36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 36:1–2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

۔ قسم ہے قرآن حکیم کی

درس نمبر 205 تشریح آیات 1 ۔۔ تا۔۔۔ 29 ﷽ یس والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین (1 – 12) اللہ تعالیٰ دو حرفوں ” یا “ اور ” سین “ کی قسم اٹھا تا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کی بھی قسم اٹھاتا ہے ۔ اللہ نے یہاں قسم میں ان حروف اور قرآن کریم کو یکجا فرمایاِ ، اس سے حروف مقطعات کی اس تفیرٹ کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے جو ہم نے ان حروف کے حوالے سے اختیار کی ہے ۔ ان حروف کے تذ کرے اور قرآن کے تذکرے کے درمیان یہ ربط ہے کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنا ہے ۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی جا نب سے ہے اور جس پر یہ لوگ تدبر نہیں کرتے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ تم اس نکتے پر غور کرو ، کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنایا گیا ہے جو تمہاری دسترس میں ہیں۔ لیکن قرآن کا انداز تعبیر ، اس کا انداز بیان اور اس کی منطقی فکر ایسی ہے کہ تم اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے ہو۔ قسم کھائے ہوئے قرآن کی جو صفت یہاں لائی جاتی ہے۔ وہ صفت حکمت ہے۔ حکمت ایک ذی عقل کی صفت ہوتی ہے جو زندہ اور عقلمند ہو۔ قرآن کریم کی یہ صفت بتا کر یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ یہ زندہ اور قصد و ارادے کی مالک کتاب ہے۔ اسی وجہ سے یہ حکیم ہے۔ اگرچہ قرآن کریم کے لئے یہ صفت بطور مجاز استعمال کی گئی ہے لیکن یہ ایک عظیم حقیقت کی مظہر ہے۔ ایک اہم حقیقت کو اذہان کے قریب لایا جا رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کتاب کی ایک روح اور ایک زندگی ہے۔ اور جب قاری کا دل صاف ہوجائے اور وہ محبت کے ساتھ اس سے ہم کلام ہوجائے تو یہ کتاب نہایت الفت اور محبت کے ساتھ اس شخص کے ساتھ ہمکلام ہوتی ہے اور وہ ایسے شخص پر پھر اپنے اسرار و رموز کھولتی ہے بشرطیکہ قاری خود اس کے لئے اپنا دل کھول دے اور اپنے دل و جان کے ساتھ اس کا ہوجائے۔ پھر اس کے قاری کو اس کے وہ خدوخال نظر آئیں گے جس طرح کسی دوست کے چہرے میں انسان کو نظر آتے ہیں۔ اور وہ اس کتاب کی طرف اسی شوق کے ساتھ مائل ہوگا جس طرح کوئی اپنے دوست کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اور پھر قرآن میں اسے وہی سکون ملتا ہے جس طرح ایک دوست کی محفل میں ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دوسروں سے قرآن کو سننا پسند فرماتے تھے۔ آپ ایسے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے اور سنتے جن میں قرآن حکیم کی تلاوت ہو رہی ہوتی تھی ۔ جس طرح کوئی عاشق اپنے محبوب کی باتیں غور سے سنتا ہے۔ اور قرآن تو حکیم ہے۔ وہ ہر اس شخص سے ہمکلام ہوتا ہے جو اس کا گرویدہ ہوجائے ۔ وہ ایک مومن کے دل کی حساس تاروں کو چھیڑتا ہے۔ اس کے ساتھ اسی مقدار میں ہمکلام ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ مکالمہ نہایت حکمت سے ہوتا ہے ۔ اس انداز میں کہ مخاطب کی اصلاح ہوتی ہے اور اس کو ایک سمت ملتی ہے۔ قرآن حکیم ہے ، بڑی حکمت کے ساتھ تربیت کرتا ہے۔ نہایت ہی معقول انداز میں۔ درست نفسیاتی سمت میں۔ ایسے انداز میں کہ جس میں تمام انسانی صلاحیتوں کو تعمیری انداز میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور انسانی صلاحیتوں کو صحت مند ترقی کے لیے ایک سمت دی جاتی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی گزارنے کا نہایت ہی حکیمانہ نظام دیتا ہے جس کے کھلے اور وسیع حدود کے اندر انسان زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اور سین اور پھر قرآن مجید کی قسم کھا کر یقین دہانی فرماتا ہے کہ اے رسول آپ رسولوں میں سے ہیں اور آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ آپ رسول کریم ہیں اور یہ قرآن حکیم ہے۔
Ayahs 36:3–4

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

کہ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر

انک لمن المرسلین۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3 – 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ کو قسم اٹھانے کی ضرورت کیا ہے ؟ لیکن قرآن اور حروف قرآن کی یہ قسم ، ان چیزوں کو جلالت شان عطا کرتی ہے جن کی قسم اٹھائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کسی عظیم الشان اور اہم چیز کی قسم اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اس چیز کی اہمیت ایک شاہد اور ثابت کنندہ کی ہوجاتی ہے۔ انک لمن المرسلین (36: 3) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو “۔ جس انداز سے یہ آیت آئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں رسولوں کا بھیجنا اور انتخاب پہلے سے طے شدہ ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خلیفہ بیان کی صورت میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کا نام رسولوں کی فہرست میں ہے اور یہاں مکذبین اور منکرین کو خطاب کرنے کی بجائے رسول اللہ کو خطاب فرمایا جاتا ہے۔ اس میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ رسول اور منصب رسالت ، اس قدر بلند وبالا ہیں کہ جن پر کوئی کلام اور مباحثہ اور مجادلہ نہیں ہوسکتا۔ بس اللہ کی جانب سے رسول کو اطلاع دے دینا ہی مکمل ثبوت ہوتا ہے۔ انک لمن المرسلین۔۔۔۔۔۔ علی صراط مستقیم (36: 3- 4) ” تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو “۔ رسولوں کے تعین اور تقرر کے بعد بتایا جاتا ہے کہ رسالت کی نوعیت کیا ہے ؟ یہ کہ وہ ایک سیدھا راستہ ہے۔ یہ رسالت تلوار کی دھار کی طرح سیدھی ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی ٹیڑھ پن اور کوئی انحراف نہیں ہوتا۔ نہ اس میں کوئی پیچیدگی ہوتی ہے اور نہ کوئی لچک ہوتی ہے۔ یہ ایسی سچائی پر مشتمل ہوتی ہے جو بالکل واضح ہوتی ہے۔ اور اس میں کوئی التباس نہیں ہوتا۔ نہ وہ خواہشات نفاسیہ کی تابع ہے۔ اور نہ وہ مصلحتوں کی سمت میں قبلہ بدلتی ہے۔ جو شخص بھی اس سچائی کی تلاش کرے اور مخلص ہو ، یہ اسے مل جاتی ہے۔ یہ رسالت چونکہ سیدھا راستہ بتاتی ہے اس لیے اس میں نہ کوئی اشکال ہے ، نہ پیچیدگی ہے ، اور نہ کوئی چکر ہے۔ یہ مسائل کو مشکل نہیں بناتی۔ نہ لوگوں کو مشکلات میں ڈالتی ہے ، اس کے اندر جدلیاتی مسائل پر مکالمہ نہیں ہوتا۔ اور نہ فلسفیانہ تصورات میں الجھایا جاتا ہے۔ یہ سچائی کو نہایت ہی سادہ شکل میں پیش کرتی ہے۔ اور اس قدر سادہ شکل میں جس میں کوئی شبہ اور کوئی غلط مبحث نہیں ہوتا۔ اس قدر سادہ کہ اسے مزید تشریح کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ الفاظ کو جوڑ توڑ ، اور باتوں سے بات نکالنا اس میں پیش ہوتا ہے اور نہ پیچیدہ اور ذولیدہ افکار کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اسی رسالت کے ساتھ موجودہ ہدایات اور ظاہری احکام پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ یہ امی اور عالم دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ یہ دیہاتی اور شہری دونوں کے لیے ہدایت ہے۔ ہر شخص اور ہر طبقہ اس کے اندر اپنی ضرورت کی ہدایت پاتا ہے ۔ اور اس کے ساتھ اس کی زندگی کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اسکا نظام زندگی درست ہوجاتا ہے۔ زندگی کے طور طریقے درست ہوجاتے ہیں اور انسانوں کے باہم تعلقات نہایت ہی آسانی کے ساتھ سر انجام پاتے ہیں۔ پھر یہ رسالت اس کائنات کی فطرت اور اس کائنات کے اندر جاری وساری قانون الٰہی کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ انسان اور انسان کے ماحول میں پائے جانے والی اشیاء کے ساتھ بھی یہ رسالت ہم آہنگ ہے۔ یہ نہ دنیا کی اشیاء کے ساتھ متصادم ہے ، نہ انسان کو یہ رسالت حکم دیتی ہے کہ وہ فطرت کے ساتھ متصادم ہو۔ یہ اپنے منہاج پر درست استوار ہے۔ اور اس کائنات کے ساتھ متوازی ہے۔ یہ معاون ہے ، یہ ایک ایسا نظام دیتی ہے جو مکمل کائنات ہے۔ یہ رسالت اللہ تک پہنچنے کا صحیح راستہ بتاتی ہے ، اور اللہ تک پہنچاتی ہے۔ اس رسالت کے متبعین کو کبھی یہ خطرہ درپیش نہیں ہوتا کہ وہ راستہ بھلا دیں۔ نہ ان کی راہ میں کوئی ٹیڑھ آتی ہے جو اس وادی میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اس کے نشیب و فراز سے ہوتا ہوا سیدھا رضائے الٰہی اور اپنے خالق عظیم تک جا پہنچتا ہے۔ اس رسالت نے یہ قرآن دیا پ ہے ۔ جو اس سیدھی راہ کا پورا نقشہ بناتا ہے اور ایک گائیڈ ہے۔ جب انسان اس کتاب کی راہنمائی میں چلے تو وہ سچائی کی سیدھی فکر پالیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر اس کی قدروں کے بارے میں یہ کتاب فیصلہ کن ہدایت دیتی ہے اور ہر چیز کو اس کی صحیح جگہ پر رکھ دیتی ہے۔
Ayahs 36:5–6

