہ کرنے سے تکبر نہیں کرتے۔
Ayah 32:1616: تَتَجَافٰی (اور علیحدہ رہتے ہیں) دور اور الگ رہتے ہیں جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (ان کے پہلو خواب گاہوں سے) مضاجعؔ بستر اور سونے کے مقامات۔
سہل (رح) کا قول :
ایک جماعت کو اس نے ایک عطیہ دیا اور وہ یہ ہے کہ ان کو اپنے سے مناجات کی اجازت دی اور ان کو اپنے وسیلہ میں سے قرار دیا۔ پھر اس پر ان کی تعریف و مدح کی اور فرمایا تتجا فی جنوبہم عن المضاجع۔ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ (وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں) اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔
خَوْفًا وَّطَمَعًا (امیدوخوف سے) یہ مفعول لہ ہے مطلب یہ ہے لاجل خوفہم من سخطہ و طمعہم فی رحمتہ وھم المتھجّدون اس کی ناراضی کے خوف اور اس کی رحمت کی طمع میں اس حال میں کہ وہ تہجد گزار ہوتے ہیں۔
قول رسول ﷺ :
اس کی تفسیر میں فرمایا بندے کا رات کو قیام کرنا۔ ] رواہ احمد 5/ 232، 242[ ابن عطاء کہتے ہیں ان کے پہلو غفلت کے بستر کی بجائے قربت کے قالین کے خواہشمند ہیں یعنی رات کو نماز پڑھتے ہیں۔
انس ؓ کا قول کہ آنحضرت ﷺ کے بعض اصحاب نماز مغرب عشاء اخیرہ تک پڑھتے رہتے۔ انہی کے بارے میں یہ آیت اتری۔ (ابن مردویہ) ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو عشاء کی نماز پڑھ کر سوتے ہیں اس سے پہلے نہیں سوتے۔ وَّمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ (اور جو ہم نے رزق دیا وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے ہیں۔
Ayah 32:17مخفی عمل کا مخفی بدلہ :
17: فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ (پس کسی شخص کو معلوم نہیں جو جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے لئے خزا نہ غیب میں موجود ہے) ماؔ یہ الذی کے معنی میں ہے ای الذی۔
قراءت : اُخْفِیحکایت نفس کے طور پر حمزہ، یعقوب نے پڑھا ہے۔
مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ (آنکھوں کی ٹھنڈک) کوئی نہیں جانتا کہ ان کیلئے کیا عظمت کی چیزیں ہیں۔ جَزَآ ئً (بدلہ کے طور پر )
نحو : یہ جو زوا مصدر کا مفعول ہے۔
بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان اعمال کے بدلہ میں جو وہ کرتے تھے)
حسن (رح) کا قول :
جو لوگ دنیا میں اعمال سب سے چھپا کر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ چھپارکھا ہے جو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور نہ کسی کان نے سنا۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اس سے مراد رات کی نماز ہے۔ تاکہ بدلہ اس کے موافق ہو (وہ بھی مخفی وہ بھی مخفی)
Ayah 32:18کافرو مومن میں فرق :
18: پھر بیان کیا کہ جو نور ایمان وطاعت کے ساتھ ہے وہ اس کے برابر نہیں جو کفروعصیان کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے فرمایا : اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا (تو جو شخص مومن ہوگیا وہ اس شخص جیسا ہوجائے گا جو کافر ہے) فاسقؔ یہاں کافر کے معنی میں ہے کیونکہ دونوں منؔ پر محمول ہیں اور ایمان کا مقابل کفر ہوتا ہے۔ لَا یَسْتَوٗنَ (وہ آپس میں برابر نہیں ہوسکتے) معنوی اعتبار سے اس کی دلیل اگلے ارشاد میں ہے۔
Ayah 32:19مومن کا بدلہ :
