32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 32:1–3

الٓمّٓۚ Open ayah 32:1 in the Quran reader

الۗمّۗ (حروف مقطعات میں سے ہے)

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے رب کی طرف سے ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے از خود بنا لیا ہے ؟ بلکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے برحق ہے، تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں۔

قرآن اللہ کا نازل کیا ہوا پیغام ہے تشریح : اس بات میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب اللہ رب العالمین کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔ کیونکہ اس میں حکمت اور دانش مندی کی بیشمار باتیں بیان کی گئی ہیں۔ گویا یہ قرآن پاک ایک بک لِٹ ہے کائنات، انسان اور تمام مخلوقات کے بارے میں، جو کچھ اللہ نے اپنی قدرت اور حکمت سے بنائی ہیں۔ تاکہ انسان کو اپنی پیدائش اور تمام مخلوقات کی پیدائش، اصول اور حکمتیں ‘ ضرورتیں ‘ استعمال اور فائدوں کے بارے میں خوب اچھی طرح تفصیلاً سمجھا دیا جائے۔ تاکہ وہ خود اپنے آپ کو پوری کائنات کو خوب اچھی طرح سمجھ جائے اور جب وہ خود کو اور کائنات کو سمجھنے لگے گا تو ان تمام مخلوقات کے بنانے والے کو خود بخود پہچاننے لگے گا۔ اور یہی قرآن کا مقصد ہے اور جب اللہ کو پہچاننے لگے گا تو پھر توحید کا نور ہدایت خود ہی اس کو کفر و شرک اور گمراہی و گناہوں کے اندھیروں اور غلاظتوں سے دور کر دے گا۔ قرآن ماضی حال اور مستقبل ہر قسم کے بہت بڑے بڑے رازوں سے بھرا پڑا ہے۔ بھلا اس قسم کے اتنے بڑے بڑے راز نبی ﷺ کیسے بیان کرسکتے ہیں۔ جبکہ اہل عرب اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ ﷺ بیشک ایک بہترین، سب سے مختلف، نیک شریف، پاکباز انسان تھے مگر تھے تو وہ اُمّی (بغیر پڑھے لکھے) وہ بھلا اتنے بڑے بڑے حکمت و دانش مندی اور تمام زمانوں کے نکات کیسے خود اپنے پاس سے بیان کرسکتے تھے۔ ان کے رویہ کی یہ تبدیلی ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ کلام کسی بندے بشر کا تو ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ تو خیر اُمّی تھے اس وقت کے بڑے بڑے شعرائ ‘ ادیب اور فلسفی بھی قرآن کی ایک آیت جیسی آیت نہ بناسکتے تھے۔ یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں کہ واقعی قرآن اللہ کی نازل کی ہوئی سچی ‘ پکی ‘ بہترین اور لاجواب بےمثال کتاب ہدایت اور کتاب حکمت ہے جو کہ تمام دنیا کے ہر انسان کیلئے نازل کی گئی ہے۔ جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھا ہے۔ کیونکہ سیدناابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ آپ سے ڈھائی ہزار برس پہلے گزر چکا تھا جو کہ لوگوں کے عقائد کو بدلنے کیلئے کا فی طویل مدت ہے۔ گو کہ اہل عرب اللہ کو ضرور مانتے تھے مگر انہوں نے اپنی جہالت کی وجہ سے کچھ ایسی چیزوں کو اللہ کا نشان بنا لیا تھا کہ جو خود اللہ کے بنائے ہوئے اور اللہ کے محتاج تھے اور کچھ تو اس قدر بیوقوف تھے اور اب بھی ہیں کہ خود ہی لکڑی ‘ مٹی اور پتھر کے بت بناتے اور ان کو پوجنے لگتے۔ یہ سب بڑی گمراہی اور انسان کیلئے نقصان دہ باتیں ہیں۔ انہی سے بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے آخری نبی کو قرآن مجید جیسی کتاب دیکر لوگوں کی طرف ہدایت کیلئے بھیجا اور فرمایا ” شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں “ (3 السجدہ) سچ ہے کہ علم کے بغیر انسان اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ جبکہ قرآن علم کا خزانہ ہے۔
Ayahs 32:4–9

