Ayahs 36:1–21 قرآن حکیم اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود : سو حکمت قرآن اس کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ چناچہ قرآن حکیم کی قسم سے واضح فرما دیا گیا کہ حکمت قرآن اس کتاب حکیم اور اس کے پیش کرنے والے پیغمبر کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ یعنی یہ عظیم الشان اور حکمتوں بھرا کلام جس کی نظیر لانے سے دنیا ساری عاجز ہے خود اس بات کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں (علیہ الصلوۃ والسلام) سو قرآنی قسمیں جیسا کہ ہم نے اور بھی کئی جگہ ذکر کیا ہے اپنے مقسم علیہ کی شہادت اور گواہی کیلئے ہوتی ہیں نہ کہ محض تعظیم کیلئے۔ جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے اور جیسا کہ عام لوگوں کی قسموں میں پایا جاتا ہے۔ سو یہاں پر قرآن حکیم کی اس قسم سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ اے پیغمبر آپ ﷺ یقینا اللہ کے سچے رسول ہیں اور اس پر گواہی کیلئے یہ قرآن حکیم ہی کافی ہے جو آپ ﷺ دنیا کو سناتے ہیں کہ ایسا کلام حکیم اپنی طرف سے پیش کرنا طوق بشر سے خارج ہے۔ پس یہ قرآن معجزہ اور کلام خداوندی ہے۔
Ayahs 36:3–43 راہ حق کی تعیین و تشخیص : سو راہ حق کی تعیین و تشخیص اور پیغمبر کی صداقت و حقانیت کے ذکر وبیان کی طور پر ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح اور قطعی طور پر ارشاد و اعلان فرمایا گیا " آپ اے پیغمبر قطعی طور پر رسولوں میں سے ہیں۔ اور یقینا آپ ﷺ سیدھی راہ پر ہیں "۔ یعنی اس راہ پر جو انسان کو سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی راہ ہے اور جنت کو پہنچانے والی اور بندے کو اپنے رب کی رضا سے مشرف کرنے والی راہ ہے ۔ { اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم بیک وقت دو باتوں کا شاہد ہے۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ قطعی طور پر اللہ کے رسولوں میں سے ہیں اور دوسری یہ کہ آپ ﷺ اس عظیم الشان شاہراہ اور سیدھے راستے پر ہیں جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والا راستہ ہے۔ اور جو لوگ اس سے منہ موڑتے ہیں انہوں نے دراصل اپنی فطرت کو بگاڑ دیا ہے اور ان کی عقلیں ماؤف ہوچکی ہیں جس سے انکو سیدھی راہ بھی ٹیڑھی نظر آرہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے تصریح فرما دی گئی کہ راہ حق و ہدایت وہی اور صرف وہی ہے جس کی تعلیم و تلقین پیغمبر فرمائیں اور جو اب قیامت تک کے لیے قرآن وسنت کی شکل میں دنیا کے سامنے موجود ہے۔ دارین کی سعادت و سرخروئی کا مدارو انحصار اب اسی راہ پر ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ محرومی اور ہلاکت و تباہی کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ شیخ سعدی نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔ خلاف پیمبر کسے رہ گزید ۔ ہرگز بمنزل نخواہد رسید ۔ یعنی " پیغمبر کے راستے کے خلاف جس نے دوسرا کوئی بھی راستہ اپنایا وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا ـ " اس کے لیے محرومی ہی محرومی اور ہلاکت و رسوائی ہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:54 قرآن حکیم وسیلہ عزت و عظمت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم عزت و عظمت کا سرچشمہ اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سراسر اتارا ہوا کلام ہے اس ذات کا جو نہایت ہی زبردست ہے "۔ پس نہ تو کوئی اس کے اس کلام مقدس میں کسی طرح کی کوئی مداخلت کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کی گرفت اور پکڑ سے بچ کر نکل سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ اس کتاب عزیز کو اپنائیں گے وہ صحیح معنوں میں اور حقیقی عزت سے سرفراز ہوں گے اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اس کے برعکس جو لوگ اس سے منہ موڑیں گے وہ اس منصہ عز و شرف سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک گڑھے اور قعر مذلت میں گریں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تنزیل العزیز کے ان دو کلمات کریمہ سے ایک حقیقت تو یہ واضح فرما دی گئی ہے کہ یہ کلام خالص اور سراسر اتارا ہوا کلام ہے۔ اس میں کسی انسانی فکر و کاوش کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اور دوسری حقیقت اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ یہ کلام اس عزیز ذات کا کلام ہے جس کی عزت و عظمت اور اس کے غلبہ وقوت کا کوئی کنارہ نہیں۔ اس لیے جو لوگ اس کلام عزیز و حکیم سے اعراض و روگردانی برتیں گے وہ اس ربِّ عزیز کی گرفت وپکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور تیسری طرف اس سے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی گئی کہ جو لوگ اس کلام عزیز کو صدق دل سے اپنائیں گے وہ سچی اور حقیقی عزت و عظمت سے سرفراز ہوں گے۔ سو قرآن حکیم حقیقی عزت و عظمت کا مصدر و سرچشمہ اور اس سے سرفرازی کا واحد ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور صدق دل سے اس کے ساتھ وابستہ رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
5 قرآن حکیم رحمت خداوندی کا مقتضیٰ اور رحمت سے سرفرازی کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ حکمتوں بھرا کلام اتارا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جو کہ انتہائی مہربان ہے "۔ پس اس کی بےپایاں رحمتوں کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے قرآن حکیم جیسی ابدی صداقتوں والی یہ بےمثال و لازوال کتاب اتارے۔ بھلا جس نے ہماری جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے طرح طرح کی اور لاتعداد نعمتوں کو پیدا فرمایا ہے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ ہماری روحانی ضرورتوں کا کوئی انتظام نہ فرمائے جو کہ اصل بھی ہیں۔ اور جسمانی ضرورتوں سے کہیں زیادہ اہم بھی۔ سو اس خدائے عزیز و رحیم ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اسی لیے قرآن حکیم کی صورت میں اپنی یہ آخری اور کامل کتاب نازل فرمائی۔ پس اس سے منہ موڑنا اپنے آپ کو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈالنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی صفت رحیم کے یہاں پر ذکر فرمانے سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ تنزیل قرآن رحمت خداوندی کا سب سے بڑا مظہر و مقتضیٰ ہے۔ اور یہی رحمت خداوندی سے سرفرازی کا سب سے بڑا اور واحد ذریعہ و وسیلہ ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 36:66 تنزیل قرآن کا اصل مقصد انذار و تنبیہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم کے نازل فرمانے کا اصل مقصد انذار ہے۔ یعنی ان لوگوں کو خبردار کرنا جن کے باپ دادا کو خبردار نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی عربوں کو جن کے پاس حضرت اسماعیل کے بعد سے کوئی نبی نہیں آیا تھا اگرچہ دوسرے انبیائے کرام کی کچھ تعلیمات ان کو پہنچی تھیں۔ مگر ان کو ان لوگوں نے ادل بدل کر کے کچھ کا کچھ بنادیا تھا۔ اسلئے اب آپ ﷺ کے ذریعے ان کی ابدی راہنمائی کا انتظام فرمایا گیا ہے۔ سو قرآن حکیم کے نازل فرمانے کا اصل اور اولین مقصد انذار ہے۔ یعنی غفلت میں پڑے لوگوں کو انکے انجام سے خبردار کرنا تاکہ وہ چونک کر راہ حق و ہدایت کو اپنائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم کو اس اہتمام کے ساتھ اس لیے اتارا گیا کہ تاکہ آپ اس کے ذریعے غفلت میں پڑے ان لوگوں کو ان کے انجام سے خبردار کردیں جن کے پاس آپ کی بعثت سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا تھا۔ یہ اشارہ بنواسماعیل کی طرف ہے جن کے اندر رسول کی بعثت کے لیے ان کے جدِّ امجد حضرت ابراہیم نے خاص طور پر یہ دعا فرمائی تھی اور اس مضمون کو قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر بھی مختلف انداز میں بیان فرمایا گیا۔ مثلا سورة القصص میں ارشاد فرمایا گیا { لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اَتَاہُمْ مِنْ نَذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ } ۔ ( القصص : 46) ۔
7 غفلت میں پڑے ہوؤں کی تذکیر و تنبیہ کا سامان و انتظام : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن پاک کو اس لیے نازل فرمایا گیا کہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ان لوگوں کی تنبیہ و تذکیر کا سامان ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری صرف عربوں ہی کے لئے تھی۔ نہیں آپ ﷺ کی نبوت و بعثت تو قیامت تک کے لئے اور سارے جہانوں اور تمام انسانوں کے لئے تھی اور ہے ۔ { وَمَآ اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ } ۔ (الانبیائ : 107) ۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمیِْنَ نَذِیْرًا } ۔ (الفرقان : 1) وغیرہ۔ مگر اس کی طبعی ترتیب اس طرح رکھی گئی کہ پہلے اپنے گھر سے شروع کریں۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الاَقْرَبِیِنَ } ۔ (الشعراء : 214) پھر اپنی قوم کو اور پھر سارے عالم کو خبردار کریں تاکہ خبردار کرنے کا کام اسی فطری ترتیب کے مطابق ہوتا جائے جو کہ عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ اور اس طرح آپ ﷺ کو اپنے اہل و اقارب اور اپنی قوم سے معاون بھی ملتے رہیں اور دعوت حق و ہدایت کے افق وسیع سے وسیع ترہوتے جائیں۔ بہرکیف اس میں غافلوں کے لیے تنبیہ و تذکیر کا عظیم الشان سامان ہے۔
Ayah 36:78 منکرین پر اللہ کی بات پکی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ان میں سے اکثر پر پکی ہوگئی ہماری بات یعنی وہ بات جو ابلیس لعین کے چیلنج کے جواب میں حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اعلانِ حق کے طور پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمائی گئی تھی۔ جیسا کہ ابھی اگلی سطروں میں آنے والا ہے۔ سو یہی وہ بات ہے جو کہ ازل سے ہمارے یہاں طے شدہ ہے کہ ایسے لوگوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنی فطری استعداد کو ضائع کردینا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح انہوں نے ایمان سے محروم رہنا ہے ۔ " اَیْ ما سُجّل علیہم فی اُمّ الکتاب من انہم لا یؤمنون لخُبْثِ نفوسہم وسوء استعدادہم " ۔ (المراغی : ج 22 ص 146) ۔ اور اس کے نتیجے میں انکو جہنم کے ہولناک عذاب میں داخل ہونا ہوگا جیسا کہ ابلیس لعین نے اللہ تعالیٰ کے سامنے چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ان کی اکثریت کو گمراہ کرکے چھوڑونگا۔ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ۔ { قاَلَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ اَقُوْلَ لاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ۔ (صٓ :84-85) ۔ نیز دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ } ۔ (السجدۃ : 13) ۔ اللہ تعالیٰ عناد اور ہٹ دھرمی کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 36:89 منکرین و معاندین اللہ تعالیٰ کی سنت کی زد میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -: سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے ڈال دیئے ان کی گردنوں میں بھاری بھرکم طوق "۔ یعنی ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کے وہ طوق جنہوں نے ان کو حق سے محروم کر رکھا ہے۔ یہ طوق اگرچہ آج نظر نہیں آ رہے مگر کل قیامت کو جب اصل حقائق نظروں کے سامنے آجائیں گے تو اس وقت یہ طوق بھی سامنے نظر آئیں گے جو دنیا میں ان کے گلوں میں پڑے ہوئے تھے اور جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور ہدایت کی دولت سے محروم ہوگئے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور " ہم نے ڈال دیئے " کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سنت اور ہمارا قانون اور دستور یہی ہے کہ جو کوئی اپنی رغبت اور چاہت سے ایسے کرتا ہے ہم اس کے ساتھ ایسے ہی معاملہ کرتے ہیں اور اس کو ادھر ہی دھکیل دیتے ہیں جدھر وہ خود جانا چاہتا ہے کہ اس بارے کسی پر جبر نہیں بلکہ ہر ایک کا اپنا ارادئہ و اختیار ہے ۔ { نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہ جَہَنَّمَ وَسَآئَتْ مَصِیْرًا } ۔ (النساء :115) یعنی ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کو ہم ادھر ہی چلتا کردیتے ہیں جدھر وہ اپنی چاہت و خواہش کے مطابق خود چلنا چاہتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں بالآخر وہ جہنم میں پہنچ کر رہتے ہیں جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ سو ایسے منکر اور معاند لوگ اللہ تعالیٰ کی سنت کی زد میں آئے ہوتے ہیں مگر ان کو اس کا احساس و شعور ہی نہیں ہوتا جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
