36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 36:1–12

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے۔

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

اے محمد ﷺ ! بیشک آپ پیغمبروں میں سے ہیں۔

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے رستے پر۔

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ قرآن اللہ غالب اور مہربان نے نازل کیا ہے۔

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا متنبہ کر دو ، کیونکہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر پر اللہ کی بات پوری ہوچکی ہے، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک پھنسے ہوئے ہیں تو ان کے سراوپر کو اٹھا دیے ہوئے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے۔

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے والے۔

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور اللہ سے غائبانہ ڈرے۔ سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو ۔

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے ہیں اور جو ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہیں ہم ان کو لکھتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن یعنی لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔

رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس لیے کہ اس نے زندگی کے ہر قدم کو وضاحت سے بتا دیا کہ لوگ لاعلمی میں نقصان نہ اٹھائیں اور ہر طرح سے شیطان کی شرارت سے بچ کر دنیاو آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ پھر اس مبارک کتاب کو ایسے بہترین رسول کے ذریعہ بھیجا کہ جو کسی صورت بھی معمولی انسان نہیں بلکہ وہ محسن انسانیت ہیں۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ مدت دراز کے بعد نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ یعنی صدیاں بیت گئی تھیں کہ سر زمین عرب میں کوئی نبی نہیں بھیجا گیا تھا۔ اس لیے عرصہ دراز تک گمراہ رہنے کے باعث لوگوں کے دل و دماغ عقل و فہم اور سمجھ بوجھ سے بالکل ہی عاری ہوچکے تھے۔ انہوں نے جب آپ ﷺ سے توحید کا پیغام سنا تو سٹ پٹا گئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے بتایا کہ ان لوگوں کو ایمان کی طرف لانا کوئی آسان کام نہیں۔ انہوں نے کبھی ایسی ہدایت کی بات سنی ہی نہیں تھی۔ اس لیے آپ یہ سمجھ لیں کہ وہ کفر و گناہ کی دلدل میں گردنوں تک پھنسے ہوئے ہیں ان کے لیے ایمان کی روشنی سے منور ہونا یا ہدایت کا راستہ دیکھنا ممکن ہی نہیں وہ ایسے ہی کریں گے، ہرگز ایمان نہیں لائیں گے مگر پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو تھوڑی سی عقل سمجھ رکھتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ گو اللہ صاف دکھائی نہیں دیتا مگر ہے ضرور۔ تو پھر اللہ ایسے لوگوں کی مدد ضرور کرتا ہے جو تھوڑی روشنی رکھتے ہوں ان کی روشنی میں اضافہ اللہ اپنی مہربانی اور قدرت سے ضرور کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہمارا یہ پیغام ضرور پہنچا دو کہ اللہ زبردست قدرت والا ہے۔ وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر اس دنیا میں نیک و بد کاموں کی سزا و جزا ضرور ملے گی۔ پھر ان کو یہ بھی بتاؤ کہ اللہ اس قدر عظیم، حکیم اور خبیر ہے کہ وہ ہر شخص کے ہر کام کو لوح محفوظ میں درج کرلیتا ہے۔ یہ دونوں باتیں کہ مرنے کے بعد زندہ کیے جائیں گے اور اللہ ہمارے کاموں کو دیکھ رہا ہے درج کر رہا ہے اور حساب کتاب کرے گا۔ یہ سب تو آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ بڑے بڑے علماء نے قرآن میں سے دلیلیں لے کر ان باتوں کو واضح کرنے کی بڑی کوشش کی ہے۔ بشیر محمود صاحب اس مسئلہ کو یوں بیان کرتے ہیں۔ ” مادہ کبھی تباہ نہیں ہوتا بلکہ مختلف شکلوں میں تحلیل ہو کر بکھر جاتا ہے مگر اس کا ایک ایک ایٹم قیامت تک محفوظ رہے گا بلکہ وہ اپنے ساتھی ایٹم کو بھی یاد رکھتے ہیں جب بھی انہیں قریب آنے کا اتفاق ہو تو وہ ایک دوسرے کو پہچان بھی لیں گے۔ ہمارے جسم کا مادہ ایٹمز کا مجموعہ ہے۔ اس لیے قبر خواہ مٹی کی ہو، پانی کی ہو، یا آگ میں ہو عناصر کی حد تک جسم قائم رہتے ہیں۔ نفس بھی اپنے بکھرے ہوئے عناصر کو یاد رکھتا ہے اور جب بھی حکم ہوگا وہ دوبارہ اکٹھے ہو کر پھر سے محفوظ شدہ ڈیزائن کے مطابق زندگی کی محفل نشاط برپا کریں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت) اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :” اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن یعنی لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے “۔
Ayahs 36:13–21

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے۔

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کی طرف دو پیغمبر بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی، تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں۔

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ بولے کہ تم اور کچھ نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی ہو اور اللہ نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی، تم صرف جھوٹ بولتے ہو۔

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف پیغام دے کر بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس۔

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم تم کو منحوس دیکھتے ہیں اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لیے کہ تمہیں نصیحت کی گئی بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے بڑھ گئے ہو۔

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے دوسرے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیاکہنے لگا کہ ” اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو۔