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ قرآن) غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

تنزیل العزیز الرحیم (36: 5) ” یہ غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے “۔ ایسے مقامات پر اللہ اپنے بندوں سے اپنے آپ کو متعارف فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ کے کلام کی حقیقت کو سمجھیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم ہے۔ وہ غالب ہے لہٰذا جو چاہے کرسکتا ہے۔ اور رحیم ہے ، اس لیے اپنے بندوں کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرتا ہے۔ اس لیے اللہ کے احکام میں رحمت کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس قرآن کے نزول کے مقاصد کیا ہیں اور اس کی حکمت کیا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انجام بد د سے ڈرایا جائے اور ان تک سچائی کا پیغام پہنچایا جائے۔ خصوصاً لتنذر قوما۔۔۔۔ فھم غفلون (36: 6) ” تاکہ تم خبردار کرو ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبر دار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ غفلت وہ بڑی بیماری ہے جس کی وجہ سے دلوں میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک غافل دل دراصل اپنے فریضہ منصبی کو چھوڑ دیتا ہے ، اس لیے وہ ایک عضو معطل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہدایت اخذ کرنا اور اسے قبول کرنا یہ دل کا کام ہے۔ جب انسانوں کے سامنے دلائل ہدایت پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی دل یا تو ان پر غافل ہوکر گزر جاتا ہے اور یا ان دلائل کو اخذ کرلیتا ہے۔ لہٰذا ان غافل لوگوں کو ڈرانا مفید تھا۔ کیونکہ نسلیں گزر گئی تھیں اور اس قوم کے پاس کوئی درانے والا نہ آیا تھا۔ نہ کوئی ایسا شخص آیا تھا جو ان کو متنبہ کرتا۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امت اور اولاد میں سے تھے۔ اور ان کے بعد صدیاں گزر گئی تھیں۔ اور ان کے پاس کوئی نبی اور نذیر نہ آیا تھ۔ لہٰذا ایسا ڈرانے والا ان کی ضرورت تھا ، جو ان کو خوب غفلت سے بیدار کر دے کیونکہ آباؤ اجداد کے وقت سے یہ لوگ خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان غوفلوں کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اللہ کے نظام قضاء قدر نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کردیا ہے کیونکہ اللہ کو ان کے قلوب کے بارے میں خوب علم تھا۔ وہ ان سے سرزد ہونے والے امور کو پہلے سے جانتا تھا ۔ انہوں نے جو کیا وہ بھی اللہ کے علم میں تھا اور جو ہونے والا تھا ، وہ بھی اس کے علم میں تھا۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

۔ ان میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں ، اسی لئے وہ ایمان نہیں لاتے

لقد حق۔۔۔۔۔ فھم لا یومنون (36: 7) ” ان میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے “۔ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ صادر کردیا ہے اور اللہ کا فیصلہ ان کے حق میں درست ہے۔ یہ فیصلہ سچائی پر ہوا ہے۔ حق کے مطابق ہے۔ کیونکہ اللہ ان کی حقیقت سے خوب واقف تھا۔ اللہ ان کے شعور اور میلان سے بھی واقف تھا۔ یہ لوگ ایمان لانے والے ہی نہ تھے۔ اکثریت کا یہی انجام ہے۔ ان کے نفوس اور ہدایت کے درمیان پر دے حائل ہو چلے ہیں۔ وہ نہ سچائی کے دلائل کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو ان کا شعور حاصل ہے۔ جن لوگوں پر اللہ کا فیصلہ حق ہوچکا ان کی نفسیاتی حالت کی تصویر یہ ہے ۔ ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں ، ان طوقوں کے اندر وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔ ان کے اوپر ہدایت کے درمیان پردے اور رکاوٹیں حامل ہوچکی ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں ، اس لیے وہ سیکھنے کے اہل ہی نہیں رہے۔
Ayahs 36:8–9

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

۔ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے ، انہیں سب کچھ نہیں سوجھتا۔

انا جعلنا فی اعناقھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فھم لا یبصرون (36: 8 – 9) ” ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے۔ انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا “۔ ان کے ہاتھ طوقوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پھر یہ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہیں اور ان کی ٹھوڑیوں کے نیچے جکڑ دئے گئے ہیں۔ اس طرح ان کے سر مجبوراً اوپر کی طرف اٹھ گئے ہیں ۔ اس لیے وہ اپنے سامنے کی طرف نیچے راستے کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ چونکہ وہ اس بری حالت میں ہیں۔ اس لیے نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کچھ کرسکتے ہیں۔ پھر ان کے آگے بھی ایک دیوار ہے اور پیچھے بھی ایک دیوار ہے۔ اس طرح وہ کسی طرح بھی حق تک پہنچنے کے اہل ہی نہیں رہے۔ یہ کسے ہوئے ہیں لہٰذا دیکھ نہیں سکتے۔ آگے پیچھے دیواریں ہیں جن سے ان کی نظریں پار نہیں ہوسکتیں۔ خود اپنی اپنی نالائقی اور بدعملی کی وجہ سے وہ اس نفسیاتی حالت تک پہنچے ہیں۔ یہ منظر حسی ہے اور بڑا شدید منظر ہے لیکن روز مرہ کی زندگی میں ہمیں بیشمار لوگ ملتے ہیں جن کے بارے میں انسان اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ یہ لوگ واضح سچائی کو نہیں دیکھ پا رہے۔ لہٰذا ان کے سامنے ایسے پردے اور ایسی دیواریں حائل ہیں کہ وہ ان سے اس پار نہیں دیکھ سکتے۔ اگر ہاتھ پاؤں یوں بندھے ہوئے نہ بھی ہوں اور ان کے سر اوپر کی طرف کس نے بھی دئیے گئے ہوں کہ وہ اوپر ہی کو دیکھ سکتے ہوں ، بلکہ وہ بظاہر صحیح سالم اور آزاد ہوں لیکن ان کی نفسیاتی حالت ایسی ہی ہوتی ہے ، کہ وہ اپنی بصیرت کے ذریعے ہدایت کو نہیں دیکھ پاتے اور دلائل ہدایت اور ان کی سوچ کے درمیان غیر مرئی دیواریں حائل نظر آتی ہیں۔ یہی حالت مکہ کے ان لوگوں کی تھی جنہوں نے قرآن کا استقبال ایسی ہی نفسیاتی حالت کے ساتھ کیا۔ قرآن ان کے سامنے صاف صاف دلائل و نشانیاں پیش کرتا اور وہ انکار پر مصر رہتے۔ پیش کردہ دلائل کے علاوہ قرآن تو بذات خود معجزانہ دلیل اور نشانی تھا جس کے مقابلے میں کوئی صاحب بصیرت انسان نہیں ٹھہر سکتا تھا مگر یہ لوگ انکار پر مصر رہے۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

