31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 31:1–5

الٓمّٓۚ Open ayah 31:1 in the Quran reader

الۗمّۗ (حروف مقطعات میں سے ہے)

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت سے بھری ہوئی کتاب کی آیات ہیں۔

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکو کاروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے زکوٰۃ دیتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں “۔

قرآن اور اس میں دی گئی ہدایات تشریح : قرآن مجید کو حکمت و ہدایت کی کتاب کہا گیا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا شوق رکھتا ہو جو شوق اور توجہ سے پڑھے گا اسکے لیے قرآن مجید میں بیشمار حکمتیں، ہدایات اور بہترین نکات موجود ہیں۔ کوئی بھی کتاب چاہے وہ کتنی ہی دلچسپ کیوں نہ ہو اگر بےدھیانی سے پڑھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لہٰذا قرآن پڑھنے کے لیے پوری توجہ، ذوق اور شوق بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ اس طرح قرآن پڑھتے ہیں وہ اس کی آیات میں تدبر کرتے ہیں ان پر سرور طاری ہوجاتا ہے وہ اس کی بہترین آیات میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ وہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں اور بےاختیار رونے لگتے ہیں کچھ اللہ کے خوف سے کچھ اس کی مہربانیوں کا شکریہ کرتے ہوئے اور کچھ رب العزت کی بڑائی، عظمت اور قدرت کو سمجھ کر۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن پاک نعمت، برکت اور ہدایت کی بہترین پاکیزہ کتاب ہے۔ پھر ان اچھے لوگوں کی پہچان کروائی گئی ہے جو نیکو کار ہیں۔ نماز اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہ تعلیمات تمام نبیوں نے ہر زمانے میں دی ہیں۔ کیونکہ انسانی زندگی کی بہتری انہی عقائد کے اپنانے میں ہے۔ نماز کیا ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کی تعریف یوں فرمائی ہے۔ ” مخلوق کا اپنے دل، زبان اور اعضاء جسمانی سے اپنے خالق کے سامنے بندگی اور عبودیت کا اظہار کرنا، اس رحمان ورحیم کی یاد اور اس کے بےانتہا احسانات کا شکریہ ادار کرنا، اس کی حمد و ثنا اس کی توحید کا اقرار، یہ سب اپنے خالق کے سامنے جسم و جان خشوع و خضوع کے ساتھ بندگی کے اظہار کا طریقہ ہے۔ انسان اور اس کے رب کے درمیان ملاپ کا ایک ذریعہ ہے۔ جو انسان کی روح کو قرار، دل کو سکون اور مایوس دل کو امید دلا کر انسان کو مضبوط اور معقول انسان بنا دیتا ہے۔ انسان کے اندر ایک عجیب قسم کا اعتماد، خوشی اور پاکیزگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا چہرہ سکون سے دمکنے لگتا ہے۔ روح کی پاکیزگی اس کے چہرے سے عیاں ہونے لگتی ہے۔ پھر وہ اللہ کے بتائے ہوئے ہر راستے پر بخوشی بھاگنے لگتا ہے۔ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی تھوڑی ہے مگر اس کا ایک ایک قدم محفوظ کیا جا رہا ہے کیونکہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور اپنے ہر عمل کا جواب اور ثواب یا عذاب ضرور ملے گا۔ اس لیے وہ اللہ کے حکم کے مطابق اپنے مال سے زکوٰۃ ضرور ادا کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ زکوٰۃ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا دوسرا رکن ہے۔ اور دوسری طرف یہ انسانوں کے آپس میں رحم و کرم، محبت اور ہمدردی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اور پھر زکوٰۃ کے معنی ہیں پاک کرنا۔ اس طرح حلال کی کمائی مزید پاکیزہ بھی ہوجاتی ہے۔ زکوٰۃ کے بارے میں تفصیلات گز رچ کی ہیں۔ زکوٰۃ بھی نماز کی طرح ایک ایسی عبادت ہے جو ہر نبی نے اپنی امت کو بتائی اور فرض قرار دی گئی۔ نماز روح کو پاک کرتی ہے اور زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے۔ بصورت شعر جاری ہے فیض رب کا جو چاہے سو طلب کر بہتر دعا سراپا دست دراز ہوجا (فیض لدھیانوی )
Ayahs 31:6–7

