36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 36:1–4

یٰسٓۚ Open ayah 36:1 in the Quran reader

یا۔ سین قسم ہے

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قرآن پر حکمت کی

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

کہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

(اور) سیدھے راستہ پر ہیں،1۔

1۔ (یہاں تک کہ جو آپ کی پیروی کرے وہ بھی سیدھے راستے پر پڑجائے، اور اللہ تک پہنچ جائے) (آیت) ” یس ٓ “۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ مخفف ہے، یا انسان کا۔ یس ٓ بمعنی یا انسان (ابن کثیر۔ عن ابن عبا سؓ وعکرمہ ؓ والضحاک والحسن وسفیان) (آیت) ” والقران الحکیم “۔ یعنی اس قرآن کی حکیمانہ وپر مغز تعلیمات خود اس کی گواہ ہیں کہ آپ ﷺ مرتبہ رسالت پر فائز ہیں۔ کوئی غیر خدائی ماخذ ایسی تعلیمات کا ہو ہی نہیں سکتا۔
Ayahs 36:5–6

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

) یہ قرآن) نازل کیا گیا (خدائے) غالب ورحیم کی طرف سے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا ڈرائے نہیں گئے تھے، سو وہ (اس سے) بیخبر ہیں،2۔

2۔ یعنی انہیں اسی کا احساس نہیں کہ باز پرس اخروی ہے کیا چیز اور رسالت اور توحید کے معنی کیا ہیں۔ (آیت) ” لتنذر قوما “۔ قوم سے مراد قریش یا قوم عرب ہے۔ جو پیام اسلام کی اولین مخاطب تھی، جس دور سے دنیا اس وقت گزر رہی تھی۔ اور جس منزل میں اس وقت تھی، لوگوں کی سمجھ بھی آسکتا ہے تو عالمگیر نبوت اور کائناتی پیامبری کا تخیل تو وقت کے عام ذہنوں کی گرفت سے بالکل ہی باہر تھا۔ یہی راز ہے اس کا کہ قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کے پیام کی عالمگیری کو اس تصریح اور اس تکرار کے ساتھ نہیں بیان کیا ہے جس طرح آپ ﷺ کی پیامبری خود آپ ہی کی قوم، قریش یا عرب کی طرف بیان کی ہے۔ نبوت محمدی ﷺ کی یہ عالمگیر حیثیت بھی بیان متعدد مقامات پر ہوئی ہے۔ مثلا (آیت) ” لیکون للعلمین نذیرا۔ وما ارسلنک الا کآفۃ للناس بشیرا ونذیرا “۔ وغیرہا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ وضاحت و تکرار کے ساتھ زور آپ ﷺ کی قومی نبوت پر دیا ہے۔ (آیت) “ قوما مآانذر ابآؤھم “۔ خاص بنی اسماعیل میں کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ باقی دوسرے انبیاء کی تعلیمات اگر بالواسطہ اہل عرب تک پہنچ چکی ہوں تو وہ اس کی منافی نہیں۔ اس مفہوم کے حاشیے کئی بار گزر چکے ہیں۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر لوگوں پر یہ (تقدیری) بات ثابت ہوچکی ہے سو وہ لوگ ایمان نہ لائیں گے،3۔

3۔ وہ بات تقدیری یہی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ تقدیری بات اللہ کی علم ازلی کے مرادف ہے۔ اور یہ علم ازلی ہرگز کسی شائبہ جبرواکراہ کے ہی مرادف نہیں۔ اور نہ علم کسی طرح رضا کے مستلزم ہے۔ طبیب کی پیشگوئی اور پیش خبری کسی بدپرہیز مریض کے انجام سے متعلق ہرگز طبیب کی مرضی اور خواہش کی ترجمان نہیں، یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ہدایت یابی کے جو قانون قاعدے شروع سے مقرر ہیں (مثلا یہی کہ خلوئے ذہن کے ساتھ دعوت رسالت پر غور کیا جائے) یہ لوگ چونکہ انہیں پر عمل کرنے سے گریز کررہے ہیں اس لیے قدرۃ ثمرہ ہدایت سے محروم رہیں گے۔
Ayahs 36:8–9

