36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 36:1–4

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن پر حکمت کی

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

کہ بیشک اے (محمد) آپ بھی رسولوں میں سے

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے رستہ پر ہو۔

ترکیب : یٰس کلام فی الاعراب و اُختلف فی معانہ فقال ابن عباس یا انسان بلغۃ طیّ اُقتصر علی شطرہ لکثرۃ النداء والمراد بہ محمد ﷺ وقال ابوبکر الوّراق معناہ یا سید البشر، وقیل ھو اسم من اسماء النبی ﷺ وقیل حروف اختصرت من الفاظ معدوۃ ابتدأت بھافی مفاتح السور لرموز یعلمھا اللہ تعالیٰ و قدمر الکلام فی سورة البقرۃ، قرء الجمور بسکون النون والقرآن الحکیم بالجبر علی انہ مقسم بہ ابتداء و قیل ھو معطوف علی یٰس علی تقدیر کو نہ مجرو رابا ضما رالقسم والاصح ان الواو للقسم، انک الخ جواب القسم علی صراط خبر آخرلان تنزیل قرء ابن عامر و حفص و الکسائی بالنصب باضما راعنی اوعلیٰ انہ مفعول مطلق ای نزل اللہ ذلک تنزیل العزیز وقریء بالرفع علی انہ خبر مبتداء محذوف بالجبر علی البدل من القرآن۔ تفسیر : اس سورة میں بیاسی یا تراسی آیتیں ہیں۔ قرطبی کہتے ہیں بالاتفاق یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے، ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی یہی منقول ہے۔ فضائل : دارمی و ترمذی و محمد بن نصرو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ ہر شے کا دل ہوتا ہے۔ قرآن کا دل یٰس ہے، جو کوئی ایک بار اس کو پڑھے گا، دس بار قرآن مجید پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ ترمذی نے اس کے اسناد میں کلام کیا ہے، مگر اسی حدیث کو ابوبکر صدیق ؓ سے حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور ابوہریرہ ؓ سے ابوبکر بزار نے اور دوسری سند سے روایت کیا ہے اور حافظ ابویعلی نے ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں جندب بن عبداللہ ؓ کے ذریعہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی شب کے وقت اللہ کے لیے اس سورة کو پڑھے گا صبح کو گناہوں سے پاک ہو کر اٹھے گا، یعنی اس کے گناہ معاف ہوجاویں گے، اس کی برکت سے، امام احمد (رح) نے بھی اس بارے میں ایک حدیث نقل کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ اس کے پڑھنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کو اپنے مردوں پر پڑھاکرو اور اسی طرح نسائی نے فی الیوم واللیلہ میں نقل کیا ہے اور ابو دائود و ابن ماجہ نے بھی۔ اسی لیے بزرگان دین نے فرمایا ہے کہ ہر سختی کے وقت یٰس پڑھنا چاہیے، اس کی برکت سے وہ سختی دفع ہوتی ہے۔ حاجت پوری ہوتی ہے اور موت کے وقت پڑھنے سے میت کی روح آسانی سے نکلتی ہے اور ایمان نصیب ہوتا ہے اور بہت سے مہمات کے لیے اس سورة مبارکہ کا پڑھنا اکسیر کا حکم رکھتا ہے۔ بارہا تجربہ میں آیا ہے، جب کلمات سحر میں اثر ہو تو اس میں ہونا کیا تعجب کی بات ہے ؟ خصوصاً اس کے مطالب عالیہ نفس خواب غفلت سے بیدار کرنے اور دنیا اور اس کے مزخرفات سے بیزار کرنے اور خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت یاد دلانے میں عجب اثر پیدا کرتے ہیں۔ عرب کے سخت منکروں کو مختلف دلائل وبراہین سے قائل کیا مگر اس پر بھی وہ انکار و اصرار سے پیش آتے رہے، لیکن یہ جانتے تھے کہ جھوٹی قسم کھانے والا فلاح نہیں پاتا بلکہ برباد ہوجاتا ہے۔ اس لیے اب قسم کے ساتھ کلام شروع کیا اور طرز سخن کو بدل دیا، اس لیے یٰس کہہ کر قسم کھاتا ہے کہ والقرآن الحکیم کہ ہم کو اپنے اس حکمت سے مالا مال قرآن کی قسم ہے۔ اے محمد ﷺ تو ضرور ہمارے رسولوں میں ایک رسول ہے۔ علیٰ صراط مستقیم سیدھے رستہ پر ہے۔ یٰس سے اگر آنحضرت ﷺ مراد ہیں، جیسا کہ بعض مفسرین کا قول ہے، خواہ اس وجہ سے کہ یہ انسان کا مخفف ہے اور انسان سے انسان کامل مراد ہے جس کا مصداق آپ ہیں یا اس وجہ سے کہ یہ آپ کا نام ہے تو عبارت کے یہ معنی ہوئے۔ اے محمد ﷺ ہم کو قرآن حکیم کی قسم آپ رسول ہیں اور سیدھے رستہ پر ہیں اور قرآن کی قسم اس لیے کھائی کہ متکلم کے نزدیک جو چیز عزیز و قابل قدر ہوتی ہے، جب تک اس کی قسم نہیں کھائی جاتی مخاطب کو اعتبار نہیں ہوتا اور لطف یہ ہے کہ یہ کلام بظاہر تو قسم ہے مگر یہ بھی ایک برہان ہے جو لفظ حکیم سے سمجھی جاتی ہے، جو کتاب حکمت الٰہیہ سے پر ہو تہذیب و اخلاق و سیاست مدن ‘ تزکیہ نفس ‘ معاد و معاش کی اصلاح سب کچھ اس میں ہو، ایسے شخص سے ایسے ملک میں ظاہر ہونا دلیل قوی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس لیے اس کے بعد میں اس کی تشریح فرماتا ہے۔ تنزیل العزیز الرحیم یہ قرآن زبردست کا اتارا ہوا ہے، جو تمام بنی آدم کو اپنے اس قانون پر
Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