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسے ہیں جو لہویات خریدتے ہیں تاکہ لوگوں کو بےسمجھے اللہ کے راستے سے گمراہ کریں اور اس سے ہنسی مذاق کریں یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا ان کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں بہرہ پن ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دیں “

گانا بجانا اور لہو ولعب تشریح : آیت نمبر 6 میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو کہ اسلام، مسلمان اور نبی ﷺ کا بڑے مخالفین میں سے ایک تھا۔ اس نے دوسرے مشرکین کی طرح ایک نیا طریقہ نکالا۔ اس کا نام نصر بن حارث تھا یہ بڑا تاجر تھا اس نے ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے کچھ تاریخی قصے خریدے اور ساتھ ہی ایک گانے والی لونڈی بھی خرید لایا اور یوں اہل مکہ کی توجہ قرآن پاک سے ہٹانے لگا۔ اور بہت سے لوگ جو قرآن کو شوق سے سنا کرتے تھے وہ ہٹ کر شیطانی کام میں لگ گئے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے تین مرتبہ اللہ کی قسم اٹھا کر فرمایا اللہ کی قسم لھوالحدیث سے مراد گانے بجانے کے آلات ہیں۔ لہو لعب یعنی بےہودہ کھیل تماشہ سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے لوگوں میں شرو فساد اور بےحیائی پھیلتی ہے اور ایسے لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والے عذاب کی خبر دی گئی ہے۔ ناچ گانا بےہودہ ہنستی مذاق اور بےمعنی گفتگو صرف وقت کو ضائع کرنے کا ذریعہ ہے۔ بطور خاص گانے بجانے سے اللہ کی ناراضگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جب کہ اس طرح کے لوگ قرآن پاک سننے کے لیے بالکل راضی نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی ان کے دل میں شوق اور رجحان ہی پیدا ہوتا ہے ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدنیہ کی اسلامی ریاست میں رقص و سرور پر پابندی تھی۔ یہ چیزیں شراب کی طرح انسان کے اعلیٰ جذبات سے زیادہ ادنیٰ اور اسفل (شیطانی) جذبات کو ابھارتی ہیں اور رتاریخ یہ بتاتی ہے۔ کہ جب بھی کوئی قوم ادھر کا رخ کرتی ہے تباہی سے دو چار ضرور ہوتی ہے۔ جیسا کہ جب پارسیوں اور رومیوں کو حکومت کرتے صدیاں گزر گئیں تو دنیوی تعیش کو انہوں نے اپنی زندگی بنا لیا اور شیطان نے ان پر غلبہ پا لیا تو یہ اتنی بڑی بڑی طاقتیں ذلیل و خوار ہوگئیں۔ ثابت ہوگیا کہ کسی بھی ملک و قوم کا اقتصادی اور اخلاقی نظام آپس میں جڑے ہوئے ہیں جو قوم اخلاقی لحاظ سے گر جاتی ہے لہو و لہب اور گانے بجانے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ہے وہ اقتصادی تباہی کے بعد مکمل تباہی کی طرف ضرور چل پڑتی ہے۔ اس لیے اس شیطانی کام سے دور رہنا چاہیے اور اس رجحان کو لوگوں میں جڑ پکڑنے سے پہلے پوری کوشش سے ختم کرنا چاہیے۔ یہ ہر عورت مرد، بچے بوڑھے اور جوان کا فرض ہے۔ کہ اس لعنت سے معاشرے کو پاک رکھیں۔
Ayahs 31:8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے “۔

نیک بندے اور ان کا انعام تشریح : پچھلی آیات میں گمراہ لوگوں کے لیے دو طرح کے عذاب۔ درد ناک اور ذلیل کرنے والا عذاب سنایا گیا ہے جب کہ یہاں نیک اور اچھے لوگوں کے لیے ہمیشہ رہنے والے بہترین باغات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اس خوشخبری میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ یہ وعدہ اس عظیم و حکیم قدرت والے الہ العٰلمین کا ہے جو ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے کیونکہ وہی تو قادر مطلق ہے۔
Ayahs 31:10–11

