Ayah 36:1ٓیت 1 { یٰسٓ۔ ”یٰـسٓ !“
زیادہ تر مفسرین کی رائے میں ”یٰـسٓ“ حضور ﷺ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اسی طرح ”طٰہٰ“ کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ حضور ﷺ کا نام ہے۔ واللہ اعلم !
Ayah 36:2ٓیت 1 { وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ } ”قسم ہے قرآن حکیم کی !“
عربی زبان میں ”قسم“ سے گواہی مراد لی جاتی ہے۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ یہ حکمت بھرا قرآن گواہ ہے۔ اس قسم کا مقسم علیہ کیا ہے ؟ یعنی یہ قسم کس چیز پر کھائی جا رہی ہے ؟ اور یہ قرآن کس عظیم حقیقت پر گواہ ہے ؟ اس کا ذکر اگلی آیت میں ہے :
Ayah 36:3آیت 3 { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”کہ اے محمد ﷺ ! یقینا آپ رسولوں میں سے ہیں۔“
گویا حضور ﷺ کی رسالت کا سب سے بڑا ”مُصدِّق“ تصدیق کرنے والا اور سب سے بڑا ثبوت قرآن حکیم ہے۔ اور قرآن حکیم ہی آپ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی نوٹ کرلیجیے کہ قرآن کی قسم اور بھی کئی سورتوں کے آغاز میں کھائی گئی ہے مگر وہاں قسم کے بعد مقسم علیہ کا ذکر نہیں ہے۔ مثلاً سورة صٓ کی پہلی آیت میں یوں فرمایا گیا : { صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ۔ ‘ سورة الزخرف کے شروع میں یوں فرمایا گیا : { حٰمٓ۔ وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ۔ ‘ سورة ق کا آغاز یوں ہوتا ہے : { قٓقف وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ۔۔ اب چونکہ سورة یٰـسٓ کی ان آیات میں قرآن کی قسم کے مقسم علیہ کا ذکر بھی ہے اس لیے قرآن کی جن قسموں کا مقسم علیہ مذکور نہیں ان کا مقسم علیہ بھی وہی قرار پائے گا جس کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ چناچہ قرآن کے ان تمام مقامات پر جہاں قرآن کی قسم تو کھائی گئی ہے لیکن قسم کے بعد مقسم علیہ کا ذکر نہیں ہے ‘ وہاں ان تمام قسموں کے بعد اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کا جملہ بطور مقسم علیہ محذوف understood مانا جائے گا۔ اس اعتبار سے سورة یٰـسٓ ایسی تمام سورتوں کے لیے ذروہ سنام climax کا درجہ رکھتی ہے جن کے آغاز میں قرآن کی قسم کا ذکر ہے۔
Ayah 36:4آیت 4 { عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ”سیدھے راستے پر ہیں۔“
Ayah 36:5آیت 5 { تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ } ”اور اس قرآن کا نازل کیا جانا ہے اس ہستی کی جانب سے جو بہت زبردست ‘ نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“
Ayah 36:6آیت 6 { لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُہُمْ فَہُمْ غٰفِلُوْنَ } ”تاکہ آپ ﷺ خبردار کردیں اس قوم کو جن کے آباء و اَجداد کو خبردار نہیں کیا گیا ‘ پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔“
یہ مضمون اس سے پہلے سورة السجدۃ کی آیت 3 میں بھی آچکا ہے۔ یعنی آپ ﷺ سے پہلے چونکہ اس قوم میں کوئی نبی یا رسول نہیں آیا ‘ اس لیے نہ تو انہیں نبوت و رسالت کے بارے میں کچھ معلوم ہے اور نہ وہ کتاب و شریعت سے واقف ہیں۔
یہاں پر فَہُمْ غٰفِلُوْنَ کے الفاظ میں رعایت کا انداز بھی پایا جاتا ہے ‘ یعنی چونکہ اس قوم میں اس سے پہلے نہ تو کوئی پیغمبر آیا ہے اور نہ ہی کوئی الہامی کتاب ان لوگوں تک پہنچی ہے اس لیے ان کا ”غافل“ ہونا بالکل قرین قیاس تھا۔ لیکن اب جبکہ ان میں پیغمبر بھی مبعوث ہوچکا ہے اور ایک حکمت بھری کتاب کی آیات بھی ان تک پہنچ چکی ہیں تو اس کے بعد ان کی گمراہی کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن یہ لوگ ہیں کہ اب بھی گمراہی سے چمٹے ہوئے ہیں اور چونکہ انہوں نے ہمارے رسول ﷺ کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے اس لیے :
