34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 34:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ ہی کی ہے۔ جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی یہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے اور وہ حکمت والا اور خبردار ہے۔

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے اور وہ مہربان اور بخشنے والا ہے

ﷲ کی حمد وثناء تشریح : اللہ الہ العٰلمین ہے۔ رب العٰلمین ہے۔ خالق کون و مکان ہے۔ رب المشرقین و المغربین ہے۔ حافظ و ناصر ہے۔ علی العظیم ہے۔ حی القیوم ہے یعنی اسی کا سب کچھ پیدا کیا ہوا ہے اسی کے حکم اور ارادے سے ہر چیز حرکت کرتی ہے۔ پیدا ہوتی ہے نشو ونما پاتی ہے پھر ختم ہوجاتی ہے اور پھر اسی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ کرنے میں نہ تو اس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ انسانی عقل میں اللہ کا وجود نہیں آسکتا اسی طرح اس کی تعریف اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں کی تعریف نہ تو انسان کے بس میں ہے اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت اور طاقت ہے کہ وہ اس کی تخلیقات کو گن سکے یا ان کی پوری طرح تعریف کرسکے۔ سارا جہاں ہماری نظروں کے سامنے ہے اور آخرت کے جہاں کا جو تصور ہمیں قرآن پاک میں دیا گیا ہے بس ہماری بساط تو اتنی ہی ہے گو کہ ان اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کی انسان ہر وقت کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ کوشش اور علم بھی اللہ ہی کی طرف سے عطا کیا ہوا ہے۔ اسی حد تک سائنس دان، ہیئت دان طبیب اور حکماء تحقیق اور جستجو میں آگے نکل سکتے ہیں جتنی اللہ جل شانہ نے ان کو اجازت دے رکھی ہے۔ اور یہ کوشش بھی اللہ کی تعریف کرنے کا ایک انداز اور ذریعہ ہے۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے۔ اسی لیے بندے کا کام ہے اس کی بندگی کرے کیونکہ وہ اللہ ہی ہمارا اصلی آقا ہے۔ اسی سے ہر وقت مانگے۔ جاری ہے فیض رب کا جو چاہے سو طلب کر بہر دعا سراپا دست دراز ہوجا
Ayahs 34:3–9

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔ کہہ دو کیوں نہیں آئے گی ؟ میرے رب کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی۔ وہ رب العزت غیب کا جاننے والا ہے ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز اس سے چھوٹی یا بڑی نہیں مگر کتاب روشن میں لکھی ہوئی ہے۔

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں ان کے لیے سخت درد دینے والے عذاب کی سز ا ہے۔

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو قرآن تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے اور اللہ جو غالب ہے اور تعریف کے قابل ہے اس کا رستہ بتاتا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم مر کر بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہو گے۔

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

یا تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا وہ پاگل ہے۔ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے۔ یعنی آسمان اور زمین اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ اس میں ہر بندے کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے۔

ﷲ کی قدرتیں اور کفار کی بےوقوفی اور ضد تشریح : جیسا کہ پہلے اللہ کی حکمتوں کا ذکر ہوچکا ہے اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور واحد ہے اس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا تو اس کی ہر چیز کا حساب کتاب اس نے اپنے پاس لوح محفوظ میں محفوظ کر رکھا ہے یعنی پیدا ہونا پھولنا اور پھلنا پھر ختم ہو کر اللہ کی طرف ہی لوٹ جانا ہے کیونکہ اس نے کوئی چیز جاندار ہو یا بےجان بےمقصد پیدا نہیں کی۔ سب کی پیدائش کا ایک مقصد ہے۔ جو بھی اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ ضرور دنیا میں تکلیف اٹھائے گا پھر اس امتحان کی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی آئے گی جو قیامت کے بعد شروع ہوگی اس وقت اس دنیا کے حساب کتاب سے نئی زندگی دی جائے گی جو بالکل اٹل ہے۔ مسلمان تو اس کو مانتے ہیں مگر کفار نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ رسول کو اور نہ ہی قیامت کو اور نہ ہی پھر دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی لیے اسلام کی تعلیمات سے محروم رہتے ہوئے کفر کی زندگیاں گزار رہے ہیں بلکہ دین اسلام اور پیغمبر خدا پر طنزو مزاح کرتے ہیں اور اللہ کی قدرت، رضا اور طاقت سے بالکل لا علم ہیں۔ اگر وہ کوشش کریں تو یہ پھیلی ہوئی کائنات کی ہر چیز ان کے لیے اللہ کے وجود اور اس کی قدرت کا نشان بن سکتی ہے۔ اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ ان کے لیے تاریخی کہانی بیان کرتا ہے کیونکہ سبق دینے کا بہترین طریقہ کہانی بتانا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔
Ayahs 34:10–14

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو ! ان کیساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو ان کے تابع کردیا اور ان کے لیے لوہے کو ہم نے نرم کردیا۔

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ کشادہ زر ہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں۔

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور ہوا کو ہم نے سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینہ بھر کی ہوتی اور ان کے لیے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جنوں میں سے ایسے تھے جو ان کے رب کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ جو چاہتے یہ ان کے لیے بناتے یعنی قلعے، مجسمے اور بڑے بڑے لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد ! میرا شکر کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہیں۔

