36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 36:48–74

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ” اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا “ ؟

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کے اس حال میں باہم جھگڑ رہے ہوں گے آپکڑے گی۔

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ تو وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں میں واپس جاسکیں گے۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور جس وقت صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے ” اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے جگا اٹھایا “ ؟ یہ وہی تو ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے۔

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے۔

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اہل جنت اس دن عیش و نشاط میں مشغول ہوں گے۔

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ بھی ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لیے میوے اور جو چاہیں گے موجود ہوگا۔

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

رب مہربان کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور گنہگارو ! تم آج الگ ہوجاؤ۔

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ! ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے۔

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی تھی۔

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

سو جو تم کفر کرتے رہے ہو اس کے بدلے آج اس میں داخل ہوجاؤ۔

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر اندھا کردیں پھر یہ رستے کو دوڑیں تو کیسے دیکھ سکیں گے۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہـیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیـں تو کیا یہ سمجھتے نہیں۔

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے اس پیغمبر کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ ان کے شایان ہے یہ تو صرف نصیحت اور صاف صاف حکمت والا قرآن ہے۔

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا رستہ دکھائے اور کفار پر بات پوری ہوجائے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنی قوت سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لیے چار پائے پیدا کردیے اور یہ ان کے مالک ہیں۔

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں۔

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لیے فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں تو کیا یہ شکر نہیں کرتے ؟

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں کہ شاید ان سے ان کو مدد ملے۔

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و دائم رہے گی کیونکہ پوری کائنات میں ہر روز کئی سیارے ٹوٹتے ہیں کئی وجود میں آتے ہیں یہ توڑ پھوڑ تو کائنات کا معمول ہے۔ بہرحال ہماری قیامت میں حشر کا نقشہ ان آیات میں بڑا ہولناک کھینچا گیا ہے۔ اس لحاظ سے سورة یٰس اگر قرآن پاک کا دل ہے تو یہ آیات اس سورت کا دل ہیں۔ کیونکہ یہاں اس عالم غیب کا نقشہ اس پر اثر انداز میں کھینچا گیا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جنت اور دوزخ کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ گویا ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ان کو غور سے پڑھنے کے بعد کون چاہے گا کہ حشر کے میدان میں رسوا ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنے اور آخرت کی تکلیف دہ سزاؤں کا شکار ہو جو تھوڑی سی عقل بھی رکھتا ہوگا وہ ضرور اس جہان میں شیطان سے بچ کر نیک راہیں اختیار کرے گا۔ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور جنت کی پر آسائش زندگی حاصل کرے گا۔ جو نقشہ ان آیات میں جنت کا پیش کیا گیا ہے وہ کیا ہی خوبصورت تصور دیا گیا ہے۔ کون بیوقوف ہے جو اس پر آسائش اور ہمیشہ رہنے والے مقام کو حاصل کرنے کے لیے اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا اور اس مٹ جانے والے جہاں کی تمام آسائشیں، دلچسپیاں اور پر کشش ماحول کو جنت کے حصول پر قربان نہ کر دے گا۔ اللہ کی طرف سے انسان کے لیے یہ خبریں وقت سے پہلے پہنچا دینا کس قدر محبت اور شفقت کی نشانیاں ہیں۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اور اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتا ہے۔ اس نے مغفرت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ جس سے گناہ ہوجائے وہ معافی مانگ سکتا ہے اللہ غفور رحیم ہے۔ وہ تو خوش ہو کر معاف کردیتا ہے لیکن اسی طرح وہ ان لوگوں کے لیے جبار وقہار بھی ہے جو نا شکرے، نافرمان، ہٹ دھرم، ضدی اور مشرکین ہیں ان کو پورے انصاف سے ضرور سزا دی جائے گی۔ اللہ تو قادر مطلق ہے وہ پیدا کرتا ہے۔ انسان بچپن، لڑکپن، جوانی اور پھر بڑھاپے تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تمام زندگی بےمقصد نہیں بلکہ با مقصد ہے۔ بڑھاپے میں انسان کی تمام قوتیں ماند پڑجاتی ہیں اور اس کے زیادہ طویل ہونے پر انسان یونہی لاچار ہوجاتا ہے جیسا کہ بچہ لاچار ہوتا ہے۔ اس لیے حضور ﷺ نے شدید بڑھاپے سے پناہ مانگی ہے۔ حدیث شریف ” اے اللہ بہت بڑھاپے سے تیری پناہ میں آتا ہوں “ (بخاری) جو اللہ انسان کو پیدا کر کے اس کو یوں مختلف درجوں سے گزار سکتا ہے وہ مردوں کو زندہ کیوں نہیں کرسکتا ؟ ضرور کرسکتا ہے اور ضرور کرے گا۔
Ayah 36:75

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

مگر وہ ان کی مدد کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کیے جائیں گے۔

پیغمبر کی بعثت اور نعمتوں کا مقصد تشریح : کفار مکہ جب قرآن پاک کی تلاوت سنتے تو وہ اس بات کو ضرور مانتے کہ اس کلام میں بڑی معقولیت ہے یہ بڑا پر اثر کلام ہے تو بجائے ایمان لے آنے کے وہ لوگ کہتے کہ یا تو محمد ﷺ شاعر ہیں یا پھر جادوگر ہیں۔ ان کے جواب میں مذکورہ آیات نازل ہوئیں اور ساتھ ہی نبی ﷺ کی شان اور اللہ کی بڑی بڑی نعمتوں میں سے چار پایوں کی نعمت کا ذکر بھی اس لیے کیا گیا کہ شاید ان عقل کے اندھوں کو کچھ سمجھ آجائے اور یہ کفر و شرک سے باز آکر اپنی عاقبت سنوار لیں۔ اور سمجھ جائیں کہ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں ان کے چھوٹے معبود ان کے کام آئیں گے اور نہ ہی وہ ان کو آخرت کے درد ناک عذاب سے بچا سکیں گے حالانکہ میدان حشر میں ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی حاضر کیا جائے گا جو کہ تعداد میں بیشمار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” وہ ان کی مدد کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کیے جائیں گے۔ “ (آیت 75 یس)
Ayahs 36:76–82

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہـیں ہمیں سب معلوم ہے۔

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑنے والا ہوگیا۔

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا۔

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

فرمادیں کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

وہی جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس کی ٹہنیوں کو رگڑ کر آگ نکالتے ہو۔

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

بھلا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو وہ پھر ویسے ہی پیدا کر دے ؟ کیوں نہیں اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا علم والا ہے۔

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرمایا دیتا ہے کہ ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے۔