Ayah 36:7آیت 7 { لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓی اَکْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ } ”ان کی اکثریت پر ہمارا قول قانونِ عذاب سچ ثابت ہوچکا ہے تو اب وہ ایمان نہیں لائیں گے۔“
گویا حضور ﷺ کی دعوت کا مسلسل انکار کر کے یہ لوگ قانونِ الٰہی کی عذاب سے متعلق ”شق“ کی زد میں آچکے ہیں۔
Ayah 36:8آیت 8 { اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ اَغْلٰلاً فَہِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَہُمْ مُّقْمَحُوْنَ } ”ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں اور وہ ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں ‘ پس ان کے سر اونچے اٹھے رہ گئے ہیں۔“
یعنی ان کی کیفیت اس شخص کی سی ہے جس کی گردن میں طوق پڑا ہو اور وہ طوق اس کی ٹھوڑی کے نیچے جاپھنسا ہو۔ ایسے شخص کے چہرے کا رخ مستقل طور پر اوپر کی طرف ہوجاتا ہے اور وہ اپنے سامنے کی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتا۔ مطلب یہ کہ تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ لوگ واضح حقائق کو بھی دیکھنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں۔
Ayah 36:9آیت 9 { وَجَعَلْنَا مِنْم بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِہِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰہُمْ فَہُمْ لاَ یُبْصِرُوْنَ } ”اور ہم نے ایک دیوار کھڑی کردی ہے ان کے آگے اور ایک ان کے پیچھے ‘ اس طرح ہم نے انہیں ڈھانپ دیا ہے ‘ پس اب وہ دیکھ نہیں سکتے۔“
یہ مضمون آگے چل کر آیت 45 میں پھر آئے گا۔ -۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حق کی پہچان کے لیے اگر انسان کو راہنمائی چاہیے تو اس مقصد کے لیے بیشمار آفاقی آیات آلاء اللہ ہر وقت ہر جگہ اس کے سامنے ہیں۔ قرآن حکیم بار بار انسان کو ان آیات کے مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ جیسے سورة البقرۃ کی آیت 164 میں بہت سی آفاقی نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہر انسان اپنی ذہنی سطح کے مطابق ان ”آیات“ کے مشاہدے سے ان کے خالق کو پہچان سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخی آیات ایام اللہ سے بھی انسان کو راہنمائی مل سکتی ہے۔ یعنی اگر کوئی انسان چاہے تو اقوامِ سابقہ کے حالات سے بھی اسے سبق اور عبرت کا وافر سامان حاصل ہوسکتا ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ ایسے بد بخت لوگ ہیں جو نہ تو التذکیر بآلاء للہ سے استفادہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ التذکیر بایام اللہ سے کچھ سبق حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ گویا یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے دیوار حائل ہوچکی ہے کہ وہ اللہ کی کسی بڑی سے بڑی نشانی کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ اسی طرح ان کے پیچھے بھی دیوار کھڑی کردی گئی ہے اور یوں وہ تاریخ اوراقوام ماضی کے حالات سے بھی کسی قسم کا سبق حاصل کرنے سے قاصر و معذور ہیں۔
Ayah 36:10آیت 10 { وَسَوَآئٌ عَلَیْہِمْ ئَ اَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ } ”اور اے نبی ﷺ ! ان کے حق میں برابر ہے ‘ خواہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں ‘ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔“
سورة البقرۃ کی آیت 6 میں بھی ہو بہو یہی الفاظ آئے ہیں۔
Ayah 36:11آیت 11{ اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ } ”آپ ﷺ تو بس اسی شخص کو خبردار کرسکتے ہیں جو الذکر ّ قرآن کی پیروی کرے اور غیب میں ہوتے ہوئے رحمٰن سے ڈرے۔“
آپ ﷺ کے انذار سے تو صرف وہی لوگ متاثر ہوسکتے ہیں جو اس قرآن کے پیغام کو سمجھیں ‘ اس کی پیروی کریں اور غیب میں ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اپنے دلوں میں رکھیں۔
{ فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّاَجْرٍکَرِیْمٍ } ”تو ایسے لوگوں کو آپ ﷺ خوشخبری دے دیجیے مغفرت اور باعزت اجر کی۔“
Ayah 36:12آیت 12 { اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَنَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَہُمْ } ”یقینا ہم ہی زندہ کریں گے ُ مردوں کو ‘ اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔“
انسان مرنے سے پہلے اپنی زندگی میں جو اچھے برے اعمال آگے بھیجتا ہے وہ ساتھ ہی ساتھ اس کے اعمال نامے میں درج ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن انسان کے کچھ اعمال و افعال ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اثرات اس کی موت کے بعد بھی اس دنیا میں رہتے ہیں۔ چناچہ یہاں پر ”آثار“ سے مراد انسان کے ایسے ہی کام ہیں۔ بہر حال انسان کو آخرت میں ان ”آثار“ کا بدلہ بھی دیا جائے گا۔ مثلاً اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں کسی ایسے نیک عمل کی بنیاد ڈالی جس کے اثرات دیر پا ہوں تو جب تک اس نیک کام کا تسلسل اس دنیا میں رہے گا ‘ اس کا اجر وثواب اس شخص کے حساب میں لکھا جاتا رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی نے گناہ اور بےحیائی کے کسی کام کی بنیاد رکھی تو جب تک اس کام یا منصوبے کے منفی اثرات اس دنیا میں رہیں گے ‘ اس میں سے متعلقہ شخص کے حصے کے گناہوں کا اندراج اس کے اعمال نامے میں مسلسل ہوتا رہے گا۔
{ وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ } ”اور ہرچیز کا احاطہ ہم نے ایک واضح کتاب میں کررکھا ہے۔“
”اِمَامٍ مُّبِیْنٍ“ سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے جسے سورة الرعد کی آیت 39 اور سورة الزخرف کی آیت 4 میں ”اُمّ الْکِتٰب“ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔
Ayah 36:13آیت 13 { وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلاً اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ 7 اِذْ جَآئَ ہَا الْمُرْسَلُوْنَ } ”ان کے لیے آپ ﷺ اس بستی والوں کی مثال بیان کیجیے ‘ جب کہ ان کے پاس رسول آئے۔“
Ayah 36:14آیت 14 { اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمُ اثْنَیْنِ } ”جب ہم نے بھیجے ان کی طرف دو رسول“
اس بارے میں مفسرین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ دو حضرات ”رسول من جانب اللہ“ نہیں تھے بلکہ کسی ”رسول کے رسول“ تھے۔ یعنی ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے وقت کے رسول کسی دوسرے مقام پر موجود ہوں اور انہوں نے اپنے دو شاگردوں کو کسی خاص بستی کی طرف دعوت کے لیے بھیجا ہو۔ اس بارے میں غالب رائے یہ ہے کہ وہ حضرات حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری تھے جو آپ علیہ السلام کے حکم سے ترکی اور شام کی سرحد پر واقع شہر انطاکیہ میں تبلیغ کے لیے آئے تھے۔
”رسول کے رسول“ کی اصطلاح ہمیں احادیث میں بھی ملتی ہے۔ مثلاً حضور اکرم ﷺ نے ُ حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیعت لی تو مدینہ واپسی پر آپ ﷺ نے خواتین سے بھی بیعت لینے کا ارادہ ظاہر فرمایا اور اس کے لیے آپ ﷺ نے حضرت عمر علیہ السلام کو خواتین کے پاس بھیجا۔ چناچہ حضرت عمر علیہ السلام نے خواتین کے مجمع میں آکر فرمایا : اَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللّٰہِ میں اللہ کے رسول ﷺ کا رسول ہوں۔ اسی طرح روایات میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص علیہ السلام نے ایرانیوں کے سامنے اپنا تعارف ان الفاظ میں کروایا تھا ”اِنَّا قَدْ اُرْسِلْنَا…“ یعنی ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنا نمائندہ بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے۔ بہر حال یہاں یہ دونوں امکان موجود ہیں۔ یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ کسی بستی میں اللہ نے ایک ساتھ دو رسول مبعوث فرمائے ہوں۔ جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ﷺ کو اکٹھے مبعوث فرمایا گیا تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دو اصحاب کسی رسول کے نمائندے بن کر متعلقہ بستی میں گئے ہوں۔
{ فَکَذَّبُوْہُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ } ”پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلادیا ‘ تو ہم نے ان کو تقویت دی ایک تیسرے کے ساتھ“
اس قوم کی طرف سے ان دونوں رسولوں کی تکذیب کے بعد ہم نے ان کی مدد کے لیے ایک تیسرا رسول بھی بھیجا۔
{ فَقَالُوْٓا اِنَّآ اِلَیْکُمْ مُّرْسَلُوْنَ } ”تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔“
Ayah 36:15آیت 15 { قَالُوْا مَآ اَنْتُمْ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَالا } ”انہوں نے کہا کہ تم نہیں ہو مگر ہم جیسے انسان !“
{ وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْئٍلا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ تَکْذِبُوْنَ } ”اور رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی ‘ تم محض جھوٹ بول رہے ہو۔“
Ayah 36:16آیت 16 { قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ } ”انہوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔“
انہوں نے بستی والوں کی ہٹ دھرمی کے جواب میں کوئی اور دلیل تو نہیں دی۔ البتہ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر ان کے سامنے اپنے اس یقین اور اذعان کا اظہار کیا کہ ہم اسی کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں۔
Ayah 36:17آیت 17 { وَمَا عَلَیْنَآ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ } ”اور نہیں ہے ہم پر کوئی اور ذمہ داری سوائے اللہ کا پیغام صاف صاف پہنچا دینے کے۔“
Ayah 36:18آیت 18 { قَالُوْٓا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ } ”انہوں نے کہا کہ ہمیں تم سے نحوست کا اندیشہ ہے۔“
یعنی ہم تمہیں اپنے لیے فالِ بد سمجھتے ہیں۔ تم نے آکر ہمارے معبودوں کے خلاف جو باتیں کرنی شروع کردی ہیں ان کی وجہ سے ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی نحوست کہیں ہم پر نہ پڑجائے اور اس کی پاداش میں کہیں ہم خدا کی گرفت میں نہ آجائیں۔
{ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ } ”اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور تمہیں سنگسار کردیں گے“
{ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ”اور تمہیں ضرور پہنچے گی ہماری طرف سے دردناک سزا۔“
Ayah 36:19آیت 19 { قَالُوْا طَآئِرُکُمْ مَّعَکُمْ ”انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ ہے۔“
{ اَئِنْ ذُکِّرْتُمْ } ”کیا اس لیے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے ؟“
کیا تم یہ باتیں اس لیے بنا رہے ہو کہ تمہیں نصیحت اور یاد دہانی کرائی گئی ہے ؟ جبکہ یہ نصیحت بھی کوئی نئی اور انوکھی بات سے متعلق نہیں ہے۔ اللہ کی معرفت تو پہلے سے تمہارے دلوں کے اندر موجود ہے۔ ہم تو تم لوگوں کو صرف اس کی یاد دہانی کرانے کے لیے آئے ہیں۔ اسی حقیقت کو سورة الذاریات میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ } ”اور تمہارے اپنے اندر بھی اللہ کی نشانیاں ہیں ‘ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“
{ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ } ”بلکہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔“
Ayah 36:20آیت 20 { وَجَآئَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی } ”اور شہر کے َپرلے سرے سے آیا ایک شخص بھاگتا ہوا“
{ قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ } ”اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم ان رسولوں علیہ السلام کی پیروی کرو !“