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں، سو وہ ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں، جن سے ان کے سراوپر کو اٹھے رہ گئے

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی ہے اور ایک آڑ ان کے پیچھے کردی ہے، جس سے ہم نے ان کو گھیر دیا ہے سو وہ دیکھ نہیں سکتے،4۔

4۔ یعنی نہ آگے دیکھ سکتے ہیں نہ پیچھے۔ یہ ساری تمثیل ان لوگوں کے بعد عن الایمان کی ہے۔ یعنی چونکہ انہوں نے خود قوت ارادی سے صحیح کام نہیں لیا، توفیق ہدایت بھی ان سے مطلق سلب ہوگئی۔ فی ان لاتامل لھم ولا تبصروا نھم متعامون عن النظر فی ایات اللہ (مدارک) غفلت ان لوگوں کی ارادی اور مجرمانہ تھی، لیکن یہاں بحیثیت مسبب الاسباب کے ان حالات کو حق تعالیٰ نے منسوب اپنی ہی جانب کیا ہے۔ (آیت) ” اناجعلنا۔ وجعلنا۔ فاغشینھم “۔ صیغہ متکلم ان سب مقامات پر حق تعالیٰ کی جانب محض نظام تکوینی کے علت العلل کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کے حق میں (دونوں) برابر ہیں آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لانے کے،5۔

5۔ (سو آپ زیادہ غم وفکر میں نہ پڑیئے، لیکن ساتھ ہی اپنی تبلیغ جاری رکھیے)
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

آپ تو بس اسی کو ڈراسکتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور خدائے رحمن سے بےدیکھے خوف رکھے، آپ اس کو خوش خبری سنا دیجیے مغفرت اور عمدہ معاوضہ کی،6۔

6۔ مغفرت گناہوں سے، اور عمدہ معاوضہ طاعت پر۔ یا یوں کہا جائے کہ مغفرت مرتب ہوگی ایمان پر، اور (آیت) ” اجر کریم “ ملے گا اعمال صالح پر۔ (آیت) ” انما ..... بالغیب “۔ یافت حاصل ہوتی ہے طلب سے لیکن خود طلب پیدا ہوتی ہے خوف و خشیت سے۔ اگر سے سے خشیت ہی مفقود ہوئی توتلاش وطلب ہی کیوں پیدا ہونے لگی۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ تربت پر جو نفع مرتب ہوتا ہے وہ طالب ہی کی استعداد کا ظہور ہوتا ہے، نہ کہ مربی ظاہری کی عطاء پر۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم ہی تو مردوں کو جلائیں گے، اور ہم لکھتے جاتے ہیں اسے جو یہ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور پیچھے چھوڑے جاتے ہیں،7۔ اور ہم نے ہر شیء کو ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے،8۔

