33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 33:41–48

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے اہل ِ ایمان اللہ کا کثرت سے ذکر کرو۔

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

صبح اور شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر مہربان ہے۔

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ ان سے ملاقات کریں گے ان کا تحفہ اللہ کی طرف سے سلام ہوگا اور اس نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

ﷲ کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن۔

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا اور اللہ ہی کار ساز کافی ہے۔

اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

مومنو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کر کے ان کو ہاتھ لگانے یعنی ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ۔ ان کو کچھ فائدہ یعنی خرچ دے کر اچھی طرح رخصت کر دو ۔

طلاق کی ایک اور صورت تشریح : اس آیت میں تین احکامات دیے گئے ہیں جو ایسی عورت و مرد کے لیے ہیں جنہوں نے نکاح کے بعد ایک دوسرے کو چھوا نہ ہو کہ اس سے پہلے ہی کسی وجہ سے طلاق ہوگئی ہو پہلا حکم (1) ایسی عورت پر عدت کا پورا کرنا واحب نہیں وہ فوراً دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ (2) حکم یہ ہے کہ ایسی مطلقہ کو شرافت اور حسن سلوک کے ساتھ کچھ سامان دے کر رخصت کیا جائے۔ اور مہرمقرر کیا گیا ہو تو مہر کی آدھی رقم ان کو ادا کر دینی چاہیے۔ (3) حکم یہ ہے کہ ان کو خوبی کے ساتھ رخصت کرو اور پابندی ہے کہ رخصت کے وقت کوئی سخت بات ان سے نہ کہو۔ ان تمام صورتوں میں اسلام کی عظمت یوں بیان ہو رہی ہے۔ کہ مخالفت، جھگڑا اور ناچاقی اپنی جگہ ہے مگر جب اس کا حل تم اللہ و رسول ﷺ کے احکامات کی روشنی میں نکال لو تو پھر کسی بد اخلاقی اور خباثت کا مظاہرہ ہرگز نہ کرو۔ بلکہ حسن سلوک اور حسن کردار کا پوری طرح مظاہرہ کرو اور قصے کو حسن و خوبی سے نمٹا دو ۔ اسی میں مومن کی شان اور اسلام کی برتری ہے
Ayahs 33:50–52

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو اللہ نے تم کو کفار سے بطور مال غنیمت دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے مامؤوں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں سب حلال ہیں اور کوئی مومن عورت اگر خود کو پیغمبر کے لیے بخش دے یعنی بغیر مہر لیے نکاح میں آنا چاہے بشرطیکہ پیغمبر بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ بھی حلال ہے لیکن یہ اجازت اے محمد ﷺ خاص آپ کو ہی ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو مہر واجب الادا مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں یہ اجازت اس لیے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اس کو جانتا ہے اور اللہ جاننے والا بردبار ہے۔

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اے پیغمبر ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرلو خواہ ان کا حسن تم کو کیسا ہی اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے اور اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔

نبی کے لیے احکامات اور خاص رعایتیں تشریح : اوپر دی گئی آیات میں سات احکامات نکاح و طلاق کے بارے میں دیے گئے ہیں جو خاص طور پر صرف نبی اکرم ﷺ کے لیے دیے گئے ہیں۔ مگر ان تمام احکامات میں آپ کے لیے بھی حدود رکھی گئی ہیں کہ ان سے باہر ہرگز نہ نکلیں۔ اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے نکاح اور طلاق کا معاملہ اختیار کریں۔ کیونکہ اللہ ہر مسئلہ کی حقیقت، انجام اور اچھائی و برائی سے اچھی طرح واقف ہے اس لیے اس نے عام مسلمانوں کے لیے کچھ مختلف احکامات دیے ہیں اور نبی اکرم کی برتری کے اور معروفیت کے سبب کچھ خاص رعایتیں ان کو دی ہیں۔ پھر آخر میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے “۔ یعنی اس کی دی گئی ہدایات کا پوری طرح احترام کیا جائے۔ نکاح و طلاق اور بیویوں کی تعداد میں جو خاص رعایت آپ کو دی گئی ہے اس کی مصلحت ہمیں کچھ یوں معلوم ہوتی ہے کہ جوانی میں آپ نے 40 سال کی بیوہ سے شادی کی جب آپ کی عمر 50 سال ہوئی تو سیدہ خدیجہ نے 65 سال کی عمر میں انتقال کیا اس کے بعد سوائے سیدہ عائشہ ؓ کے تمام ازواج عمر میں کافی زیادہ اور بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ ان سب سے نکاح کا مقصد یا تو تبلیغ دین تھا یا سیاسی اور سماجی بھلائی حاصل کرنا تھا یا دوسرے احکامات نافذ کرنا۔ مثلاً سیدہ عائشہ ؓ علم و حکمت کا خزانہ تھیں آپ کے وصال کے بعد 48 سال تک وہ علوم اسلامیہ کا درس دیتی رہیں اور دو ہزار کے قریب احادیث انہوں نے امت مسلمہ کو دیں۔ اسی طرح سیدہ ام سلمہ نے بھی تقریبا تین سو احادیث بیان کیں۔ سیاسی اور سماجی لحاظ سے ہم سیدہ ؓ ام حبیبہ ؓ ، سیدہؓ صفیہ ؓ اور سیدہؓ میمونہ ؓ کا حوالہ دے سکتے ہیں کہ ان سے نکاح کے بعد کئی سیاسی معاملات خود بخود نمٹ گئے اور یوں مسلمانوں کے لیے امن و سکون سے ترقیوں کی راہیں کھل گئیں اور یوں ثابت ہوگیا کہ جو رعایتیں آپ کو دی گئی تھیں وہ صرف نفسانی خواہشات پوری کرنے کے لیے نہیں دی گئی تھیں بلکہ صرف امت کی بھلائی اور تبلیغ اسلام کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے دی گئی تھیں۔ یہ جواب ان مخالفین کے لیے بہت ضروری ہے جو نبی اکرم ﷺ کو دی گئی ان رعایتوں کو محض عیاشی اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اورا اللہ و رسول کے خلاف بہتان بازی کرتے ہیں۔ اللہ کا کوئی کام، کوئی حکم حکمت کے بغیر نہیں اور رسول کا کوئی کام رضائِ الٰہی کے خلاف نہیں ہوتا تھا آپ کا ہر قدم اللہ کی خوشنودی اور فرمانبرداری میں اٹھتا تھا اور یہی اصول ہم سب مسلمانوں کے لیے بہترین اور ضروری ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔ کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ اللہ ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے ایسے لوگوں کو دنیا و آخرت میں نہ دکھ ہوگا اور نہ کوئی غم۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” اے اطمینان والی روح تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے خوش۔ بس میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں چلی جا “۔ ( سورة الفجر آیت 27 تا 30)
Ayahs 33:53–55

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو رخصت ہوجاؤ اور باتوں میں دل لگا کر نہ بیٹھے رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے وہ تم سے شرم کرتے ہیں اور کہتے نہیں مگر اللہ سچی بات کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے اچھی بات ہے اور تم کو یہ شایان نہیں کہ اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑے گناہ کا کام ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ تو یاد رکھو اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر اپنے باپوں سے پردہ نہ کرنے میں کچھ گناہ نہیں، نہ اپنے بیٹوں سے، نہ اپنے بھائیوں سے، نہ اپنے بھتیجوں سے، نہ اپنے بھانجوں سے، نہ اپنے جیسی عورتوں سے، نہ لونڈیوں سے، اور اے عورتو ! اللہ سے ڈرتی رہو بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