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ بنا کر رکھ دیے تاکہ تم کو ہلا ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیے، اور ہم ہی نے آسمان سے پانی نازل کیا، پھر اس سے ہر قسم کا نفیس جوڑا اگا یا۔

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو اللہ کی پیدائش ہے۔ تو مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں “

اللہ کی قدرتیں تشریح : کائنات میں زندگی کی بقا (قائم) کرکے، انتظامات اس قدر مکمل اور مناسب ہیں کہ اسے اتفاقیہ تخلیق کہنا حماقت ہے۔ کیا زمین کا یہ حجم، یہ جھکاؤ، رفتار، پہاڑ، دن رات کی گردش، موسم، ہوائیں، نباتات، حیوانات، بارش کا حیران کردینے والا نظام اور پھر انسان کی تخلیق۔ کیا یہ سب کچھ بغیر کسی مالک کے ہو رہا ہے ؟ ہرگز نہیں یہ صرف خدائے واحد کا کام ہے اور کوئی طاقت یہ سب کچھ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اگر کسی شخص کے لیے ان تمام کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی ممکن ہی نہیں تو پھر کیوں نہ صرف ایک اللہ کے سامنے جھکیں اسی سے مرادیں مانگیں اسی کی عبادت کریں۔
Ayahs 31:12–19

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ اللہ کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو اللہ بھی بےپرواہ اور سزا و ارِحمد و ثنا ہے۔

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ” بیٹا اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے “۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں کمزوری پر کمزوری سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے پھر اس کو دودھ پلاتی ہے اور آخر کار دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے۔ اپنے اور اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر ادا کرتے رہو اور اپنے ماں باپ کا بھی کہ تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا، ہاں دنیا کے کاموں میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو عمل تم کرتے رہے، میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا۔

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) ” بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی چھوٹا ہو اور وہ کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں چھپا ہوا ہو یا زمین میں، اللہ اس کو قیامت کے دن لا موجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ باریک بین اور خبردار ہے۔

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا، لوگوں کو اچھے کام کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصبیت تم پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور غرور سے لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ اللہ کسی مغرور اور خود پسند کو پسند نہیں کرتا۔

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اپنی چال میں اعتدال کیے رہنا اور بولتے وقت آواز نیچی رکھنا کیونکہ اونچی آواز گدھوں کی سی ہے اور کچھ شک نہیں کہ سب سے بری آواز گدھوں کی ہے “

