36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند ، اس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے۔

والقمر قدرنہ۔۔۔۔۔ القدیم (36: 39) ” چاند ، اس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند رہ جاتا ہے “۔ لوگ چاند کو تو اپنی ان منزلوں میں دیکھ سکتے ہیں ۔ وہ ہلال کی طرح نمودار ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گول ہو کر بدر ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد گھٹنا شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ہلال کی طرح ہوجاتا ہے اور یوں نظر آتا ہے جس طرح کھجور کی پرانی خشک شاخ۔ العرجون اس شاخ کو کہتے ہیں جس میں کھجور کی قسم ” بلح “ ہوتی ہے۔ جو لوگ چاند کو ہر رات دیکھتے ہیں وہ قرآن کریم کی اس انداز تعبیر کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ عاد کالعرجون القدیم (36: 39) ” یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے “۔ خصوصاً اس تعبیر میں لفظ قدیم معنی خیز ہے۔ چاند پہلی راتوں میں ہلال ہوتا ہے اور آخری راتوں میں بھی ہلال ہوتا ہے لیکن پہلی راتوں میں وہ شگفتہ اور نشوونما والا نظر آتا ہے۔ اور آخری راتوں میں پژ مردہ ، زوال پذیر اور خشکی اور سکڑنے کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ سکڑ کر اس قدر خشک ہوجاتا ہے جس طرح خشک شاخ ۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ قرآن نے یہ انداز تعبیر اختیار کیا ہے بلکہ یہ بامقصد اور اصل صورت کا حقیقی اظہار ہے اور عجیب ہے۔ چاندنی راتوں میں مسلسل غور و فکر کرنے سے انسانی احساس کے پردوں پر شعور اور تخیلات کی عجیب و غریب اور تروتازہ کیفیات آتی ہیں اور انسان پر اس سوچ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور وہ انسان جو اس چاند کا پورے ایک ماہ تک مشاہدہ کرتا ہے اور غور کرتا ہے وہ تاثرات لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بدیع المسوات اور خالق جلال و جمال کی قدرت کی شان کیا ہے جس نے اس قدر عظیم اجرام سماوی کی یہ خوبصورتی اور یہ تنظیم عطا کی ہے۔ ہر شخص اس منظر سے بقدر ہمت ہدایت لے سکتا ہے۔ چاہے وہ اس عظیم کائنات کے ان رازوں کو جانتا ہے یا نہیں ۔ میں کہتا ہوں صرف رات کے وقت چاند کا مشاہدہ ہی انسانی دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ اس سے شعور بیدار ہوتا ہے اور انسان کے اندر غوروفکر کی عادت پڑتی ہے۔
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے ۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں

اب اللہ ذرا اس عظیم کائنات اور ان عظیم اجرام فلکی کی لطیف تنظیم کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور اس تنظیم اور ترتیب کی وجہ سے کیا کیا مظاہر پیدا ہوتے ہیں ؟ غور کیجئے ! لا الشمس ینبغی ۔۔۔۔۔ فلک یسبحون (36: 40) ” نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں “۔ ہر ستارے اور سیارے کے لیے ایک فلک ہے یا اس کا اپنا مدار ہے۔ اپنی رفتار اور گردش میں وہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ ستاروں اور سیاروں کے درمیان عظیم فاصلے ہیں۔ زمین سورج کے درمیان 73 ملین میل کا فاصلہ ہے اور چاند زمین سے 240 ملین میل دور ہے۔ لیکن یہ فاصلے بھی اپنی اس دوری کے باوجود شمسی کہکشاں اور اس کے قریب ترین دوسری کہکشاں کے قریب تارے سے چار نوری سال دور ہے۔ اور نوری سال میں ٹائم کا تعین یوں کیا گیا ہے کہ جس میں روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سکینڈ ہو گویا سورج کی کہکشاں سے قریب ترین ستارہ ایک سو چار ملین میل دور ہے۔ اللہ جو اس کائنات کا خالق ہے ، اس نے ستاروں اور سیاروں کو درمیان اس قدر عظیم فاصلے پیدا کیے ہیں اور جس نے اس عظیم کائنات کا یہ عجیب نقشہ تیار فرمایا ہے تاکہ اسے باہم تصادم اور ٹکراؤ سے بچایا جائے اور یہ نظام یونہی جاری رہے الایہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت برپا کر دے اس لیے سورج کے اندر یہ قوت نہیں ہے کہ وہ چاند کو جالے۔ اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے نہ اس کے مقابلے میں کھڑی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ جس گردش کی وجہ سے روزوشب پیدا ہوتے ہیں وہ جاری ہے۔ لہٰذا ان دونوں میں سے کوئی دوسرے سے آگے نہیں ہوسکتا اور نہ دوسرے کی راہ روک سکتا ہے۔ وکل فی فلک یسبحون (36: 40) ” اور سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں “۔ فضائے کائنات میں ان سیاروں اور اجرام فلکی کی حرکت یوں ہے جس طرح سفینہ سمندر میں تیر رہا ہوتا ہے۔ یہ بحری جہاز اپنی عظمت کے باوجود اس عظیم سمندر میں ایک سیاہ نکتہ ہی ہوتا ہے۔ انسان حیران اور ششدر رہ جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ لاکھوں سیارے اور جرم فلکی اس وسیع فضائے کائنات میں بکھرے پڑے ہیں اور تیر رہے ہیں۔ ہر سیارے اور اجرام فلکی کے اردگرد ایک وسیع فضا ہے اور وہ دوسرے سے بہت دور ہے اور ان سیاروں اور اجرام کا حجم بہت بڑا ہونے کے باوجود اس وسیع فضا میں وہ ایک نکتہ ہیں ۔ بہت ہی معمولی نکتہ ! !
Ayahs 36:41–42

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

” ان کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا ،

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور پھر ان کے لیے ویسی ہی کشتیاں اور پیدا کیں ، جن پر یہ سوار ہوتے ہیں