زندگی کے کچھ آداب تشریح : ان آیات میں بہت سے اسلامی آداب معاشرت سکھائے گئے ہیں یہاں انہیں نبی ﷺ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے جب کہ اصل میں ہر مسلمان کو اپنے رہن سہن میل ملاقات میں ان تمام احکامات کی پیروی ضرور کرنی چاہیے کیونکہ ان اصولوں سے معاشرے میں سکون، خوشی، محبت، ایثار اور خوش خلقی و خلوص پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ آداب یہ ہیں۔ پہلا ادب : کہ کسی کے گھر بغیر اجازت گھس جانا خلاف تہذیب ہے۔ خاص طور سے بنی کے گھروں میں صرف اس وقت جاؤ جب ان کی طرف سے کھانے کی دعوت دی جائے۔ اس صورت میں بھی آداب کا خیال رکھو کیونکہ نبی ﷺ خاص طور سے بےحد مصروف شخصیت ہیں اس لیے ان کے وقت اور مصروفیات کا خیال رکھتے ہوئے عین کھانے کے وقت پر جاؤ اور کھانے کے بعد بجائے بیٹھ کر گپ شپ لگانے کے فوراً رخصت ہوجاؤ۔ دوسرا ادب : میزبان کی تکلیف کا خیال رکھتے ہوئے کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے نہ رہو۔ میزبان مہمان کو جانے کے لیے نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ آداب میزبانی کے خلاف ہے۔ تیسرا ادب : عورتوں سے کچھ کام ہو تو پردے کا خیال رکھتے ہوئے اوٹ میں رہ کر بات کرو۔ چوتھا ادب : رسول اللہ ﷺ کی خوشی، عزت اور احترام کا خیال رکھتے ہوئے کبھی یہ خیال بھی دل میں نہ لاؤ کہ آپ کے وصال کے بعد کوئی بھی ان کی بیوہ کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے۔ اس کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ سوچنا بھی گناہ ہے۔ اللہ ہر بات جانتا ہے۔ پانچواں ادب : ان مردوں کا ذکر جن کے سامنے آنا منع نہیں جن سے پردہ نہ کیا جائے اور وہ یہ ہیں۔ باپ، بیٹے، بھائی، بھتیجے، بھانجے، اور اپنے جیسی عام مسلمان عورتیں اور لونڈیاں۔ چھٹا ادب : اللہ کے خوف کو ہر صورت دل میں زندہ رکھتے ہوئے ان تمام احکامات پر پوری خوشی سے ہمیشہ عمل کرنا کیونکہ اللہ تو ظاہر باطن ہر چیز سے خوب اچھی طرح واقف ہے۔ بظاہر یہ بڑی معمولی باتیں لگتی ہیں۔ مگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک تہذیب یافتہ سلجھی ہوئی سوسائٹی کے اصول ایسے ہی ہوسکتے ہیں جو معاشرہ اخلاقی لحاظ سے برا ہو وہ سوائے تنزل کے اور کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔ بقول ارسطو ” انسان ایک معاشرتی جانور ہے “۔ اس لیے پیدائش سے لے کر موت تک اسلام نے اس کے لیے بہترین اصول بنا دیے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلامی معاشرتی اصول تمام مذاہب کے اصولوں سے بہترین ہیں۔ کسی بھی فرد کو یا معاشرے کو بہترین تعلقات بنانے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ قانون اور اخلاق۔ ان دونوں میں سے اخلاق اور کردار کا پلڑا بھاری ہے۔ کیونکہ ایک با کردار مضبوط اور بہترین اخلاق کا ما لک انسان ہی قانون کی پابندی بھی کرسکتا ہے۔ فطرتاً ہر انسان نیک پیدا کیا گیا ہے مگر جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے اگر اس کو اچھا ماحول، والدین، استاد اور دوست احباب مل جائیں تو وہ بہت اچھا انسان بن جاتا ہے اسی لیے دین اسلام میں ہر عمر کے لحاظ سے زندگی کے بہترین اصول بنا کر انسانوں کے سامنے دکھ دیے ہیں۔ تاکہ مسلمان دور سے پہنچانا جائے کہ ہاں یہ باکردار سلجھا ہوا حسین سیرت کا مالک مسلمان ہی ہوسکتا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ انسان کی شخصیت کو سنوارنے والا مذہب ہی ہوسکتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ ” ہر بچہ اصل فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں (بخاری، کتاب الجنائز)
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے مومنو ! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو۔