7۔ یعنی ان کا ہر وہ عمل جس پر جزاؤسزا مرتب ہوسکتی ہے۔ برابر لکھا جاتا رہتا ہے۔ (آیت) ” ماقدموا “۔ سے مراد ہیں وہ کام جو انہیں کی ذات پر ختم ہوگئے یعنی اعمال ذاتی۔ (آیت) ” واثارھم “۔ سے مراد ہیں ان کے وہ اعمال جو سبب بنے دوسروں کی ہدایت وضلالت کے یعنی اعمال متعدی۔ (آیت) ” نکتب “۔ فرشتوں کے عمل کتابت اعمال کو اپنی جانب منسوب فرمایا ہے۔ (آیت) ” انا نحن نحی الموتی “۔ یعنی ہم ہی مردوں کو دوبارہ اٹھا کر کھڑا کریں گے، اور اس وقت جزاوسزا دونوں کا پورا ظہور ہوگا۔ 8۔ مراد ہے لوح محفوظ، جس میں چھوٹا بڑا ہر واقعہ درج ہے۔ اے اللوح المحفوظ (بحر۔ عن مجاہد وقتادہ وابن زید) یعنی اللوح المحفوظ لانہ اصل الکتب ومقتداھا (مدارک) (آیت) ” امام “۔ کے لغوی معنی میں ہر وہ چیز داخل ہے خواہ انسان ہو یا کتاب ہو یا کچھ اور جس کا اقتداء کیا جائے۔ الامام الموتم بہ انسانا کان اوکتابا اوغیر ذلک (راغب) فرقہ شیعہ کے غالیوں نے لفظ (آیت) ” امام “۔ کے اپنے اصطلاحی اور اختراعی معنی لے کر (آیت) ” امام مبین “۔ سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہ ؓ سے لی ہے۔ ولا یخفی ما فی ذلک من عظیم الجھل بالکتاب الجلیل (روح)
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور آپ ان کے سامنے ایک قصہ بیان کیجیے ایک بستی والوں کا جب کہ ان کے پاس رسول آئے،9۔

9۔ (آیت) ” القریۃ “۔ سے مراد شام کا شہر انطاکیہ (AntiAcA) لیا گیا ہے۔ (آیت) ” المرسلون “۔ اس سے اصطلاحی رسول (یعنی اللہ کے فرستادے) نہیں۔ بلکہ رسول وقت حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے نائبین مراد لیے گئے ہیں۔ لیکن کوئی حدیث صحیح اس باب میں موجود نہیں اور سیاق قرآنی سے بھی اس تفسیر منقول کی تائید نہیں ہوتی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس تفسیر پر اصل نکلتی ہے مشائخ کے اس طریق کی کہ اپنے خلفاء کو ارشاد خلق کے لیے مختلف شہروں، ملکوں میں بھیجتے رہتے ہیں۔
Ayahs 36:14–15

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو انہوں نے دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے ان کی تائید کی (انہوں نے) کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ لوگ بولے تم تو بس ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور خدائے رحمن نے کچھ بھی نہیں اتارا ہے تم نرا جھوٹ ہی بول رہے ہو،10۔

10۔ منکروں نے جواب میں کہا کہ تمہاری شخصی صداقت کا زیر بحث ہونا الگ رہا۔ ہم نفس مسئلہ رسالت ونبوت ہی کے قائل نہیں۔ نہ اوتار، نہ مظہر خدا، نہ دیوتاؤں کی اولاد، بلکہ محض انسان، اور وہ ” پیغمبر “ ہوجائے یہ ہماری سمجھ میں تو آتا نہیں۔ (آیت) ” ماانتم الا بشر مثلنا “۔ جاہل قوموں کو پیغمبروں کی دعوت قبول کرنے میں سب سے بڑی ٹھوکریہی لگتی ہے کہ یہ ہماری ہی جیسی بشریت کے ساتھ ساتھ پیغمبری کا دعوی کیسا، یہ سارے فقرے ذہن کو اسی طرف لیے جاتے ہیں کہ یہ لوگ براہ راست اللہ ہی کے رسول تھے۔
Ayahs 36:16–18

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

(رسولوں نے) کہا کہ ہمارا پروردگار علیم ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے ہی گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمہ تو صرف کھلی ہوئی تبلیغ ہے

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ لوگ بولے ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں،11۔ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں سنگسار کرڈالیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت آزار پہنچے گا،12۔

11۔ (کہ تمہاری آمد سے ہمارے درمیان یہ فتنہ و فساد برپا ہوگئے) (آیت) ” قالوا ...... لمرسلون وما ...... المبین “۔ یہ دونوں فقرے بھی ان مرسلین کی رسالت حقیقی ہی پر دلالت کررہے ہیں۔ 12۔ (مختلف صورتوں سے) (آیت) ” لنرجمنکم “۔ رجم یا سنگساری، یاد رہے کہ دنیا کی قدیم ترین سلطنتوں اور تہذیبوں میں ایک عام سزا رہی ہے۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

