36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 36:1–5

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن حکیم کی

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بلاشبہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستہ پر ہیں۔

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

قرآن ایسی ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو زبردست ہے رحم والا ہے۔

1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے محمد ﷺ کی ذات اقدس اور دوسرے لفظ میں یوں ہے : یامحمد (اے محمد ﷺ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں محمد بن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے یا محمد (اے محمد ﷺ 3:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اے انسان۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن عکرمہ اور ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اسے انسان حبشی زبان میں۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے اشہب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مالک بن انس ؓ سے پوچھا کیا کسی کو یہ لائق ہے کہ وہ یسین نام رکھے ؟ تو انہوں نے فرمایا میں اسے مناسب نہیں سمجھتا اس کو چاہئے کہ اللہ کے اس قول (آیت) ” یس ٓ (1) والقرآن الحکیم “ (کو دیکھے) کہ فرماتے ہیں کہ میرا نام ہے اور اس کے ساتھ میں نے اپنا نام رکھا۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یس ٓ (1) والقرآن الحکیم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ قسم اٹھاتے ہیں جس چیز کے ساتھ چاہتے ہیں پھر اس آیت نے استدلال کیا (یعنی) (آیت) ” سلام علی ال یاسین “ (الصافات آیت 120) (یعنی آل یاسین پر سلام ہو) ان کی رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر سلام بھیجا ہے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یس ٓ (1) والقرآن الحکیم “ سے مراد ہے کہ وہ قسم کھاتے ہیں ہزار جہانوں کے ساتھ (آیت) ” انک لمن المرسلین “ (بلاشبہ آپ بھیجے ہوؤں میں سے ہیں) 9:۔ ابن مردویہ نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ یہ قسم ہے اس کے ذریعہ تیرا رب قسم کھاتا ہے اور فرماتا ہے ” یامحمد انک لمن المرسلین “ (اے محمد ! بلاشبہ آپ بھیجے ہوؤں میں سے ہیں) تو میری مخلوق کے دو ہزار سال پیدا کرنے سے پہلے بھی مرسلین میں سے تھا۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یس ٓ (1) والقرآن الحکیم، (2) انک لمن المرسلین (3) سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے جیسے کہ تم سنتے ہو کہ وہ (آیت) ” انک لمن المرسلین “ (البتہ بھیجے ہوؤں میں سے سیدھے راستے میں ہیں) صراط مستقیم سے مراد ہے (آیت) ” تنزیل العزیز الرحیم “ (وہ نازل کیا ہوا ہے عزیز ورحیم کی طرف) یعنی یہ قرآن (آیت) ” لتنذر قوما ما انذر آباء ھم “ (تاکہ آپ ایسی قوم کو ڈرائیے کہ جن کے والدین کو نہیں ڈرایا گیا) فرمایا کہ اس سے مراد قریش ہیں کہ عرب کے پاس محمد ﷺ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا نہ ان کے پاس اور نہ ان کے آباؤ اجداد کے پاس آپ سے پہلے کوئی رسول آیا۔
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادوں کو نہیں ڈرایا گیا سو وہ غافل ہیں

11:۔ ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتنذر قوما ما انذرابآؤھم “ کے بارے میں فرمایا کہ (آیت) ” لتنذر قوما ماانذر ابآؤھم “ سے مراد ہے کہ ان سے پہلے لوگوں کو نہیں ڈرایا گیا اور ان کے بعض نے کہا (آیت) ” لتنذر قوما ما انذرابآؤھم “ یعنی یہ امت کہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا یہاں تک کہ محمد ﷺ ان کے پاس تشریف لے آئے۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

البتہ یہ بات واقعی ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہ لائیں گے

12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد حق القول علی اکثرھم “ البتہ تحقیق کہ ان میں سے اکثر لوگوں میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے یعنی ان کے علم میں پہلے سے بات تھی۔ 13:۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ مسجد میں قرآن پڑھتے تھے اور زور سے قرأۃ فرما رہے تھے یہاں تک کہ قریش کے بعض لوگوں کو بڑی تکلیف ہوئی یہاں تک کہ وہ کھڑے ہوئے تاکہ آپ کو پکڑ لیں تو ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے جکڑے گئے اور ان کو دکھائی بھی نہیں دیتا تھا وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا ہم آپ کو اللہ کی اور رشتہ داری کی قسم دیتے ہیں۔ قریش کے خاندان میں سے کوئی خاندان ایسا نہیں تھا جس میں نبی اکرم ﷺ کی رشتہ داری نہ تھی۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی تو ان کو یہ تکلیف دور ہوگئی اس پر یہ (آیت) ” یس ٓ (1) والقرآن الحکیم “ تا ام لم تنذر ھم لا یؤمنون “ نازل ہوئی اور ان لوگوں میں سے ایک بھی ایمان نہ لایا۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں، سو وہ اوپر ہی کو رہ گئے ہیں۔

14:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو جہل نے کہا اگر میں محمد ﷺ کو دیکھ لوں تو میں البتہ ضرور ایسا کروں گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” انا جعلنا فی اعناقھم اغللا “ (کہ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے) سے لے کر ” لا یبصرون “ تک (کہ وہ نہیں دیکھیں گے) اور لوگ کہتے تھے کہ یہ محمد ﷺ ہیں اور وہ کہتا ہے وہ کہاں ہیں، وہ کہاں ہیں کہ وہ ان کو نہ دیکھ سکیں۔ 17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” اغللا “ سے مراد ہے طوق پہننے سے لے کر تھوڑی تک (آیت) ” فھم مقمحون “ (تو ان کے سراوپر کو اٹھے ہوں گے) جیسے جانور کا سرلگام (کے کھینچنے) سے اوپر کو اٹھ جاتا ہے۔ 18:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انا جعلنا فی اعناقھم اغللا “ پڑھا۔ 19:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مقمحون “ سے مراد ہے کہ ان کے ہاتھ ان کی گردنوں کے ساتھ جکڑے ہوئے ہیں تھوڑی کے نیچے۔ 20:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” مقمحون “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ ” المقمح “ سے مراد ہے اپنی ناک کو اونچا کرنے والا (اور) اپنے سر کو جھکانے والابغیر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔ ونحن علی جو انبھا قعود لغض الطرف کالابل القماح : ترجمہ : اور ہم اس کے اطرف میں بیٹھے ہوئے ہیں، اور ہم نظر کو اس طرح جھکائے ہوئے ہیں جیسے وہ اونٹ جو سر کو جھکائے ہوئے ہو۔ 21:۔ الخرائطی نے مساوی الاخلاق میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا فی اعناقھم اغللا “ سے مراد ہے نحل کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہاتھوں کو روک دیا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے (آیت) ” الی الاذقان فھم مقمحون “ (پس وہ نہیں دیکھتے ہیں) 22:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا فی اعناقھم اغللا “ کے بارے میں روایت کیا کہ بعض قرأت میں یوں ہے : (آیت) ” انا جعلنا فی اعناقھم اغللافھی الی الاذقان فھم مقمحون “ (اور ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وہ تھوڑی تک اڑ گئے ہیں سو ان کے سر اوپر کو اچکے ہوئے ہیں) یعنی ہر بھلائی سے ان کو روک دیا گیا۔ 23:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھم مقمحون “ کہ وہ اپنے سروں کو اٹھاتے ہوئے اور ان کے ہاتھ ان کے منہ پر باندھے ہوئے ہیں۔ 24:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے پڑھا (آیت) ” وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفہم سدا “ (اور ہم نے ان کے آگے اور ان کے پیچھے آڑ لگا دی) ” سدا “ سین کے رفع کے ساتھ پڑھا (آیت) ” فاغشینہم “ (کہ ہم نے ان کو ڈھانک دیا) یعنی عین کے ساتھ پڑھا۔ قتل کی سازش کرنے والوں کی ناکامی : 25:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش رسول اللہ ﷺ کے دروازہ پر جمے ہوئے اور سب آپ کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگے تاکہ وہ لوگوان کو تکلیف پہنچائیں آپ پے یہ معاملہ بہت بھاری گزرا جبرائیل (علیہ السلام) سورة یسین لے کر آئے اور آپ کو ان کی طرف نکلنے کا حکم فرمایا آپ نے مٹی سے ایک مٹھی بھری اور آپ اس سجدہ کو پڑھتے ہوئے نکلے اور ان کے سروں پر ڈال رہے تھے ان لوگوں نے آپ کو نہیں دیکھا اور آپ ان کے پاس سے گزر گئے ان میں سے جو بھی اپنے سرکو ہاتھ لگاتا تو مٹی کو پاتا کوئی آدمی ان کے پاس آیا اور کہا تم لوگ کس لئے بیٹھے ہو کہنے لگے ہم محمد ﷺ کا انتظار کررہے ہیں، اس نے کہا میں نے اس کو مسجد حرام میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کھڑے ہوجاؤ کہ تم پر جادو کردیا گیا۔ 26:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قریش جمع ہوئے اور انہوں نے عتبہ بن ربیعہ کو بھیجا اور کہا کہ اس آدمی (یعنی محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو تیری قوم کہتی ہے تو بڑی مصیبت لایا ہے کہ اس (دین) پر ہمارے آباؤ اجداد نہیں اور اس پر ہمارے عقلمند لوگ تیری اتباع نہیں کرتے اور تو نے جو یہ کام اس لئے کیا ہے کیونکہ تیری غرض چھپی ہوئی ہے اگر تو مال کا ارادہ رکھتا ہے تو تیری قوم عنقریب تیرے لئے جمع کردیے گی اور تجھ کو دیدے گی (لہذا) تو چھوڑ دے (اس دین کو) جس کا تو ارادہ رکھتا ہے اور تو لازم پکڑ اس دین کو جس پر تیرے ماں باپ تھے عتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے وہ باتیں کیں جو قریش نے حکم کیا تھا جب وہ اپنی بات سے فارغ ہوکرخاموش ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم، حم ٓ (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) ۔ (فصلت آیت 2) اس پر سورة کے اول سے پڑھا (پھر) یہاں تک کہ (آیت) ” فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود (اگر وہ اعراض کریں تو فرما دیجئے کہ میں تم کو اس کی بجلی کی کڑک سے ڈراتا ہوں جیسے عاد اور ثمود کی کڑک تھی) عتبہ لوٹ آیا، اور تمام واقعہ بیان کیا اور کہا مجھ سے انہوں نے ایسا کلام کیا ہے کہ نہ تو وہ شعر ہے اور جادو اور وہ عجیب کلام ہے اور نہ وہ لوگوں کا کلام ہے، تو وہ سب لوگ اس پر جھپٹ پڑے اور کہنے لگے کہ ہم ان کی طرف اکٹھے ہو کر جاتے ہیں جب انہوں نے اس کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے سامنے آگئے تو آپ (خود ہی) ان کے پاس تشریف لے گئے یہاں تک کہ آپ ان کے سروں پر کھڑے ہوگئے (یعنی ان کے سامنے کھڑے ہوگئے) اور پڑھا (آیت) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم، یس ٓ (1) والقران الحکیم (2) ، ، اور یہاں تک کہ پہنچے (آیت) ” انا جعلنا فی اعناقھم اغللا “ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کیساتھ جکڑا اور ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے رکاوٹ پیدا کردی آپ نے مٹی لی اور ان کے سروں پر پھینک دی پھر آپ ان کے پاس چلے گئے اور ان کو کبھی بھی پتہ نہ چلا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا وہ تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے ہم نے کبھی کسی کو اس سے زیادہ جادوگر نہیں دیکھا تو دیکھ لو کہ اس نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔ 27:۔ ابن بی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا کہ ان پر حملہ کردیں۔ وہ لوگ آئے اور اس کام کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” من بین ایدیھم سدا “ یعنی ان کے آگے اندھیرا کردیا (آیت) ” سدا ومن خلفھم “ اور اس کے پیچھے بھی اندھیرا کردیا (آیت) ” فاغشینہم فھم لا یبصرون “ سو ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب وہ نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھتے۔ منجانب اللہ حفاظت کا انتظام : 28:۔ عبدالرزاق (رح) وعبدبن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ قریش میں سے بعض مشرک لوگ بعض سے یہ کہتے تھے کہ اگر میں نے محمد ﷺ کو دیکھ لیا تو میں ان کے ساتھ اس طرح اور اس طرح کروں گا۔ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور وہ لوگ ایک مسجد میں ایک حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ ان کے پاس سے کھڑے ہوگئے اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” یس ٓ (1) والقرآن الحکیم (2) سے لے کر (آیت) ” لا یبصرون “ تک پھر آپ نے مٹی لی اور ان کے سروں پر ڈالنے لگے کسی آدمی نے اپنی نظر کو ان کی طرف نہیں اٹھایا اور نہ کوئی بات کی پھر نبی کریم ﷺ آگے بڑھ گئے اور انہوں نے اپنے سروں اور اپنی داڑھیوں سے مٹی جھاڑنا شروع کی (اور کہنے لگے) اللہ کی قسم ! نہ ہم نے سنا اللہ کی قسم نہ ہم نے دیکھا اللہ قسم نہ ہم نے سمجھا۔ 29:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا “ ( اور ہم نے ان کے آگے پیچھے آڑ بنا دی۔ یعنی ہم نے حق کو قبول کرنے سے ان کو روک دیا (آیت) ” فھم یترددون “ (یعنی وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں) (آیت) ” فاغشینہم فھم لا یبصرون “ اور ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب وہ ہدایت کو نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے نفع حاصل کرسکتے ہیں۔ 30:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ابن زید (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس آڑ کو ان کے اور اسلام اور ایمان کے درمیان رکاوٹ بنا دیا گیا (اب) وہ لوگ اس کی طرف نہیں پہنچ سکتے۔ اور یہ آیت پڑھی۔ (آیت) ” وسوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذر ھم لا یؤمنون “ (اور برابر ہے ان پر کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، ایمان نہیں لائیں گے) یعنی اللہ تعالیٰ کے روک دینے کی وجہ سے وہ ایمان لانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ 31:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابراھیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا “ یعنی سین کے نصب کے ساتھ۔ 32:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” فاغشینہم “ 33:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما تنذر من التبع الذکر “ (پس آپ کو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر چلے) اتباع الذکر سے مراد ہے اتباع القرآن (یعنی جو قرآن کی تابعداری کرے) (آیت) ” وخشی الرحمن بالغیب “ (اور رحمن سے بن دیکھے ڈرے) یعنی اللہ کے عذاب اور اس کی آگ سے ڈرتے (آیت) ” فبشرہ بمغفرۃ واجر کریم “ سو آپ اس کی مغفرت اور عمدہ ثواب کی خوشخبری دے دیجئے یعنی جنت کی
Ayahs 36:9–11