نبی ﷺ پر درود وسلام کی تاکید تشریح : اس آیت میں حضرت محمد ﷺ کی عظمت کا اظہار کتنے شاندار طریقہ سے کیا گیا ہے کہ ہر مسلمان کے لیے ضروری کردیا گیا ہے کہ وہ جب آپ کا ذکر کسی بھی صورت سے کرے تو عظمت، محبت اور فرمانبرداری کے اظہار کے طور پر نام کے ساتھ بجائے صاحب، سر یا آقا کہنے کے درود سلام پڑھے۔ اس طرح خود انسان ثواب کا حق دار بھی بن جاتا ہے اور اس عمل میں اللہ و فرشتوں کا پیروکار بھی بن جاتا ہے وہ اس طرح کہ قرآن پاک میں صاف فرمایا ” کہ اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ سبحان اللہ ۔ اللہ نے اپنے اس جلیل القدر باکمال انسان کو کس قدر بڑائی اور عزت عطاء کی کہ وہ خود اور فرشتے درود وسلام آپ ﷺ پر بھیجتے ہیں۔ یہ تو ہوگئی آپ کی عزت و احترام۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دود سلام کا مطلب کیا ہے صلوٰۃ کا مطلب ہے رحمت، دعا، مدح وثناء یعنی تعریف۔ اللہ کی طرف سے صلوٰۃ کا مطلب ہے آپ پر رحمت کرنا۔ فرشتوں کی طرف سے صلوٰۃ کا مطلب ہے دعا کرنا اور عام مسلمانوں کی طرف سے صلوٰۃ کا مطلب ہے دعا اور تعریف کرنا عزت کرنا۔ اور سلام کا مطلب ہے سلامتی یعنی ہر قسم کی آفت، بلا، مصیبت اور پریشانی سے محفوظ و مامون ہونا۔ یعنی یہ دعا کہ اللہ آپ کو سلامتی سے رکھے، سبحان اللہ بشربیشک آپ ہی تھے مگر رتبہ میں بہت اعلیٰ وارفعٰ ہیں۔ آپ پر اترنے والا قرآن اپنی معقولیت میں واحد ہے اور قرآن نازل کرنے والا ! وہ تو اپنی صفات و برکات میں اس قدر عظیم کہ کوئی بندہ اس کا ادارک ہی نہیں کرسکتا۔ پھر ایسے عظیم و کبیر، قہا رو جبار اور رحمن و رحیم نے جس بندے کو اپنا پیارا کہہ دیا تو پھر وہ کس قدر عظیم انسان ہوگا۔ آپ کی تعلیمات، آپ کا حسن کردار، آپ کا صبر و شکر اور آپ کا تقویٰ ہے ہی اس قابل کہ آپ کا امتی ہونا ہی بڑی خوشی اور عزت کی بات ہے تو پھر ایسی ہستی کا نام بغیر درود وسلام کے کیسے لیا جاسکتا ہے۔ آپ ﷺ مقبولِ الٰہی، مقبول ملائکہ اور مقبول انسان ہیں۔ اب یہ جاننا ہے کہ درود وسلام آپ کے نام کے علاوہ اور کس طرح بھیجا جاسکتا ہے تو ياد رہے یہ نماز کا ایک خاص حصہ ہے۔ یعنی نماز کی دوسری رکعت میں جائز اور آخری رکعت میں تشہد یعنی التحیات کے بعد درود شریف پڑھنا لازمی ہے اسی طرح دعا میں بھی آپ ﷺ پر درود پڑھنا افضل ہے اس کے علاوہ ویسے ہی درود پڑھتے رہنا بڑے ثواب کا باعث ہے۔ اس لیے کثرت کے ساتھ درود پڑھنا چاہیے کیونکہ اس کی بڑی فضیلت ہے حدیث میں آتا ہے سیدناانس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس نے مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ دور ہوں گے اور اس کے دس درجے بلند ہوں گے۔ “ (نسائی از اسوہ حسنہ مصنفہ بنت الاسلام) لیکن یاد رہے کہ درود کے مسنون الفاظ ہی پڑھنے زیادہ افضل و بہتر ہیں خود ساختہ، بناوٹی، اور جعلی الفاظ سے ہر صورت اجتناب کرنا چاہیے۔
Ayahs 33:57–58

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام کی تہمت سے ایذاء دیں جو انہوں نے کیا نہ ہو تو (اس طرح بہتان لگانے والے) انہوں نے صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر رکھا “۔

اللہ تعالیٰ رسول ﷺ اور مومنوں کو تکلیف دینے والے ملعون لوگ تشریح : ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کررہے ہیں اور اس کے رسول کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ) نیزان آیات میں ان لوگوں کے لیے بھی وعید ہے جو عام مومنوں مسلمانوں اور بالخصوص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پہ اتہامات لگا کر انہیں پریشان کرتے ہیں۔
Ayahs 33:59–62

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانون کی عورتوں سے کہہ دو کہ جب باہر نکلا کریں تو اپنے مونہوں پر چادر لٹکا کر گھونگٹ نکال لیا کریں اس طرح وہ پہچانی جاسکیں گی ( کہ وہ مسلمان ہیں) تو کوئی اور ان کو تکلیف نہ پہنچائے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینہ کے شہر میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں اپنے کردار سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ تمہارے پڑوس میں بھی نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن۔