تم لوگ ان پر ایمان لائو ‘ ان کی تصدیق کرو اور ان کی اطاعت کرو۔
Ayah 36:21آیت 21 { اتَّبِعُوْا مَنْ لاَّ یَسْئَلُکُمْ اَجْرًا وَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ } ”پیروی کرو ان کی جو تم سے کسی اجرت کے طالب نہیں ہیں اور جو ہدایت یافتہ ہیں۔“
دیکھو ! یہ لوگ تمہیں نصیحت کرنے اور تمہیں راہ راست کی طرف بلانے کے لیے دن رات مشقت کر رہے ہیں ‘ لیکن اس سب کچھ کے عوض وہ تم سے کسی صلے یا اجرت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جبکہ ان کی سیرتیں خود اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ یہ لوگ واقعی ہدایت یافتہ ہیں۔
Ayah 36:22آیت 22 { وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”اور مجھے کیا ہے کہ میں عبادت نہ کروں اس ہستی کی جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹا دیے جائو گے۔“
دیکھو ! یہ لوگ جو دعوت دے رہے ہیں وہ یہی تو ہے کہ تم اس اکیلے معبود کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوگوں نے پلٹ کر بھی جانا ہے۔ چناچہ مجھے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ میں اس اللہ کی عبادت نہ کروں جو میرا خالق ہے۔
Ayah 36:23آیت 23 { ئَ اَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِہَۃً } ”کیا میں اس کے سوا دوسروں کو معبود بنالوں ؟“
کیا میں اس معبودِ حقیقی کو چھوڑ کر جھوٹے خدائوں اور دیوی دیوتائوں کی پوجا شروع کر دوں ؟
{ اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لاَّ تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْئًا وَّلاَ یُنْقِذُوْنِ } ”اگر رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان جھوٹے معبودوں کی سفارش میرے کسی کام نہیں آئے گی اور نہ وہ مجھے چھڑاسکیں گے۔“
Ayah 36:24آیت 24 { اِنِّیْٓ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”تب تو میں یقینا بہت کھلی گمراہی میں پڑ جائوں گا۔“
اگر میں معبودِ حقیقی کے ساتھ جھوٹے خدائوں کو شریک کرنے کی حماقت کرلوں جنہیں کسی چیز کا بھی اختیار نہیں تو ایسی صورت میں تو میں سیدھے راستے سے بالکل ہی بھٹک جائوں گا۔
Ayah 36:25آیت 25 { اِنِّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ } ”میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں ‘ سو میری بات سنو !“
یعنی اللہ کے یہ تینوں رسول علیہ السلام تمہیں توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں۔ ان کی یہ باتیں تمہاری سمجھ میں آئیں نہ آئیں میں ان کی حقیقت تک پہنچ چکا ہوں۔ اور تم ان کی تصدیق کرو نہ کرو میں تو ان پر ایمان لا چکا ہوں۔ یوں اللہ کے اس بندے نے ڈنکے کی چوٹ اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ یہ سنتے ہی اس کی قوم کے لوگ غصے سے پاگل ہوگئے۔ انہیں ان رسولوں پر تو زیادہ غصہ نہ آیا ‘ کیونکہ وہ باہر سے آئے ہوئے افراد تھے ‘ لیکن اپنی قوم کے ایک فرد کی طرف سے اس ”اعلانِ بغاوت“ کو وہ برداشت نہ کرسکے ‘ چناچہ اللہ کے اس بندے کو اسی لمحے شہید کردیا گیا۔
Ayah 36:26آیت 26 { قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ } ”کہہ دیا گیا کہ تم داخل ہو جائو جنت میں !“
وہ شخص چونکہ اللہ کی راہ کا مقتول تھا ‘ اس لیے جنت تو گویا اس کے انتظار میں تھی۔ شہادت کے رتبے پر فائز ہوجانے والے خوش قسمت لوگوں کو جنت میں داخلے کے لیے روز حشر کا انتظار نہیں کرنا پڑتا ‘ بلکہ جس لمحے ایسے کسی مومن کی شہادت ہوتی ہے اسی لمحے اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
{ قَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ } ”اس نے کہا : کاش میری قوم کو معلوم ہوجاتا۔“
Ayah 36:27آیت 27 { بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ } ”وہ جو میرے رب نے میری مغفرت فرمائی ہے اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کرلیا ہے۔“