والدین کی عظمت تشریح : یہ آیات سیدنالقمان (رح) کے حوالے سے انسان کو نصیحت کرنے اور توحید کے بارے میں نازل ہوئیں۔ سیدنالقمان (رح) بڑے بزرگ اور نیک انسان گزرے ہیں۔ ان کی نبوت یا ولایت میں اختلاف پایا جاتا ہے امام ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے البدایہ والنھایہ میں انہیں اللہ کے صالح بندے قرارا دیا ہے۔ وہ مقبول الہٰی بڑے برگزیدہ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عام لوگوں سے زیادہ فضیلت دیتے ہوئے ان کے نام سے ایک سورت نازل فرمائی جو بڑی عزت کی نشانی ہے اور فرمایا کہ میں نے ان کو حکمت عطا کی تھی۔ حکمت کیا ؟ حکمت کا مطلب ہے دانشمندی علم باعمل۔ جن کلمات حکمت کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے وہ سیدنا لقمان (رح) نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہے جو کہ اصل میں تمام لوگوں کے لیے کہے گئے ہیں۔ پہلی : نصیحت کہ واحد ذات اللہ کی ہے۔ شرک کبھی نہ کرو۔ کیونکہ یہ بڑا ظلم ہے خود انسان کے لیے۔ والدین کی فرمانبرداری۔ لیکن اگر شرک کے لیے وہ کہیں تو ہرگز نہ مانو باقی تمام معاملات میں ان کی پوری فرمانبرداری کرو۔ دوسری : اللہ کے علیم و حکیم، محیط اور وسیع ہونے پر ایمان کامل تیسری : نماز کی پابندی کرو۔ چوتھی : نیک کاموں کا حکم دو اور برے کاموں سے روکو۔ مخلوق کی اصلاح کرو۔ پانچویں : معاشرتی آداب کے بارے میں ہے۔ تکبر سے باز رہو۔ کیونکہ جو ہوش میں ہوں کبھی تکبر نہیں کرتے۔ صبر و ثبات سے کام لو کیونکہ صبر زندگی کے مقصد کے دروازے کھولتا ہے، صبر کے سوا اس دروازے کی کوئی چابی نہیں۔ چھٹی : زمین پر اکٹر کر مت چلو۔ کیونکہ اکڑ کر چلنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ قول ہے۔ ” عقل مند اپنے آپ کو پست کر کے بلندی حاصل کرتا ہے اور نادان اپنے آپ کو بڑھا کر ذلت اٹھاتا ہے “۔ ساتویں : آہستہ آواز سے بات کرو کیونکہ چو پایوں میں سب سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی ہے۔ اس کے علاوہ سیدنالقمان (رح) نے حکمت کی تعریف ان الفاظ میں بھی کی ہے۔ فرماتے ہیں ” سچ بولنا، فضول باتوں سے بچنا، نگاہ کو پست رکھنا، زبان بند رکھنا، حلال روزی پر قناعت کرنا، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا، سچائی پر قائم رہنا، عہد کو پورا کرنا، مہمان کا احترام کرنا، پڑوسی کی حفاظت کرنا، اور فضول کام اور فضول کلام کو چھوڑ دینا “۔ (از ابن کثیر) غرض انسان کی تعریف یہ ہے کہ جس کو اللہ نے ایسی عقل دی ہو جس کی مدد سے وہ باتوں کی گہرائی کو پالے اور وہ دل دیا ہو جو تڑپ اٹھے۔ اور جو اللہ کی دنیا میں اللہ ہی کی اطاعت وفرمانبرداری کرے۔ اور دنیا کو غور سے دیکھے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے۔
Ayahs 31:20–30

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ” ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا “ ، بھلا اگر شیطان ان کو دوزخ کی طرف بلاتا ہو تب بھی ؟۔

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے چہرے کو اللہ کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط رسی ہاتھ میں لے لی اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر آپ کو غمناک نہ کرے، ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو بتادیں گے، بیشک اللہ دلوں کی باتوں سے واقف۔

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر شدید عذاب کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو بول اٹھیں گے کہ ” اللہ نے “ فرمادیں کہ اللہ کا شکر ہے مگر ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے۔

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے، بیشک اللہ بےپرواہ اور سزا و ار حمد وثنا ہے۔

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں سب کے سب قلم ہوں اور سمندر کا تمام پانی سیا ہی ہو اس کے بعد سات سمندر اور سیاہی ہوجائیں تو اللہ کی باتیں (صفات) ختم نہ ہوں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو تمہارے زیر فرمان کر رکھا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

ہر ایک، ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ اللہ ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے “۔