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان (سلیمان) کے لیے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے۔

سیدناداؤد (علیہ السلام) اور سیدناسلیمان (علیہ السلام) پر اللہ کی مہربانیاں تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو اللہ کے فضل و کرم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس میں زندگی کا زیادہ حصہ گزارتا ہے تو وہ اللہ کا مقرب ترین بندہ بن جاتا ہے۔ عام لوگوں میں سے اللہ ان کو خاص بنا دیتا ہے یعنی ایسے بندوں میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اپنے نبی رسول اور پیغمبر کی حیثیت سے منتخب کرلیتا ہے۔ جیسا کہ سیدناداؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے چن لیا، ان کو نبوت بھی دی اور حکومت بھی دی اور پھر بڑی بڑی نعمتوں سے ان کو نوازا۔ سب سے پہلے تو ان کو خوبصورت جسم اور خوبصورت آواز دی۔ آپ جب اپنی پر سوز آواز میں اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے تو سرور و مستی اس قدر پھیل جاتی کہ پہاڑ، چرند پرند سب بےاختیار آپ کے ساتھ تسبیح کرنے لگتے ہر چیز جھومنے لگتی۔ اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز شعور رکھتی ہے اور زندہ بھی ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی تعریف اور سریلی آوازواقعی روح کی غذا ہے کہ وہ ہر چیز میں جوش و جذبہ اور سر شاری پیدا کرتی ہے۔ پہاڑوں کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی خاص اور کارآمد تخلیق ہے۔ ایک بہت بڑا فائدہ تو قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ زمین میں میخوں کی طرح گارڈ دیے گئے ہیں۔ یعنی زمین کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پہاڑ بنائے گئے۔ پہاڑوں کے تو اس کے علاوہ بھی بیشمار فوائد ہیں جن میں سے کچھ بیان ہوچکے ہیں اور کچھ آئندہ کردیے جائیں گے ان شاء اللہ ۔ تو اب دوبارہ آیات مذکورہ کی طرف آتے ہیں۔ کہ اللہ جل شانہ نے سیدناداؤد (علیہ السلام) کو نبوت، حکمت، حکومت، کتاب، صوت (پرکشش آواز) اور جسمانی و مالی لحاظ سے مضبوطی وغیرہ یہ سب انعامات عطا فرمائے۔ دوسرا خاص فضل یہ کیا کہ آپ کے اندر کچھ خاصیت پیدا کردی کہ آپ لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق گھما پھرا کر خوبصورت ذر ہیں بناتے تھے۔ یعنی لوہا آپ کے ہاتھ میں یوں نرم ہوجاتا تھا جیسے گوندھی ہوئی مٹی۔ پھر زرہیں بنانے کے لیے کچھ خاص اصول بھی اللہ نے آپ کو سمجھا دیے کہ زرہیں کھلی اور مناسب بناؤ، ان کے جوڑ بند لگاتے وقت حلقے اور موٹائی کا خوب خیال رکھو کیونکہ اس غلطی کے ہونے سے زرہ بےکار اور تکلیف دہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ” اور نیک عمل کرو بیشک جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے خوب دیکھ رہا ہوں “۔ یہ تمام ہدایات صرف سیدناداؤد (علیہ السلام) کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری عالم انسانیت کے لیے ہیں۔ کیونکہ جو بھی کام کیا جائے پورے خلوص، دیانتداری، توجہ اور محنت سے کرنا چاہیے جس کام میں یہ سب نہ ہوگا وہ بگڑ سکتا ہے۔ کام کی نوعیت چاہے کچھ بھی ہو۔ خواہ تدریس ہو، تربیت ہو، تحریر ہو، فن تعمیر ہو، فن سپاہ گری ہو، فن سائنس، طب یا ہیت ہو۔ غرض کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام ہو یا بڑے سے بڑا کام ہو اس میں خلوص، دیانتداری، توجہ اور محنت کا ہونا بےحد ضروری ہے۔ سیدناداؤد (علیہ السلام) نے اپنی تمام نعمتوں کو بڑے ہی طریقے اور سلیقے سے استعمال کیا اور کبھی مغرور نہیں ہوئے تھے بلکہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے تھے اس لیے آپ کو ایک اور بڑی بہترین نعمت دی گئی۔ اور وہ تھی آپ کی نیک اولاد یعنی سیدناسلیمان علیہ السلام۔ ان کو بھی حکومت، نبوت اور حکمت عطاء کی گئی۔ ان کو کچھ اور بھی نعمتیں دی گئیں جن کا ذ کر قرآن پاک میں گزشتہ آیات 12 اور 13 میں کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو وہ تمام کمالات دیے گئے جو عام انسانوں کے لیے ممکن نہیں۔ یعنی ہوائیں، جن اور پرندے آپ کے حکم کے تابع کردیے گئے تھے اور پھر یہ سب آپ کی خدمت میں اللہ کے حکم سے لگے رہتے تھے۔ ایک اور نعمت کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ آپ کے لیے جاری کردیا گیا تھا۔ غرص آپ کے پاس بڑے بڑے قلعے، محلات، عبادت گا ہیں اور عیش و آرام کی ایسی ایسی چیزیں تھیں کہ آپ کے بعد نہ آپ سے پہلے کسی کو دی گئیں۔ یہ سب کچھ حاصل کرنے پر بھی غرور اور تکبر نام کی کوئی چیز آپ میں پیدا نہ ہوئی تھی بلکہ ہر وقت سجدہ شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ یہاں ایک بڑا اہم نکتہ بیان کیا گیا ہے جو جنات کے فخرو غرور کے بارے میں ہے۔ وہ یوں ہے کہ جنات بڑا فخر کرتے تھے کہ ہمیں غیب کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ جنات سیدناسلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے ایک بہت بڑی عمارت بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ تو سیدناسلیمان کی نگرانی میں وہ کام میں سستی نہ کرسکتے تھے۔ لہٰذا ان کی نگرانی کے لئے آپ ایک عصا کا سہارا لے کر کھڑے تھے کہ اسی حالت میں آپ کی موت واقع ہوگئی۔ جنوں کو اس بات کی خبر تک نہ ہوئی۔ اللہ کے حکم سے عصا کو دیمک لگ گئی اور ایک سال میں دیمک نے عصا کو کمزور کردیا۔ جب وہ کمزور ہوگیا تو آپ کے وزن سے عصا ٹوٹ گیا تو آپ بھی گر گئے تب جنات کو معلوم ہوا کہ آپ کو فوت ہوئے تو ایک عرصہ گزر چکا ہے اور ان کو پتہ ہی نہ چلا۔ تب ان کا یہ غرور کہ ہم غیب کی باتیں جانتے ہیں پوری طرح ٹوٹ گیا۔ اور دوسری بات جو اللہ نے ظاہر کردی وہ یہ تھی کہ نبوت کی شان بڑی بلند ہے۔ کسی بھی شخص کی موت کے بعد اس کے جسم میں تبدیلیاں ہونے لگتی ہیں جبکہ آپ ایک سال تک ٹیک لگائے کھڑے رہے نہ آپ میں تعفن پیدا ہوا نہ چہرے کا رنگ بدلا اور نہ ہی لباس میں کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوئی۔ ” سبحان اللہ “ یہ اللہ کا ایک بہت ہی بڑا فضل ہے جو خاص طور سے نبیوں، پیغمبروں اور رسولوں کے لیے ہے۔ کہ وہ دنیا میں صاحب کمال اور باعث عزت و احترام تو ہوتے ہی ہیں، مرنے کے بعد بھی ان کیلئے اللہ کی خاص رحمتیں اور برکتیں وقف کردی جاتی ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے برگزیدہ اور نیک بندے ہوتے ہیں۔ ہر شخص جس کو اللہ کی محبت سب سے زیادہ عزیز ہو وہ اسکے راستوں پر چل کر اللہ کا مقبول بندہ بن سکتا ہے۔ اس کی رحمتوں، برکتوں اور فضل و کرم کا حقدار ہوسکتا ہے۔ دنیا و آخرت کی نعمتیں اکٹھی کرسکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور ناشکری سے بچو “۔ (البقرہ آیت 152) محمد موسیٰ روحانی بازی عفہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” برادران کرام ! اللہ عزو جل غیبی طریقوں سے اپنے اولیاء کی مدد کرتے ہیں، اہل اللہ فکر عبادت، ذکر، محبت خدا اور رسول میں غرق ہوتے ہیں۔ اولیاء اللہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا محبوب صرف اللہ تعالیٰ ہوتا ہے “۔ (از گلستان قناعت صفحہ 190) مطلب یہ ہے کہ دنیا میں رہ کر کاروبار دنیا نبھاتے ہوئے ان کو ہر قدم پر اللہ کا خوف اور اللہ کی محبت یاد رہتی ہے اور جس سے محبت ہو اور ڈر ہو اس کے حکم سے انسان کبھی ادھر ادھر ہو کر کام نہیں کرسکتا۔ اسی لیے جو اس سے محبت کرتا ہے وہ ایسے آدمی کو کبھی کسی وقت کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ عام زندگی میں تجربہ سے ثابت ہوتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اللہ کے مقبول ترین بندے بننے کی سعادت دے آمین۔ سیدناداؤد (علیہ السلام) اور سیدناسلیمان (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اب سبا کی کہانی بیان کی جاتی ہے ملاحظہ ہو۔
Ayahs 34:15–19