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں۔

انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔ قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان کے نام یوحنا اور شمعون بتائے گئے ہیں واللہ اعلم تو حسب معمول لوگوں نے ان کو جھٹلایا تو ان کی مدد کے لیے ایک تیسرا رسول بھیجا گیا مگر قوم اس قدر بگڑی ہوئی تھی کہ کسی کی بات ماننے کو تیار نہ تھی۔ اسی دوران ایک حبیب نامی شخص پیغمبروں کی خبر سن کر بھاگتا ہوا آیا تو اس نے بھی لوگوں کو یہی کہا۔ اصل میں یہ شخص فطرتاً نیک انسان تھا۔ اور گاؤں کے قریبی غاروں میں تنہائی میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کو اللہ نے اتنی عقل سمجھ دی تھی کہ ٹھیک اور غلط راستے کی پہچان کرسکے اسی لیے جب وہ بستی میں آیا تو اس نے لوگوں کو کہا کہ ” تم پیغمبروں کی مخالفت کیوں کرتے ہو۔ یہ تو بالکل ٹھیک بات کہتے ہیں۔ ہمیں اللہ نے ہی پیدا کیا ہے اس لیے وہی عبادت کے لائق ہے۔ وہی ہمیں پیدا کرنے، پالنے، پھر مارنے اور اپنے پاس واپس بلانے والا ہے۔ کوئی بھی ایسی طاقت اس کے علاوہ ایسی نہیں جو یہ سب کچھ کرسکے یا صرف اتنا ہی کرسکے کہ اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی مصیبت پر اللہ سے سفارش کر کے دور کروا سکے۔ اس لیے اتنی سی بات کو سمجھو اور مانو۔ کیونکہ سب نے مرنے کے بعد اسی اللہ کے پاس ہی چلے جانا ہے “۔ یہ سب باتیں بستی والے کہاں ماننے والے تھے انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے، کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ (بیہقی شریف) یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے مگر شہید کی قبر کو ہی پر آسائش بنا دیا جاتا ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک انسان اس سونے کی مدت کو پر سکون پر آسائش اور بہترین خوابوں کی صورت میں انجوائے کرتا ہے۔ جبکہ درمیانہ نیک بندہ نیند میں رہتا ہے پرسکون نیند میں اور بد انسان اس نیند میں خوفناک خوابوں سے اسی طرح بےسکون رہتا ہے جیسا کہ کوئی نائٹ میئر ( ڈراؤ نے خواب) سے خوفزدہ اور بےچین ہوجاتا ہے۔ الحمد للہ 22 بائیسواں پارہ مکمل ہوا
Ayahs 36:22–32

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں ؟ اگر اللہ میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ ہی وہ مجھے چھڑا سکیں۔

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تب تو میں کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تمہارے رب پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو۔

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

حکم ہوا کہ ” بہشت میں داخل ہوجا “ وہ بولا ” کاش میری قوم کو خبر ہو۔

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ اللہ نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں کیا۔

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی آتشیں سو وہ اس سے ناگہاں بجھ کر رہ گئے۔

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا کہ اس کے ساتھ تمسخر کرتے

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔

قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک انسان اس سونے کی مدت کو پر سکون پر آسائش اور بہترین خوابوں کی صورت میں انجوائے کرتا ہے۔ جبکہ درمیانہ نیک بندہ نیند میں رہتا ہے پرسکون نیند میں اور بد انسان اس نیند میں خوفناک خوابوں سے اسی طرح بےسکون رہتا ہے جیسا کہ کوئی نائٹ میئر ( ڈراؤ نے خواب) سے خوفزدہ اور بےچین ہوجاتا ہے۔ ہم پھر گاؤں والوں کی طرف آتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے کہ سدھر جائیں۔ ان کو بھی ہدایت دی گئی مہلت دی گئی مگر وہ نہ سمجھے تو پھر ان کی سزا کا وقت آگیا۔ ایک زور دار آواز اٹھی (دھماکہ ہوا) اور سب لوگ برداشت نہ کرسکے اور اللہ کے حکم سے سب کے سب مرگئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے کاموں کے لیے ہم آسمان سے فوج نہیں اتارا کرتے۔ بس ایک چنگھاڑ تھی پھر اسی دم سب بجھ کر رہ گئے۔ (یس آیات : 29-28) ان آیات سے کئی سبق ملتے ہیں۔ پہلا : یہ کہ انسان کی حیثیت بڑی ناپائیدار ہے اس لحاظ سے کہ کفر وشرک میں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں اسقدر اکڑ خوں ہوجاتا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کو ہی بھول جاتا ہے۔ تو جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو صرف ایک کڑک ہی سب کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ دوسرا : مبلغ کے کچھ اوصاف بتائے گئے ہیں۔ پہلا۔ بلامعاوضہ رشد و ہدایت، درس و تدریس اور تبلیغ کا کام پوری کوشش سے کرے دوسرا یہ کہ وہ خود بھی ہدایت یافتہ ہو۔ یعنی ہر لحاظ سے عملی، اخلاقی اور روحانی طور پر انتہائی متقی انسان ہو۔ آخر میں اللہ تعالیٰ ان نافرمان لوگوں پر افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعد میں آنے والے لوگوں کو ان نافرمان لوگوں کی تباہی و بربادی سے سبق سیکھنا چاہیے اور ایک حقیقت واضح کردی کہ جو مرگیا وہ دوبارہ اس دنیا میں ہرگز کسی صورت واپس نہیں آسکتا۔ ہاں البتہ یہاں سے رخصت ہونے والے تمام لوگ حشر کے میدان میں اکٹھے اللہ کے حضور ضرور پیش ہوں گے۔ آیت 32 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” اور ان میں سے کوئی نہیں جو اکٹھے ہمارے پاس پکڑے ہوئے نہ آئیں۔ “