ذرا تصور کیجیے ! ادھر جنت کا تو یہ منظر ہے ‘ مگر دوسری طرف دنیا میں اس کے گھر میں صف ماتم بچھی ہوگی۔ بیوی بچے ہوں گے تو وہ رو رو کر بےحال ہو رہے ہوں گے ‘ والدین ہوں گے تو ان پر غشی کے دورے پڑ رہے ہوں گے۔ غرض بہن بھائی ‘ عزیز و اقارب سب نوحہ کناں ہوں گے کہ اسے اس طرح ناحق قتل کردیا گیا۔ بہرحال ان دونوں جہانوں کے معاملات علیحدہ علیحدہ ہیں ‘ درمیان میں غیب کا پردہ حائل ہے۔ دنیا والوں کو پردہ غیب کی دوسری طرف اس جہان کی کیفیات کا کچھ علم نہیں ‘ جہاں اللہ کا ایک بندہ جنت کے تخت پر بیٹھا کہہ رہا ہے کہ اگر میری قوم کے لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ اللہ کے ہاں میری کیسی قدر و منزلت ہوئی ہے اور مجھے کیسے کیسے اعزازو اکرام سے نوازا گیا ہے تو وہ میری شہادت پر رنجیدہ و غمگین نہ ہوتے۔
Ayah 36:28آیت 28 { وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْم بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ } ”اور اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم لشکر نازل کرنے والے تھے۔“
اپنے منکروں اور نافرمانوں کو سزا دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کو آسمانوں سے کوئی فوج اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
Ayah 36:29آیت 29 { اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ } ”وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی ‘ جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“
اس یکبارگی خوفناک چنگھاڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پوری آبادی چشم ِزدن میں گویا راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئی۔
Ayah 36:30آیت 30 { یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِج مَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”افسوس ہے بندوں کے حال پر ! نہیں آتا ان کے پاس کوئی پیغمبر مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے ہیں۔“
Ayah 36:31آیت 31 { اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّہُمْ اِلَیْہِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ } ”کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی نسلوں کو ہلاک کردیا کہ وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آتے !“
ایک دفعہ دنیا سے چلے جانے کے بعد کسی کو بھی دوبارہ یہاں آنے کا موقع نہیں ملتا۔ چناچہ ان اقوام کے لوگ نیست و نابود ہو کر ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔
Ayah 36:32آیت 32 { وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ } ”اور وہ سب کے سب ہمارے ہی سامنے حاضر کیے جائیں گے۔“
اگرچہ دنیا میں واپس آنے کی تو انہیں اجازت نہیں مگر وہ معدوم نہیں ہوئے۔ عالم برزخ میں وہ سب کے سب اب بھی موجود ہیں اور وقت آنے پر ان میں سے ایک ایک کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کردیا جائے گا۔
Ayah 36:33آیت 33 { وَاٰیَۃٌ لَّـہُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی ُ مردہ زمین ہے“
{ اَحْیَیْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ } ”ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا ‘ تو اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔“
بارش برستے ہی بظاہر مردہ اور بنجر زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ ‘ فصلیں اور پودے اگ آتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔
Ayah 36:34آیت 34 { وَجَعَلْنَا فِیْہَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ } ”اور ہم نے بنا دیے ہیں اس میں باغات کھجور اور انگور کے“
{ وَّفَجَّرْنَا فِیْہَا مِنَ الْعُیُوْنِ } ”اور جاری کردیے ہیں ہم نے اس میں چشمے۔“