ان کے لیے یکساں ہے ، تم انہیں خبردار کردیا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے۔

وسوآء علیھم ۔۔۔۔۔ لا یومنون (36: 10) ” ان کے لیے یکساں ہے تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے “۔ اس لیے کہ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ کردیا کیونکہ اللہ کو علم تھا کہ ان کے دلوں میں ایمان کے راہ پانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور ایسے دلوں پر خبردار کرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جو ایمان کے لیے تیار ہی نہ ہوں۔ وہ دل جو بندھے ہوئے ہیں جن کے اور سچائی کے درمیان دیواریں حائل ہوں۔ انذار اور تبلیغ کی وجہ سے مردہ دلوں کو زندہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ غافل اور سوئے ہوؤں کو جگایا جاسکتا ہے۔ خصوصا ایسے سوئے ہوئے دلوں کو جو ہدایت لینا چاہیں اور اس کے لیے تیار ہوں۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو اسی شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور بےدیکھے خدائے رحمان سے ڈرے۔ اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو

انما تنذر من۔۔۔۔۔ واجر کریم (36: 11) ” تم تو اسی شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور جو بےدیکھے رحمن سے ڈرے ، اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو “۔ الذکر سے یہاں قرآن کریم مراد ہے۔ راجع قول یہی ہے۔ وہ شخص جو قرآن کی تابعداری کرے اور رحمن سے بن دیکھے ڈرے ، یہی شخص ڈرانے سے استفادہ کرسکتا ہے۔ گویا یہی شخص ہے جس کے لیے ڈراوا آیا ہے۔ گویا ایسے ہی شخص کے لیے رسول اللہ کو بھیجا گیا ہے۔ اگرچہ رسالت عمومی ہے لیکن دوسرے لوگوں اور ہدایت کے درمیان پردے حائل ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ہدایت اس شخص تک محدود ہوگئی جو قرآن کو مان لے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرے۔ ایسے ہی لوگ جب وہ ڈراوے سے استفادہ کرتے ہیں تو وہ خوشخبری کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ فبشرہ بمغفرۃ واجر کریم (36: 11) ” اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو “۔ مغفرت ان غلطیوں پر جو واقع ہوگئیں اور ان پر اصرار نہ کیا گیا۔ اور اجر کریم اسلیے کہ یہ شخص غائبانہ طور پر اللہ سے ڈرتا رہا۔ اور اللہ کی جانب سے جو یاد دہانی آتی رہی اس کا اتباع کرتا رہا۔ یہ دونوں چیزیں قلب مومن میں باہم دگر لازم و ملزوم ہیں۔ جب بھی کسی دل میں خدا کا خوف پیدا ہو تو انسان خدا کی ہدایات پر عمل شروع کردیتا ہے اور جس نظام زندگی کا اس نے ارادہ کیا اس پر استقامت حاصل ہوجاتی ہے۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

۔ ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں ۔ جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں۔ اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں ، وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں۔ ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے

چناچہ یہاں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایک دن تم نے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے ، تمہارا حساب نہایت وقت کے ساتھ تیار ہوگا اور اس میں سے کوئی بات چھوٹی ہوئی نہ ہوگی۔ انا نحن ۔۔۔۔۔ امام مبین (36: 12) ” یقیناً ہم ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں۔ ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے “۔ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا وہ مسئلہ ہے جس پر ہمیشہ مباحثہ ہوتا رہا ہے ۔ اس سورت میں بھی اس کے امکان پر کئی مثالیں دی جائیں گی۔ یہاں ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ وہ جو اعمال بھی کر رہے ہیں اور اپنے پیچھے جو بھی اچھے یا برے آثار چھوڑ رہے ہیں وہ سب اللہ کے ہاں ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ ان اعمال میں سے نہ کوئی چیز چھوٹ سکتی ہے اور نہ بھول سکتی ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ وہی ہے جو ان کے اعمال و آثار کو قلم بند کر رہا ہے۔ وہی ہے جو ہر چیز کو لکھ رہا ہے۔ لہٰذا یہ تمام امور اسی طرح ظہور پذیر ہوں گے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے دست قدرت سے انہیں ظاہر کرے گا اور جس طرح اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ان امور کو اسی طرح ظاہر کرے گا۔ امام مبین سے مراد لوح محفوظ ہے یا وہ دفتر جہاں اللہ کے نظام کے مطابق اعمال ریکارڈ ہوتے ہیں ، لوح محفوظ سے اللہ کا ازلی اور قدیم علم مراد ہے۔ اور اللہ کا علم ہر چیز کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔
Ayahs 36:13–14

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

انہیں مثال کے طور پر اس بستی والوں کا قصہ سناؤ جب کہ اس میں رسول آئے تھے۔ “۔

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا۔ پھر ہم نے تیسرا مدد کے لیے بھیجا اور ان سب نے کہا ” ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں

وحی و رسالت کے مسئلے کے اس تاکیدی بیان اور قضیہ حساب و کتاب کے اس اٹل اعلان کے بعد ، اب اسی مضمون کو قصے کی صورت میں لایا جاتا ہے۔ اس قصے میں ایمان اور کفر کے جو دو باہم متقابل موقف سامنے آتے ہیں وہ نفس انسانی پر نہایت گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور دونوں مواقف کا انجام بھی آنکھوں کے سامنے منقش نظر آتا ہے۔ واضرب لھم مثلا ۔۔۔۔۔۔۔ بل انتم قوم مسرفون (13 – 19) ” “۔ رسولوں نے کہا ” ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ، اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ بستی والے کہنے لگے ” ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کرسکیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ رسولوں نے جواب دیا ” تمہاری فال بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو “۔ قرآن کریم نے اصحاب قریہ کا نام نہیں لیا ، نہ اس گاؤں کا ۔۔۔ ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات کے پیچھے پڑنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ نہ ان پر بحث کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا اس شہر کا نام نہ لینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ قصہ کے جو مقاصد ہیں ان میں اس گاؤں کا نام لینے سے کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس شہر اور اس کے محل وقوع کا نام نہیں لیا۔ اور قصے اور اس سے حاصل ہونے والے سبق ہی پر اکتفاء کیا۔ بہرحال یہ ایک گاؤں تھا جس کی طرف دو رسول بھیجے گئے تھے۔ جس طرح حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہما السلام) دونوں کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اس گاؤں والوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی۔ اللہ نے ان دونوں رسولوں کی تائید میں ایک تیسرا رسول بھی بھیج دیا اور اس تیسرے نے لوگوں کو بتایا کہ یہ دونوں برحق رسول ہیں ، چناچہ ان تینوں نے ازسرنو اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ فقالوا انا الیکم مرسلون (36: 14) ” ان سب نے کہا ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں “۔ اب اس گاؤں والوں نے ان پر وہی گھسے پٹے اعتراضات کیے جو ہمیشہ رسولوں پر ہوتے ہیں۔ قالوا ما انتم۔۔۔۔۔ الا تکذبون (36: 15) ” بستی والوں نے کہا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے انسان اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے ، تم محض جھوٹ بولتے ہو “۔ یہ اعتراضات جو تمام رسولوں پر ہوتے رہے ہیں ، ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بہت ہی سادہ لوح تھے اور ان کی سوچ ناپختہ تھی۔ یہ لوگ رسول اور رسالت کے بارے میں عجیب تصورات رکھتے تھے۔ ان کے خیال میں رسول کی شخصیت ایک پر اسرار شخصیت ہونا چاہئے اور اس کی شخصیت کے ساتھ بہت سے اوہام اور قصے منسوب ہونے چائیں۔ اس لیے کہ رسول آسمان کی طرف سے زمین والوں کی طرف آتا ہے لہٰذا اس کی شخصیت کے ساتھ اوہام و اساطیر وابستہ ہونا ضروری ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہو کہ ایک رسول کھلا اور سادہ انسان ہو۔ ہماری طرح اس کی زندگی میں کوئی راز نہ ہو اور نہ کوئی عجوبہ ہو۔ ہم جیسا ایک عام اور معمولی انسان رسول کس طرح ہو سکتا ہے جو بازاروں میں پھرتا ہو اور ہمارے جیسے گھروں میں رہتا ہو۔ یہ تھی ان کے فکر اور ان کی سوچ کی سادگی۔ اس لیے کہ نبوت کے ساتھ پر اسراریت لازم نہیں ہے۔ لیکن مقام نبوت اس قدر سادہ بھی نہیں ہے جس طرح یہ لوگ سمجھے ہیں۔ منصب رسالت اور منصب نبوت میں ایک عظیم اور گہرا راز بھی پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک عام اور سادہ انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردیتا ہے کہ وہ ایک عام انسان ہونے کے باوجود باری تعالیٰ سے وحی وصول کرنے کے قابل ہوجاتا ہے ۔ اور یہ بات اس سے زیادہ تعجب خیز ہے کہ ایک رسول فرشتہ ہو جیسا کہ ان لوگوں کی تجویز تھی کہ رسول کو تو فرشتہ ہونا چاہئے۔ اصل بات یہ ہے کہ رسالت کا مقصد لوگوں کو اسلامی نظام زندگی سے روشناس کرنا ہوتا ہے اور رسول کی زندگی اس نطام کا عملی نمونہ ہوا کرتی ہے اور رسول کی دعوت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس عملی نظام کے اتباع کی طرف بلاتا ہے۔ لوگ چونکہ انسان ہیں ، اس لیے ان کا مقتدا بھی انسان ہونا چاہئے تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے عملی نمونہ پیش کرسکے۔ اور وہ اس کی تقلید کر سکیں یہی وجہ ہے کہ ہر رسول کی زندگی لوگوں کے لیے ایک کھلی کتاب ہوا کرتی ہے۔ قرآن جو اللہ کی محکم کتاب ہے ، اس نے اس تفصیلی زندگی کے ایک معمولی اور اصولی حصے کو قلم بند کیا ، تفصیلات کے بجائے اصول لکھ دئیے ۔ باقی تفصیلی نظام زندگی رسول وقت کی عملی زندگی سے امت اخذ کرتی ہے اور وہ عملی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر تمام امت کے سامنے ہوتی ہے اور کئی سالوں پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ ان تفصیلات میں رسول کی خاندانی اور گھویلو زندگی کے خدوخال اور اجتماعی زندگی کے نمونے سب موجود ہوتے ہیں۔ بعض اوقات قرآن نے تو رسول کی نفسیاتی کیفیات کو بھی قلم بند کیا ہے تاکہ آنے والی امتیں بھی دیکھیں کہ نبی امین کی قلبی کیفیت کیا تھی۔
Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

بستی والوں نے کہا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے چند انسان اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے ، تم محض جھوٹ بولتے ہو

یہ تھی وہ واضح اور قریب الفہم حقیقت جس پر ہمیشہ انسانوں کی طرف سے اعتراض ہوتا رہا ہے۔ چناچہ اس گاؤں کے باشندوں نے تینوں رسولوں سے یہ کہا ما انتم الا بشر مثلنا (36: 15) ” تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے انسان ہو “۔ یہ تم محض دعویٰ کر رہے ہو کہ تم رسول ہو۔ اب ذرا رسولوں کا جواب دیکھیں۔ وہ حقیقت حال سے واقف ایک مطمئن اور پر اعتماد شخص کی طرح جواب دیتے ہیں
Ayahs 36:16–17

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

رسولوں نے کہا ، ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہم پر صاف صاف پیغام دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔

قالوا ربنا یعلم ۔۔۔۔۔ البلغ المبین (36: 16 – 17) ” اللہ جانتا ہے کہ ہم رسول ہیں ، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہمارا فریضہ صرف یہ ہے کہ رب کا پیغام پہنچا دیں۔ اور یہ تو ہم نے ادا کردیا ہے۔ اس کے بعد لوگ آزاد ہیں اپنی زندگی میں جو تصرف چاہیں ، کریں۔ اور وہ جو رویہ بھی اختیار کریں گے ، اس کی ذمہ داری وہ اٹھائیں گے۔ رسولوں اور امتوں کے درمیان تعلق صرف فیضہ رسالت کی ادائیگی کا ہے۔ جب یہ فریضہ ادا کردیا گیا تو اس کے نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں اور اللہ ہی کے حوالے ہیں۔ لیکن جاہلی گروہ اور جھٹلانے والے اس معاملے کو اس طرح سادگی سے اور آسانی سے نہیں لیتے۔ وہ داعیان حق کو برداشت کرنے کے روادار بھی نہیں ہوتے۔ ان کو ان کا غرور نفس مجبور کرتا ہے کہ وہ کوئی سخت قدم اٹھائیں۔ وہ محبت اور دلیل کے مقابلے میں تشدد اور بدمزاجی اور سخت کلامی کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ باطل ہمیشہ تھڑدلا ہوتا ہے۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

) بستی والے کہنے لگے ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے

قالوا انا تطیرنا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (36: 18 “۔ تم منحوس لوگ ہو ، تمہاری وجہ سے ہم پر مصبیت آگئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہاری دعوت کہ وجہ سے ہماری بستی میں شرو فساد پھیل جائے گا۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم خاموش نہ رہ سکیں گے۔ اور ہمارے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ تم اس طرح دعوت دیتے چلے جاؤ۔ لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب الیم (36: 18) ” اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ یوں باطل نے اپنی برہمی کا اظہار کردیا اور ہدایت دینے والوں کو دھمکی دے دی اور پر امن کلمہ حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور فکر و خیال اور انداز گفتگو میں بدمستی کا اظہار کیا۔ لیکن رسولوں کا فیضہ تو یہ ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں وہ اپنی راہ پر چلتے رہیں۔ اس لیے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

رسولوں نے کہا تمہاری فال بد تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے “ کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ “ ” اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو

قالوا طآئرکم معکم (36: 19) ” ۔ اس لیے کہ نیک فالی یا بدفالی دونوں جاہلیت کے خرافات میں ہیں۔ اور رسولوں کے مشن میں یہ بھی داخل ہے کہ اس وہم کو بھی دور کیا جائے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو شیر و شر باہر سے نہیں ملتا بلکہ خیر اور شر دراصل خود اس کے نفس کے اندر سے پیدا ہوتا ہے۔ خیر اور شر تو تمہارے ساتھ لگا ہوا ہے۔ تمہاری نیتوں اور تمہارے اعمال سے آنے والے خیر و شر کا گہرا ربط ہے اور خیر و شر کا مدار تمہارے اعمال پر ہے۔ یہ تمہارے اختیار میں ہے کہ تم آنے والے واقعات کو اپنے لیے بہتر بناؤ اور نیک انجام پاؤ یا اسے خود اپنے لیے شربنا دو کیونکہ اللہ لوگوں کے بارے میں وہی فیصلے کرتا ہے جن کے لیے ان کے نفوس میں میلان ہو اور اپنے عمل کی وجہ سے اس طرف انسانوں کا رجحان ہو۔ لہٰذا تمہارا شگون اور بدشگونی تمہارے ساتھ اور تمہارے نفوس کے اندر ہے۔ یہ ہے ایک قائم اور دائم حقیقت۔ رہی یہ بات کہ کسی کا منہ دیکھ کر فال بدلینا ، یا کسی جگہ سے بدشگونی یا الفاظ سے بدشگونی لینا یہ خرافات جاہلیت میں سے ایک موہوم بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے رسولوں نے کہا ائن ذکرتم (36: 19) ” یعنی تم ہمیں رجم کرنے کی دھمکی اسلئے دیتے ہو یا نہیں سخت سزا اسلئے دیتے ہو کہ ہم تمہیں نصیحت کر رہے ہیں اور راہ بد سے بجا رہے ہیں۔ بل انتم قوم مسرفون (36: 19) “۔ یعنی اپنی سوچ اور واقعات کو وزن کرنے میں تم حدود سے نکل چکے ہو۔ ، تم نصیحت کا بدلہ دھمکی سے دیتے ہو ، اور تشدد پر اتر آئے ہو۔ اور دعوت اسلامی کے جواب میں تشدد اور قتل کی بات کرتے ہو۔ جن لوگوں کے دلوں پر پردے پڑگئے تھے۔ ان کی جانب سے رسولوں کی دعوت کا جواب یہ دیا گیا اور یہ ہے مثال اس سرکش لوگوں کی جو ہمیشہ دعوت اسلامی کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور تشدد پر اتر آتے ہیں۔ جب بھی دعوت اسلامی کا آغاز ہوگا اس قسم کے لوگ متحرک ہوجائیں گے ۔ یہ ہے راہ و رسم دعوت اللہ کے کام کی۔ اس کے بالمقابل انسانوں میں سے ایک دوسرا نمونہ بھی ہوتا ہے جو نصیحت قبول کرکے اس کی اطاعت کرتا ہے۔ رحمن سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ اس لیے اس دوسرے نمونے کا رویہ بالکل پہلے رویے سے مختلف ہوتا ہے۔ اور اس کا ردعمل پہلے والے لوگوں کے ردعمل سے بالکل جدا ہوتا ہے۔
Ayahs 36:20–21

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اتنے میں شہر کے دور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے میری قوم کے لوگو ، رسولوں کی پیروی اختیار کرلو۔

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں

وجآء من اقصا المدینۃ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (20 – 21) ” “۔ یہ ہے نمونہ فطرت سلیمہ کا۔ جب فطرت سلیمہ ایک سیدھے سادے حق کو سنتی ہے تو وہ فوراً تصدیق کرتی ہے۔ نہایت سادگی اور نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ اور فطرت سلیمہ کی فکر مستقیم ہوئی ہے۔ اور وہ پرشوکت سچائی کے مقابلے میں جوش و خروش سے لبیک کہتی ہے۔ یہ شخص بھی اسی معاشرے اور گاؤں کا فرد ہے ، دعوت اسلامی کو سنتے ہی وہ لبیک کہتا ہے۔ وہ سچائی کے دلائل و نشانات کو اچھی طرح پاتا ہے۔ رسولوں اور ان کی قوم کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے اس کے اندر پائے جانے والی گہری منطق کو وہ پالیتا ہے۔ جب یہ سچائی اس کے دل و دماغ میں جاگزیں ہوگئی تو وہ فوراً حرکت میں آجاتا ہے۔ اب وہ خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ اپنا دروازہ بند کرکے اپنے گھر میں بیٹھا بھی نہیں رہتا جبکہ اس کے اردگرد گمراہی کا دور دورہ ہو ، فسق و فجور عام ہو اور لوگ کفر کر رہے ہوں ، اس کے ضمیر کے اندر جو سچائی اتر چکی ہے اور جس کو اس کا شعور حق تسلیم کرچکا ہے وہ اسے لے کر دوڑتا ہوا آتا ہے ، وہ اپنی قوم کے پاس آتا ہے ، یہ قوم جو انکار کر رہی ہے ، دھمکیاں دے رہی ہے ، تشدد پر اتر آئی ہے۔ یہ شخص شہر کے مضافاتی علاقے میں رہتا ہے۔ یہ اپنا فریضہ ادا کرنے کیلئے بھاگ نکلا ہے۔ اور اپنی اس منکر حق قوم کو دعوت حق دیتا ہے ان کو بغاوت ، سرکشی اور تشدد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے جس کا وہ اپنے رسولوں کے بارے میں ارادہ کرچکے ہیں۔ معلوم یوں ہوتا ہے کہ یہ شخص اس سوسائٹی کا کوئی با اثر فرد نہ تھا۔ نہ اس کے پاس کوئی خاندانی وجاہت اور قوت تھی کہ اس کو ان سرکشوں کے تشدد سے بچائے۔ ہاں اس کے قلب میں ایک زندہ اور پر جوش ایمان تھا۔ یہ ولولہ انگیز ایمان تھا جو اسے بستی کے مضافات سے اٹھا لایا۔ وجاء من اقصا ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (36: 20 – 21) ” اتنے میں شہر کے دور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے میری قوم کے لوگو ، رسولوں کی پیروی اختیار کرلو۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں “۔ جو شخص اس قسم کی تحریک اٹھاتا ہے اور اس پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا ، نہ کوئی مفاد اس کا اس تحریک سے وابستہ ہوتا ہے۔ بیشک وہ سچا ہے۔ اگر یہ فریضہ اس کی جانب سے عائد نہیں ہے اور اللہ کے لیے نہیں ہے تو پھر وہ کیوں یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا لازمی نتیجہ ہے کہ یہ سچا ہے۔ اگر سچا نہیں تو پھر وہ کیوں خواہ مخواہ یہ مشکلات برداشت کرتا ہے۔ لوگوں کو ایسے خیالات و نظریات دیتا ہے جن کے وہ عادی نہیں ہیں ، لوگ اسے اذیت دیتے ہیں ، اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، اس سے انتقام لیتے ہیں ، وہ یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی مفاد اس کے ساتھ وابستہ نہیں ہے ۔ نہ وہ کوئی اجرت طلب کرتا ہے۔ لہٰذا معقول راہ یہی ہے کہ اتبعوا من لا۔۔۔۔ مھتدون (36: 21) ” پیروی اختیار کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں “۔ ان کی ہدایت تو ان کی دعوت اور ان کے کردار سے واضح ہے۔ وہ فقط ایک الٰہ کی دعوت دیتے ہیں اور یہ نہایت ہی معقول بات ہے۔ وہ ایک واضح منہاج زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں جو واضح طور پر معقول ہے۔ وہ ایسے عقائد و نظریات کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے اور نہ کوئی وہم و گمان ہے۔ یہ لوگ دراصل ایک نہایت ہی درست اور سیدھے راستے کی طرف راہ پاچکے ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں۔ اس پورے معاشرے اور بستی سے پھر یہ اکیلا شخص کیوں ایمان لایا۔ اس کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ دیکھو میرے ایمان کے اسباب یہ ہیں۔ میری فطرت جاگ اٹھی ہے۔ اور اپنی فطری سلامتی کی وجہ سے بات میری سمجھ میں آگئی ہے اور کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ اس دعوت سے کوئی سلیم الفطرت شخص منہ موڑے۔
Ayah 36:22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ؟