وایۃ لھم انا۔۔۔۔۔ الی حین (41 – 44) ۔ یہاں سیاق کلام میں ایک نہایت ہی لطیف مناسبت ہے ۔ ستارے اور سیارے بلند فضائے کا ئناتی میں تیر رہے ہیں اور کشتی اولاد آدم سے بھری ہے اور وہ پانیوں میں تیررہی ہے ۔ ان دونوں مناظر کے اندر ظاہری نسبت بھی ہے ، رفتار کی مناسبت بھی ہے ، اور یہ ربط بھی ہے کہ ان دونوں کو اللہ نے مسخر کرلیا ہے ۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کے اندر اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے ۔ یہ دونوں مناظر انسانوں کی نظروں کے سامنے ہیں لیکن انسان ان پر غور نہیں کرتے۔ اگر انسان اپنے قلب کو کھول دے اور اپنے دماغ کو وسعت دے تو ان اور امور و تدبر کرکے وہ بڑی سہولت سے اللہ کی نشانیوں کو پاسکتا ہے ۔ بھری ہوئی کشتی سے مراد شاید کشتی نوح ہو جس نے اولاد آدم کو اٹھایا اور اس کے بعد اللہ نے ان کے لیے ایسی ہی دوسری کشتیاں پیدا کیں جو انسانوں کو اٹھا کر چلتی ہیں اور ان دونوں کو اللہ کے ان قوانین قدرت نے چلایا جو اس نے اس کائنات میں ودیعت کیے کہ کشتی پانیوں کی سطح پر تیررہی ہے ۔ سیارے آسمانوں کی فضاؤں میں تیر رہے ہیں اور لکڑی ، پانی اور ہوا ، بخارات یا ایٹمی قوت پیدا کی جس کی وجہ سے یہ بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں ۔ یہ سب امور تقدپر الہٰی کے مطابق ہیں ۔
Ayahs 36:43–44

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں کوئی ان کی فریاد سننے والانہ ہو ، اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔

وان نشا ۔۔۔۔۔ الٰی حین (36: 44) ” ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ، کوئی ان کی فریاد سننے والانہ ہو ، اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ گہرے سمندروں میں کشتی کی حقیقت وہی ہوتی ہے جس طرح طوفان میں ایک پر کی ہوتی ہے ۔ جس قدر بھی کشتی بھاری اور بڑی ہو ، اور چاہے وہ بہت ہی اعلیٰ سائنسی اصولوں کے مطابق بنی ہو۔ اگر ان کشتیوں کے ساتھ اللہ کی رحمت اور شفقت نہ ہو تو وہ رات یا دن کے کسی بھی لمحے میں تباہ ہوجائیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے سمندروں کا سفر چھوٹے بجرے میں ہواہویا بڑے بحری جہاز میں۔۔۔۔ وہ سمندر کی ہولناکی کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ سمندر کی طاقتور لہروں کے مقابلے میں انسانی بچاؤ کی تدابیر کس قدر معمولی ہوتی ہیں ۔ اس لیے ایسے لوگ اللہ کی رحمت کی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم کائنات میں عالم طبیعت کے طوفانوں اور انقلابات کے مقابلے میں صرف اللہ کی رحمت ہے جس نے سرکش طبیعی قوتوں کی لگام تھام رکھی ہے ۔ زمین و آسمان میں اللہ کے دست قدرت کے سوا اور کوئی تمہیں ہے جس نے سب چیزوں کو تھام رکھا ہے ۔ یہاتک کہ قیام قیامت کا وقت آپہنچے جس طرح اللہ حکیم وخبیر نے اس کے لیے وقت مقرر کیا ہے ۔ ومتاعا الٰی حین (36: 44) ” پھر وقت خاص تک متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ لیکن ان واضح ترین نشا نیوں کے باوجود لوگ غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے ہیں ۔ ان کی نظر ان نشانیوں پر نہیں پڑتی ۔ اور ان کے دل بیدار نہیں ہوتے اور وہ نگار اور تمسخرانہ انداز کو نہیں چھوڑتے ۔ اور بس انہوں نے یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو بس اسے لے ہی آؤ۔
Ayah 36:45

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

ان لوگوں سے جب کہ جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزار چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے ( تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں ) ۔

واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔ ان کنتم صٰدقین (48) ” ۔ “۔ یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجتس ، تدبر اور احساس خدا خوفی نہیں کرتیں ۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشا نیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہیں ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پرجوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اگر وہ ان کو دیکھ بھی لیں ، ان پر ۔۔ نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی عظیم رحمتوں کی وجہ سے پھر بھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیتا۔ اللہ پھر بھی ان کے پاس رسول بھیجتا ہے ، جو ان کو ڈراتا ہے۔ اور ان کو اس کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے وجود میں لانے والا ایک قادر مطلق ہے۔ یہ رسول ان کو ڈراتا ہے ، ان کے دل میں خوف اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اور ان کو اللہ کے غضب اور ان کو عذاب الٰہی کے اسباب فراہم کرنے سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے عذاب نے تو ان کو احاطہ میں لیا ہوا ہے۔ ان کے آگے اور پیچھے عذاب الٰہی موجود ہے۔ اگر یہ لوگ محتاط نہ رہے تو کسی بھی وقت اللہ کے عذاب میں پڑ سکتے ہیں اور ان کے قدم پھسل سکتے ہیں۔ پھر ان تکوینی نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں اور معجزات بھی اللہ پے در پے ان کے لیے بھیجتا ہے لیکن وہ تو جہ نہیں کرتے اور اپنی روش پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں لاپرواہ ہوکر۔ واذا قیل لھم اتقوا ما بین۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (45 – 48) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے ، اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ “۔ یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجسس ، تدبر اور احساس خدا خوفی پیدا نہیں کرتیں۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشانیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہے ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پر جوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اگر وہ ان کو دیکھ بھی لیں ، ان پر تدبر نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی عظیم رحمتوں کی وجہ سے پھر بھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیتا ۔ اللہ پھر بھی ان کے پاس رسول بھیجتا ہے ، جو ان کو ڈراتا ہے۔ اور ان کو اس کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے وجود میں لانے والا ایک قادر مطلق ہے۔ یہ رسول ان کو ڈراتا ہے ، ان کے دل میں خوف اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اور ان کو اللہ کے غضب اور ان کو عذاب الٰہی کے اسباب فراہم کرنے سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے عذاب نے تو ان کو احاطہ میں لیا ہوا ہے۔ ان کے آگے اور پیچھے عذاب الٰہی موجود ہے۔ اگر یہ لوگ محتاط نہ رہے تو کسی بھی وقت اللہ کے عذاب میں پڑ سکتے ہیں اور ان کے قدم پھسل سکتے ہیں۔ پھر ان تکوینی نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں اور معجزات بھی اللہ پے در پے ان کے لیے بھیجتا ہے لیکن وہ توجہ نہیں کرتے اور اپنی روش پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں لاپرواہ ہوکر۔
Ayahs 36:46–47