19: اَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ جَنّٰتُ (جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے پس ان کے لئے ہمیشہ کاٹھکانہ) الْمَاْوٰی (جنتیں ہیں) جنت الماویؔ یہ جنت کی ایک قسم ہے جہاں ارواح شہداء قیام پذیرہوتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے۔ یہ عرش کی دائیں جانب ہے۔ نُزُلًا بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (ان کے اعمال کے بدلہ میں بطور مہمانی) یہ عطیہ ان کے اعمال کے بدلہ میں ہوگا۔ النزلؔ اول تو یہ مہمان کو پیش کیا جانے والا عطیہ تھا پھر اس کا استعمال عام عطیہ کیلئے ہونے لگا۔
Ayah 32:20کافر کا بدلہ :
20: وَاَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰھُمُ النَّارُ (اور جو لوگ کافر ہوئے پس ان کا ٹھکانہ آگ ہے) ماویٰ کا معنی پناہ گاہ اور اترنے کی جگہ کُلَّمَا اَرَادُوْا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا وَقِیْلَ لَھُمْ (وہ لوگ جب اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے پھر اس میں دھکیل دیے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا) ان کو جہنم کے داروغہ کہیں گے۔ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ (تم دوزخ کا وہ عذاب چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) ۔
فائدہ : یہ دلیل ہے کہ یہاں فاسق سے مراد کافر ہے کیونکہ تکذیب ایمان کے بالمقابل ہے۔
Ayah 32:2121: وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی (اور ضرور ہم ان کو قریب کا عذاب چکھائیں گے) دنیا میں قید کا عذاب اور وہ سات سال کا قحط جو ان پر مسلط کیا گیا دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ (بڑے عذاب سے پہلے) بڑے عذاب سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ ہم ان کو عذاب آخرت تک پہنچنے سے پہلے چکھائیں گے۔
دارانی کا قول :
عذابِ ادنیٰ سے رسوائی و ذلت مراد ہے اور عذاب ِاکبر سے ہمیشہ کی آگ۔
ایک قول :
عذاب ِادنیٰ سے عذاب ِقبر مراد ہے۔
لَعَلَّھُمْ (شاید کہ وہ) جن کو قریبی عذاب دیا گیا ہے۔ یَرْجِعُوْنَ (باز آئیں) کفر سے توبہ کرلیں۔
Ayah 32:22اعراضِ حق عقل سلیم سے بعید تر ہے :
22: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ (اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس کو یا دد لائی جائیں) نصیحت کی جائے بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ (اس کے رب کی آیات) یعنی قرآن مجید کے ذریعہ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْھَا (پھر وہ ان سے اعراض کرے) ان سے منہ موڑے اور ان میں تدبر نہ کرے۔
نحو : ثمؔ استبعاد کیلئے آتا ہے۔ ایسی آیات جو اس قدر واضح، روشن اور سیدھے راستہ کی طرف راہنما اور سعادت عظمیٰ سے نوازنے والی ہوں ان سے نصیحت کرنے کے بعد جو آدمی اور اعراض کرے گا اس کا اعراض عقل سلیم سے بہت دور ہے۔ جیسا کہ تم اپنے دوست کو کہو۔ تو نے ایسی فرصت پائی مگر پھر اس سے فائدہ نہ اٹھایا ؟ درحقیقت یہ بات اس کے فرصت کو غنیمت نہ جاننے سے استبعاد کا اظہار کرتے ہوئے تم نے کہی۔ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنِ (بلاشبہ ہم مجرمین سے انتقام لینے والے ہیں)
مسئلہ : یہاں منہؔ نہیں فرمایا کیونکہ جب اس کو اظلم الظالمین قرار دیا پھر عام مجرمین کو اپنے انتقام سے ڈرایا اس سے بڑے ظالم کو انتقام کا بڑا حصہ پانے کا ثبوت خود مل گیا۔ اگر صراحت کی بجائے ضمیرلائی جاتی تو یہ فائدہ حاصل نہ ہوسکتا۔
Ayah 32:23کتاب کا ملنا :