وہ (رسول) بولے کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی چپکی ہوئی ہے، کیا (نحوست) یہ ہے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ اصل یہ ہے کہ تم ہی ہو حد سے نکل جانے والے لوگ،13۔

13۔ یعنی یہ کیا اندھیر ہے کہ عین جو طریقہ سعادت دارین اور فلاح دنیا وآخرت کا بتایا جاتا ہے، اسی کو نحوست قرار دے رہے ہو، اور نحوست تم جن واقعات کو قرار دے رہے ہو وہ تو خود تمہارے ہی کرتوت ہیں۔ تم ہی نے حق کے قبول سے انکار کیا، تو تمہارے اندر افتراق وتشتت پیدا ہوا۔ تمہیں نے پیدا خداوندی کو ٹھکرایا۔ تو تمہارے سامان معاش میں بےبرکتی پیدا ہوئی۔ وقس علی ہذا۔ (آیت) ” طآئرکم معکم “۔ قدیم جاہل قوموں میں سعد ونحس کا تخیل بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ بات بات میں شگون، فال وغیرہ کارواج عام تھا۔ مکالمہ اسی فضا میں ہورہا ہے۔ (آیت) ” طآئرکم “۔ یعنی نحوست بقول تمہارے، نحوست تمہارے زعم میں۔
Ayahs 36:20–21

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور ایک شخص اس شہر کے کسی دور مقام سے دوڑتا ہوا آیا (اور) کہنے گا کہ اے میری قوم والو (ان) رسولوں کی راہ پر چلو

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ان کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور خود راہ راست پر ہیں،14۔

14۔ یعنی ان بزرگوں کی پیروی سے امر مانع کون سا ہے۔ خود یہ لوگ تو راہ ہدایت ہی پر ہیں، اور پھر خود غرضی کا خیال ان کی طرف سے مرتفع، اس لیے کہ ہم سے جاہ ومال کسی قسم کا صلہ نہیں چاہتے۔ (آیت) ” رجل یسعی “۔ یہ شخص اس وقت تک مومن ہوچکا تھا۔ (آیت) ” من لایسئلکم اجرا “۔ پیغمبروں کی یہ خصوصیت قرآن مجید میں بارہار بیان ہوچکی ہے کہ وہ تبلیغ و دعوت کسی قسم کے دنیوی معاوضہ کے لالچ میں نہیں کرتے۔
Ayahs 36:22–25

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور میرے پاس عذر ہی کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹنا ہے

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اسے چھوڑ کر (اور ایسے) معبود قرار دے لوں کہ اگر (خدائے) رحمن مجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہے تو ان (معبودوں) کی سفارش میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اگر میں ایسا کروں تو صریح گمراہی میں جا پڑا

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا سو میری سن لو،15۔

15۔ مرد مومن کی تقریر کا حاصل یہ ہے کہ جب پروردگار وہی ایک اور داور حشر بھی وہی ایک، اور سارے دیوی دیوتا بےاختیار محض، تو آخر دین توحید چھوڑ کر شرک اختیار کرنے کے معنی ہی کیا ؟ یہ تو سرتاسر محض بےعقلی ہی ہوئی۔ (آیت) ” الذی فطرنی والیہ ترجعون “۔ خالق بھی وہی داور حشر بھی وہی۔ مبدا بھی وہی۔ منتہی بھی وہی۔ ہر سادہ وسلیم فطرت والا بعینہ یہی استدلال کرے گا۔ (آیت) ” ومالی لا اعبد۔ ء اتخذ۔ انی اذا “۔ ہر جگہ صیغہ واحد متکلم کے استعمال سے مفسر تھانوی (رح) نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد مومن نے یہ سب اپنے اوپر رکھ کر اس لیے کہا کہ مخاطبین کو اشتعال نہ ہو، جو غور و تدبر کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ (آیت) ” انی ...... فاسمعون “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ ترغیب وتحریص خیر کے موقع پر اپنی کسی خوبی کا اظہار کردینا جائز بلکہ اولی ہے۔ (آیت) ” لاتغن ...... لاینقذون “۔ مشرکوں کے دیوتاؤں کی بیچارگی دکھائی ہے کہ نہ کسی معنی میں قادر، اور نہ اس قابل کہ قادر مطلق کے ہاں سفارش ہی کرسکیں۔
Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ جا جنت میں داخل ہو،16۔ وہ کہنے لگا کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوجاتا

16۔ مشرک قوم اپنے اس ہم قوم مرد مومن کی دشمن ہوگئی۔ اور آخر اسے ہلاک کرڈالا۔ جنت کی یہ بشارت اس شہید کو اپنی ہلاکت کے وقت مل رہی ہے۔
Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں شامل کردیا،17۔

17۔ اس شہید کو ہمدردی اپنی قوم کی اور دھن اپنی ملت کی اس وقت بھی سوار رہی، اور حسرت کے لہجہ میں بولا کہ کاش میری قوم والوں کو بھی عالم جادوانی کے اعزار و تکریم کا راز معلوم ہوگیا ہوتا، اور وہ سب بھی ایمان لیے آئے ہوتے ! (آیت) ” بماغفر ..... المکرمین “۔ اس مغفرت اور مکرمت کا راز ابھی اوپر بیان ہوچکا ہے۔ (آیت) ” اتبعوا المرسلین “۔ اور (آیت) ” امنت بربکم “۔ میں۔ یعنی یہ ثمرہ تمامتر ایمان اور اتباع مرسلین کا ہے۔
Ayahs 36:28–29

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کی قوم پر اس کے بعد کوئی لشکر آسمان سے نہیں اتارا اور نہ ہم کو اتارنے کی ضرورت تھی

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ (سزا) تو بس ایک چیخ تھی کہ سب اسی دم بجھ کر رہ گئے،18۔

18۔ وہ قوم انکار وتکذیب کی منزلیں طے کرچکنے کے بعد بالآخر ہلاک کردی گئی ہے۔ یہ بیان اس وقت کا ہے۔ (آیت) ” وما کنا منزلین “۔ خدائے قادر وغنی کو فرشتوں کا لشکر کا لشکر اتارنے کی احتیاج نہیں۔ بڑی سے بڑی آبادیوں کی ہلاکت کے لئے ایک ادنی سا اشارہ کافی ہے۔ مثلا یہیں، ایک زور کی آواز (بادل اور بجلی کی کڑک ہو یا کچھ اور (کافی ہوگئی، اور بعض واقعات میں جو فرشتوں کے لشکر کا اتارنا مذکور ہے، وہ کسی وقتی حکمت ومصلحت کی بناء پر تھا۔ یہاں نفی صرف احتیاج کی ہورہی ہے۔ (آیت) ” خمدون “۔ یعنی مرکھپ کر ایسے نیست ونابود ہوگئے جیسے خاکستر جلنے بجھنے کے بعد۔ اے میتون ھامدون تشبیھا بالرماد الخامد (قرطبی)
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس (ایسے) بندوں کے حال پر ! کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کی یہ ہنسی نہ اڑاتے ہوں،19۔

19۔ حق تعالیٰ کا یہ اظہار تاسف وملال اس کمال شفقت کے اظہار کے لئے انسانی محاورہ کے مطابق ہے جو حضرت حق کو بندوں کے ساتھ ہے۔ ورنہ حقیقۃ وہ ذات پاک ہر قسم کے تاثر وانفعال سے بالاتر ہے :۔
Ayahs 36:31–32