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا۔ اس کے سوا نہ کوئی تمہارا دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہی آسمان سے زمین تک ہر کام کا انتظام کرتا ہے۔ پھر وہ ایک روز جس کا اندازہ تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا اس کی طرف چڑھتا ہے۔

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور رحم والا اللہ ہے۔

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا، یعنی اس کو پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل کو حقیر پانی سے پیدا کیا۔

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کو درست کیا اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی اور تمہارے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو “

آسمان و زمین اور انسان کی تخلیق کے دلائل تشریح : ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا چھ دن میں کرنا “ قرآن پاک میں سات دفعہ آیا ہے۔ تفسیر کبیر میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ ” دن صرف زمانہ کو ظاہر کرنے کیلئے بولا گیا ہے۔ ورنہ آسمانوں کے پیدا ہونے سے پہلے نہ رات تھی نہ دن تھا اور یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے میں فلاں دن پیدا ہوا، حالا ن کہ ممکن ہے کہ رات کو پیدا ہوا ہو۔ ایسا کہنے کا مطلب صرف زمانہ ہے جس میں وہ پیدا ہوا۔ (تفسیر سورة سجدہ) یہاں تخلیق کے چھ دن سے مراد صرف وہ تخلیقی مدت ہے جو آسمانوں اور زمین کے بنانے میں صرف ہوئی۔ اس طرح یہ کہا گیا کہ ” آخرت کا ہر دن ہزار سالوں کے برابر ہے “۔ مطلب صرف یہ ہے کہ زمانے یا دورانیہ کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اور اس سے مراحل یا مدارج بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ بہر حال یہ تمام کمالات اس بلندو بالا عظمتوں والے الہ العٰلمین کے ہی کام ہیں جو عرش پر مقیم ہے۔ اس عرش پر جس کا تصور ہم کرسکتے ہیں دیکھ نہیں سکتے، اس سے اس بات کی نفی ہوگئی ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، وہ تو عرش پہ مستوی ہے، کیسے جیسے اسکی ذات کو لائق ہے تو جو اتنا عظیم قدرت والا ہے بھلا تمہاری عقل میں کوئی اور اس کے مقابلہ میں آتا ہے جو تمہاری حمایت کرے ‘ مدد کرے یا کسی کو اتنا حوصلہ ہے کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش کرے ؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر تم عقل سمجھ سے کام کیوں نہیں لیتے ؟ نہ تم اس کو مانتے ہو نہ اس کی بھیجی ہوئی کتاب کو مانتے ہو اور نہ ہی اس کے بھیجے ہوئے رسول کو مانتے ہو۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے قائم کیے ہوئے نظام پر غور نہیں کرتے ؟ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب وقت کی رفتار کے بارے میں لکھتے ہیں ” اس سورت کی آیت 5 اور 6 میں ایسی ایسی بصیرتیں موجود ہیں کہ ان کی مدد سے کائنات کی پیدائش سے متعلق بہت سے راز معلوم ہوسکتے ہیں۔ زیادہ اہم یہ حقیقت ہے کہ ان آیات کی مدد سے غیر مرئی فرشتوں کی موجودگی پر ایمان لانا علم طبیعات (فزکس) کے لیے ناگزیر ہے۔ فرشتوں کے متعلق جو نظریہ ہے، جسے ہم ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ایک سمجھتے ہیں اس پر مشرق و مغرب میں ملحدوں اور کافروں نے کئی سالوں تک اعتراضات کئے ہیں اور اس کا مذاق اڑایا ہے مگر آج سائنس نے ان ہستیوں کی موجودگی کی حقیقت کا اعتراف کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ موجودات جن کی رفتار تین لاکھ کلو میٹر فی سکینڈ ہوتی ہے۔ نظر نہیں آسکتیں وقت کا عام بہاؤ یا گزرنا ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اور یہ رفتار بجائے خود کائنات میں ہر جگہ مختلف ہے “۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق) اسی موضوع پر سورة المعارج میں اور بھی تفصیلات آئیں گی۔ یہاں اللہ کے نظام مملکت کی طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے کہ ” فرشتے ایک دن کے احکامات لے کر زمین پر آتے ہیں پھر تمام کاروائی کے نتائج لے کر اوپر چلے جاتے ہیں اور دوسرے دن کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں “۔ پھر فرمایا کہ ” یہ ایک دن تمہاری دنیا کے حساب سے ایک ہزار سال کا ہوتا ہے “ یہ تمام بہترین انتظامات وہ عالم الغیب زبردست علم رکھنے والا مہربان ہی کرسکتا ہے۔ کیونکہ ظاہرو باظن گزری ہوئی موجودہ اور آنے والی تمام حقیقتیں صرف اسی کے علم میں ہیں کسی اور کی کیا مجال کہ ایک ذرہ بھی جان سکے سوائے اس کے کہ وہ خود کسی کو کچھ بتائے۔ پھر اس کی حکمت میں سے تخلیق کا ایک زبردست شاہکار انسان ہے جس کو اس نے اپنی بہترین تخلیق قرار دیا اور اس کو اپنی بہت سی صفات میں سے بڑا معمولی سا حصہ دیا۔ یعنی دیکھنے، سننے، جاننے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیتیں، کیونکہ اس نے انسان کو اپنا نائب کہا ہے۔ انسان کی پیدائش یا تخلیق کا کھلا کھلا راز یوں بیان کردیا کہ پہلے تو انسان کو مٹی سے بنایا اور پھر انسان کا عورت اور مرد کا جوڑا بنایا اور ان کے اندر ایسی ترکیب یا ایسی مشین اعضاء کی صورت میں رکھدی کہ پھر ان کے اندر ایک قطرہ مادہ منویہ اور عورت کے بیضہ کے ملاپ سے ایک ایسا مناسب شکل و صورت کا انسان بن کر دنیا میں آتا ہے کہ جو دیکھنے میں خوبصورت اور رہن سہن کے لحاظ سے مکمل انسان ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بارے میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ اب انسانی جسم کے بارے میں کچھ تھوڑا تفصیلی بیان ہوجائے۔ میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب لکھتے ہیں۔ ” انسانی بدن میں ایک نہایت پیچیدہ مواصلاتی نظام کام کر رہا ہے۔ اس کا مرکزدماغ ہے، جس میں ایک ارب سیل (Cells) ہیں، ان سے بہت سے باریک تار نکل کر تمام جسم میں پھیلے ہوئے ہیں جو جسم کے ہر حصے کی ہر خبر آناً فاناً دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ اگر پاؤں پر کیڑا چڑھ جائے تودماغ کو فوراً اطلاع ملتی ہے اور دماغ ہاتھ کو اسی وقت بزن کا حکم دیتا ہے۔ ہماری زبان دماغ کے ساتھ تین ہزار تاروں سے منسلک ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ تین ہزار ذائقوں سے لطف اندوز ہوسکتی ہے۔ (مزے محسوس کرسکتی ہے) ہمارے کان میں ایک لاکھ سماعتی (سننے کے) سیل ہیں، آنکھ میں ایک سو تیس ملین آلات بینائی ہیں۔ اور جلد میں اڑھائی لاکھ ایسے سیل ہیں جو سردی، گرمی، نرمی اور سختی کی خبر دیتے ہیں “۔ (از مطالعہ قرآن) کس قدر پیچیدہ تخلیقات ہیں۔ سبحان اللہ۔ دل کا تعلق انسانی جسم میں روح اور ضمیر کے ساتھ ہے اس لیے اس کی تعریف محمد موسیٰ روحانی بازی صاحب کی تحریر میں پڑھیئے۔ لکھتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے ” جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے کہ اگر وہ خراب اور فاسد ہو تو پورا بدن خراب اور فاسد ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ٹکڑا ٹھیک اور صحیح ہو تو پورا بدن درست اور ٹھیک ہوتا ہے اور وہ ہے ” دل “۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اعضاء سے جتنے اچھے یا برے اعمال سرزد ہوتے ہیں ان کا تعلق گوشت کے ایک ٹکڑے سے ہوتا ہے اور گوشت کا وہ ٹکڑا دل ہی ہے جو بدن میں امیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حدیث میں فساد و صلاح (اچھائی برائی) سے دینی و اخلاقی صلاح و فساد مراد ہیں۔ تجربہ و مشاہدہ دونوں اس بات کے شاہد عادل ہیں کہ صالحین کی صحبت فیض کے اثر سے بہتر طور پر دلوں کی اصلاح ہوسکتی ہے۔ “ (از گلستان قناعت) آسان الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی انسان یہ کہتا ہے کہ ” دل بےایمان ہوگیا، دل مچل گیا، دل نے گواہی دی، دل نے برائی پر مجبور کیا، برائی پر دل پیشمان ہوا، دل بھر آیا، دل میں خباثت بھری ہوئی ہے، دل نے راہ دکھائی، دل نے گناہ پر مجبور کیا، یا دل گناہ کرنے پر راضی نہ ہوا۔ تو ثابت ہوا کہ انسان کے اندر دل ہی شیطان یا نور الٰہی کا مقام ہے۔ اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمارے دلوں کو اپنے نور سے بھر دے تاکہ اس نور کی روشنی میں جسم کا ہر حصہ ہدایت کی راہ اختیار کرے اور ہمیں توفیق دے کہ ہر لمحہ ہر صورت اس کا شکر ادا کر کے اس کی رضا حاصل کرتے رہیں دعا۔ ” اے ہمارے پروردگار جب تو ہمیں ہدایت کرچکا تو ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ دینے والا ہے “۔ (آل عمران 8)
Ayahs 32:10–22