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے آڑ بنادی اور ان کے پیچھے آڑ بنا دی سو ہم نے ان کو گھیر دیا لہذا وہ نہیں دیکھ سکتے

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کے حق میں بات برابر ہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈارئیں ایمان نہیں لائیں گے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

آپ اسی شخص کو ڈراسکتے ہیں جو نصیحت کا اتباع کرے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرے، سو آپ اسے مغفرت کی اور اجر کریم کی خوشخبری سنا دیجئے۔

رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش : 15:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں السدی الصغیر کے طریق سے الکلبی سے اور انہوں نے ابی صالح سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا من بین ایدیھم سدا “ (اور ہم نے ان کے آگے ایک آڑ کردی) یعنی کفار قریش اور سدا سے مراد ہے پردہ (آیت) ” فاغشینہم “ یعنی ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا (آیت) ” فھم لا یبصرون “ (اب وہ نہیں دیکھتے ہیں) یعنی نبی کریم ﷺ کو کہ وہ ان کو تکلیف پہنچا سکیں اور یہ اس وجہ سے کہ قبیلہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں باہم متفق ہوئے کہ نبی کریم ﷺ کو قتل کردیں ان میں ابوجہل اور ولید بن مغیرہ بھی تھے اسی اثناء میں کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اور وہ لوگ آپ کی قرأت کو سن رہے تھے، تو ان لوگوں نے ولید کو بھیجا تاکہ وہ ان کی طرف لوٹ آیا اور ان کو اس بارے میں بتایا کہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں آپ نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے آپ کی قرأت کو سنا وہ اس آواز کی طرف جاتے تو آواز کو اپنے پیچھے سنتے پڑھ واپس لوٹ گئے اور آپ کی طرف پہنچنے کا کوئی راستہ نہ پایا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا فاغشینہم (کہ ہم نے انکے آگے اور ان کے پیچھے آڑ لگا دی) 16:۔ ابن اسحاق وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابو نعیم نے دلائل میں محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ قریش نبی کریم ﷺ کے دروازے پر جمع ہوئے ان میں ابوجہل بھی تھا اور انہوں نے آپ کے دروازے پر کہا کہ محمد ﷺ گماں کرتے ہیں کہ تم ان کے دین پر بیعت کرلو تو تم عرب اور عجم کے بادشاہ بن جاؤ گے اور تم اپنی موت کے بعد اٹھائے جاؤ گے اور تمہارے لئے آگ بنائی گئی ہے کہ جس میں تم جلائے جاؤ گے، رسول اللہ ﷺ باہر نکلے اور ہاتھ میں مٹی سے ایک مٹھی بھری فرمایا ہاں، میں یہ بات کہتا ہوں اور تو ان (آگ والوں) میں سے ایک ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو وہ آپ کو نہ دیکھ سکے، نبی اکرم ﷺ ان کے سروں میں مٹی ڈالنے لگے تو وہ آپ کو نہ دیکھ سکے، اور آپ ان آیات کی تلاوت کررہے تھے (آیت) ” یس ٓ (1) والقرآن الحکیم، (2) سے لے کر (آیت) ” فاغشینہم فھم لا یبصرون “ تک یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ان آیات سے فارغ ہوئے کوئی آدمی باقی نہیں رہا جس کے سر پر مٹی نہ ہو ہر آدمی نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کے سر پر مٹی تھی تو کہنے لگے اس نے سچ کر دکھایا جس نے ہم کو بیان کیا۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ان لوگوں نے جو آگے بھیجا اسے اور ان کے نشانوں کو لکھ لیتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے ایک واضح کتاب میں پوری طرح لکھ دیا