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان کے قبل (بہت سی) امتیں ہلاک کرچکے ہیں کہ یہ لوگ ان کی طرف لوٹ کر نہ آئیں گے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور ان سب میں کوئی بھی ایسا نہیں جو مجموعی طور پر ہمارے سامنے حاضر نہ کیا جائے،20۔

20۔ یعنی اس دنیوی ہلاکت سے قطع نظر اصلی سزا تو اسی عالم آخرت میں ہوگی، اور وہ دائمی اور غیر منقطع ہوگی۔ (آیت) ” انھم الیھم لایرجعون “۔ یہ آیت یا اس کے ہم معنی دوسری آیتوں میں صرف ایک عام قانون و عادت الہی کا بیان ہے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ کہیں اور کسی خاص موقعہ پر بطور خرق عادت بھی ایسا نہیں ہوسکتا، جیسا کہ بعض کج فہموں نے ان آیتوں سے نکالا ہے۔ (آیت) ” لما “۔ مازائد تاکید کے لئے ہے۔ مامزیدۃ للتاکید (بیضاوی)
Ayahs 36:33–34

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان لوگوں کے لئے زمین مردہ ہے ہم نے اسے زندہ کیا اور اس میں سے غلے نکالے سو ان میں سے لوگ کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس (زمین) میں باغ لگائے کھجوروں اور انگوروں کے اور اس (زمین) میں چشمے جاری کردیئے،21۔

21۔ باغ کی آبپاشی کے لئے) (آیت) ” جنت ..... اعناب “۔ کھجور اور انگور کے نام کی تصریح مذاق عرب (مخاطبین اول) کی رعایت سے ہے۔ کھجور تو کہنا چاہیے کہ عرب کے حق میں مایہ زندگی ہے، اور انگور کے شاداب باغوں سے بھی اہل عرب واقف تھے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” ایۃ لھم “۔ سوکھی ہوئی زمین کا از سرنوجی اٹھنا بجائے خود ایک سبق ہے حق تعالیٰ کی قدرت و ربوبیت کا۔
Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ لوگ اس (باغ) کے پھلوں سے کھائیں اور اس (سارے انتظام) کو ان کے ہاتھوں نے نہیں پیدا کیا سو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے،22۔

22۔ (ان دلائل قدرت کو دیکھنے کے باوجود) اور ادائے شکر کا پہلا زینہ توحید ہے۔ (آیت) ” وما عملتہ ایدیھم “۔ ٹکڑا بہت قابل غور ہے ساری دنیا، خدائی قدرت وانتظام سے الگ ہوکر، اگر مل کر بھی کوشش کرڈالے کہ تخم ریزی وآبپاشی کے نتائج غلہ پھل وغیرہ ہی کی شکل میں ظاہر ہوتے رہیں تو کامیابی ناممکن ہے یقینی طور پر ان مسببات کو انہیں نتائج کی صورت میں ظاہر کرنا خاص الخاص کرشمہ قدرت خداوندی ہے۔ (آیت) ” وما عملتہ “۔ ما یہاں نافیہ ہے۔ ترجمہ اسی ترکیب کے مطابق کیا گیا۔ روی القول بان مانافیۃ عن ابن عباس ؓ والضحاک (روح) دوسری ترکیب یہ بھی جائز ہے کہ ماکوموصولہ قرار دیاجائے۔ اس صورت میں فقرہ کا عطف آیت ” ثمرہ “۔ پر ہوگا۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ اپنے پکے پکائے کھانے کو دیکھو تو اس میں بھی حق تعالیٰ ہی کی ربوبیت کی جھلک پاؤ گے۔ ماموصولۃ فی محل جرعطف علی ثمرہ (روح)
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ذات ہے وہ جس نے تمام مقابل قسموں کو پیدا کیا نباتات زمین کے قبیل سے بھی اور ان شخصوں میں سے بھی اور ان چیزوں میں بھی جن کو (عام لوگ) نہیں جانتے،23۔

