35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 35:15–45

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بےپرواہ سب تعریفوں والا ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر چاہے تو تم کو نیست و نابود کردے اور نئی مخلوقات لا کر آباد کر دے۔

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں۔

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) کوئی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہ ہوگا۔ اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنے بوجھ کو بٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا، اگرچہ قرابتدا رہی ہو۔ اے پیغمبر آپ انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو، جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں۔ جو شخص پاک ہوتا ہے وہ اپنے لیے ہی پاک ہوتا ہے اور سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں۔

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

نہ اندھیرا اور روشنی۔

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور دھوپ۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

نہ زندہ اور مردے برابر ہوسکتے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور تم ان کو جو قبروں میں دفن ہیں نہیں سنا سکتے۔

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو صرف ڈرانے والے ہو۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ڈرانے والا گزر چکا ہے

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں بلاشبہ تو جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی اپنے پیغمبروں کو جھٹلا چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح دلیلوں کے ساتھ اور صحیفوں کے ساتھ اور اور روشن کتاب کے ساتھ آتے تھے۔

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے کفار کو پکڑ لیا، سو دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسا ہوا ؟۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے مینہ برسایا تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کیے اور پہاڑوں میں سرخ اور سفید رنگوں کے قطعات ہیں اور بعض کالے سیاہ ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

انسانوں، جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں، بیشک اللہ غالب اور بخشنے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت کے فائدے کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی۔

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

کیونکہ اللہ ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا وہ تو بخشنے والا اور قدر دان بھی ہے۔

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور ان کو دیکھنے والا ہے

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں ‘ یہی بڑا فضل ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے رہنے کے باغ ہیں جن میں وہ جائیں گے۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کے لباس ریشمی ہوں گے۔

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا بیشک ہمارا رب بخشنے والا اور قدر دان ہے۔

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہمیں اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے والے گھر میں اتارا۔ یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تھکاوٹ ہی ہوگی۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے، نہ انہیں موت آئے گی کہ مرجائیں اور نہ اس کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا “ م ہر ایک ناشکرے کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

وہ اس میں چلائیں گے کہ ” اے رب ہم کو نکال لے اب ہم نیک عمل کیا کریں گے۔ نہ کہ وہ جو پہلے کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا، تو اب مزے چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے، وہ تو دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں جانشین بنایا تو جس نے کفر کیا اس کے کفر کا نقصان اسی کو ہے، اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کفار کو ان کا کفر ہی زیادہ نقصان دیتا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

بھلا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی یا بتاؤ کہ آسمانوں میں ان کی شرکت ہے یا ہم نے ان کو کتاب دی ہے جس کی وہ سند رکھتے ہیں ؟ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں بلکہ ظالم ایک دوسرے کو ہی صرف فریب کا وعدہ دیتے ہیں ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں، اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے بیشک وہ بردبار اور بخشنے والا ہے۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور یہ اللہ کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت پانے والے ہونگے۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی۔

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

انہوں نے ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا اختیار کیا، اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں، سو تم اللہ کی عادت میں ہرگز تبدیلی نہ پاؤ گے اور اللہ کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے۔

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں کبھی سیر نہیں کی ؟ تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بہت زیادہ تھے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس کو عاجز کرسکے۔ وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا تو روئے زمین پر ایک بھی چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دیے جاتا ہے، سو جب ان کا وقت آجائے گا تو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اللہ تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے

سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان کیا گیا ہے۔ سزا اور جزا کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ پھر دوزخ اور جنت کے بھی درجات ہوں گے جیسا کہ اہل ایمان کے بھی تین گروہ ہوں گے۔ یعنی علماء، صالحین اور ہلکے و زیادہ نیک بندے۔ بہر حال اللہ غفور رحیم، عزیز غفور، خبیر بصیر اور غفور شکور ہے۔ اسی لیے اس نے قرآن و رسول بھیجا اور بار بار اپنی تخلیقات اور رحم و کرم کا ذکر کیا کہ لوگ نیکی اختیار کر کے فلاح پائیں۔ ڈاکٹر دلدار احمد قادری صاحب اس کو بڑے اچھے انداز میں بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ” خالصتاً مذہبی پلیٹ فارم سے آزادانہ تحقیق و جستجو، غور و فکر اور تعقل و تدبیر کی دعوت تحریک دے کر قرآن نے تاریخ انسانی میں ایک نئے فکری دور کی بنیاد رکھی ہے۔ قرآنی تعلیمات نے علم و شعور کے فروغ کے لیے قوت محرکہ کا کام کیا۔ اور یہ قرآنی تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا کہ کسی بھی قسم کے علم و فن سے عاری، تہذیب کے روایتی تاریخی مراکز سے دور شرک و بت پرستی اور توہمات کا شکار ایک جاہل قوم تاریخ انسانی کے ایک ڈیڑھ صدی کے حیرت انگیز طور پر مختصر ترین عرصہ میں علم و فن اور تہذیب و تمدن کا عالمی مرکز بن گئی۔ تاریخ انسانی کا غیر جانبدارانہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا کی تمام تر موجودہ علمی و تہذیبی ترقی اسی علمی و فکری تحریک کا تسلسل اور نتیجہ ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال قبل برپا کیا تھا۔ یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر قرآن نازل نہ ہوتا تو انسانیت ہمیشہ کبھی نہ ختم ہونے والے تاریک دور میں مبتلاء رہتی۔ “ (از کائنات قرآن اور سائنس) ماہر تاریخ مائیکل ٹارٹ نے اپنی مشہور کتاب ” The 100“ میں اس حقیقت کا اقرار کیا ہے ” کہ نبی اکرم ﷺ نے انسانی تاریخ پر تمام بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ اثر مرتب کیا ہے “۔ اور یہ احسان اصل میں اللہ رحیم و کریم خالق اعلیٰ نے اپنے بندوں پر کیا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کی پہچان اس سے محبت اس پر ایمان اور بھروسہ آدمی کی ہر پریشانی، غم اور فکر کی دوا ہے کیونکہ یہ اندرونی طاقت روحانی روشنی، غم اور فکر کی دوا ہے کیونکہ یہ اندرونی طاقت روحانی روشنی، اللہ کی محبت انسان کو تمام فکروں سے نجات دلا کر بےحد سکون، فرحت اور مسرت عطاء کرتی ہے۔ جب کہ موجودہ سائنسی ایجادات نے انسان کو بلند وبالا عمارات، شاندار مشینیں بہترین سہولیات دی ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ان سائنس اور ٹیکنالوجی کی چار سو سالہ ایجادات نے انسان کو ذہنی سکون اور قلبی خوشی سے کافی حد تک دور کر رکھا ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ سائنس کا اگلا قدم مذہب کی طرف ہوگا۔ مثلاً زندگی کی بہترین تنظیم کے لیے آخرت کا تصور دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ مولانا وحیدالدین صاحب لکھتے ہیں کہ ” والٹیر کسی مابعد الطبیعی حقیقت کو نہیں مانتا مگر اس کے نزدیک ” اللہ اور دوسری زندگی کے تصور کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ وہ اخلاقیات کے (Postulates of Moral feeling) کا کام دیتے ہیں۔ اس کے نزدیک صرف اسی کے ذریعہ سے بہتر اخلاق کی فضا پیدا کی جاسکتی ہے۔ ، اگر یہ عقیدہ ختم ہوجائے تو حسن عمل (نیک عمل) کے لیے کوئی محرک باقی نہیں رہتا، اور اس طرح سماجی نظام کا برقرار رہنا ناممکن ہوجاتا ہے “۔ (History of Philosophy by Windelband, P, 496 از مذہب اور جدید چیلنج ) سیدھی سی بات ہے کہ ہمیں اللہ نے پیدا کیا ہے وہ اکیلا ہے اس کو کسی بھی کام میں کسی قسم کے مددگار کی ضرورت نہیں۔ اس نے تمام مخلوقات سے بہترین مخلوق انسان کی صورت میں پیدا کی۔ اس کی پیدائش بےمعنی اور فضول نہیں۔ اس کو عقل، سمجھ اور ہدایت دی ہے۔ اور بتا دیا گیا ہے کہ یہ دنیا عمل اور امتحان کی دنیا ہے۔ آخرت میں حساب کتاب کے بعد سزا اور جزا ضرور ملے گی اگر یہ ڈر نہ ہو تو انسان شتر بےمہار کی طرح زندگی گزارنے لگے۔ اور 1 یوں بےاصول اور بےمقصد زندگی انسان کو سکون، چین اور نظم وضبط سے بالکل بےفکر کر دے تو پھر جنگل کی حیوانی زندگی اور انسان کی تہذیبی زندگی میں کوئی فرق ہی نہ رہ جائے۔ مذہبی عقیدے کی اسی اہمیت کی بنا پر سترھویں صدی کے آخر کے ایک نامور جج میتھوہیل نے کہا ہے۔ ” یہ کہنا کہ مذہب ایک فریب ہے، ان تمام ذمہ داریوں اور پابندیوں کو منسوخ کرنا ہے جن سے سماجی نظم کو برقرار رکھا جاتا ہے “۔ ) از ( Religion without revelation P-115 تمام مذاہب جو گزر چکے تمام رسول جو گزر چکے سب نے ہی توحید کی تعلیم دی امن و سکون اور تصور آخرت کا سبق دیا۔ مگر مذہب اسلام کی یہ خاصیت ہے کہ اس کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ اور ہم مسلمانوں پر اس کا خاص فضل، خاص کرم اور مہربانی ہے۔ کہ ہم امت محمد ہیں۔ وہ بدنصیب لوگ ہیں جو اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ دعا : ” میں اس اللہ سے بخشش اور معافی چاہتی ہوں جو حی ّقیوم ہے اور اس کے حضور میں توبہ کرتی ہوں “۔ (ترمذی) خلاصہ سورة فاطر اس سورة مبارکہ میں انسان کے لیے کچھ ایسی بہترین حقیقتیں اس جہاں کی اور اگلے جہاں کی بتائی گئی ہیں جن کو ہم اپنے اوپر اللہ کا خاص فضل و کرم کہہ سکتے ہیں۔ اور وہ ہیں۔ بہترین معبود، بہترین رسول، بہترین کتاب، بہترین دین، بہترین انسان، بہترین زندگی دنیوی و آخروی، بہترین راستہ اور بہترین انعام۔ جس کو ہم اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ الہ العٰلمین بہترین معبود ہے۔ سیدنامحمد ﷺ بہترین رسول، قرآن پاک بہترین کتاب، اسلام بہترین دین، مسلمان بہترین انسان، بہترین زندگی تقویٰ کی زندگی اور بہترین راستہ اللہ و رسول کا پاکیزہ راستہ اور پھر بہترین انعام جنت الفردوس ہے۔ اس کے علاوہ، ہر معبود، ہر راستہ، ہر عقیدہ اور شیطان کی دوستی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بد ترین سزاء کا موجب بنتا ہے اور بد ترین ٹھکانا دوزخ بتایا گیا ہے۔ اللہ نے سب کچھ تفصیل سے بتا دیا ہے انسان کو اختیار دیا گیا ہے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور فرشتوں کو پیغام دینا سکھایا گیا ہے اور ایسی طاقت دی گئی ہے کہ حیرت انگیز رفتار سے اوپر سے نیچے سفر کرسکیں۔ عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام میرا سجود بھی حجاب میرا قیام بھی حجاب (علامہ اقبال)