پارہ ۔۔۔۔ 23 سورة یسین۔ 36 آیات 22 ۔۔۔ تا۔۔۔ 83 وما لی لا اعبد۔۔۔۔۔ امنت بربکم فاسمعون (22 – 25) ” “۔ یہ سوچ اور یہ سوالات ایک ایسی فطرت کے ہیں جسے خالق کائنات کا شعور حاصل ہوچکا ہو ، جو اپنے مقصد و جود کو پا چکی ہو اور اس کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہوچکی ہو۔ پھر اس کی پکار یہ ہوتی ہے۔ ومالی لا اعبد الذی فطرنی (36: 22) ” آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا “۔ آخر میں اس فطری منہاج سے کیوں ہٹ جاؤں جو میرے دل میں پیوست ہوچکا ہے۔ کیونکہ انسان کے اندر اس ذات کی کشش ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ سب سے پہلے انسانی فطرت خدا اور خالق کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اور اگر فطرت اس راہ سے انحراف کرتی ہے تو اس کے اسباب خارجی ہوتے ہیں اور یہ گمراہ کن اسباب اور موثرات انسانی طبیعت کے اندر نہیں ہوتے۔ اور خالق کی طرف توجہ فطرت کا پہلا اور بہترین داعیہ ہوتا ہے۔ یہ فطرت کے اندر ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی بیرونی محرک یا موثر کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ نفس انسانی فطری طور پر اس کی طرف مائل ہوتا ہے جب کسی کے دل میں ایمان داخل ہوجاتا ہے کہ تو نفس کے اندر گہرائیوں میں وہ اپنے خالق کو محسوس کرتا ہے۔ اسی رجل مومن کی یہ تعبیر اس کے اس فطری میلان کا ظہور ہے۔ بلاتکلف وہ پکار اٹھتا ہے کہ کیوں میں اس خالق کی بندگی نہ کروں ؟ یہ فطرت سلیمہ یہ بات بھی محسوس کرتی ہے کہ آخر کار انسان نے اپنے خالق ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ اسی لیے وہ کہتا ہے والیہ ترجعون (36: 22) ” اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے “۔ فطری سوچ یہ ہے کہ جس نے میری تخلیق کی ہے میں اس کی بندگی کیوں نہ کروں ؟ جبکہ تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے کیونکہ تمہارا خالق بھی تو وہ ہے ، اور تمہارا حق بھی یہ ہے کہ تم بھی اسی کی بندگی کرو۔ اب یہ رجل ۔۔۔ مخالفانہ رویہ پر بھی تبصرہ کرتا ہے کہ میرا رویہ اور میری سوچ تو معقول اور فطری ہے اور اس کے خلاف اگر میں رویہ اختیار کروں تو وہ خلاف فطرت اور گمراہ نہ ہوگا۔
Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبود بنالوں ؟ حالانکہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکتے ہیں۔

ء اتخذ من دونہ ۔۔۔۔۔ ولا ینقدون (36: 23) ” کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لوں حالانکہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکتے ہیں “۔ اس سے بڑا گمراہ اور کون ہو سکتا ہے جو اس فطری سوچ کو ترک کر دے کہ جو ہر مخلوق کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے خالق کی عبادت کرے اور ایسے معبودوں کی بندگی نہ کرے جو خالق نہیں ہیں۔ جن کا کوئی جواز نہیں اور جن میں کوئی معقولیت نہیں۔ اور یہ معبود ہوں بھی ضعیف و ناتواں ، نہ کسی کی حمایت کرسکتے ہیں اور نہ کسی سے مدافعت کرسکتے ہیں ، خصوصا جبکہ حقیقی خالق کسی کو اس کی گمراہی کی وجہ سے سزا دینا چاہے۔
Ayahs 36:24–25

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گناہوں میں مبتلا ہوجاؤں گا۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ، تم بھی میری بات مان لو

انی اذا لفی ضلل مبین (36: 24) ” اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا “۔ اس رجل مومن نے لوگوں کے سامنے فطری سوچ تو پیش کردی ، نہایت ہی سچے اور عارفانہ اور واضح انداز میں۔ اب وہ خود اپنا فیصلہ ان کو سناتا ہے۔ وہ جو تکذیب پر تلے ہوئے ، وہ جو تشدد پر آمادہ ہیں۔ یہ فیصلہ وہ اس لئے سناتا ہے کہ یہ فطری آواز اس کے دل کو ایمان سے بھر چکی ہے۔ اس کا دل اب کسی دھمکی اور کسی نامعقول تہدید و تکذیب کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ وہ کہتا ہے۔ انی امنت بربکم فاسمعون (36: 25) ” میں تمہارے ربپر ایمان لایا ہوں سن لو میری بات “۔ یوں اس نے نہایت اطمینان ، نہایت اعتماد کے ساتھ اپنے ایمان کا آخری اعلان کیا اور اس پر اس نے خود ان کو گواہ ٹھہرایا۔ اشارہ یہ دیا کہ جس طرح میں ایمان لایا ہوں تم بھی ایمان لاؤ کیونکہ میں جس رب پر ایمان لایا ہوں وہ تمہارا ہی رب ہے یا یہ کہ سن لو میں ایمان لایا ہوں جو چاہو کرو ، جو چاہو کہو۔ اس کے بعد اس رجل مومن کی تقریر پر جو تبصرہ آتا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اس شخص کو تو وہیں شہید کردیا۔ اگرچہ قرآن کریم نے اس کی صراحت نہیں کی۔ لیکن اس قصے کا وہ منظر جو اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ گر جاتا ہے۔ دنیا اور اس کے اندر اس کی قوم کے ساتھ یہ مکالمہ ختم ہوتا ہے۔ اب یہ شہید آخرت میں نظر آتا ہے۔ جس نے کلمہ حق بلند کیا ، جس نے اپنی فطرت کی پکار پر لبیک کہا ، اور جس نے اپنے ایمان کا اعلان ان لوگوں کے سامنے جہارا کیا جو نبیوں کو بھی قتل اور تشدد کی دھکمیاں دے رہے تھے۔ اب یہ شخص عالم آخرت میں ہے۔ وہاں اللہ کے ہاں اس کا عظیم استقبال ہو رہا ہے۔ جیسا کہ مومنین صادقین اور شہداء کا وہاں ہوتا ہے۔
Ayahs 36:26–27

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

آخر کار ان لوگوں نے اسے قتل کردیا اور) اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ ” داخل ہوجا جنت میں “۔ اس نے کہا ” کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوتا

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے رب نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت رما دی اور مجھے باعزت لوگوں میں داخل فرمایا

قیل ادخل الجنۃ۔۔۔۔۔ من المکرمین (26 – 27) ” “۔ یہاں دنیا کی زندگی کے ڈانڈے آخرت سے مل جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ موت اور شہادت نے اسے عالم فنا سے عالم بقا کی طرف منتقل کردیا ہے۔ یہ ایک جست ہوتی ہے جس کے ذریعے ایک مومن دنیا کی تنگیوں سے نکل کر جنت کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ باطل کی زیادتیوں سے رہائی پاکر سچائی کی مطمئن دنیا میں داخل ہوجاتا ہے اور تشدد کی دھمکیوں سے نکل کر ، امن و سلامتی کی نعمتوں میں پہنچ جاتا ہے اور جاہلیت کے اندھیروں سے یقین کی روشنی میں آجاتا ہے۔ اب ہم اس رجل مومن کو دیکھتے ہیں ۔ یہ ان انعامات و اکرامات کی اطلاع چشم زدن میں پاچکا ہے۔ لیکن وہاں سے بھی قوم کے نام اس کی ایک پکار آتی ہے ، اس کی اس پکار میں کوئی تلخی نہیں ہے اس کا نفس راضی ہے ، وہاں بھی وہ یہی تمنا کرتا ہے کہ اے کاش میری قوم جانتی کہ میں کہاں پہنچ چکا ہوں ، اللہ کے اکرام اور انعام کی کیا شان ہے تاکہ وہ بھی حق کو قبول کرلیں اور ان کو بھی یقین کی دلالت مل جائے۔ یہ تو ہے جزائے ایمان ، رہے نبیوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے والے ۔۔۔ تو ان کی حیثیت ہی کیا ان کو تو اللہ اپنے ملائکہ کے ذریعے ہلاک کرسکتا ہے۔ وہ تو بہت ہی ضعیف و حقیر ہیں۔
Ayahs 36:28–29