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

اہل سبا کے لیے ان کے مقام یعنی بستی میں ایک نشانی تھی یعنی دو باغ ایک دا ہنی طرف اور ایک بائیں طرف۔ اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ یہاں تمہارے رہنے کو یہ پاکیزہ شہر ہے اور وہاں بخشنے کو اللہ معاف کرنے والا۔

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

تو انہوں نے شکر گزاری سے منہ پھیرلیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑدیا اور ان کے باغوں کے بدلے دو باغ ایسے دیے جن کے میوے بد مزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کو ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور شام میں ان کی بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی ایک دوسرے سے متصل دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمدورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف و خطر چلتے رہو۔

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

تو انہوں نے دعا کی کہ ” اے رب ہماری مسافتوں میں دوری اور طول پیدا کر دے اور اس سے انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے انہیں مٹا کر ان کے افسانے بنا دیے اور انہیں بالکل منتشر کردیا۔ اس میں ہر صابرو شاکر کے لیے نشانیاں ہیں۔

اہل سبا کی ناشکری اور اس کی سزا تشریح : ابن کثیر نے فرمایا کہ ” سبا یمن کے بادشاہوں اور اس ملک کے باشندوں کا لقب ہے۔ قوم سبا اور ملکہ بلقیس کا واقعہ جو سورة النحل میں گزر چکا ہے وہ بھی اسی قوم میں سے تھی “۔ یہ بڑے خوش حال اور فارغ البال تھے مگر ناشکری اور نافرمان قوم تھی انبیاء ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے مگر یہ نہ سدھرے یہ لوگ ہر طرح سے پُر آسائش زندگیاں گزار رہے تھے کیونکہ ان کا علاقہ یمن کا ایک حصہ تھا۔ اور یہ لوگ کافی ترقی یافتہ اور محنتی تھے۔ نقشہ پر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا اکثر حصہ کوہستانی ہے کوئی دریا نہیں بہتا بس بارش کے پانی سے جو ندی نالے بہتے انہی سے کہیں کہیں کھیتی باڑی ہوتی تھی مگر ملکہ بلقیس کے زمانے میں ایک زبردست بند Dam بنایا گیا اور یہ اتنا بڑا ڈیم تھا کہ سال بھر کے لیے اس کا پانی کافی ہوجاتا تھا۔ اس میں سے 12 نہریں نکالی گئی تھیں جو ملک کے ہر حصہ کو پانی پہنچاتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ پانی کے اس زبردست انتظام کی بدولت دائیں بائیں دور دور تک سر سبز و شاداب باغات اور ہر قسم کی اجناس بڑی مقدار میں پیدا ہوتی تھیں اور ہر طرف ان کی خوشحالی، عزت اور دولت کے چرچے ہوتے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے رب کے دیے ہوئے رزق سے خوب کھاؤ پیئو، اس کی دی ہوئی نعمتوں سے خوب عیش کرو مگر خبردار کہ اس کی شکر گزاری میں ہرگز سستی نہ کرنا۔ کیونکہ اس نے تمہیں ایک ایسا خوبصورت ملک دیا ہے کہ جس کی آب و ہوا انتہائی پاکیزہ، صاف ستھری اور زمین بےحد زرخیز اور وسیع ہے۔ ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے پاکباز زندگیاں گزارو اگر غلطی سے گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کرو کیونکہ اللہ بہت معاف کرنے والا ہے۔ کچھ عرصہ یہ لوگ شکر و عبادت کرتے ہوئے زندگیاں گزارتے رہے مگر بالآخر ناشکری اور فسق و فجور کے چنگل میں پھنس کر شیطان کے راستے پر چلنے لگے۔ اور نصیحت کرنے والے کو صاف صاف کہتے کہ ” تم اپنے رب سے کہو اگر طاقت ہے تو ہماری نعمتیں چھین لے اور آئندہ نعمتیں نہ دے۔ “ اللہ کے غضب کو انہوں نے خود دعوت دی۔ لہٰذا زور دار طوفانی بارشیں ہونے لگیں جن کی وجہ سے بند کا پانی بےقابو ہو کر بہہ نکلا اور اس نے وہ تباہی مچائی کہ شہروں کے شہر چٹیل میدان بن گئے ہر چیز نیست و نابود ہوگئی اور پورا ملک سنسان و ویران ہوگیا تمام رونقیں اور خوشیاں ختم ہوگئیں۔ اور پھر وہاں دو خشک میدان ظاہر ہوگئے جن میں سوائے کڑوے کسیلے پھلوں، جھاؤ اور تھوڑی سی جنگلی بیریوں کے اور کچھ پیدا نہ ہوتا تھا۔ یہ کہانی نافرمان، ناشکرے اور نعمتوں سے اترائے ہوئے لوگوں کی سنائی گئی ہے۔ کیونکہ اس وقت اہل مکہ بھی یہی کچھ کر رہے تھے۔ ان کو یہ کہانی سنائی گئی تاکہ عبرت حاصل کریں اور نیکی کی راہ اپنائیں۔ اور یہ ہم سب انسانوں کے لیے ایک بہت بڑی مثال ہے کہ ہمیں بھی ایک فرد اور ایک قوم کی حیثیت سے خیال رکھنا چاہیے کہ رحمتوں، برکتوں اور کامیابیوں کی آرزو ہے تو پھر ہر نعمت کو جائز طریقہ سے استعمال کریں اور اس عزت، آسائش اور رحمت کے اوپر اکڑ کر مغرور ہو کر اللہ سے دوری اور ناشکری کا طریقہ اختیار نہ کریں کیونکہ اللہ کو ناشکرے اور مغرور لوگ ہرگز پسند نہیں وہ پھر نعمتیں چھین لینے کی پوری طاقت بھی رکھتا ہے۔ اور جو اس کے بتائے ہوئے راستوں پر خوشدلی، خلوص اور نیک نیتی سے چلتا ہے تو اللہ اس کو زحمتوں اور آفات سے بچائے رکھتا ہے۔ جب وہ خوشحالی اور آرام کی زندگیاں گزار رہے تھے تو اس وقت سبا کے علاقے سے جو یمن میں ہے۔ ملک شام تک عرب کے تجارتی قافلے ہر وقت چلتے رہتے تھے۔ ہندوستان کا مال یمن سے اٹھا کر شام لے جاتے پھر عقبہ کے راستے مصر تک پہنچاتے تجارتی قافلوں کی آمدورفت کی وجہ سے تمام راستے پر رونق رہتے اور جگہ جگہ خوبصورت ہوٹل اور آبادیاں موجود تھیں جن کی وجہ سے دن ہو یا رات چوری ڈاکے، بھوک اور پیاس کا کوئی خطرہ نہ ہوتا تھا اور یوں سفر بڑی آسانی اور خوبی سے پورے ہوجاتے تو یہ قوم اس قدر نااہل اور بیوقوف ہوگئی کہ ان تمام عیش و آرام سے اکتا گئے اور بنی اسرائیل کی طرح کفران نعمت کرنے لگے جیسے انہوں نے کہا تھا کہ ہم من وسلویٰ کھاتے کھاتے اکتا گئے ہیں۔ اسی طرح وہ بھی تکلیف دہ سفر ویران راستوں کی تمنا کرنے لگے تو اللہ نے انکی تمنا پوری کردی۔ تمام ملک تباہی و بربادی کی لپیٹ میں آگیا۔ آبادی تتر بتر ہوگئی۔ جس کو جہاں راہ ملی بھاگ نکلا۔ ان کی خوشحالی، تجارت اور رونق سب برباد ہوگئی اور باقی رہ گئے خشک میدان اور جھلسنے والی گرمی۔ سب تجارت وغیرہ بند ہوگئی۔ کیونکہ یونانیوں اور رومیوں کا شام اور مصر پر قبضہ ہوگیا اور ہندوستان سے تجارت بحری راستے سے ہونے لگی۔ ان تمام واقعات اور تاریخی کہانیوں سے عقل مند انسان اور عقل مند قومیں بڑا سبق حاصل کرسکتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے ” اللہ پسند کرتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے پر دیکھے ‘ ـ ‘۔ (ترمذی) دوسری جگہ آیا ہے ” جب تو نے الحمد اللہ رب العٰلمین کہا تو اللہ کا شکر کیا پھر وہ تجھ کو نعمت زیادہ دے گا “۔ (طبرانی ) تیسری حدیث یہ ہے۔ ” بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے خوش ہوتا ہے جو کھانا کھائے تو اس کی تعریف کرے، پانی پیئے تو اس کی تعریف کرے یعنی الحمد اللہ کہے۔ (مسلم) ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر چھوٹی بڑی نعمت پر ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے اللہ کی رضا اور نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ آخر میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ ” کہ اس میں ( اس واقعہ میں) ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے پتے کی باتیں ہیں “۔ (آیت 19)
Ayahs 34:20–21