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے ، اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو

واذا قیل لھم۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 45 – 46) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔ اور اگر ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنی دولت میں سے کچھ فقراء پر بھی خرچ کرو تو وہ مزاح کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ انطعم من ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (36: 48) ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلاتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ مزاح کے علاوہ یہ لوگ ان لوگوں پر گمراہی کا الزام لگاتے جو ان کو دعوت انفاق دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے اس انداز گفتگو سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ انسانوں کی زندگی میں جاری وساری سنن الہیہ سے بالکل بےبہرہ ہیں۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ ہی سب کو کھلاتا ہے۔ اللہ ہی سب کا رازق ہے۔ زمین میں بندوں کے پاس جو دولت اور جو رزق ہے وہ اللہ ہی کا تخلیق کردہ ہے۔ انسانوں نے خود تو اپنے لیے کچھ پیدا کیا ہی نہیں ، اور نہ وہ کسی ایک چیز کی تخلیق پر قدرت رکھتے ہیں۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہے کہ اس زمین کو انسان آباد کریں۔ اس لیے اللہ نے لوگوں کو ضروریات کا محتاج کیا۔ یہ ضروریات لوگوں کو صرف ان کی جہد اور سعی سے ۔۔ سکتی ہیں۔ زمین کے اندر زراعت کا انتظام صنعتوں کا انتظام پھر زمین کے خزانوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا انتظام ۔ پھر ان اشیاء کی سپلائی اور خریدو فروخت مختلف زمانوں میں مختلف طریقوں سے۔ یہ سب انتظامات اللہ نے کیے۔ پھر لوگ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف اور متفاوت ہیں اور اللہ اپنی مشیت کے مطابق مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتیں دیں اور یہ اس لیے تاکہ انسان مل کر خلافت ارضی کے فرائض سر انجام دیں۔ انسان کی صلاحیتوں کے اندر تفاوت صرف مال اور دولت جمع کرنے ہی میں نہیں ہے۔ بلکہ بعض اوقات انسان دوسری ضروریات میں مصروف ہوتے ہیں اور یہ دوسرے میدان بھی خلاف ارضی کا تفاضا ہوتے ہیں۔ اس لیے بعض انسان مال دولت جمع کے کام کے لیے فارغ ہی نہیں ہوتے اور مالی لحاظ سے محتاج ہوتے ہیں۔ ایک طرف انسان کے منصب خلافت ارضی کے وسیع تقاضے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ اور ان صلاحیتوں کے مطابق پھر انسانوں کے درمیان ضروریات اور منافع کا لین دین ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان مقابلہ اور حصہ رسدی کا تعین ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع معاشی نظام ہے جس کی بیشمار کڑیاں ہیں اور ہر کڑی دوسری سے ملی ہوئی ہے بلکہ اس کا تعلق نسلوں سے بھی ہے۔ یعنی نسلا بعد نسل ایسے اسباب ہوتے ہیں جو لوگوں کی معاشی جدوجہد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ غرض معاشیات کے میدان میں مختلف اور متنوع اسباب کی بنا پر اللہ سے لوگوں کے درمیان دولت اور ان کے رزق میں تفاوت رکھی۔ یہ تفاوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو اس لیے رکھی گئی ہے کہ انسان خلافت ارضی کے منصب کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس زمین کی تعمیر و ترقی میں کوشاں رہے لیکن اس تفاوت کو حد اعتدال میں رکھنے کے لیے اسلام نے بعض انفرادی محرومیوں کا مداوا بھی کیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل ثروت پر لازم ہے کہ وہ اپنی دولت کا ایک حصہ فقراء اور محرومین کے لیے نکالیں۔ اور معاشرے کے اندر کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جو بنیادی معاشی ضروریات سے محروم ہو۔ ان انتظامات کی وجہ سے اغنیاء اور فقراء کی اخلاقی اور نفسیاتی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اس انفاق کے لیے اسلام زکوٰۃ لیتا ہے اور زکوٰۃ کے لغوی مفہوم میں طہارت کے معنی شامل ہیں۔ گویا یہ انفاق طہارت مال بھی ہے اور عبادت بھی۔ اور اس کے ذریعے اللہ نے فقراء اور اغنیاء کے درمیان محبت اور دوستی کا رشتہ بھی استوار کردیا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کا جو حکمت خداوندی کے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے : کہنا ، انطعم من لو شاء اللہ اطعمہ (36: 47) ” کیا ہم کو ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ “ اور اس پر مزید پھر ان کی جانب سے انفاق کی دعوت دینے والوں پر یہ الزام ان انتم الا فی ضلل مبین (36: 47) ” تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ دراصل حقیقی گمراہی ہے ۔ اور یہ لوگ اس کائنات میں جاری سنن الہیہ سے بیخبر ہیں۔ اور یہ لوگ اس جہاں میں زندگی کی حقیقی چلن اور اس کے متنوع معاشی اسباب سے بھی بیخبر ہیں۔ پھر اس جہاں میں اللہ نے جن مقاصد کی خاطر لوگوں کو متنوع صلاحیتیں دی ہیں اور جن کے نتیجے میں لوگ مختلف کام کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے پھر سامان زیست کا تبادلہ ہوتا ہے اور دنیا کا معاشی نظام چل رہا ہے۔ یہ لوگ اس سے بھی واقف نہیں ہیں۔ اسلام ایک ایسا نظام معیشت وضع کرتا ہے جس کے اندر تمام لوگوں کو کام کرنے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد اسلامی نظام تمام لوگوں کے مختلف قسم کے کام کرنے کے آزادانہ مواقع فراہم بھی کرتا ہے۔ اور لوگ اس طرح پاک اور صاف زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے عملی اقدامات سے معاشی ناہمواریوں کے حل کے لیے خصوصی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ سب سے آخر میں بات ان کے اس خلجان پر ہوتی ہے۔ جو انہیں بعث بعد الموت کے سلسلے میں تھا۔ اور جس کی وجہ سے وہ اس قسم کا عقیدہ رکھنے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی “ ؟