اللہ کی ربوبیت کے کرشمے تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981؁ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں سے ایک یہ تھے۔ ان کی عمر 50 سال تھی۔ مصنف لکھتے ہیں 54 گھنٹے بےوزنی کی حالت میں رہنے کے بعد جب وہ کیلی فورنیا پہنچے تو بےساختہ ان کی زبان سے نکلا ” کیسا عجیب ہے اس طرح کیلی فورنیا آنا “۔ یہ اس کو عجیب لگا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز عجیب ہے۔ کوئی سفر خواہ پیدل ہو، سواری کے ذریعہ ہو، اس میں اتنے بیشمار کائناتی اسباب شامل ہوتے ہیں کہ آدمی ان کے بارے میں سوچے تو معمولی سفر بھی اس کو اتنا حیران کن معلوم ہو کہ وہ پکار اٹھے : ” میرا اپنے پیروں سے چل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اتنا ہی عجیب ہے جتنا کو لمبیا کے ذریعہ خلائی سفر طے کر کے کیلی فورنیا کے صحرا میں اترنا۔ عام آدمی صرف کسی انوکھے واقعہ کے عجوبہ کو دیکھ پاتا ہے۔ عقلمند وہ ہے جو معمولی واقعات میں بھی اسی عجوبہ کو دیکھ لے “۔ (از خد اور انسان، مصنف مولانا وحید الدین خان صاحب) یہ سب کچھ لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ” اللہ کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں۔ اور یہ کہ اللہ ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے “۔ (آیت 30 لقمان) اللہ کی ذات اور اس کی تخلیقات اس قد وسیع و عریض اور بلند وبالا ہیں کہ ان کو تحریر میں لانا کسی بھی بندے بشر کے اختیار میں ہرگز نہیں اسی بات کا اظہار آیت 27 میں کیا گیا ہے۔ اس بزرگ و برتر کا کلام بھی ہر قسم کی معلومات کا عظیم خزانہ ہے۔ آسمان زمین اور تمام کائنات زندگی کو جاری وساری رکھنے میں مددگار ہے۔ سمندر بادل بنا رہے ہیں، پہاڑ ہواؤں کو روک رہے ہیں، سورج پھل پکا رہا ہے، چاند پھلوں میں رس ڈال رہا ہے۔ رات آرام کے لیے اور دن کام کے لیے آرہا ہے اور جا رہا ہے۔ اور خالق کائنات خود لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔ مگر اس کی زبردست حکمت و عظمت ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ اس سورت کی آیت 29 علم و حکمت کا زبردست خزانہ ہے۔ اس میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ ہر چیز ختم ہونے والی ہے۔ جو بھی چیز یہاں پیدا ہوئی ہے فنا ضرور ہوگی 1950؁ء تک سائنس دان اس بات کے قائل تھے کہ سورج فنا نہیں ہوگا تو سائنس دان کا یہ منطقی رخ قرآن کی آیت کے مطابق یوں بدل گیا اور اس کی تفصیلات صاحبزادہ راشد مسعود گنگوہی یوں بیان کرتے ہیں۔ ” سائنسدان اب کہتے ہیں کہ سورج متحرک ہے اس لیے کہ گرم ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ گرم کیوں ہے ؟ جواب یہ تھا کہ ہائیڈروجن گیس کے جو ہر ٹوٹ پھوٹ کر ہیلیم کے جوہروں میں تبدیل ہو رہے ہیں اس تبدیلی سے ایک ایٹم جو ہائیڈروجن کا ہیلیم میں تبدیلی کی وجہ سے خارج ہوتا ہے۔ اس کا دھماکہ شدیدگرمی پیدا کرتا ہے اس طرح بیک وقت کھرب ہا کھرب ایٹم دھماکہ پذیر ہیں جو سورج کو شدید گرم رکھتے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر ہائیڈروجن کی مقدار خواہ کتنی ہی ہو مگر وہ آخر کار ختم ہوجائے گی۔ جس کا نتیجہ یہ کہ تبدیلی کا عمل کم سے کم ہو کر ختم ہوجائے گا اور سورج ٹھنڈا ہونا شروع ہوجائے گا اور آخر کار حرارت ختم ہوجائے گی اور ساتھ ہی سورج کی حرکت پذیری بھی ختم ہوجائے گی اور سورج ٹھہر جائے گا جس مقام پر سورج رک جائے گا اسے سائنسدانوں نے S Soler Apex " کا نام دیا ہے قرآن نے اسے ” مستقر “ یعنی جائے قرار کہا ہے۔ اب قرآن حکیم کی آیت ملاحظہ ہو کہ اس مذکورہ بالا تمام تفصیل کا خلاصہ ایک آیت میں ارشاد ہوگیا جو سائنس کی تحقیق سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ ” اور سورج اپنے ٹھکانے مستقر کی طرف چلا جا رہا ہے “ (سورت یٰسین آیت 38) از ذوق آگہی) یہ اس قدر بڑا سائنسی نکتہ ہے جو کہ 1950؁ء میں حل ہوا۔ جبکہ قرآن پاک نے یہ اتنا بڑا راز آج سے صدیوں پہلے قرآن میں انتہائی مختصرالفاظ میں بیان کردیا تھا۔ اسی لیے تو کہا گیا ہے۔ ” اللہ ہی اصل ہستی ہے اور جس کسی کو اس کے سوا پکارتے ہو جھوٹ ہے اور اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے “۔ آیت 30 سورة لقمان) اس کی اور بھی بہت سی قدرتیں ہیں۔
Ayahs 31:31–34