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

وہ بھی پھٹکارے ہوئے جہاں بھی پائے جائیں گئے پکڑے جائیں گئے اور جان سے مار ڈالے جائیں گئے

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گز رچکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی مرضی رہی ہے اور تم اللہ کی عادت میں تغیر و تبدل نہ پاؤ گے

تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم تشریح : ان آیات میں تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ پردے کے بارے میں یہی وضاحت ہوسکتی ہے کہ یہ معاشرے سے بہت سی برائیاں ختم کرتا ہے۔ یہ آیت دراصل اس وقت نازل ہوئی جب سیدناعمرنے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ کچھ بدقماش لوگ عورتوں کو تنگ کرتے ہیں۔ منع کرنے پر کہتے ہیں کہ ” ہم نے سمجھا لونڈ یاں ہیں “۔ تو سیدناعمر ؓ نے اس کا یہ حل پیش کیا کہ ہماری عورتیں پردہ کر کے باہر نکلیں تاکہ بدمعاشوں کو معلوم ہو کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اور وہ ان سے شرارت نہ کریں۔ اس پر حکم ہوا کہ بڑی چادر سے جسم اچھی طرح لپیٹ لیں اور گھونگٹ نکال لیا کریں۔ پھر ان لوگوں کے بارے میں بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے جو بد قماش اور شیطان فطرت لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی طرف سے پھٹکار ہے۔ اور عنقریب ان کی شرارتوں کی وجہ سے ان سے مدینہ کو پاک صاف کردیا جائے گا اور ان کے بارے میں کہا گیا کہ جہاں ان کو پکڑو قتل کر دو کیونکہ یہ فحاشی کے علاوہ غلط افواہیں بھی شہر میں پھیلاتے ہیں۔ اللہ تو ایسے لوگوں کو کبھی بھی معاف نہیں کرتا۔ جب سرکش لوگ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو پھر اللہ نیک بندوں کی مدد کرتے ہیں اور ان کے ذریعے ایسے لوگوں کو نیست و نابود کردیتے ہیں تاکہ ملک میں بد امنی نہ پھیلے۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کب آئے گی ؟ کہہ دو کہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو۔

قیامت کب آئے گی تشریح : اس آیت میں قیامت کا ذکر ہے رسول اللہ ﷺ دنیاوی عذاب کے سوا قیامت کے عذاب سے بھی ان بدکاروں، سرکشوں، منافقوں کو خوف دلایا کرتے تھے لیکن یہ ڈھیٹ لوگ مذاقاً پوچھتے ہیں کہ ” بھئی تمہاری قیامت کب آئے گی ؟ “ تو اللہ فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ ” اس کی خبر تو اللہ ہی کو ہے۔ تو آپ کیا جانے شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو “۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی لوح محفوظ یعنی گرینڈ کمپیوٹر میں محفوظ کر رکھا ہے۔ اس کے مطابق اپنے وقت مقررہ پر آجائے گی اور جب وہ آجائے گی تو پھر ذرا سی بھی مہلت نہ ملے گی یہ سب کچھ اتنا اچانک اور فوراً ہوگا کہ کوئی سمجھ نہ سکے گا۔ اور اس کا پتہ لگانا کہ کب آئے گی ؟ ناممکن ہے۔ چاہے ساری دنیا کے عالم، فاضل، سائنس دان، ہیت دان، وغیرہ وغیرہ اکٹھے ہو کر تجربات کریں مگر یہ جان نہ سکیں گے کہ قیامت کب آئے گی۔ تمہیں خود ہی معلوم ہوجائے گا جب تم اپنی سزاؤں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے اور اپنے جسموں پر سہو گے۔ اگلی آیات میں ایسے لوگوں کے عذاب کا ذکر ہے جو ان کو مل کر رہے گا۔ اللہ کا یہی طریقہ ہے جو بدل نہیں سکتا۔
Ayahs 33:64–68

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مدد گار۔

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ آگ میں الٹا دیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش ! ہم اللہ کی فرمانبرداری کرتے اور رسول اللہ کا حکم مانتے۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو (سیدھے) رستے سے گمراہ کیا۔