قرآن زبردست ‘ مہربان کی طرف سے اس لیے نازل کیا گیا ہے

چلنے کے لیے مجبور کرسکتا ہے اور نہ صرف تحکم و جابرانہ طور پر بلکہ رحیم کا نازل کیا ہوا ہے، اس میں سراسر بہتری رکھی ہے جس طرح حکیم مشفق یا مادر مہربان مریض کو دوا پینے پر مجبور کرتے ہیں اسی طرح اس کی رحمت تم سے چمٹ رہی ہے۔
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

کہ آپ اس قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں کہ جن کے باپ دادا نہ ڈرائے گئے۔ سو وہ غافل ہیں۔

لتنذر قوماً ما انذر ابائوھم فہم غافلون تاکہ اے محمد ﷺ تو ان عرب کی جاہل قوموں کو متنبہ کرے، جن کے باپ دادا بھی متنبہ نہیں کئے گئے تھے۔ کس لیے کہ مدت سے نبی برپا نہیں ہوا تھا۔ تاریکی جہالت میں ٹکراتے پھرتے تھے اور غفلت میں پڑے ہوئے تھے، اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ آپ صرف عرب ہی کے لیے رسول تھے، کس لیے کہ ایک قوم کا ذکر کرنا جو مخاطب بالذات تھے، دوسرے کی نفی پر دلالت نہیں کرتا۔ دوم اس میں بھی تمام دنیا شریک تھی، کیونکہ گو اول ان کے پاس انبیاء آئے۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ مگر گمراہ ہونے کے بعد ان کے پاس یا ان کے باپ دادا کے پاس کوئی ہادی نہیں آیا تھا، اس میں اشارہ ہے کہ عرصہ سے عالم میں تاریکی کی گھٹا چھائی ہوئی تھی، جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔ سوم عموم بعثت کے لیے بہت سی آیات و احادیث آئی ہیں، جیسا کہ قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً پھر جو اس شمع ہدایت یا آفتاب رہنمائی کی روشنی میں نہیں آتا اور اس سے فیض نہیں اٹھاتا تو جان لو کہ وہ جنم کا اندھا اور ازلی بدنصیب ہے۔ اسی بات کو ان آیات میں ظاہر فرماتا ہے۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں اکثر پر تو فرمودہ خدا پورا ہوچکا اس لیے وہ ایمان نہ لائیں گے۔