Ayah 36:35آیت 35 { لِیَاْکُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ لا وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْط اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ } ”تاکہ یہ ان کے پھلوں میں سے کھائیں ‘ اور یہ سب ان کے ہاتھوں نے تو نہیں بنایا ‘ تو کیا تم لوگ شکر نہیں کرتے ؟“
یہ کھجوریں ‘ انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل جو یہ لوگ کھاتے ہیں ‘ یہ ان کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے تو نہیں ہیں۔ یہ مضمون سورة الواقعہ کے دوسرے رکوع میں زیادہ زور دار اور موثر انداز میں بیان ہوا ہے۔ وہاں تکرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مختلف تخلیقات کا ذکر کر کے ہر بار یہ سوال کیا گیا ہے کہ ذرا بتائو ! یہ چیز تم نے بنائی ہے یا اس کو بنانے والے ہم ہیں ؟ علامہ اقبالؔ نے اس مضمون کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ؟
کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار ؟
خاک یہ کس کی ہے ؟ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟
Ayah 36:36آیت 36 { سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّہَا } ”پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیا ہے تمام جوڑوں کو“
م { مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِہِمْ وَمِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ } ”اس میں سے بھی جو زمین اگاتی ہے ‘ اور خود ان کی اپنی جانوں سے بھی اور اس میں سے بھی جن کے بارے میں یہ نہیں جانتے۔“
زمین سے اگنے والے سب نباتات بھی جوڑوں کی شکل میں ہیں ‘ انسانوں کی تخلیق بھی جوڑوں کی صورت میں ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بہت سی دوسری مخلوقات بھی جوڑوں کی شکل میں ہیں جن کے بارے میں انسان ابھی جانتا بھی نہیں ہے۔
Ayah 36:37آیت 37 { وَاٰیَۃٌ لَّہُمُ الَّیْلُج نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِذَا ہُمْ مُّظْلِمُوْنَ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی رات بھی ہے ‘ ہم کھینچ لیتے ہیں اس سے دن کو ‘ تو اس وقت یہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔“
یہ ایسے ہے جیسے ایک سیاہ چادر بچھی ہو ‘ جسے ایک چمکدار چادر نے ڈھانپ رکھا ہو۔ پھر اوپر والی سفید اور چمکدار چادر کھینچ لی جائے اور نیچے سے سیاہ چادر نمودار ہوجائے۔
Ayah 36:38آیت 38 { وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا } ”اور سورج چلتا رہتا ہے اپنے مقررہ راستے پر۔“
یعنی اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے۔
{ ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ } ”یہ اندازہ مقرر کیا ہوا ہے اس کا جو بہت زبردست ‘ بہت علم والا ہے۔“
Ayah 36:39آیت 39 { وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰـہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ } ”اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں ‘ یہاں تک کہ وہ پھر کھجور کی پرانی سوکھی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے۔“
ستائیسویں شب کی صبح کو دیکھیں تو چاند واقعی ایک سوکھی ہوئی ٹہنی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔
Ayah 36:40آیت 40 { لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَہَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ } ”نہ تو سورج کے لیے ممکن ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ ہی رات دن سے آگے نکل سکتی ہے۔“
جب تک یہ دنیا قائم ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہی چلتے رہیں گے۔
{ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ } ”‘ اور یہ سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔“
یہ تمام اجرامِ سماویہ بہت منظم انداز میں اپنے اپنے مدار کے اندر محو ِگردش ہیں۔