1:۔ عبدالرزاق (رح) والترمذی (وحسنہ) والبزار وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ و بیہقی نے شعب الایمان میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ بنوسلمہ ؓ سے مدینہ کی ایک جانب میں رہتے تھے انہوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” انا نحن نحی الموتی ونکتب ما قدموا واثارھم “ (بلاشبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال جن کو لوگ آگے پیچھے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلایا اور فرمایا وہ تمہارے آثار لکھتا ہے۔ پھر ان پر یہ آیت پڑھی تو انہوں نے (ارادہ) ترک کردیا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا نحن نحی الموتی ونکتب ما قدموا واثارھم “ میں آثار سے مراد قدم ہیں (یعنی ہم ان کے قدموں کے نشانات دیکھتے ہیں) 3:۔ الفریابی واحمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن ماجہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی وابن مردویہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انصار کے گھر سے دور تھے تو انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو یہ (آیت) ” ونکتب ما قدموا واثارھم “ (اور ہم ان کے قدموں کے نشانات لکھتے ہیں) تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں گے۔ 4:۔ مسلم وابن جریر (رح) وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنے گھروں کو بیچ دیں اور مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اے بنوسلمہ ! کہ تمہارے گھر (وہیں ٹھیک ہیں) تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنے گھروں کو بیچ دیں اور مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے یہ بات ناپسند کی کہ مدینہ منورہ کا اردگرد آبادیوں سے خالی ہوجائے آپ نے فرمایا اے بنو سلمہ ! کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ مسجد کی طرف تمہارے (آنے جانے والے) قدموں کو لکھا جائے ؟ عرض کیا : کیوں نہیں فرمایا اپنے گھروں ہی میں ٹھہرے رہو۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونکتب ما قدموا واثارھم “ (اور ہم لکھ دیتے) ہیں وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں) یعنی یہ آیت جمعہ کے دن (جمعہ نماز کی طرف) قدم اٹھانے کے بارے میں ہے۔ پیدل مسجد میں آنے کی فضیلت : 7:۔ ابن ابی شیبہ واحمد، وعبد بن حمید (رح) علیہ، مسلم وابن داؤد وابن ماجہ وابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی تھا مدینہ میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتا ہو اور اس آدمی سے زیادہ مسجد سے دور رہتا ہو اور وہ نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتا اس سے کیا گیا کاش تو ایک گدھا خرید لیتا اور اس پر سوار ہو کر نماز پڑھتا سخت گراں میں اور تاریکی میں اس نے اللہ کی قسم مجھ کو یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میرا گھر مسجد سے ملا ہوا ہو رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی خبر دی گئی تو آپ نے اس بارے میں اس سے پوچھا اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ تاکہ میرے قدم کے نشانات اور اپنے اہل و عیال کی طرف میرا لوٹنا اور میرا آنا اور میرا واپس جانا لکھا جائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے یہ سب کچھ عطا فرما دیا ہے۔ اور جو نیت تو نے کی ہے اللہ تعالیٰ تم کو وہ بھی عطا فرمائے گا۔ 8:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے کسی آدمی کی طرف تو اسی کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اس سے ایک برائی مٹا دی جاتی ہے۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ جو آدمی کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجد سے جتنا آدمی دور ہوتا ہے اس کا اجر اتنا زیادہ ہوتا ہے۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” ونکتب ما قدموا “ (اور ہم لکھ دیتے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجے) اس میں ” قدموا “ سے مراد ہے ان کے اعمال اور (آیت) ” واثارھم “ سے مراد ہے ان کے پاؤں سے چلنے کے قدم۔ 12:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر (اللہ تعالیٰ ) ابن آدم کسی اثر سے غافل ہوتا تو اس اثر کو چھوڑ دیتا جو ہوائیں مٹا دیتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ابن آدم کے ہر قدم اور اس کے ہر عمل کو شمار فرمادیتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس قدم کو شمار فرماتے ہیں جو اس کی اطاعت میں ہو یا اس کی نافرمانی میں ہو جو شخص تم میں سے اس بات کی طاقت رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اس کے قدم کے نشان لکھ جائیں تو اس کو چاہئے کہ ایسا کرے۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت) ” ونکتب ما قدموا واثارھم “ کے بارے میں روایت کیا جنہوں نے کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اور ان پر عمل ہوتا رہا ان کی موت کے بعد بھی (تو اللہ تعالیٰ ان سب کے اعمال کو شمار فرماتے ہیں۔ ) 14:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونکتب ما قدموا “ سے مراد ہے کہ جو انہوں نے خیر کے کام آگے پیچھے (آیت) ” وآثارھم “ یعنی جو انہوں نے پیچھے چھوڑا گمراہی میں سے۔ 15:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے جریر بن عبداللہ بجلی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے (اسلام میں) کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اسے اس عمل کا اجر ملے گا اور اس کا اجر ملے گا جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا جبکہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہ کی جائے گی اور جس نے کوئی بڑا طریقہ ایجاد کیا تو اس کا گناہ بھی ہوگا جو اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کے عمل گناہوں میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” انا نحن نحی الموتی ونکتب ما قدموا واثارھم “ 16:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن الضریس نے فضائل القرآن میں وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل شیء احصینہ فی امام مبین “ (اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں لکھ دیا ہے) میں امام مبین سے مراد ام الکتاب ہے۔ 17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل شیء احصینہ فی امام مبین “ یعنی ہر چیز کتاب میں سے اللہ کے پاس محفوظ ہے یعنی کتاب میں۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابراھیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل شیء احصینہ فی امام مبین “ میں امام مبین سے مراد ہے کتاب۔
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور آپ ان کے سامنے بستی والوں کا قصہ بیان کیجئے جبکہ ان کے پاس رسول آئے

1:۔ الفریابی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ “ (اور آپ ان کے لئے ایک بستی والوں کا قصہ بیان کیجئے) من القریہ سے مراد انطاکیہ ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب القریۃ “ میں قریہ سے مراد انطاکیہ ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ جآء ھا المرسلون “ (بستی والے جب ان کے پاس بھیجے ہوئے آئے) (اس میں) القریہ سے مراد انطاکیہ ہے۔ ؛ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب القریۃ، اذ جآء ھا المرسلون “ کے بارے میں ہم کو بتایا گیا کہ وہ بستی روم کی بستیوں میں سے تھی جس کی طرف عیسیٰ (علیہ السلام) نے دو آدمیوں کو بھیجا تھا مگر انہوں نے ان دونوں کو جھٹلادیا۔
Ayahs 36:14–17