فقال لقد حق القول علی اکثرھم فہم لایؤمنون کہ ان پر ازلی نوشتہ پورا ہوگیا جس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔ ازلی دفتر میں لکھا گیا تھا کہ وہ ایمان نہ لا ویں گے سو اس لیے نہیں لاتے اور عالم اسباب میں اس کا یہ باعث ہوا
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں، سو وہ ٹھوڑیوں تک اڑ گئے جس لیے ان کے سر اوپر کو اٹھے رہ گئے

انا جعلنا فی اعناقہم اغلالاً فہی الی الاذقان فہم مقمحون کہ ہم نے ان کی گردن میں ازلی بدبختی کے طوق ڈال دیے جو ٹھوڑیوں تک اڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کی آنکھیں اوپر کو رہ گئیں، راہ حق نہیں دیکھ سکتے۔ اقماح سر اٹھانا آنکھ بند کرلینا۔ دراصل ان کے گلوں میں طوق نہیں پہنائے گئے تھے، بلکہ یہ کلام بطور تشبیہ کے ہے، ان کے حال کو تشبیہ دی گئی ہے، اس کے حال کے ساتھ کہ جس کے گلے میں طوق ڈال دیا ہو۔
Ayahs 36:9–10

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے آگے ایک دیوار اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوار قائم کردیے، پھر ہم نے ان کو اوپر سے ڈھانک بھی دیا ہے، اس لیے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کو تیرا ڈر سنانا یا نہ سنانا دونوں برابر ہیں، وہ ایمان نہ لاویں گے

وجعلنا من بین ایدیہم سدا و من خلفہم سدا یعنی آگے اور پیچھے ہر طرف سے بدبختی اور ازلی گمراہی کی دیواریں کھڑی ہیں۔ فاغشیناھم فہم لایبصرون کہ جنہوں نے ان کو چاروں طرف سے ڈھانک لیا جس لیے وہ کچھ حق و باطل میں تمیز نہیں کرتے۔ یہ بھی بطور تمثیل کے ہے۔ محاورہ کی بات ہے۔ کہا کرتے ہیں ہمارے اس کے درمیان دیواریں کھڑی ہوگئیں، یعنی آڑ اور حجاب رنج پیدا ہوگئے۔ پھر فرماتا ہے سواء علیہم الخ کہ اے محمد ﷺ آپ کا وعظ کرنا نہ کرنا ان کے حق میں یکساں ہے، ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ ان آیات میں مکہ کے سخت بدکیش اور سرکش کفار کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ ابوجہل و ابی بن خلف تھا اور یہ طوق اور یہ دیواریں ازلی بدبختی اور گمراہی اور توہمات باطلہ و شہوات و لذات فاسدہ ‘ حب جاہ و مال کی دیواریں اور طوق ہیں۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تو تو اسی کو ڈر سناتا ہے کہ جو سمجھانے پر چلے اور بےدیکھے رحمان سے ڈرے۔ سو اس کو معافی اور عمدہ بدلہ کا مژدہ سنا

انما تنذر الخ تیرا وعظ خدا ترس لوگوں کو نفع دیتا ہے۔ سو آپ ان کو مغفرت اور اجر عظیم کا مژدہ سنادیں۔ اس مژدہ کے مطابق بدلہ پانے کی جگہ کا بیان فرماتا ہے کہ وہاں یا یہاں کس جگہ اجر کریم ملے گا اور کیونکر ؟ فرماتا ہے۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

ہم ہیں جو مردوں کو زندہ کریں گے اور جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا اس کو لکھتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کھلی کتاب میں شمار کر رکھا ہے۔