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔

برے لوگوں اور رہنماؤں کا انجام تشریح : گناہ اور بےحیائی سے گھر، محلے، شہر، ملک اور دنیا میں بےسکونی بدامنی اور انتشار پھیلتا ہے اسی لیے رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہر چھوٹے بڑے گناہ سے منع کیا ہے۔ سزا چھوٹے گناہ کی بھی ملے گی کیونکہ چھوٹا گناہ ہی بڑے گناہوں کی بنیاد بنتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک چھوٹی سی پنسل کی چوری ہی انسان کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ کیونکہ اس چوری کا پکڑا جانا انسان کی بےعزتی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس پریشانی میں وہ اپنا سکون کھو بیٹھتا ہے۔ اگر وہ چوری پکڑی جائے تو انسان کی عزت برباد ہوجاتی ہے وہ اپنی کلاس میں چور مشہور ہوجاتے ہیں حالانکہ چوری بڑی معمولی تھی اور اگر چوری پکڑی نہ جائے تو چوری کرنے کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور اگلی دفعہ وہ ذرا اور بڑی چیز کی چوری کرتا ہے اور یوں برائی کی جڑ انسان کے اندر مضبوط ہونے لگتی ہے۔ یہ تو چھوٹی سی مثال ہے۔ برائی میں جھوٹ، چوری، غیبت، لڑائی جھگڑا، دنگا فساد اور جیسا کہ کفار کا ذکر کیا گیا ہے کہ غلط افواہیں پھیلاتے اور عورتوں سے بدتمیزی کرتے تھے۔ تو ایسے ہی تمام لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے اور خبر سنائی ہے کہ جہنم کی آگ ان کے لیے تیار کی کئی ہے۔ وہاں بےیارو مددگار ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا۔ صرف آگ ہی تیار نہیں کی گئی بلکہ ان کو منہ کے بل دوزخ کی آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہمیں محفوظ رکھے ذرا سی آگ چھو جائے تو انسان چیخ اٹھتا ہے تو وہاں اتنی زیادہ آگ میں کیا حال ہوگا یہ بالکل سچ بات ہے کیونکہ اللہ جل شانہ نے کہی ہے، یہ غلط ہو ہی نہیں سکتی۔ اس وقت وہ عذاب کی سختی سے پریشان ہو کر آہ وفریاد کریں گے اور کہیں گے کہ اس میں ہمارا قصور نہیں ہمارے بڑوں نے ہمیں گمراہ کیا کاش ہم ان کی بجائے اللہ و رسول ﷺ کا کہا مانتے تو آج یہ حال نہ ہوتا ! پھر کہیں گے کہ یا اللہ ہمارے ان والدین، پیشوائوں اور لیڈروں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ان سب کو دو گنا زیادہ عذاب دے اور ان پر دوہری لعنت بھیج کیوں کہ ان کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوا ہے۔ ان کی اس بات سے خاص کر اور ویسے ہر لحاظ سے یہ بات تو طے ہے کہ یہی لوگ قوموں کو، افراد کو اور ایک فرد کو گمراہ کرنے کے بڑے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہی نیکی اور بدی کا بیج بوتے ہیں۔ حقیقت میں ان کو دہرا نہیں بلکہ کئی گنا زیادہ عذاب ملے گا۔ جس طرح نیکی کا ثواب اس کے پھیلنے تک اس شخص کو ملتا چلا جاتا ہے جہاں تک اور جس جس تک وہ نیکی پہنچتی چلی جاتی ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو اپنے رتبہ کے مطابق ہر کام نیکی اور سچائی کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے تاکہ وہ کئی گنا عذاب سے بچ سکے اور نیک نامی حاصل کرسکے یہ تو ہوگئی ان کی ذمہ داری مگر ایک گناہ گار اپنے گناہ کی سزا سے اس طرح بچ نہـیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اچھی بھلی عقل اور سمجھ بندے کو دے رکھی ہے اور پھر صاف الفاظ میں یہ بھی حکم دیا ہے کہ والدین کی فرمانبرداری ضرور کرو ان کو کبھی اف تک نہ کہو لیکن اگر کفر اور شرک کا حکم دیں تو ہرگز نہ مانو۔ کیونکہ کفر وشرک تمام روحانی بیماریوں کی جڑ ہیں دنیا میں بیشتر برائیاں انہی کی وجہ سے پھیلتی ہیں اور آخرت کا عذاب بڑا سخت عذاب ہوگا اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے ( آمین) ۔ قرآن میں صرف سزا کا ہی ذکر نہیں کیا گیا بلکہ انعام اور جنت کا ذکر بھی کیا گیا ہے اگلی آیات میں خوشخبری دی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Ayahs 33:69–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو عیب لگا کر رنج پہنچایا تو اللہ نے ان کو بےعیب ثابت کیا اور وہ اللہ کے نزدیک آبرو والے تھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو ! اللہ سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو۔