10 مستکبرین کے استکبار کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کی گردنوں میں ایسے بھاری بھرکم طوق ڈالے ہوئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں " جن میں یہ بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ " اقماح " دراصل اس وقت بولا جاتا ہے جب کہ کسی اونٹ کے سر کو پیچھے کی طرف اس طرح باندھ دیا جائے کہ اس کی گردن ایک خاص حد سے نہ نیچے ہوسکے نہ اوپر۔ سو یہ استعارہ ہے جو ان متکبر لوگوں کی اکڑی ہوئی گردنوں کے بارے میں اختیار فرمایا گیا ہے کہ جب ان لوگوں کے سر ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس طرح اوپر اٹھے ہوئے ہیں جس طرح کہ اس اونٹ کی گردن کو اس کے پیچھے کی طرف کس کر باندھ دیا جائے۔ تو پھر ان کو وہ سیدھی راہ آخر نظر ہی کیسے آسکتی ہے جو ان کے پیش پا افتادہ ہے ۔ " اَیْ مرفوعو الرؤس " ۔ (المراغی) ۔ " الذی یرفع راسہ و یَغُضُّ بَصَرَہ " ۔ (جامع البیان ) ۔ سو یہ ان کی اس محرومی کی تمثیل اور ان کے استکبار کی تصویر ہے جو ان کی اپنی اختیار کردہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان پر تھوپ دی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان کی گردنیں انکے اپنے کبر و غرور کی بنا پر ایسی اکڑی ہوئی اور اوپر کو اس طرح اٹھی ہوئی ہیں کہ یہ اپنے سروں کو ایک خاص حد اور خاص زاویئے سے نہ اوپر کرسکتے ہیں نہ نیچے۔ بلکہ ان کی گردنیں ہمیشہ تنی اور کسی رہتی ہیں جس سے یہ نہ زمین کی نشانیوں کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ آسمان کے عجائب کی طرف نگاہ اٹھا سکتے ہیں۔ تو پھر انکو حق اور ہدایت کی دولت ملے تو کیسے اور کیونکر ؟۔ سو جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں، قدرت کی سنت اور دستور کے مطابق ان کی خواہشات اور ان کی عادات و تقالید کے پھندوں کو ان پر اس طرح مسلط کردیا جاتا ہے کہ وہ ان سے نکلنے ہی نہیں پاتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان مستکبرین کے حال و مآل کی تصویر و تمثیل پیش فرما دی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 36:911 منکرین محرومی کی دیواروں کے اندر ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے آگے اور ان کے پیچھے ان کی محرومی کی دیواریں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکے آگے بھی ایک دیوار کھڑی کردی ہے اور انکے پیچھے بھی ایک دیوار کھڑی کردی ہے "۔ یہ دوسری تمثیل ہے کہ جس طرح کسی شخص کے آگے پیچھے ہر طرف دیوار ہو اور اوپر سے بھی اس کو ڈھانک دیا جائے تو اس کے لئے راستہ دیکھنا اور معلوم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے۔ اور چاروں طرف کی یہ دیوار اور اوپر کی یہ چھت دراصل ان کی اپنی ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کی وہ غیر مرئی دیواریں ہیں جو انہوں نے اپنے اردگرد خود قائم کر رکھی ہیں۔ جس سے یہ حق سے محروم ہیں۔ تو ان کی یہ محرومی دراصل ان کے اپنے ہی اختیار کردہ کبر ونخوت کی وجہ سے ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور " ہم نے دیوار کھڑی کردی " کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا قانون و دستور اور ہماری سنت یہی ہے کہ جو کوئی اس طرح اپنے کبر و نخوت کی بنا پر حق سے منہ موڑتا ہے اس کو ہم اسی محرومی کے حوالے کردیتے ہیں اور اس کو اسی راہ پر چھوڑ دیتے ہیں جس کو اس نے خود اپنایا ہوتا ہے ۔ { نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ ایسوں کو ہدایت سے نوازنا نہ ہماری شان کے لائق ہے اور نہ ہی عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق ۔ { اَ نُلْزِمُکُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا کَارِہُوْن ؟ } ۔ ایسے مستکبروں کے بارے میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ اپنی پچھلی روایات اور اپنے مستقبل کے مطامع کے غلام ہوتے ہیں۔ اور یہ دونوں چیزیں ان کی راہ میں اس طرح روک بن جاتی ہیں کہ ان سے ہٹ کر وہ کوئی چیز دیکھنے سننے اور ماننے کے قابل ہی نہیں رہ جاتے۔ سو استکبار محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
12 اِعراض و استکبار کا نتیجہ محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -: سو اس اعراض و استکبار کے نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ انکو کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ کیونکہ جب آگے بھی دیوار ہے اور پیچھے بھی دیوار جس سے یہ لوگ نہ ماضی کے واقعات سے سبق لے سکتے ہیں نہ مستقبل کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ اور تکبرو نخوت کی وجہ سے انہوں نے اپنے سروں کو اونٹوں کی طرح اوپر اٹھا رکھا ہے اور تعصب وعناد اور ضد و ہٹ دھرمی کی کالی پٹیاں انہوں نے اپنی آنکھوں پر باندھ رکھی ہیں تو پھر حق و ہدایت کی روشنی ان کو نظر آئے تو کیسے اور کہاں سے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو معلوم ہوا کہ تکبر اور ہٹ دھرمی محرومی و بدنصیبی کی اساس اور جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیَاتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ } ۔ (الاعراف : 146) سو عناد و ہٹ دھرمی کے مارے ہوئے ایسے لوگ نہ ماضی اور مستقبل کی طرف نگاہ غور و فکر ڈالتے ہیں اور نہ ہی یہ اپنے آگے پیچھے پھیلی بکھری قدرت کی ان نشانیوں کو نگاہ عبرت و بصیرت سے دیکھ سکتے ہیں جو ہر وقت اپنی زبان حال سے دعوت غور و فکر دے رہی ہوتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ایسے معاند و مستکبر لوگ اندھے کے اندھے اور اوندھے کے اوندھے ہی رہ جاتے ہیں۔ ورنہ آسمان و زمین کی یہ ساری کائنات نشانہائے عبرت و بصیرت سے بھری پڑی ہے۔ مگر ایسے اندھوں اور اوندھوں کو کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ مِنَ السَّمَائِ وَالاَرْضِ } ۔ ( سباء :) یعنی کیا یہ لوگ آسمان اور زمین کی ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کرتے جو ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف پھیلی بکھری ہیں ؟
Ayah 36:1013 ہٹ دھرم نور حق و ہدایت سے محروم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہٹ دھرموں پر کلام حق و ہدایت کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ جب ایمان لانا چاہتے ہی نہیں تو پھر ایسے ہٹ دھرموں کو ایمان کی دولت نصیب ہو تو کیسے اور کیونکر ؟ کہ " میں نہ مانوں " (I never Agree) کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ ورنہ حضرت واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی طرف سے عطا و بخشش کے خزانے تو لگاتار تقسیم ہو رہے ہیں اور اس سَخّائُ اللّیل والنّہار کی لامتناہی عطا و بخشش میں کبھی پل بھر کے لئے بھی کوئی انقطاع نہیں ہوتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر واضح رہے کہ یہاں پر۔ { سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ } ۔ فرمایا گیا ہے " علیک " نہیں۔ یعنی یہ عدم نفع ان لوگوں کے اعتبار سے ہے۔ اور ان کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے آپ ﷺ کے لئے نہیں اے پیغمبر !۔ آپ ﷺ کے لئے تو بہرحال فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ایک تو اجر وثواب کے لحاظ سے اور دوسرا اس اعتبار سے کہ انہی لوگوں میں سے اچھے اور اہل خیر افراد بھی اسی تبلیغِ حق کے سبب سے ملتے رہیں گے۔ البتہ ان لوگوں کے حق میں اس انذار و تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں۔ انکو یہ تبلیغ تو صرف الزام اور قطع حجت کیلئے کی جا رہی ہے تاکہ یہ لوگ کل قیامت میں یوں نہ کہہ سکیں کہ انکو خبردار نہیں کیا گیا تھا۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور فساد و خرابی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:1114 خدائے رحمن کی شان رحمانیت کے تقاضے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ کا انذار تو انہی لوگوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے جو خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں "۔ پس جو خدائے رحمن کی بطش و گرفت سے ڈرے اور اس کی رضا کی طلب میں نصیحت کا محتاج ہو کر اس کی طلب و تلاش میں رہے تو اس کو یقینا آپ ﷺ کے انذار اور آپ ﷺ کی تبلیغ سے فائدہ پہنچے گا۔ سو خداوند قدوس ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کا خوف اور اس کی رضا و خوشنودی کی فکر و طلب اساس و بنیاد ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں دو اہم اور بنیادی حقائق کو واضح فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ جو لوگ صرف محسوسات کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں وہ غیبی حقائق اور آنے والے عذاب کو اس وقت تک ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے جب تک کہ وہ انکو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں۔ تو ان پر کسی وعظ و تذکیر کا کوئی اثر نہیں ہوتا کہ ایسے لوگوں کے قوائے فکر و ادراک سب کے سب کند اور ماؤف ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور یہ ایسے حیوان بن کر رہ جاتے جو عذاب کا کوڑا برسنے پر ہی مانتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری اہم حقیقت اس آیت کریمہ میں یہ واضح فرما دی گئی کہ خدائے رحمن کی رحمانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ کیونکہ اس کے رحمان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلہ و بدلہ دے اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دے۔ اور اسی کیلئے اس نے قیامت کا دن مقرر فرمایا ہے جہاں اس کے کمال رحمت و عدل کا ظہور ہوگا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے ۔ آمین۔
15 ایمان بالغیب رکھنے والوں کے لیے عظیم الشان بشارت و خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرنے والوں کو عظیم الشان بخشش اور اجر کریم کی خوشخبری سنا دو "۔ یعنی گناہوں کی معافی اور اس کے بعد جنت کی بےمثال و لازوال نعمتوں سے سرفرازی کی خوشخبری کہ یہ دونوں عظیم الشان نعمتیں نصیب ہوں گی ہر ایسے شخص کو جس نے اپنی زندگی خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہوئے گزاری ہوگی۔ اس سے بڑھ کر اجر کریم یعنی عزت والا اجرو ثواب اور کوئی ممکن نہیں ہوسکتا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو ایسے لوگوں سے جو معاصی وذنوب بشری تقاضوں کی بنا پر ان کی دنیاوی زندگی میں سرزد ہوگئے ہوں گے وہ ربِّ رحمن و رحیم انکے ایمان بالغیب اور خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرنے کے باعث اپنی رحمت و عنایت سے انکے ایسے تمام معاصی وذنوب کی بخشش فرما دے گا کہ وہ خدائے رحمن بڑا ہی مہربان، انتہائی بخشنے والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ اور انکو وہ جنت کی ان نعمتوں سے نوازے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی دل پر انکا گزر ہی ہوا ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ اللہ فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 36:1216 روز جزا اور اس کے تقاضوں کی تذکیر و یاددہانی : سو روز جزا جو کہ خدائے رحمن کی رحمانیت کا تقاضا ہے اس کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم یقینا مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ کہ انہوں نے آگے بھیجا اور انکے نشانات کو "۔ خواہ انکے وہ آثار و نشانات اچھے ہوں یا برے۔ آثار حسنہ کی مثال جیسے کوئی علم چھوڑا۔ یعنی کچھ لوگوں کو علم دین سکھا گیا۔ اللہ کے لئے کوئی علمی و دینی کتاب لکھ گیا یا کوئی مدرسہ قائم کر گیا۔ یا مسجد بنا گیا وغیرہ وغیرہ۔ اور آثار سیئہ جیسے برائی کا کوئی اڈہ قائم کر گیا۔ کچھ لوگوں کو غلط راہ پر ڈال گیا۔ کوئی گندہ لڑیچر چھوڑ گیا۔ کوئی بدعت نکال گیا یا دین میں کوئی تحریف کر گیا۔ یا کسی غلط اور باطل فرقے کی بنیاد ڈال گیا وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا کہ " جس کسی نے اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی نیکی کی بنا ڈالی اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور ہر اس شخص کے اجر کے برابر بھی جس نے اس کے بعد اس نیکی کو اپنایا۔ اور جس نے اسلام میں کوئی بری رسم ڈالی اس کو اس کا وبال بھی اٹھانا ہوگا اور آئندہ ہر اس شخص کے کئے کا وبال بھی جو اس کی راہ پر چلا بغیر اس کے کہ ان پیروکاروں کے اجر یا ان کے وبال میں کوئی کمی واقع ہو " ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس نیکی وہ معتبر ہے جو دین میں ثابت ہو۔ ورنہ وہ بدعت ہوگی۔ جو صحیح احادیث کی رو سے مردود ہے۔ اسی طرح مسجد کی طرف اٹھنے والے قدم بھی اس میں داخل ہیں۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ قبیلہ بنو سلمہ کے کچھ لوگوں کے مکانات مسجد نبوی سے دور تھے تو انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہا۔ تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا ۔ " بني سَلَمہ دِیَارُکُمْ تَکْتُبُ اٰثَارَکُمْ " ۔ یعنی " بنو سلمہ تم اپنے انہی گھروں میں رہو کہ تمہارے قدموں کے نشانات تمہارے نامہ ٔ اعمال میں لکھے جا رہے ہیں " ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
17 امام مبین کا معنیٰ و مفہوم اور اس سے مراد ؟ : سو اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔ یعنی ہمیں تو لکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو محض ضابطے کی ایک کاروائی کے طور پر ہے۔ ورنہ ہمارے علم ازلی کے اعتبار سے تو یہ سب کچھ پہلے ہی سے لوح محفوظ میں ثبت ہے ۔ " اللَّوح المحفوظ " ۔ (جامع البیان : ج 3 ص 194، معارف القرآن، مدارک التنزیل، محاسن التاویل اور تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد نامہ اعمال ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ لیکن اس کو تعبیر امام کے لفظ سے فرمایا گیا ہے جسکے اصل معنیٰ پیشوا، مقتدا، راہنما، لیڈر اور مرجع وغیرہ کے آتے ہیں۔ اور یہیں سے یہ لفظ اس کتاب کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جو سب کیلئے راہنما اور مرکز و مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ چناچہ سورة ہود کی آیت نمبر 17 اور سورة احقاف کی آیت نمبر 12 میں یہ لفظ تورات کے لیے بھی آیا ہے۔ اور یہاں یہ اس مرکزی کتاب کیلئے استعمال ہوا ہے جس میں ہر شخص کے اعمال درج ہوں گے اور جس کے مطابق ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ اور بدلہ پائے گا۔ سو اس سے مزید وضاحت فرما دی گئی کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ لوگوں کے اعمال و اَقوال کے ضبط و تحریر میں ہم نے کسی غفلت یا لاپرواہی سے کام لیا ہے۔ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ ہم نے انکا سب کیا کرایا ایک بڑے ہی واضح دفتر میں درج کر رکھا ہے جو وقت آنے پر ہر کسی کا کچا چٹھا سب اس کے سامنے رکھ دے گا اور ہر کسی نے اسی کے مطابق صلہ و بدلہ پانا ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 36:1318 اصحاب القریۃ ۔ بستی والوں ۔ سے مراد ؟ : عام طور پر مفسرین کرام نے اس بستی سے مراد انطاکیہ کی بستی لی ہے جو کہ شام میں واقع ہے۔ مگر علامہ ابن کثیر وغیرہ محققین کے نزدیک یہ بات بوجوہ درست نہیں۔ ایک تو اس لئے کہ انطاکیہ تو ان چند مراکز میں سے ایک تھا جہاں مسیحی کلیسا کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور عیسائیت کی دعوت پہنچتے ہی وہاں کی بھاری اکثریت نے اس پر لبیک کہا اور اس کو قبول کیا۔ جبکہ یہاں جس بستی کا ذکر ہو رہا ہے اس بارے میں صاف طور پر بتایا جارہا ہے کہ اس کے باشندوں نے کھلم کھلا اور صاف طور پر انکار و تکذیب سے کام لیا۔ دوسرے اس لئے کہ یہاں اس بستی کے باشندوں کا مکمل طور پر ہلاک و تباہ کر دئیے جانے کا ذکر ہے جبکہ حضرت ابو سعید خدری ؓ سورة قصص کی آیت نمبر 43 کے ذیل میں آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث نقل فرماتے ہیں کہ توراۃ کے نزول کے بعد کسی بھی بستی پر ایسا عام عذاب نازل نہیں ہوا جو اسے بالکل مٹا دے۔ سوائے اصحاب السبت کے۔ اور ظاہر ہے کہ اس بستی کا یہ قصہ نزول توراۃ کے کہیں بعد کا ہے کہ عام اور مشہور قول کے مطابق یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھی بعد پیش آیا۔ تیسرے اس لئے کہ اس قصہ کی بعض تفصیلات میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جبکہ اس علاقے کا بادشاہ انطیخش یا انتیوکس (Antichus) تھا۔ اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سلجوقی خاندان کے اس نام کے جن تیرہ بادشاہوں نے اس علاقے پر حکومت کی تھی ان کے آخری فرمانروا کی حکومت بلکہ پورے اس خاندان ہی کی حکومت 65 قبل مسیح میں ختم ہوگئی تھی۔ حضرت عیسیٰ کے زمانے میں تو انطاکیہ سمیت شام و فلسطین کا پورا علاقہ رومیوں کے زیر نگیں تھا۔ سو ان وجوہ کی بنا پر اس بستی سے انطاکیہ کی بستی مراد لینا درست نہیں۔ یہ کوئی اور بستی ہوگی جس کے باشندوں کو ان کے کفر و انکار کی بنا پر تباہ کردیا گیا۔ اور ممکن ہے کہ اس بستی کا نام بھی انطاکیہ ہوا ہو یا کچھ اور۔ اور جب اللہ پاک نے خود اس کی تصریح نہیں فرمائی کہ یہ بستی کونسی تھی اور اس کا کوئی نام ذکر نہیں فرمایا کہ مقصد تذکیر کے لئے اس کی ضرورت ہی نہیں تو پھر ہمیں بھی اس کی تعیین کے لئے خواہ مخواہ کھود کرید کرنے اور بلاوجہ زور لگانے کی ضرورت نہیں بلکہ ۔ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمُہُ القُرآن " ۔ کے اصول کے مطابق اس کو یونہی رہنے دینا چاہیئے ۔ وَالْعِلُمْ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَ تَعَالٰی ۔ اور قرآن حکیم کے علاوہ کسی صحیح حدیث میں بھی اس کی کوئی مبہم تصریح نہیں کہ یہ بستی کونسی تھی اور یہ رسول کون تھے ؟ اور ان کو کب اور کہاں بھیجا گیا تھا۔ کیونکہ تذکیر و تنبیہ کے جس خاص مقصد کیلئے اس قصہ کو یہاں بیان فرمایا جارہا ہے اس کے لئے ان میں سے کسی امر کی تعیین اور تصریح کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ کیونکہ یہ قصہ یہاں پر قریش کے ہٹ دھرم منکرین اور ان کے بعد ان کے نقش قدم پر چلنے والے تمام منکرین کو اس مقصد کیلئے سنایا جا رہا ہے کہ تم لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کی اسی راہ پر چل رہے ہو جس پر اس بستی کے یہ بدبخت لوگ چلے تھے۔ تو پھر تم اسی انجام اور اس بھگتان کو بھگتنے کیلئے تیار ہوجاؤ جو ان کو پیش آچکا ہے کہ اللہ پاک کا قانون عدل و انصاف بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس مقصد کیلئے مذکورہ بالا امور میں سے کسی کی بھی تعیین و تصریح کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو ایسی تصریح و تعیین اس مقصد کیخلاف جاسکتی ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں منکر لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ عذاب اور یہ انجام اس خاص بستی کیلئے اور ان خاص لوگوں کیلئے وہاں کے خاص حالات کی بنا پر تھا۔ لہذا ہمارے لئے ایسا کوئی خطرہ نہیں وغیرہ۔ البتہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس بستی سے مراد مصر ہے، جہاں پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو بھیجا گیا تھا۔ پھر ان کی تابید و تعزیر آل فرعون کے مرد مومن سے کرائی گئی۔ مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب ہی کی جسکے نتیجے میں بالآخر قوم فرعون پر وہ عذاب آیا جو ان کیلئے مقدر ہوچکا تھا اور جس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری اور دائمی انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ قول اگرچہ کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں لیکن قرائن اور قیاس کے اعتبار سے یہ درست معلوم ہوتا ہے اور دل کو لگتا ہے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اس بستی کا قصہ بطور مثال سنادو۔ تاکہ یہ اس سے عبرت پکڑیں اور اپنے ہولناک انجام سے بچ جائیں۔
19 رسولوں کی آمد ذریعہ ابتلاء و آزمائش : اسی لیے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو اس بستی کے باشندوں کی مثال سناؤ جبکہ آئے انکے پاس انکے رسول "۔ ان کی تذکیر و تنبیہ کیلئے۔ جن روایات میں ان رسولوں کو حضرت مسیح ۔ (علیہ السلام) ۔ کا فرستادہ قرار دیا گیا ہے وہ بھی درست معلوم نہیں ہوتیں۔ ایک تو اس لئے کہ اطلاق و عموم کے وقت رسول کے اس کلمے سے مراد اللہ پاک کا فرستادہ ہی لیا جاتا ہے نہ کہ کسی اور کا۔ دوسرے اس لئے کہ یہاں پر یہ تصریح فرمائی گئی ہے کہ ان کو ہم نے بھیجا ۔ { ارسلنا } ۔ تو پھر ان کو فرستادئہ مسیح قرار دینا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ تیسرے اس لئے کہ ان لوگوں نے آگے جو جواب ان حضرات کو دیا کہ " تم تو ہم ہی جیسے انسان ہو " تو یہ جواب اللہ پاک کے رسولوں ہی کو دیا جاسکتا ہے اور دیا گیا ہے۔ نہ کہ کسی اور کو۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے کئی مقامات پر صاف اور صریح طور پر موجود و مذکور ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ ان سے حضرت مسیح کے فرستادہ مراد لینا درست نہیں معلوم ہوتا کہ حضرت عیسیٰ صرف بنی اسرائیل کے رسول تھے۔ اس لیے غیر قوموں کو نہ انہوں نے کبھی خود دعوت دی اور نہ ہی کبھی انہوں نے غیر قوموں کے پاس اپنے شاگردوں کو بھیجا۔ بلکہ انہوں نے اپنے شاگردوں کو غیر قوموں کے پاس جانے سے روکا اور ان کا اپنا ارشاد ہے کہ " مجھے تو صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش کیلئے بھیجا گیا ہے " بہرکیف منکرین قریش کی عبرت پذیری کی غرض سے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے سامنے اس بستی کا حال سناؤ جب ان کی طرف ان کے رسولوں کی بعثت ہوئی جس سے وہ ابتلاء و آزمائش میں مبتلا ہو گیے۔ کیونکہ کسی قوم کے اندر رسولوں کی بعثت دراصل اس کے لیے خداوند قدوس کی عدالت ہوتی ہے۔ اور ان حضرات کی بعثت سے اس قوم کے لیے ابتلاء و آزمائش کا مرحلہ آجاتا ہے کہ وہ ان کی دعوت کو صدق دل سے اپنا کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوتی ہے یا ان کی تکذیب و انکار کی راہ کو اپنا کر اپنے لیے شقاوت و بدبختی کا سامان کرتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 36:14–1520 بشریت انبیاء منکروں کے لیے باعث انکار و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام کی بشریت طاہرہ منکروں اور بدبختوں کی محرومی کا باعث رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ ان منکروں نے پیغمبروں سے ان کی بشریت طاہرہ کی بنا پر کہا کہ " تم تو ہم ہی جیسے بشر۔ اور انسان ۔ ہو "۔ تو پھر تم رسول کیونکر ہوسکتے ہو اور تمہارے اندر آخر ایسی کون سی بات ہے کہ ہم تمہیں رسول مان لیں۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے بارے میں یہی غلط فہمی لوگوں کو ہمیشہ رہی اور اسی کی وجہ سے وہ حق سے محروم ہوئے۔ کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ لوگوں کا کہنا اور ماننا یہ تھا اور یہ ہے کہ نبوت و رسالت اور صفت بشریت دونوں چیزیں یکجا جمع نہیں ہوسکتیں۔ پس جو بشر ہوگا وہ رسول اور نبی نہیں ہوسکتا۔ اور جو رسول و نبی ہوگا وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے منکرین نبوت و رسالت نے حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی بشریت کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں جابجا ذکر فرمایا گیا ہے۔ بطور نمونہ مندرجہ ذیل آیات کریمہ ملاحظہ ہوں۔ بنی اسرائیل : نمبر 94 -95، الانبیائ : نمبر 3، 7، 8، المومنون : نمبر 24، 34، الفرقان : نمبر 7، 20 اور التغابن : نمبر 6 وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہ ہے۔ اور عقل سلیم اور نقل صحیح دونوں اس پر متفق ہیں کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ بیک وقت بشر اور انسان بھی ہوتے ہیں اور نبی و رسول بھی۔ اور ان کو ایسے ہی ہونا بھی چاہیئے تاکہ ان قدسی صفت حضرات کی پاکیزہ زندگیاں اور ان کی زندگی کا ہر عمل و کردار بندگان خدا کے لئے اسوئہ اور نمونہ بن سکے۔ چناچہ اسی بنا پر امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ۔ ﷺ ۔ کی نبوت و رسالت کا ماہ کامل اور شمس مشرق و منیر قیامت تک کی ساری مخلوق کے لئے ہدایت و رحمت کا منبع و سرچشمہ بن کر طلوع ہوا اور آپ ﷺ نے حوائج و ضروریات بشریہ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کے بارے میں اسوئہ حسنہ اور قدوئہ و نمونہ پیش فرمایا ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلامُہ عَلَیْہِ ۔ مگر اس سب کے باوجود بشریت انبیاء سے متعلق یہ غلط فہمی بہت سے لوگوں میں آج تک موجود ہے اور بہت سے کلمہ گو آج بھی اس کا شکار ہیں۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ کل کے منکروں نے حضرات انبیائے کرام کے صرف ظاہر اور ان کی بشریت طاہرہ کو دیکھا۔ اور اس بنا پر انہوں نے ان حضرات کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا اور کہا کہ چونکہ یہ بشر ہیں لہذا ہم ان کو نبی اور رسول نہیں مانتے۔ جبکہ آج کے ٹیڑھی سوچ کے انسان اور کلمہ گو مشرک کا کہنا اس کے برعکس یہ ہے کہ چونکہ ہم ان کو نبی و رسول مانتے ہیں۔ لہذا ان کو بشر نہیں مان سکتے۔ سو غلط فہمی دونوں کو بہرحال ایک ہی ہے کہ ان کے نزدیک نبوت اور بشریت کے ان دونوں وصفوں کے درمیان منافات ہے۔ اس لیے یہ دونوں یکجا نہیں ہوسکتے جبکہ عقل و نقل دونوں کا اتفاق اس پر ہے کہ یہ دونوں وصف نہ صرف یکجا ہوسکتے ہیں بلکہ بالفعل یکجا ہوتے ہیں۔ اور ان دونوں کو یکجا ہونا چاہیئے۔ ہر نبی و رسول کی شان یہی رہی ہے کہ وہ نبی و رسول بھی ہوتا ہے اور بشر و انسان بھی ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ اور اسی کا اقرار و اظہار ہر مومن کلمہ طیبہ میں " عبدہ و رسولہ " کے کلمات کریمہ سے کرتا ہے جو کہ ایمان و یقین کی اساس ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام اپنی اصل کے اعتبار سے بشر اور انسان ہوتے ہیں اور اپنی صفت کے اعتبار سے نبی و رسول ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayah 36:1621 رسولوں کا منکروں کو سیدھا اور صاف جواب : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ منکروں کے اس گستاخانہ اور بیہودہ و متکبرانہ قول کے جواب میں ان رسولوں نے کہا کہ " ہمارا رب خوب جانتا ہے کہ ہمیں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے "۔ پس تم لوگ اگر ہماری بات کو مان کر حق کو قبول کرو گے تو اپنا ہی بھلا کروگے اور اس کا صلہ وثمرہ بھی خود تم ہی کو ملے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ نہیں تو اس کا خسارہ و نقصان بھی تم ہی لوگوں کو بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف پیغمبروں نے منکروں کے سوال و اعتراض کے جواب میں اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انکو بتادیا کہ ہم تو بہرحال اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ ہمارا رب اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ تم لوگ مانو یا نہ مانو اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ اور ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم پیغام حق و ہدایت کو صاف طور پر پہنچا دیں۔ آگے اس کو منوانا اور قبول کرانا نہ ہمارے بس میں ہے اور نہ ہی یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ یہاں پر ان پیغمبروں کی للہیت، بےنفسی اور صدق و اخلاص کا یہ پہلو بھی واضح رہے کہ ان لوگوں نے ان کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ تم تو محض جھوٹ بولتے ہو۔ مگر اس کے جواب میں یہ حضرات نہ کسی غصے کا اظہار کرتے ہیں نہ کسی طرح کی اشتعال انگیزی کا۔ سو یہ ان کی للہیت ان کے صدق و اخلاص اور ان کی بےنفسی کا ایک کھلا ثبوت اور واضح نمونہ ہے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayahs 36:17–1822 منکرین کی ایک اور گستاخی کا ذکر : سو اس سے منکرین و معاندین کی ایک اور گستاخی اور بدتمیزی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرات انبیاء و رسل پر نحوست کا الزام لگایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان بستی والوں نے ان رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں منحوس پاتے ہیں "۔ کہ تمہاری وجہ سے ہم پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں آرہی ہیں۔ سو یہ بھی مشرکوں کا ہمیشہ کا اور مشترکہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنی مصیبتوں اور مشکلوں کو اپنے کفر و شرک کا نتیجہ سمجھنے کی بجائے حق والوں کی نحوست قرار دیتے رہتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة نساء آیت نمبر 78 اور سورة اعراف آیت نمبر 131 اور سورة نمل آیت نمبر 47 وغیرہ وغیرہ میں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم وَلَاحَوْلَ ولا قُوَّۃَ اِلّا بِہٖ سبحانہ وتعالی ۔ بہرکیف پیغمبروں کے انکار اور ان کی تکذیب و استہزاء کے باعث ان لوگوں پر تنبیہی نوعیت کے عذاب دستور خداوندی اور سنت الیہہ کے مطابق آئے تاکہ یہ لوگ ہوش کے ناخن لیں، سنبھل جائیں اور اپنی غلط اور تباہ کن روش سے باز آجائیں اور اس کی اصلاح کریں۔ مگر ان عذابوں سے سبق لینے اور باز آنے کی بجائے الٹا انہوں نے اس کو پیغمبروں کی نحوست قرار دیا اور صاف کہہ دیا کہ ہم تمہیں منحوس پاتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے کفر و انکار کی میل کو انہوں نے اور پکا کردیا۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے حق اور اہل حق سے منہ موڑنے، ان سے دشمنی رکھنے اور ان سے تکذیب و استہزاء کا معاملہ کرنے کا کہ اس سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ سیدھی بات کو بھی الٹا سمجھنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ بہرکیف اس سے آگہی بخشی گئی کہ ان بدبختوں نے رسولوں کی دعوت کو قبول کر کے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہونے اور راہ حق و ہدایت کو اپنانے کی بجائے الٹا ان کی شان میں گستاخی اور بدتمیزی کا ارتکاب کرتے ہوئے ان پر نحوست کا الزام لگایا اور ان کو سخت الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر تم لوگ باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے ایک سخت قسم کا دردناک عذاب پہنچ کر رہے گا۔ اور یہی حال ہوتا ہے ان لوگوں کا جن کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو یہنچنے والے ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:1923 آدمی کی نحوست خود اس کے اپنے عمل و کردار میں : سو اسی حقیت کو آشکارا کرتے ہوئے ان رسولوں نے ان لوگوں کے الزام اور ان کی دھمکی کے جواب میں ان سے کہا کہ " تمہاری نحوست تو خود تمہارے ساتھ ہے "۔ یعنی وہ کفر و شرک، ضد وعناد اور ہٹ دھرمی، جس کو تم نے اپنے گلے لگا رکھا ہے۔ اور اسی کے باعث تم مبتلائے عذاب ہو رہے ہو جبکہ اصل عذاب تو آخرت کا عذاب ہے جو کہ بڑا ہی سخت ہے ۔ { وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کی نحوست اور بدبختی کا تعلق خود اس کے اپنے باطن اور اس کے عمل و کردار سے ہوتا ہے نہ کہ خارج سے۔ اس لیے ایسے ہر موقع پر اصل ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اپنے ایمان و عقیدہ اور اپنے باطن کی اصلاح پر توجہ دے اور اپنی غلط روش کو تبدیل کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ لیکن جن لوگوں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کی بنا پر ان کی مت مار دی جاتی ہے، انکو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ اور وہ اس کی بجائے اس کا الزام دوسروں پر رکھتے ہیں۔ اور یہاں تک کہ وہ اسی بنا پر اہل حق کو مطعون کرتے ہیں اور اس طرح ایسے لوگ خسارہ در خسارہ میں مبتلا ہوتے اور ظلم بالائے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان رسولوں نے ان لوگوں کے الزام کے جواب میں فرمایا کہ " تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ ہے "۔ یعنی کفر و انکار اور تکذیبِ حق کی نحوست جس کو تم لوگوں نے خود گلے لگا رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:2024 رسولوں کی تایید کے لیے غیبی امداد کا ایک مظہر و نمونہ : سو اس موقع پر ان رسولوں کی تایید وتقویت کے لیے غیبی امداد کا ایک نمونہ و مظہر اس طرح سامنے آیا کہ ان کا ساتھ دینے کے لیے شہر کے اس دور کے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور دوڑتا ہوا آیا ایک شخص شہر کے اس کنارے سے "۔ روایات کے مطابق اس شخص کا نام حبیب نجار تھا جو پہلے ہی ایمان سے مشرف ہوچکا تھا۔ بڑا عابد و زاہد اور نیک و صالح انسان تھا۔ یہ شخص شہر کے دوسرے کونے پر اپنی عبادت میں مصروف تھا کہ اس کو ان پیغمبروں کے ساتھ اپنی قوم کی اس بدسلوکی کا علم ہوا تو اس سے رہا نہ گیا اور وہ دوڑتا ہوا وہاں پہنچا۔ اور جن لوگوں کے نزدیک اس بستی سے مراد مصر ہے، ان کے نزدیک اس رجل سے مراد آل فرعون سے تعلق رکھنے والا وہ مرد مومن ہے، جس نے انکے اندر سے اٹھ کر حضرت موسیٰ کے حق میں زوردار انداز سے کلمہ حق بلند کیا تھا۔ جس کی تفصیل سورة مومن میں مذکور ہے۔ بہرکیف اس بندئہ خدا نے اس موقع پر پہنچ کر ان رسولوں کے حق میں بڑے زوردار اور معقول و موثر انداز سے اپنی قوم سے خطاب کیا اور ان کو پیغمبروں پر ایمان لانے اور ان کا ساتھ دینے کے لیے کہا۔ اور ان کو اس کے لیے ترغیب دی اور ابھارا۔ اور اس طرح ان رسولوں کی تایید وتقویت کے لیے غیبی امداد کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 36:2125 اتباع حق کا تقاضا کرنے والی دو اہم بنیادیں : سو اس مرد مومن نے اپنی قوم سے کہا کہ " تم ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ خود ہیں بھی حق پر "۔ یعنی اول تو ان کا ہدایت پر ہونا ہی اس بات کا اصل اور بڑا مقتضیٰ ہے کہ ان حضرات کی بات کو مانا جائے اور صدق دل سے ان کی پیروی کی جائے۔ اور مزید یہ کہ ان کی اس میں کوئی ذاتی غرض بھی نہیں۔ یہ تم لوگوں سے کسی بھی قسم کا کوئی اجر اور بدلہ بھی نہیں مانگتے۔ تو پھر تمہیں ان کی پیروی کرنے میں آخر کیا عذر و تامل ہوسکتا ہے ؟ سو راہ حق و ہدایت پر قائم رہنا اور کوئی دنیاوی لالچ اور طمع نہ رکھنا دو ایسی اہم بنیادیں ہیں جو کسی کے اتباع کا بدیہی طور پر تقاضا کرتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس مرد مومن نے رسولوں کی اتباع اور پیروی کے حق میں اس موقع پر دو اہم دلیلیں پیش کیں۔ اول یہ کہ ان رسولوں کا اس دعوت کے ساتھ کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں بلکہ وہ ہر غرض سے بالاتر ہو کر محض خلق خدا کی بہتری و بھلائی اور ان کی ہدایت و راہنمائی کے لیے یہ سب دکھ جھیل رہے ہیں۔ اور دوسری دلیل یہ کہ وہ خود ہیں بھی حق پر اور ان کی دعوت عقل و نقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ سو ایسے میں ان کی دعوت سے اعراض برتنا اور منہ موڑنا بڑی شقاوت اور بدبختی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 36:2226 عبادت و بندگی خالق ہی کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالی : سو اس بندئہ مومن نے کہا کہ " میرے لیے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے "۔ سو اس سے اس داعی حق کے صدق و اخلاص کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ سو اخلاص و دردمندی ملاحظہ ہو کہ وہ بندئہ خدا خطاب ان لوگوں کو نہیں اپنے آپ کو کرتا ہے تاکہ وہ کہیں ضد میں آ کر حق کا انکار نہ کردیں۔ سو اس سے دعوت الی اللہ کا ایک اہم اور بڑا بنیادی اصول بھی ملتا ہے کہ طیش آمیز اور طنزیہ کلام و کام سے بچا جائے۔ نیز یہ کہ جب انسان کو پیدا اس وحدہ لاشریک نے کیا ہے تو عبادت و بندگی بھی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے کہ جب خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے تو معبود برحق بھی یقینا وہی ہے۔ اس لیے عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس میں کسی بھی اور ہستی کو شریک ماننا ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
27 سب کا رجوع بہرحال اللہ ہی کی طرف : سو اس بندئہ مومن نے ان لوگوں کو اس کے انجام کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ان سے کہا " اور تم سب کو لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے "۔ سو تم مانو یا نہ مانو، چاہو یا نہ چاہو، حقیقت بہرحال یہی ہے کہ تم سب نے آخر کار بہرحال لوٹ کر اسی کے پاس جانا اور اس کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ پھر کسی کو وہاں پر ہمیشہ کا آرام نصیب ہوگا اور اس کو وہ وہ نعمتیں ملیں گی جن کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ ہم سب کو انہی لوگوں میں سے کرے ۔ آمین۔ جبکہ اس کے برعکس دوسروں کو وہاں پر ہمیشہ کیلئے عذاب اور وہ عذاب بھگتنا ہوگا جس کو یہاں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ پس تم لوگ اپنے اس ابدی اور دائمی انجام کی فکر کرو۔ اور اس کا طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ اللہ کے رسولوں کی پیروی کی جائے کہ آخرت کا وہ جہاں کلیہ غیب کا جہاں ہے جسکے بارے میں جاننے کی کوئی صورت ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ کے ان رسولوں کی بات مانی جائے جن کے پاس غیب سے وحی آتی ہے۔ انہی کی پیروی کی جائے اور وہ جیسا کہیں ویسا ہی کیا جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ۔ { اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ } ۔ کے خطاب سے اس بندئہ مومن نے ان متکبر لوگوں کے قلوب و ضمائر پر ایک زوردار دستک دیتے ہوئے ان سے کہا کہ آج تم لوگ اپنے کبر و غرور کے نشے میں جس خدائے واحد اور معبود برحق کی عبادت و بندگی سے اس شد و مد اور زور و قوت کے ساتھ مجھے روکنے کی کوشش کر رہے ہو۔ ایک روز بہرحال تم سب کو اس کے حضور حاضر ہونا اور جواب دینا ہے۔ سو اب تم لوگ اپنے بارے میں خود سوچ کرو اور غور کرلو۔
Ayahs 36:23–2831 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب اور انکار کرنے والوں کیلئے عذاب الہی کا دستور ایک قطعی اور طے شدہ امر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اس ناہنجار قوم کو اس کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ہمیں کسی خاص اہتمام اور تیاری کی ضرورت نہ تھی کہ ان کے لئے آسمان سے فرشتوں کی کوئی جماعت نازل کرتے۔ اور نہ ہمیں ایسے کسی کام کے لئے فرشتے اتارنے کی ضرورت ہی ہوتی ہے۔ بدر میں جو فرشتے اتارے گئے تھے وہ بھی محض اہل ایمان کی تسلی وتبشیر اور اطمینان کے لئے تھے۔ ورنہ مدد تو وہاں بھی اللہ پاک ہی کی طرف سے تھی جیسا کہ اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ } ۔ ( آل عمران : 126) ۔ سو اس منکر اور کافر بستی کی خبر لینے کے لئے ایک ہی ایسی ہولناک آواز ان لوگوں پر بھیجی گئی جس سے یہ سب کے سب ہمیشہ کیلئے بجھ کر اور راکھ کا ڈھیر بن ہو کر رہ گئے اور اپنے آخری انجام کو پہنچ گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو منکر اور باغی و سرکش قوموں کو انکے آخری انجام سے ہمکنار کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کو آسمان سے کسی لشکر کو اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے اس کی ایک ڈانٹ اور جھڑکی ہی کافی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے عذاب سے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی اور فکرمند ہونے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کا عذاب کبھی بھی، کسی بھی شکل و صورت میں اور کسی بھی طرح آسکتا ہے۔ اور اس کے لشکروں کو اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی جان ہی نہیں سکتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے ۔ { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ الاَّ ہُوَ } ۔ ( المدثر : 18) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 36:29–3133 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس سے گزشتہ تاریخ اور ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے تاکہ اس سے اصلاح احوال کی توفیق مل سکے۔ بہرکیف اس ارشاد سے گزشتہ دور کی منکر قوموں کے انجام سے درس لینے اور عبرت حاصل کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ اس انجام سے یہ بھی دو چار ہوسکتے ہیں جو ان لوگوں کو پیش آ کر رہا۔ سو یہاں سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد کوئی اس جہاں میں واپس نہیں آسکتا۔ اس سے شیعوں کا عقیدئہ رجعیت اور اسی طرح کے دیگر اہل باطل کے ایسے من گھڑت عقائد کا بطلان ثابت ہوتا ہے۔ پس دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج ملی ہوئی ہے اس کی قدر و قیمت پہچان کر اس کو اللہ کی رضا و خوشنودی اور اپنی آخرت کی بہتری کے لئے صرف کرنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے گزشتہ منکر قوموں کے جرم اور انکے ہولناک انجام سے عبرت پکڑنے کا درس دیا گیا ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کے مذاق و استہزاء کا کھیل کھیلنے والی قومیں اس دنیا سے ایسی مٹیں کہ اب وہ کسی بھی صورت اس دنیا میں واپس نہیں آسکتیں۔ وہ اپنے ہولناک انجام سے دوچار ہو کر رہیں۔ اب ان سب کی حاضری ہمارے ہاں ہی ہونی ہے اور اب ہم ہی ان کا حساب کریں گے ۔ اللہ زیغ و ضلال کے ہر شائبہ سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