ویقولون متی۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ اللہ نے قیامت کے واقع ہونے کے لیے جو وقت مقرر کر رکھا ہے وہ انسانوں کی جلد بازی یا مطالبے کی وجہ سے وقت سے پہلے نہیں آسکتا۔ اور اگر لوگ یہ امید کریں کہ وہ اپنے مقررہ وقت سے ذرا اوپر کرکے واقع ہوگا تو یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک ہر شے ایک مقدار کے مطابق ہے۔ اور ہر واقعہ اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔ تمام واقعات اپنے وقت پر ہوتے ہیں جس طرح اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ ازل میں کر رکھا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق کر رکھا ہے۔ اس دنیا کا ہر واقعہ اپنے وقت پر نظام قضا و قدر کے مطابق قضا و قدر کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے ان سوالات اور خلجانات کا جواب کیا ہے تو وہ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کی صورت میں دیا گیا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جب قیامت ہوگی تو اس کی کیفیت یہ ہوگی۔ رہی یہ بات کہ یہ کب ہوگی تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔
Ayahs 36:49–53

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں اس حالت میں دھرلے گا جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں) جھگڑ رہے ہوں گے ،

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے ، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کیلئے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

۔ گھبرا کر کہیں گے : ” ارے ، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اٹھا کھڑا کیا ؟ “۔۔۔” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

ایک ہی زور کی آواز ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے

ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔ ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔ ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید ہی نہ ہوگی ۔ اور نہ وہ اسے کچھ اہمیت دیں گے۔ لیکن وہ اچانک واقع ہوجائے گی۔ ہر شخص اسی حال میں گرفتار ہوگا۔ جس پر وہ اس وقت ہوگا۔ کسی کو آنے والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں سے کچھ کہہ دے۔ اور وہ ہوں گے کہاں ؟ کیونکہ گھر والے بھی جہاں ہوں گے اسی قیامت کی گرفت میں ہوں گے۔ اور اس کے بعد صور پھونکا جائے گا۔ ہر شخص اپنی قبر سے اٹھے گا اور جلدی سے دوڑ پڑے گا۔ یہ انتہائی درجے میں ہیبت زدہ اور دہشت زدہ ہوگا۔ ہر شخص دوسرے سے پوچھے گا۔ من بعثنا من مرقدنا (36: 52) ” ارے یہ کس نے ہماری خوابگاہ سے ہمیں اٹھا کر کھڑا کیا ؟ قدرے وقفے کے بعد اب دہشت ختم ہوگی تو اصل حقیقت ان کو معلوم ہوجائے گی۔ ھذا ما وعد۔۔۔۔ المرسلون (36: 52) ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی “ اور اب آخری آواز ہوگی۔ ایک پکار اور یہ تمام بکھرے ہوئے پریشان اور حیران لوگ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے فاذاھم جمیع لدینا محضرون (36: 53) ” اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے “۔ اور سب کے سب صفوں کی صورت میں منظم کر دئیے جائیں گے اور یہ پیشی چشم زدن میں ہوگی اور صدائے بازگشت کی طرح ہوگی اور اس وقفہ و محل پر اللہ کا یہ فیصلہ سنایا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ جزاء و سزائیں کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہ ہوگی۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

آج کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے تھے “۔

فالیوم لا تظلم ۔۔۔۔ تعملون (54) ” یہاں نہایت تیزی کے ساتھ تین مناظر کی جھلک دکھائی جاتی ہے اور ان لوگوں کے شکوک اور خلجانات کا رد کردیا جاتا ہے جو خواہ مخواہ وقوع قیامت میں شک کرتے ہیں اور نہایت ہی ترتیب کے ساتھ۔ اب یہاں اہل ایمان کے ستاھ حساب و کتاب کا حال بھی چند لمحوں میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور ان کا انجام بھی تیزی کے ساتھ دکھا دیا جاتا ہے۔
Ayahs 36:55–58

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں۔ ،

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں ہیں۔ مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ہر قسم کی لذیذ چیزیں کھانے پینے کو ان کے لیے وہاں موجود ہیں ، جو کچھ وہ طلب کریں ان کیلئے حاضر ہے

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے

ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔ یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔ سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش اور جھڑکی اور ملامت کردی جاتی ہے۔
Ayahs 36:59–64

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

۔ آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور میری ہی بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے ؟

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کردیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

” یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو ، اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو

وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔ وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔ الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے “۔ یہ راستہ مجھ تک پہنچانے والا ہے اور اس پر چلنے سے میری رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ تم اس دشمن سے نہ ڈرے جس نے تمہاری نسلوں اور گروہوں کو گمراہ کر دیا افلم تکونوا تعقلون (36: 62) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے “۔ اور اس موقع پر ان کو دی جانے والی سزا یہاں سنا دی جاتی ہے جو نہایت ہی دردناک ہے۔ اور یہ فیصلہ بھی سختی اور سرزنش کے انداز میں سنایا جاتا ہے۔ ھذا جھنم۔۔۔۔ تکفرون (36: 63 – 64) ” یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھ ، جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو “۔ یہ پیشی یہاں ختم ہوجاتی اور اس کی بساط کو لپیٹ نہیں لیا جاتا بلکہ اس موضوع پر بات چیت جاری ہے اور ایک نیا منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔
Ayah 36:65

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے منہ بند کیے دیتے ہیں ، ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں

الیوم نختم۔۔۔۔ یکسبون (65) ” “۔ یوں وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہیں۔ ان پر خود ان کے اعضاء شہادت دے رہے ہیں خود ان کی اپنی شخصیت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اور ان کی ذات کے حصے ایک دوسرے کے خلاف گواہ ہوں گے اور انسان کا ہر عضو اپنے رب کے سامنے انفرادی طور پر ذمہ دار ہوگا۔ اور اللہ کے سامنے ہر عضو اقرار گناہ کرے گا اور سرتسلیم خم کرے گا۔ یہ نہایت ہیبت ناک اور خوفناک منظر ہے۔ انسان اس منظر کے بارے میں سوچتے ہی کانپ اٹھتا ہے۔ یہ منظر یوں اختتام پذیر ہوتا ہے کہ ان کی زبانیں بند ہیں اور ان کے ہاتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے پاؤں شہادت دے رہے ہیں ، حالانکہ انہیں اپنے ہاتھ پاؤں سے یہ توقع ہرگز نہ تھی۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کے ساتھ اس کے سوا کوئی اور سلوک کرتا اور انہیں جو سزا چاہتا ، دیتا اور ان پر جو مصیبت چاہتا لے آتا۔ یہاں اللہ دوسری سزاؤں کے دو نمونے بھی دیتا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو یوں ہوتا۔
Ayahs 36:66–67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

” ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں موند دیں ، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں ، کہاں سے انہیں راستہ سجھائی دے گا ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

ہم چاہیں تو انہیں ان کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کرکے رکھ دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں

ولو نشآء لطمسنا۔۔۔۔ ولا یرجعون (66 – 67) “۔ یہ دو مناظر ہیں ان میں عذاب اور سزا بھی ہے اور تحقیر اور مزاح بھی ہے۔ تحقیر ان لوگوں کی ہے جو دعوت اسلامی کی تکذیب کرتے ہیں اور مزاح ان لوگوں کا ہے جو دین اسلام کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ۔ جو یہ کہتے تھے۔ متی ھذا۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ چناچہ پہلے منظر میں ان کو ان کی شکل بگاڑ کر ان کو اندھا کردیا گیا ہے۔ اندھوں کے درمیان ایک دوسرے کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ ہے۔ وہ راستے کو عبور کرکے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ان کو اندھوں کی طرح راہ نہیں سوجھتی۔ اور وہ گرتے پڑتے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ سیدھی راہ دیکھ سکیں۔ فانی یبصرون (36: 66) ” کہاں سے انہیں راستہ سجھائی دے گا “۔ اور دوسرے منظر میں انہیں یوں دکھایا گیا ہے کہ چلتے چلتے وہ اپنی جگہ جم گئے ۔ بت بن گئے جو نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ حالانکہ ابھی یہ لوگ اندھے تھے اور ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے۔ ان دو مناظر میں وہ کھلونے نطر آتے ہیں ، ایسے کھلونے جنہیں دیکھ کر بےاختیار ہنسی آتی ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جو قیامت کے وقوع کے بارے میں مزاح کرتے تھے اور اسے اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔ یہ حالت تو ان کی اس وقت ہوگی جب قیامت واقع ہوجائے گی جس کے بارے میں انہیں بہت جلدی ہے لیکن اگر انہیں زمین پر مہلت دے دی گئی اور انہوں نے اس میں خوب ترقی کی اور اسے ترقی دی اور قیام قیامت تک اللہ کے منصوبے کے مطابق یہاں زندہ رہے تو بھی یہ لوگ ایک ایسی ناپسندیدہ حالت تک پہنچ جائیں گے جس کے اندر زندگی گزارنے کے بجائے وہ جلدی مرنا زیادہ پسند کریں گے۔ یہ لوگ ایسے ناتواں اور بوڑھے ہوجائیں گے اور ان کی جسمانی اور دماغی قوتیں اس قدر مضحل ہوجائیں گی کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہ آئے گی۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم الٹ ہی دیتے ہیں کیا (یہ حالات دیکھ کر) انہیں عقل نہیں آتی ؟ “۔

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق ، افلا یعقلون (68) ” جب انسان بہت بوڑھا ہوجاتا ہے تو وہ دوبارہ الٹ کر طفل ناتواں بن جاتا ہے۔ لیکن اس میں بچوں جیسی محبوبیت اور کشش نہیں ہوتی۔ یوں بوڑھے لوگ پیچھے کی طرف چلتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس جو علم تھا ، اسے بھولتے جاتے ہیں۔ ان کے اعصاب کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی فکر مضحمل ہوتی جاتی ہے۔ ان کی قوت برداشت ختم ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایسا انسان خالص بچہ ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ بچہ اگر توتلی زبان بھی بولتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ لوگ اسے دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔ وہ اگر کوئی حماقت کرتا ہے تو بھی دیکھنے والے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن بوڑھا تو کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔ اس کی حماقتوں کو محض رحم اور احترام ہی سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اور جوں جوں اور کی قوتیں مضحمل ہوتی ہیں اور اس سے حماقتیں سرزد ہوتی ہیں۔ لوگ اس کے ساتھ مزاح کرتے ہیں۔ جوں وہ ناتواں ہوتا ہے اس کی کمر ٹیڑھی ہوتی ہے وہ پیچھے ہٹتا چلا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ برا انجام ہے جو دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کے انتظار میں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ نے رشد و ہدایت سے محروم کردیا ہے اور ایمان کی وجہ سے ان کو جو اعزاز ملنے والا تھا ، اس سے وہ بےبہرہ رہ گئے۔
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

ہم نے اس (نبی ﷺ کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے۔ یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والے کتاب ،