انا نحن نحی الموتٰی الخ کہ کامل بدلہ پانے کا گھر دار آخرت ہے اور وہ اس طرح سے ہے کہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ لوگ کرتے ہیں۔ نیک بداعمال ان کو ہم دفتر غیب میں لکھتے ہیں اور جو کچھ مرنے کے بعد وہ دنیا میں نیک و بد بات برا بھلا اثر پہنچانے والی چھوڑ کر جاتے ہیں اس کو بھی ہم لکھتے جاتے ہیں اور ہمارے دفتر میں ہر ہر بات لکھی ہوتی ہے، پس اس کے مطابق وہاں بدلہ دیں گے۔
Ayahs 36:13–25

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے بستی والوں کا حال مثال کے طور پر بیان کردو، جبکہ ان کے پاس رسول آئے۔

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب کہ ان کے پاس ہم نے دو کو بھیجا تو ان کو انہوں نے جھٹلایا۔ پھر ہم نے تیسرے سے مدد کی پھر تینوں رسولوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تم ہو کیا چیز مگر ہمارے جیسے آدمی اور رحمان نے تو کچھ بھی نہیں نازل کیا ہے۔ تم تو بڑا جھوٹ بولتے ہو۔

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

رسولوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہم پر کچھ نہیں مگر صاف حکم پہنچا دینا ہے اور بس

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم نے تو تم کو منحوس پایا۔ اگر تم (وعظ و پند سے) باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر ڈالیں گے اور ہماری طرف سے تم پر بڑی مار پڑے گی۔

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس سے نحوست آئی کہ تم کو سمجھایا جاتا ہے۔ کچھ نہیں بلکہ خود تم بےہودہ لوگ ہو

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے کنارہ سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا (آکر) کہنے لگا اے قوم ! رسولوں کے کہے پر چلو

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ان کا کہنا مانو جو تم سے کچھ بھی اجرت نہیں مانگتے اور وہ خود ہدایت یافتہ ہیں

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہوا جو اس کی بندگی نہ کروں کہ جس نے مجھ کو بنایا حالانکہ اسی کے پاس لوٹا کر لائے جاؤ گے (مرنے کے بعد) ۔

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کے سوا اور معبودوں کو اختیار کروں، اگر رحمان مجھ کو کچھ ضرر دینا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ بھی کام نہ آوے اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں،

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تب تو میں صریح گمراہی میں جاپڑوں۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تو تمہارے رب پر ایمان لاچکا سو مجھ سے سن لو۔

ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ رسولوں کو نہیں مانتے، ان کے آگے اور پیچھے دیواریں حائل ہیں، اس جگہ بطور مثال کے اصحٰب القریۃ کا قصہ بیان کرتا ہے جس سے یہ غرض ہے کہ رسولوں کا آنا اور منکروں کا انکار کوئی نئی بات نہیں، اس سے پیشتر بھی ایسا ہوچکا ہے۔ قریہ سے مراد باتفاق جمہور مفسرین شہر انطاکیہ ہے جس کو سکندر رومی کے بعد انٹیوکس نے آباد کیا تھا۔ اس شہر کے لوگ بت پرست تھے اور جو پڑدیوی کی پرستش کیا کرتے تھے۔ رومی لوگوں کا مدت سے یہی مذہب تھا۔ یہ شہر ایشیائِ کو چک میں ہے، آج کل سلطان روم کی عملداری میں ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ اس کے خرابات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی بڑی شان و شوکت کا شہر ہوگا۔ اس قصہ کا مختصراً بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد ان کے حواری دین پھیلانے کو اطراف و جوانب میں پہنچے تو دو حواری اس شہر میں بھی آئے۔ خدا تعالیٰ کی توحید کا بیان کیا ‘ خرق عادت دکھائے۔ لوگوں نے ان کی تکذیب کی اور ان کے مارنے کے درپے ہوگئے۔ ان دونوں کے بعد ایک اور تیسرا حواری بھی آکر شامل ہوگیا، اسی عرصہ میں ایک شخص اور بھی آیا اور ان کی تصدیق کرنے لگا اور لوگوں سے بڑی خوبی کے ساتھ کلام کیا، اس کو لوگوں نے شہید کر ڈالا، مرنے کے بعد اس نے آرزو کی کہ کاش میری بخشش کا حال اور نعمت کا میری قوم کو بھی معلوم ہوجاتا۔ اب اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ وہ دو 1 ؎ حواری کون تھے اور تیسرا ان کے بعد کون آیا تھا اور وہ شخص جو شہر کے پرلے کنارہ سے دوڑتا ہوا آیا تھا، جس کو شہید کر ڈالا کون تھا ؟ قیل ادخل الجنۃ وقال یالیت قومی یعملون سے مفسرین نے یہ بات سمجھی ہے کہ اس کو شہید کردیا تھا۔ بعض کہتے ہیں، ممکن ہے کہ اپنی موت سے مرا ہو اور مر کر اس نے یہ آرزو کی ہو۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں ان باتوں کی کچھ بھی تفصیل نہیں، صرف مؤرخین کے اقوال ہیں، جن کو ہم نقل کرتے ہیں۔ قریہ کا نام بھی احادیث میں نہیں آیا۔ اب ہم عیسائیوں کی کتاب کو دیکھتے ہیں، اس میں بھی اس قصہ کا کچھ پتا ملتا ہے ؟ کتاب اعمال کو جو دیکھا تو اس میں یہ قصّہ مذکور ہے، کمی بیشی کے ساتھ اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔ کتاب التواریخ و کتاب سموئیل و توریت سفر پیدائش و کتاب السلاطین کو کسی خاص تذکرہ میں ملاکر دیکھو، بہت کچھ کمی بیشی پاؤ گے۔ کتاب اعمال کے گیارہویں باب 27 درس میں لکھا ہے۔ ” انہی دنوں کئی ایک نبی یروسلم سے انطاکیہ میں آئے “ 1 ؎ بعض نے دو رسولوں سے مراد شمعون پطرس اور یوحنا اور تیسری سے پولیس لیا ہے مگر پوبس قلطی ہے وہ فیلبوس ہے کے لیے کہ پولس باتفاق محققین اسلام حواری نہ تھا بلکہ دین عیسوی کا محرف کرتی ہے والا تھا۔ 12 منہ واضرب لہم مثلاً اصحٰب القریۃ اذ جاء ھا المرسلون مرسلون سے بعض نے یہ سمجھا ہے کہ حواری رسول تھے، مگر یہ استدلال رسالت نہیں ثابت کرتا کس لیے کہ مرسلون کا اطلاق بھیجے ہوئوں پر ہوا کرتا ہے۔ عام ہے کہ وہ رسول ہوں یا رسول کے نائب جو اس کی طرف سے یا اس کے حکم سے بھیجے گئے ہوں یا فرشتے ہوں جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ فرشتے دکھائی دیئے جو قوم لوط کو غارت کرنے آئے تھے، ان کو بھی مرسلون کہا ہے۔ قال فما خطبکم ایہا المرسلون اور سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس جانے والے ایلچیوں پر بھی اس کا اطلاق ہوا ہے جو بلقیس کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ وانی مرسلۃ الیہم بہدیۃ فناظرۃ بم یرجع المرسلون ( سورة نمل) اس شہر میں پہلے دو حواری آئے تھے، جیسا کہ کتاب اعمال کے آٹھویں باب سے ثابت ہے کہ فیلبوس اور شمعون پطرس اسنیفان کی شہادت کے بعد سامریہ میں وعظ کہنے کو گئے اور باب کے اخیر جملہ سے پایا جاتا ہے کہ وہ قیصریہ تک پہنچے تھے اور گزرتے ہوئے سب شہروں میں جب تک قیصریہ میں نہ آیا خوشخبری دیتا رہا اور پطرس کا ساتھ میں ہونا اسی باب سے پایا جاتا ہے۔ واذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوھما اور کتاب اعمال کے گیارہویں باب میں اسی مضمون کی پوری تصدیق ہے۔ قولہ ” پھرتے پھرتے فین کی و کپرس اور انطاکیہ میں پہنچے “۔ الخ 20۔ اور ان میں سے کئی ایک کپرسی اور قرینی تھے جنہوں نے انطاکیہ میں آکے “ الخ ” تب ان لوگوں کی خبر یروشلم کے کلیسر کے کان میں پہنچی اور انہوں نے برنباس کو بھیجا کہ انطاکیہ کو جاوے “ (فعززنا بثالث) ” وہ پہنچ کے اور خدا کا فضل دیکھ کے خوش ہوا اور ان سب کو نصیحت کی “۔ پھر جو ان کی باہم قیل و قال ہوئی ہے۔ اس کو قرآن مجید نے مفصل بیان کردیا۔ فقالوا انا الیکم لمرسلون الی قولہ البلاغ المبین حواریوں کے آنے کے بعد اس شہر میں سخت قحط پڑا، جیسا کہ اسی باب کے 27 درس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں نے خبر دی تھی کہ سخت قحط پڑے گا۔ اس پر وہاں کے لوگ کہنے لگے۔ انا تطیرنا بکم تمہارا آنا بڑا نحس ہوا، اگر اب بھی تم اپنی نصیحت سے باز نہ آؤ گے تو تم پر پتھراؤ کردیا جاوے گا۔ رسولوں نے کہا یہ قحط تمہارے گناہوں کی نحوست سے پڑا ہے۔ قالوا طائرکم معکم ہم تم کو نصیحت کرنے اور سدھارنے آئے ہیں، نہ بگاڑنے۔ اَئِنْ ذکرتم نصیحت کرنے کا یہی بدلہ ہے۔ بل انتم قوم مسرفون تم برے بدکار لوگ ہو۔ وجاء من اقصی المدینۃ رجل 1 ؎ یسعی اکثر مفسرین کے نزدیک یہ شخص جو شہر کے کنارہ سے دوڑتا ہوا رسولوں کی مدد کو آیا تھا، چیسا نجار تھا۔ یہ ایک جذامی تھا۔ حواریوں کی دعاء سے تندرست ہوا تھا اور ایمان لایا تھا، اس نے رسولوں کی تائید میں یہ تقریر پراثر بیان کی جس پر ان کو غصہ آیا اور ان کو مار ڈالا، مرنے کے بعد اس کو اللہ نے جنت میں داخل کیا، وہاں بھی اس نے قوم کی ہدایت کی خواہش ظاہر کی، مگر کتاب اعمال میں اس کا ذکر نہیں۔ بعض کہتے ہیں وجاء من اقصی المدینۃ رجل سے مراد کوئی چوتھا شخص نہیں بلکہ وہ تیسرا ہی شخص ہے جو ان دونوں حواریوں کی مدد کو آیا تھا، اس کے قصہ کو جداگانہ اس کے پراثر وعظ کے سبب بیان فرمادیا کہ باہر سے آکر تو یوں کہے اور شہرو اے ایسے بدنصیب کہ انکار کریں اور قرآن مجید سے اس کا شہید ہونا ثابت نہیں ہوتا، کس لیے کہ فاسمعون سے اس نے حواریوں سے خطاب کیا کہ تم گواہ رہو، میں تصدیق کرتا ہوں۔ یہ بھی فن وعظ کے متعلق ایک عمدہ بات ہے۔ 1 ؎ بعض کہتے ہیں کہ رجل سے مراد استیفان ہے جس کو یہود نے یروشلم میں شہید کیا اور قریہ سے یروسلم مراد ہے اور پہلے دو رسول شمعون اور یوحنا اگر وعظ کہنے لگے تیسرا ان کی مدد کو برنباس قایم ہوایہ شہر شہزاد ہلیطس کے حادثہ میں برباد ہوا اور یہی صحیح ہے جو جواں مردوں کی الکار تھی۔ جب اس کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ 12 منہ
Ayahs 36:26–27