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرے گا تو بیشک وہ بڑی مراد پائے گا۔

کامیابی کے اصول تشریح : یہاں پہلے تو مومنوں کو مثال دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ جس طرح سیدناموسیٰ کو ان کی قوم نے ہر طرح سے تکلیفیں پہنچائی حتی کہ وقتاً فوقتاً ان پر الٹے سیدھے بہتان اور عیب لگائے تم اپنے نبی سیدنامحمد ﷺ کے ساتھ اس طرح سے پیش نہ آنا۔ خبردارر ہو اس بات سے کہ جس طرح موسیٰ کو اللہ نے اپنی رحمت میں چھپا کر تمام پریشانیوں سے نجات دے دی اور ان کی بد کردار قوم پر لعنت بھیجی اور ان کو در بدر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا کہیں تم بھی اس طرح عذاب اور پریشانیوں میں نہ گھر جاؤ۔ کیونکہ نبی رسول تو اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں ان پر تو ہر وقت اللہ کی رحمت، مدد اور فضل ہوتا رہتا ہے۔ جبکہ ظلم و زیادتی کرنے والے اللہ کے عذاب اور غصہ سے ہرگز بچ نہیں سکتے۔ پھر مومنین کو یہاں کامیابی کے تین انتہائی اہم اصول بتائے۔ پہلا ” اللہ کا ڈر “۔ یہ انسانی کامیابی کی بنیاد ہے اور دوسرا ” کھری کھری بات کرو “ یعنی ایسی بات جس میں جھوٹ، کوئی ہیر پھیر نہ ہو کسی کی جانبداری نہ ہو بات جتنی ہو اتنی ہی کرو اس پر حاشیے نہ چڑھائو اس سے ممکن ہے وقتی طور پر کچھ نقصان بھی پہنچے تاہم اس کے نتائج بڑے مفید اور دور رس ہیں۔ اور تیسرا اصول ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرنا۔ ان مذکورہ اصول ثلاثہ پر عمل پیرا ہونے سے انسان کے اعمال درست ہوجائیں گے۔ جب اعمال درست ہوجائیں گے تو پھر اس پر دنیا و آخرت کی آسانیاں، رحمتیں، برکتیں اور بخششیں سب عام ہوجائیں گی تو اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہوگی کہ بندہ دنیا میں بھی سرخرو ہو اور آخرت میں بھی جنت کا انعام حاصل کرے۔ آگے اس امانت کا ذکر ہے جو انسان کو دی گئی ہے۔
Ayahs 33:72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے امانت کے بار کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا، بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔

انسان ظالم اور جاہل ہے تشریح : ان آیات میں امانت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے اس کو خلافت ارضی سے تعبیر کیا ہے۔ قران و حدیث میں یہ کہیں بھی نہیں کہ انسان خلیفۃ اللہ یعنی اللہ کا نائب ہے بلکہ خلیفہ کہا گیا ہے جس میں کئی احتمال ہیں انسان انسان کا نائب جیسا کہ سورة طہ میں ہے اسی طرح انسان اپنے سے پہلی مخلوق مثلا جنات وغیرہ کا نائب ہے یعنی زمین پر اللہ کا مقرر کردہ نائب اور اس لحاظ سے انسان کا درجہ بھی بڑھ گیا ہے۔ کیونکہ مخلوقات تو سبھی عقل و شعور اور زندگی رکھتی ہیں مگر انسان کو کیونکہ خلیفہ بنایا گیا ہے اس لیے اس کو نیا بت نبھانے کے لیے ایک دستور دیا گیا۔ وہ دستور کتاب مقدس قرآن پاک کی صورت میں دیا گیا ہے۔ اس میں انسان کو پیدائش سے مرنے تک کے تمام اصول بتا دیے گئے ہیں۔ اب ان کو پورا کرنے یا کروانے کا مسئلہ آتا ہے۔ تو دنیا میں انسان کے لئے ہر نیکی کے ساتھ ایک بدی کا واسطہ پڑتا ہے تو یہاں اس کے لیے عقل و ارادہ کا امتحان شروع ہوجاتا ہے جیسا کہ شروع میں ہی سیدناآدم (رح) کو جنت کی ہر نعمت دے کر امتحان کے لیے ایک درخت کی پابندی لگا دی کہ اس کے پاس نہیں جانا۔ انسان اپنی فطرت سے مجبور ہو کر نافرمانی کر بیٹھا۔ اب نافرمانی کی سزا موجود ہے اور فرمان برداری کا انعام موجود ہے۔ پھر ان دونوں کے درمیان اپنی بخشش کا دروازہ کھول دیا کہ اگر غلطی سے گناہ ہوجائے جو کہ یقینی ہے کیونکہ انسان تو غلطیوں کا پتلا ہے اس کو قدم قدم پر شیطان اور بدی سے لڑنا پڑتا ہے۔ ارادہ اور عقل دے کر انسان کو ہر وقت آزمائش کے چکر سے گزرنا پڑتا ہے۔ جبکہ اس آزمائش کے چکر سے دنیا کی ہر چیز آزاد ہے۔ وہ تو ایک حکم کے تحت چل رہے ہیں جبکہ انسانوں میں منافق، مشرک موجود ہیں۔ ان کو سزا اور جزا ضرور ملے گی۔ کیونکہ زندگی کا مقصد ہی یہی ہے کہ آخرت کے لیے عمل کئے جائیں اور اسی کے مطابق سزا ملے یا انعام۔ انسان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اس کو دنیا میں جو بھی رتبہ سونپا گیا وہ اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ اس لیے اس رتبہ کے تمام فرائض پورے خلوص اور محبت و دیانت داری سے ادا کرنے چاہیں کیونکہ ان کی پوچھ ضرو رہو گی۔ الحمد اللہ سورة الاحزاب مکمل ہوگئی اس پر عمل کی توفیق رب العزت ہم سب کو عطا کرے (آمین) خلاصہ سورة الاحزاب جیسا کہ قرآن باقی علوم کا مجموعہ ہے اور خاص طور سے کتاب ہدایت ہے۔ اس کی تمام سورتیں اپنی اپنی جگہ بہترین ہیں۔ سورة الاحزاب میں خاص طور سے بتایا گیا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ مگر عمل میں عقل و ارادہ دے کر اس کو سزاء و جزاء کا پابند بنا دیا گیا ہے۔ زندگی کے حقائق میں سے چند حقائق ان کے اصول و ضوابط یہاں بیان کئے گئے ہیں۔ مثلاً لے پالک بیٹے کے مسائل، ازواج مطہرات کے درجات، فرائض اور پھر ان کی چھوٹی فرمائش پر ان کی فہمائش۔ منافقین کا طرز عمل۔ اور ان کے غلط رویہ کی وجہ سے مسلمان عورتوں کے لیے پردے کی پابندی۔ گھریلو مصروفیات سے دور رکھنے کے لیے یعنی آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ان کو کچھ خاص رعاتیں دی گئیں تاکہ تبلیغ دین میں ان کو آسانی حاصل ہو۔ دوسروں کے گھروں میں جانے کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ نبی ﷺ کا درجہ اور پھر ان پر دورد وسلام بھیجنے کی تاکید اور فضیلت بتائیـ گئی ہے۔ آخر میں خلیفۃ ہونے کی وجہ سے جو ذمہ داریاں دی گئیں ان کو پورا کرنے کا عہد و پیمان وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ جس کو اللہ تبارک تعالیٰ نے امانت کا درجہ دیا ہے کہ یہ عہدہ جو انسان کو دیا گیا ہے۔ انسان کو اس پر پورا اترنا پڑے گا۔ تو جنت ملے گی ورنہ کوتاہی پر سزا بھگتنی ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو اس دنیا میں جو بھی ڈیوٹی دی کئی ہے جو بھی زندگی دی گئی ہے اس کو پوری دیانتداری سے قرآن و حدیث کی روشنی میں گزارنی ہوگی۔ چاہے وہ والدین ہیں، اولاد ہیں، لیڈر، استاد، رہبر، سپاہی، حاکم یا عالم دین ہیں۔ اپنے فرائض کو قرآن و سنت کی روشنی میں خوف خدا دل میں رکھ کر گزارنی ہوگی۔ ورنہ اس کی پکڑ بڑی سخت ہوگی۔ اللہ رحم کرے آمین۔