23۔ یعنی پاک و بالاتر ہے ایسی قادر مطلق ذات ہر قسم کے شرک سے (آیت) ” الازواج کلھا “۔ ہر قسم کے جوڑے اور سارے موجودات کے اصناف و انواع مراد ہیں۔ الازواج الانواع والاصناف فکل زوج صنف لانہ مختلف فی الالوان والطعوم والاشکال والصغر والکبر فاختلافھا ھو ازدواجھا (قرطبی) جدید سائنس کا یہ ایک مشہور مسئلہ ہے کہ نرومادہ کا وجود کائنات کی ہر صنف موجود میں پایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ حیوانات سے گذر کرنباتات بلکہ جمادات میں بھی۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” مماتنبت الارض “۔ نباتات ارضی میں تقابل مماثلت کا بھی ہوسکتا ہے اور تضاد کا بھی۔ (آیت) ” ومن انفسھم “۔ اشخاص میں تقابل یہ ہے کہ مثلا مرد عورت، جوان بوڑھا، گورا کالا وغیرہ۔
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان لوگوں کیلئے رات بھی ہے ہم اس پر سے دن کو اتار لیتے ہیں سو یکایک لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں،24۔

24۔ رات اور دن، دونوں تمامتر امرالہی کے مسخر ہیں۔ خود کوئی دیوی دیوتا نہیں جیسا کہ بعض مشرک جاہلی قوموں نے سجھ رکھا ہے۔ ان کے درمیان یہ تقلب و تصرف سب قدرت الہی سے ہوتے رہتے ہیں۔
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور ایک نشانی آفتاب بھی کہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے،25۔ یہ اندازہ ٹھہرایا ہوا ہے زبردست (اور) علم والے (خدا) کا،26۔

25۔ (اپنی حرکت یومیہ میں بھی اور دورۂ سالانہ میں بھی) 26۔ (جس کے اندازہ میں دخل نہ بخت واتفاق کو ہوسکتا ہے اور نہ ظن وتخمین کو، بلکہ اس کا ہر قانون اپنی جگہ پر مستحکم اور اٹل ہوتا ہے اور حکمت ومصلحت پر مبنی بھی)
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور (نشانی) چاند بھی کہ ہم نے اس کے لئے منزلیں مقرر کی ہیں یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی،27۔

27۔ (کہ پتلی اور خمدار ہونے میں ضرب المثل ہے) تشبیہ میں ممکن ہے کہ زردی رنگ بھی شامل ہو۔
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور نہ سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں،28۔

28۔ اور اپنے خالق ومالک کے حکم کے مسخر اپنی اپنی رفتار سے چل رہے ہیں۔ اور نظام معین سے باہر نہیں ہوسکتے کہ رات دن کے حساب میں کچھ بھی خلل پڑ سے۔ (آیت) ’ وکل “۔ کل سے مراد سارے ہی اجرام فلکی لئے گئے ہیں یعنی من الشمس والقمر والنجوم (قرطبی) (آیت) ” لا ...... القمر “۔ آفتاب کی یہ مجال نہیں کہ کسی دن قبل از وقت طلوع ہوجائے۔ یعنی خورشید خ اور بایں جاہ و جلال اور سورج دیوتا باوجود اپنی ” دیوتائیت “ کے تمامتر اسی قادر مطلق کے دست قدرت میں مسخر ہیں (آیت) ” ولا ..... النھار “۔ یعنی ظہور ظلمت کے وقت معین سے پہلے شب تار کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے ارادہ و خواہش سے نور کو زائل کردے۔ (آیت) ” ولا ...... النھار “۔ تقویم اسلامی میں رات دن پر مقدم ہے، چناچہ شب غرۂ شوال شوال ہی میں، اور شب غرۂ رمضان رمضان ہی میں داخل سمجھی جاتی ہے۔ اور تروایح، اعتکاف وغیرہ کا شمار شام ہی کے وقت سے کیا جاتا ہے۔ یدل علی ان ابتداء الشھور من اول اللیل (جصاص)