Ayah 35:3434: وَقَالُوْا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) اور وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ جس نے ہم سے غم کو دور کیا) الحزنؔ سے آگ کا خوف یا موت کا خوف یا دنیا کے غموم مراد ہیں۔ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ) بیشک ہمارا رب بڑا بخشنے والا ( وہ جنایات کو بخش دے گا خواہ کتنی کثرت سے ہوں۔ شَکُوْرٌ) قدر دان ہے (طاعات کو خواہ قلیل ہوں قبول کرلیتا ہے۔
Ayah 35:3535: اڑلَّذِیْ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ ) جس نے ہمیں ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا) یعنی ایسا قیام جس سے ہم جدا نہ ہونگے اور نہ زائل ہونگے عرب کہتے ہیں۔ اقمت اقامۃ ومقامًا ومقامۃًیہ سب مصدر ہیں۔ مِنْ فَضْلِہٖ (اپنے فضل سے) محض عطاء اور افضال سے اس میں ہمارے استحقاق کو ذرا دخل نہیں۔ لَا یَمَسُّنَا فِیْھَا نَصَبٌ (اس میں نہ ہمیں کوئی کلفت چھوئے گی) نصبؔ تھکاوٹ و مشقت کو کہتے ہیں۔ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْھَا لُغُوْبٌ (اور نہ ہمیں اس میں خستگی چھوئے گی) تھکاوٹ سے عاجزی اور ڈھیلا پن لُغُو بکہلاتا ہے۔
قراءت : ابو عبدالرحمان سلمی نے لَغُوْب لام کے فتحہ سے پڑھا۔ وہ ایسی چیز کو کہتے ہیں جس سے آدمی مغلوب ہو یعنی ہمیں ایسے عمل کا مکلف نہ بنایا جائے گا۔ جس سے ہم مغلوب ہوجائیں۔
Ayah 35:36آخرت میں کفار کی بیکار تمنائیں :
36: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ نَارُ جَھَنَّمَ لَا یُقْضٰی (اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے) نہ تو ان کی عَلَیْھِمْ فَیَمُوْتُوْا (قضاء آئے گی کہ وہ مرجائیں)
نحو : فیموتوا یہ نفی کا جواب ہے اور ان کے مضمرہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لا یقضٰی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے متعلق موت ثانیہ کا فیصلہ نہ کیا جائے گا کہ موت آکر ان کو کچھ استراحت میسر ہو۔
وَ لَایُخَفَّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِھَا (اور نہ ان سے دوزخ کا عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا) یعنی جہنم کی آگ کا عذاب کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس جزاء کی طرح نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ (ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں)
Ayah 35:37قراءت : ابو عمرو نے یُجْزٰی کلُّ پڑھا ہے۔
37: وَھُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْھَا (اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے) یصطرخون یہ الصراخ سے باب افتعال ہے۔ الصراخ پورے زور و قوت سے چیخنا۔ یہاں فریاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ فریاد کرنے والا فریاد کیلئے اپنی آواز بلند کرتا ہے۔ رَبَّنَآ (اے ہمارے رب) یعنی وہ پکاریں گے اے ہمارے رب اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ (ہم کو نکال لیجئے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے) یعنی تو ہمیں آگ سے نکال کر دنیا کی طرف واپس کردے۔ ہم کفر کے بدلے ایمان لائیں گے اور معصیت کے بعد اطاعت اختیار کریں گے پس ان کو دنیا کی عمر کے برابر وقت گزرجانے پر جواب ملے گا۔ اَوَلَمْ نُعَمِّرْ کُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ ( کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا)
نحو : ماؔ نکرہ موصوفہ ہے ای تعمیرًا یتذکر فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ (ایسی عمر دینا کہ وہ سمجھ سکتا ہے جو سمجھنا چاہے) ۔ یہ ہر ایسی عمر کو شامل ہے جس میں مکلف اپنی حالت کی درستی کرسکتا ہو خواہ وہ تھوڑی ہی ہو البتہ طویل عمر میں توبیخ و تنبیہ زیادہ ہے۔ پھر اس کے متعلق کئی اقوال ہیں۔ ایک قول وہ اٹھارہ سال ہیں۔ دوسرا قول چالیس سال تیسرا قول ساٹھ سال وَجَآ ئَ کُمُ النَّذِیْرُ (اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا) النذیر سے رسول ﷺ مراد ہیں نمبر 2۔ بڑھاپا۔