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ” جب ہم زمین میں مل یا میٹ ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا ہوں گے “ ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے سامنے جانے کے ہی قائل نہیں۔

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

فرمادیں کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے۔ تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور تم تعجب کرو جب دیکھو کہ گنہگار اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے کہ ” اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو دنیا میں واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شحض کو ہدایت دے دیتے، مگر میری طرف سے یہ بات قرار پا چکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو اب آگ کے مزے چکھو، اس لیے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا آج ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے ان کی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو۔

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے رہنے کے لیے باغ ہیں یہ مہمانی ان کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کے رہنے کے لیے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جس آگ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو۔

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب کے علاوہ عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھاتے رہیں گے شاید کہ لوٹ آئیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون جس کو اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیرلے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں “

روز قیامت اہل ضلالت اور اہل ایمان کا حشر تشریح : مومن اور کافردونوں ہی اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہوتے ہیں کائنات کی ہر چیز کو استعمال کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کافر نہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانتا ہے نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جبکہ مومن توحید و رسالت کا پیغام سن کر اور اپنے جسم و جان کو دیکھ کر اپنے بنانے والے کو ڈھونڈ لیتا ہے پھر اس کو دنیا کی ہر چیز ہر نعمت میں اللہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس ذات کو پاکر مطئمن ہوجاتا ہے اس کے گُن گاتا ہے اسی کے ذکر میں مست ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کی اس پہچان پر اس کو اللہ کی راہ دکھاتا ہے تو وہ بصد شوق پوری توجہ خوشی اور رضا مندی سے جھومتا ہو اس راہ بتانے والے کے پیچھے چل پڑتا ہے تو ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں کہ کسی نے ان کو ان کے آئیڈیل کی راہ دکھائی۔ پھر وہ اسی لگن اسی دھن اور اسی جذبے میں گم ہو کر دنیا کی تمام سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں مگر اللہ سے ملنے کی دھن انہیں ہر برائی، گمراہی، حسد، بغض، چوری، جھوٹ غرض ہر اخلاقی روحانی اور جسمانی برائی سے روکے رکھتی ہے۔ یہی نور ایمان یہی ہے سیدھی راہ اور یہی ہے جنت کا رستہ ایسے لوگ مر کر اس دنیا سے مالا مال ہو کر آخرت کی بہترین زندگی خرید سکیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے جنت کے بہترین ٹھکانوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس وہ لوگ ہیں جو دنیا کی ہر چیز کو اپنی ہی ملکیت سمجھتے ہـیں اور سوچتے ہیں جو بھی ہو اکٹھا کرلو حلال ہو یا حرام جائز ہو یاناجائز ان کے وہم گمان میں بھی کبھی یہ بات نہیں آتی کہ یہ دنیا تو ختم ہونے والی ہے۔ یہاں سے تو کچھ بھی ساتھ نہ جائے گا۔ بس وہ سب کچھ اس دنیا کو ہی سمجھ کر بےفکر بےمقصد اور گمراہی سے پر زندگیاں گزار کر بالکل خالی ہاتھ بلکہ کفر شرک اور گناہوں کی گٹھڑی اپنے ساتھ لیجاتے ہیں اور اس کے بدلے ظاہر ہے ان کو جہنم کے سوا اور کیا مل سکتا ہے۔ پھر انہیں احساس ہوگا تو اس وقت کچھ نہ ہوسکے گا۔ کیونکہ جب انہوں نے راہ بتانے والے، یعنی پیغمبر کی کتاب کی اور اپنے پیدا کرنے والے کی پرواہ نہ کی تو اب ان کی پرواہ کون کرسکتا ہے۔ تب وہ آرزو کریں گے کہ یا اللہ ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دو مگر یہ تو اللہ کے نظام کے خلاف ہے۔ توبہ اور اعمال کا وقت تو بس اس دنیا کی مختصر زندگی کا دورانیہ ہے۔ اس کے بعد تو پھر صرف رزلٹ اور انعام یا سزا کا وقت ہوگا۔ شروع سے لے کر آخرتک ہر پیغمبر نے یہی کہا، یہی سمجھایا اور یہی سبق دیا۔ سننے والوں نے سن لیا اور نجات پائیں گے نہ سننے والوں نے نہ سنا اور پکڑے جائیں گے۔ اتنی سی بات ہے جو زندگی کے مقصد کو سمجھ لیں تو ان کے لیے اچھا ہے جو زندگی کو بےمقصد گزار دیں تو ان کے لیے اللہ فرماتا ہے۔ ” جس کو اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیرلے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں “ 22 ۔ جس طرح رات کا اندھیرا دن کی روشنی سے ختم ہوجاتا ہے اسی طرح ظلم کا اندھیرا انصاف کی روشنی سے ضرور ختم کیا جائے گا۔ مگر اس کا وقت مقرر ہوچکا ہے۔ موت کے بعد قیامت کے دن دوبارہ ضرور زندہ کیے جائیں گے حساب کتاب ہوگا اور انعام یا سزا ضرور دی جائے گی دعا ہے۔” اے اللہ میرا حساب آسان کر۔ ہمارے رب ! آپ بڑے شفیق و رحیم ہیں۔ یا اللہ ہمیں دوزخ کی آگ سے بچانا “ آمین۔ بزرگوں کی باتیں آپ بھی نوٹ کرلیں۔ 1۔ اللہ کی رحمت سے سوائے گمراہوں کے اور کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ (سیدناابراہیم (علیہ السلام) 2۔ خوبصورتی کپڑوں سے نہیں، علم و ادب سے ہوتی ہے (سیدناعلی ؓ 3۔ جھوٹا سب سے پہلے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ (سیدناحسین ؓ 4۔ کلام میں نرمی اختیار کرو کیونکہ الفاظ کی نسبت لہجے کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ (امام غزالی (رح) ) 5۔ جو شخص علم رکھے اور اس پر عمل نہ کرے، وہ ایک بیمار ہے جس کے پاس دوا تو ہے مگر علاج نہیں۔ (اقلیدس ) اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو علم اور عمل کی دولت سے مالا مال کر دے آمین۔
Ayahs 32:23–30

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو تم ان کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتابِ ) موسیٰ کو بنی اسرائیل کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا۔

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت دیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا رب ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو اس امر سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کردیا۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں۔ تو یہ سنتے کیوں نہیں ؟۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں، پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں، جس میں سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں تو یہ دیکھتے کیوں نہیں ؟۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟۔

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں “

بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات دلائی بلکہ ان کو راہ ہدایت اختیار کرنے اور ایمان لانے کے بدلے میں دنیا کے امام بنایا۔ اسی طرح اگر تم بھی سچے دل سے ایمان لے آؤ نیکی کی راہ اختیار کرو۔ برائیوں سے دور ہو کر قرآن مجید کا بتایا ہوا راستہ اختیار کرو گے تو تم بھی دنیا میں شاندار کامیابیاں حاصل کرو گے اور آخرت میں جو انعامات ملیں گے ان کا تو کوئی حساب ہی نہیں “ پھر ساتھ ہی بنی اسرائیل کی نالائقی اور تنزل کا بیان بھی کردیا گیا ہے کہ جب انہوں نے نبی کی نافرمانی کی تو پھر دنیا جانتی ہے کہ ان کا حشر دنیا میں کیا ہوا ؟ یہ ثابت کرتا ہے کہ رسول کی پیروی قوم کو کیسے عزت دیتی ہے اور رسول کی نافرمانی قوم کو کیسے ذلیل کرتی ہے پھر نبی ﷺ اور مسلمانوں کی ہمت بند ھانے کے لیے اللہ جل شانہ اس بنجرز میں کی مثال دیتے ہیں کہ یہ دعوت اسلام اس وقت تمہیں ناممکن دکھائی دیتی ہے کہ پھلے پھولے۔ ایسا ہرگز نہیں بلکہ اللہ کی رحمت تمہارے ساتھ ہے وہ رحمت اسلام کو اسی طرح پھیلائے گی جس طرح سوکھی زمین کو بارش کا پانی دیکھتے ہی دیکھتے سر سبز و شاداب کردیتا ہے۔ یہ کفار تو ہمیشہ ہی عذاب کی جلدی مچاتے ہیں۔ ” کہ لے آؤ عذاب جس کا تم ڈراوا دیتے ہو “۔ تو ان لوگوں کو جواب دینے کے لیے رب العزت اپنے پیارے نبی کو کہتے ہیں کہ ” کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی ان کو مہلت دی جائے گی “۔ (آیت 29) پھر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ” ان کی پرواہ مت کرو۔ ان سے بےپرواہ ہوجاؤ ان کو انتظار کرنے دو ۔ جب عذاب آئے گا قیامت آئے گی حساب کتاب لیا جائے گا تو خود ہی ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے “۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے عائشہ ! وہ چھوٹے گناہ جنہیں لوگ ہلکا سمجھتے ہیں، ان سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ اس لیے کہ اللہ ان کے بارے میں بھی پوچھے گا “۔ (ترغیب و ترہیب بحوالہ نسائی) الحمد اللہ سورة السجدہ مکمل ہوئی۔ خلاصہ سورة ٔ سجدہ اس سورة ٔمیں بھی قرآن پاک کی فضیلت کہ یہ آسمانی کتاب ہے یہ ثابت کیا گیا ہے۔ اللہ کی بڑائی، قدرت اور بہترین انتظامات کا اظہار خاص طور سے انسان کی پیدائش مقصد اور موت کے بعد زندگی یہ سب وضاحت سے بتایا گیا ہے۔ نیک و بد انسان کی تعریف اور اس کے اعمال کے مطابق سزا و جزا کا بیان۔ آخرت کا پختہ یقین اور اچھی قوم کی فضیلت اور بری قوم کا تنزل دلیل سے بیان کی گئی ہیں۔ تاکہ آنے والی قومیں عبرت حاصل کریں۔ حدیث ملاحظہ فرمائیں۔ کلیب ابن ِ حزن کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ! ” اے لوگوانتہائی کوشش کے ساتھ جنت کے طالب بنو اور اپنی کوشش بھر جہنم سے بچنے کی فکر کرو، کیونکہ جنت ایسی چیز ہے جس کا چاہنے والا سو نہیں سکتا اور آگ بھی ایسی چیز ہے جس سے بھاگنے والا سو نہیں سکتا یعنی غافل نہیں ہوسکتا۔ اور آخرت ناخوشگوار یوں سے گھیر دی گئی ہے۔ اور دنیا لذات و مرغوبات سے گھری ہوئی ہے۔ پس دنیا کی لذتیں اور مرغوبات تم کو غافل نہ کریں۔ “ (ترغیب و ترہیب بحوالہ طبرانی) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ” زاد راہ ساتھ لے لو اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے (سورۃ البقرہ آیت 197) اس سورت کا مسئلہ بیان کرنا ضروری ہے تو مسئلہ یہ ہے۔ پندرھویں آیت پڑھنے یا سننے پر سجدہ کرنا چاہیے۔ سجدہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سجدہ تلاوت کی نیت کریں اور پھر سجدہ تلاوت کی دعا کے ساتھ سجدہ کریں۔ اس میں سلام پھیرنے کی ضرورت نہیں۔ سجدہ تلاوت کی دعا یہ ہے : سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْلِہٖ وَقُوَّتِہٖ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