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا باقی سب اس کے پیچھے چل پڑے۔

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا ان پر کوئی زور نہ تھا مگر ہمارا مقصودیہ تھا کہ جو لوگ آخرت کے متعلق شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ان سے جدا کرلیں اور تمہارا رب ہر چـیز پر نگہبان ہے۔

شیطان کی کاروائی تشریح : ان آیات میں نیکی اور بدی، ایمان اور کفر کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ نیکی کا تعلق انسان کی روح کے ساتھ ہے جبکہ بدی کا تعلق انسان کے نفس کے ساتھ ہے شیطان نفس کو بہکاتا ہے۔ اس لیے کہ اس نے اعلان کیا تھا جب اس پر لعنت بھیجی گئی تھی۔ اعلان یہ کیا تھا کہ ” میں آدم اور اس کی اولاد میں سے بہت سوں کو سیدھے راستے سے بہلا کر اور پھسلا کرہٹا دوں گا “۔ تو وہ ہر وقت اپنی کوشش میں لگا رہتا ہے کمزور ایمان والے لوگ اس کی راہ پر چل نکلتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ذلیل ہوجاتے ہیں جبکہ مضبوط ایمان والے لوگ ہرگز اس کی راہ پر نہیں چلتے۔ ان کی نگاہ اللہ اور آخرت پر ہوتی ہے۔ شیطان کو یہ طاقت کہ لوگوں کو بد راہ کرے صرف اللہ نے اس لیے دی ہے تاکہ بندوں کی آزمائش کرسکے۔ ورنہ وہ تو ہر چیز، شخص اور ہر واقعہ سے قبل از وقت واقف ہے۔ کیونکہ یہ تمام نظام کائنات اس نے (لوح محفوظ) میں پہلے سے لکھ رکھا ہے۔ اس پر کچھ لوگ کہتے ہیں۔” تو پھر ہمارا کیا قصور ؟ “ اللہ کے اس طرح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا علم اس قدر وسیع اور مکمل ہے کہ وہ جانتا ہے یہ شخص یا قوم کس قدر مضبوط ارادہ اور ایمان رکھنے والی ہے اور یہ قوم کمزور ارادہ اور کمزور ایمان رکھنے والی ہے۔ یہ بڑا باریک فرق ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ نیکی اور بدی کی آزمائش میں پورا اترے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” ہر آدمی کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ شیطان کا گھر انسان کا نفس ہوتا ہے۔ اور فرشتے کا مقام انسان کی روح میں ہے “۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ نیک بندہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ دل کی بات مان کر بدی کی طرف ہرگز نہیں جاتا، جب کہ بد انسان اپنے اوپر پوری طرح کنٹرول نہیں کرسکتا اور برے راستے پر چل نکلتا ہے۔ ایک دفعہ چل پڑا تو بس پھر چلتا ہی چلا جاتا ہے۔ اسی کو دل پر مہر لگناکہتے ہیں۔ ایسے بندے کا نیکی کی طرف آنا خاصہ مشکل ہوجاتا ہے۔ تاہم ناممکن نہیں ہوتا۔
Ayahs 34:22–27