نحو : یہ اولم نعمرکم کے معنی پر عطف ہے کیونکہ لفظ استخبار انشاء والا ہے۔ اور اس کا معنی اخبار ہے۔ گویا اس طرح فرمایا قد عمر نا کم وجاء کم النذیر ہم نے تمہیں عمر دی اور تمہارے پاس نذیر بھی آیا۔ فَذُوْقُوْا (پس تم چکھو) عذاب۔
فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ (پس ظالموں کا کوئی) مِنْ نَّصِیْرٍ (مدد گار نہیں ہے) نصیر ناصر کے معنی میں ہے ایسا مددگار جو ان کی
اعانت کرے۔
Ayah 35:38جو سینوں کی باتیں جانے وہ سفینوں کی کیوں نہ جانے :
38: اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا) غیب ؔ سے مراد وہ ہے جو تم سے آسمان اور زمین میں پوشیدہ ہے۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بلاشبہ وہ سینہ کی باتوں کا جاننے والا ہے) یہ تعلیل کی طرح ہے کیونکہ جب وہ سینوں کی باتوں کا علم رکھتا ہے حالانکہ وہ بہت ہی مخفی ہیں تو وہ تمام جہان کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے۔ ذات الصدور سے مراد دلوں کی چھپی باتیں۔ یہ ذوؔ کی مؤنث ہے۔ اس کی مثال ابوبکر ؓ کے اس قول میں ہے۔ ذو بطن خارجۃ جاریۃ (رواہ مالک فی مؤطا 2/752) یعنی جو اس کے پیٹ میں حمل ہے کیونکہ حمل پیٹ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح سینہ اور دل کی مضمرات وہ سینوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ذوؔ کا لفظ ساتھ کے معنی کیلئے وضع کیا گیا ہے۔
Ayah 35:39زمین میں منافع شکر گزاری کے لئے ہے ناشکری اس کی ناراضی کا سبب ہے :
39: ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓپفَ فِی الْاَرْضِ (وہی ایسا ہے کہ جس نے تم کو زمین میں آباد کیا) بعد میں آنے والے کو خلیفہ کہا جاتا ہے اور اس کی جمع خلائف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہیں اپنی زمین میں نائب بنایا۔ اس میں تصرف کی چابیوں کا تمہیں مالک بنایا۔ اور جو کچھ زمین میں ہے اس پر تمہیں غلبہ دیا اور زمین کے منافع تمہارے لیے مباح کردیے تاکہ تو حیدو طاعت سے اس کے شکرگزار بنو۔
فَمَنْ کَفَرَ (جو شخص کفر کرے گا) تم میں سے اور اس جیسی عمدہ نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کرے گا۔ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ (اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا) اس کے کفر کا وبال اسی پر لوٹنے والا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کا مبغوض ہے اور آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : وَلَا یَزِیْدُ الْکٰفِرِیْنَ (اور کافروں کیلئے ان کا کفر) ان کے پروردگار کے نزدیک کُفْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ اِلَّا مَقْتًا (ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہوگا) مقتؔ شدید بغض و ناراضی کو کہتے ہیں۔ وَ لَا یَزِیْدُ الْکٰفِرِیْنَ کُفْرُھُمْ اِلَّا خَسَارًا (اور کافروں کے لئے ان کا کفر خسارہ ہی بڑھنے کا باعث ہوگا) ہلاکت و ذلت۔
Ayah 35:40جب خلقت میں ان کا حصہ نہیں تو عبادت میں کیسے شریک ہوگئے :
40: قُلْ اَرَئَ یَتُمْ شُرَکَآ ئَ کُمُ (آپ کہیے تم اپنے مقرر کردہ شرکاء کا حال تو بتلائو) تمہارے وہ مجوزہ معبود جن کو تم نے عبادت میں حصہ دار بنا رکھا ہے۔ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا (جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو یعنی مجھے یہ بتلائو کہ انہوں) خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ (نے زمین کا کونسا جزوبنایا ہے)
نحو : أرایتم سے یہ بدل ہے۔ کیونکہ أرایتم کا معنی یہ ہے تم مجھے بتلائو۔ گویا اس طرح فرمایا گیا اخبرونی عن ھٰؤلاء الشرکاء و عما استحقوا بہٖ الشرکۃ ارونی ای جزء من اجزاء الارض استبدوا بخلقہ دون اللہ تم مجھے ان شرکاء کے متعلق خبر دو اور کیونکر یہ عبادت میں شرکت کے مستحق بن گئے۔ تم مجھے بتلائو انہوں نے زمین کا کونسا جزو اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے کے بغیر بنایا ہو۔
اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ (یا آسمانوں میں ان کی شراکت و حصہ داری ہے) یا ان کو آسمانوں کی تخلیق میں شرکت حاصل ہے۔ اَمْ ٰاتَیْنٰھُمْ کِتٰبًا فَھُمْ عَلٰی بَیِّنٰتٍ مِّنْہُ (یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس کتاب ہے جو یہ کہتی ہے کہ وہ اس کے شریک ہیں۔ پس وہ اس کتاب کی وجہ سے حجت و دلیل پر ہیں۔
قراءت : علی، ابن عامر، نافع، ابوبکر نے بینات پڑھا ہے۔
بَلْ اِنْ یَّعِدُ (بلکہ نہیں وعدہ کرتے) اِنْ بمعنی ماؔ ہے۔ الظّٰلِمُوْنَ (ظالم) بَعْضُہُمْ بَعْضًا (ایک دوسرے سے) اول بعض سے سردار اور دوسرے بعض سے پیرو مراد ہیں۔ اِلَّا غُرُوْرًا (مگر محض دھوکے کا) اور وہ ان کا مشہور قول ھؤلاء شفعاؤناعنداللہ ] یونس : 18[ ہے۔
Ayah 35:41آسمان کو اللہ ہی تھامنے والا ہے :
41: اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے اَنْ تَزُوْلَا (کہ وہ موجودہ حالت کو چھوڑدیں) ان کو زائل ہونے سے روکنے والا ہے، کیونکہ امساک روکنے کو کہتے ہیں۔ وَلَپنْ زَالَتَآ (اور اگر وہ بالفرض موجودہ حالت کو چھوڑ دیں) اِنْ اَمْسَکَھُمَا (نہیں ان کو تھام سکتا) ۔ مِنْ اَحَدٍ مِّنْ 0 بَعْدِہٖ (کوئی ایک اللہ تعالیٰ کے سواء) اس کے تھامنے کے بعد۔
نحو : پہلا مِنْ تاکید نفی کیلئے ہے اور دوسرا من ابتدائیہ ہے۔
اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا (بیشک وہ حلیم غفور ہے) وہ سزا دینے میں جلدی کرنے والا نہیں اسلئے ان دونوں کو تھامے ہوئے ہے ورنہ شرک کے کلمہ کی وجہ سے اس قابل تھے کہ گرپڑتے جیسا کہ فرمایا : تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ و تنشق الارض ] مریم : 90[
Ayah 35:42آنے سے پہلے مانتے تھے اب ضد سے منکر ہوگئے :
42: وَاَقْسَمَوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ (اور ان کفار نے بڑی زور دارقسم کھائی تھی) جَھَدَ یہ نمبر 1۔ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای اقسامًا بلیغًا نمبر 2۔ حال کی وجہ سے منصوب ہے ای جاھدین فی ایمانھم وہ اپنی قسموں میں زور لگانے والے ہیں۔
لَپنْ جَآ ئَ ھُمْ نَذِیْرٌ لَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ (کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ہر امت سے زیادہ ہدایت) اِحْدَی الْاُمَمِ (قبول کرنے والے ہوں) ۔
رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے قریش کو یہ اطلاع ملی کہ اہل کتاب نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو وہ کہنے لگے یہود و نصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ ان کے پاس ان کے رسول آئے مگر انہوں نے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم اگر ہمارے پاس رسول آئے تو ہم ضرور بضرور ان میں سے ہر ہر امت سے زیادہ ہدایت یافتہ ہونگے۔ من احدی ؔ الامم سے مراد یہ ہے کہ اس امت سے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امتوں میں سے ایک ہے۔ اور ہدایت میں اس کو دوسروں پر درجہ اور استقامت میں مرتبہ حاصل ہے۔ جیسا کہ کسی بڑی مصیبت کیلئے کہتے ہیں۔ ھی احدی الدواھی وہ بڑی مصیبت ہے۔
فَلَمَّا جَآ ئَ ھُمْ نَذِیْرٌ (جب ان کے پاس نذیر آئے) پس جب رسول ﷺ کی بعثت ہوگئی۔ مَّا زَادَ ھُمْ اِلَّا نُفُوْرًا (تو بس ان کی نفرت ہی کو ترقی ہوئی) یعنی رسول اللہ ﷺ کی آمدنے ان کی حق سے دوری میں اضافہ کردیا۔ یہ اسناد مجازی ہے۔
Ayah 35:4343: اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ (دنیا میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے) وَمَکْرَ السَّیِّی ئِ (اور بری تدبیروں کی وجہ سے)
نحو : استکبارًا اور مکرالسیٔ یہ دونوں مفعول لہ ہیں۔ معنی یہ ہوگا : وما زادھم الا نفورًا للاستکبار ومکر السییٔ۔ (ان کی نفرت میں اضافہ ہوا اپنے کو بڑا سمجھنے اور بری تدبیروں کی وجہ سے) نمبر 2۔ حال ہیں۔ یعنی وہ اپنے کو بڑا سمجھنے والے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف تدابیر کرنے والے ہیں۔ ومکرالسئی کی اصل واِنْ مکروا السئی ہے یعنی المکر السّیّیُٔ پھر یہ ومکرًا السَّیّیُٔ ہوا پھر ومکر السیئی بن گیا۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے ولا یحیق المکْرالسئیُ ہے۔
