36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 36:1–4

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ بیشک تم پیغمبروں میں سے ہو

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر

(1۔ 4) حضرت ابن عباس سورة یسین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب سریانی زبانی میں یہ ہے کہ اے انسان یا یہ کہ بطور تاکید کے یہ قسم ہے یعنی میں ایسے قرآن حکیم کی قسم کھا کر جو کہ حلال و حرام اور امر و نواہی کے بیان میں محکم ہے۔ کہتا ہوں کہ آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں اور پسندیدہ دین یعنی دین اسلام پر قائم ہیں۔
Ayahs 36:5–6

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا متنبہ کردو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

(5۔ 6) اور یہ قرآن حکیم خدائے زبردست و مہربان کا کلام ہے۔ تاکہ آپ اس قرآن حکیم کے ذریعے سے قریش کو ڈرائیں جن کے آباؤ اجداد آپ سے پہلے قریب کے کسی رسول کے ذریعے نہیں ڈرائے گئے سو اسی کی وجہ سے یہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائینگے

ان مکہ والوں میں سے اکثر پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ علم خداوندی کے مطابق ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ایمان لانے کا ارادہ ہی کریں گے چناچہ ایسا ہی ہوا اور بدر کے دن یہ ابو جہل وغیرہ سب حالت کفر میں مارے گئے۔ شان نزول : لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ (الخ) ابو نعیم نے دلائل میں حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم سجدہ میں اونچی آواز سے قرآن کریم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے جس سے بعض قریشیوں کو اذیت پہنچتی تھی۔ تاآنکہ وہ سب آپ کو پکڑنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے تو ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے جا ملے اور وہ اندھے ہوگئے کہ کچھ بھی نہ دیکھتے تھے چناچہ وہ سب رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عض کیا کہ اے محمد ہم آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر رحم کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ چناچہ آپ نے دعا فرمائی یہاں تک کہ ان سے یہ تکلیف دور ہوئی اس پر یس سے لیکر لا یومنون تک یہ آیات نازل ہوئیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لایا۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر الل رہے ہیں

ہم نے ان کی گردنوں میں لوہے کے طوق ڈال دیے ہیں، پھر وہ ان کی ٹھوڑیوں تک اڑ گئے ہیں جس سے ان کے سر اوپر ہی کو اٹھے رہ گئے۔
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنادی اور ان کے پیچھے بھی پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے

یا یہ کہ جب انہوں نے رسول اکرم کو پتھر مار کر حالت نماز میں تکلیف پہچانی چاہی تو ہم نے ان کی گردنوں کو ٹھوڑیوں تک کردیا اور یہ ہر ایک خیر و بھلائی سے محروم کے محروم رہ گئے اور ہم نے امور آخرت کے بارے میں ایک پردہ ان کے آگے ڈال دیا اور امور دنیا کے متعلق ایک پردہ ان کے پیچھے ڈال دیا اور ہم نے ان کے دلوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جس سے وہ حق و ہدایت کو نہیں دیکھ سکتے۔ یا یہ کہ جس وقت انہوں نے رسول اکرم کو حالت نماز میں پتھر سے تکلیف پہچانی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے ایک پردہ کی آڑ کردی کہ آپ کے اصحاب ان کو نظر نہ آئے غرض کہ ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا کہ نبی اکرم ان کو نظر ہی نہ آئیں کہ پھر یہ آپ کو تکلیف پہنچائیں۔ شان نزول : وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ (الخ) اور ابن جریر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو دیکھ لوں تو آپ کے ساتھ ایسا ایسا کروں اس پر اللہ تعالیٰ انا جعلنا فی اعناقھم سے لایبصرون تک یہ آیات نازل ہوئیں۔ چناچہ اس کے بعد کفار اس سے کہتے تھے کہ یہ محإد ہیں اور وہ کہتا تھا کہ کہاں ہیں اور آپ کو نہیں سکتا تھا۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے

سو بنی مخزوم یعنی ابوجہل وغیرہ کے حق میں آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں کام برابر ہیں یہ کسی بھی صورت میں ایمان لانے کا ارادہ نہیں کریں گے۔ چناچہ یہ بدر کے دن کفر ہی کی حالت میں مارے گئے۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو

اور انا جعلنا فی اعناقھم (الخ) سے یہاں تک ابوجہل اور ولید اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اور محمد آپ کا ڈرانا تو ایسے شخص کو فائدہ پہنچا سکتا ہے جو قرآن کی پیروی کرے اور اللہ کو بغیر دیکھے ہوئے اس کی فرمانبرداری کرے یعنی حضرت ابوبکر سو آپ ان کو ان کے دنیوی گناہوں کی مغفرت اور جنت میں عمدہ صلے کی خوشخبری سنا دیجیے۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) انکے نشان پیچھے رہ گئے ہم انکو قلمبند کرلیتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح) محفوظ میں لکھ رکھا ہے

اور ہم ایک روز مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم ان کے وہ اعمال بھی لکھتے جاتے ہیں جنہیں وہ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور ان کے چھوڑے ہوئے وہ اچھے اور برے طریقے جن پر ان چھوڑنے والوں کے مرنے کے بعد عمل کیا جاتا ہے اور ہم نے ان کے سب اعمال کو لوح محفوظ میں ضبط کردیا تھا۔ شان نزول : اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ (الخ) امام ترمذی نے تحسین کے ساتھ اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ بنی سلمہ مدینہ منورہ کے کنارے پر رہتے تھے انہوں نے مسجد میں منتقل ہونا چاہا اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی ہم ایک دن مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال بھی الخ۔ اس پر رسول اکرم نے فرمایا کہ تمہارے نشانات قدم لکھے جاتے ہیں اس لیے تم لوگ منتقل نہ ہو۔ امام طبرانی نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
Ayahs 36:13–14

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

(یعنی) جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں

(13۔ 14) اور آپ ان مکہ والوں سے انطاکیہ والوں کا ایک واقعہ بیان کردیجیئے کہ ہم نے ان کو کس طرح ہلاک کیا جبکہ ان کے پاس حضرت عیسیٰ کے بھیجے ہوئے رسول شمعون الصفار آئے ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور ان پر ایمان نہیں لائے اور اس سے پہلے ہم نے ان کے پاس دو رسولوں یعنی سمعان اور ثومان کو بھیجا تو اس بستی والوں نے ان دونوں جو جھٹلایا تو پھر ہم نے ان کے پاس شمعون کو بھیجا کہ انہوں نے پہلے دونوں رسولوں کی تبلیغ رسالت کی تصدیق کی۔
Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو

وہ کہنے لگے کہ تم تو ہماری طرح عام آدمی ہو اور اللہ نے نہ کتاب نازل کی ہے اور نہ کوئی رسول بھیجا ہے تم بالکل جھوٹ بولتے ہو۔
Ayahs 36:16–17

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس

(16۔ 17) وہ رسول کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار گواہ ہے کہ ہم رسول ہیں اور ہمارے ذمہ تو صرف احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک دیکھتے ہیں اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا

وہ لوگ رسولوں سے کہنے لگے کہ ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم اپنی تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں قتل کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے قتل کی سخت تکلیف پہنچے گی۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو

وہ رسول بولے کہ تمہاری سختی اور تمہارا منحوس سمجھنا یہ تو تمہارے افعال کے ساتھ ہی اللہ کی طرف وابستہ ہے کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تمہیں نصیحت کریں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرائیں بلکہ تم تو پورے مشرک ہو۔
Ayahs 36:20–21

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسوں کے لیے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے راستے پر ہیں

(20۔ 21) اور انبیاء کرام کی خبر سن کر اس شہر کے کسی دور مقام سے حبیب نجار مسلمان دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاکر ان رسولوں کی پیروی کرو۔ جو تم سے اس چیز پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ خود بھی موحد اور سیدھے راستے پر ہیں اس پر قوم نے ان سے کہا کہ تو نے ہم سے اور ہمارے دین سے بےزاری ظاہر کی اور ہمارے دشمن کے دین کو اختیار کرلیا ہے۔
Ayah 36:22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہے کہ اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

اس پر حبیب نجار کہنے لگے میرے پاس کون سا عذر ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور مرنے کے بعد تم سب کو اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔
Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں ؟ اگر خدا میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں

کیا میں اللہ کو چھوڑ کر تمہاری مرضی سے ان بتوں کو پوجنے لگوں جن کی حالت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے سخت عذاب دینا چاہیں تو عذاب الہی کے مقابلے میں ان کی سفارش میرے کچھ کام نہیں آسکتی اور نہ یہ جھوٹے معبود مجھے اس عذاب سے چھڑا سکتے ہیں۔
Ayah 36:24

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تب تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا

اور اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ میں ان کو پوجنا شروع کردوں تو میں تو کھلی گمراہی میں جاپڑا۔
Ayah 36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو

پھر ان سے حبیب نجار نے فرمایا کہ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا تم بھی میری بات مانو یا یہ کہ حبیب نجار نے رسولوں سے کہا کہ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا لہٰذا تم میری اس بات پر گواہ رہو اور میں اللہ کا بندہ ہوں۔
Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا بولا کاش میری قوم کو خبر ہو

اس پر ان کی مشرک قوم نے ان کو پکڑ لیا اور قتل کر کے سولی پر چڑھایا اور پیروں سے اس قدر روندا کہ آنتیں تک نکل پڑیں۔ چناچہ ان کے لیے جنت ثابت ہوگئی اور ان کی روح سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا چناچہ ان کی روح جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی کہنے لگی کاش میری قوم سمجھتی اور اس بات کی تصدیق کرتی۔
Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ خدا نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں کیا

کہ میرے پروردگار نے توحید کے باعث مجھے بخش دیا اور مجھھے جنت میں کلمہ لا الہ الا اللہ کی بدولت داخل کردیا۔
Ayah 36:28

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم اتارنے والے تھے ہی

اور جب ہم نے اس بستی والوں کو ہلاک کیا تو ہم نے اس شخص کی قوم پر ان کی شہادت کے بعد آسمان سے ان کی ہلاکت کے لیے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اتارنے کی ضرورت تھی یا یہ کہ ان کی شہادت کے بعد پھر ہم نے ان کے پاس اور کوئی رسول نہیں بھیجا۔
Ayah 36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشیں) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے

اور وہ سزا صرف ایک جبریل امین کی سخت آواز تھی کہ وہ سب اسی وقت اس سے بجھ کر رہ گئے۔
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں

قیامت کے دن ایسے لوگوں کے حال پر جو کہ ایمان نہیں لائے افسوس اور حسرت کا مقام ہوگا کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو اور ان لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو بھی شہید کر کے کنوئیں میں ڈال دیا تھا۔
Ayah 36:31

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

کیا کفار مکہ اس پر چیز پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ پھر وہ قیامت تک ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
Ayah 36:32

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے

اور یہ سب قرن اور بستیوں والے حساب کے لیے ہمارے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
Ayah 36:33

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کیلئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایا پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں

اور نشانیوں کے طور پر ان مکہ والوں کے لیے ایک نشانی مردہ زمین ہے کہ ہم نے اسے بارش سے زندہ کیا اور اس سے ہر قسموں کے غلے نکالے۔
Ayah 36:34

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس میں چشمے جاری کر دئیے

اور نیز ہم نے اس زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس زمین میں نہریں جاری کیں۔
Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

تاکہ لوگ کھجوروں کے پھل کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں اگایا یا یہ کہ ان درختوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں لگایا پھر یہ لوگ اس ذات پر جس نے ان کے ساتھ احسانات کیے ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے

وہ پاک ذات ہے جس نے تمام مقابل قسموں کو پیدا کیا زمین میں سے بھی شیریں اور تلخ اور خود ان میں سے بھی مرد و عورت اور تری و خشکی چیزوں میں سے بھی مقابل بنائیں۔
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے

اور ان مکہ والوں کے استدلال کے لیے ایک نشانی اندھیری رات ہے اس رات پر ہم دن کو اتار لیتے ہیں تو وہ لوگ رات کی تاریکی میں رہ جاتے ہیں۔
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چلتا رہتا ہے (یہ) خدائے غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے

اور سورج بھی اپنی منزلوں میں چلتا رہتا ہے یا یہ کہ رات اور دن چلتے رہتے ہیں کوئی ان کے ٹھہرنے کی جگہ نہیں یہ اس ذات کی طرف سے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے جو کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنی مخلوق اور ان کی تدابیر سے واقف ہے۔
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے

اور سورج کی طرح ہم نے چاند کے لیے منازل مقرر کیں کہ وہ گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے حتی کہ سال کے آخر میں کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح خمد اور پتلا رہ جاتا ہے۔
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

نہ آفتاب کی مجال ہے کہ وہ چاند کے طلوع ہونے کے وقت طلوع کرے کہ جس سے چاند کی روشنی کو محو کردے اور اسی طرح نہ رات دن کے مقررہ وقت ختم ہونے سے پہلے آسکتی ہے کہ آکر اس کی روشنی ختم کردے۔ چاند و سورج اور ستارے ہر ایک اپنے اپنے دائرہ میں تیر رہے ہیں۔