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

کہہ دو کہ جن کو تم اللہ کے سوا معبود خیال کرتے ہو۔ ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں اور نہ ہی ان کی دونوں میں کوئی حصہ داری ہے۔ اور نہ ہی ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اللہ کے پاس صرف اسی کی سفارش فائدہ دے گی جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے گا یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے بےچینی دور کردی جائے گی تو کہیں گے ” تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ “ فرشتے کہیں گے ” جو فرمایا ہے حق فرمایا ہے اور وہ سب سے اوپر بڑا ہے۔

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

پوچھو کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے ؟ کہو کہ اللہ اور ہم یا تم سیدھے راستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں۔

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو گناہ ہم کریں گے اس کا سوال تم سے نہیں ہوگا اور جو تم کروگے اس کا اس کا ہم سے نہیں

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے گا۔ وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اللہ کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے ؟ کوئی نہیں، بلکہ وہی اکیلا اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

اللہ تعالیٰ مدد گاروں سے بےنیاز ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت، بڑائی، عظمت، علیم (علم رکھنے والا) ، غالب اور حکمت والا ہونا مثالوں سے بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کیا گیا ہے۔ کوئی اسے کسی نام سے بھی پکارے مگر اس کے ” وجود “ سے ہرگز کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ آسمانوں اور زمین پوری کائنات کا ذرہ ذرہ صرف اسی کے قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ انسان جیسے جیسے علم میں ترقی کرتا چلا جا رہا ہے اللہ کے وجود کا زیادہ پکا یقین کرنے لگا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ سائنسی ترقی انسان کو روحانیت کی طرف تیزی سے لا رہی ہے۔ یہی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے بھی دی ” لا الہ الا اللہ “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔
Ayahs 34:28–30

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور اے محمد ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا ؟