23: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ (تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی) یعنی تورات فَلاَ تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ (پس آپ شک نہ کیجئے) مریۃ کا معنی شک آتا ہے۔ مِّنْ لِّقَآئِہٖ (ان کے ملنے میں) موسیٰ (علیہ السلام) کے کتاب ملنے سے نمبر 2۔ لیلۃ المعراج میں موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات نمبر 3۔ قیامت کے دن کی ملاقات نمبر 4۔ آخرت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی رب تعالیٰ سے ملاقات اسی طرح نبی اکرم ﷺ سے ملاقات۔ وَجَعَلْنٰہُ ھُدًی لِّبَنِیْ اِسْرَآ ئِ یْلَ (ہم نے اس کو بنی اسرائیل کیلئے ہدایت بنایا تھا) ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) پر اتاری جانے والی کتاب کو ان کی قوم کیلئے ہدایت بنایا۔
Ayah 32:2424: وَجَعَلْنَا مِنْھُمْ اَپمَّۃً (اور ہم نے ان میں بہت سے پیشوا بنا دیے) قراءت : ائمۃ دونوں ہمزہ کے ساتھ کوفی و شامی نے پڑھا ہے۔ یَّھْدُوْنَ (وہ ہدایت کیا کرتے تھے) لوگوں کو اور ان کو اللہ تعالیٰ کے دین و شریعت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ بِاَمْرِنَا (ہمارے حکم سے) جو خاص انہی کو دیا جبکہ انہوں نے حق اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر اختیار کیا یا معاصی سے اعراض پر جمے رہے۔ لَمَّا صَبَرُوْا (جبکہ انہوں نے ثابت قدمی اختیار کی)
قراءت : لِمَا صبروا یہ حمزہ و علی کی قرات ہے۔ دنیا سے بچے رہنے کی وجہ سے۔
مسئلہ : اس سے ثبوت ملتا ہے۔ کہ جو صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی امامت عنایت فرماتے ہیں۔ وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ (اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے) وہ ایسا یقینی علم رکھتے تھے جس میں شک کی ذرہ بھر ملاوٹ نہ تھی۔
Ayah 32:2525: اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَفْصِلُ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (بیشک آپ کا رب وہی ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا) نمبر 1۔
انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے درمیان نمبر 2۔ مؤمنوں اور مشرکوں کے درمیان۔ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے) پس وہاں حق پرست اور باطل پرست ظاہر ہوجائے گا۔
Ayah 32:2626: اَوَلَمْ (کیا نہیں) ۔
نحو : وائو عاطفہ ہے اور معطوف علیہ منوی جو معطوف کی جنس سے ہو اس پر عطف کیلئے لائی گئی ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ألم یدعِ ۔ یھد ای یبین (یعنی واضح ہوا)
نحو : اس کا فاعل اللہ ہے اس کی دلیل زید کی قراءت ہے جو بروایت یعقوب نَہْدِہے۔
لَھُمْ (ان کو) اہل مکہ کیلئے۔ کَمْ (کتنے )
نحو : یہ یھد کا فاعل بنانا جائز نہیں ہے کیونکہ کمؔ استفہام کیلئے ہے اور اس میں ماقبل قطعاً عمل نہیں کرتا۔ کمؔ محلًا یہاں منصوب ہے۔ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ (ہلاک کرچکے ان سے پہلے امتیں) جیسا عاد، ثمود، قوم لوط۔
یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِھِمْ (یہ ان کے رہنے کے مقامات میں آتے جاتے ہیں) ۔ یعنی اہل مکہ اپنی تجارت کے اسفار میں ان کے بلا دودیار سے گزرتے تھے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ اَفَلاَ یَسْمَعُوْنَ (بیشک اس میں صاف نشانیاں ہیں کیا وہ لوگ سنتے نہیں) ان نصائح کو تاکہ ان سے وہ نصیحت حاصل کرتے۔
Ayah 32:2727: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآ ئَ (کیا وہ نہیں نظر کرتے اس بات پر کہ ہم پانی پہنچاتے ہیں) ہم بارش اور دریا جاری کرتے ہیں۔ اِلَی الْاَرْضِ الْجُرُزِ (خشک زمین کی طرف) یعنی وہ زمین جس کی نبات منقطع ہوچکی ہو یعنی کاٹ لی گئی ہو نمبر 1۔ یا تو پانی نہ ملنے کی وجہ سے نمبر 2۔ یا اس لئے کہ اس کو چروا لیا گیا۔
جرزؔ : اس زمین کو ہرگز نہیں کہتے جو فصل نہ اُگائے اس کی دلیل یہ قول ہے فنخرج بہٖ زرعًا الایۃ فَنُخْرِجُ بِہٖ (پھر ہم اس سے نکالتے ہیں) ہٖ سے مراد پانی ہے۔ زَرْعًا تَاْکُلُ مِنْہُ (کھیتی جس سے کھاتے ہیں) ہٗ سے مراد کھیتی اَنْعَامُہُمْ (ان کے
چوپائے) بھوسہ وَاَنْفُسُھُمْ (اور وہ بذات خود) اس غلہ سے اَفَلاَ یُبْصِرُوْنَ ( کیا وہ دیکھتے نہیں ہیں) ۔ اپنی آنکھوں سے تاکہ وہ مردوں کے زندہ کرنے پر استدلال کرلیتے۔
Ayah 32:28فیصلے کے منتظر :
28: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْفَتْحُ (اور وہ کہتے ہیں کب ہوگا یہ فیصلہ) کامیابی، نمبر 2۔ حکومت سے فیصلہ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے ربنا افتح بیننا ] الاعراف : 89[ مسلمان کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عنقریب مشرکین پر فتح دیں گے۔ نمبر 3۔ ہمارے اور ان کے مابین فیصلہ فرما دیں گے جب مشرکین یہ سنتے تو کہتے متی ھذا الفتح۔ یہ کہہ کر طعنہ زنی کرتے کہ کس و قت وہ فیصلہ ہوگا ! اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ وہ ہو کر رہے گا۔
Ayah 32:29فیصلے کا دن :
29: قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ (کہہ دیجئے فیصلہ کا دن) یہاں قیامت کا دن مراد ہے۔ وہی حقیقت میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے مابین فیصلہ کا دن ہوگا۔ اور اس دن مسلمانوں کو کافروں پر مکمل کامیابی ملے گی۔ نمبر 2۔ یوم بدر۔ نمبر 3۔ فتح مکہ کا دن۔ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِیْمَانُہُمْ وَلَا ھُمْ یُنظَرُوْنَ (کافروں کو ان کا ایمان فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی) ۔
ایک سوال :
یہ کلام ان کے سوال کا بظاہر درست جواب نہیں بنتا ؟
حل :
جواب میں ان کی جو غرض معروف تھی۔ اس کا لحاظ کر کے جواب دیا گیا ہے۔ لیکن ان کے سوال کی غرض فیصلہ کا وقت تھا۔ اور وہ بطور استہزاء و تکذیب کے اس کو جلد مانگ رہے تھے۔ اس لئے ان کو کہا گیا کہ تم عذاب جلدی مت مانگو۔ اور اس کا مذاق نہ اڑائو۔ پس گویا کہ میں اور تم اس دن کو پاچکے اور تم ایمان لائے مگر تمہارے ایمان نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور عذاب کی آمد میں تم نے مہلت مانگی وہ بھی نہ ملی۔ جنہوں نے اس کی تفسیر فتح مکہ سے کی ہے یا یوم بدر سے کی ہے۔ ان کے نزدیک اس سے مراد مقتولین بدر و فتح ہیں۔ کیونکہ حالت قتل میں ایمان کا فائدہ نہیں۔ جیسا کہ فرعون کا غرق کے وقت ایمان معتبر نہ ہوا۔
Ayah 32:3030: فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَانْتَظِرْ (پس آپ ان سے اعراض کریں۔ اور انتظار کریں) ان پر کامیابی اور ان کی ہلاکت کا۔ اِنَّہُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ (بیشک وہ بھی منتظر ہیں) تم پر غلبہ اور تمہاری ہلاکت و بربادی کے۔
سورت کی فضیلت :
آنحضرت ﷺ سونے سے قبل الم تنزیل اور تبارک الذی تلاوت فرماتے۔ اور فرمایا جس نے الم تنزیل اپنے گھر میں پڑھی وہاں تین دن تک شیطان داخل نہیں ہوسکتا۔ (قال الحافظ لم اجدہ) ابن مسعود ؓ : سورة الم تنزیل یہ سورت مانعہ ہے جو عذاب قبر سے روکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس سورت کو اکثر فجر کی نماز میں پڑھتے۔ ( احمد، ترمذی عن جابر)