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

(آخرکار اس کو شہید کر ڈالا اس کو) حکم ہوا کہ بہشت میں جا داخل ہو، اس نے کہا اے کاش میری قوم بھی جان لیتی

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا (کن کاموں کے سبب) اور مجھ کو عزت داروں میں سے کردیا

قیل ادخل الجنۃ یہ اس کے لیے دخول جنت کی بشارت ہے۔ تفسیر کبیر میں ہے۔ لیس المراد القول فی وجہہ بل ھو الفعل یعنی وہ اس شہادت سے جنت کا مستحق ہوگیا اور اسی طرح اس کا قول یالیت قومی ہے۔ گویا اس کی تمنا ہے کہ اس شہادت سے سرور اور قلبی نور جو موجب غفران و اکرام ہے۔ مجھے حاصل ہوا ہے، کاش میری قوم کو بھی ہوتا۔
Ayahs 36:28–32

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

ور اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں بھیجا اور نہ ہم بھیجنے والے تھے

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

(اور ہم کیوں بھیجتے) ۔ صرف ایک ہی چیخ تھی کہ جس سے وہ بجھ کر رہ گئے۔

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

اے افسوس ہے بندوں پر ان کے پاس ایسا کوئی بھی رسول نہیں آیا کہ جس سے انہوں نے ہنسی نہ کی ہو۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا یہ نہیں دیکھ چکے کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو غارت کردیا، وہ ان کے پاس پھر کر نہیں آئے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہیں۔

وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء الخ فرماتا ہے، اس شخص کے بعد ہم کو اس کی سرکش قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمانی لشکر کی حاجت اور ضرورت نہ پڑی اور نہ پڑنی چاہیے، صرف چیخ ان کے ہلاک کرنے کو بس ہوگئی۔ اس شہر پر آفت آئی، لوگ برباد ہوئے، فرماتا ہے یا حسرۃ علی العباد بندوں پر افسوس ہے، ان کے پاس جب کوئی رسول آیا تو اس کے ساتھ تمسخر سے پیش آئے اور یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں سدا کوئی نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ کہاں گئے، کوئی پھر کر نہیں آتا، پس وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں اور وہاں اپنے کئے کا بدلہ پاتے ہیں۔ بعض مفسرین جیسا کہ ابن کثیر میں ہے، اس تفسیر پر معترض ہیں۔ بچندو جوہ : (1) یوں کہ اگر قریۃ سے مراد انطاکیہ اور مرسلون سے مراد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو وہ خود کہتے کہ ہم عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف سے رسول ہو کر آئے ہیں اور خدا تعالیٰ اذا رسلنا نہ فرماتا۔ (2) انطاکیہ عیسائیوں کے چار کلیسا میں سے ایک عمدہ کلیسا ہے، جہاں ان کے اسقوف رہا کرتے ہیں۔ وہاں کے لوگ ایمان لائے، کبھی یہ شہر فرشتے کی آواز یا چنگھاڑ سے ہلاک نہیں ہوا بلکہ قریۃ سے مراد کوئی اور شہر ہے جہاں اول بار خدا تعالیٰ کے دو رسول آئے، پھر ان کی مدد کو تیسرا آیا، پھر شہر کے کنارہ سے ایک ایماندار دوڑتا ہوا ان کی مدد کو آیا اور بہت عمدہ تقریر کی جس پر لوگوں نے خفا ہو کر اس کو مار ڈالا۔ خدا تعالیٰ نے اس کی مغفرت کی اور جنت میں جگہ دی، اس کے بعد یہ شہر بلائے آسمانی سے ہلاک ہوا۔ زمان گزشتہ میں کسی جگہ یہ واقعہ گزرا ہے جس کی مفصل خبر ہم کو نہیں دی گئی۔ تنبیہ کے لیے اسی قدر بیان کافی تھا۔ اول اعتراض کا جواب یہ ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف سے بھیجا جانا خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جانا ہے۔ دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بلائِ ناگہانی اس شہر پر آئی ہے، اس کے خرابات شاہد عدل ہیں۔ کتب تاریخ دیکھ لو۔ علی قومہ کی ضمیر خاص اہل انطاکیہ کی طرف نہ پھرے بلکہ عموماً منکرین مراد ہوں اور صیحۃ سے مراد بلا ئِ آسمانی۔
Ayahs 36:33–36

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ان کے لیے خشک زمین بھی ایک نشانی ہے جس کو ہم نے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا کہ جس کو وہ کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے اور ان میں چشمے جاری کئے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

کہ اس کے پھل کھائیں اور یہ چیزیں ان کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی تو ہیں نہیں پھر کیوں شکر نہیں کرتے۔