درس نمبر 207 تشریح آیات 69 ۔۔۔ تا۔۔۔ 83 یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس میں ان تمام مسائل کو لیا گیا ہے جو اس سورت کا محور ہیں۔ وحی کا مسئلہ ، وحی کی ماہیت ، مسئلہ الوہیت اور وحدانیت الٰہی۔ بعث بعد الموت اور حشر و نشر۔ اس سبق میں یہ تمام مسائل علیحدہ علیحدہ یکے بعد دیگرے بیان کیے گئے ہیں ، نہایت ہی موثر اور زور دار انداز میں۔ تمام موضوعات میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہر چیز کی صنعت میں دست قدرت کار فرما ہے اور اس کائنات کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ مضمون اس سبق اور اس سورت کی آخری آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ فسبحن الذی۔۔۔۔ ترجعون (36: 83) ” پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔ یہ دست قدرت اور اس کی صنعت کاریاں ہیں کہ اس نے جانوروں کو بشر کے لیے پیدا کیا اور ان کے تابع فرمان کردیا۔ جس نے انسان کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا اور جس طرح ایک نہایت ہی چھوٹے نطفے سے اسے پیدا کیا۔ اسی طرح بوسیدہ ہڈیوں سے اسے دوبارہ پیدا کر دے گا۔ جس نے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی۔ جس نے زمین و آسمان جیسی عظیم کائنات پیدا کی۔ اور جو اس جہاں کی ہر چیز کا مالک اور مقتدر اعلیٰ ہے۔ یہ ہے اس سورت کا خلاصہ۔ وما علمنہ الشعر۔۔۔۔ علی الکفرین (69 – 70) ” ۔ وحی کے موضوع پر سورت کے آغاز ہی میں بحث ہوئی تھی۔ یس ، والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔ غفلون (36: 1 – 6) ” پس ، قسم ہے قرآن حکیم کی کہ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو اور یہ قرآن غالب اور حکیم ہستی کا نازل کردہ ہے تاکہ تم خبردار کرو ایک ہی قوم کو جس کے باپ داد خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے “۔ یہاں وحی کا ذکر اس مضمون اور مناسبت سے آتا ہے کہ یہ وحی الٰہی ہے ، شاعری نہیں ہے۔ کیونکہ بعض لوگ آپ پر یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ﷺ شاعر ہیں اور قرآن کریم ایک مخصوص قسم کا شعری کلام ہے۔ دراصل کبرائے قریش جانتے تھے کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ اور حضرت محمد ﷺ جو کلام لائے ہیں وہ عربوں کے اسالیب شعر کے مطابق نہ شعر ہے اور نہ ان کی نثر کی طرف نثر ہے۔ یہ الزام دراصل اسلام کے خلاف ان کی جانب سے پروپیگنڈے کی جنگ تھی۔ اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لئے قرآن اور حضور ﷺ پر یہ الزام تھا۔ ہاں یہ لوگ قرآن کریم کے حسن و جمال اور انوکھے اور موثر اسلوب کلام سے یہ استدلال کرتے تھے ۔ اس طرح عوام الناس اشعار اور قرآن میں فرق نہ کرسکتے تھے اور اس لیے وہ اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوتے تھے۔ یہاں اللہ اس بات کی تردید فرماتا ہے کہ ہم نے نبی ﷺ کو شاعری سکھائی ہے جب اللہ نے آپ کو شعر کا علم نہیں سکھایا تو آپ کو شعر کا علم ہی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انسان وہی جانتا ہے جو اللہ اسے سکھاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس حقیقت سے بھی نقاب کشائی کرتا ہے کہ شعر کہنا آپ کے شایان شان ہی نہیں ہے۔ (وما ینبغی لہ) کیونکہ شاعری کا منہاج نبوت کے منہاج سے بہت ہی مختلف ہوتا ہے۔ شعر ایک تاثر ہوتا ہے اور تاثرات کا بیان ہوتا ہے۔ اور انسانی تاثرات مختلف حالات میں بدلتے رہتے ہیں جبکہ نبوت کا منہاج وحی پر مبنی ہوتا ہے اور مستقل ہوتا ہے۔ اور نبی ایک سیدھے راستے پر ہوتا ہے۔ اور اس ناموس الٰہی کے تابع ہوتا ہے جس کے مطابق یہ پوری کائنات رواں دواں ہوتی ہے۔ اور یہ ناموس بدلتی ہوئی خواہشات اور بدلتے ہوئے تاثرات کے مطابق نہیں بدلتا۔ جس طرح شعر بدلتے رہتے ہیں اور ہر حال میں شعر میں ایک نظریہ نہیں پایا جاتا۔ نبوت میں تو نبی براہ راست ہر وقت اللہ سے مربوط ہوتا ہے اور وہ براہ راست اللہ کی وحی سے ہدایت لیتا ہے اور اس کی جدوجہد دائمی انداز لئے ہوئے ہوتی ہے کہ زندگی کا نظام اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق چلے۔ جبکہ شعر ، اپنے اعلیٰ معیار کے ساتھ محض انسانی خواہشات اور جمال و کمال کے تاثرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ انسان میں انسانی سوچ کی تقصیرات اور کمزوریاں موجود ہوتی ہیں۔ اور وہ انسان کے محدود تصورات کا عکس ہوتا ہے اور انسان کی محدود صلاحیت اور علم کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ شعر جب اپنے مقام سے گر جاتا ہے تو یہ محض جسمانی لذت اور طبعی خواہشات اور جنسی لذت تک گر کر محدود ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد پھر وہ جسمانی بخار کا نام ہوتا ہے۔ لہٰذا نبوت اور شاعری اپنی نوعیت اور ماہیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ شعر اگر اعلیٰ درجے کا بھی ہو وہ ان خواہشات پر مشتمل ہوتا ہے جو زمین سے اٹھتی ہیں اور نبوت آسمانوں سے ایک ہدایت کی شکل میں نازل ہوتی ہے۔ ان ھو الا ذکر وقران مبین (36: 69) ” یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھے جانے والی کتاب ہے “۔ ذکر اور قرآن دونوں ایک ہی چیز کی صفات ہیں ۔ ذکر اس معنی میں ہے کہ اس کتاب کا اصل مقصد ہی نصیحت ہے اور قرآن اس حساب سے ہے کہ اس کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ یہ گویا اللہ کی یاد ہے اور دل اس میں مشغول ہوتا ہے اور قرآن ہے جس کی تلاوت زبان سے ہوتی ہے اور اسے نازل اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ اپنا مشین مقصد پورا کرے۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے

لینذر من ۔۔۔۔ الکفرین (36: 70) ” تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت تمام ہوجائے “۔ قرآن نے کفر اور حیات کو بالمقابل رکھا ہے۔ گویا کفر موت کے ہم معنی ہے۔ اور جس شخص کے دل میں ایمان کی استعداد ہو ، وہ زندہ ہے اور قرآن کا مقصد یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر اس لیے نازل ہوا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرائیں جو زندہ ہوں ، جن لوگوں کے اندر زندگی کی رمق ہو ، وہ مر نہ گئے ہوں تاکہ ڈرانے کا انہیں فائدہ ہو۔ رہے کفار تو وہ مردے ہوتے ہیں۔ ان کو ڈرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ نیز ڈرانے کا فیضہ اس لیے عائد کیا گیا ہے تاکہ وہ عذاب کے مستحق ہوجائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی کو سزا نہیں دیتا جب تک اس تک اللہ کا پیغام پہنچ نہ جائے اور پھر وہ کفر نہ کر دے۔ اور پھر اگر اللہ انہیں ہلاک کر دے تو وہ بلا حجت اور بغیر سبب کے ہلاک نہ کیا جائے۔ یوں لوگوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کے حوالے سے لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک فریق وہ ہے جو اسے قبول کرتا ہے تو وہ زندہ ہے اور ایک وہ ہے جو قبول نہیں کرتا تو وہ مردہ ہے۔ اور اس فریق کو معلوم ہوجائے کہ اس کے خلاف فیصلہ برحق ہوا اور وہ سزا کا مستحق ہوجاتا ہے۔ اس سبق کے دوسرے ٹکڑے میں الوہیت اور وحدانیت کا مضمون بیان ہوا ہے۔ الوہیت اور وحدانیت کا یہ بیان لوگوں کے مشاہدات کے فریم ورک میں ہے کہ ذرا دیکھو کہ اللہ کے ان پر کس قدر انعامات ہیں جنہیں وہ استعمال کر رہے ہیں لیکن اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔
Ayahs 36:71–73

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے ہیں اور اب یہ ان کے مالک ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

۔ ہم نے انہیں اس طرح ان کے بس میں کردیا ہے کہ ان میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں ، کسی کا یہ گوشت کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان کے اندر ان کے لیے طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں۔ پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے ؟

اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ ما یسرون وما یعلنون (71 – 76) کیا یہ دیکھتے نہیں ؟ اللہ کی نشانیاں تو ان کے سامنے موجود ہیں اور سب کو نظر آتی ہیں۔ نہ ان سے اوجھل ہیں اور نہ دور ہیں۔ اور نہ یہ نشانیاں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لئے کسی بڑے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ یہ انعامات جو اللہ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے اور انسانوں کو ان کا مالک بنایا ، ان میں سے جانور ہیں جن کو انسانوں کے تابع بنایا جن پر انسان سوار ہوتے ہیں ، ان میں سے بعض نعمتوں کو کھاتے اور پیتے ہیں ۔ اور بعض سے بعض دوسرے فائدے اٹھاتے ہیں اور یہ سب امور اللہ کی تدابیر اور تقادیر کے مطابق ہے۔ اور پھر اللہ نے انسانوں کے اندر مختلف صلاحیتیں اور خصوصیات و دیعت فرمائیں۔ پھر جانوروں کو مختلف خصائص اور صلاحیتیں دیں۔ انسانوں کو یہ قدرت دی کہ وہ ان کو اپنا تابع فرمان بنائیں اور ان سے فائدے اٹھائیں۔ چناچہ وہ سدھائے گئے تابع فرمان بنائے گئے اور ان سے انسانوں کی مختلف حاجات و ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ انسانوں کے اندر یہ قدرت نہ تھی کہ وہ ازخود ان نعمتوں کو پیدا کرسکتے۔ سب نعمتیں تو بڑی بات ہے اگر تمام انسان جمع ہوجائیں اور وہ ایک مکھی کی تخلیق کرنا چاہیں تو وہ بھی نہ کرسکیں گے۔ نیز اللہ نے چونکہ مکھی کے اندر یہ خاصیت نہیں رکھی کہ وہ انسانوں کے تابع ہوجائے اس لیے آج تک انسان مکی کو تابع نہ کرسکے۔ افلا یشکرون (36: 73) ” پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے “۔ جب انسان ان معاملات کے بارے میں اس انداز سے سوچتا ہے اور قرآن کریم کی روشنی میں ان امور پر غور کرتا ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ تو اللہ کے انعامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے اور اس پر اللہ کے کرم کی ہر وقت بارش ہو رہی ہے۔ اس کے ماحول کی ہر چیز اس کے لیے رحمت ہے۔ جب بھی وہ کسی حیوان پر سوار ہوتا ہے ، یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کھاتا ہے ، یا دودھ کا ایک گھونٹ پیتا ہے یا سوت ، اون اور ریشم کا کوئی کپڑا پہنتا ہے ، یا گھی اور پنیت استعمال کرتا ہے یا اپنے انعامات کو کام میں لاتا ہے تو اسے گہرا شعور حاصل ہوتا ہے کہ خالق کائنات کی رحمت کس قدر وسیع ہے اور اس کے انعامات کا دائرہ کسی قدر بڑا ہے۔ غرض یہ شعور اور بھی پختہ ہوجاتا ہے جب انسان اس جہاں کی تازہ اور باسی فصلوں اور پھلوں کو استعمال کرتا ہے اور اسی شعور کے نتیجے میں انسانی زندگی پوری کی پوری حمد و ثنا ہوجاتی ہے۔ قدم قدم پر اس شعور کی وجہ سے انسان عبادت اور بندگی کرتا ہے اور رات دن اللہ کا ثنا خواں ہوتا ہے۔
Ayah 36:74

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

، یہ سب کچھ ہوتے ہوئے انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔

لیکن لوگوں کے اندر یہ شعور نہیں ہے اس لیے وہ شکر نہیں بجا لاتے بلکہ انہوں نے الٹا اللہ کی مخلوق میں دوسری چیزوں کو اللہ کے سوا الٰہ اور مددگار بنا رکھا ہے۔ واتخذوا من دون ۔۔۔۔۔ جند محضرون (36: 74 – 75) ” انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں “۔ ماضی میں یوں ہوتا تھا کہ بت اور آستانے پوجے جاتے تھے ، یا درختوں اور ستاروں کی پوجا کی جاتی تھی۔ فرشتوں ، اور جنوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ ماضی کی بت پرستی آج بھی بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن جو لوگ اس مظاہر پرستی میں مبتلا نہیں ہیں وہ بھی خالص توحید کے قائل نہیں ہیں۔ آج اکثر لوگ اللہ کے سوا دوسری کھوٹی اور جھوٹی قوتوں سے خائف ہیں اور اللہ کے سوا دوسرے سہاروں پر اعتماد کرتے ہیں ۔ شرک کے بہرحال بہت سے رنگ ہوتے ہیں۔ زمان و مکان کے اختلاف سے اس کے رنگ ڈھنگ بھی بدلتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ ان الہوں کی بندگی اس لیے کرتے تھے کہ ان کے ذریعے یہ لوگ کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ حالانکہ عملاً صورت حالات یہ ہوتی تھی کہ ان کے الہوں کے خلاف اگر کوئی کچھ اقدام کرتا تھا تو یہ لوگ اپنے الہوں کی امداد کے لیے کھڑا ہوجاتے تھے اور اپنے الہوں کی حمایت کرتے تھے۔ اصل میں تو یہ لوگ اپنے کھوٹے خداؤں کے مددگار ہوتے تھے۔
Ayah 36:75