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جبکہ ہم نے ان کے پاس دو پیامبروں کو بھیجا سو انہوں نے انہیں جھٹلایا دیا پھر ہم نے تیسرے رسول کے ذریعے ان کو تقویت دے دی ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ تم ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اور رحمن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا تم تو جھوٹ ہی بول رہے ہو

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ یہ بات واقعی ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہماری ذمہ داری صرف یہی ہے کہ کھول کر بات پہنچا دیں۔

5:۔ ابن سعد وابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار اور نوسو سال کا عرصہ تھا ان دونوں کے درمیان بنی اسرائیل کے لئے ایک ہزار نبیوں کا بھیجا گیا پھر دوسری قوم سے رسول بھیجا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے درمیان پانچ سو انہتر سال کا عرصہ ہے اس کے اول میں تین انبیاء بھیجے گئے اسی کو فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ (جب ہم نے ان کی طرف دو کو بھیجا انہوں نے ان کو جھٹلادیا پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ مدد کی اور جس نے ان کی مدد کی وہ شمعون تھے اور وہ حواریوں میں سے تھے اور فترۃ کا وہ عرصہ جس میں کوئی رسول نہیں تھا چار سو چونتیس سال کا عرصہ ہے۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین “ سے مراد ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ عسی بن مریم (علیہ السلام) نے حواریوں میں سے دو آدمی بستی والوں کی طرف بھیجے اور وہ بستی انطاکیہ ہے اور پھر ان کی پیچھے تیسرے کو بھیجا۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ سے مراد ہے کہ تیسرا آدمی اس لئے بھیجا تاکہ ان پر دلیل زیادہ مضبوط ہوجائے وہ لوگ بستی والے کے پاس آئے اور ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی طرف بلایا جس کا کوئی شریک نہیں تو انہوں نے جھٹلایا۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے شعیب جبائی (رح) سے روایت کیا کہ قاصدوں کے نام جن کو بھیجا گیا تھا جن کے بارے میں فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین “ وہ شمعون اور رضا تھے اور تیسرے کا نام بولص تھا۔ 9:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فعززنا بثالث “ میں زاء م مخففہ ہے۔ اللہ کے داعی کا قتل بڑا گناہ ہے : 10:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین “ میں تیسرے کا نام جس کے ساتھ ان کی مدد کی گئی شمعون بن یوحنا تھا اور تیسرا بولص تھا لوگوں کا خیال ہے کہ تینوں کو اکھٹے قتل کردیا گیا اور جب آیا جو ایمان کی چھپائے ہوئے تھا (آیت) ” قال یقوم اتبعوا المرسلین “ (کہا اے میری قوم بھیجے ہوؤں کی تابعداری کرو) جب انہوں نے اس کو دیکھا تو اس نے اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور کہا (آیت) ” انی امنت بربکم فاسمعون “ (کہ میں اپنے رب کے ساتھ ایمان لے آیا ہوں) اور یہ بڑھائی کا کام کرتا ہے انہوں نے اس کو کنویں میں ڈال دیا کنویں کا نام رأس ہے۔ اور یہ اصحاب رأس ہیں۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ بیشک ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں ضرور ضرور درد ناک تکلیف پہنچے گی۔

11:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا انا تطیرنا بکم “ (انہوں نے کہا کہ ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں) کہنے لگے کہ اگر ہم کو نقصان پہنچ گیا تو وہ تمہاری وجہ سے ہوگا (آیت) ” لئن لم تنتھوا لنرجمنکم “ (اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو رجم کردیں گے) یعنی پتھروں کی بارش کردیں گے (آیت) ” قالوا طائرکم معکم “ (انہوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے) یعنی تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہیں (آیت) ” ائن ذکرتم “ فرماتے ہیں اگر ہم تمہارے سامنے اللہ کا ذکر کریں تو تم ہمارے ساتھ بدشگونی لینے لگتے ہو۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لنرجمنکم “ (البتہ ہم تم کو رجم کردیں گے) یعنی ہم تم کو برابھلا کہیں گے اور فرمایا قرآن مجید میں جہاں بھی رجم کا ذکر ہے اس سے برا بھلا کہنا مراد ہے اور فرمایا (آیت) ” قالوا طائرکم معکم “ (تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے اگرچہ تم نصیحت کئے جاتے ہو) فرمایا تمہارے بارے میں جو لکھا جا چکا ہے۔ وہ تم پر ضرور واقع ہو کر رہے گی۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس بات کو تم نے نحوست سمجھ لیا کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ بات یہ ہے کہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو

13:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” طائرکم معکم “ یعنی تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ 14:۔ عبد بن حمید (رح) نے یحییٰ بن وثاب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ائن ذکرتم “ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا اور رزین بن حیشنی اس کو (آیت) ” ائن ذکرتم “ کو نصب کے ساتھ پڑھا۔ 15:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ (اور ایک آدمی اس شہر کے دور مقام سے دوڑتا ہوا آیا) اس میں رجل سے مراد حبیب نجار ہے۔ 16:۔ عبدبن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 17:۔ ابن جریر (رح) نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ صاحب یسین کا نام حبیب بن مری تھا۔ حبیب نجار کا ذکر خیر : 18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صاحب یسین کا نام حبیب تھا اور جذام کا مرض اس میں جلدی پھیلا تھا۔
Ayahs 36:20–27

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور ایک شخص اس شہر کے دور والے مقام سے ڈورتا ہوا آیا اس نے کہا کہ اے میری قوم ان فرستادہ آدمیوں کا اتباع کرو۔

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتے اور وہ خود راہ ہدایت پر ہیں۔

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور میرے پاس کون سا عذر ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کے سوا ایسے معبود مان لوں کہ اگر رحمن مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے ذرا بھی کام نہ دے اور نہ وہ مجھے بچا سکیں

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اگر میں ایسا کروں تو صریح گمراہی میں جا پڑوں گا۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے رب پر ایمان لادچکا سو تم میری بات سنو

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

اس سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا، وہ کہنے لگا کہ کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا اور مجھے باعزت بندوں میں شامل فرما دیا

وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔ 19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو حبیب نے اپنی قوم سے کہا (آیت) قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون “ (اے میری قوم ان رسولوں کی راہ پر چلو ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور وہ خود (راہ راست پر ہیں) یہاں تک کہ (آیت) ” فاسمعون “ تک پہنچا قوم والوں نے اس کو پتھروں سے مارنا شروع کردیا وہ کہہ رہا تھا اے میرے رب میری قوم کو ہدایت دے (فانہم لا یعلمون بماغفرلی ربی “ (کیونکہ وہ نہیں جانتے اس بات کو کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا ہے) حتی کہ (آیت) ” ان کانت الا صیحۃ واحدۃ “ تک پہنچا (پس وہ ایک چیخ کی آواز تھی جس سے وہ مرگئے فرمایا کہ اس کو قتل کرنا ہے اور ان کو مہلت نہیں دی گئی یہاں تک کہ ان کو (عذاب نے) پکڑلیا (آیت) ” صیحۃ واحدۃ فاذا ھم خمدون “ (وہ ایک چیخ تھی جس سے وہ دم گھٹ کر رہ گئے یعنی مرگئے) 20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمر بن الحکم (رح) نے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ کسان تھا۔ 21:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کھیتی باڑی کرنے والا تھا۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اصحاب الرس “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا بلاشبہ تم عرب کی جماعت کنویں کو رس کہتے ہو قبر کو رس کہتے ہو انہوں نے زمین میں خندقیں کھودیں اور قاصدوں کو جلانے کے لئے ان میں آگ جلائی جن کا اللہ تعالیٰ نے یسین میں ذکر فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ (جب ہم نے ان کے پاس دو قاصدوں کو بھیجا ان لوگوں نے دونوں کو جھوٹا قرار دیا پھر ہم نے تیسرے قاصد سے ان کی مدد کی) اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے لئے نبوت اور رسالت کو جمع کردیتا ہے تو اس کو لوگوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اور انبیاء قتل کئے جاتے تھے جب اس آدمی نے (جو شہر کے دورمقام میں رہتا تھا اور قاصدوں کو بھیجنے کا خواہشمند تھا) اس کے بارے میں سنا تو وہ دوڑتا ہوا آیا تاکہ ان کو پالے اور ان کو اپنے ایمان پر گواہ بنالے اور اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا (آیت) ” یقوم اتبعوا المرسلین “ سے لے کر (آیت) ” لفی ضلل مبین “ تک پھر قاصدوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہا (آیت) ” انی امنت بربکم فاسمعون “ (یہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم سن لو) تاکہ وہ اس کو اپنے ایمان پر گواہ بنالے۔ اس کو پکڑ لیا گیا اور اس کو آگ میں پھینک دیا گیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ادخل الجنۃ “ (جنت میں داخل ہوجا) تو اس نے کہا (آیت) ” قال یلیت قومی یعلمون (26) بما غفرلی ربی وجعلنی من المکرمین (27) (کاش میری قوم جان لیتی میرے رب نے مجھے بخش دیا اور عزت یافتہ لوگوں میں مجھے شامل کردیا) 23:۔ الحاکم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب صاحب یسین نے کہا (آیت) ” یقوم اتبعوا المرسلین “ (اے میری قوم بھیجے ہوؤں کی راہ پر چلو) تو لوگوں نے اس کا گلا گھونٹ دیا تاکہ وہ مرجائے تو وہ انبیاء کی طرف متوجہ ہو کر کہا (آیت) ” انی امنت بربکم فاسمعون “ (بلاشبہ میں ایمان لایا تمہارے رب کے ساتھ سو تم سن لو) یعنی میرے لئے گواہی دو ۔ 24:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقیل ادخل الجنۃ “ (اس سے کہا کہ جنت میں داخل ہوجا) کہ اس کیلئے جنت واجب کردی گئی (آیت) ” قال یلیت قومی یعلمون “ (کہا کاش میری قوم اس کو جان لیتی) یہ جب کہا جب اس نے ثواب کو دیکھا۔
Ayahs 36:28–29

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی نازل نہیں کیا اور نہ ہم اتارنے والے تھے

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

نہیں تھی مگر ایک چیخ سو وہ بجھ کر رہ گئے

1:۔ ابن جریر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) وما انزلنا علی قومہ من بعدہ “ (اور ہم نے نہیں اتارا اس کی قوم پر اس کے بعد کوئی لشکر آسمان سے) یعنی میں نے ان کے خلاف آسمان اور زمین کے لشکروں سے مدد طلب نہیں کی۔ 2:۔ ابوعبید وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن سیریں (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ان کانت الا صیحۃ واحدۃ “ اور ہماری قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ان کانت الا صیحۃ واحدۃ “ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا ھم خمدون “ (کہ اچانک وہ لوگ بجھ گئے یعنی مرگئے) یعنی مردے ہوگئے۔ 4:۔ الطبرانی وابن مردویہ ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آگے بڑھنے والے تین آدمی ہیں : موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف آگے بڑھنے والے یوشع بن نون ہیں، اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف آگے بڑھنے والے صاحب یسین ہیں، اور محمد ﷺ کی طرف آگے بڑھنے علی بن ابی طالب ؓ ہیں۔ 5:۔ ابن عساکر نے صدقہ قرشی (رح) سے روایت کیا اور وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدیق ؓ روئے زمین کے لوگوں سے افضل ہیں سوائے اس کے کہ وہ نبی ہو یا آل یسین وآل فرعون کا مؤمن ہو (کہ یہ لوگ ابوبکر صدیق ؓ سے افضل ہیں) 6:۔ ابن عدی (رح) نے ابن عساکر (رح) سے روایت کیا کہ تین شخص ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی کفر نہیں کیا مؤمن آل یاسین، علی بن ابی طالب ؓ اور آسیہ فرعون کی بیوی۔ 7:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدیق تین ہیں : حزقیل، مؤمن آل فرعون، حبیب نجار صاحب آل یاسین، اور علی بن ابی طالب ؓ ۔ 8:۔ ابو داؤد وابو نعیم وابن عساکر والدیلمی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدیق تین ہیں حبیب نجار مؤمن آل یاسین جس نے کہا تھا (آیت) ” یقوم اتبعوا المرسلین “ اور حزقیل مؤمن آل فرعون جس نے کہا تھا (آیت) ” اتقتلون رجلا ان تقول ربی اللہ “ (غافر آیت 27) (کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے) اور علی بن ابی طالب ؓ اور وہ ان سب سے افضل ہے۔ حضر عروہ بن مسعود ثقفی ؓ کا قتل : 9:۔ الحاکم و بیہقی نے دلائل میں عروہ (رح) سے روایت کیا کہ عروہ بن مسعود ثقفی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے پھر انہوں نے اپنی قوم کی طرف واپس جانے کی اجازت طلب کی رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ وہ تجھ کو قتل کردیں گے ؟ تو اس نے کہا اگر وہ مجھ کو سویا ہوا پائیں گے تو وہ مجھ کو نہیں جگائیں گے وہ ان کی طرف واپس آئے اور ان کو اسلام کی طرف دعوت دی تو انہوں نے ان کی نافرمانی کی اور ان سے تکلیف دہ باتیں کیں جب فجر طلوع ہوئی تو وہ اپنے کمرے پر کھڑے ہوئے نماز کی اذان دی اور ” اشھد ان لا الہ الا اللہ “ پڑھا ثقیف میں سے ایک آدمی نے ان پر تیر پھینکا اور ان کو قتل کردیا جب رسول اللہ ﷺ کو ان کے قتل کی خبر پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عروہ کی مثال صاحب یسین کی مثال ہے کہ اس نے بھی اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا تو لوگوں نے ان کو قتل کردیا۔ 10:۔ ابن مردویہ نے حدیث ابن شعبہ (رح) سے موصولا اسی طرح روایت کیا ہے۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عروہ بن مسعود کو طائف میں ان کی قوم ثقیف کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کو اسلام کی طرف بلایا تو ایک آدمی نے ان پر ایک تیر پھینکا اور ان کو قتل کردیا، آپ ﷺ نے فرمایا ان کی صاحب یسین کے ساتھ کتنی مشابہت ہے۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ نے عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت میں سے تین آدمیوں کو دوسرے کے مشابہ قرار دیا دحیہ کلبی ؓ جبرائیل (علیہ السلام) کی مشابہت رکھتے تھے اور عروہ بن مسعود ثقفی (رح) عیسیٰ (علیہ السلام) کی مشابہت رکھتے تھے اور عبدالعزیز دجال کی مشابہت رکھتے تھے۔
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس ہے بندوں کے حال پر، جب ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے ضرور اس کا مذاق بنایا