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر دریا کی لہریں سائیبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو اللہ کو پکارنے اور خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور نا شکرے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے گا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے۔

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے وہی مینہ برساتا ہے، وہی حاملہ کے پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں اسے موت آئے گی، بیشک اللہ ہی جاننے والا خبردار ہے “

اللہ اور اس کا علم ہی کامل ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرتوں میں سے ایک بہت بڑی قدرت کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ سائنسی معجزہ بھی ہے کہ اتنی بھاری بھر کم کشتیاں جن میں بوجھ ہوتا ہے مگر اللہ کی قدرت کہ وہ پانی کے اوپر تیرتی رہتی ہیں اور انسان کے ذرائع آمدورفت اور تجارت کا بہت بڑا وسیلہ ہے۔ اب تو اس صنعت میں حیرت انگیز ترقی ہوچکی ہے مگر بنیادی بات تو یہی ہے کہ پانی ہی کشتی کے چلنے کا، تیرنے کا سبب ہوتا ہے۔ مگر انسان انتہائی ناشکری مخلوق ہے جب کبھی سمندر اور لہروں کے طوفان میں پھنس جاتا ہے مطلب یہ کہ مصیبت میں پھنستا ہے تو اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے لیکن جونہی مصیبت ٹلتی ہے اللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔ رب العزت انسان کو ہر وقت خبردار کر رہے ہیں کہ ناشکرے اور غافل لوگ ہوش میں آجائیں کیونکہ اصل مقام تو قیامت کے بعد ہی ملے گا۔ اس قیامت کے دن کی سختی اور حساب کی سختی کو جنت و دوزخ کو ذہن میں رکھ کر زندگی گزاریں۔ پھر وہ کفار نبی اکرم ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کب آئے گی تو رب العزت فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کی خبر انسان کو نہیں ہوسکتی۔ 1۔ بارش کے بارے میں (2) بچہ جو ابھی پیدا نہیں ہوا (3) کل کے بارے میں (4) موت کب آئے گی ؟ کس سر زمین پر موت آئے گی ؟ (5) قیامت کب آئے گی ؟ سائنس دان کتنی بھی کوشش کرلیں ان پانچ باتوں کو سطحی طور پر تو شاید معلوم کرلیں مگر گہرائی میں جا کر تفصیلاً ہرگز نہیں بتا سکتے مثلاً : 1۔ محکمہ موسمیات والے بارش کا یہ بتا سکتے ہیں کب ہوگی اور ان کا یہ اندازہ حتمی نہیں اور یہ بھی نہیں بتاسکتے کہ بارش کتنی ہوگی۔ اگر بارش نہ ہو تو بارش لانا انسان کے بس میں نہیں۔ 2۔ قیامت کا تو کوئی بھی بتانے سے قاصر ہے۔ قرآن پاک میں اس واقعہ کی جھلکی یوں دی گئی ہے کہ جب وہ آئے گی تو اس قدر اچانک آئے گی کہ لوگ بوکھلا جائیں گے فرمایا۔ ” اس وقت نہ یہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ سکیں گے “۔ (سورۃ یس آیت 50) اللہ تعالیٰ اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے ( آمین ) 3۔ پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں Ultara Sound میں کچھ معلومات تو ہوجاتی ہیں یعنی جنس معلوم ہوجاتی ہے مگر بعض اوقات اس میں بھی غلطی لگ جاتی ہے اور پھر اللہ کو تو بچہ شروع ہونے سے قبل ہی معلوم ہوتا ہے کیا ہوگا ؟ ، کیسا ہوگا، کیا بنے گا ؟ ، کیسی زند گی گزارے گا ؟ اور کتنی زندگی پا کر کس طرح اور کس جگہ مرے گا ؟ یہ سب کچھ سوائے رب العزت کے کوئی ہرگز نہیں جان سکتا۔ 4۔ کل کیا ہوگا ؟ یعنی مستقبل کے واقعات کا علم ہرگز کسی کو نہیں ہوتا۔” سامان سو برس کا تو پل کی خبر نہیں “ طاؤس بیان کرتے ہیں کہ میں نے ” رسول اللہ ﷺ کے کئی اصحاب کو پایا وہ فرماتے تھے کہ ہر شے تقدیر میں لکھی جا چکی ہے اور میں نے سیدناعبد اللہ بن عمر ؓ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب کچھ تقدیر میں لکھا جا چکا ہے یہاں تک کہ در ماندگی اور ہوشیاری بھی “۔ (مسلم ازا سوہ حسنہ مصنفہ بنت الاسلام ) ۔ 5۔ موت کب آئے گی اور کہاں آئیگی ؟ یہ بھی ہرگز کسی شخص کو نہ معلوم ہے نہ ہو سکے گا۔ یہ راز بھی صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس لیے زند گی وہی ہے جو وفاداری، نیکی اور شرافت سے عبارت ہو۔ اور زندگی جب تک نیک کاموں کا ذریعہ نہ ہو، شائستہ نہیں کہی جاسکتی۔ حدیث میں آتا ہے کہ ” کوئی موت کی آرزو نہ کرے کیونکہ اگر کوئی نیک ہے تو ممکن ہے عمر کے اضافے سے اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا رہے اور اگر برا ہے توشاید توبہ کر کے وہ اللہ کو راضی کرلے۔ (بخاری مسلم ) بہرحال زندگی اللہ کی دی گئی نعمت ہے اس کو شکر اور عبادت میں گزرانا چاہے۔ انسانوں سے امیدیں قائم کرنے کے بجائے اللہ کے سامنے انکساری کرو۔ (حضرت علی ؓ خوش اخلاقی زندگی کی روح ہے۔ بہترین زندگی کی نشانیاں یہ ہیں۔ 1۔ زندگی کی خوبصورتی عمدہ خصلت ہے۔ 2۔ خوش خلق بندہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ 3۔ خوش خلقی ایمان کی نشانی ہے۔ 4۔ مومنین میں سب سے بہترین، اچھے اخلاق والا ہے۔ 5۔ اچھی زبان اور خندہ پیشانی سے ملنا بہت بڑی نیکی ہے۔ یہ کچھ ایسی نیکیاں ہیں کہ جو خود انسان کو مطمئن اور صالح بنا دیتی ہیں ان میں کوئی مال خرچ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی مشقت کرنی پڑتی ہے۔ اس خوش خلقی کا اظہار مسکراہٹ سے شروع ہوتا ہے۔ اور اب مسکراہٹ کی تعریف سنیے۔ 1۔ مسکراتا ہوا انسان بےحد خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔ 2۔ مسکراہٹ : وہ گلاب ہے جس کے کھلتے ہی تمام ماحول مہک جاتا ہے۔ 3۔ مسکراہٹ : ایک ایسا بہتا ہوا دریا ہے جس میں زندگی کے دکھ بہہ کر دور چلے جاتے ہیں۔ 4۔ مسکراہٹ ایک ایسا انمول تحفہ ہے جو ایک غریب انسان کسی امیر ترین آدمی کو دے سکتا ہے۔ اور یہ تحفہ انسانی خوش خلقی، ہم دردی، پیار، محبت اور خلوص کا مجموعہ ہے۔ اور اس تحفہ کے دینے میں انسان کو رضائے الہٰی اس کی قربت اور جنت کی خوش خبری ملتی ہے۔ تو ثابت ہوگیا کہ خوفِ الٰہی اور اخلاق حسنہ نیک زندگی اور کامیاب زندگی کی بنیاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرمائے اور آگ کے عذاب سے بچائے۔ آمین ثم آمین سورة لقمان کا خلاصہ سیدنالقمان (رح) کی زندگی نے ہمیں وہی سبق دیے ہیں جو انہوں نے علم و حکمت کی بدولت سیکھے۔ علم و حکمت پیغمبروں کی میراث ہے جو کہ ان کو سچی لگن، خلوص نیت اور مسلسل نیکی اور اللہ کی تلاش کے بدلہ میں اللہ کی طرف سے تحفتاً ملتی ہے۔ جو اس راہ میں چل نکلتا ہے۔ وہ کبھی ناکام نہیں رہتا۔ جب وہ جان جاتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور کوئی بھی کسی صورت بھی اس کا شریک نہیں ہوسکتا تو پھر اس کی زندگی توحید کی روشنی میں، راستی، امانتداری، پرہیزگاری، سادگی، توکل، رحمدلی، امانت، صلح، عفو و حلم جیسے موتیوں سے جگمگا اٹھتی ہے اور ایسے ہی خوش نصیب لوگوں میں سے سیدنالقمان (رح) تعالیٰ بھی تھے جنہوں نے سچی لگن کے بدلے اللہ سے علم و حکمت کا انعام پایا۔ اسی سلسلے میں حدیث ملاحظہ ہو۔ سیدناعلی ؓ نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں۔ ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ لذت گناہ سے نکال کر عزت تقویٰ سے ہم آغوش کردیں اسے اللہ تعالیٰ تین نعمتوں سے سرفراز فرما دیتے ہیں۔ (1) اول یہ کہ مال و دولت کے بغیر اسے غنی کردیتے ہیں (2) قوم و قبیلہ کے بغیر اسے معزز کردیتے ہیں (3) کسی انیس وہم نشین کے بغیر اسے اطمینان قلبی نصیب فرما دیتے ہیں۔ “ دوسرا : جس شخص کے دل میں خوف خدا بیٹھ جائے تو اللہ تعالیٰ ہر شے کے دل میں اس شخص کا خوف ڈال دیتے ہیں اور جس شخص کے دل میں خوف خدا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ہر شے کا خوف اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ تیسرا : جو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے تھوڑے رزق پر راضی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجاتے ہیں۔ چوتھا : جو شخص طلب رزق اور حلال روزی کے حصول میں محنت اور جدوجہد میں شرم نہ کرے جو جائز طریقہ بھی سامنے آئے وہ اس پر عمل کرنے میں جاہ و منزلت کو رکاوٹ نہ بننے دے تو اس کا بوجھ ہلکا ہوگا، دل مطمئن ہوگا اور اہل و عیال خوشحال ہوں گے۔ پانچواں : جو شخص دنیا کی رغبت اپنے دل سے نکال دے تو اللہ تعالیٰ علم و حکمت سے اس کا دل بھر کر اس علم و حکمت کو اس شخص کی زبان پر جاری فرما دیتا ہے اور دنیا سے آخرت کی طرف صحیح وسالم رخصت فرما دیتے ہیں “۔ حضرات کرام ! اس حدیث میں کتنی پیاری اور قیمتی باتیں مذکور ہیں۔ کتنے مبارک ہیں وہ لوگ جو ان باتوں پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق بخشیں۔ آمین۔ (از گلستان قناعت مصنف محمد موسیٰ روحانی بازـ صاحب ) سیدنالقمان (رح) بھی اللہ کے برگزیدہ انسان تھے اللہ کے پیارے بندوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جو نصیحتیں اپنے بیٹے کو کیں وہ دراصل تمام انسانوں کو کیں۔ اللہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین۔ مسلمانوں کی نئی نسل جو آج کل حرص و لالچ اور غفلت میں پڑی ہوئی ہے۔ اس کو اس عقیدے، عقیدہ آخرت کی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ غفلت اور گمراہی میں ڈوبے ہوئے مسلمانوں کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک وہ اس زندگی اور آنے والی زندگی کو قرآن پاک اور احادیث کی روشنی میں گزارنے کا پکا ارادہ نہ کرلیں گے۔ دل مرد مومن میں پھر زندہ کر دے وہ بجلی کہ تھی نعرہ لاتذر میں عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے نگاہ مسلمان کو تلوار کر دے (علامہ اقبال )