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔

ساری انسانیت کے لیے نبوت تشریح : سیدنامحمد ﷺ کے بارے میں ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب نے اپنی تفسیر انوار القرآن میں بہت خوبصورت لکھا ہے میں اپنی تشریح کرتے ہوئے ان کی تحریر سے استفادہ کرنا چاہوں گی۔ حضور ﷺ آخری نبی ہیں کیونکہ تمام نبیوں پر آپ کو اس لحاظ سے فضیلت دی گئی ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے رہبر بنے۔ آپ کی کتاب و سنت اتنی مکمل اور وسیع ہے کہ اس میں وقت، زمانے اور علاقے کی قید کی ضرورت نہیں یعنی اس کے اصول دنیا کی ہر جگہ اور ہر زمانے کے ہر قسم کے لوگوں کے لیے قابل قبول، آسان اور قابل عمل ہیں۔ اسلام کا دوسرا بنیادی اصول رسالت محمدی پر ایمان لانا ہے۔ کیونکہ جب ہم مخلوقات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عقل انسانی نے اس کو دوسری مخلوقات پر برتری دلائی ہے کیونکہ عقل کی وجہ سے اس کی رہنمائی ہوتی ہے اور انسان عقل کی وجہ سے اچھے برے کی تمیز کرتا ہے جبکہ جانور نہیں کرسکتا، اس کی ایک فطرت اللہ نے بنا دی ہے۔ جیسے اس کو چرنا چگنا سکھا دیا ہے بس ویسے ہی وہ چرتا چگتا رہے گا۔ جب کہ انسان نے اپنے کھانے پینے رہنے سہنے کے بیشمار نئے نئے طریقے نکال لیے ہیں۔ مگر اخلاق کردار، دین و ایمان اور بہترین راستوں کی رہنمائی کے لیے انسان کو ہمیشہ کسی راہبر، کسی استاد یا کسی لیڈر کی ضرورت رہی ہے اور ان تمام راستوں کا ایک منبع ہے اور وہ ہے دین جو کسی پیغمبر یا رسول کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ دین اسلام جو انتہائی معقول، مکمل، آسان اور انسانی فطرت کے مطابق ہے اور دنیا کے ہر شخص کے لیے ہے، چاہے وہ مشرق میں رہتا ہو، شمال میں، جنوب میں یا مغرب میں اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں آپ ﷺ انٹرنیشنل پیغمبر ہیں۔ اسی طرح آپ کی دی گئی ہدایات بھی انٹرنیشل ہیں کیونکہ وہ انتہائی آسان ہیں، فائدہ مند ہیں اور ہر جگہ ہر انسان کے لیے بالکل مناسب ہیں۔ اس لحاظ سے ہم آپ کو انٹرنیشنل لاء کے بانی بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ آپ نے بین الاقوامی قانون دیا۔ قانون یہ تھا کہ جب جنگ کرو تو بوڑھوں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، عبادت گاہ میں عبادت گزار پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، بچوں عورتوں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، درختوں اور فصلوں کو برباد نہ کرو۔ یہ حقیقت ہے کہ اس سے پہلے کبھی یہ دستور دیکھا نہ گیا تھا کیونکہ اس سے پہلے تو جنگل کا قانون تھا۔ فاتح کو حق حاصل ہوتا تھا کہ عورتوں کو لونڈیاں، مردوں کو غلام اور جس کو چاہیں قتل کردیں اور جتنا چاہیں مال لوٹ لیں۔ آپ نے امن، سکون اور انسانیت کا احترام کرتے ہوئے جنگ کرنا سکھایا۔ آپ کی جنگی تدابیر کا ایک تاریخی واقعہ فتح مکہ ہے۔ جس میں صرف تدبیر سے جنگ جیت لی گئی۔ ہوا اس طرح کہ پہلے تو دس ہزار کا لشکر لے کر آپ چل پڑے اور یہ راز بڑا سخت پوشیدہ رکھا کہ کہاں جا رہے ہیں۔ اِدھر ادھر سے چلتے پھرتے ہوئے اچانک مکہ کے قریب پہنچ گئے۔ پھر دوسری حکمت عملی یہ کی کہ پوری فوج کو کہا اپنا اپنا کھانا خود تیار کرو مطلب یہ تھا کہ دشمن جب دس ہزار چولھے جلتے دیکھے گا تو نفسیاتی طور پر دباؤ میں آجائے گا کہ بھئی یہ تو بہت بڑا لشکر ہے ہم بھلا اس سے کیسے لڑ سکتے ہیں یہی ہوا، بغیر لڑائی کے اہل مکہ نے شکست مان لی اور آپ اس فتح پر سر جھکائے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے بڑے آرام سے مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوگئے۔ آپ نے کبھی دنیاوی مقصد کے تحت صرف ملک گیری کے لیے لڑائی نہ کی تھی بلکہ آپ کا مقصد تو صرف دین اسلام کی تبلیغ اور انسانیت کی اصلاح تھا۔ جس میں آپ پوری طرح کامیاب ہوئے جیسا کہ تاریخی واقعات سے ظاہر ہے۔ آپ نے زندگی میں 83 جنگیں لڑیں مگر دونوں طرف سے صرف 533 لوگ قتل ہوئے اور پھر اتنا بڑا انقلاب ! ایسا انقلاب کہ جس نے بہت کم مدت بہت کم جانی نقصان سے دنیا کو توحید کا پیغام دیا اور کفر و شرک کی بنیادیں ہلا دیں۔ اسی لیے تو آپ کو خوشخبری سنانے والا یعنی مومنین کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کفار و منافقین کو دوزخ کا نقشہ دکھا کر عذاب عظیم سے ڈرانے والا کہا گیا ہے۔ جب ہم آپ کی خطابت، علم، حکمت اور فراست پر غور کرتے ہیں تو بےاختیار آپ کے آخری نبی ہونے پر یقین ہوجاتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ آپ کو اللہ کی خاص مہربانی سے ملا تھا کیونکہ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی استاد یا کتاب سے نہ پڑھا نہ سیکھا تھا۔ تو کتاب جو لوگوں کو انہوں نے دی وہ دنیا کی اعلیٰ ترین کتاب کہ جس کی ایک آیت بھی کوئی انسان نہ بنا سکے۔ آپ کی سچائی اور قرآن کی سچائی کے لیے اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔ اور جو لوگ آپ پر حجت بازی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ” قیامت کب آئے گی ؟ یعنی تمہارا یہ کہنا غلط ہے کہ قیامت آنے والی ہے۔ تو رب العزت اپنے پیارے نبی سے کہتے ہیں کہ ان کو بتا دو قیامت کا وقت مقرر ہوچکا ہے وہ اس مقررہ وقت پر آکر رہے گی تمہارے کہنے سے نہ تو وہ ایک سیکنڈپہلے آسکتی ہے نہ بعد میں۔ اور سب سے زیادہ پریشانی کی گھڑی ان ہی لوگوں کے لیے ہوگی جو قیامت کی جلدی مچا رہے ہیں۔
Ayahs 34:31–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان کتابوں کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش تم ان ظالموں کو اس وقت دیکھو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے بحث مباحثہ کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تمہیں حق بات سے روکا تھا جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی ؟ ایسا نہیں ہے بلکہ تم ہی گنہگار تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ نہیں بلکہ تمہاری دن رات کی چالوں نے ہمیں روک رکھا تھا۔ جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیماں ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو عمل وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا۔