1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزء ون “ (افسوس ایسے بندوں کے حال پر) یعنی ہائے بندوں کے لئے ہلاکت۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے اس طرح پڑھا۔ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد “ 3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد سے مراد ہے کہ ان پر حسرت اس وجہ سے ہے کہ وہ رسولوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” یحسرۃ علی العباد “ کے بارے میں روایت کیا کہ بندوں کو اپنی جان پر حسرت اور افسوس اس بات پر جو وہ اللہ کے حکم ضائع کرتے رہے اور اللہ کے احکام میں کوتاہی کرتے رہے اور بعض قرأت میں یوں ہے (آیت) ” یحسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول “ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد “ یعنی ندامت ہے ان بندوں پر کہ (آیت) ” یاتیہم من رسول الا کانوا بہ یستھزء ون “ (نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے) یعنی ان پر ندامت ہوگئے قیامت کے دن۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد “ یعنی افسوس ہے ان کے لئے۔ 7:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قرأت میں یوں ہے۔ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزء ون “
Ayahs 36:31–34

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کرچکے ہیں، بیشک وہ ان کی طرف نہیں ہوں گے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور یہ سب مجتمع طور پر ہمارے پاس ضرور حاضر ہوں گے

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے لئے ایک نشانی مردہ زمین ہے ہم نے اسے زندہ کیا اور ہم نے اس سے غلے نکالے سو وہ اس میں سے کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انہم الیھم لا یرجعون “ (کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی امتیں ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ پھر ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے) یعنی قوم عاد، ثمود اور ان کے درمیان بہت سی امتیں (آیت) آ ” وان کل لما جمیع لدینا محضرون “ (اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں مجموعی طور پر جو ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے) یعنی قیامت کے دن ہمارے ہاں جمع ہوں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ہارون (رح) کے طریق سے اعرج (رح) وابوعمر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہم الیھم لا یرجعون “ (کہ وہ پھر ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے سے مراد ہے کہ اس موت میں کوئی اختلاف نہیں اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا سے چلے جانے کے بعد دنیا میں واپس نہیں لوٹیں گے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ قیامت سے پہلے اٹھائے جائیں گے (یہ سن کر آپ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا کتنے برے لوگ ہیں اگر ہم ان کی عورتوں سے نکاح کرلیتے اور ان کی میراث آپس میں تقسیم کرلیتے یا تم اس آیت کو نہیں پڑھتے ہو : (آیت) ” الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انہم الیھم لا یرجعون “
Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ وہ اس کے پھلوں سے کھائیں اور اسے ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا، سو کیا وہ شکر ادا نہیں کرتے

1:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” وما عملتہ ایدیھم “ (اور اس پھل اور غلہ کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا) فرمایا ان لوگوں نے اس کو بنا ہوا پایا۔ ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا یعنی فرات دجلہ بلغ اور دوسرے دریا (آیت) ” افلا یشکرون “ کیا ہو شکر نہیں کرتے اس کا واللہ اعلم۔
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جس نے زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں سے ہر قسم کی چیزیں پیدا فرمائیں اور ان لوگوں کی جانوں میں سے اور ان چیزوں میں سے جنہیں یہ لوگ نہیں جانتے

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” سبحن الذی خلق الازواج کلھا “ (پاک ہے وہ ذات جس نے ہر قسم چیزیں پیدا فرمائیں یعنی ہر قسم کی جماعتیں پیدا کیں فرشتے ایک جماعت ہے انسان ایک جماعت ہے جنات کی ایک جماعت ہے اور جو زمین اگاتی ہے وہ ایک جماعت ہے اور پرندوں میں سے ہر ایک جماعت ہے پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” مما تنبت الارض ومن انفسھم “ (زمین کی پیداواری میں سے اور ان کے اندر سے اور ان چیزوں میں سے جن کو وہ نہیں جانتے) کہ روح کو فرشتے نہیں جانتے اور اللہ کی پیدائش کو نہیں جانتے اور روح کو نہیں جانتا اور فرمایا (آیت) ” ومما لا یعلمون “ یعنی نہ فرشتے جانتے ہیں اور نہ اس کے علاوہ کوئی جانتا ہے۔
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے، ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے ہیں سو وہ اچانک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں

1:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وایۃ لھم الیل، نسلخ منہ النھار “ (اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس کے اوپر سے ہم دن کی چڑھی ہوئی کھال اتارلیتے ہیں) یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے میں سے نکالتا ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وایۃ لھم الیل، نسلخ منہ النھار “ (الحج آیت 61) (کہ ہم داخل کرتے ہیں رات کو دن میں، اور داخل کرتے ہیں دن کو رات میں۔
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا ہے یہ اس کا مقرر کیا ہوا ہے جو زبردست ہے علم والا ہے

1:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری والترمذی وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ فی العظمہ، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھا سورج کے غروب ہونے کے وقت آپ نے فرمایا اے ابوذر کیا تو جانتا ہے کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے میں کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اسی کو فرمایا (آیت) ” والشمس تجری لمستقرلھا “ (اور سورج جو اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے) یعنی اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے سے۔ 2:۔ سعید بن منصور، احمد و بخاری ومسلم و ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ وابن مردویہ و بیہقی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” والشمس تجری لمستقرلھا “ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے ہے۔ سورج کا سجدہ ریز ہونا : 3:۔ سعید بن منصور (رح) واحمد (رح) والترمذی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ سورج غروب ہوچکا تھا اور نبی کریم ﷺ تشریف فرما رہے تھے آپ نے فرمایا اے ابوذر ! کیا تو جانتا ہے کہ یہ کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا : یہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے رب کے سامنے سجدہ کرتا ہے پھر واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے فرمایا گیا وہاں سے طلوع ہو جہاں سے تو آیا ہے تو وہ اپنے مغرب سے طلوع کرتا ہے پھر یہ (آیت) ” وذلک مستقرلھا “ (اور یہ اس کا ٹھکانہ ہے) پھر فرمایا اور یہ عبداللہ کی قرأت ہے۔ 4:۔ عبدالرزاق وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت) ” مستقرلھا “ اگر وہ طلوع کرے تو بنی آدم کے گناہ اس کو لوٹا دیتے ہیں۔ جب وہ غروب ہوتا ہے تو عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ اور سجدہ کرتا ہے، اور اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت دے دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ غروب ہوتا ہے عاجزی کا اظہار کرتا ہے تو اس کو اجازت نہیں ملتی اور وہ کہتا ہے سفر دور ہے اگر مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں نہیں پہنچ سکوں گا تو اس کو روک دیا جاتا ہے جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ اس کو روکنا چاہتا ہے پھر اسے کہا جائے گا اس طرف سے طلوع ہو جس طرف سے غروب ہوتا ہے فرمایا یہ اس دن سے قیامت کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا فرمایا (آیت ) ’ لاینفع نفسا ایمانھا “ (الانعام آیت 158) (کہ کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا) 5:۔ ابوعبید نے اپنے فضائل میں وابن الانباری نے المصاحف میں واحمد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو (آیت) ” والشمس تجری لمستقرلھا “ پڑھتے تھے۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اگر سورج زمین والوں سے ایک ہی راستہ پر چلتا تو وہ اس سے ڈرجاتے لیکن گرمی کے موسم میں جلد پناہ لیتا ہے اور ایک طرف ہو کر چلتا ہے، سردی کے موسم میں اگر وہ سردی کے موسم میں اس مطلع سے طلوع ہو جو اس کا گرمی کے موسم کا مطلع ہے تو گرمی لوگوں کو بھون ڈالے اور اگر وہ گرمی کے موسم میں اس مطلع سے طلوع ہو جو اس کے سردی کے موسم کا مطلع ہے تو سردی ان کو ہلاک کردے۔ 7:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابو راشد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والشمس تجری لمستقرلھا “ سے مراد سجدہ کرنے کی جگہ ہے۔ 8:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری نے المصاحف میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والشمس تجری لمستقرلھا “ سے مراد ہے کہ (سورج چلتا ہے) اپنے وقت اور مدت میں اس سے تجاوز نہیں کرتا۔
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور اس نے چاند کے لیے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی ٹہنی کی طرح رہ جاتا ہے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والقمر قدرنہ منازل “ (اور ہم نے یہ چاند کی مزلیں مقرر کیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے چاند کی منزلیں مقرر فرمادی ہیں تو وہ کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ کھجور کی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے اسی وجہ سے عرجون کے ساتھ اس کو تشبیہ دی۔ چاند کی منزلیں مقرر ہیں : 2:۔ الخطیب نے کتاب النجوم میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والقمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم “ (اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی) یعنی چاند کی اٹھائیس منزلوں ہیں جن میں چاند ایک ماہ میں ٹھہرتا ہے چودہ شامی چودہ یمنی ہیں اس کی پہلی منزلیں یہ ہیں سرطین، بطین، ثریا، دبران، ہقعہ، ہنعہ، ذراع، نثرہ، طرف، جبھہ، زہرہ، صرفہ عواء اور سماک، یہ آخری ہے۔ اور شامیہ یہ ہے، عقرب، زبانیں، اکلیل، قلب، شولہ، نعائم، بلاۃ، سعد الزابح، سعد بلع، سعد السعود، سعد الاخبیہ، مقدم الدلو، مؤخرالدلو، اور حوت اور یہ یمانیہ کی آخری ہے، جب یہ اٹھائیس منزلیں طے کرلیتا ہے تو (آیت) ” عاد کالعرجون القدیم ‘ یعنی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے جیسے وہ مہینے کے شروع میں ہوتا ہے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عاد کالعرجون القدیم ‘ سے مراد ہے پرانی ٹہنی کے ابتدائی حصے کی طرح۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عاد کالعرجون القدیم ‘ سے مراد ہے خشک کھجور کی ٹہنی کی طرح۔ 5:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عاد کالعرجون القدیم ‘ سے مراد ہے خشک کھجور کی ٹہنی کی طرح۔ 6:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عاد کالعرجون القدیم ‘ جیسے کھجور کی ٹہنی جب پرانی ہوجاتی ہے تو ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ 7:۔ ابن المنذر (رح) نے حسن بن ولید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعتق رجل کل غلام لھا عتیق قدیم “ تو یعقوب سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جو غلام ایک سال سے اس کے پاس ہے وہ آزاد ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” حتی عاد کالعرجون القدیم ‘ تو وہ ایک سال میں ایسی ہوتی ہے کہ وہ کھجور کی ٹہنی کی طرح رہ جاتا ہے۔