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

” اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔ ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

بس ایک دھماکہ ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے “۔

وما انزلنا علی۔۔۔۔۔ فاذا ھم خمدون (28 – 29) ان سرکشوں کا کیا انجام ہوا ، یہاں اللہ تعالیٰ ان کو حقیر سمجھتے ہوئے قلم زد فرما دیتا ہے۔ ان حقیر لوگوں کے خلاف کسی لشکر کشی کی ضرورت نہ تھی۔ بس اچانک ایک دھماکہ ہوا ، ایک سخت چیخ اٹھی اور وہ بجھ کر رہ گئے۔ یہاں اب ان لوگوں کے اس حسرتناک ، ذلت آمیز اور توہین آمیز انجام پر پردہ گرتا ہے۔ اور یہ منظر یہاں لپیٹ لیا جاتا ہے
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

” افسوس بندوں کے حال پر ، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے۔

درس 206 ایک نظر میں پہلے سبق میں بات ان لوگوں کے بارے میں تھی جنہوں نے دعوت اسلامی کا استقبال انکار اور تکذیب کے ساتھ کیا۔ اور اس کا انجام ان کے گاؤں کا قصہ بیان کرکے بتایا گیا کہ ان جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ ان کا انجام یہ ہوا کہ فاذاھم خمدون (36: 29) ” اچانک وہ بجھ کر رہ گئے “۔ لیکن اس سبق میں تمام ملتوں اور تمام کتب سماوی کے مکذبین کا انجام بنایا گیا ہے۔ اور پوری انسانی تاریخ سے گمراہ انسانوں کے خدوخال اور نقوش یہاں بتائے گئے ہیں اور یہاں نہایت ہی دلدوز آواز و انداز میں پکارا جاتا ہے کہ تعجب ہے کہ لوگ ان اقوام کی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ جن کی سچائی کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ یہ مکذبین وہ ہیں جو گمراہی کے راستے پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں اور یوم الدین کا انہیں کوئی خیال نہیں ہے۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون (36: 32) ” ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جاتا ہے “۔ اس کے بعد تکوینی دلائل اور معجزات اور نشانیوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جن کو یہ لوگ رات اور دن دیکھتے ہیں اور نہایت ہی لاپرواہی سے ان پر سے گزر جاتے ہیں۔ یہ خود ان کے نفوس کے اندر بھی موجود ہیں۔ ان کے ماحول میں بھی موجود ہیں۔ ان کی قدیم تاریخ میں بھی موجود ہیں لیکن ان کو اس کا شعور نہیں ہے اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ یاد نہیں کرتے۔ سبق نہیں حاصل کرے۔ وما تاتیھم من ۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 46) ” ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔ اس کے برعکس یہ لوگ اللہ کے عذاب کے بارے میں جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ مطالبہ وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کو عذاب کے آنے کا کوئی یقین نہیں۔ ویقولون متی۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ چونکہ یہ لوگ عذاب میں شتابی کا مطالبہ کرتے ہیں ، قیامت کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور دل میں یہ ہے کہ ان کو ان امور کے واقع ہونے کا یقین نہیں ہے۔ اس لیے یہاں مناظر قیامت میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ منظر صاف صاف بتاتا ہے کہ انجام کیا ہوگا ، جس کے واقع ہونے کی ان کو بہت جلدی ہے۔ یہ منظر اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ گویا ان کا انجام واقع ہوگیا اور یہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔ درس نمبر 206 تشریح آیات 30 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68 یحسرۃ علی العباد۔۔۔۔۔ لدنیا محضرون (30 – 32) حسرت ایک ایسی نفسیاتی حالت ہے جس میں انسان کو بےحد افسوس ہوتا ہے لیکن وہ اس حالت کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پس وہ دیکھ دیکھ کر کڑھتا ہے اور اسے اذیت ہوتی ہے۔ اللہ کو تو بندوں کے ایمان نہ لانے پر کوئی حسرت نہیں ہوتی۔ مفہوم یہ ہے کہ انسان نقطہ نظر سے یہ لوگ قابل حسرت ہیں۔ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی حالت پر افسوس کیا جائے۔ کیونکہ ان کا یہ حال نہایت ہی قابل تالیف ، پریشان کن اور قابل رحم ہے کہ یہ لوگ اپنی اس ضلالت کی وجہ سے دائمی شر اور دائمی مصیبت میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ یقیناً وہ لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی حالت پر افسوس کیا جائے جن کو نجات کا موقعہ ملتا ہے اور وہ اس سے استفادہ نہیں کرتے۔ ان کے سامنے انسانی تاریخ موجود ہے اور وہ اس تاریخ سے عبرت نہیں پکڑتے اور نہ ہی تاریخی واقعات پر غور کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس وقتاً فوقتاً اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسولوں کو بھیجتا ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی رحمت کے دروازوں سے دور ہوجاتے ہیں اور پھر اللہ کی شان میں گستاخی بھی کرتے ہیں۔ یحسرۃ علی ۔۔۔۔ یستھزءون (36: 30) ” جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے “۔
Ayahs 36:31–32

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے ؟

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے “۔

الم یرواکم۔۔۔۔۔ لا یرجعون (36: 31) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے “۔ وہ اقوام جو ہلاک کی گئیں اور اس دنیا سے مٹا دی گئیں ، ان کے مٹ جانے میں لوگوں کے لیے سامان عبرت و نصیحت ہے ۔ اور طویل انسانی تاریخ انسانوں کے لیے موضوع غوروفکر و تدبر ہے۔ لیکن یہ بدبخت لوگ انسانی تاریخ پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ اپنی اس لاپرواہی کی وجہ سے وہ ہلاکت اور بربادی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ تو انکی اس افسوسناک حالت پر حسرت کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ ایک حیوان بھی جب دوسرے حیوان کی موت اور ہلاکت اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے اور مقدر بھر کوشش کرتا ہے کہ وہ اس انجام سے بچ جائے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ باوجود اسکے کہ وہ اپنے بھائیوں کو اپنی بےراہ روی کی وجہ سے ہلاک ہوتے دیکھتا ہے اور پھر وہ اسی راہ پر چلتا ہے۔ محض اپنے غرور اور کبر اور لاپرواہی کی وجہ سے ، وہ دھوکہ کھاتا ہے اور دیکھنے کے باوجود اسی راہ پر چلتا ہے۔ انسان کی ایک طویل تاریخ اس کے سامنے اور وہ جانتا بھی ہے کہ انسانوں کی ہلاکت فلاں فلاں اسباب کی وجہ سے ہوئی لیکن وہ پھر بھی اندھوں کی طرح لاپرواہی سے انہی راہوں پر چلتا ہے ۔ اور نہیں دیکھتا۔ جب ہلاک ہونے والے اور نابود کو دئیے جانے والے اب اپنے جانشینوں کے پاس واپس نہیں آسکتے تو یہ جانشین بھی اسی راستے پر جائیں گے۔ یہ ہم سے بچ کر نہ نکل سکیں گے۔ ان سے بھی حساب لیا جائے گا۔ وان کل لما ۔۔۔۔۔۔۔ محضرون (36: 32) ” بیشک ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے “۔
Ayahs 36:33–35

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

) ” ان لوگوں کے لیے بےجان زمین ایک نشانی ہے۔ ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر سے چشمے پھوڑ نکالے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں۔ یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے ؟

وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔ یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت کرتی ہے۔ اللہ کی ثنا کرتی ہے اور اس کے وجود پر شاہد ہے۔ یہ زمین جو ان کے پاؤں کے نیچے ہے ، یہ دیکھتے ہیں کہ ایک وقت میں یہ مر جاتی ہے۔ اس میں کوئی روئیدگی نہیں ہوتی۔ پھر یہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں حیوانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اندر باغات پیدا ہوتے ہیں۔ کھجوریں ، انگور اور پھر ان باغات کے اندر چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور یوں انسانی اور دوسری زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔ اور پھر یہ زندگی بذات خود ایک معجزہ ہے اور کوئی انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ زندگی کا اجرا کرسکے ، اس کی تخلیق کرسکے اور اس کے بعد اس کا سلسلہ تناسل کو جاری کرسکے۔ زندگی کے اس عظیم معجزے کا اجراء دست قدرت کا عجیب کارنامہ ہے۔ مردہ جسم کے اندر زندگی کی روح پھونک دی جاتی ہے دم بدم بڑھنے والی فصل کو دیکھ کر ، گھنی چھاؤں والے باغات کو دیکھ کر ، اور اس سے بھرے ہوئے پختہ پھلوں کو دیکھ کر انسانی دل و دماغ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان دیکھتا ہے کہ یہ پوری زمین کو پھاڑ کر روشنی اور آزادی کے لیے سر نکالتے ہیں۔ اور یہ سر نکالنے والی لکڑی سورج کی روشنی میں سرسز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اور پھر یہ پودا پتوں اور پھلوں سے مزین ہوجاتا ہے۔ پھول کھل جاتے ہیں ، پھل پک جاتے ہیں اور توڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ لیاکلوا ۔۔۔ ایدیھم (36: 35) ” تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے “۔ یہ اللہ ہی کا ہاتھ ہے جس نے ان کو اس کام پر قدرت دی۔ جس طرح اس نے فصلوں اور پھلوں کو بڑھنے کی صلاحیت دی۔ افلا یشکرون (36: 35) ” پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے۔ اس کے بعد قرآن کریم میں ایک لطیف اشارہ ، اس طرح آتا ہے کہ جس ذات نے انسان کی راہنمائی ان نباتات اور باغات کی طرف فرمائی۔ وہ وہی ہے جس نے فصلوں کے اندر بھی جوڑے پیدا کیے یعنی نر اور مادہ جس طرح انسانوں اور حیوانوں کے اندر جوڑے ہیں اور تمام دوسری مخلوق میں بھی جوڑے ہیں جن کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس میں سے یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں “۔

سبحن الذی۔۔۔۔ مما لایعلمون (36: 36) ” اللہ کی یہ تسبیح نہایت ہی موزوں وقت پر آتی ہے اور تسبیح کے ساتھ ساتھ یہ اس کائنات کی عظیم حقیقت کا اظہار بھی کر رہی ہے۔ یہ کہ تمام مخلوق ایک جیسی ہے۔ اللہ کی تخلیق کا ایک اصول ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے تمام مخلوقات کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے۔ نباتات بھی انسانوں کی طرح جوڑے ہیں۔ اور انسانوں اور نباتات کے علاوہ دوسری مخلوق بھی جوڑے ہیں۔ ومما لا یعلمون (36: 36) ” اور ان اشیاء میں بھی جوڑے ہیں جنہیں یہ جانتے تک نہیں “۔ اصول تخلیق اور تکوین کی یہ یگانگت بتلاتی ہے کہ اس کائنات کا خالق بھی ایک ہے۔ تمام شکلوں ، تمام مجموعوں ، تمام انواع ، تمام اجناس ، تمام خصائص اور تمام علامات کے اندر یہ قاعدہ پوری طرح کارفرما ہے۔ یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ ایٹم اس کائنات کا وہ چھوٹا سا حصہ ہے جو آج معلوم ہوچکا ہے اور یہ ایٹم بھی دو جوڑوں سے مرکب ہے۔ یعنی مثبت اور منفی الیکڑانک شعاعیں۔ یہ باہم جدا بھی ہوتی ہیں اور متحد بھی۔ اسی طرح ہزاروں ستارے ایسے معلوم ہوچکے ہیں جو مزدوج تخلیق کے مالک ہیں۔ جو دو ستاروں سے بنے ہوئے ہیں اور باہم مرتب وہم آہنگ ہیں اور ایک ہی مدار میں پھرتے ہیں۔ گویا وہ ایک مرتب نغمہ کی شکل میں ہیں۔
Ayahs 36:37–38

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے ، ہم اس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جاتا ہے ۔ یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے۔

یہ تو تھی مردہ زمین جس سے زندگی پھوٹ رہی ہے ۔ اب زمین سے آگے بڑھ کر قرآن آسمان کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، آسمانی نطارے ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں اور یہ تمام نظارے دست قدرت کے عجوبے ہیں۔ وایۃ لھو الیل ۔۔۔۔۔۔ فی فلک یسبحون (37 – 40) ” “۔ رات کے آنے کا منظر ، روشنی ختم ہوجاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ چھا جاتا ہے ۔ یہ وہ منظر ہے جسے تمام انسان 24 گھنٹوں میں دہرایا ہوا دیکھتے ہیں ، ماسوائے ان خطوں کے جہاں رات اور دن کا عمل چھ ماہ کے بعد دہرایا جاتا ہے۔ یعنی ان علاقوں میں جو قطبین کے بہت قریب ہیں۔ یہ عمل اگرچہ رات اور دن میں بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ اللہ کی قدرت کا ایک عجوبہ ہے اور اس قابل ہے کہ انسان اس پر غور و فکر کریں۔ یہاں اس مقام پر اس عجوبے کا انداز تعبیر بھی منفرد ہے۔ یہاں رات کو دن میں ملبوس تصور کیا گیا ہے اور جب دن کا لباس اتر جائے تو رات آجاتی ہے۔ اور لوگ اچانک اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ اسی انداز تعبیر کا ادراک یوں ہو سکتا ہے اور یہ اس وقت پھر مجاز کے بجائے حقیقت نظر آتی ہے ، جب ہم زمین کی گردش محوری پر غور کریں۔ سورج کے سامنے اس کی اس گردش کے بدولت زمین کا ایک نقطہ سورج کے سامنے رہتا ہے اور وہاں دن ہوتا ہے اور جن زمین کا وہ حصہ غائب ہوتا ہے تو اچانک دن کا لباس اتار دیا جاتا ہے اور ماحول پر پھر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اور یہ منظر نہایت ہی تنظیم کے ساتھ یونہی چلتا رہتا ہے۔ ہر وقت دن کے لباس کو رات کے جسم سے کھینچا جاتا ہے اور رات ظاہر ہوتی رہتی ہے غرض یہ قرآنی تعبیر حقیقی بھی ہے اور نہایت ہی فصیح اور ادیبانہ بھی والشمس تجری لمستقرلھا (36: 38) ” اور سورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے “۔ سورج بھی گردش محوری رکھتا ہے۔ بالعموم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اپنی جگہ ابستادہ ہے لیکن تازہ ترین سائنسی معلومات یہ ہیں کہ یہ سورج اپنی جگہ رکا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ بھی چل رہا ہے ، عملاً رواں ہے۔ یہ ایک ہی سمت میں جا رہا ہے۔ اس عظیم کائنات اور اس فضا اور خلا میں یہ ایک طرف جا رہا ہے۔ اور یہ 12 میل فی سیکنڈ کے حساب سے ایک ہی سمت میں جا رہا ہے۔ لیکن اس کی حرکت اور رفتار کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے جو خبیر وبصیر ہے اور اللہ صریح طور پر فرماتا ہے کہ اس کی ایک جائے فتراء ہے اور اس کے لیے دوب تابی سے چل رہا ہے۔ کس طرح اور کب وہاں پہنچتا ہے یہ قیامت ہے اور اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ جب ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ اس سورج کا حجم زمین سے ایک ملین گنا زیادہ ہے اور یہ سورج اپنی اس کہکشاں کے ساتھ (اور کہکشاں کس قدر عظیم ہے ، ذرا سوچ لیں) ایک فضائے لامتناہی میں اپنے مستقر کے لیے رواں ہے ، تو اس سے اللہ کے علم اور قدرت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا۔ ذلک تقدیر العزیز العلیم (36: 38) ” یہ زبردست ، علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے ؛۔