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ذات ہے وہ کہ جس نے زمین سے اگنے والی چیزوں کو گونا گوں بنایا اور خود ان میں سے بھی اور ان چیزوں میں سے بھی کہ جن کو وہ جانتے بھی نہیں

ترکیب : واٰیۃ مبتداء لہم الخبر والارض مبتداء احییناھا الخبر و الجملۃ تفسیر للایۃ وقیل الارض مبتداء اٰیۃ خبر مقدم و احییناھا تفسیر الاٰیۃ ولھم صفۃ الاٰیۃ من العیون علیٰ قول الا خفش من زائدۃ و ما عملتہ ما بمعنی الذی او نکرۃ موصوفۃ و علی الوجھینھی فی موضع جرعطفا علی ثمرۃ و امانا فیۃ والقمر بالرفع مبتدا قدرناہ الخبر و بالنصب علی فعل مضمر ای قدرنا القمر العرجون فعلول فالنون اصل وقیل زائدۃ یخصمون بالتشدید اصلہ یختصمون نقلت حرکتہ التاء الی الخاء و ادغمت فی الصاد۔ تفسیر : وآیۃ لہم الارض امم ماضیہ کے سرکش لوگوں کا حال بیان فرما کر جو توحید کے انکار سے برباد ہوئے تھے۔ توحید کے دلائل بیان فرماتا ہے، ان میں سے پہلی دلیل خشک زمین ہے۔ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ خشک زمین کو خدا تروتازہ کرتا ہے، اس میں کھیتیاں اور باغ اور چشمے پیدا کرتا ہے۔ تمہارے لیے اور یہ چیزیں تمہاری بنائی ہوئی تھیں نہ تمہارے معبودوں کی پھر بھی تم شکر نہیں کرتے۔ خاص اللہ کی عبادت نہیں کرتے، اللہ کے ساتھ اوروں کو ملاتے ہو، حالانکہ وہ پاک ہے، اس نے زمین کے نباتات ہر قسم کے پیدا کئے اور تمہارے جوڑے بنائے۔ مرد و عورت اور بہت سی چیزوں کے جوڑے کہ جن کو تم نہیں جانتے، یعنی خدا کے سوا جو کچھ ہے، اس کا مثل اور جوڑا ہے مگر اس کا کوئی مثل اور جوڑا نہیں پس پرستش کے لائق وہی ہے۔
Ayahs 36:37–40

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ان کے لیے رات بھی ایک نشانی ہے کہ ہم اس میں سے دن کو کھینچ لیتے ہیں پھر تب ہی وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور آفتاب ہے کہ اپنے ٹھکانے پر چلا کرتا ہے۔ یہ اندازہ کیا ہوا ہے، زبردست خبردار کا

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں، یہاں تک کہ پرانی شاخ کی طرح سے پھر نکل آتا ہے،

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے اور ہر ایک ایک آسمان میں تیرتا پھرتا ہے

واٰیۃ لہم اللیل یہ دوسری دلیل ہے کہ رات اندھیری ہوتی ہے۔ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے اندھیرا ہوجاتا ہے۔ یعنی دن میں سے رات پیدا کرکے دنیا کو اندھیری کردیتے ہیں۔ آفتاب اپنی خاص چال پر چلتا ہے، جو اس کی چال مقرر کردی ہے، اس کے خلاف نہیں کرسکتا اور اسی طرح چاند کے لیے منزلیں مقرر کردی ہیں۔ مہینے بھر میں دورہ تمام کرکے پھر پتلی سوکھی خمدار ٹہنی کے طرح برآمد ہوتا ہے۔ عرجون بالضم درخت کژشدہ و شاخہائے بریدہ صراح، چاند کو کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی سے تشبیہ دی ہے، اس کے باریک ہونے اور ٹیڑھے ہونے میں آفتاب ماہتاب کو نہیں پکڑسکتا نہ وہ اس کو نہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے، ہر ایک ستارہ اپنی اپنی جگہ پر اس طرح سے حرکت کرتا ہے کہ گویا دریا میں مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں۔ آسمان بمنزلہ دریا کے ہے، یہ بھی اسی کا کام ہے، اس میں کسی کی شرکت نہیں۔