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ” بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں۔

وھم لھم جند محضرون (36: 75) ” وہ اپنے الہوں کے لیے حاضر باش فوجدار تھے “۔ یہ اب کی سوچ اور فکر کی انتہائی کمزوری تھی۔ آج بھی لوگوں کی اکثریت اسی سوچ میں مبتلا ہے۔ اور صرف شکل و صورت کے اعتبار سے ہی اختلاف ہے۔ اصل سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج جو لوگ بڑے بڑے سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کا الہہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ازمنۃ سابقہ کے بتوں کے پجاریوں سے کہیں دور نہیں ہیں۔ دراصل یہ لوگ ان بتوں کے فوجدار ہیں۔ یہ لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کو پوجتے بھی ہیں۔ اور ان کی حمایت و مدافعت بھی کرتے ہیں۔ بت پرستی بہرحال بت پرستی ہے۔ اس کی شکل و صورت مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ہر دور میں موجود ہوتی ہے۔ اور جب بھی عقیدہ توحید میں اضطراب پیدا ہوتا ہے بت پرستی کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ شرک اور جاہلیت لے لیتی ہے۔ انسانوں کی فلاح اور نجات صرف توحید خالص میں ہے جس کے اندر صرف اللہ ہی کو الٰہ سمجھا جائے۔ صرف اس کی بندگی کی جائے۔ اور صرف اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اطاعت اور تعظیم بھی اسی کی کی جائے۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

اچھا ، جو باتیں یہ بنا رہے ہیں ، وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں ، ان کی چھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں “۔

فلا یحزنک ۔۔۔۔۔ وما یعلنون (36: 76) ” اچھا جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں ۔ ان کی چھپی اور کھی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں “۔ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے ۔ آپ کے مخاطب وہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے سوا دو سروں کو الہہ بنار کھا تھا ۔ اور یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ۔ لہٰذا یہ لوگ نصیحت بھی نہ لیتے تھے ۔ حضور سے کہا گیا کہ آپ ان کی فکر نہ کریں ۔ اللہ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے ۔ وہ تحریک اسلامی کے خلاف اور بت پر ستی کے حق میں جو تدابیر اختیار کررہے ہیں ، وہ ہماری نظر وں میں ہیں ۔ لہٰذا اے رسول آپ پر ان باتوں کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ ان کے معاملات قدرت المبیہ کے سامنے کھلے ہیں اور اللہ کی قدرت ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔ تحریک اسلامی کے کارکن جب یہ عقیدہ رکھیں تو ان کا معاملہ بہت ہی سہل ہوجاتا ہے ۔ وہ چونکہ صرف اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہتا ۔ کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ یہ کہ وہ اللہ کے قبضے میں ہیں ، اللہ کی نظروں میں ہیں اگر چہ بظاہر یہ بات نظر نہ آتی ہو۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالوبن کر کھڑا ہوگیا ؟

اس آخری سبق کا یہ تیسرا حصہ ہے ۔ اس میں حشر ونشر کے مسئلہ کو لیا گیا ہے ۔ اولم یرالانسان ۔۔۔۔۔ لہ کن فیکون (77-82) اس حصے میں بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ انسان کو خود اپنے وجود اور اپنی ذات کی طرف دیکھنا چاہئے ۔ اس کی تخلیق کا آغاز کس طرح ہوا ، وہ کس طرح بڑا ہوا اور سن بلوغ کو پہنچا۔ یہ سب مراحل جو اس کی زندگی میں طے ہوئے وہ اس کی نظر وں میں ہیں ۔ وہ دیکھتارہا ہے ۔ کیا اس سے وہ کوئی سبق اور نصیحت نہیں لے رہا ہے ۔ کیا خود انسانی زندگی تخلیق وتشکیل سے وہ یہ سبق نہیں اخذاکر سکتا کہ اللہ کے لیے دوبارہ اٹھا نا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر چہ وہ مٹ جائے اور اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں ۔ اولم یر ۔۔۔۔۔ خصیم مبین (36: 77) ” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ نطفہ کیا چیز ہے جس کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ انسان کا اصل قریب ہے ۔ یہ ایک حقیر پانی سے مرکب ہے ، یہ کوئی ٹھوس چیز ہے اور نہ اس کی کوئی قیمت ہے ۔ یہ ایک پانی ہے جس میں ہزارہا خل سے ہوتے ہیں ۔ ان ہزار ہا خلیوں میں سے صرف ایک جنین بنتا ہے ۔ اور یہ ایک جنین پھر انسان بنتا ہے ۔ یہ پھر اپنے رب اور خالق کے ساتھ گستاخانہ باتیں کرتا ہے۔ رب کی مخالفت کرتا ہے اور اپنے خالق سے برہان و دلیل کا مطالبہ کرتا ہے ۔ حالا ن کہ وہ خالق قدیر ہی ہے جس نے اس قدر حقیر چیز سے انسان کو بنایا اور ” خصیم مبین “ اور صریح جھگڑالوبن گیا ۔ ذراغور تو کیا جائے کہ یہ انسان کی اسے کیا بن گیا ۔ ذرا اس کے آغاز اور انجام پر غور کیا جائے ۔ کیا اس قدرت ” قادرہ “ کے سامنے یہ کوئی مشکل کام ہے کہ وہ اجزائے جسم کو دوبارہ یکجا کردے۔ اگر چہ وہ مرمٹنے کے بعد زمین میں بکھر گئے ہیں ۔