Ayah 35:1آسمان زمین اور فرشتے سب اللہ کے بنائے ہوئے ہیں
تشریح : یہ آیت علم و عرفان کا خزانہ ہے۔ جیسے جیسے ہم اوپر نیچے دیکھتے ہیں اللہ کی کاریگری کے بیشمار عجوبے نظر آتے ہیں۔ آسمان کو دیکھیں تو بہترین اور عجیب، زمین کو دیکھیں تو وہ بھی بہترین اور عجیب۔ یہ کب پیدا ہوئے ؟ کیسے بنے ؟ اور کس نے بنائے ؟ قرآن پاک ان تمام سوالوں کا جواب مختصراً دیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ نے اپنی قدرت سے انسان کے لیے اور باقی تمام مخلوقات کے لیے بنائے ہیں کیونکہ وہ ہر چیز، ہر بات، ہر وقت اور ہر زمانے پر پوری قدرت رکھتا ہے اس لیے یہ سب بنانے کے لیے اس نے بغیر کسی کی مدد بغیر نقشے اور بغیر مادے کے صرف یہ فرمایا ” کن “ ” ہوجا “۔ ” فیکون “” اور وہ ہوگیا “۔ اب سائنس دان اور cosmology کے ماہر اس جستجو میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ یہ کیسے ہوا ؟ بہت محنت کے بعد جدید دور میں پہلی مرتبہ یہ کہا گیا کہ ” آج سے تقریباً دس سے بیس ارب سال قبل ایک خاص قسم کے دھماکے سے وجود میں آئی جسے big Bang کہا جاتا ہے “۔ یہ اعداد و شمار ڈاکٹر دلدار احمد قادری کی کتاب سے لیے گئے ہیں۔ لکھتے ہیں۔
” Big Bang کے بعدسکینڈ (ایک سکینڈ کا ہزارواں حصہ) سے قبل کائنات بلند توانائی کی روشنی میں مشتمل تھی۔ اس کا درجہ حرارت 1012 کیلون سے زیادہ اور کثافت (Density) 5x1013 گرام فی مکعب سینٹی میٹر تھی۔ یہ روشنی بہت چھوٹی طول موج کی گا ما شعاعوں پر مبنی خیال کی جاتی ہے۔ جس کی توانائی بہت زیادہ خیال کی جاتی ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ ہم کائنات کی تاریخ صفر وقت سے یعنی جب کائنات کا آغاز ہوا شروع نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے سائنسی قوانین اس صورت حال کو جو اس وقت تھی بیان نہیں کرسکتے “۔ (از کائنات قرآن اور سائنس صفحہ :43)
یہ تو صرف انسانی کاوش ہے جو بدل بھی سکتی ہے مگر قدرت کے قوانین اٹل، بہترین اور پائیدار ہیں۔ اس کے بعد اس مخلوق کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس کو آج تک کوئی سائنسدان معلوم نہیں کرسکا اور وہ ہیں ” فرشتے “۔ اللہ تعالیٰ نے چند الفاظ میں ان کی وضاحت کردی ہے یعنی وہ انتہائی تیز رفتار پروں والی مخلوق ہے۔ اس کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ انسانی آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی۔ اس کے بیشمار کام ہیں جن میں سے یہاں صرف پیغام رسانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ کتابوں سے ان کا نام سیدناجبریل معلوم ہوا ہے۔ اللہ نے اس کی جسمانی ساخت صرف اتنی ہی بتائیـ ہے کہ ان کے پر ہوتے ہیں کسی کے دو دو، کسی کے تین تین اور کسی کے چار چار اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ جبریل (علیہ السلام) کے متعلق بعض مستند روایات میں ہے کہ ان کے چھ سو پر ہیں (بخاری) تو ہوسکتا ہے کہ اس سے زیادہ پروں والے بھی ہوں یہ تو اللہ کی مرضی پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ انسان پھر کھوج میں چل نکلا تو معلوم ہوا کہ یہ غیر مادی مخلوق ہیں اور ان میں اپنے کام کی مطابقت سے کوئی خاص قسم کی توانائی ہے۔ سلطان بشیر محمود صاحب لکھتے ہیں۔ ” فرشتے وہ اعلیٰ حقیقت ہیں جسے عقل انسانی سمجھ نہیں سکتی۔ لیکن وہ ہر جگہ ہر آن ایسے ہی موجود ہیں جیسے فضا کے نکتہ نکتہ میں ٹیلی ویژن کی آوازیں اور تصویریں موجود ہیں لیکن یہ سب ہمیں نظر نہیں آتیں ان کو دیکھنے کے لیے ایریل اور ٹیوی سیٹ چاہیے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ زمین و آسمان کے چپے چپے پر ستر ہزار فرشتے موجود ہیں لیکن ان کو دیکھنے کے لیے (روحانی طاقت) قلبی آنکھیں چائیں۔ “ از (قیامت اور حیات بعد الموت)
قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کی تعداد بہت زیادہ لیکن معروف اور مشہور فرشتے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ انبیاء کی طرف یا مختلف مہمات پر قاصد بنا کر بھیجتا ہے۔
Ayahs 35:2–8شیطان انسان کا دشمن ہے
تشریح : اوپر دی گئی آیات کو جب ہم غور سے پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت کا پورا یقین ہوجاتا ہے پھر ہمیں اس کا پروگرام سمجھ آ نے لگتا ہے اور یوں تو کل مضبوط ہوجاتا ہے۔ پھر مضبوط ایمان و ارادہ ہمیں شیطان سے نمٹنے کی پوری طاقت دے دیتا ہے اور ہم اپنے نیکی کے فرشتوں کی مدد سے اس کو ہرا دیتے ہیں اسی کو کہتے ہیں مرد کامل یعنی کامیاب انسان۔ فرشتوں کا ذکر ہوچکا اب ذرا شیطان کا مطلب بھی سمجھ لیا جائے تو شیطان جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے برائی کرنے والا، برا راستہ دکھانے والا۔ انسان کی پیدائش پر شیطان ناراض ہوگیا تھا کیونکہ یہ بھی انسان کی طرح عمل اور ارادہ کی طاقت رکھتا ہے اور اس لیے دنیا میں اسی کی چہل پہل تھی تو اللہ نے انسان کو اس سے برتر مخلوق بنا دیا تبھی تو انسان کو سجدہ کروایا اس وقت شیطان اکڑ گیا اور کہنے لگا کہ میں تو آگ سے بنا ہوں، یہ مٹی سے بنا ہے لہذا میں بڑا ہوں، میں اس کو سجدہ نہیں کروں گا۔ اللہ نے اس پر لعنت بھیج دی اور اس نے کہا کہ میں ہمیشہ تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا۔ جب سے انسان کے ساتھ دو مخلوق اور بھی منسلک ہوگئیں یعنی فرشتے اور شیطان۔ شیطان کو صرف اتنی ہی طاقت دی گئی ہے کہ وہ ہر برے کام میں اتنی کشش اور اچھائی بیان کرتا ہے کہ کمزور بندہ نیکی کی راہ چھوڑ کر اس کے کہنے میں آجاتا ہے۔ جبکہ مضبوط ایمان والا انسان اس کے بہلانے پھسلانے میں ہرگز نہیں آتا۔ ورنہ تو اگر وہ انسان کو مجبور کرنے کی طاقت رکھتا ہوتا تو کوئی بھی اس کی گرفت سے نہ بچ سکتا۔ آیت نمبر 5 میں اللہ فرماتا ہے۔ ” بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی اسے دشمن سمجھو “۔ نیک فطرت لوگوں کے لیے اللہ نیکی کی راہیں کھول دیتا ہے اور بد فطرت کے لیے بدی کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔
تو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ گمراہوں کے لیے جان ہلکان نہ کریں۔ بس اللہ کا پیغام کھول کھول کر بیان کرتے جائیں۔ عمل کرنا، نہ کرنا، ان لوگوں کا اپنا کام ہے۔ اور فرمایا کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ اللہ اپنے وعدے کے مطابق ان کی ضرور خبر لے گا۔ آپ بالکل فکر نہ کریں۔