قیامت اور خراب رہنماؤں کی پریشانی تشریح : ان آیات میں قیامت کی سختی اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے پھر ان گنہگاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو خوف اور دہشت سے گھبرا کر اپنے سرداروں اور لیڈروں پر الزام دیں گے اور لیڈر ورہنما ان پر الزام دیں گے، بہر حال معافی کسی کو بھی نہ ملے گی اور سب اپنے اپنے گناہوں کی سزا ضرور بھگتیں گے۔ مختصر یہ ہے کہ اس عالم کے خاتمے کے بعد اللہ ایک دوسرا عالم بنائے گا اور اس میں تمام انسان جو شروع دن سے آخر دن تک پیدا ہوئے ہوں گے مرنے کے بعد زندہ کر کے سب کو اکٹھا میدان حشر میں جمع کرے گا۔ ان کے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب لے گا اور پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔
Ayahs 34:34–37

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو چیز تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور یہ بھی کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا پسندیدہ بنا دے، ہاں ہمارا پسندیدہ وہ ہے جو ایمان لایا اور نیک عمل کیے۔ ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے دگنا بدلہ دیا جائے گا اور وہ آرام سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے۔

نیک اعمال کی اہمیت تشریح : صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ مال اولاد اور رتبہ قیامت میں چھڑا نہ سکے گا صرف اعمال کے بدلے میں ہی جنت ملے گی یا دوزخ ملے گا۔ رزق تو اللہ اپنی مرضی اور اپنے حساب کتاب یعنی نظام دنیا کو چلانے میں توازن رکھنے کے لیے دیتا ہے۔ اور پھر اس دنیا میں آزمائش کا سب سے بڑا ذریعہ اولاد اور مال ہی تو ہے۔ یہ سب حقیقتیں بتانے کی وجہ سے ہی تو سیدنامحمد ﷺ کو ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا کہا گیا ہے، نذیر اور بشیر عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے (اقبال)
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہر ادیں وہ عذاب میں پکڑے ہوئے آئیں گے۔

عذاب کے حق دار تشریح : کفر و شرک کی جڑ وبنیاد ہی یہ ہے کہ اللہ کی آیات کو جھٹلایا جائے۔ اسی لیے ان کے لیے عذاب کو خاص کردیا گیا ہے۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا تمہیں بدلہ دے گا۔ وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

رزق کی تقسیم تشریحـ: رزق کی تقسیم کا مسئلہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ بات بندے کے بس سے باہر ہے۔ بس ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ خیر الرّٰزقین ہے۔ اور پھر اپنے بندوں کا سب سے بڑا خیر خواہ بھی جس کو جس قدر رزق کی ضرورت ہوتی ہے اتنا ہی دیتا ہے۔ کیونکہ بعض کے لیے رزق کی زیادتی بد ترین آزمائش ثابت ہوتی ہے اور بعض کے لیے کمی آزمائش بن جاتی ہے۔ یہ اندازے اور مقدار تو اللہ جل شانہ کے پاس لکھے ہوئے موجود ہیں۔ اس پر مکمل بحث گزشتہ اسباق میں گزر چکی ہے۔ بہر حال سب سے بڑی دولت قناعت ہے۔ شیخ سعدی کا قول ہے۔ ” تونگری بہ دل است نہ بہ مال است “۔ یعنی تونگری دل کے ساتھ ہے نہ کہ مال کے ساتھ۔ مقصد یہ ہے کہ مالدار آدمی امیر نہیں ہوتا بلکہ قناعت کرنے والا امیر ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا دل امیر ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا ہے کہ ” وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے “۔ تو پھر انسان کو حلال حرام کی تمیز ضرور کرنی چاہیے اور ذخیرہ اندوزی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ حرام مال اور ذخیرہ اندوزی سے اللہ نے منع کیا ہے کیونکہ یہ دونوں عمل ایمان اور ملکی معیشت کو نقصان پہچانے والے ہیں ان سے ملکی نظام میں بڑا خلل پڑتا ہے۔ محمد موسیٰ روحانی بازی لکھتے ہیں ” انسان کے علاوہ باقی حیوانات ذخیرہ اندوزی نہیں کرتے سوائے چار قسم کے حیوانات کے۔ انسان، چیونٹی، چوہا اور کوا۔ انسان کو تو ذخیرہ اندوزی سے منع کیا گیا ہے۔ مگر چوہا، کوا اور چیونٹی کی یہ ضرورت ہوگی جو اللہ نے اس کی فطرت میں یہ چیز رکھ دی ہے۔ مگر انسان کو حکم دیا ہے کہ جو مال تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس میں سے اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق خرچ کرو وہ اس کا تمہیں بدلہ دے گا۔ بہر حال مال زیادہ ہو یا کم۔ انسان امیر ہو یا غریب ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ حلال حرام کی تمیز کرنی چاہیے۔ ذخیرہ اندوزی اور بخل سے بچنا چاہیے۔ عزیز، رشتہ دار، غریب، مسکین اور محتاجوں کا حصہ ضرور اپنے مال سے نکالتے رہنا چاہیے۔ مسلمان کے لیے یہی ہدایات ہیں۔ اللہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین