33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 33:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر اللہ سے ڈرتے رہنا اور کفار و منافقین کا کہا نہ ماننا، بیشک اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو کتاب آپ کو آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اسی کی پیروی کیے جانا۔ بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور اللہ پر بھروسہ رکھنا اور اللہ ہی سب سے بڑا کار ساز ہے “۔

سورت کے چار اہم نکات تشریح : جو احکامات ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو دیے جا رہے ہیں ان پر آنحضرت ﷺ تو پہلے ہی بڑی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ اصل میں یہ احکامات انسانی زندگی کی اصلاح اور معاشرے کی بہبود کے لیے اس قدر ضروری اور اہم ہیں کہ ان کو تاکید کی شکل دینے کے لیے دہرایا گیا ہے۔ اور نبی ﷺ کو مخاطب کر کے حکم دینے کا مطلب یہی ہے کہ تمام انسان ان احکامات کو غور سے سنیں اور ہمیشہ ان پر سختی سے عمل کریں۔ پہلا حکم : ” اللہ سے ڈرتے رہو “۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس قدر عظیم و کبیر، حکمت والا اور طاقت والا ہے کہ تمام کائنات اسی کی پیدا کی ہوئی اسی کے حکم سے چل رہی ہے اور اسی کے حکم سے ختم ہوجائے گی۔ یہ سب کچھ صرف اور صرف اللہ کے ہی اختیار میں ہے اور وہ وحدہ لاشریک لہ ہے۔ اس لیے اس کے سوا کسی سے مت ڈرو۔ ایمان کی سب سے پہلی شرط ہی یہ ہے کہ ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں “۔ اس لیے ڈرنا ہے تو صرف اس سے ڈرو۔ اس سے انسان میں خود اعتمادی، خود داری اور ایمان کی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص ا ﷲسے بےنیاز ہوجائے وہ دل کی تنگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ دوسرا حکم : ” کفار اور منافقوں کا کہا نہ مانا جائے “۔ جب ایک شخص اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے تو پھر کفار و منافقین اس کے سامنے ہرگز کوئی حقیقت نہیں رکھتے، لہذا ان کا کہنا ماننا تو ناممکن ہوجاتا ہے۔ لیکن کیونکہ ہر شخص کے ساتھ ایک کمزور نفس شیطان کی صورت میں ہمیشہ موجود رہتا ہے اس لیے تاکید کی گئی ہے کہ خبردار دیکھو کبھی شیطان کے کہنے میں آکر کفار و منافقین کے کہنے میں نہ آجانا۔ یہ حکم تمام انسانوں کے لیے ہے۔ تیسرا حکم : ” جو آپ پر وحی کی گئی ہے اس کی اطاعت کیجئے “۔ یہ حکم بھی بظاہر نبی اکرم ﷺ کو ہی دیا گیا ہے لیکن اصل میں یہ تمام انسانوں، مسلمانوں کے لیے لازم ہے قرآن پاک وحی کے ذریعے آپ ﷺ پر نازل کیا گیا۔ قرآن پاک بہترین ہدایت، علم اور عرفان کی کتاب ہے اس میں انسان کو اس کی حقیقت اور دنیا کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ مولانا وحید الدین خان صاحب اس کی تشریح بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ” یہ دنیا کیا ہے ؟ دنیا جنتی انسانون کی انتخاب گاہ ہے۔ قیامت کے بعد کے مرحلہ میں جنتی انسانوں کو جنت کی ابدی آرامگاہوں میں بسایا جائے گا۔ یہ حقیقت قرآن میں آخری حد تک واضح ہے، بشرطیکہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ قران پر غور کرے۔ قرآن بتاتا ہے کہ زمین و آسمان اس لیے بنائے گئے ہیـں۔ تاکہ اولو الالباب (عقلمند، دیکھنے والے) اس کو دیکھ کر آیات خداوندی کا ادارک کرسکیں (سمجھ سکیں) سورة الملک میں اللہ نے فرمایا۔ ” جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے۔ اور وہ (اللہ) غالب بخشنے والا ہے “۔ آیت 2، یعنی انسان کو اس لیے تخلیق کیا گیا ہے تاکہ آزمائش میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ ان میں سے کون ہے جو جنت کی نفیس فضاؤں میں بسائے جانے کے لائق ہے۔ “ ” از دین انسانیت صفحہ 83) چوتھا حکم : ” اللہ پر بھروسہ کیجئے “۔ بھروسہ صرف اس پر کیا جاتا ہے جو سب سے زیادہ مضبوط، سب سے اعلیٰ ، سب سے بڑا اور سب سے زیادہ قدرت والا ہو۔ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمار ایہ ایمان ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ سورة البقرہ میں اس کی تفصیل یوں آتی ہے۔ ” اللہ کے سوا کوئی اور ذات عبادت کے لائق نہیں وہ زندہ اور قائم ہے نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے “۔ (آیت 255) یہ احکام اتنے واضح اور آسان ہیں کہ ان پر عمل کر کے ہر انسان دنیا و آخرت میں پر سکون اور کامیاب ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے آمین۔
Ayahs 33:4–5

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو۔ تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

مومنو ! لے پالکوں کو ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارا کرو کہ اللہ کے نزدیک یہی بات درست ہے۔ اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو جان بوجھ کر ارادے سے کرے اس پر مواخذہ (پوچھ) ہے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے “۔

صرف منہ سے کہہ دینے سے رشتے حقیقت نہیں بن سکتے۔ متبنّٰی (منہ بولے بیٹے) والی رسم کا خاتمہ تشریح : ان آیات میں تین غلط رسموں کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو کہ جاہلیت کے زمانے میں عام تھیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگ عقلمند انسان کو محاروتاً کہتے کہ ” اس کے تو دو دل ہیں۔ “ یہ طبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو بالکل غلط ہے۔ اللہ نے انسان کا ایک ہی دل بنایا ہے۔ دوسرا مسئلہ یا رسم یہ تھی کہ کوئی شخض اپنی بیوی کو کہہ دیتا کہ ” تو میری ماں کی طرح ہے “ تو یہ کہنے سے اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس رسم کو اللہ نے یوں ختم کیا کہ بیوی بہرحال بیوی ہی رہتی ہے اگر کوئی شخص غلطی سے یہ کہہ دے تو اس کو معافی مانگنی چاہیے اور کفارہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ قرآن میں اس کو ” ظہار “ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات انشاء اللہ سورة المجادلہ میں آئیں گی۔ بہرحال اس رسم کو بھی اللہ نے ختم کردیا ہے۔ کیونکہ ماں تو بہر حال وہی ہے جس نے جنم دیا۔ صرف کہہ دینے سے یہ اتنا بڑا رشتہ ہرگز قائم نہیں ہوسکتا۔ تیسرا مسئلہ یا رسم لے پالک بیٹے کی ہے۔ یہ بھی صرف انسان کی زبان تک محدود ہے حقیقت میں اس کا باپ وہی ہے جس نے اس کو وجودد یا اور ماں وہی ہے جس نے اس کو جنم دیا۔ جاہلیت کے زمانے میں منہ بولے بیٹے کو اصل اولاد کے برابر حقوق دیے جاتے تھے۔ یعنی اس کو وراثت میں اصل اولاد کے برابر حصہ دیا جاتا تھا۔ اور اسی طرح رشتوں میں بھی اس کو یہی مقام دیا گیا تھا یعنی اس کی مطلقہ یا بیوہ کو منہ بولا باپ بیوی نہ بنا سکتا تھا۔ تو اس رسم کو اللہ تعالیٰ نے بالکل ختم کردیا اور فرمایا کہ ان کو ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارا کرو اگر معلوم نہ ہو سکے تو پھر کوئی بات نہیں وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ تم اللہ سے معافی مانگو اللہ معاف کرنے والا ہے۔ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے سورج مغرب سے طلوع ہونے یا موت کا وقت آنے سے پہلے معافی مانگنے سے اللہ ضرور معاف فرمادے گا کہ جو کام لاعلمی میں ہوجائے یا جانتے بوجھتے توبہ کرنے سے اللہ ضرور معاف فرما دے گا۔ یہ معاملہ معاشرت میں یعنی لوگوں میں کافی مشکلات کا باعث بنا ہوا تھا۔ دین اسلام کا ہر حکم انسان، سوسائٹی اور قوم و ملت کی بہتری کے لیے دیا گیا ہے۔ اصل رشتے وہی ہیں جو اللہ نے بنا دیے ہیں
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

ایمان والوں کے لیے اپنی جان سے زیادہ نبی ﷺ مقدم ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب اللہ کی رو سے (مسلمانوں) انصار اور مہاجروں سے ایک دوسرے کے تر کے کے زیادہ حق دار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ یہ حکم قرآن میں لکھ دیا گیا ہے “۔

رسول اللہ ﷺ کا رتبہ تشریح : ایک اور بہترین نکتہ جو یہاں بیان کیا گیا ہے وہ ہے نبی اکرم ﷺ کا رتبہ، کہ آپ مومنوں کے انکی اپنی جانوں سے زیادہ خیر خواہ ہیں۔ اس لیے تمام انسانوں سے بہترین ہیں۔ کہ آپ محسن انسانیت ہیں آپ نے اللہ کا بہترین پیغام قرآن کی صورت میں ہمیں دیا اور اپنی بہترین سیرت و کردار سے اس کی تشریح کردی کیونکہ آپ کا ہر عمل قرآن کے مطابق ہے اور یوں آپ نے عملی طور پر قرآن کا ہر حکم کھول کر بیان کردیا۔ اسی لیے قرآن و سنت پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اسی اعلیٰ رتبہ کی وجہ سے آپ کی بیویوں کو مسلمانوں کی مائیں کہا ہے۔ مگر میراث کی حق داران کو بھی قرار نہیں دیا گیا۔ مہاجرین و انصار میں جو بھائی چارہ نبی ﷺ نے قائم کیا تھا تو وہ اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ لوگوں نے ان کو اپنی میراث میں بھی حصہ دار بنانا شروع کردیا تھا تو یہ حکم دیا گیا کہ ویسے انسانی ہمدردی میں جو مدد کرنا چاہو ضرور کرو مگر وراثت کے حق دار صرف اصلی رشتہ دار ہی ہوسکتے ہیں ہاں دوستوں کو وصیت کے طور پر کچھ دیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 33:7–8

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم، موسیٰ اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے اور ان سے عہد بھی پکا لیا۔

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کہنے والوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اولوالعزم انبیاء سے پختہ عہد تشریح : ان آیات میں انبیاء کی فضیلت کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے۔ کہ ایک عہد تو کل مخلوق سے لیا تھا عالم ارواح میں جو عہد الست کے نام سے مشہور ہے اور یہ عہد وہ خاص عہد ہے جو نبیوں سے لیا گیا کہ اپنی تبلیغ پوری دیانتداری سے کریں گے۔ پورے خلوص اور محنت سے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں گے۔ یہاں خاص طور سے پانچ انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے اور آخری رسول ﷺ کو ان سب پر فضیلت دیتے ہوئے مخاطب کیا گیا ہے۔ اور یہ عہد اس لیے لیا گیا ہے تاکہ ایک دوسرے کی گواہی دے سکیں۔ ویسے بھی سب نبی ایک دوسرے کو مانتے ہیں۔ اور قیامت کے دن ان کے لیے گواہی لی جائے گی کہ کیا انہوں نے اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچایا یا نہیں ؟ قیامت کے دن کفار بوکھلائے ہوئے کہیں گے کہ ہمیں تو کسی نے بتایا ہی نہیں تھا جب انبیاء گواہی دیں گے کہ ان کو سب کچھ بتایا گیا تھا۔ مگر یہ لوگ کفر سے باز نہ آئے تو رب العزت فرماتے ہیں ” کہ اس نے کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے “ کفار اور نااہل مسلمانوں کو ہوش کرنا چاہیے اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسول پر ایمان لانا اور کتاب کو غور سے پڑھنا، عمل کرنا اور دوسروں کو سکھانا چاہیے۔ حدیث میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ ” وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی حق دیا جائے تو وہ اس کو قبول کرلیں (مسند احمد ) ۔ مطلب یہ ہے کہ سچا مومن وہ ہے کہ جب بھی سچائی اس کے سامنے لائی جائے وہ بلا جھجک اس کو فورا ً قبول کرلے۔ اور عمل کرے۔ ایسے ہی لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔ انسانوں کی اسی بھلائی کے لیے رسولوں کو پیغامِ حق دے کر بھیجا گیا ہے۔ جو بڑی خوش اسلوبی سے انہوں نے بندوں تک پہنچا دیا ہے۔ نیک اور پاکباز انسانوں کی مدد اللہ تعالیٰ ہر صورت کرتا ہے جیسا کہ غزوہ احزاب میں اللہ نے مدد کی۔
Ayahs 33:9–27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

مومنو ! اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب فوجیں تم پر حملہ کرنے کو آئیں تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر نازل کیے جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان کو دیکھ رہا ہے۔

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل مارے دہشت کے حلقوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے۔

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ ” اللہ اور اس کے رسول نے تو ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا “

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ ” اے اہل مدینہ یہاں تمہارے ٹھہرنے کا مقام نہیں تو لوٹ چلو اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے لگا اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے۔

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر فوجیں اطراف مدینہ سے ان پر آداخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لیے کہا جائے تو فوراً کرنے لگیں اور اس کے لیے بہت کم سوچیں۔

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ پہلے اللہ سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور اللہ سے جو اقرار کیا جاتا ہے اس کی ضرور پرسش ہوگی۔

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

فرمادیں کہ اگر تم مرنے یا مارنے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے۔

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

فرمادیں کہ اگر اللہ تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے۔ یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے تو کون اس کو ہٹا سکتا ہے۔ اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو نہ اپنا دوست پائـیں گے اور نہ مدد گار۔

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو لوگوں کو منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ۔ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم۔

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تو تم ان کو دیکھو، تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں اور ان کی آنکھیں اسی طرح پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانون سے تمہارے خلاف زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں یہ لوگ حقیقت میں ایمان لائے ہی نہ تھے تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیے اور یہ اللہ کو آسان تھا

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

خوف کے سبب خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں اور اگر لشکر آجائیں تو خواہش کریں کہ کاش گنواروں میں جا رہیں اور تمہارے بارے میں پوچھا کریں اور اگر تمہارے درمیان میں موجود ہوں، تو لڑائی نہ کریں مگر کم (بےدلی سے ) ۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

یقینا اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے ایسے شخص کے لیے جسے اللہ سے ملنے اور قیامت کے دن کے آنے کی امید ہو اور وہ اللہ کا ذکر کثرت (بہت زیادہ) سے کرتا ہو

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مومنوں نے کفار کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے ” یہ وہی ہے جس کا اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ کہا تھا “۔ اور یوں ان کا ایمان اور اطاعت اور بڑھ گئی

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے (اپنا ذمہ پورا کرچکے) اور بعض انتظار کر رہے ہیں اور ایک ذرہ بھی نہیں بدلے۔

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا چاہے تو ان پر مہربانی کرے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور جو کافر تھے ان کو اللہ نے پھیر دیا وہ اتنے غصہ میں بھرے ہوئے تھے کہ کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے اعتبار سے کافی ہے، اللہ طاقتور اور زبردست ہے۔

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے ان کی مد د کی تھی ان کو ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی۔ ایک جماعت کو تم نے قتل کیا اور ایک جماعت کو قید کیا۔

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنادیا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔

واقعہ غزوہ احزاب تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا تھا تو یہاں سے رکوع 3 کے آخرتک کی آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺ بنی قریظہ سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہ پورے دو رکوع غزوہ احزاب کے واقعہ سے متعلق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق ہدایات اور احکامات ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ تیسرے سال غزوہ احد ہوا۔ چوتھے سال غزوہ احزاب پیش آیا۔ غزوہ احزاب کفار و مشرکین اور یہود کی مشترکہ طاقت کے نتیجہ میں ہوا۔ یہ فوج اتحادیوں کی فوج تھی جس کی تعداد 10 سے 15 ہزار تک بتائیـ گئی ہے جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ جن میں منافقین بھی شامل تھے۔ اور سخت سردی کا موسم تھا۔ یہ جنگ مسلمانوں کے لیے بڑی ہی سخت آزمائش کی جنگ تھی۔ مگر ادھر مسلمانوں کی مدد میں اللہ عظیم کی مدد شامل تھی اسی لیے تو مسلمانوں کو ایسی بہترین فتح ملی کہ مخالف گروہوں، کفار و مشرکین، یہود اور منافقین کی کمریں اس طرح توڑ دیں کہ آئندہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ اس طرح یہ غزوہ مدینہ کی سرزمین پر کفر و اسلام کا آخری معرکہ تھا۔ اس غزوہ کی وجوہات کچھ یوں ہیں۔ بنی نصیر کے یہود جن کو شرارتوں کی وجہ سے مدینہ سے باہر نکال دیا گیا تھا انہوں نے عرب کے بڑے بڑے قبیلوں کو حملہ کے لیے جمع کرلیا۔ احد میں مسلمانوں کے نقصان کی وجہ سے کفار کو مدینہ پر حملہ کرنے کی جرأت ہوئی۔ حملہ اتنا بھر پور انداز میں کیا گیا کہ یکدم مسلمان گھبرا گئے۔ کیونکہ سیدناسلمان فارسی ؓ اور باقی تمام صحابہ کی مرضی سے مدینہ کے اندر محصور ہو کر یہ جنگ لڑی گئی۔ تین طرف سے شہر قدرتی طور پر محفوظ تھا چوتھی طرف خندق کھود لی گئی اس کی لمبائی 3½میل تھی چوڑائی اور گہرائی اتنی تھی کہ دشمن اس کو پار نہ کرسکے۔ یہ خندق شیخین سے شروع ہو کر جبل سلع کے مغربی گوشے تک تھی۔ دشمن کی فوج کا ساز و سامان اور تعداد دیکھ کر مسلمان مبہوت ہوگئے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” تمہارے دل دھڑک کر گلوں تک پہنچ گئے تھے۔ محاصرہ کیونکہ 21 دن تک رہا اس لیے مسلمانوں کے کمزور ایمان والے لوگ گھبرا گئے اور کچھ اللہ کے وعدہ کے خلاف بولنے لگے۔ کچھ محاذ سے بھاگنے کی ترکیبیں کرنے لگے اور کچھ یہود نے جو مدینہ کے اندر تھے اندر سے حملے کا ارادہ کیا اور کچھ منافقین نے علیحدہ ہونے کا پروگرام بنایا۔ اور یوں پکے سچے اور مضبوط مسلمانوں کا پتہ چل گیا۔ کیونکہ ان کے حوصلے بلند تھے اور ان کو اللہ کے ” فتح “ کے وعدے پر پورا یقین تھا وہ اس یقین اور ایمان کی مضبوطی کے سہارے اپنے اپنے محاذ جنگ پر ڈٹے ہوئے تھے۔ کہ بیشمار مصیبتوں، پریشانیوں اور شدید آزمائشوں کے بعد بالاخر اللہ کی مدد آپہنچی رات کے وقت سخت قسم کا طوفان باد و باراں آیا کہ جس سے دشمن کی ہر چیز، کیا خیمے، کیا ہتھیار، کیا جانور اور کیا خوراک غرض ہر چیز تہس نہس ہوگئی اور لشکر تتر بتر ہوگیا۔ صبح مسلمانوں نے دیکھا کہ میدان خالی پڑا ہے تو اللہ کی مدد پر حیران ہوتے ہوئے سجدہ شکر بجا لائے۔ اسلامی طرز عمل کے چند نکات اس غزوہ میں ملتے ہیں۔ 1۔ موت کے ڈر سے میدان جنگ سے بھاگنا۔ کیونکہ موت نے تو ہر صورت آنا ہے۔ جہاں بھی بھاگ جاؤ۔ موت ضرور آپکڑے گی۔ 2۔ اللہ کا فیصلہ اٹل ہے۔ اگر اس نے بھلائی پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے تو کوئی روک نہیں سکتا اور اگر نقصان کا فیصلہ ہوچکا ہے تو وہ بھی اٹل ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ 3۔ منافقین کی پہچان۔ لڑائیـ میں کبھی کبھی آتے ہیں تاکہ فتح کی صورت میں مال غنیمت مل جائے اور ویسے ہر کام میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ خطرے کے وقت مرنے والے ہوجاتے ہیں۔ 4۔ منافقین اور کمزور ارادے والے لوگوں کا کوئی کام بھی اللہ کے حضور منظور نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہر کام میں خلوص نیت، پاک نیت اور پکے ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ بڑے سے بڑا کام بھی بےکار ہوتا ہے۔ اللہ کے پاس نہ تو وہ قبول ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی اجر ملتا ہے۔ 5۔ رسول ﷺ کی پیروی۔ جو لوگ اللہ و آخرت کو مان چکے ہیں اور ہر وقت دل میں اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں وہی دلیر، ثواب کے امیدوار اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ ایسے ہی لوگ نبی ﷺ کی اطاعت کرنے کے لائق ہیں۔ 6۔ عہد کے پکے لوگ۔ جب انہوں نے کفار کی بیشمار فوج کو دیکھا تو بجائے پریشان ہونے کے اپنے عہد اور اللہ کے وعدے پر مضبوط اعتقاد رکھتے ہوئے میدان میں ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ اور ان کا یقین و ایمان اور بھی مضبوط ہوگیا۔ منافقین ان کے برعکس پریشان ہو کر بھاگنے لگے۔ 7۔ اللہ کا وعدہ بخشش کا اور سزا کا ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور جن کو اللہ توبہ کی توفیق دے گا تو ان کو بخش بھی دے گا۔ کیونکہ اللہ غفور الرحیم ہے۔ (بخشنے والا رحم کرنے والا) 8۔ اللہ کی تدبیر سب سے بڑی ہے۔ جیسے اس نے دشمن کی فوج کو بغیر لڑائی کے ہی بھگا دیا۔ 9۔ بنو قریظہ کی سزا۔ وہ بھی اپنے مضبوط قلعوں سے نکالے گئے اور سزا کے مستحق ہوئے۔ یہ مدینہ کے مشرق میں رہتے تھے۔ مسلمانوں سے صلح کا معاہدہ کئے ہوئے تھے۔ مگر غزوہ احزاب میں حملہ کے وقت دشمن سے مل گئے۔ کفار کی شکست پر یہ یہودی بھاگ کر اپنے قلعوں میں چلے گئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا۔ پچیس دن کے محاصرے کے بعد انہوں نے صلح کی گفتگو کی۔ اوس کے سردار سیدناسعد بن معاذ ؓ نے ان کی رضا مندی پر یہ فیصلہ دیا کہ کیونکہ یہود نے برے وقت پر وعدہ خلافی کی یعنی غداری کی اس لیے ان کے نوجوان قتل کردیے جائیں بچے اور عورتیں قیدی بنا لیے جائیں۔ ان کے مال و جائیداد کے مالک مہاجرین کو بنا دیا جائے۔ اس کے بعد ایک اور زمین پر تمہیں قبضہ دیا۔ اس سے مراد خیبر کی زمین قیصر و کسریٰ اور کئی اسلامی فتوحات کی نشاندہی کی گئی۔ جو کچھ بیان کیا جا چکا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ قادر مطلق ہے اور ہر چـیز پر قدرت رکھتا ہے جو چاہے کرسکتا ہے اور کوئی بھی اس کے کاموں میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ جب ہم جنگ احزاب کا پوری طرح جائزہ لے لیتے ہیں تو اسلام کی برکتوں، رحمتوں اور فضیلتوں کا یقین پوری طرح ہوجاتا ہے۔ اسلام کا تو مطلب ہی امن اور سلامتی ہے یہ دین فطرت ہے۔ جب ہم اسلامی تاریخ کے واقعات دیکھتے ہیں تو ہمیں بیشمار واقعات ایسے ملتے ہیں جو اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اسلام نے انسان کو رحمت کا سبق دیا ہے۔ مثلاً ہجرت مدینہ ہے۔ پھر فتح مکہ ہے۔ جنگ احزاب تو بہت بڑا واقعہ ہے جو اس حدیث پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ آپ نے فرمایا ” دشمن سے جنگی مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو، تم اللہ سے عافیت مانگو “۔ اسی طرح مکہ کی مہم میں ایک مسلمان نے کہا ” آج گھمسان کا دن ہے۔ “ آپ نے فرمایا ” آج رحمت کا دن ہے “۔ مولانا وحید الدین خان صاحب نے اس موضع کو بڑے پیارے انداز میں بیان کیا ہے لکھتے ہیں۔ ” حقیقت یہ ہے کہ اسلامی کلچر رحمت کا کلچر ہے۔ وہ گن کلچر نہیں۔ اسلام انسانوں کے درمیان ہر حال میں معتدل اور پرامن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے خواہ اس کے لیے فریق ثانی کی یک طرفہ شرطوں پر صلح کرلینا پڑے، جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر کیا گیا۔ اہل ایمان کا کام نہ سر کاٹنا ہے اور نہ سر کٹوانا اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کے متواضع بندے بن کر رہیں۔ وہ برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کریں۔ وہ اعلیٰ اخلاق کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں معرفتِ حق کے چشمے جاری کریں وہ خود بھی ربّانی انسان بنیں اور دوسروں کو بھی ربّانی انسان بنانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیں۔ (از دین انسانیت صفحہ 106)
Ayahs 33:28–30

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح سے رخصت کر دوں۔

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اس کے پیغمبر اور آخرت کی خواہشمند ہو تو تم میں جو نیکی کرنے والی ہیں (پاکباز) ان کے لیے اللہ نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ حرکت کرے گی تو اس کو دو گنا زیادہ سزا دری جائے گی اور یہ کام اللہ کے لیے آسان ہے

نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے لیے خصوصی آیات تشریح : ان آیات میں بھی خالصتاً رشد و ہدایت کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں آنحضرت ﷺ کی سادہ زندگی اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے بڑے خاص احکامات ہیں جو کہ دراصل تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ ہوا یوں کہ جب غزوہ احزاب، بنو نضیر اور پھر بنوقریظہ کی فتوحات مکمل ہوگئیں تو مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ہاتھ لگا جو کہ تمام تقسیم کردیا گیا۔ انسانی فطرت کے تحت ازواج مطہرات نے بھی اپنے اخراجات کے لیے کچھ زیادہ کی فرمائش کردی جس پر نبی اکرم ﷺ کو بہت ناگوار ہوا کیونکہ آپ ﷺ تو ان دنیوی مال و اسباب سے بالکل محبت نہ رکھتے تھے۔ بلکہ آپ کو تو فقرو فاقہ اور درویشانہ زندگی پسند تھی کیونکہ آپ روحانیت کے اس درجہ پر پہنچ چکے تھے کہ آپ کو ان عیش و آرام سے ہرگز کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اور آپ اپنی بیویوں سے بھی اسی رویہ کی توقع کرتے تھے۔ اس لیے آپ بڑے پریشان اور ناخوش ہوئے تب یہ آیات نازل ہوئیں۔ جن کا مفہوم یہ ہے کہ اول تو بیویوں کو اپنے خاوند کی رضاو خوشی اور طریقہ کے مطابق خود کو ڈھال لینا چاہیے۔ خاوند کی مرضی کے خلاف دنیوی آرام و آسائش کو مقدم نہیں رکھنا چاہیے۔ خاص طور سے اس قدر بلند مقام پر اس بات کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے لیے اللہ کی طرف سے اس قدر سخت حکم آیا ہے کہ فرمایا ان کو کہہ دو دنیا کی زندگی چاہتی تو کچھ مال و دولت لے لو اور رخصت ہوجاؤ۔ اور اگر آخرت کی آسائشیں چاہتی ہو تو پھر وہی سادہ زندگی گزارو جو اس رتبہ کی عورتوں کے لیے مناسب ہے۔ پھر دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ دیکھو اے پیغمبر ﷺ کی بیویو ! اپنے مرتبہ کا خیال رکھو اگر تم سے کوئی غلطی ہوگئی تو تمہیں عام عورتوں کی نسبت دوگنا عذاب ملے گا اور اگر نیکی کرو گی تو دوگنا ثواب ملے گا۔ کیونکہ تم تمام عورتوں کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتی ہو۔ لہٰذا تمہیں عام عورتوں سے زیادہ اللہ کا ڈر رکھتے ہوئے نیک اور پاکباز زندگی گزارنی چاہیے جس کے درج ذیل اصول بیان ہوئے ہیں۔ اللہ اور رسول کی پیروی کرو۔ الحمد للہ 21 اکیسواں پارہ مکمل ہوا
Ayahs 33:31–34

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دو گنا ثواب دیں گے اور اس کے لیے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو کسی اجنبی شخص کے ساتھ نرم لہجے سے بات نہ کیا کرو ورنہ جس شخص کے دل میں مرض ہے وہ کوئی غلط توقع لگا بیٹھے گا لہذا دستور کے مطابق بات کیا کرو۔

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم دور جاہلیت کی طرح اپنے بنائو سنگھار کا اظہار نہ کرو۔ نماز پڑھتی رہو، زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرما نبرداری کرتی رہو۔ اے پیغمبر کے گھر والو ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کا میل کچیل دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے۔

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں، ان کو یاد رکھو۔ بیشک اللہ باریک بین اور باخبر ہے۔

عورتوں کے لیے احکام الٰہی تشریح : ان آیات میں بھی خالصتاً رشد و ہدایت کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ غیر مردوں سے بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو قدرے سخت اور بارعب رکھو۔ نرم اور پرکشش آواز سے بات مت کرو، کیونکہ جیسے عورت کے حسن و جمال سے غیر مرد متاثر ہوتے ہیں اسی طرح نسوانی آواز میں بھی مردوں کیلئے کشش ہوتی ہے جو کہ بےحیائی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس لیے باقی جسمانی حسن و جمال کے ساتھ آواز کے حسن کو بھی قابو میں رکھو۔ بےضرورت گھر سے باہر حسن و جمال نہ دکھاتی پھرو بلکہ بہتر ہے کہ گھر کے اندر وقار سے رہو۔ باہر نکلو تو چادر سے اپنے آپ کو اچھی طرح لپیٹ کر نکلو۔ نماز باقاعدہ پڑھو، زکوٰۃ دو اور اللہ و رسول کی اطاعت میں لگی رہو۔ تاکہ ان عبادات کی وجہ سے تمہارے دل پاک اور تم اخلاقی لحاظ سے بہترین انسان بن کر دوسروں کے لیے نمونہ بن جاؤ۔ تمہیں یہ عزت ملی ہے اور اللہ کی طرف سے خاص فضل ہے کہ تم ایسے گھروں میں رہتی ہو جہاں ہر وقت کلام پاک کی آیات پڑھی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے جو بھی ایسے ماحول میں رہے گا یقینا اس کا دل و دماغ عام گھروں میں رہنے والوں سے بہت زیادہ مختلف ہوگا۔ پھر جو جان بوجھ کر غلطی کرے تو اس کو عذاب زیادہ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے اور یہی اللہ کی مصلحت ہے کہ اس نے ازواج مطہرات پر یہ خاص احکامات نازل کئے تاکہ وہ سب کے لیے نمونہ بنیں۔ بیشک اللہ بھید جاننے والا خبر دار ہے۔ ان آیات میں عورتوں کو آداب زندگی اور دینی تعلیمات دی گئی ہیں۔
Ayahs 33:35–36

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، راست باز مرد اور راستباز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اللہ کو زیادہ یاد کرنے والے مرد اور زیادہ یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

مرد اور عورتیں ثواب میں برابر ہیں تشریح : ان آیات میں مردوں اور عورتوں کو عبادات اور ان پر ملنے والے ثواب میں برابر شمار کیا گیا ہے یہاں خاص طور سے ہر عبادت میں مرد و عورت کا ذکر کر کے اس بات کو پکا کردیا گیا ہے کہ عبادات میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔ اللہ کے ذکر کو کثرت سے کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثلاً یہ وضو کی قید سے آزاد ہے۔ وقت، سمت، جگہ اور رکوع و سجود کی قید سے آزاد ہے۔ بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے اور دنیاداری کا ہر کام عبادت میں شمار ہونے لگتا ہے۔ دل کو سکون اور روح کو پاکیزگی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ دیگر عبادات یعنی ارکان اسلام توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج وغیرہ ان سب کا تعلق ذکر الٰہی سے ہی تو ہے مگر ان میں وضو جگہ، وقت اور پیسے کی پابندی ہے جبکہ ذکر ہر وقت اٹھتے بیٹھتے لیٹتے کیا جاسکتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ذکرتمام عبادات کی روح ہے۔ مومن کا دل معرفتِ الٰہی کا خزانہ ہے یہ معرفت ذکر کثیر سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب، اس کی تعریف بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ” آج انسان جہاں مادی ساز و سامان کو ہی جنگ میں فتح و کامرانی کا ذریعہ سمجھتا ہے وہاں وہ یہ حقیقت بھول گیا ہے کہ ذکر الٰہی میدان جنگ فتح کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ” جب تمہارا آمنا سامنا کسی گروہ سے ہوجائے تو جم کر رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ کامیاب ہو سکو “۔ ( سورة انفال آیت 45 :) پھر ٹرائن کا قول لکھتے ہیں (کتاب (In tune with the nature) ’( ’ ہم خدائی طاقت کے ساتھ وہ تعلق اور ہم آہنگی پیدا کرسکتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے ہدایت، نور اور قوت کا چشمہ بن جائے۔ اس دانش اعلی سے متاثر ہونے کے بعد ہم خدائے حیی وقیوم کی صفات کا مرکز بن جاتے ہیں “۔ ٹرائن مزید لکھتا ہے۔ ” اللہ بےکر اں سکون کا منبع ہے۔ جب ہم اس سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں تو ہم پر سکون برسنے لگتا ہے۔ کروڑوں انسان مصائب میں گرفتار ہیں ان کے دل و دماغ اور جسم بےچین ہیں، لمبے لمبے سفر کرتے، کاریں خریدتے، محل بناتے اور دولت کے انبار لگاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی بےچین رہتے ہیں۔ کاش انہیں معلوم ہوتا کہ سکون باہر سے نہیں بلکہ دل سے جنم لیتا ہے اگر ہم روح کی پکار کو سن کر اپنی زندگی اس کے مطابق ڈھالیں تو ہمارا دل فردوس مسرت سے معمور ہو جاسیدہئے گا “۔ ” ذِکر الٰہی سے اللہ کی رحمتیں تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ بندے کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں “۔ (از مطالعہ قرآن) تو آخر میں ذکر کثیر کرنے والے مومنین اور مومنات کو جو سب سے بڑا فائدہو گا، وہ ہے اللہ کی بخشش اور اجر عظیم۔ اگلی آیت میں اللہ و رسول کے حکم کی پابندی کی تاکید کی گئی ہے۔ گویہ آیت اصل میں ایک خاص واقعہ پر نازل ہوئی۔ ہوا ایسے کہ سیدنازید کو نبی اکرم ﷺ نے خرید کر آزاد کردیا اور اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ جب سیدنازید ؓ جو ان ہوئے تو آپ نے ان کا نکاح سیدہ زینب سے کرنا چاہا۔ مگر سیدہ زینب ؓ کے بھائی نے رشتہ دینے سے انکار کردیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی جس پر سیدہ زینب اور ان کے بھائی مان گئے اور شادی ہوگئی۔ مگر اس میں بہت بڑی مصلحت تھی ورنہ اللہ تو سب جانتا ہے کہ کس کے دل میں کیا ہے۔ اصل میں اس واقعہ سے ایک فضول رسم کو ختم کرنا تھا اگلی آیات میں ہے۔
Ayahs 33:37–40

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب تم اس شخص سے جس پر اللہ نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا، کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ ڈرنا تو صرف اللہ سے چاہیے۔ پھر جب زید نے اس سے اپنی غرض پوری کرلی یعنی نکاح کے بعد اسے طلاق دے دی تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا۔ تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے میں کچھ تنگی نہ رہے جب وہ انہیں طلاق دے دیں اور اللہ کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو اللہ نے ان کے لیے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے۔ اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

اور جو اللہ کے پیغام جوں کے توں پہنچاتے اور اس سے ڈرتے، اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور اللہ ہی حساب کرنے کو کافی ہے “

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں کی نبوت کی مہر یعنی اس کو ختم کردینے والے ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے “۔

سیدنازید کی شادی اور طلاق کی مصلحت تشریح : دراصل ان آیات میں اللہ کی اس حکمت کو بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ سے جاہلیت کی وہ رسم سرے سے ختم کرنا مقصود تھا کہ جس کی وجہ سے لوگ منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے کے برابر درجہ دیتے تھے۔ اسی وجہ سے وراثت کے معاملہ میں بڑی الجھنیں پیدا ہوجاتی تھیں اور پھر اصلی رشتہ دار وراثت سے کافی حد تک محروم رہ جاتے تھے اسی طرح رشتہ داریوں کی حرمت اور درجات میں کافی گڑ بڑ ہوجاتی تھی۔ دین ِ اسلام اصلاح معاشرہ کا دین ہے اسی لیے اس غلط رسم کو جڑ سے نکال دیا گیا۔ ہوا اس طرح کہ جب خلاف خوشی سیدہ زینب اور سیدنازید کا نکاح اللہ کے حکم کے تحت ہوگیا تو اصل میں ان دونوں کو دلی طور پر ایک دوسرے سے رغبت یعنی خوشی نہ ہوـئی تو نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کا آپس میں جھگڑا رہنے لگا۔ سیدنازید ؓ اکثر نبی اکرم ﷺ سے شکایت کرتے تو آپ ان کو سمجھاتے کہ عزت کا مسئلہ ہے تم کوشش کر کے نباہ کرو اور طلاق نہ دو ۔ اصل میں تو یہ سب اللہ کے طے شدہ پروگرام کے تحت ہو رہا تھا۔ اور حضور کو اللہ نے بتا دیا تھا کہ جب زید ان کو طلاق دے گا تو عدت پوری ہونے پر آپ نے سیدہ زینب سے نکاح کرنا ہے۔ یہ حکم آنحضرت ﷺ کو بہت مشکل لگ رہا تھا۔ آپ سخت پریشان تھے کہ لوگوں کو میرے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا بہت بڑا موقعہ مل جائے گا اور یوں میری عزت وقار اور نبوت کے درجہ پر بہت برُا اثر پڑے گا اور لوگوں کے غلط سلط الزامات، طعنوں اور تہمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اللہ تو دلوں کے بھید اور ہر ظاہر باطن سے اچھی طرح واقف ہے تو اسی لیے اس آیت میں کہا گیا کہ تم لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ ڈرنا تو صرف اللہ ہی سے چاہیے یعنی بندوں سے مت ڈرو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے صرف اللہ سے ڈرو اور اس کے حکم کو مانو۔ کوئی جھجک اور پریشانی دل میں مت لاؤ۔ جتنے نبی آپ سے پہلے گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ہمارا یہی طریقہ رہا ہے کہ جس بات سے ان کو منع کیا گیا انہوں نے وہ کام ہر کز نہیں کیا اور جس بات کے کرنے کا حکم دیا گیا فورا بخوشی انہوں نے کر ڈالا۔ آپ بھی بلا جھجک زینب کی طلاق اور عدت پوری ہونے کے بعد ان سے شادی کرلیں یوں یہ بات پکی ہوجائے گی اور آئندہ کوئی مسلمان منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے کے برابر نہیں سمجھے گا۔ جان لو کہ زید آپ کے بیٹے کی حیثیت ہرگز نہیں رکھ سکتے کیونکہ وہ حارث کے بیٹے ہیں ان کی بیوی آپ کی بہو نہیں بلکہ عام عورت ہے۔ طلاق ہونے پر عدت پوری ہونے پر ان سے آپ شادی کرلیں یہ اللہ کا حکم ہے۔ فرمایا ” اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے “۔ یعنی اللہ کا حکم بڑی مناسب سوچ سمجھ اور بڑی احتیاط سے پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہوتا ہے۔ اس لیے اس پر عمل کرنے میں کوئی تردد، کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے اور رسول تو اس بات کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں، وہ کبھی بھی حکم ماننے میں دیر نہیں کرتے اور نہ ہی سوچ بچار سے کام لیتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ کفایت کرنے والا تو صرف اللہ ہی ہے اور وہی ہر مسئلہ کو نمٹانے کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے سیدہ زینب سے ان کی طلاق اور عدت پوری ہونے کے بعدشادی کرلی۔ اس پر تمام کفار کو نبی ﷺ کی ذات پر اعتراضات کرنے کا ایک بہانہ مل گیا تو اس کا جواب قرآن پاک میں یوں دیا گیا ہے۔ ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے دو بیٹے پیدا ہوئے تھے جو بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے اس لیے آپ ﷺ کا تو کوئی بیٹا ہے ہی نہیں کہ جس کی بیوی ہو اور وہ طلاق ملنے پر سسر سے شادی کرلے۔ سیدنازید آپ کے بیٹے نہ تھے بلکہ صرف منہ بولے بیٹے تھے اور منہ بولا بیٹا ہرگز سگا بیٹا نہیں ہوتا اس کی حیثیت ہر لحاظ سے لے پالک کی ہی ہوتی ہے۔ یہ رسم کہ اس کو سگے بیٹے کی حیثیت مل جائے اب سے ختم کی جا رہی ہے۔ یہ مسئلہ تو اس وضاحت کے ساتھ یہاں ختم ہوتا ہے کہ یہ فرمانِ الٰہی بھی ہے اور سنت رسول بھی۔ ایک ایسے رسول کی سنت کہ جو تمام نبیوں پر مہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مہر کا مطلب ہے کہ نبی و رسول کی آمد کو ختم کر کے اللہ نے پکی مہر لگا دی ہے کہ اب آپ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی رسول آئے گا۔ دین ہر لحاظ سے مکمل ہوچکا ہے۔ قرآن و سنت میں قیامت تک کے تمام مسائل بڑی وضاحت سے بیان کردیے گئے ہیں۔ کوئی مسئلہ زندگی کا ایسا نہیں جو حل نہ کردیا گیا ہو۔ قرآن پاک میں اس کے بارے میں بڑی وضاحت سے کہہ دیا گیا ہے کہ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا “۔ (سورۃ المائدہ آیت : 3) دین ِ محمدی سے پہلے جس قدر دین دنیا میں آئے سب وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے چلے گئے اور بالآخر مخالف طاقت کے ہاتھوں ختم کردیے گئے۔ کیونکہ رسولوں کی آمد لوگوں کی اصلاح کے لیے سیدناآدم سے شروع ہوچکی تھی۔ مگر جو بھی رسول آتا وہ کسی خاص قوم یا ملک کے لیے آتا جبکہ نبی پاک ﷺ پوری دنیا کے لیے رحمت بن کر آئے اور آپ کا نام اور پیغام ہمیشہ جوں کا توں ہی رہے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ یہ بالکل پکی اور سچی حقیقت ہے۔ قرآن کی سچائی کا یہ بھی ایک ثبوت ہے کہ چودہ سو سال پہلے جو بات قرآن میں کہہ دی گئی اس کو دنیا کا کوئی دور، تاریخ کا کوئی انقلاب اور قدرتی آفات کے اثرات اس کہی گئی بات کو بدل نہیں سکے کہ ” یہ دین آخری ہے اور مکمل ہے “۔ آج مخالف دین جو یہ کہتے ہیں کہ اتنی پرانی ہدایات آج کے اس بدلے ہوئے زمانے اور ترقی کے دور میں کیسے مانی جاسکتی ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا وہی ہے اس کی ہر چیز آسمانوں سے زمین تک وہی ہے۔ انقلابات نے جغرافیائی حیثیت تو بدل دی مگر اخلاقی، روحانی اور انسان کی بنیادی ضروریات زندگی کے تقاضے، اعتقاد اور اللہ کا تصور ہرگز نہیں بدل سکا۔ آج بھی کسی پڑھے لکھے یا جاہل سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ؟ تو وہ بےاختیار کہہ اٹھتا ہے۔ اللہ نے۔ اصل میں دین کی اکملیت کے بارے میں سورة المائدہ کی آیت 3 میں یہ اعلان بڑے وثوق سے کیا گیا ہے۔ کہ ” آئندہ آنے والے زمانوں میں تاریخ کے واقعات انہی اسباب کے تحت ہوں گے کہ جو بجائے دین اسلام کو جھٹلانے کے دین کی سچائی کے کام آئیں گے۔ اس بات کی وضاحت کے لیے میں مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتاب دین انسانیت سے مدد لینا چاہوں گی۔ ان کی وضاحت بہترین اور جامع ہے مگر میں اس کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھنا چاہوں گی تاکہ بچوں کے معیار کے مطابق عام فہم اور آسان ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلے لوگوں کا علم اتنا وسیع نہیں تھا کہ اللہ کی ذات کی تعریف کرسکیں۔ وہ تو ہے ہی عظیم و کبیر انسانی عقل سے بہت بلند مگر پھر بھی علم و عرفان نے انسان کو اس کی حقیقت سمجھنے میں کافی مدد دی ہے۔ پہلے تو اللہ کے تصور کو اندھا اعتقاد کہہ کر ختم کردیتے تھے جبکہ موجودہ دور میں۔ آزادی، سائنس اور سیکولرزم نے انسان کو اللہ کے زیادہ قریب اور دین کو زیادہ واضح کردیا ہے۔ اور یہ اس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے۔ کہ پہلے لوگوں میں دین، اسلام اور مذہب کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ ہوتا تھا بلکہ کوشش کی جاتی تھی کہ مذہب پر بحث نہ کی جائے۔ اظہار خیال پر پابندی اب ختم ہوچکی ہے۔ اور اس طرح تمام مذہبی کتابوں کا متن کھل کر لوگوں کے سامنے آنے لگا ہے۔ جس کی وجہ سے قرآن پاک کی سچائی، معقولیت، چھپے ہوئے راز اور دین انسانیت کی کتاب ہونے کے اچھے اور پکے مضامین خوب وضاحت سے لوگوں کے سامنے آنے لگے ہیں۔ عام زندگی میں دیکھا جا رہا ہے کہ خود مسلم اور غیر مسلم قرآن کی حقیقتوں سے بحث مباحثہ کے ذریعہ زیادہ واقف ہو کر مسلمان پکا مسلمان اور غیر مسلم اسلام کی طرف راغب ہو کر اسلام قبول کر رہا ہے یا سوچ رہا ہے۔ آزادی رائے کا عمل تقریباً تین سو سال سے اہل علم کے درمیان جاری ہے حتیٰ کہ یہ ایک مستقل فن بن چکا ہے۔ اس میں دنیا کے تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ یہ طریقہ اسلام کی سر بلندی، حقانیت اور برتری کو سامنے لانے کا بہترین ذریعہ بنا۔ مصنف مذکور نے اس کو یعنی آزادی اظہار کے فن کو ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے۔ (1) ہائر کریٹیسزم (2) ہسٹاریکل کر یٹیسزم، تنقید متن یعنی (Textual Criticism) یہ ذریعہ اسلام کے حق میں بہترین ذریعہ بنا کیونکہ یہ کتابوں میں قران کی سچائی اور اصلی عبارات کو ثابت کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور یہ تمام ذرائع اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ذرائع میں سے ایک ہیں۔ بظاہر یہ آزادی رائے کا دور اسلام اور مسلمان کے خلاف لگتا تھا مگر یہ دین اسلام کی سچائی اور مضبوطی کا ایک بہت بڑا ہتھیار ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔ اور اس طرح دین کی حفاظت کا جو ذمہ اللہ نے لیا تھا یا وعدہ اس کے سلامت و صحیح رہنے کے لئے اللہ نے کیا تھا پورا ہوگیا اور جو لوگ اس کو قدیم دین کہتے تھے اس کو بہترین اور جدید ترین دین کہنے لگے۔ یہ تو آزادی رائے تھی جس کو ہم پہلا انقلابی ذریعہ کہہ سکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں دوسرے انقلابی ذریعہ کی۔ یہ دوسرا فکری انقلاب جدید سائنسی انقلاب ہے۔ یہ سائنسی دور خاص طور سے پورے زور وشور سے تقریباً انیسویں صدی میں شروع ہوا۔ ویسے تو ہمارے بیشمار سائنس دان، محقق اور علماء گزر چکے ہیں مگر حقیقی علم تک پہنچنے کا زور دار ذریعہ وہ تجربہ یا مشاہدہ ہے جو قابل یقین اور واضح ہو۔ اب تک اللہ کے وجود کو صرف اس طرح واضح کیا گیا کہ ڈیزائن کو دیکھ کر ڈیزائنر کا خیال ملتا ہے۔ اس کو جدید بچہ بھی قبول نہیں کرتا وہ کچھ زیادہ دلیل کے ساتھ اس کی وضاحت مانگتا ہے اور یہ وضاحتیں Scientific Method میں ملتی ہیں۔ جیسے جیسے سائنسی علوم بڑھ رہے ہیں ویسے ویسے اس بات کا یقین مضبوط ہوتا چلا جا رہا ہے اور ثابت ہوچکا ہے کہ سائنس مذہب سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم آسمانی فضا کے راز پر ایک قرآنی آیت لکھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت دھواں تھا۔ اس نے آسمان و زمین سے کہا آؤ (ایک مقام پر) چاہو یا نہ چاہو تو دونوں نے کہا ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح (حٰم السجدہ آیت : 11) موجو دہ دور کے علم ریاضی، طبیعیات اور جیو فزکس کے علم کے مطابق کسی کرّہ کے لیے (Planet) فضا کا حصول اور موجودگی برقرار رکھنا بےحد مشکل کام ہے۔ یعنی کرّہ اور اس کے نزدیک ترین آسمان کے درمیان انتہاء کی مخالفت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فضا میں نزدیکی فضا گیسی ایٹم والے ایٹموں پر مشتمل ہوتی ہے تمام بڑے کرّوں میں یہ ایٹمی ذرات کرُّے کی سطح میں جذب ہوجاتے ہیں۔ جبکہ چھوٹے کرُّے میں کشش ثقل ایٹموں کو اپنے ساتھ باندھنے کے لیے ناکافی ہوتی ہے اس طرح یہ ایٹمی طاقتیں فضا میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ ایٹمی ذرات اور دوسری کثیف گیسیں فضا میں تحلیل ہونے کی کوشش کرتی رہتی ہیں جبکہ ہماری زمین انہیں اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ یہ حالت، مجبوری کہلاتی ہے۔ یہ تمام تفصیلات، راز اور فضائی معاملات آج سے کچھ عرصہ قبل تک کسی کو معلوم نہ تھے۔ جب کہ یہ اتنی بڑی حقیقت چودہ سو سال پہلے چند الفاظ میں بیان کردی گئی تھی۔ اسی طرح بچہ کی نشوونما پیٹ کے اندر قرآن میں بڑے مختصر الفاظ میں بتائی گئی ہے جس کو میڈیکل سائنس نے بڑے بھر پور انداز میں بیان کیا ہے جو قرآن کی آیت کے بالکل مطابق ہے۔ اسی طرح انسان کی ابتداء بھی اب مان لی گئی ہے اور ڈارون کا وہ ارتقائی انسان جھوٹ ثابت ہوچکا ہے۔ قرآن میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ آدم مٹی سے بنے، حوا ان سے پیدا ہوئیں اور پھر انسان نطفہ سے پیدا ہوا۔ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اسی طرح بیشمار حقائق ہیں جن کو سائنس اب بےحد تحقیق کے بعد مان رہی ہے۔ جیسا کہ سورج کی حرکت کا مسئلہ ہے قرآن میں صاف کہا گیا ہے کہ سورج اپنے مستقر کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ سائنس دان اس کو ساکن کہتے رہے۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے تجربات سے اس بات کو مان لیا کہ سورج ساکن نہیں بلکہ وہ بھی باقی فضائی چیزوں کی طرح گردش کرتا ہے۔ یہ سب کچھ جان چکنے کے بعد کون ہے جو سائنس اور مذہب کو علیحدہ علیحدہ کہے گا۔ اور قرآن کا یہ اعلان سچ ثابت ہو رہا ہے۔ کہ انسانی فکر میں کوئی بھی تبدیلی اسلام کی سچائی کو جھٹلا نہ سکے گی۔ اور آنے والا کوئی بھی انقلاب صرف دین الٰہی یعنی اللہ کے دین کی تصدیق کرے گا۔ تیسرا انقلاب فکری انقلاب سیکولرزم کی تحریک ہے۔ اس کا مطلب ہے دین کے معاملہ میں غیر امتیازی رویہ۔ اور اس کا مطلب ہے بس یہی دنیا ہی سب کچھ ہے۔ یہ فکریورپ سے شروع ہوئی۔ بظاہر تو یہ تحریک مذہبی معاملات میں دخل اندازی کو منع کرتی تھی مگر حقیقت میں مذہب سے دور کرنے کی تحریک بن گئی۔ مگر مذہبی فطرت نے اس تحریک کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ اس سلسلے میں 1924 کا ترکی کا واقعہ ہمارے سامنے ہے جب اتا ترک نے اسلامی خلافت کا مکمل طور پر خاتمہ کر کے زبردستی سیکولرزم کی پالیسی ملک میں نافذ کردی۔ جس کی وجہ سے ملک پوری طرح غیر اسلامی نظام اپنانے پر مجبور کردیا گیا۔ اتا ترک کے انتقال کے بعد عصمت انونو 1973 میں صدر مقرر ہوا۔ اتاترک کے 50 سالہ دور حکومت میں باوجود سخت کوشش کے اسلام زندہ رہا۔ اور اسلام کی اس مضبوطی کا اعتراف عصمت انونو نے ان الفاظ میں کیا۔ ” میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں دیکھ رہا ہوں، ہم نے اپنے بس بھر تمام کوشش کی کہ ترکوں کے دل سے اسلام کو نکال دیں اور اس کی جگہ مغربی تہذیب کو ان کے اندر داخل کردیں مگر حیرت انگیز طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف نکلا چناچہ ہم نے تو سیکولرزم کا پودا بویا مگر پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔ “ (الوعی الاسلامی، ذوالقعدہ 1408 ہجری) سو ویت یونین بھی ایک مثال ہے، 1917 میں طاقتور حکوت کے ذریعے اسلام کو مٹانے کی کوشش کی گئی سو سال کی محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ گیا اور پھر اسلام زندہ سلامت نکل کھڑا ہوا۔ یہ جملہ مولانا وحید الدین خان صاحب کا قابل تعریف ہے۔ لکھتے ہیں ” اسلام کے خلاف تاریخ کا ہر چیلنج صرف یہ ثابت کر رہا ہے کہ اسلام ابدی طور پر ایک مستحکم دین ہے، اس کو کوئی زیر کرنے والا نہیں ہے “۔ ثابت ہوگیا کہ اسلام کبھی بھی مٹنے والا مذہب نہیں۔ تاریخی انقلا بات نے اس کو مضبوط سے مضبوط کیا عارضی طور پر اسلام کے خلاف کافی جدوجہد کی گئی جو وقتی طور پر اسلام کو دبانے میں کامیاب ہوئی مگر مٹا نہ سکی۔ اور یہی اللہ کا وعدہ ہے۔ مولانا مودودی (رح) صاحب اپنی تقریر 9 مئی 1947 ء میں تین صالح اصول مسلمان کو دیتے ہیں۔ 1۔ لادینی کے مقابلہ میں اللہ کی بندگی اور اطاعت۔ 2۔ قوم پرستی کے مقابلے میں انسانیت۔ 3۔ جمہور کی حاکمیت کے مقابلے میں اللہ کی حاکمیت اور جمہور کی مخالفت اور سب سے بڑا رہنما اور بہترین اصول اتباع قرآن و حدیث اسلام کی لازوال طاقت اسی میں پوشیدہ ہے۔ رسول اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ، مقبول اور بہترین انسان ہوتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کا درجہ سب سے بلند اس لیے ہے کہ آپ نے ایک مکمل دین، یعنی اسلام پوری دینا کو دے دیا۔ جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ یہ تمام سلسلے اللہ کے خود بنائے ہوئے ہیں جو کہ سب چیزوں کا جاننے والا ہے۔ اس نے آپ کو آخری نبی کا درجہ دیا گویا آپ کی نبوت سلسلہء نبوت کو ختم کرنے کے لیے لگا دی گئی ہے۔