36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 36:33–44

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایا پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیے۔

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر کیا یہ شکر نہیں کرتے ؟

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ اللہ پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے۔

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ اللہ غالب اور دانا کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں۔ یہاں تک کہ گھٹتے گھٹتے کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے۔

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے اور سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے لیے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (اور ہوں گے)

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچے اور نہ چھڑائے جائیں۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔

ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں۔ اگر انسان ذرا سا بھی غور و فکر کرے تو اس کو دنیا کے چپے چپے پر اللہ کا وجود اور اپنا مرنا اور پھر زندہ ہونا صاف دکھائی دے سکتا ہے۔ جس طرح زمین خشک ہوجاتی ہے پھر تر و تازہ ہوجاتی ہے اسی طرح انسان بھی مرجاتا ہے اور اللہ کے حکم سے پھر زندہ ہوجائے گا۔ انسان کا دنیا میں آنا، درختوں کا معمولی بیج سے اتنا بڑا تناور درخت بن جانا، چشموں کا زمین اور پہاڑوں میں سے پھوٹنا اور پھر زمین اور پانی و بیج کے ملاپ سے قسم قسم کے پھل پھول اور فصلوں کا لہلہانا، کیا یہ سب کچھ کوئی انسان کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں کوئی بندہ کتنا ہی بڑا عالم فاضل، طاقتور اور امیر و کبیر ہو وہ ایک انچ زمین اپنی قدرت سے نہیں بنا سکتا۔ حیرت کی بات ہے کہ انسان ہر لمحہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، استعمال کرتا ہے، پھر جب موت آتی ہے تو اس کو کسی صورت ٹال نہیں سکتا، پھر بھی وہ اللہ کو نہیں مانتا اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اب ذرا اور آگے چلیں تو اللہ کی حکمتیں اور قدرتیں اور بھی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ ہر چیز میں نر و مادہ کا ہونا، سولھویں سترھویں صدی کی تحقیق ہے۔ جبکہ قرآن پاک میں یہ بیالوجی کا اتنا بڑا اصول چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا کہ نر و مادہ انسان، حیوان، نباتات، جمادات اور بہت سی ایسی چیزیں جو ابھی ہماری تمہاری نظر سے چھپی ہوئی ہیں ان سب میں تخلیقی عمل کے لیے جوڑوں کا ہونا ضروری ہے۔ اور پھر اس خیال کی بھی تردید کردی کہ تم جو نباتات و جمادات کو بےجان سمجھتے ہو تو یہ بھی غلط ہے بلکہ جس طرح انسان زندہ ہے اسی طرح دنیا کا ذرہ ذرہ زندگی سے بھر پور ہے۔ موجودہ سائنسی تحقیق قرآن پاک کی اس آیت کی تصدیق کرتی ہے۔ کہ جو سورت یٰس ٓ کی آیت 36 میں بتایا گیا ہے۔ پھر کائنات کے اس نظام کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے دن اور رات وجود میں آتے ہیں۔ یہ زبردست نظام صرف وہ زبردست علیم و حکیم ہی بنا سکتا ہے جو اس کے بارے میں پوری پوری معلومات رکھتا ہے۔ ان آیات کی تفسیر ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب بڑے اچھے انداز میں یوں کرتے ہیں لکھتے ہیں۔ ” قرآن مجید سب کو سیار گان قرار دے رہا ہے اور سب کے بارے میں یہ کہہ رہا ہے کہ ہر ایک کا اپنا اپنا فلک ہے اور ہر ایک کا اپنا اپنا مدار ہے اور یہ تیر رہے ہیں۔ یہ بالکل وہ تصور ہے جو اس دور کی فزکس نے آکر انسان کو دیا ہے کہ فلک کے اندر ستارے تیر رہے ہیں۔ جو خلا میں ہے اور پھر اس کو ہمارے لیے نشانی قرار دیا۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین اپنے محور سے ساڑھے تیئس کے زوایے پر ٹیڑھی کھڑی ہے، بالکل سیدھی نہیں اگر ٹیڑھی نہ ہوتی تو دن رات کا اس طرح آنا جانا ممکن نہ ہوتا۔ صرف زمین ہی نہیں دیگر سیارگان بھی اس زاویے پر ٹیڑھے ہیں اور اسی طرح وہ اپنے مدار کے گرد اور پھر اپنے فلک اور نظام شمسی میں حرکت کر رہے ہیں۔ صاف کہا گیا ہے کہ سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے “۔ (از انوار القرآن ) چاند کی رفتار اور اس کی منزلیں مقرر ہیں۔ جس سے دن مہینے اور سال کی گنتی ہوتی ہے۔ سمندر میں مدو جزر کا عمل ہوتا ہے اس کے علاوہ بیشمار فائدے ہیں انسان کے لیے چاند گھٹتا بڑھتا ہر ماہ 28 منزلوں میں سے گزرتا ہے۔ کسی سیارے کی مجال نہیں کہ اپنے معمول سے ہٹ کر کسی دوسرے سیارے میں جاگھ سے۔ ہر سیارہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر مقررہ نظام وقت اور رفتار کے مطابق گھوم رہا ہے۔ کوئی ایک سیارہ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوسکتا۔ یہ پورا نظام انتہائی منظم طریقے سے چل رہا ہے کہ اللہ کی قدرتیں نظر آتی ہیں۔ کون ہے جو اس نظام میں ایک ذرہ برابر بھی دخل اندازی کرسکے۔ یہ سب کچھ اللہ کی وحدت اور قدرت کی بہترین نشانیاں ہیں بات تو بڑی ہی وسیع و عریض ہے مگر یہاں چھوٹی چھوٹی نشانیوں سے اس خدائے برتر کی کبریائی کو ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب انسانی سواریوں میں سے ایک سواری کشتی اور ہوائی جہاز کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ کشتی کا بنانا بڑا نیا تجربہ تھا تو یہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح (علیہ السلام) کو الہام کے ذریعے سکھایا۔ کیونکہ طوفان آنے والا تھا اور اللہ کی قدرت سے نافرمان لوگوں کا خاتمہ کرنا تھا مگر نسل مخلوقات جاری رکھنے کے لیے ایک ایسی سواری ایجاد کرنے کا حکم دیا گیا جو پانی پر چلتی ہے۔ انسانوں کو سفر کرنے اور تجارت کرنے کا طریقہ سکھایا گیا کہ یہ اللہ کی قدرت سے پانی پر بڑے سے بڑا بوجھ اٹھا کر تیر سکتی ہے۔ اور پھر کشتی جیسی کچھ اور سواریوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور فرمایا کہ یہ سب کچھ صرف اللہ ہی کی قدرت سے ہو رہا ہے وہ چاہے تو ڈبو دے اور اس کے یہ چاہنے میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ یہ آیت بڑی پر معنی ہے۔ ” اور ان کے واسطے ہم نے کشتی جیسی چیزوں کو بنا دیا جس پر سوار ہوتے ہیں “ (یا ہوں گے) اس کی تفسیر مولانا مفتی محمد شفیع صاحب بڑے پیارے انداز میں یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ” قرآن میں ہوائی جہاز کا ذکر، مگر یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے اس جگہ اونٹ یا کسی خاص سواری کا نام نہیں لیا بلکہ مبہم چھوڑا ہے جس میں ہر ایسی سواری شامل ہے جو انسان اور اس کے اسباب و سامان کو زیادہ سے زیادہ اٹھا کر منزل مقصود پر پہنچا دے، اس زمانے کی نئی ایجاد ہوائی جہاز نے یہ واضح کردیا کہ اس کا سب سے بڑا مصداق ہوائی جہاز ہیں۔ اور کشتی کے ساتھ اس کی تمثیل بھی اس کی زیادہ مؤید ہے، کہ جس طرح پانی کا جہاز پانی پر تیرتا ہے، پانی اس کو غرق نہیں کرتا، ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے، ہوا اس کو نیچے نہیں گراتی، اور عجب نہیں کہ قرآن حکیم نے اسی لیے ” مِنْ مِثْلِہٖ مَایَرْکَبُوْنَ “ ترجمہ ( اور ان کے لیے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں “ (یا ہوں گے) کو مبہم رکھا ہو۔ تاکہ قیامت تک ایجاد ہونے والی سب سواریاں اس میں شامل ہوجائیں “۔ واللہ اعلم، آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ” مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں “۔ (از معارف القرآن جلد 7 صفحہ 394)
Ayahs 36:45–47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے آگے اور جو تمہارے پیچھے ہے اس سے ڈرو تاکہ تم پرر حم کیا جائے۔