برائی کا وبال ہونے پر :
وَلَا یَحِیْقُ (اور نہیں گھیرتا) یہ احاطہ اور اترنے کے معنی میں ہے۔ الْمَکْرُ السَّیِّ ُٔ اِلَّا بِاَھْلِہٖ بری تدبیر (مگر بری تدبیر کرنے والوں کو) مشرکین کو بدر کے دن ان تدابیر نے آگھیرا۔ مثال مشہور ہے : من حفر لا خیہ جُبا وقع فیہ منکبًا چاہ کن را چاہ درپیش۔ فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّ لِیْنَ (پس کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے) ۔ سنۃ الاولین ؔ وہ عذاب کا ان لوگوں پر اتارنا ہے۔ جنہوں نے سابقہ امتوں میں سے انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا۔ مطلب یہ ہے آپ کی تکذیب کے بعد یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان پر اسی قسم کا عذاب ٹوٹ پڑے جیسا رسولوں کو جھٹلانے والے پہلے لوگوں پر آن پڑا۔ اس آیت میں عذاب کیلئے ان کے استقبال کو ان کی طرف سے انتظار قرار دیا۔ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًاوَلَنْ تَجِدَ (پس آپ اللہ تعالیٰ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے) ۔ (اور آپ اللہ تعالیٰ ) لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًا (کے دستور کو منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے) اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ رسل کو جھٹلانے والے لوگوں کو سزا دیتے ہیں۔ اس طریقے کو اللہ تعالیٰ خود بدلنے والے نہیں ہیں۔ اور نہ ہی اس کے اوقات سے پھیرنے والے ہیں۔ یہ بہرحال ہو کر رہے گا۔
Ayah 35:44زمین میں سفر کیا مگر عبرت نہیں ہوئی :
44: اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا (کیا وہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ یہ دیکھتے بھالتے) کہ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ان کا انجام کیا ہوا) ۔ اس آیت میں شام کے اسفار اور یمن و عراق کے سفروں میں امم ماضیہ کے آثار بالیہ اور علامات ہلاکت و دمار جو ان کے مشاہدات میں آتے تھے۔ اس سے استشہاد پیش کیا۔ وَکَانُوا اَشَدَّ مِنْھُمْ (حالانکہ وہ ان سے قوت میں بڑھے ہوئے تھے) ھمؔ سے مراد اہل مکہ ہیں۔
قُوَّۃً سے اقتدار مراد ہے۔ مگر قوت کے باوجود وہ عذاب الٰہی سے فرار اختیار نہ کرسکے۔ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ (اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا) یعجزکا معنی سبقت کرنا اور پیچھے چھوڑجانا۔ مِنْ شَیْئٍ (کوئی چیز) جو بھی ہو۔ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا (نہ آسمان میں اور نہ زمین میں وہ بڑا علم والا ہے) ان کو جانتا ہے۔ قَدِیْرًا (بڑی قدرت والا ہے) ان پر قادر ہے۔
Ayah 35:45فوری پکڑ پر کوئی متنفس نہ بچتا :
45: وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا (اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دار وگیر فرمانے لگتا) بما کسبوا کا معنی ان معاصی پر جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔ مَاتَرَکَ عَلٰی ظَھْرِھَا (تو روئے زمین پر نہ چھوڑتا) ھاؔ کی ضمیر زمین کی طرف راجع ہے کیونکہ الارض کا تذکرہ اس ارشاد میں موجود ہے۔ لیعجزہ من شیٔ فی السمٰوٰت ولافی الارض مِنْ دَآ بَّۃٍ (کوئی متنفس) کوئی جان دارجو زمین پر چلنے والا ہو وَّ لٰکِنْ یُّؤَخِّرُھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے) ۔ اجل مسمًیسے مراد قیامت کا دن ہے۔ فَاِذَا جَآ ئَ اَجَلُھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ ( پس جب ان کی وہ میعاد آجائے گی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں) بصِیرًا (کو آپ دیکھ لے گا) ۔ یعنی ان کے معاملہ کی حقیقت اس پر مخفی اور نہ ہی ان کے متعلق فیصلہ کی حکمت اس سے چھپی ہوئی ہے۔