Ayahs 35:9–11اللہ کی قدرتیں اور اس کا نظام
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، طاقت اور عظمت کو دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے سب سے پہلے ہواؤں کا ذکر ہے۔ ہوا ہر قسم کی مخلوقات کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیا حیوانات، نباتات یا جمادات ہوں سب کی بقاء (زندگی) کے لیے ہوا اتنی ہی ضروری ہے جنتی کہ پانی، خوراک اور روشنی ہے۔ ہوا کے ذریعے پانی کا بندوسبت ہوتا ہے جو مردہ اور خشک زمین کو دوبارہ زندہ کردیتا ہے۔ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اور انسان و حیوان کے لیے چارہ اور خوراک اگنے لگتا ہے۔
اب ہواؤں کے عمل کو ذرا وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔ سورج کی کرنیں ہر اس جگہ سے پانی بھاپ بنا کر اوپر اڑانے لگتی ہیں۔ یہ بھاپ اتنی بلندی پر چلی جاتی ہے جہاں وہ بادلوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے اب ہواؤں کا کام شروع ہوتا ہے۔ وہ ان بادلوں کو اڑا کر دور دراز علاقوں میں لے جاتے ہیں جہاں بادل اللہ کے حکم سے اپنا کام مکمل ہونے پر برس پڑتے ہیں اور یوں دنیا کے مختلف حصوں کو سیراب کردیتے ہیں۔ یہ پانی دوبارہ بھاپ کے عمل کے لیے یا تو زمین میں جذب ہوجاتا ہے یا ندی نالے اور چشموں کو بھر دیتا ہے یا پھر سمندر میں جا گرتا ہے۔ سطح زمین کا 70 فیصد حصہ سمندروں سے ڈھکا ہوا ہے۔ لہٰذا بھاپ، ہوا اور بادل کا عمل پھر سے شروع ہوجاتا ہے اور وقفہ وقفہ سے ضرورت کے مطابق انسان کو پانی کی سپلائی مستقل ہوتی رہتی ہے۔ یہ پانی کی سپلائی خالصتاً اللہ جل شانہ، کے ہی ہاتھ میں ہے۔ موجودہ دور میں جو انسان مصنوعی بارش کی کوشش کر رہا ہے تو اس کے بارے میں فرانسیسی دفتر موسمیات کے ایک ماہر ایم اے فارسی نے بارش کے عنوان کے تحت انسائیکلوپیڈیا اونی ور سالیس میں حسب ذیل بیان دیا ہے جس کو مورس بوکائے صاحب نے یوں لکھا ہے۔ ” یہ بات کبھی بھی ممکن نہیں ہو سکے گی کہ کسی ایسے بادل سے جس نے ابرمیر (برسنے والے بادل) کی مناسب خصوصیات حاصل نہ کرلی ہوں یا ابھی ارتقاء کے مناسب مرحلہ پر نہ پہنچ گئے ہوں بارش برسائیـ جاسکے۔ “ (از بائبل قرآن اور سائنس)
لہٰذا اللہ کے اس طے شدہ پروگرام میں دخل اندازی مشکل کام ہے مہنگا اور پھر کچھ تکلیف دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ دنیا کے اتنے دور دراز علاقوں میں جہاں دریا، ندی نالے یا پانی پہنچانے کا کوئی اور وسیلہ نہیں وہاں سوائے اللہ کے بنائے ہوئے نظام، بادل اور ہواؤں کے اور کیا ذریعہ ہوسکتا ہے ؟ بیشمار زمین بارانی ہے جہاں صرف بارش کے پانی سے ہی ذراعت کا کام چلتا ہے۔ سبحان اللہ واقعی اللہ کی شان اور قدرتیں لاجواب ہیں۔ اب یہاں سے ایک نکتہ اور بتایا جا رہا ہے کہ جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہوجانے پر شک و شبہ کرتے ہیں ان کو زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجانے کو دیکھ کر سمجھ لینا چاہیے کہ اسی طرح انسان بھی اللہ کے حکم سے دوبارہ ضرور زندہ ہوگا۔ ہلوک نور باقی صاحب اپنی کتاب میں اسی کی وضاحت سائنسی نکتہ نظر سے یوں کرتے ہیں :” ہمارا دوبارہ زندہ ہونا اللہ کے حکم کے مطابق ہمارے زندگی کے قوانین code کی مثل ہے۔ جو زمین میں باقی رہتے ہیں۔ یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ جس طرح بارش ایک مردہ زمین سے نامیاتی کوڈ کو بروئے کار لاتی ہے (زمین کے اندر چھپے ہوئے مردہ اجسام) اور فوراً زندگی جلا پاتی ہے (مردہ اجسام زندہ ہوجاتے ہیں) جو زمین کے اندر پڑے ہوتے ہیں، بارش سے زندہ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ کے حکم یا مرضی سے انسانی کوڈ بھی ایک کمپیوٹر کی رفتار سے دوبارہ زندہ ہوجائے گا کہ ” زندہ ہوجاؤ اٹھو “۔ جس طرح اللہ بارش کی معرفت زیر زمین زندگی کو جلا (زندگی) دیتا ہے اسی طرح وہ جب چاہے گا ہمیں دوبارہ زندگی دے دے گا۔ سیدناآدم (علیہ السلام) کے وقت سے تقریباً دس ارب انسان دنیا میں رہ چکے ہیں ہر انسان کا کوڈ ایک مائیکرون (سائز میں ایک میٹر کا دس لاکھواں حصہ) کے برابر ہے۔ اگر ان تمام کوڈ کو اکٹھا کیا جائے تو یہ ایک گلاس کو بھی نہ بھر سکیں اگر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے تولیدی کوڈ Genetic code زمین میں بکھیر کر حکم دیں ” بن جاؤ “ تو تمام انسان آنکھ چھپکتے ہی پیدا ہوجائیں۔ “ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق)
یہ مضمون گزشتہ اسباق میں بھی دیا جا چکا ہے۔ دوبارہ اس لئے دیا جا رہا ہے کیونکہ کفار ملحد اور غیر مسلم اس بات کو ہرگز ماننے کے لیے تیار نہیں تو ان کے لیے دہرایا جا رہا ہے۔ اور زمین کی تشبیہ سائنسی قانون کے تحت دی جا رہی ہے کہ جس طرح پانی سے مردہ اور خشک زمین میں ہرا بھرا ہونے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے اسی طرح اللہ کے لیے انسان کے حیاتیاتی تولیدی کوڈ (Biological Genetic Code) کو دوبارہ زندہ کردینا کوئی مشکل بات نہیں۔ کیا یہ اللہ کی عظمت کا ایک بہترین نمونہ نہیں ہے ؟ پھر انسان کو عزت و قار اور کامیابیاں حاصل کرنے کا بہترین راستہ بتایا گیا ہے کہ تمام عزت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی سے مانگو، نیک عمل کرو، اللہ کے بندوں کی مدد کرتے رہو، اچھی باتیں، نیک نیت اور خلوص کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لو تو یہ سب راستے تمہیں اللہ کے ہاں مقبول بنانے والے ہیں اور یوں اللہ تبارک تعالیٰ تمہیں نہ صرف دنیا میں ہی بلکہ آخرت میں بھی شاندار عزت بہترین مقام اور کامیابیاں عطاء کرے گا۔ شیطان اور دشمن کی چالیں اللہ کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ اللہ اس قدر رحیم و کریم ہے قدرت، والا ہے کہ اس نے پہلے تو تمہیں مٹی سے بنایا جیسا کہ سورة البقرہ میں اور کئی سورتوں میں بتایا جا چکا ہے پھر نطفہ سے بنایا۔ اس تولیدی نظام کے لیے جوڑے بنائے مثلاً عورت مرد اسی طرح تمام حیوانات اور نباتات میں تولیدی نظام یعنی پیدائش کا نظام جوڑوں کے ذریعے ہی مکمل کیا گیا ہے۔ اللہ کی وحدانیت کا یہ بھی ایک ثبوت ہے کہ وہ واحد ہے اور دنیا و آسمان میں کوئی چیز اس لحاظ سے اس کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتی۔ ہر چیز جوڑوں کی صورت میں وجود رکھتی ہے یعنی گو کہ ہر چیز بنیادی طور پر آپس میں مشابہت رکھتی ہے مگر اکیلی نہیں بلکہ اس کی بقاء دو میں ہے۔ مثلاً مرد عورت، نرمی سختی، گرمی سردی، یعنی دو چیزیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہونے کے باوجود اپنی خاصیت اور اثر کے لحاظ سے ایک دوسرے کی مخالف ہوسکتی ہیں۔ یہ جوڑوں کا تصور طبیعیات میں بنیادی اصول ہے کیونکہ کائنات میں ہر ذرے کا ایک برقی بار (charge) اور چکر (Spin) ہوتا ہے۔ جب ایک جو ہر بنتا ہے تو اس کا مخالف جڑواں (Opposite Twin) بھی بن جاتا ہے۔ جو ثابت کرتا ہے کہ ہر چیز جوڑوں میں بنتی ہے۔ یہ بحث کافی طویل ہے انشاء اللہ آئندہ اس پر مفصل بات کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت کو بیان کرنا پوری طرح سے بہت مشکل کام ہے۔ مگر اس علی ّالعظیم نے ہر بندے بشر کے بارے میں اپنے پاس لکھ رکھا ہے۔ یہ بات بڑی مشکل ہے کیونکہ انسان تو اپنے آباو اجداد کو بھی پچھلی نسلوں تک نہیں جانتا مگر اللہ علیم و حکیم کے لیے یہ کوئی مشکل بات نہیں کہ ہر پیدا ہونے والے، ہر زندگی بسر کرنے والے اور ہر مرجانے والے کا علیحدہ علیحدہ حساب اس نے اپنے پاس لکھ کر رکھا ہے جس میں کسی غلطی کا امکان نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ ہی پیدا کرتی ہے مگر اس (اللہ) کے علم میں ہے۔ اور نہ کسی بڑی عمر والے کو زیادہ عمر دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے، مگر سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ بیشک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ اللہ اکبر، اللہ الصمد مذکورہ آیات میں اللہ کی کبریائی، وحدانیت اور عظمت کے ثبوت میں یہ سب بیان کیا گیا ہے یعنی :
1۔ ہواؤں کا چلنا۔ 2۔ بادلوں کا بننا۔ 3۔ زمین کا دوبارہ زندہ ہوجانا۔
4۔ اسی طرح انسان کا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجانا۔
5۔ انسان کی پیدائش مٹی سے کی اور پھر نطفہ سے۔
6۔ ہر چیز جوڑوں میں پیدا کی گئیـ کیونکہ واحد صرف اللہ کی ذات ہے۔
Ayahs 35:12–14اللہ کی قدرتیں اور جھوٹے معبودوں کی بےبسی
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ رب العزت کی نعمتوں اور رحمتوں کا ذکر دوبارہ کیا گیا ہے۔ قدرت کے بہترین شاہکار یعنی (1) میٹھے اور کھاری پانی کا ایک ساتھ بہنا اور آپس میں مکس نہ ہونا اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ (2) پانی کی یہ خاصیت کہ وہ کشتیوں کو انسانوں اور مال سمیت لیکر تیرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں مدد کرتا ہے اور یہ نقل و حمل کا ایک سستا ذریعہ ہے۔ (3) رات اور دن کا باری باری آنا۔ انسان کے لیے بہترین نعمت ہے۔ یہ بہترین طبیعیاتی نظام ہے۔ جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے (4) کائنات کے نظام کا قیام اس قدر حیرت انگیز ہے کہ انسان حیران ہوجاتا ہے۔
مولانا وحید الدین خان صاحب لکھتے ہیں ” زمین، سورج، چاند، ستارے سب کے سب گردش میں ہیں۔ یہ ساری حرکت حیرت انگیز طور پر نہایت تنظیم اور باقاعدگی کے ساتھ ہو رہی ہے، اور نہ ان میں ٹکراؤ ہوتا ہے نہ رفتار میں کوئی فرق پڑتا ہے۔ زمین کی حرکت سورج کے گرد ہر درجہ منضبط ہے اسی طرح اپنے محور کے اوپر اس کی گردش اتنی صحیح ہے کہ صدیوں کے اندر بھی اس میں ایک سکینڈ کا فرق نہیں آنے پاتا، زمین کا سیارہ جس کو چاند کہتے ہیں، اس کی گردش بھی پوری طرح مقرر ہے، اس میں جو تھوڑا سا فرق ہوتا ہے وہ بھی ہر سال 18½سال کے بعد نہایت صحت کے ساتھ دہرایا جاتا ہے، یہی تمام اجرام سماوی کا حال ہے، حتیٰ کہ ماہرین فلکیات کے اندازے کے مطابق اکثر خلائی گردش کے دوران ایک پورا کہکشانی نظام، جو اربوں ستاروں پر مشتمل ہوتا ہے، دوسرے کہکشانی نظام میں حرکت کرتا ہوا داخل ہوتا ہے، اور پھر اس سے نکل جاتا ہے۔ مگر باہم کسی قسم کا ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا۔ اس عظیم اور حیرت انگیز تنظیم کو دیکھ کر عقل کو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یہ اپنے آپ قائم نہیں ہے بلکہ کوئی غیر معمولی طاقت ہے جس نے اس اتھاہ نظام کو قائم کر رکھا ہے “۔
اور وہ طاقت وہی ہے جسے اللہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی معبود ہونے کے قابل نہیں کیونکہ جہاں اللہ کی اتنی بیشمار قدرتیں اور طاقتیں ہیں تو اس کے مقابلہ میں کفار جن جن چیزوں کی پوجا کرتے ہیں ان میں تو اتنی معمولی قدرت بھی نہیں کہ وہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جو ہلکا سا چھلکا ہوتا ہے وہ بھی بنا سکیں۔ اللہ رحمن ورحیم نے کتنی زبردست مثال دی ہے اگر کفار سمجھنا چاہیں تو بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں مگر ان لوگوں کی تو عقلیں ہی ماری گئی ہیں۔ ان کو اتنا بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ چیزیں تو خود اللہ کی محتاج ہیں یہ بھلا ان کی حاجات کو کیسے پورا کرسکتے ہیں ؟ یہ تو خود اللہ کے رحم و کرم پر ہیں، قیامت کے دن یہ ان کی کیا مدد کرسکیں گے اور ان کو عذاب سے کیسے بچا سکیں گے لہذا ان لوگوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ مشکل ڈالنے والا اور مشکل سے نکالنے والا بندے کی سننے والا اور بندے کو راہ دکھانے والا صرف اور صرف ایک اللہ ہی ہے کیونکہ اتنی کائنات اور اس کی ہر چیز کو بنانے والا، چلانے والا اور پھر مقررہ وقت پر ختم کرنے والا، پھر اپنی طرف واپس لے جانے والا اور ہر ہر چیز کی خبر رکھنے والا اور وقت پر خبردار کرنے والا صرف ایک اللہ ہی ہے۔ جو واحد ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ لا الہ الا اللہ، واحدہ لاشریک لہ۔ وہ اکیلا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ کتنی سیدھی اور آسان بات ہے مگر ان لوگوں کی عقلوں پر ایسے پردے پڑے ہوئے ہیں کہ ان کو سمجھ ہی نہیں آتی پھر مزید اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے۔