لوگوں کے دوبارہ پیدا کیے جانے کے قرآنی دلائل تشریح : اللہ جل شانہ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ان کی باتوں سے یعنی کفار کی حجت بازی سے پریشان نہ ہوں۔ میرے علم میں یہ بات بخوبی ہے کہ اصل میں یہ آپ کی حقیقی خوبیوں کو جانتے ہیـں مانتے ہیں مگر صرف ضد بازی میں آپ کے سامنے اور لوگوں کے سامنے یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ انسان ہے کیا چیز ! اگر یہ اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب دلیلوں کے ساتھ مل جائیں۔ انہوں نے اگر مردہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو کیا ہوا ؟ ہر وقت یہ ہر طرف انسان، چرند پرند، پھول پھل اور ہر قسم کی نباتات کو پیدا ہوتے پھولتے پھلتے نہیں دیکھتا ؟ کیا یہ ثبوت کافی نہیں کہ میں جو اس قدر قدرتیں رکھتا ہوں کہ ویسے ہی کسی چیز کی موجودگی کے ہونے پر صرف ” کن “ ہو جاکہوں اور وہ ” ہوجائے “ اس کے علاوہ یہ ہر طرف پھیلی ہوئی دنیا اور اس میں موجود تمام چیزیں میری طاقت کی گواہی نہیں دیتیں ؟ پھر یہاں خاص طور سے ایسے درخت کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب آگ پیدا کرنے کا طریقہ انسان کو معلوم نہ تھا تو سر سبز ٹہنیوں کے آپس میں رگڑنے سے آگ پیدا کردی تاکہ انسان کے لیے آگ کا بندوبست بھی کردیا جائے کیونکہ انسانی ضروریات میں یہ بھی اہم چیز ہے تو جو اللہ اتنا کچھ اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جس کا ذکر پچھلی آیات میں کیا جا چکا ہے کرسکتا ہے تو اس کے لیے یہ کیسے مشکل کام ہے کہ وہ تمہارے جسم کے بکھرے ہوئے ذرات کو جمع کر کے دوبارہ ایک جیتا جاگتا انسان نہ بنا سکے ؟ تم نے اگر ابھی اس کو نہیں دیکھا تو اللہ تمہیں یہ ضرور دکھا دے گا اور اب تو ترقی یافتہ سائنس دان بھی اس کو مان گئے ہیں کہ یہ سائنسی نکتہ نگاہ سے بالکل ممکن ہے اس کی تفصیلات پچھلے اسباق میں گزر چکی ہیں۔ اب اس بات کو ماننا کوئی مشکل مسئلہ نہیں رہا۔ اور جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اللہ موجود ہے تو اس کی کہی ہوئی ہر بات کو اسی طرح ماننا پڑتا ہے جس طرح اس کے وجود کو بغیر دیکھے ہم مانتے ہیں۔ پھر کوئی بات بلکہ بہت سی باتیں بہت سی چیزیں اور بہت سی حقیقتیں ایسی ہیں جو علم غیب سے تعلق رکھتی ہیں جن کو ہم قرآن پاک کے دریچہ سے دیکھتے ہیں اور عقل و تجربہ پر اس کو پرکھ کر اس پر یقین کرلیتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے اگر ہمیں یہ پتہ ہو کہ ہمیں پوچھنے والا کوئی نہیں جو مرضی ہے کریں، جیسے مرضی ہے رہیں، ظلم کریں، گناہ کریں، جھوٹ بولیں، قتل کریں، غیبت کریں یا کسی کا حق مار لیں وغیرہ وغیرہ اور سوچ لیں کہ بس دنیا میں سزا سے بچ گئے تو بچ گئے مرگئے تو کون پوچھنے والا ہے۔ تو دنیا کا ہر فرد اسی طرح گناہ و فریب میں ڈوب کر زندگی گزار دے گا۔ سوائے چند ایک خاص لوگوں کے اکثریت یہی کرے گی۔ کیونکہ شیطان ہمیشہ گناہ کو مزین کر کے دکھاتا ہے۔ لیکن جب یہ معلوم ہے کہ ہر عمل ہمارے سامنے اس وقت آجائے گا جب ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور پھر انہی اعمال کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لیے جنت یا دوزخ ملے گی تو ہماری سوچ اور ہمارے اعمال میں بڑی احتیاط پیدا ہوجائے گی۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عقیدہ آخرت انسان کے لیے نیکی کی طرف چلنے اور برائی سے بچنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے کیونکہ۔ قرآن پاک میں بار بار ذکر ہے کہ وہاں کسی کے ساتھ نانصافی ہرگز نہیں ہو گیـ۔ وہ اللہ غالب وخبیر، علیم و حکیم کی عدالت ہوگی دنیا کی عدالت نہیں ہوگی۔ وہاں تو ایک ذرہ کے برابر نیکی اور ایک ذرہ کے برابر بدی چھپ نہ سکے گی۔ کون ہے جو یہ سب کچھ جان کر بھی شیطان سے دوستی کرے گا عقیدہ آخرت ہمیں ایسی روشنی اور ایسی محبت عطا کردیتا ہے عبادت، محبت، قربانی، انتظام، شفقت، بڑوں کی عزت، علم، شرم و حیا، ہمدردی، حب رسول، حب وطن اور خوف الٰہی کا بہترین درس دیتی ہے۔ کتنا خوبصورت عقیدہ ہے یہ کہ اس سے فرد ہو، قوم، یا پوری دنیا ہو سکون ہی سکون ملتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہی تو باتیں ہیں جو مسلمانوں کو دوسری قوموں سے ممتاز کرتی ہیں۔ اتر کر حرا سے سُوئے قوم آیا اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا مس خام کو جس نے کندن بنایا کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا رہا ڈرنہ بیڑے کو موج بلا کا اِدھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا (مولانا الطاف حسین حالی )
Ayah 36:83

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

وہ پاک ذات ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔

خلاصہ سورة یس سورة یس دل و دماغ کو روشن کرنے کی بہترین دوا ہے۔ کیونکہ انسان نے علوم و فنون میں بہت کافی ترقی کرلی ہے۔ مگر اس کی یہ ترقی انسان کو ظلم و جہالت، بےچینی، بےسکونی حرص و لالچ کی بھٹی میں روز بروز دھکیلتی چلی جا رہی ہے۔ انسان اپنے بنائے ہوئے معیار زندگی کے چنگل میں پھنس کر حیران و پریشان پھر رہا ہے اس کو اتنی فرصت ہی نہیں کہ خود کو ڈھونڈے۔ اگر خود کو ڈھونڈ لے تو اللہ تعالیٰ اس کو صاف دکھائی دینے لگیں کیونکہ انسان کی اپنی جسمانی فیکٹری اس کو اس کے خالق تک لے جانے کے لیے بہت بڑا وسیلہ ہے کیونکہ تمام سائنس دان مفکر پوری کوشش کے باوجود ایک چڑیا کا بچہ خود نہیں بنا سکا انسان تو بڑی چیز ہے۔ دین اسلام کے اصول و ضوابط کو اپنانے سے ہی سکون ملتا ہے اس کو جب پتہ چلا کہ وہ یونہی کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیـا بلکہ اس کی زندگی امتحان کا وقفہ ہے اور اس وقفے کے بعد وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوجائے گا مگر یہ رخصت ایک نئی زندگی کا آغازہو گا۔ جس میں اس کو اپنے کئے گئے اعمال کے مطابق حساب کتاب کے بعد نئی زندگی جنت یا جہنم کی شکل میں دی جائے گی جس کی شرط یہ ہے کہ وہ زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ یعنی اللہ پر ایمان، کتابوں پر، فرشتوں پر، رسولوں پر، عقیدہ آخرت اور تقدیر کے اچھا اور برا ہونے پر ایمان انسانی زندگی کو بےحد سکون، روشنی، توانائی اور بہترین رہنمائی دے کر ایک کامل انسان بنا سکتا ہے۔ سورة یس انہی تمام حقائق کو وضاحت سے بیان کرتی ہے اور یوں ہمارے اندر نئی روح، نیا جذبہ اور ولولہ پیدا ہوجاتا ہے جو شیطان کو بھگانے کا بہترین ہتھیار ہے۔ سیدنا محمد ﷺ کی دعا ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں “۔ (صحیح مسلم) نوٹ : ایک چھوٹی سی پیاری سی بات جس نے میری روح کو بہت پاکیزہ کردیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں مجھے زندگی دی گئی ہے اور یہ بہت تھوڑی سی ہے۔ کیونکہ پھر جلد ہی اچانک کسی وقت میں مر جاؤنگی۔ میری روح اللہ کے پاس واپس چلی جائے گی اور میرا جسم زمین میں دبا دیا جائے گا پھر ایک خاص وقت جو کہ اللہ کے پاس لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے مجھے اور تمام لوگوں کو اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ اس بات کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے انبیا کرام کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچادی، کیونکہ یہ باتیں بتانے کا کام اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کے ذمے لگا رکھا تھا ان انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے بابرکت، روشن اور بہترین کتابیں اور شریعت کے احکامات دیے کہ اس کے مطابق لوگوں کو زندگیاں گزارنے کا طریقہ اور سلیقہ سکھاؤ۔ شریعت کے احکامات سے ہمیں یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر زندگی طریقہ اور سلیقہ سے نہ گزارو گے تو اللہ تمہیں جب اپنے پاس بلائے گا تو ضرور سزا دے گا۔ اس کی سزا بڑی ہی سخت ہوگی اور ہوگی بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ اور اگر طریقہ اور سلیقہ سے زندگی کزارو گے تو تمہیں بےحد شاندار، خوبصورت اور پر آسائش زندگی دی جائے گی اور یہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دی جائے گی۔ کتنے مزے کی بات ہے۔ بس اب تو میں ایک قدم بھی ایسا نہیں اٹھانا چاہتی کہ جو اللہ کی مرضی کے خلاف ہو۔ اللہ کی مرضی کیا ہے ؟ یہی نا ! کہ میں غلط کام نہ کروں۔ غلط کام کیا ہے ؟ غلط کام وہ ہے جو میں چھپ کر کروں یا جس کو لوگوں سے چھپاؤں تاکہ کوئی مجھے ڈانٹ نہ سکے، بس وہی غلط کام ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مجھے اپنے اس ارادے میں کامیاب کرے اور اس راستے کو میرے لیے آسان کر دے اور قیامت کے روز میرا حساب آسان لے۔ ( آمین ثم آمین)