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی نہیں آئی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق تم کو اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ ” بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا تم تو صریح غلطی میں ہو۔

کفار کی فضول باتیں تشریح : جب مسلمان کفار سے کہتے کہ دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرو اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے غریبوں محتاجوں کو دیا کرو تو وہ عجیب حجت بازی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ” جب اللہ ان کو کھلانا نہیں چاہتا تو ہم کون ہیں کھلانے والے “ حالانکہ یہ کام تو صرف انسان کو آزمانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ” کہ کون انسانی ہمدردی کرتا ہے اور کون نہیں کرتا “۔ ورنہ رزق دینا اللہ کا کام ہے جس کو جتنا چاہے دے یا نہ دے اور پھر اس دنیا میں کسی کو مال و دولت دے کر آزمایا جا رہا ہے اور کسی کو بھوکا رکھ کر آزمایا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے امیروں کو چاہیے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے ضرورت مندوں، محتاجوں، رشتہ داروں اور مسکینوں کا حصہ ضرور ادا کریں اور غریبوں کو چاہیے کہ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے مال حاصل کرنے کے لیے حرام کا راستہ اختیار نہ کریں بلکہ حلال اور جائز طریقوں سے محنت کر کے روزی کمائیں اور صبر و شکر سے کام لیں۔